56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 15)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

لیزہ کین یو امیجن ۔۔ ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ تم نے انٹری ٹیسٹ کلیئر کر لیا ہے اور اب تم کالج جوائن کرو گی اور تو اور پھر تم جلد ہی اپنے نام سے پہلے ڈاکٹر کا استعمال کرو گی ۔۔۔۔ اوہ گاڈ ۔۔۔ ائ ایم سو ایکسائٹڈ یار ڈاکٹر لیزہ خان ۔۔۔ واؤوووو ۔۔۔۔۔ میں نہ بس ابھی آرہی ہوں میرا انتظار کرو بس آبھی آئ ۔۔۔۔۔

نادیہ جوش و خروش سے بولتے ہوئے اسےاپنی ایکسائٹمنٹ بتا رہی تھی جبکہ دوسری طرف لیزہ بے یقینی سے کھڑی آنکھیں پھاڑے سامنے دیکھ رہی تھی فون بند ہونے پر سب نے اسے سناٹے میں دیکھا تھا ۔۔۔۔

لیزہ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔

زیان نے اس کے قریب جاتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا اسکی پکار سن کر لیزہ ایک دم ہوش میں آئ تھی ۔۔۔

کیا ہوا لیزہ ۔ ۔۔۔۔ ؟؟؟

زیان نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا سب اس کے آس پاس جما ہوگئے تھے اور بس زیان کا یہ پوچھنا تھا اور لیزہ صاحبہ جو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوئی تھیں کہ بس ۔۔۔۔ سب کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

ماہم تو اسے سنبھلتے نہ دیکھ کر تیزی سے اوپر بھاگی تھی تھوڑی دیر میں سب بڑے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔

اس رات کے بعد ویسے بھی سب لیزہ کو لے کر کافی کونشئس ہوگئے تھے اس لیے اس کے رونے کا سن کر بھاگتے ہوئے آئے تھے ۔۔۔۔

کیا ہوا میری جان ؟؟؟؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟؟؟؟

نور بیگم اسکے قریب آتے ہوئے پریشانی سے بولی تھیں ۔۔۔۔

ماما ۔۔۔۔۔ میں نے انٹری ٹیسٹ کلیئر کر لیا ہے ۔۔۔۔۔

یہ کہتے ہوئے وہ انکے گلے لگ گئ تھی جس پر سب نے ایک دوسرے کو ہونکوں کی طرح دیکھا تھا پھر ایک شور اٹھا تھا کمرے میں کہ لیزہ ڈر کر اپنی ماں سے الگ ہوئی تھی اور ان سب کو دیکھا تھا جبکہ سب بڑے ایک ایک کر کے آگے آۓ تھے اور لیزہ کو گلے لگایا تھا یہ سب دیکھ کر اس کی آنکھیں جھلملائئ تھیں اور برابر میں بیٹھی ہوئیں نور بیگم کی بھی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔۔۔۔

مبارک ہو بیٹا ۔۔۔۔ بہت زیادہ مبارک ہو اور ایک بات سب سن لیں ہماری بیٹی کی کامیابی کی خوشی میں میری طرف سے ایک گرینڈ پارٹی کا انتظام کرو سب کو بلاؤ اور کسی چیز کی کمی نہیں رہنی چاہیئے سب کو پتا چلے آخر منور صاحب کی پوتی ڈاکٹر بنے گی ۔۔۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔۔۔

سب کو خوش دیکھ کر تایا جان نے خوشی میں اور رنگ بھرا تھا جس پر سب کا ایک زور دار نعرہ بلند ہوا تھا ۔۔۔۔۔

لمبی سی سڑک پر وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن تھے ایک دم سے اسکو شدید قسم کی ٹھوکر لگی تھی شاید پتھر آگیا تھا جواندھیرے کے باعث نظر نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

ٹھوکر لگنے سے اس کا ہاتھ دوسرے سے چھوٹا تھا اس نے سنبھل کر سامنے دیکھا تھا جہا ں وہ خون میں لت پت کسی اور کا ہاتھ پکڑے دور ہو رہا تھا وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا لیکن اسے اتنا پتا تھا کہ وہ اسے لے جا رہا ہے ۔۔۔۔

وہ تیزی سے ان دونوں کے پیچھے بھاگا تھا اور اتنی ہی پھرتی سے وہ دونوں اندھیرے میں گم ہو گئے تھے اسنے پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھا تھا اور پھر چیختا ہوا آگے بھاگا تھا لیکن شاید دیر ہوگئ تھی وہ لے گیا تھا اسے ۔۔۔۔

وہ ایک دم سے گٹھنوں کے بل زمین پر گرا تھا اور پھر چیخ کر اس نے اسکا نام پکارا تھا اسکی آواز میں اتنی وحشت تھی کہ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔

پورا پسینوں سے تر وہ وحشت زدہ سا پورا کمرا دیکھ رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر پانی کا جگ اٹھایا تھا اور ایک گلاس پانی پیا تھا جس پر وہ تھوڑا نارمل ہوا تھا ۔۔۔۔

اس نے اپنے ہاتھ منہ پر پھیرے تھے اور پھر گھڑی کی طرف نظر گئ تھی جو اس وقت رات کے نو بجا رہی تھی ۔۔۔ اسے حیرت ہوئی تھی کہ وہ آج اتنی جلدی کیسے سو گیا وہ اٹھ کر واش روم گیا فریش ہونے کے بعد وہ لیپ ٹاپ لگ کر بیٹھا تھا جب اسے اپنا خواب دوبارہ یاد آیا تھا ایک دم سے پھر وحشت طاری ہوئی تھی اس پر ۔۔۔۔

ریلیکس زیب ۔۔۔۔۔ وہ جسٹ ایک خواب تھا اور شاید بے وقت سونے کی وجہ سے آیا تھا ۔۔۔۔

اس نے اپنے آپ کو تسلی دی تھی ابھی وہ اور کچھ سوچتا جب اسکے لیپ ٹاپ کی لائٹس آن ہوئی تھیں زیب کی سوچ میں خلل ڈالا تھا اس نے اسکرین کی طرف دیکھا تھا اگلے لمحے اس نے کال ریسیو کی تھی ۔۔۔۔

اسلام و علیکم ماما ۔۔۔۔ ہاؤ آر یو ۔۔۔ ؟؟؟

زیب اپنے آپ کو نارمل کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ الحمداللہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔

فریدہ بیگم نے پیار سے اسے دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔

ماما کہاں ہیں آپ ۔۔۔۔ بہت شور ہے پیچھے ۔۔۔۔ کہیں باہر ہیں کیا ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

زیب نے پیچھے زور و غل محسوس کرتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ ہنس دی تھیں ۔۔۔۔

ارے ہاں بیٹا باہر تو ہوں ۔۔۔۔۔ کراچی آئ ہوئ ہوں ۔۔۔۔۔۔

انھوں نے خوشی سے کہا تھا ۔۔۔۔

خیریت ماما ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ سب ٹھیک ہے نہ وہاں ۔۔۔۔

زیب نے گھبراتے ہوئے اپنی ماں سے دریافت کیا تھا ۔۔۔۔

ارے ہاں ہاں سب خیریت ہے دراصل آج تمہارے ماموؤں کے گھر دعوت تھی تو میں نے سوچا کہ میں بھی شامل ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔

ورنہ تمہیں پتا ہے اسلام آباد سے یہاں آنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے اور پھر ماشاءاللہ سے تم چاچو بننے والے ہو تو تمہاری بھابھی کی کئیر بھی ضروری ہے ۔۔۔۔۔

انھوں نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے زیب کو خوشخبری دی تھی جس پر وہ پہلے چونکا تھا پھر خوش ہوگیا تھا ۔۔۔

اوووو۔۔۔۔ واؤ امی ۔۔۔ میں چا چو بننے والا ہے ۔۔ ۔ آئ ایم سو ہیپی ۔۔۔ کہاں ہیں بھابھی ؟؟؟ بتائیں مجھے ۔۔۔ ؟؟؟

ارے ارے ۔۔ ابھی وہ بزی ہے اپنی بہن کے ساتھ آخر کو اتنا بڑا دن ہے اسکا ۔۔۔۔

اپنی ماں کی بات پر اسکی مسکراہٹ پھیکی پڑی تھی ۔۔۔

وہ کیسے ؟؟؟؟

زیب نے اٹکتے ہوئے ان سے سوال پوچھا تھا ۔۔۔

لیزہ نے میڈیکل ٹیسٹ کلیئر کر لیا ہے ماشاءاللہ سے اب انشاء اللہ جلد ہی ہم اسے ڈاکٹر لیزہ خان بلایا کریں گے ۔۔۔۔

اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا کہ لیزہ اور ڈاکٹر ۔۔۔۔ لیکن وہ ۔۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے اسکے کانوں میں سارہ کی باتیں گونجی تھیں ۔۔۔

آپکو نہیں پتا اللّٰہ کے فضل و کرم سے انگلش میں تین دفعہ فیل ہو چکی ہیں ہماری لیزہ ۔۔۔۔۔

جبکہ لیزہ سامنے بیٹھی کیوٹیکس لگانے میں مگن تھی۔ ۔۔۔۔۔

اسکا انداز ایسا تھا کہ جیسے اسکے بارے میں نہیں کسی اور کے بارے میں بات ہو رہی ہو اور وہ حیران سا لیزہ کو دیکھ رہا تھا جو مہارت سے ناخن سیٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

ہیلوووو ۔۔۔۔ زیب ۔۔ ۔ کہاں کھو گئے ؟؟!!

اسکا دماغ مفلوج ہو گیا تھا جسے فریدہ بیگم کی آوازپر ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔

جی ماما سگنل پرابلم ہو رہی ہے شاید آواز کٹ رہی ہے میں آپ سے بعدمیں بات کرتا ہوں ۔۔۔۔ اوکے اللّٰہ حافظ ۔۔۔۔

زیب نے بہانہ بناتے ہوئے جلدی سے کال کاٹ دی تھی اور پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ میں کیوں اسے سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ شاید میں گلٹ میں ہوں ۔۔۔ ہاں ورنہ میں اور اسکو سوچوں امپوسیبل ۔۔۔۔۔

خود ہی سوال اور خود ہی جواب دے کر وہ اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا اور دور آسمان پر چمکتا ہوا چاند اسکو دیکھ کر اداسی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔

بس کچھ ہی لمحے دور ہیں ۔،۔

جب تم اپنی چاندنی چھوڑ کر ہمیں تکا کرو گے ۔۔

یونی میں چلتے امتحانات سے آج اسے صحیح معنوں میں فراغت ملی تھی اسی لیے وہ تیزی سے لائبریری کی طرف بڑھا تھا تاکہ ایک دو بک لے سکے ایک فائنل پریکٹیکل باقی تھا جس میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا اسی لیے وہ لائبریری آیا تھا ۔۔۔۔

بکس ڈھونڈتے ہوئے اسے کافی ٹائم لگ گیا تھا جب اسکا موبائل بجا تھا لائبریری میں ہونے کی وجہ سے وہ تیزی سے ریسیو کر گیا تھا ۔۔۔۔

زیب کہا ہو ؟؟؟؟ جلدی کینٹین پہنچو۔ ۔۔۔۔۔ ایک نیا محاذ تیار ہے تمہارے لیے ۔۔۔۔

سیف کی بات پر وہ چونکا تھا اگلے لمحے وہ اپنی مطلوبہ کتاب پکڑے لائبریری سے سیدھا کینٹین پہنچا تھا لیکن اندر داخل ہوتے ہی اسکے قدم ٹھٹکے تھے کیونکہ اسکی وجہ سامنے ایل ای ڈی میں لکھا ہوا سوری تھا جو بڑا بڑا جعلی حرف میں لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔

پہلے تو وہ حیران ہوا تھا لیکن روز پر نظر پڑتے ہی اسے سب ڈرامہ پتا چل گیا تھا اس نے ایک گہری سانس خارج کی تھی اور پھر سیف کو ڈھونڈا تھا ۔۔۔

ابھی وہ سیف کی طرف جاتا جب روز تیزی سے اسکی طرف آئ تھی خلاف توقع وہ بھی رک گیا تھا ۔۔۔۔

آئ ایم سوری زیب ۔۔۔۔۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے ۔۔۔ میں بہک گئ تھی لیکن میں تمہاری ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتی ۔۔۔ یو نو واٹ ۔۔۔۔ یہ سب میرا مزاق اڑا رہے تھے لیکن مجھے یقین ہے تم مان جاؤ گے ۔۔۔۔ ہے نہ ۔۔۔۔

روز نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا لہجےمیں شرمندگی واضح تھی ۔۔۔۔

زیب نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور بہت آہستگی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالا تھا اور پھر اسکا گال تھپتھپایا تھا ۔۔۔۔

اٹس اوکے ۔۔۔۔۔ مجھے پتا تھا تمہیں اپنی غلطی کا احساس ضرور ہوگا لیکن اس کے لیے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی تم ایسے ہی کہ دیتیں میں مان جاتا ۔۔۔۔

خیر اب چھوڑو اس سب کو چل کرو ۔۔۔۔ مجھے تھوڑا کام ہے پھر ملتے ہیں جلد ہی اوکے باۓ ۔۔۔۔۔۔

زیب رسانیت سے اپنی جان چھڑاتے ہوئے اس سے بولا تھا اور تیزی سے باہر نکل گیا تھا پیچھے وہ اسکا انداز دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔۔

کالج کا پہلا دن وہ بھی اس قدر گرم کے بس ۔۔۔ میں تو پاگل ہوگئی وہاں ۔۔۔ یہاں گھوم وہاں گھوم ۔۔۔۔ گاڈ ۔۔۔۔

سفید یونیفارم میں پسینے سے تر وہ ہال میں داخل ہوئی تھی بیگ ایک طرف صوفے پر ڈالتے ہوئے دھپ سے دوسرے صوفے پر گری تھی قریب بیٹھی اریبہ ہل گئ تھی پوری لیکن اسکا خیال کرتے ہوئے فل وقت خاموش رہی ۔۔۔۔

ایک گلاس پانی پلا دو ۔۔۔۔۔

اس نے وہیں سے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی تھی اور دوسرے ہی لمحے ٹینگ سے بھرا ہوا جگ اس کے سامنے رکھا گیا تھا اس نے تیزی سے تین گلاس خالی کیۓ تھے اور اتنی ہی حیرانگی سے اریبہ اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

آپی کیا ہو گیا ۔۔۔۔ آرام سے پئیں ۔۔۔ جوس کہیں بھاگا نہیں جا رہا ۔۔۔۔

اس سے رہا نہیں گیا اور آخر کار اس نے ٹاک ہی دیا ۔۔۔۔

لیکن غضب ہو جو اسی وقت تائ امی کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور اریبہ کی پوری بات انکے کانوں میں پڑی تھی۔ ۔۔۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے ٹوکہ مت کرو لیکن تمہیں سمجھ میں نہیں آتی پتا نہیں کب بڑی ہوگی یہ ۔۔۔۔ اونٹ کی اونٹ ہوگئی ہے لیکن حرکتیں وہی ہیں ۔۔۔۔۔

انھوں نے آتے کے ساتھ ہی اسے لتاڑنا شروع کر دیا جس پر پہلے تو بوکھلائ اور پھر روہانسا ہو گئ تھی ۔۔۔۔

تائ امی چھوڑیں نہ ۔۔۔ صحیح تو کہ رہی تھی وہ میں ابھی گرمی سے آئ تھی اور آتے کے ساتھ ہی جوس پی لیا اسکا مقصد وہی تھا کہ جلدی نہ کریں آرام سے پیوں میں ۔۔۔ آپ پلیز مت ڈانٹیں اسے ۔۔۔۔

لیزہ نے انھیں بولتے دیکھ کر انھیں روکا تھا جس پر وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی تھیں اور پھر بڑبڑاتی ہوئیں کمرے سے نکل گئی تھیں پیچھے لیزہ اور اریبہ ایک دوسرے کو آنکھیں دیکھاتے رہ گئے تھے ۔۔۔۔