Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 34) 3rd Last Episode

56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 34) 3rd Last Episode

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan


🎉🎊 SURPRISE 🥳 (3rd last ep)🎊

___________________________________

اگر تمہارا سوگ ہو گیا ہو تو بتا دو دماغ ٹھکانے پر آیا کہ نہیں ؟؟؟؟

فریدہ بیگم ابھی ابھی اس کے کمرے میں داخل ہوئ تھیں وہ جو بے سدھ پڑی ہوئ تھی اپنی ماں کی آواز پر آنکھیں کھولی تھیں جبکہ فریدہ بیگم اسکا حال دیکھ کر پریشان ہو گئ تھیں آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئےانھوں نے بخار چیک کیا تھا اور پھر دہل کر نیچے کی طرف بڑھی تھیں جب اسکی آواز پر انکے قدم تھمے تھے ۔۔۔۔

بس آپ سے یہی کہنا ہے کہ میرے راستے میں مت آئیں میری پہلی اور آخری خواہش سمجھ کر میری بات مان لیں ۔۔۔۔

آنکھوں میں آنسو بھرے بھیگے لہجے سے اس نے اپنی ماں سے تقریباً فریاد کی تھی جو اندر داخل ہوتے احمد صاحب نے باخوبی سنی تھی ۔۔۔۔

فریدہ اپنی بیٹی سے کہو اس لڑکے کو بولے مجھ سے آکر ملے ۔۔۔۔۔

گرج دار آواز کے ساتھ ژالے کے اوسان خطا ہوۓ تھے جبکہ انکے جملے پر فریدہ بیگم نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا شکوہ صاف جھلک رہا تھا انکی آنکھوں سے ۔۔۔۔

ڈیڈ لیکن وہ جب ہی آئیں گے جب آپ سب مان جائیں گے ۔۔۔۔

ژالے نے ہمت کرتے ہوئے الفاظ ادا کئے تھے ۔۔۔۔

میری ماں بننے کی کوشش مت کرو تم جتنا کہا ہے اتنا کرو ورنہ دل تو چاہ رہا ہے اپنے ہاتھوں سے مار دوں تمہیں ذلیل و رسواء کر دیا ہے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا تم نے ژالے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا مار دیا تم نے جیتے جی ہمیں ۔۔۔۔۔

بولتے بولتے آخر میں انکا لہجہ روہانسا ہوا تھا جس کو محسوس کر کے ژالے تڑپ گئ تھی اس سے پہلے کے وہ اٹھتی وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے پیچھے فریدہ بیگم آنسو پوچھتے ہوئے خود بھی احمد صاحب کے ساتھ انکے پیچھے نکلی تھیں ۔۔۔۔۔

___________________________________

پاپا میری بات تو سن لیں ۔۔۔۔

وہ جو کب سے اپنے باپ کا انتظار کر رہا تھا انکے میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی وہ انکے پیچھے لپکا تھا لیکن وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔۔

کیا سنوں تمہاری ہماری دو ٹکے کی عزت کر کے تم کہہ رہے ہو سن لوں تمہاری کیوں کیوں سنوں ۔۔۔ ؟؟؟

غصے سے گرجتے ہوئے وہ اپنے آفس میں داخل ہوئے تھے پیچھے وہ بھی موجود تھا ۔۔۔

پاپا ایک دفعہ سننے میں تو کوئ ہرج نہیں ہے آپ سنیں تو میں نے ایسا کیوں کیا کوئ تو بات ہو گی جو میں نے اتنا غلط کیا اپنے ساتھ ۔۔۔۔

عاجزی سے بولتے ہوئے آخر میں اسکا لہجہ ایک تھکے ہوئے جواری کی طرح ہوا تھا ۔۔۔۔

بولو میں سن رہا ہوں ۔۔۔۔

آخر باپ تھے اور بیٹا بھی ایک ہی کیسے برداشت کرتے اسے اس حال میں ۔۔۔۔

پاپا یہ ۔۔۔۔ یہ دیکھیں ۔۔۔۔۔ یہ وہ ثبوت تھے جنہوں نے مجھے بہکا دیا تھا ۔۔۔۔

انکے سامنے اپنا موبائل کرتے ہوئے اس نے وہ تصویریں دکھائی تھیں جس پر وہ غور سے دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔

یہ کیا ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے ۔۔۔ ؟؟؟

وہی تو میں بتانا چاہتا ہوں پاپا یہ فوٹوز ایڈٹ نہیں ہیں رئیل ہیں یہ تصویریں اور اسی کو دیکھنے کے بعد مجھے لگا کہ ۔۔۔۔ میرے اندر کی غیرت جاگ گئ تھی پاپا جب تک مجھے ہوش آیا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

سب کچھ بتاتے ہوئے آخر میں وہ دکھ سے بولا تھا جبکہ سامنے موجود اسد درانی سوچ میں پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔

تم نے اس بچی پر شک کیا جو اتنے سالوں سے ہمارے سامنے تھی تمہاری غیرت اس وقت کیوں نہیں جاگی ۔۔۔۔

ایک بار پھر انہیں نئے سرے سے غصہ چڑھا تھا جس پر صدمے نے خاموشی سے اپنے باپ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

پاپا میں بہک گیا تھا لیکن ۔۔۔۔ میں آپ سے ایک اور بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

رسانیت سے بولتے ہوئے آخر میں اسنے انہیں دیکھا تھا جو چونک کر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

اب بھی کچھ ایسا ہے جو ہم سے چھپا ہوا ہے ۔۔ ؟؟؟

طنزیہ لہجے میں پوچھتے ہوئے انہوں نے خشمگی نظروں سے دیکھا تھا جس پر صمد شرمندہ ہوا تھا ۔۔۔۔

پاپا وہ ۔۔۔ وہ میں ژالے احمد سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

ہکلاتے ہوئے بول کر اس نے اسد درانی کو تیش دلا دیا تھا ۔۔۔۔

دماغ درست ہے تمہارا کیا چاہتے ہو تم اور کتنا ذلیل کرواؤ گے ہمیں اسی گھر کی ایک بیٹی سے رشتہ توڑ کر دوسری کے لئے رشتہ لے کر جائیں پاگل سمجھا ہوا ہے کیا تم نے ہمیں ۔۔۔۔

غصے سے چیختے ہوئے انکا سانس پھولا تھا جبکہ باپ کی حالت دیکھ کر صمد نے پانی کاگلاس آگے بڑھایا تھا جو انہوں نے چھناکے سے ہاتھ مار کر توڑ دیا تھا ۔۔۔۔

پاپا سمجھنے کی کوشش کریں آپ میں ۔۔۔۔ میں جو کر رہا ہوں سوچ سمجھ کر کر رہا ہوں اور ۔۔۔۔۔ اور ژالے مجھے پسند کرتی ہے اسنے مجھ سے خود اعتراف کیا ہے تو میں اب اسے نہیں چھوڑ سکتا اپنی بےوقوفی کیوجہ سے پہلے ہی نقصان اٹھا چکا ہوں اب نہیں اٹھاؤنگا اور اس سے اچھا موقع ہمیں نہیں ملے گا ان سے معافی مانگنے کا مطلب میں معافی مانگوں گا ۔۔۔۔

صمد نے انہیں سمجھاتے ہوئے آخر کے جملے الٹ کئے تھے جس پر انہوں نے غراتے ہوئے اسے دیکھا تھا تو صمد نے سٹپٹا کر جملہ درست کیا تھا ۔۔۔۔

اسد درانی کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن انہیں اپنے بیٹے کی بات درست لگی تھی لیکن ایک الجھن تھی کہ وہ کس منہ سے رشتہ لے کر جائیں گے وہاں ۔۔۔۔

کہاں پھنس گیا یار کاش تم میرے بیٹے نہ ہوتے دو تھپڑ لگاتا اور اوقات سے آجاتے اپنی لیکن ہاۓ رے قسمت وہاں جاکر مارتی ہے جہاں پانی کم ہوتا ہے ۔۔۔۔

___________________________________

وہ ابھی ابھی کافی سمجھا کر آفس سے باہر نکلا تھا اور گاڑی میں بیٹھا تھا جب اسکا موبائل بجا تھا ژالے کا سوچ کر اس نے موبائل کی طرف دیکھا تھا جب اسکا دل چار سو کی اسپیڈ سے چلا تھا لیزہ کے نام سے ہی اسکی دھڑکن تیز ہو گئ تھی گہری سانس لے کر اس نے یس کر کے فون کان سے لگایا تھا جبکہ دوسری طرف سے سلام کیا گیا تھا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔

پوچھونگی نہیں کیسے ہو کیونکہ جو کام تم کر رہے ہو اس میں ٹھیک ہی ہوگے ۔۔۔۔۔

طنزیہ لہجہ اپنایا گیا تھا جو سیدھا صمد کے دل کو زخمی کر گیا تھا ۔۔۔۔

ہمممم صحیح کہا تم نے ۔۔۔۔

آہستہ آواز میں بولتے ہوئے اس نے اگنیشن میں چابی گھمائ تھی اگلے لمحے گاڑی اسٹارٹ ہوئ تھی ۔۔۔۔

یہ نہیں پوچھونگی کہ ایسا کیوں کیا میرے ساتھ کیونکہ مجھے تم سے لاکھ گناہ اچھا شوہر ملا ہے لیکن ۔۔۔۔ اتنا ضرور پوچھونگی کہ ژالے سے تمہارا افئیر کب سے چل رہا ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

سنجیدگی سے پوچھے گئے سوال پر صمد نے ضبط سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔۔

تب سے جب سے مجھے پتا چلا تھا کہ تم زیب سے محبت کرتی ہو ۔۔۔۔

بند آنکھیں کھول کر سامنے دیکھتے ہوئے اس نے اپنی بات کہی تھی ۔۔۔۔

تو یہ سب ڈرامہ کرنے کا مقصد کیا تھا ایک منٹ کہیں تم ژالے کو ٹارچر تو نہیں کر رہے ۔۔۔ ؟؟

ہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا تمہیں لگتا ہے میں اسے یا پھر کسی کو بھی ٹارچر کرونگا تمہیں سچ میں ایسا لگتا ہے ؟؟؟؟

میرے لگنے یا نہ لگنے سے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ میرے اعتبار کا تم پہلے ہی خون کر چکے ہو لیکن میں ژالے پر ایک آنچ نہیں آنے دونگی اس لئے کچھ غلط کرنے کا سوچنا بھی مت ۔۔۔۔

غصے سے بولتے ہوۓ لیزہ نے اسے بہت کچھ باور کروایا تھا جس پر وہ ہلکا سا ہنسا تھا ۔۔۔۔

کاش تمہاری کزن بھی تمہارے لئے ایسا ہی سوچتی ہوتی ۔۔۔۔

طنزیہ اسے سنایا گیا تھا جبکہ لیزہ چونکہ تھی ۔۔۔

کیا مطلب ؟؟؟؟

کچھ نہیں بس اتنا جان لو میں تمہاری کزن کو بہت خوش رکھونگا بہت محبت دونگا جو ایک بیوی کا حق ہوتا ہے اور اسے استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ میں عورتوں سے بدلہ نہیں لیتا تو اس لئے تم میری طرف سے پریشان مت ہو تم بس سب کو ایگری کر لو اس شادی کے لئے ۔۔۔۔

سنجیدگی اسکے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی جبکہ لیزہ اسکی سننے کے بعد فون بند کر چکی تھی ایک اطمینان تھا جو اسکے رگ و پے میں اترتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔ اب اسے آگے سوچنا تھا کہ سب کیسے ہینڈل کرنا ہے ۔۔۔۔

___________________________________

اس وقت ہال میں سب بڑے موجود تھے جبکہ لیزہ بھی وہاں موجود زیب کے برابر میں براجمان تھی سامنے ہی صمد اور اسکی فیملی منہ میں لڈو ڈالے بیٹھے جبکہ احمد صاحب اور باقی مرد حضرات بات شروع کرنے کے لئے تمہید باندھ رہے تھے زیب اس وقت بہت ضبط سے بیٹھا تھا یہ اسکی کنپٹی کی ابھرتی ہوئی نسیں بتا رہی تھیں جبکہ رمیض خاموشی سے بیٹھا اپنے باپ کے حکم کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

جو کچھ آپکے بیٹے نے ہماری بیٹی کے ساتھ کیا اس کے بعد ہم اس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے لیکن ۔۔۔۔۔

بہروز صاحب جو کب سے خاموش بیٹھے تھے بات کو شروع کرتے ہوئے سیدھے سے انکو انکی غلطی باور کرواگئے تھے جس پر زیب نے مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔

ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں صمد سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے لیکن ہم اپنی غلطی سدھارنے ہی تو یہاں آئے ہیں ۔۔۔۔

مسز اسد نے رسانیت سے کہا تھا لیکن بات ہی کچھ ایسی تھی کہ غلط سمجھنا بنتا تھا ۔۔۔

آپکے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہاں غلطی کے عوض ہماری بیٹی لینے آئے ہیں ۔۔۔۔

جبکہ انکی بات پراسد نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

انکل آنٹی ۔۔۔۔ میں آپ دونوں سے معافی مانگتا ہوں میں نے بہت غلط کیا جو میں نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میں کیا کرتا مجھے ژالے سے محبت تھی میں کیسے لیزہ سے شادی کر لیتا اس لیے ۔۔۔۔

اسلئے تم نے سوچا بھاگ جاتے ہیں اگر اتنے ہی مرد ہوتے تو یہاں آتے بتاتے کہ تم میری بہن کو پسند کرتے ہو لیکن تم تو بزدلوں کی طرح چھپ کر بیٹھ گئے تم کیا میری بہن کا خیال رکھو گے ۔۔۔۔

اسکی بات کاٹ کر زیب نے کاٹ دار لہجے میں اسے دوٹوک کہا تھا جس پر اسکا خون گرم ہوا تھا لیکن ابھی اسے مطلب تھا اس لئے اسے صبر کرنا تھا ۔۔۔۔

ایسا نہیں ہے مجھے پتا تھا کہ لیزہ کی شادی ہو جائے گی اس لئے میں نہیں آیا لیکن اب میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔۔۔

آرام سے بولتے ہوئے اس نے لیزہ کو دیکھا تھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی جبکہ زیب کی نظریں اس پر تھیں اور یہ دیکھ کر اسے غصہ چڑھا تھا ۔۔۔۔

یہ بات تو کنفرم تھی کہ تمہاری شادی تو لیزہ سے نہیں ہونی تھی کیونکہ لیزہ کے لئے میں موجود تھا ہاں لیکن ژالے کا فیصلہ ڈیڈ کریں گے ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر صمد نے لیزہ کو ایک بات پھر دیکھا تھا لیکن ساتھ ہی اسکی نظر زیب پر پڑی تھی جو لیزہ کا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا چھن سے کچھ ٹوٹا تھا اسکے اندر جلتی آنکھوں سے اس نے یہ منظر دیکھا تھا اور نئے سرے سے اسے ژالے پر غصہ آیا تھا ۔۔۔۔

اولاد جب منہ کو آنے لگے تو ماں باپ ہمیشہ کمزور پڑ جایا کرتے ہیں کیونکہ اولاد کو لگتا ہے وہ ماں باپ سے ذیادہ طاقت ور ہے ہمیں بھی سوچنا چاہیئے کہ ذیادہ پیار و محبت اولا دکو بگاڑ دیتی ہے اس لئے یہاں ہماری غلطی ہے کہ ہم نے اپنی بیٹی کو لاڈ کر کے بگاڑ دیا صد افسوس کہ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہو سکا لیکن اب جب ہمیں معلوم ہو گیا ہے تو ہم وہی فیصلہ کریں گے جو ہماری اولاد چاہتی ہے اس لئے اسی جمعہ کو ہم سادگی سے ژالے کا نکاح چاہتے ہیں اور پھر ہمارا اور ژالے کا کوئ رشتہ نہیں ہو گا ژالے ہمارے لئے مر گئ اور ہم ژالے کے لئے جہیز کا انتظام نہیں کر سکتے اتنے کم وقت میں لیکن بیٹی ہونے کے ناطے ایک بھاری چیک جو ہماری حیثیت کے مطابق ہو ژالے کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائے گا نکاح خواں آپکا ہو گا اس جمعہ کو لے جائیں لڑکی ۔۔۔۔۔

تفصیلی جواب دے کر وہ جا چکے تھے پیچھے سب دم سادھے بیٹھے احمد صاحب کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے جب فریدہ بیگم کی سسکیاں کمرے میں گونجی تھیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انکی آواز اونچی ہوگئ تھی لیزہ کے لئے تو یہ سب عجیب تھا کیونکہ اس نے یہ سب نہیں سوچا تھا جبکہ سیڑھیوں پر کھڑی ژالے سن کھڑی اپنے باپ کے فیصلے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی دفن ہی تو ہو گئ تھی آج وہ اپنے باپ کی نظروں میں وہ یہ مان ہی نہیں سکتی تھی کہ اسکے ڈیڈ جو اس پر جان چھڑکتے تھے وہ اس طرح کا فیصلہ کریں گے آنکھوں میں آنسو بھرے اسنے سامنے دیکھا تھا جہاں سے وہ ستم گر اٹھ کر واپس جا رہا تھا لیکن جاتے جاتے بھی وہ ایک نظر لیزہ کو دیکھنا نہ بھولا تھا اور وہیں ژالے کی ہمت جواب دے گئی تھی بھاگ کر اپنے کمرے میں جا کر بیڈ کے نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر روئ تھی لیکن اپنے باپ کے جملے یاد آتے ہی وہ چیخ چیخ کر روئ تھی کہ سب نے اسکی واضح آواز سنی تھی لیزہ ایک دم اٹھی تھی جب زیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بیٹھایا تھا اسکی چیخوں میں اتنا درد تھا کہ لیزہ کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوئے تھے بے بسی سے زیب کو دیکھا تھا کہ وہ جانے دے لیکن وہ بے حس بنا زمین کو گھور رہا تھا جبکہ ہاتھ پر پکڑ ہنوز سخت تھی باقی سب کے آنکھوں میں بھی آنسو تھے لیکن ہمت کسی کی بھی نہیں ہوئ تھی کہ اسے دیکھ لیتا ۔۔۔۔۔

__________________________________

عجب سا سناٹا پورے منور ولا میں چھایا ہوا تھا آج جمعہ کا دن تھا کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ آج اس گھر میں ایک لڑکی کی شادی ہے وہ جو ہر شادی پر جوش میں رہتی تھی آج اسکی شادی ایسے ہو رہی تھی جیسے گھر میں میت ہوئ ہو اور صحیح تو تھا آج اس گھر سے میت ہی تو اٹھ رہی تھی ایک لڑکی کی جس کا ایک غلط عمل اس کے لئے مصیبت بن گیا تھا کاش کاش وہ یہ سب نہ کرتی تو آج سب خوش وخرم ہوتے وہ بھی اداس ہوتی لیکن خوش ہوتی اور اب کیا تھا خشک آنکھوں کے ساتھ وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے جنازے کے لئے بنایا گیا ڈریس دیکھ رہی تھی جو لال سرخ رنگ کا تھا ہاں یہ وہی لہنگا تھا جو لیزہ کے نکاح پر آیا تھا صمد کے گھر سے اور اسی سوٹ میں لیزہ کا نکاح زیب سے ہوا تھا ۔۔۔۔

تو وہ اس قابل بھی نہیں تھی کہ ایک نیا جوڑا خرید لیتے ۔۔۔۔

یہ سوچ آتے ہی ایک طنزیہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئ تھی اور اسکے بعد تکلیف دہ اثرات نے اسکا چہرہ بگاڑ دیا تھا تقریباً ایک ہفتے سے اسے بخار تھا کیا ہوا تھا اسے نہیں پتا تھا لیکن ہاں اتنے سے دنوں میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ضرور بن گئ تھی ۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ اور سوچتی جب لیزہ اندر داخل ہوئی تھی ٹرے ہاتھ میں پکڑے وہ اسکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کافی دنوں سے صحیح سے کچھ کھایا نہیں ہے تم نے چلو یہ ناشتہ کر لو پھر تم نے ریڈی بھی ہونا ہے ۔۔۔۔۔

آرام سے بولتے ہوئے لیزہ نے ڈبل روٹی پر مکھن لگایا تھا اور اسکی طرف بڑھایا تھا جسے اس نے ہاتھ سے پیچھے کیا تھا ۔۔۔

تھوڑا زہر بھی ملا دو اس میں ۔۔۔۔۔

تلخی سے بولتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر دوسری طرف دیکھا تھا جبکہ لیزہ نے اب کہ ژالے کو غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

تھوڑا سا زہر تو تم نے اپنے لئے خود چن لیا ہے ژالے ۔۔۔۔

اسکی بات پر ژالے نے زور سے آنکھیں بند کی تھیں اور جب کھولی تھیں تو لال انگارہ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔

میں نہیں جانتی ژالے تم نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے لیکن اگر تم مجھ سے شئیر کر لیتی تو آج یہ سب نہ ہوتا کہتے ہیں جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ہو سکتا ہے صمد تمہارے لئے بہت اچھا ہو لیکن پھر بھی کاش کاش تم مجھ سے بات کر لیتی تو آج یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔۔

رسانیت سے سمجھاتے ہوئے لیزہ نے ایک بار پھر دودھ کا گلاس اسے پکڑانے کی کوشش کی تھی جو اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔

کیا بتاؤں تمہیں ؟؟؟؟ اگر میں نے تمہیں سب بتا دیا تو تم مجھ سے نفرت کرو گی اور میں تمہاری نفرت نہیں سہہ سکتی ۔۔۔۔

جبکہ ژالے کی بات پر اس نے ناسمجھی سے دیکھا تھا ۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟؟؟

کچھ نہیں بس ایک بات مانو گی میری ۔۔ ؟؟؟؟

اسکے سوال جو نظر انداز کرتے ہوئے ژالے نے کہا تھا۔۔۔۔۔

لیزہ تم ۔۔۔۔ تم بہت اچھی ہو بہت محبت ہے مجھے تم سے بس ایک کام کر دینا ڈیڈ کو منانا انہیں فورس کرنا کہ وہ مجھ سے بیٹی کا لقب نہ چھینیں ورنہ میں جو سسک سسک کر مرنا چاہتی ہوں وہ بہت جلدی مر جاؤں گی۔ ۔۔۔۔ ۔

ایک دم سے روتے ہوئے اس نے لیزہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنا ماتھا ٹکایا تھا جس پر لیزہ اسکے سر پر ہاتھ پھیر گئ تھی ۔۔۔۔

ژالے میری جان ۔۔۔ مجھے کچھ بتاؤ تو صحیح ہوا کیا ہے میں ۔۔۔ میں پرومس کرتی ہوں جلد نہیں تو بہت جلد سب کے دلوں سے میل دھو ڈالوں گی لیکن مجھے کچھ بتاؤ تو صحیح ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

اب کہ لیزہ کے لہجے میں عاجزی نے جگہ لی تھی اور ژالے ٹوٹ کر بکھر گئ تھی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہ لیزہ کے گلے لگی تھی ۔۔۔۔

بس میرے لئے دعا کرنا لیزہ میرے لئے دعا کرنا ۔۔۔۔

ٹوٹے ہوئے الفاظوں میں بس وہ یہی کہے جا رہی تھی جبکہ لیزہ کے خود آنسو بہنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔

___________________________________

ژالے کے کمرے سے دکھی ہو کر وہ سیدھا کچن میں آئ تھی جہاں اس وقت کافی گہما گہمی تھی کیونکہ ناشتہ بنانے میں سب خواتین لگی ہوئی تھیں ایسے میں وہ بھی سب کے بیچ جا کر کھڑی ہوئ تھی ۔۔۔

تائ امی ، ماما میں بھی کچھ مدد کرواؤں آپ کی ۔۔۔ ؟؟؟؟

ڈھکن اٹھا کر دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا جس پر وہ دونوں ہنس دی تھی نور بیگم تو کام بولنے والی تھی اسے لیکن اس سے پہلے ہی تائ جان نے اسے منع کیا تھا ۔۔۔

نہیں ابھی تم نئی نویلی دلہن ہو دن ہی کتنے ہوئے ہیں شادی کو آرام کرو ابھی بعد میں سسرال جا کر تمہیں ہی دیکھنا ہے سب ۔۔۔۔

فریدہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے تائ امی نے کہا تھا جس پر وہ ہنس دی تھیں ۔۔۔

ابھی تو تم جاؤ دیکھو جا کر زیب اٹھا اتنے کام ہیں اور یہ سوتے پڑے ہیں ۔۔۔۔

فریدہ بیگم کے کہنے پر لیزہ سر ہلاتی ہوئ اوپر بڑھی تھی ۔۔۔۔

کمرے میں پہنچ کر اندھیرے نے اسکا استقبال کیا تھا کھڑکی میں گرے پردے لائٹ آف پنکھا فل اسپیڈ میں چلائے زیب صاحب دنیا و مافیہا سے بے خبر تھے ۔۔۔۔

نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے پردوں کو ہٹایا جس سے پورا کمرا روشن ہوا تھا بیڈ پر پڑے زیب کے منہ پر منہ روشنی پڑی تھی کسمسا کر کمبل خود پر ڈالے کروٹ بدلی تھی ۔۔۔۔

زیب ۔۔۔۔ زیب اٹھ جائیں کتنا سوئیں گے ؟؟؟؟

ژالے کا نکاح ہے آج ۔۔۔

اسکے قریب جا کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے لیزہ نے اسکا کندھا ہلایا تھا جس پر اس نے کروٹ لیزہ کی طرف لے کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔۔

زیب !!!!!! یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟ میں کہہ رہی ہوں اٹھ جائیں اب بہت کام ہے اور مجھے بھی کام ہے جلدی اٹھ جائیں ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر زیب نے گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔

جب سے یہاں آیا ہوں سکون سے دو پل نہیں ملے تم سے بات کرنے کو جلدی نمٹے یہ مصیبت اور ہم چلیں یہاں سے کیونکہ یہ ظالم سماج ہمارے بیچ دیوار بن کر کھڑا ہے رومینس کا دشمن نہ ہو تو ۔۔۔۔

چڑ کر بولتے ہوئے وہ لیزہ کو ہنسنے پر مجبور کر گیا تھا جس کو دیکھ زیب کو تپ چڑھی تھی ۔۔۔۔

ذیادہ دانت نکل رہے ہیں ایک ہی دفعہ بند کرونگا پھر میں ہونگا اور تمہاری یہ سرخی ہو گی ۔۔۔۔۔

زومعنی لہجے میں بولتے ہوئے لیزہ کو چپ لگاگیا تھا جبکہ چہرہ لال سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔

اچھا نہ ابھی اٹھ جائیں ناشتہ کریں پھر مجھے مارکیٹ لے کر جائیں ۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات سن کر زیب جو اٹھنے کے موڈ میں تھا ایک دم رکا تھا ۔۔۔۔

نو نیور میں کہیں نہیں جا رہا ابھی اور کیا ضرورت ہے جانے کی ۔۔۔۔۔ ؟؟؟

بیڈ پر دوبارہ دراز ہوتے ہوئے اس نے صاف ہری جھنڈی دیکھائی تھی جس پر لیزہ سوچ میں پڑ گئ تھی پھر ایک دم اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ تھی جسے دباتے ہوئے وہ کھڑی ہوئ تھی ۔۔۔۔

اوکے مت جائیں آپ سو جائیں نیند پوری کریں میں ریان کے ساتھ چلے جاؤں گی ۔۔۔۔۔

لیزہ کا یہ کہنا تھا اور زیب نے ایک ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا جس سے وہ زیب کے اوپر گری تھی ۔۔۔۔

ہمت ہے تو اس کمرے سے نکل کر دکھاؤ ۔۔۔۔۔

اسکی کمر پر ہاتھ باندھے اس نے لیزہ کو پن کیا تھا جس پر لیزہ نے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔

کیوں اپنی ننھی سی جان پر ظلم کر رہی ہو جب پتا ہے نہیں جیت سکتی تم مجھ سے ۔۔۔۔

اس کی ناک دباتے ہوئے زیب نے اسے چڑایا تھا اور وہ چڑ بھی گئ تھی اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ کر اس نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔

آپ نہیں لے کر جائیں گے تو مجھے دوسرا راستہ چننا پڑے گا نہ ۔۔۔۔

تمہارے سارے راستے مجھ تک آتے ہیں پہلا بھی دوسرا بھی اور اسکی منزل بھی میں ہی ہوں سنا مائے لو ۔۔۔۔۔۔

گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے زیب نے لیزہ کے گالوں پر اپنے لب رکھے تھے اور پھر اسے سائیڈ کر کے خود واش روم چلا گیا تھا جبکہ لیزہ وہیں بیٹھی اپنی قسمت پر صرف رشک ہی کر سکتی تھی ۔۔۔۔

___________________________________