56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 11)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم میری نظروں سے اوجھل ہو

تو یہ فقط تمہاری خام خیالی ہے ،

جس دن سے تمہیں جانا تھا اس دن سے لے کر

اس دن تک کہ جس دن کے سورج کو کبھی طلوع ہونا ہی نہیں ہے ،۔

تم میرے لاشعور کے حصار میں ہو ،۔

کیونکہ تم میرے دل کی آنکھوں کا محبوب نظارہ ہو ۔۔۔۔۔

شدید برستی بارش ٹھنڈی ہوا اور سردی نے امریکہ کی سڑکوں کو سنسان کر دیا تھا جہا ں راتیں جاگتی اور دن سوتا ہے وہاں اس وقت اکا دکا لوگ اپنے گھروں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے ایسے میں ایک انسان ایسا بھی تھا جو سڑک کے بیچ و بیچ گاڑی روکے تیز برستی بارش میں گاڑی میں بیٹھا یک ٹک باہر کا منظر تک رہا تھا ۔۔۔۔

محبت کے بیچ میں اگر انا غرور آجاۓ تو محبت محبت نہیں رہتی ۔۔۔۔ اسکو آج بے دھیانی میں اسکی یاد آئ تھی ۔۔۔ ہاں وہ خودسر شخص ، صرف اپنا سوچنے والا ، اپنی ناک اونچی رکھنے والے زیب مغل کو آج پورے پندرہ دن کے بعد اسکی یاد آئ تھی اور عجیب وقت آئ تھی جب اسے سب سے ذیادہ آرام کی ضرورت تھی تب اسے وہ لڑکی یاد آئ تھی جسے وہ مرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا ۔۔۔۔۔

بے ساختہ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا اور اسکے نکلنے کی دیر تھی کہ وہ اگلے لمحے پورا بھیگ گیا تھا بادلوں کی گھن گرج اور یخ بستگی ہوا بھی اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے مجھے بارش بہت پسند ہے ، بارش سکون دیتی ہے کبھی تو دکھی کر دیتی ہے اور کبھی اتنا خوش کہ سنبھالی نہیں جاتی ۔۔۔۔

دور کہیں سے آواز آئ تھی ۔۔

اور ابھی کیا محسوس ہو رہا ہے ۔۔۔ ؟؟؟؟

زیب کو اپنی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔

بارش اتنی حسین بھی ہوتی ہے یہ آج پتا چلا ہے اور شاید مجھے آج ہی بارش سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔۔

اس لڑکی کی آواز دور کھائ سے آتے ہوئے محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

زیب نے چونک کر آس پاس دیکھا تھا لیکن دور دور تک کوئ ذی روح نظر نہ آیا تھا ۔۔۔

اسنے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا اور واپس گاڑی میں آیا تھا کچھ لمحے ہیٹر میں بیٹھنے کے بعد کسی سوچ کے تہت موبائل اٹھایا تھا اور نمبر پریس کیا تھا ۔۔۔

دوسری طرف کال جا رہی تھی لیکن کوئ اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔۔۔

پک اپ دی کال ژالے ۔۔۔۔۔

زیب نے بے چینی سے دوبارہ کال ملائ تھی لیکن جواب ندارد ۔۔۔

کیا اسکی طبیعت ٹھیک ہوگی اب ۔۔۔ ؟؟؟؟

کہیں کچھ ہو تو ۔۔۔۔۔۔

یہ سوچ آتے ہی اسنے نفی میں سر ہلایا تھا اور تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی اسے گھر جانا تھا ۔۔۔ اسے آرام کرنا تھا ورنہ اسکا سر پھٹ جائے گا ۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ سب بتا رہی تھی اور اسکی ہچکیاں بندھ گئی تھی ۔۔۔۔

ہاں آپی ۔۔۔ لیکن وہ کہتا ہے اسنے کبھی نہیں کہا مجھ سے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے ہاں یہ یک طرفہ ہے شاید ورنہ وہ مجھے ایسے چھوڑ کر کبھی نہ جاتا ۔۔۔۔

لیزہ خود ہی سوال اور خود ہی جواب دے رہی تھی ۔۔۔ اسکی ایسی حالت دیکھ کر علیزہ بھی اپنے آپ کو نہیں روک پارہی تھی ۔ ۔۔

سب ۔۔ سب ۔۔ کو پتا چل جائے گا سب مجھے غلط کہیں گے ۔۔۔۔ امی نے بھی مجھ پر یقین نہیں کیا ۔۔ وہ ۔۔ وہ یقین کر لیتیں مجھے باقی کچھ نہیں چاہیے لیکن ۔۔۔۔ میں کیسے یقین دلاؤں گی سب کو ۔۔۔ کیسے ؟؟؟

وہ علیزہ کے ہا تھوں کو پکڑ کر روتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔

لیزہ میری جان ۔۔۔۔ کوئ کچھ نہیں کہے گا کوئ بھی نہیں ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ کسی کی ہمت نہیں ہے کچھ کہنے کی ۔۔۔ تم ۔۔ تم ۔۔ میری طرف دیکھو ۔۔۔

علیزہ اسکو دکھ میں دیکھ کر خود بھی روتے ہوئے بولی ۔۔۔

تم لیزہ بہروز خان ہو ۔۔۔ تم کب سے سوچنے لگیں یہ سب ۔؟؟؟؟

ابھی علیزہ کچھ اور کہتی جب نور بیگم کی آواز پر سرعت سے مڑی تھی ۔۔۔

وہ جو کب سے لیزہ کی آہ و بکا سن رہی تھیں صبر نہ ہوا تو بول اٹھیں ۔۔۔

امی ۔۔۔۔

لیزہ کے بے جان ہونٹوں سے الفاظ نکلے تھے ۔۔

وہ آہستہ آہستہ اسکے پاس آئی تھیں اور آکر اسکا ماتھا چوما تھا ۔۔۔

ماں کے اس والہانہ انداز سے لیزہ کا ضبط دوبارہ ٹوٹا تھا اور وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی اور اب کہ اس کے ساتھ نور بیگم اور علیزہ کی سسکیاں بھی شامل تھیں ۔۔۔

جب کہ دروازے کے پار کھڑا وجود جو کافی دیر سے کھڑا تھا نے اندر جھانکا تھا اگلے لمحے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔

امی ۔۔۔ امی ۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔ میں آپکی نا فرمان بیٹی ہوں ۔۔۔ امی ۔۔۔۔ امی پلیز آپ ۔۔ آپ ۔۔۔ایسا کریں مجھے مار دیں میں آپکی بدنامی کا باعث بنونگی امی آپ مار دیں نہ مجھے ۔۔۔

لیزہ نے ماں سے دور ہوتے ہوئے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکی بات پر دونوں کی روح فنا ہوئ تھی ۔۔۔

ایسا نہیں کہتے پاگل ہو گئ ہو کیا ۔۔۔۔ تم ایک ایسے شخص کے لئے جو تمہارے قابل نہیں تھا کے لئے مرنے کا سوچ رہی ہو ۔۔ اور ہمارا کیا میرا تمہارے بابا کا علیزہ کا جو تم سے اتنی محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔ ابھی بھی اپنا سوچا تم نے ۔۔۔۔

نور بیگم نے دہل کر زور سے بولتے ہوئے اسے سنایا تھا جس پر وہ نظریں نیچی کر کے بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔

اور بس کرو میں تمہیں بھی حق نہیں دونگی اپنی بیٹی کو تکلیف پہچانے کی ۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔

انھوں نے لیزہ کو پیار سے ڈانٹا تھا جب کہ وہ انھیں اپنے پاس بیٹھا کر انکی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئ تھی اس وقت اسے سکون کی ضرورت تھی اور ماں کی گود سے ذیادہ کہاں سکون مل سکتا ہے ۔۔۔۔

کافی دنوں کے بعد سردی کا زور ٹوٹا تھا جسکی وجہ سے ایک روشن صبح نمودار ہوئی تھی اور کافی دونوں کے بعد ہی سب ایک ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ایسے میں لیزہ پلیٹ میں چمچہ گھماتے ہوئے کسی گہری سوچ نہیں گھم تھی ۔۔۔

کب کی فلائٹ ہے تم لوگوں کی ۔۔۔۔

تایا جان نے احمد صاحب سے پوچھا تھا ۔۔۔

دوپہر کی ہے رات کی کرنا مجھے پوسیبل نہیں لگا ۔۔۔۔

انھوں نے چاۓ پیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

ہممممم ۔۔۔۔ صحیح کیا ۔۔۔ دیکھو احمد میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم ہماری بچی کا خیال رکھو گے لیکن اگر اسے وہاں کوئ بھی مسلئہ ہوا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا میں بلکل برداشت نہیں کر سکتا کہ میری پچیوں کی آنکھوں میں آنسو بھی آئیں ۔۔۔

تایا جان نے انھیں رسانیت سے کہا تھا لیکن اسکے لہجے میں تنبیہ بھی تھی جسے سمجھتے ہوئے سب مسکرا دیئے تھے آخر کو بڑے تھے گھر کے اور گھر کی لاڈلی تھی علیزہ کیسے نہ بولتے ۔۔۔

تم بے فکر رہوں ۔۔۔ علیزہ میری بھی بیٹی ہے اور ہم اسے بیٹی ہی بنا کر رکھیں گے ۔۔۔۔ شرط یہ ہے کہ تم نہ دھونس جماؤ تو ۔۔۔۔

شروع میں انھوں نے سنجیدگی سے جب کہ آخر میں شرارت سے گویا ہوئے تھے ۔۔۔

انکی بات پر سب ہنس دیئے تھے ۔ ۔۔

تمہارے بہت دانت نکل رہے ہیں موٹی ۔۔۔۔۔۔

ریان جو کافی دنوں سے لیزہ کو لے کر سنجیدہ تھا سب کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر خود بھی ہلکا پھلکا ہوگیا تھا ۔۔۔

اسکی نظر اریبہ پر پڑی تھی جو ہنس رہی تھی اسے شرارت سوجی تھی ۔۔۔

تمہیں کیا موت پڑ رہی ہے اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔۔

اریبہ نے منہ بگاڑتے ہوئے جواب دیا تھا جس پر ریان طنزیہ ہنسا تھا ۔۔۔

چیونٹی کے پر نکل آئے ہیں ، کانٹنا پڑیں گے ۔۔۔۔

اسنے اریبہ کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا تھا جس پر اسنے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔

سب آہستہ آہستہ ٹیبل سے اٹھ گئے تھے لیزہ بھی علیزہ کے ساتھ اسکے روم میں آگئ تھی پنک کلر کی کرتی اور بلیک کلر کا ٹراؤزر اور ہم رنگ ڈوپٹہ پہنے سوجی ہوئ آنکھیں لئے جو اب اکثر رہنے لگی تھیں وہ کمرے میں سامان سمیٹ رہی تھی ۔۔۔

آپی ۔۔۔۔ اتنی جلدی کیوں جارہی ہیں ۔۔۔ ابھی مجھے آپکی ضرورت ہے ۔۔۔۔

لیزہ نے بھیگے لہجے میں اس سے کہا تھا ۔۔۔

میں بھی نہیں جانا چاہتی ابھی لیکن لیزہ جانا تو ہے لیکن اس وقت تمہیں ہماری نہیں اپنی ضرورت ہے کیونکہ ہماری لیزہ تو کہیں کھو گئ ہے ہمیں وہ ہی لیزہ واپس چاہیئے کیا تم ہماری ہیلپ کرو گی ۔۔۔۔

علیزہ نے اسے سمجھا تے ہوۓ آخر میں ہاتھ آگے کیا تھا جسکو دیکھ کر لیزہ نے تھا م لیا تھا ۔۔۔۔

تم وعدہ کرو لیزہ سب بھول کر آگے بڑھو گی ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو مجھے پتا ہے مشکل ہے یہ لیکن ناممکن نہیں اور تم تو سیلف اوبسیشنس ہو ۔۔

لیزہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے جو ہم چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا اور جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ ہو جاتا ہے تم نے غلط وقت پر غلط انسان سے محبت کی اب ایک کام کرنا اگر کوئ تم سے سچی محبت کرے تو اسکو مایوس مت لوٹانا کیونکہ جو تم سے محبت کرے گا وہ بے تحاشا کرے گا کہ تم سمیٹتے سمیٹتے تھک جاؤ گی ۔۔۔۔

علیزہ کے بولنے پر لیزہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔

اسنے علیزہ کے ہاتھ کو سختی سے تھام کر اپنے ہاتھوں میں دبایا تھا ۔۔۔

میں پوری کوشش کرونگی ۔۔۔ لیکن اب محبت ناممکن ہے کیونکہ ٹھوکر تو ایک ہی دفعہ لگتی ہے کوئ سنبھل جاتا ہے اور کوئ وہی کرتا ہے ۔۔۔ میں سنبھل گئ ہوں ۔۔۔۔

اب تم اپنے آپ کو سنبھالو گی اپنے لئے نہیں ہمارے لیئے ۔۔۔۔ اس خودسر شخص کے لئے اپنے آپ کو تباہ مت کرنا میرا بس چلے میں اتنا برا حشر کروں کہ کسی لڑکی کے ساتھ آئندہ ایسا گندا مزاق کرنے کی ہمت نہ ہو ۔۔۔۔

علیزہ نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

نہیں آپی ایک وعدہ آپ بھی کریں چاہے کچھ بھی ہوجاۓ آپ میری یا کسی بھی وجہ سے اپنا گھر خراب نہیں کریں گی رمیض بھائ بہت اچھے ہیں انکا اس میں کوئ قصور نہیں ہے آپ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گی سمجھ گئیں نہ آپ ۔۔۔ ؟؟؟

لیزہ نے اسکی بات پر روتے ہوۓ اسے کہا تھا جس پر علیزہ اسکے گلے لگ گئ تھی ۔۔۔۔

ایسی ہی باتوں میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا اور وہ لوگ چلے گئے تھے اور پیچھے ایک ہنستی کھیلتی لڑکی کو اداس چھوڑ گئے تھے ۔۔۔۔