Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 20)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 20)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
بڑی سادگی سے ہوگئے گم ،۔
تیرے راستے ، تیرے رابطے اور تم ۔۔
ایک ہفتہ بہت سکون سے گزرا تھا سب ایک دوسرے میں بزی تھے کسی کو بھی اس دن ہوئے واقع کا نہیں پتا تھا ۔۔۔۔
ایسے میں جب سب کو لیزہ کا پتا چلا کہ وہ کل جا رہی ہے تو سب اداس ہو گئے تھے اور سب سے ذیادہ اداس تبریز ہوا تھا اتنے دنوں میں جب اسکی امی اپنی بیٹی میں بزی تھیں تو وہی تھی جو تبریز کا خیال رکھ رہی تھی اسکے کھانے سے لے کر سکول جانے تک سلانے سے لے کر نہلانے تک سب لیزہ نے دیکھا تھا اور علیزہ کو پتا تھا کہ اس کے جانے کے بعد تبریز بہت پریشان کرنے والا تھا لیکن اسکو جانا تو تھا ہمیشہ کے لئے تھوڑی آئ تھی وہ ۔۔۔۔۔
ڈنر کا خاص انتظام کیا گیا تھا کیونکہ کل صبح لیزہ کی فلائٹ تھی اسکی آج اس گھر میں آخری رات تھی سب اس وقت لاونج میں موجود تھے صرف زیب کے علاؤہ جو کافی دنوں سے اسے نظر نہیں آیا اور اسنے اسی بات پر شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔
لیزہ اس وقت تبریز کو برابر میں بیٹھاۓ اپنی بھانجی کو گود میں لئے بیٹھی تھی جب زیب لاؤنج میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔
تاتو (چاچو) ۔۔۔۔۔۔
جبکہ تبریز زیب کو دیکھ کر اسکے پاس بھاگا تھا ۔۔۔۔
تاتو آپ تو پتا اے آنی دا لئ ہیں(چاچو آپ کو پتا ہے آنی جا رہی ہیں) ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات سن کر زیب نے لیزہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
کوئ بات نہیں بیٹا جانے دو ۔۔۔۔ جائیں گی تو ہم انہیں واپس لے کر آئیں گے ۔۔۔۔۔
زیب اسکو نظروں کے حصار میں رکھتا ہوا بولا تھا جبکہ لیزہ اسکی بات پر چونکتی ہوئ ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
آنی واپچ آئین دی ؟؟؟(آنی واپس آئیں گی ) ۔۔۔۔
تبریز اپنے چاچو کی بات کچھ نہ سمجھتے ہوئے جوش سے بولا تھا ۔۔۔۔
یس مائ سن آنی واپس آئیں گی یہیں تو آنا ہے انہیں واپس اچھا چلو جاؤ دیکھو دادو کہاں ہیں جاؤ جلدی سے ۔۔۔۔۔۔
زیب لیزہ کو دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولتا ہوا تبریز کے گال پر جھپی لیتے ہوئے اسکو بھگایا تھا ۔۔۔۔
صحیح کہا ہے کسی نے کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہتی ہے ۔۔۔۔
لیزہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے اٹھنے لگی تھی جب زیب اس کے سامنے گٹھنوں کے بل بیٹھا ۔۔۔۔
اسکے عمل پر لیزہ ایک دم پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟؟؟
وہ غصے سے لال سرخ ہوتے ہوئے بولی تھی جبکہ زیب اسکے چہرے پر سرخی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کیا مجھے معافی مل سکتی ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟ اگر میں تم سے معافی مانگوں تو کیا تم مجھے معاف کر دو گی ۔۔۔؟؟؟؟؟
اسکے الفاظ سن کر لیزہ کو اپنی قوت سماعت میں خرابی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔۔ کیا کہا تم نے ؟؟؟؟؟
اس نے عجیب سے لہجے میں اس سے پوچھا تھا جس پر زیب نے اسکا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔۔
لیزہ ۔۔۔۔۔۔
زیب نے اسکا نام پکارا تھا آس سے ، محبت سے ، اعتبار سے ۔۔۔۔۔
بس کرو پلیز بس کرووووو ۔۔۔۔۔۔ بس کر دو ۔۔۔۔۔۔ رہنے دو مجھے سکون میں مجھے سکون دے دو پلیز مت کرو ایسا پلیز ۔۔۔۔۔۔
جبکہ لیزہ تو جیسے کاٹو تو بدن میں خون ہی نہ ہو اسکی یہاں بس ہوئ تھی اور وہ کانوں میں ہاتھ رکھ کر زور سے چیخی تھی جبکہ اسکے رئکشن پر زیب نے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
اسکی چیخ سن کر علیزہ تیزی سے بھاگتی ہوئی آئ تھی اور لیزہ کو کانوں پر ہاتھ رکھے دیکھ اور زیب کو نیچے بیٹھے دیکھ سب سمجھتی ہوئ بھاگتی ہوئ لیزہ کے پاس پہنچی تھی اور اسکے گود سے بچی لی تھی اور صوفے پر لٹا کر لیزہ کے ہاتھ پکڑے تھے ۔۔۔۔
لیزہ میری جان ریلیکس بس بس کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
اسے گلے لگاتے ہوئے وہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
آپی بول دیں اس سے چلا جاۓ مت آۓ میرے سامنے کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑ دیتا کیوں میرے لیے وبال بن گیا ہے کیوں مجھے سکون نہیں لینے دیتا کیوں کیوں ۔۔۔۔۔
گلے لگے لیزہ علیزہ کو پکارتے ہوئے روتے ہوئے بولی تھی جبکہ پیچھے کھڑیں فریدہ بیگم سن کھڑی تھیں وہ یہ سوچ ہی نہیں سکتی تھیں کہ وہ سب جو لیزہ کے ساتھ ہوا اس میں سراسر انکے اپنے بیٹے کا ہاتھ ہے ۔۔۔
وہ بیٹا جو غریبوں کو بھی ہزاروں پکڑا دیتا ہے وہ کیسے ایک لڑکی کو تباہ کر سکتا ہے انھوں نے شاکی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جبکہ زیب اپنی ماں کی نظروں کو محسوس کر کے سختی سے جبڑے بھینچ گیا تھا اور پھر تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
پیچھے علیزہ لیزہ کو سنبھالتے سنبھالتے خود ہلکان ہو کر رونے لگ گئ تھی ۔۔۔۔
کیا چاہتے ہو تم ؟؟؟؟؟ مارنا چاہتے ہو اسے ؟؟؟؟ آخر تم کس قسم کے انسان ہو کیسے اتنا گر سکتے ہو ہاں ۔۔۔۔۔
زیب جو پوری رات گاڑی خالی سڑکوں پر دوڑا کر سرخ آنکھیں لئے فجر کے وقت کمرے میں آیا تھا اپنے پیچھے علیزہ کی آواز سن کر مڑا تھا جبکہ لیزہ اسکی حالت دیکھ کر ساکت رہ گئ تھی ۔۔۔۔
لال سرخ آنکھیں متورم چہرہ شکستگی اسکے روم روم میں شامل تھی اسکی حالت دیکھ کر اسے ایک لمحے کو اس پر ترس آیا تھا اگلے ہی لمحے اپنی بہن کا سوچ اسے دوبارہ غصہ چڑھا تھا ۔۔۔۔
کیا کر سکتا ہوں میں بھابھی ۔۔۔۔۔ ایک ہارا ہوا انسان کر کیا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر گرتے ہوئے اس نے اپنے بالوں کو مٹھی میں پکڑا تھا علیزہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔
پتا ہے بھابھی جب میں اسکو ہرا کر گیا تھا نہ تو بہت سرشار تھا آخر کو ایک ایسی لڑکی کو ہرایا تھا جس کے اندر غرور کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جبکہ اسکے پاس خوبصورتی میں کچھ بھی نہیں تھا لیکن ۔۔۔۔۔
وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتے کہتے طنزیہ ہنسی ہنسا تھا ۔۔۔۔
لیکن پھر مجھے معلوم ہوا وہ ہاری نہیں وہ تو ۔۔۔ وہ تو جیت گئ بھابھی وہ ہار کر بھی جیت گئ اور میں ۔۔ میں جیت کر بھی ہار گیا ۔۔۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے اسکی ہتھیلی پر گرا تھا جبکہ علیزہ شاکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جب جب میں وہاں سکون تلاش کرتا تھا وہ مجھے بے سکون کر جاتی تھی جب جب میں کسی لڑکی کی طرف بڑھا تب تب وہ میرے رستے میں حائل ہوئ اور آخر کار آہستہ آہستہ میں سب سے کٹتا چلا گیا مجھے وہ یاد آتی تھی خوشی میں غمی میں اداسی میں دوستوں کے بیچ سفر میں بارش میں بولتے بولتے رک جاتا تھا میں بھول جاتا تھا کہ کیا بولنا ہے کتنی دفعہ تو لڑکھڑا کر گرا ہوں میں کتنی دفعہ نیند سے بیدار ہوا ہوں صرف اسی ڈر سے کہ ہمیشہ خواب میں میرا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹ جاتا تھا ۔۔۔۔ کتنی دفعہ زور سے چیخا ہوں کہ زمین پھٹ جاۓ اور میں اس میں سماں جاؤں اسکا سامنا نہ کرنا پڑے مجھے پھر مجھے پتا چلا میری ہار تو یقینی تھی کیونکہ میں اسکا غرور توڑتے توڑتے خود ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا کب محبت نے مجھ پر حملہ کیا کب میں اسکا اسیر ہوا کب وہ گندمی لڑکی مجھے سب سے عزیز ہوئی مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میں نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا مجھے پتا ہی نہیں چلا میں ۔۔۔۔ میں کیا کرونگا بھابھی جو خود ٹوٹا ہوا ہو وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں اس نے علیزہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
مکافات لازم تھا زیب شکر کرو تمہارے ساتھ ہی ہوا ہے تمہاری بہن کے ساتھ نہیں ہوا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔
علیزہ ضبط سے بولتی ہوئی رکی تھی جبکہ زیب نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔
نہیں بھابھی ایسے مت کہیں اسکا کوئ قصور نہیں ہے قصور میرا ہے گناہ کا حقدار بھی میں ہی ہوں پلیز اس سے کہیں مجھے معاف کر دے پلیز پلیز کہیں اس سے ۔۔۔۔۔
وہ ایک دم اٹھ کر علیزہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے بولا تھا لہجے میں اب کہ منت تھی ایک حسرت ایک امید تھی ۔۔۔۔
زیب اسکی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ اب کچھ سہہ سکے تم کچھ نہیں جانتے اسکے بارے میں بس اتنا کہوں گی کہ لیزہ کو اسکے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔۔۔
علیزہ اسکی آس سے ٹکی آنکھیں دیکھ کر نظریں جھکا کر بولی تھی جس پر وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا تھا آخر ایسا کیا ہوا جو وہ نہیں جانتا تھا اسکے دماغ میں نئے سوالات جنم لے رہے تھے جس کو سمجھنے سے اس وقت وہ قاصر تھا ۔۔۔۔
لیکن ہاں ۔۔۔۔۔ وہ بہت نرم دل کی مالک ہے تم نے بہت بڑا لوز کر دیا ہے وہ ہر ایک کو دل میں جگہ نہیں دیتی تم واحد تھے جس کو اسنے مقام دیا لیکن تف ہے تم پر خیر تم اپنی کوشش جاری رکھو معافی مانگنے کی وہ معاف کر دے گی انشاء اللہ ۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے دروزے پر رک کر واپس مڑی تھی اور سوچ میں ڈوبے زیب کو دیکھ کر کہا اور پھر باہر نکل گئ تھی جبکہ زیب اوپر دیکھ کر ایک گہری سانس بھر بیڈ پر سر گرا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
آپ نے انکی میڈیسن چیک آؤٹ کی تھیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
لیزہ جس نے کل ہی ہاسپٹل ری جوئین کیا تھا نے اپنے برابر میں کھڑی نرس سے پوچھا جس نے اثبات میں گردن ہلا کر اسے باقی کی معلومات فراہم کی تھی ۔۔۔
اوکے لیکن آپ پھر بھی کئیر کیجیئے گا پانی میں ہاتھ مت ڈالیے گا ورنہ جلے ہوئے میں چھالے پڑ جائیں گے سمجھ گئیں نہ ۔۔۔۔۔
لیزہ ایک ادھیڑ عمر کی عورت کو سمجھاتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں بیٹا اللہ آپکو خوش رکھے بہت شفا ہے تمہارے ہاتھ میں ان ہاتھوں کو سلامت رکھے اللّٰہ ۔۔۔۔
وہ عمر رسیدہ خاتون اسکو دعائیں دیتی ہوئیں باہر نکل گئی تھیں جبکہ پیچھے اس نے اپنی گردن سہلائ تھی اور پھر کمر کرسی پر ٹکا کر آنکھیں موند لی تھیں ۔۔۔
ابھی اسے کچھ وقت ہی ہوا تھا بیٹھے جب فون کی رنگ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔۔
امی کی کال اس وقت ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ ۔
اسکرین پر نظر پڑتے ہی گھر کا نمبر دیکھ وہ چونکی تھی اگلے ہی لمحے اس نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔
ہاں لیزہ میں کہہ رہی تھی واپسی پر صمد کے ساتھ انگوٹھی فائنل کرتے ہوئے آنا میں اور دیر نہیں کروں گی اسی ہفتے تمہاری پھوپھو کی فیملیز آرہی ہیں علیزہ کی بیٹی کا نام رکھنے اور عقیقہ وغیرہ کرنے تو میں نے ڈن کر دیا ہے انگیجمنٹ بھی ساتھ ہی ہو گی بس اب تم جلد ہی پہنچو سمجھ گئیں نہ ۔۔۔۔
نور بیگم تیزی سے بولتے ہوئے فون رکھ چکی تھیں جبکہ وہ پیچھے ہیلو ہیلو کرتے رہ گئ تھی ۔۔۔۔
اپنی ماں کی جلد بازی پر اس نے گہرا سانس لیا تھا جبکہ پھوپھو کے آنے کا سن کر وہ پھر پریشان کوئ تھی ۔۔۔
کیا وہ بھی آئے گا ؟؟؟ اگر اسے پتا چلا تو ؟؟؟؟ میں کیسے سامنا کروں گی ؟؟؟؟ ایسے اور بہت سارے سوال اس کے زہن میں آرہے تھے ۔۔۔۔
