Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 06)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 06)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
ہم جانتے ہیں چار دن کی محبت کو ،۔
ہم بھی کسی کہ دل کا سکون ہوا کرتے تھے۔۔
آج بارات کا دن تھا ہر طرف گہما گہمی عروج پر تھی علیزہ کب کی پارلر نکل چکی تھی آج اس کے ساتھ لیزہ نہیں گئ تھی کہ آج اسے گھر پر ہی تیا ر ہونا تھا ۔۔۔۔
ماما ۔۔۔۔ ماما ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہیں ماما ۔۔۔۔۔
لیزہ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئ نیچے آئ تھی ۔۔۔۔
سب خیریت۔ ؟؟؟ ۔۔۔۔
انھوں نے کچن سے سر باہر نکال کر پوچھا تھا ۔۔۔۔
ماما کالج جا رہی ہوں ایک بہت ضروری کام آگیا ہے ۔۔۔۔ نہیں گئ تو میں یہ سمجھ لیں یہ سال ضائع ۔۔۔۔
لیزہ نے اپنی بات کر تے ہوئے عاجزی سے نور بیگم کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
پر لیزہ آج اور ابھی ۔۔۔ کیسے ۔۔۔۔
نور بیگم نے اعتراض اٹھایا تھا ۔۔۔
ماما پلیز ۔۔۔۔ بس میں ابھی گئ اور ابھی آئ ۔۔۔ پلیز ماما بس ایک گھنٹے ۔۔۔ پرومس بلکل دیر نہیں کروں گی ۔۔۔
اسنے اپنی ماں کو مناتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ جس پر نور بیگم نے اجازت دے دی تھی ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ اس سے کیسے جاؤ گی جیسا سوال کرتیں وہ باہر نکل گئ تھی ۔۔۔۔
گیٹ پار کرکے وہ تیزی سے سامنے کھڑی گاڑی میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اور لمبی سانس لی تھی ۔۔۔
اوووو ایم جیججججیییی ۔۔۔۔۔۔۔ بچ گئ میں آج وہ بھی بال بال ۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے نہ ماما کا ۔۔کتنے سوال کرتی ہیں ۔۔۔ خیر چھوڑو یہ بتاؤ ۔۔؟؟؟ خیریت ہے کیوں بلایا ہے ۔۔ ؟؟؟ سب ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔؟؟؟
اس نے جلدی جلدی سوال کیے تھے ۔۔۔۔
مجھے بولنے دو گی تو بولوں گی نہ ۔۔۔۔۔
نادیہ نے اسکو جواب دے کر گہرا سانس لیا تھا اور لیزہ کو لگا تھا اسکا سانس رک گیا ہو جیسے ۔۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔۔۔ ڈونٹ ٹیل می ۔۔۔۔ کہ رزلٹ آگیا ہے نادیہ جو گاڑی روڈ پر لے آئ تھی اسکے اندازے پر چونکی تھی ۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتا ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ ۔۔۔۔
نادیہ نے اس سے پوچھا تھا ۔۔۔ اسکی بات پر لیزہ نے اسے جن نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ میں تمہیں تم سے ذیادہ جانتی ہوں ۔۔۔۔۔
اااہااا۔ ں ں ں ۔۔۔۔۔۔ وہ ایکچیولی ۔۔۔۔
نادیہ نے اٹکتے ہوے کہنا چاہا تھا ۔۔۔۔
پھر رہ گئ میں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ یا اللّٰہ لیزہ کیا ہوگا تیرا ۔۔۔۔ اب تو پکا ابا اماں شادی کر دیں گے میری ۔۔۔ کیا نحوست ہے یار۔۔۔۔۔۔
اسنے دکھ بھرے انداز سے اپنے آپ کو سنایا تھا ۔۔۔ جبکہ اسکی بات پر نادیہ نے اسے حیران ہو کر دیکھا تھا ۔۔۔۔
کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔ ارے سن تو لو ۔۔۔۔ پاگل ۔۔۔ نون اسٹوپ بولتی ہو ۔۔۔۔۔ سننا نہیں ہےبس اپنے آپکو کوسنے دلوا لو ۔۔۔۔۔
نادیہ نے شدید غصے میں لیزہ کو بغیر دیکھے کہا تھا ۔۔۔۔ لیزہ اسے دیکھ کر خاموش ہوئی تھی ۔۔۔
رزلٹ آ گیا ہے اور فائنلی تمنے انگلش کا پیپر کلئیر کر لیا ہے ۔۔۔۔
نادیہ نے اسے جوش سے بتایا تھا ۔۔۔
لیزہ کو تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا اسکو لگ رہا تھا وہ خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔
مطلب ایسا کیسے ہو سکتا ہے جس میں وہ پورے دو سال تک ہر سمسٹر میں فیل ہوئ تھی وہ بلا آخر پاس ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کیسے ۔۔۔۔
وہ سکتے میں اپنا منہ کھولے بیٹھی ہوئ تھی جب نادیہ نے اسے ہلایا تھا اور حال میں آنے کو کہا تھا ۔۔۔۔
یاااااا ہوووووووو ۔۔۔۔۔۔
یقین آنے پر لیزہ نے زور سے نعرہ لگایا تھا جب کہ نادیہ ہنسنے لگ گئ تھی ۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں آرہا ۔۔۔۔ فائنیلی میں پاس ہو گئ ۔۔۔۔۔ اب بس شادی نمٹ جاۓ ایک بڑی سی ٹریٹ میری طرف سے ۔۔۔۔ ایک ثمن پھوپھو کو بھی دینی ہے ۔۔بیچاری بہت پریشان رہتی ہیں مجھے لے کر ۔۔۔۔
لیزہ کے طنزیہ بولنے پر نادیہ نے افسوس سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
چلو اب گھر چھوڑ دو مجھے ایک گھنٹے کا بول کر آئ تھی میں ۔۔۔۔
لیزہ کے کہنے پر اسنے گاڑی موڑ لی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ تھوڑا آگے چلے تھے جب سامنے سے آتی دو گاڑیوں نے انکا راستہ روکا تھا ۔۔۔ ایک دم سے سامنے آنے پر نادیہ نے بروقت بریک لگاۓ تھے جبکہ گاڑیاں دیکھ کر دونوں خوف زدہ ہوئی تھیں ۔۔۔۔
بڑھتے ہوئے چوریوں اور ڈکیتیوں کی وارداتوں نے ان دونوں کو خوف زدہ کیا تھالیکن اگلے ہی لمحے گاڑی سے نکلنے والے شخص کو دیکھ کر وہ چونکہ تھی ۔۔۔ اس شخص کو کہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
لیزہ گاڑی سے نکلنے والے شخص کو دیکھ کر چونکی تھی اور سوچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔ ایک جھماکے کے ساتھ اسے رات والا واقعی یاد آیا تھا ۔۔۔
وہ اسٹیج سے نیچے اتر کر تھک ہار کر پانی پینے اندر کی طرف بڑھی تھی جب دو لڑکے اسکے سامنے آئے تھے ۔۔۔ اس طرح انھیں سامنے آتے ہوئے دیکھ کر اس نےایک آئبرو اونچی کی تھی جس پر سامنے موجود لڑکے نے دل پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔ اسکے لوفر پن پر اسے غصہ آیا تھا ۔۔۔
سامنے سے ہٹیں پلیز ۔۔۔۔
اس نے تقریب کا خیال کرتے ہوئے رسانیت سے کہا تھا ۔۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔
لڑکے نے اس سے کہا تھا ۔۔۔
مجھ سے ۔۔۔ ؟؟؟
لیزہ نے حیران ہو کر اپنی طرف انگلی سے اشارہ کیا تھا لڑکے کے اثبات میں سر ہلا نے پر اس نے اسے جلدی بولنے کا کہا تھا ۔ ۔
میرا نام شاہرخ ہے ۔۔۔ میں یہاں احمد انکل کے ریفرنس سے آیا ہوں ۔۔۔۔۔ انکے دوست کا بیٹا ہوں ۔۔۔۔۔
اسنے اپنا تعارف کروایا تھا ۔۔۔۔
ایکچیولی ۔۔۔۔ آپکی آواز اتنی خوبصورت ہے کہ میں تعریف کیۓ بغیر رہ نہیں پایا ۔۔۔
جبکہ لیزہ نے اسکی بات تحمل سے سنی تھی اور پھر کہنا شروع ہوئ ۔۔۔۔
مسٹر آپ جو کوئ بھی ہیں ۔ ۔۔ میں آپکونہیں جانتی اینڈ آپ نہیں جانتے شایدمجھے پسند نہیں ہے کہ کوئ میری تعریف کرے سو پلیز لیو ۔۔۔۔
لیزہ اسکو کھردرے لہجے میں جواب دے کر آگے نکلنے لگی تھی جب وہ دوبارہ سامنے آیا تھا۔ ۔۔۔
لیکن لڑکیوں کو تو پسند ہوتا ہے اپنی تعریفیں سننا ۔۔۔اینڈ میں نے دیکھا ہے لڑکیاں اپنی تعریف پر بچھ جاتی ہیں ۔۔۔۔ میں تو بس اتنا کہہ رہا تھا اگر ہو سکے تو ایک یا دو ڈیٹس مل سکتی ہیں ۔۔ ایکچیولی مجھے خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے زیادہ بٹ ۔۔۔ تم میں کچھ الگ بات ہے ۔۔۔ آئ مین پاکستانی ہوٹنیس ۔۔۔۔
ابھی اسکا جملہ اسکے منہ میں تھا جب لیزہ کا الٹا ہاتھ گھوما تھا اور سامنے کھڑے شخص کے منہ پر نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
لیکن مجھے نہیں پسند ۔۔۔ میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں اور ایک بات تم جیسے لڑکوں سے اس ہی گھٹیا پن کی امید تھی مجھے تمہیں شاید عزت راس نہیں ہے ۔۔۔ یو نو واٹ تم لڑکے اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ تم سے بات کی جائے ۔۔ اینڈ فرسٹ اینڈ لاسٹ بات نیکسٹ ٹائم میرے ساتھ یہ حرکت مت کرنا ۔۔۔ ورنہ وہ حال کروں گی زندگی بھر یاد رکھو گے ۔۔ ۔۔
اسکا جملہ سن کر وہ آپے سے باہر ہوئ تھی ۔۔۔ آخر میں اسنے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تھا ۔۔۔ ۔
جب کہ شاہرخ تیزی سے اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔
اس پر آج تک کسی لڑکی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا تو لیزہ کیا چیز تھی اسکے سامنے ۔۔۔۔ وہ اسکے بلکل سامنے جا کر کھڑا ہوا تھا۔
یہ اچھا نہیں کیا تم نے ۔۔۔۔ دیکھتی جاؤ اب میں کرتا کیا ہوں ۔۔۔۔۔
اسنے اسکے قریب جا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا جس پر لیزہ نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
اسکا بدلہ سود سمیت نہ لیا تو میرا نام شاہرخ نہیں ۔۔۔اور ایک بات اب ایک دفعہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اپنے کمرے کی زینت نہ بنایا تو میرا نام بدل دینا ۔۔۔۔
انٹرسٹینگ مزا آئے گا کھیلنے میں ۔۔۔۔
اسکو وہیں کھڑا چھوڑ کر منہ میں بڑبڑاتا ہوا وہ منور ولا سے باہر نکلتا ہوا چلا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ گاڑی سے نکل کر لیزہ کی طرف والے گیٹ پر آیا تھا اور اسکی طرف کی کھڑکی میں جھکا تھا ۔۔۔۔
زہے نصیب ۔۔۔۔۔ ہمیں تو لگا تھا کافی انتظار کرنا پڑے گا آپکے دیدار کے لۓ لیکن ہمیں نہیں پتا تھا اتنی جلدی دعا قبول ہو جائے گی ۔۔۔۔۔
شاہرخ نے کمینگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھاجس پر اسنے خشمگی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
لیزہ کون ہے یہ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ خیر آپ جو بھی ہیں سر بعدمیں بات کیجئے گا ابھی ہمیں جلدی ہے تھوڑا ۔۔۔۔
نادیہ نے خطرہ دیکھتے ہوئے اس سے آرام سے کہا تھا ۔۔۔۔ جس پر اس نے پہلے لیزہ اور پھر نادیہ کو دیکھا تھا اور پھر ہنس دیا تھا ۔۔۔۔
شیر نے کبھی اپنا شکار چھوڑا ہے جو اب چھوڑے گا۔ ۔۔۔ ہاں ایک کام ہو سکتا ہے اگر تم چلے جاؤ تو ورنہ تم بھی مفت میں اس کے جاؤ گی ۔۔۔ ویسے مجھے کوئ مسلئہ نہیں ہے ۔۔۔۔
شاہرخ نے لیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر لیزہ غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ باہر نکلی تھی ۔۔۔۔
اپنی بکواس بند کرو ۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔
لیزہ پلیز آرام سے بات کرو ۔۔۔۔۔
نادیہ بھی باہر نکل کر آئ تھی تاکہ اسکو کنٹرول کر سکے ۔۔۔۔۔
تمہارا جو یہ غرور ہے نہ یہی ختم کرنا ہے ۔۔۔۔
شاہرخ نے لیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
وہ اسکی بات پر طنزاً مسکرائی تھی اسکے مسکرانے پر سامنے والے کو آگ لگی تھی اور اگلے ہی لمحے اسنے لیزہ کا ہاتھ پکڑ کر زور سے موڑا تھا اور کمر پر لگایا تھا اور اسکو موڑ کر کمر کا سائیڈ اپنی طرف کیا تھا اتنا کہ بیچ میں صرف مڑے ہوۓ ہاتھ کی وجہ سے فاصلہ تھا ۔۔۔۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ لیزہ کے منہ سے صرف درد سے کراہ نکل سکی جبکہ نادیہ کی چیخ بلند ہوئی تھی ۔۔۔۔
پلیز اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔ میں ۔۔ میں معافی مانگتی ہوں تم سے اسکے بدلے کی پلیز اسے چھوڑ دووو ۔۔۔۔
نادیہ نے اسے مزاحمت کرتے دیکھ کر روتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ ہنسنے لگا تھا ۔۔۔
ہےےےےےے ۔۔۔۔۔ سویٹی ۔۔۔ تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے چلے جاؤ ۔۔۔ بعد میں مت کہنا ۔۔۔۔۔
شاہرخ نے نادیہ کو کہا تھا ۔۔۔۔
کیسا فیل کر رہی ہو میرے اتنا قریب آکر ۔۔۔۔۔ ہاااں ۔۔۔۔۔
اس نے لیزہ کے کان کے قریب جھک کر زو معنی لہجے میں کہا تھا جس پر لیزہ نے دوسری طرف منہ کیا تھا ۔۔۔۔
میرا ہا تھ چھوڑو ۔۔۔۔ یہ تم اچھا نہیں کر رہے ہو میں سب کو بتاؤں گی پھر تم جیل میں سڑو گے ۔۔۔۔
ابھی بھی اکڑ موجود ہے تم میں ۔۔۔۔ نکالنی پڑے گی اپنے طریقے سے ۔۔۔۔
شاہرخ نے کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا جس پر لیزہ نے قرب سے آنکھیں میچی تھیں ۔۔۔۔ اور پھر اسکو پیچھے کھینچ کر گاڑی سے لگایا تھا اور دونوں ہاتھ گاڑی پر پن کر کے وہ اسکے چہرے پر جھکتا اس سے پہلے ہی پیچھے سے کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا تھا جس پر وہ بری طرح سے پیچھے گرا تھا ۔۔۔۔
لیزہ جو اسکو اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر آنکھیں زور سے بند کئے ہوئ تھی کہ آنسو آنکھوں سے باہر نکلنے کے لیے بے تاب تھے نے دھم کی آواز پر آنکھیں کھول کر دیکھی تھیں اور ڈھیروں آنسوں اسکے آنکھوں سے نکلے تھے ۔۔۔
ہمت کیسے ہوئی اسکے قریب جانے کی ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔
زیب نے اسکے منہ پر مکہ مارتے ہوئے جواب طلب کیا تھا جس پر اسکا منہ دوسری طرف لڑکا تھا ۔۔۔
بول ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔ جان سے مار دوں گا تجھے آج ۔۔۔۔
وہ جارہانہ طریقے سے اس پر ٹوٹ پڑا تھا لاتوں مکوں کی برسات نے شاہرخ کو آدھ موا کر دیا تھا اسکے ساتھی تو پہلے ہی بھاگ گیے تھا ۔۔۔۔ زیب کی جسامت اور غصہ دیکھ کر کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ اسے کوئ روکتا ۔۔۔۔
اسکا یہ حال دیکھ کر نادیہ بھاگتی ہوئ لیزہ کے قریب آئ تھی ۔۔۔
لیزہ اسے روکو ۔۔۔۔ وہ مر جائے گا ۔۔۔۔ اسے روکو ۔۔۔۔۔ لیزہ میں تم سے کچھ کہ رہی ہوں ۔۔۔۔ روکو یار اسے ۔۔۔۔
نادیہ نے اسے جھنجھوڑ تے ہوۓ کہا تھا جو بس زیب کے جنون کو دیکھ کر خوف زدہ تھی ۔۔۔۔ نادیہ کے بار بار کہنے پر وہ آگے گئ تھی اور مری ہوئ آواز میں زیب کو آواز دی تھی لیکن وہ اتنا جنون میں تھا کہ اسے سنائ ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
زیب پلیز بس کرو ۔۔۔۔ پلیز بس کرو ۔۔۔۔
لیزہ نے زور سے چیخ کر روتے ہوئے کہا تھا جس پر زیب نے مڑ کر اسے دیکھا تھا اسکے ہٹنے پر لیزہ کی نظر اس پر پڑی تھی وہ خون سے تر ہوگیا تھا ۔۔۔۔ اس نے لیزہ کے قریب جاتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا جب کہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے پر لیزہ نے مڑ کر نادیہ کو دیکھا تھا جو اپنی گاڑی کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
زیب نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسکو اندر دکھیلا تھا پھر زور سے دروازہ بند کر کے نادیہ کی گاڑی کی طرف گیا تھا اسکو کچھ کہا تھا اور پھر واپس آگیا تھا ۔۔۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اس نے خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی ۔۔۔۔ وقفے وقفے سے گاڑی میں اسکی سسکیاں گونج رہی تھیں جو اسے پریشان کر رہیں تھیں ۔۔۔۔
لیزہ اگر تم چپ نہ ہوئیں میں یہیں کسی جگہ گاڑی مار دونگا ۔۔۔۔
زیب کے زور سے چیخنے پر وہ خوف سے دروزے پر چپک گئ تھی ۔۔۔۔
زیب نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا اور گہری گہری سانسیں لی تھیں وہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کر رہا تھا ۔۔۔
لیزہ اسکے خوف سے بلکل سناٹے میں چلی گئ تھی گھر کے باہر گاڑی روکتے ہوئے زیب نے اتر کر دروزہ کھولا تھا اور اسکو بیک سائیڈ کی طرف لے گیا تھا اس وقت وہ اسے مین گیٹ سے نہیں لے جا سکتا تھا شادی کی وجہ سے مین گیٹ پر کافی رش تھا اور وہ فلحال تماشہ نہیں چاہتا تھا۔ ۔۔۔
اسکو کمرے میں چھوڑ کر وہ گاڑی سمیت واپس چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ لیزہ کمرے میں جاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی کہ اگر کوئ اسے اس حال میں دیکھ لیتا تو لازمی شک کرتا ۔۔
روتے روتے کب اسکی آنکھ لگی تھی اسے پتا بھی نہیں چلا تھا دروازے کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی تھی اسنے زور سے آنکھیں مسلی تھیں ۔۔۔ دروازہ مسلسل بج رہا تھا ۔۔۔۔ اسنے آنے والے کو پانچ منٹ کا کہہ کر کپڑے نکال کر واش روم آگئ تھی ۔۔۔۔ مسلسل شاور لینے کے بعد اسنے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا تھا اور اسکو پھر رونا آیا تھا کہ اسکی آنکھیں اس وقت سوجی ہوئیں تھی ۔۔۔
اگر وہ وقت پر نہ آتا تو ۔۔۔۔
اگر وہ اسے نہ بچاتا تو ۔۔۔۔
اور یہ سوچ آتے ہی وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی ۔۔۔۔
پورے گھر میں اس وقت سناٹا تھا کیونکہ سب گھر والے اپنی اپنی گاڑیوں میں ہال کے لیے نکل گئے تھے لیکن لیزہ اس وقت اپنے کمرے میں نادیہ کے ساتھ موجود تھی سب نے اس سے اسکی لال آنکھیں دیکھ کر وجہ پوچھی تھی جس پر وہ یہی کہ رہی تھی کہ طبیعت خراب ہے جب کہہ سب اسے تیار ہو کر جلدی پہنچنے کا کہہ کر ہال کے لیے نکل گئے تھے علیزہ بھی اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔۔اسنے سب کو مطمئن کر کے تھوڑی دیر میں آنے کا کہہ کر نادیہ کے ساتھ گھر میں موجود تھی ۔۔۔۔
لیزہ بس کرو یار ۔۔۔۔ کتنا رو گی اور ۔۔ وہاں سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔
نادیہ اسے جب سمجھا سمجھا کر تھک گئ تو پریشان ہو کر اسے کہنے لگی ۔۔۔۔
کیسے کیسے فیس کروں گی اسکو ۔۔۔ کیا سوچ رہا ہو گا میرے بارے ۔۔۔۔ کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہی میں ۔۔۔۔
لیزہ نے روتے ہوئے اپنے ڈر کی وجہ بتائ تھی ۔۔۔۔
دیکھو وہ کچھ نہیں سمجھے گا ۔۔۔۔ تم ایسا کرو اس سے بات کرو ۔۔۔ وہ تمہاری بات سمجھ جائے گا ۔۔۔۔ آئ سوئیر وہ بہت ڈیسینٹ ہے وہ تمہاری بات سنے گا تم بات تو کر کے دیکھو۔۔۔۔
نادیہ کے کہنے پر لیزہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔ اسکو لیزہ پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا وہ جو کسی کی فکر نہیں کرتی تھی آج ایک شخص کو جواب دینے کے لئے پریشان ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ اس بات سے انجان تھی کہ نادیہ اسکے بارے میں کیا سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ تم صحیح کہ رہی ہو ۔۔ مجھے اس سے بات کرنی ہوگی ۔۔۔۔ وہ سمجھے گا بات کو میری ۔۔۔۔
اچھا اب جلدی سے رونا بند کرو اور تیار ہوجاؤ ہمیں بس نکلنا ہے ۔۔۔۔
نادیہ کے کہنے پر اسکا دماغ علیزہ کی طرف گیا تھا وہ تیزی سے واش روم بھاگی تھی ۔۔۔
اگلے آدھے گھنٹے میں وہ تیار ہوگئی تھی ۔۔۔۔ ٹی پنک کلر کا شرارہ جس پر سلور کا کام ہوا تھا میں تھوڑا ڈارک میک اپ کئے کیونکہ اسکی آنکھیں رو رو کر کافی سوج گئی تھیں اسنے ڈارک میک اپ میں اسے کور کیا تھا لمبے بالوں کو اسٹریٹ کئے جس سے اسکے بال اور لمبے لگ رہے تھے میں حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اسنے آج لینز بھی استعمال کیے تھے جس سے اسکی آنکھیں ہیزل بلیو لگ رہی تھیں ۔۔۔ وہ گندمی رنگت کی لڑکی اس وقت قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔ ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں پہنے اپنی لمبی مخروطی انگلیوں پر نیل پالش لگاۓ پیروں میں سلور سینڈل پہنے ایک مجسمہ لگ رہی تھی کانچ کا مجسمہ ۔۔۔۔
وہ جب ہال پہنچی تو کتنی نظریں اسکی طرف اٹھی تھیں ہر ایک کی نظروں میں ستائش تھی کسی کی نظروں میں حسد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔ وہ سیدھی علیزہ کے پاس اسٹیج پر گئ تھی اور اسے گلے لگایا تھا۔ ۔۔۔
علیزہ نے اس سے اسکی طبیعت پوچھی تھی جس پر اس نے مثبت جواب دیا تھا ۔۔۔۔ وہ بہت خاموش تھی اور نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔۔۔ اور پھر بلا آخر اسکا انتظار ختم ہوا تھا اور وہ اینٹریس سے اندر کچھ لڑکوں کے ساتھ داخل ہوا تھا اور اسکے لیفٹ سائیڈ پر سارہ تھی جو اسکے بازو میں ہاتھ ڈالے اسکے ساتھ کھنچ رہی تھی ۔۔۔۔
لیزہ کی آنکھیں پتا نہیں کیوں جلنے لگی تھیں یہ منظر دیکھ کر ایسا لگا تھا جیسے کسی نے الٹے توے پر بیٹھا دیا ہو اسے ۔۔۔۔۔
وہ چال ایسی چل گیا ،۔
ہم بجھ گئے اور دل جل گیا ۔۔
زیب کی نظریں بھی بلا ارادہ اسکی طرف اٹھی تھیں اور اسکی آنکھوں میں وہ ڈوب کر ابھرا تھا وہ تو جیسے اس وقت ٹھہر گیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے سنبھلا تھا وہ منہ پھیر کر آگے نکل گیا تھا ۔۔۔۔
اسکے اس طرح منہ پھیرنے پر اسکو بے چینی لگ گئ تھی دل اُچاٹ ہو گیا تھا ہر چیز سے ۔۔۔
جیسے تیسے کر کے وہ رخصتی تک سب کے ساتھ رہی تھی اس کے بعد وہ طبیعت خرابی کا بول کر گھر کے لئے نکل گئ تھی ۔۔۔ آہستہ آہستہ سب اسکے پیچھے نکلے تھی کیونکہ ایک ہفتے تک علیزہ اور رمیض کو ہوٹل میں اسٹے کرنا تھا اسکے بعد گھر پر ایک بڑی دعوت ہوتی اور پھر ولیمے کے بعد ان لوگوں کی واپسی تھی ۔۔۔۔
اسنے گھر میں آکر کپڑے بھی چینج نہیں کئے تھے اور جلے پیر کے بلی کی طرح ادھر اُدھر گھومنے لگ گئ ۔۔۔ عجیب ہو رہا تھا سب ۔۔۔۔
ہمیں محبت میں پھنسا کر ،۔
سکون سے تم بھی نہیں رہو گے ۔۔
