Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 24) Part - 1
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 24) Part - 1
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
سنسان سڑک پر تیز رفتاری سے ڈرائیو کرتے ہوئے اسکے کانوں میں لیزہ کے بولے ہوئے الفاظ گونج رہے تھے وہ چاہ کر بھی اسکو اگنور نہیں کر پارہا تھا ۔۔۔۔۔
محبت تو کب کی مر چکی ۔۔۔۔
تو مر جاؤ ۔۔۔۔
تو مر جاؤ ۔۔۔۔
تو مر جاؤ ۔۔۔۔۔
تیز بے ہنگم شور نے اسکی چیخوں کو روکا تھا جبکہ سر میں اٹھتے شدید درد اور آنکھوں سے بہتے پانی نے اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کر دی تھی وہ کس طرف نکل آیا ہے اسے کچھ نہیں پتا تھا ۔۔۔ پتا تھا تو صرف اتنا کہ وہ اب گم ہو جانا چاہتا تھا اس دنیا سے بیزار ہو گیا تھا ۔۔۔۔
کانوں کو چیرتی ہوئی آوازوں میں اس نے گاڑی کا گئیر بدلا تھا اور وہی وقت تھا جب اس کے بلکل پیچھے آتے ایک بڑے سے ٹرک جو کہ آئل سے بھرا ہوا تھا نے بھی اسی روڈ پر ٹرک ڈالا تھا ۔۔۔
پلک جھپکنے کی دیر تھی اور ایک زور دار تصادم سے ٹرک گاڑی میں جاکر گھستا ہوا آگے بیٹھے زیب کو کچھ دیر کے لیے مفلوج کر گیا تھا جبکہ بر وقت بریک نے ٹرک کو اس سے تین انچ کے فاصلے پر روکا تھا ۔۔۔۔
گاڑی کے شیشے ٹوٹ کر اسکے چہرے اور ہاتھوں بازوؤں کو شدید زخمی کر گئے تھے جبکہ ٹانگیں جو جیسے اسکی دب گئی تھیں کہاں ؟؟؟ یہ وہ نہیں جانتا تھا لیکن اتنا جانتا تھا کہ اگر اس نے ٹانگوں کو ہلانے کی کوشش کی تو اس کی ٹانگیں شاید ٹوٹ جائیں گی ۔۔۔۔
ایک کراہ کے ساتھ اس نے ہلنے کی کوشش کی تھی لیکن سر سے ابلتے خون اور بے جان ہوتے جسم کے ساتھ زیب کے زہن میں صرف ایک چہرہ لہرایا تھا اپنی ماں کا ۔۔۔۔
ماما ۔۔۔۔
لب پھڑپھڑاۓ تھے اور ہوش نے اسکا ساتھ چھوڑا تھا اور پھر وہ موت کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا ۔۔۔۔
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ،
اُدھر زندگی انکی دلہن بنے گی ۔۔۔۔
دکھتے سر کو سنبھالتے ہوئے اس نے اپنی سوجی ہوئیں آنکھیں کھولی تھیں مندی مندی آنکھوں سے اس نے گھڑی کی طرف دیکھا تھا جہاں دن کے پونے بارہ ہو رہے تھے ۔۔۔۔
سر میں اٹھتی ٹیسوں کو سنبھالتے ہوئے لیزہ نے اٹھنے کی کوشش کی تھی لیکن بے سدھ ہو کر دوبارہ گر گئ تھی لیکن نہیں اسے اٹھنا تھا ۔۔۔۔
ہلکا سا اٹھ کربیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے آنکھیں مسلی تھیں ۔۔۔۔
جب برابر میں رکھا موبائل چیختا ہوا چنگھاڑا تھا اسکی آواز لیزہ کے کانوں میں ہتھوڑے برسا رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے سر کو دباتے ہوئے موبائل اٹھایا تھا جبکہ رانگ نمبر دیکھ کر اس نے فون کاٹا تھا لیکن اگلے لمحے بغیر دیری کے دوبارہ بجا تھا اس نے جھنجھلا کر کال یس کی تھی ۔۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔۔ میڈم لیزہ بات کر رہی ہیں ۔۔۔ ؟؟؟
کسی آدمی کی آواز سن کر لیزہ نے نا سمجھی سے کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا تھا ۔۔۔۔
جی لیکن آپ کون ؟؟؟ میرا نمبر کہاں سے ملا آپ کو ۔۔۔ ؟؟؟؟
جی میں ہاسپٹل سے بات کر رہا ہوں یہاں پر ایک لڑکے کا بہت برا ایکسیڈینٹ ہوا ہے حالت بہت خراب ہے انہی کے موبائل سے مجھے یہ نمبر ملا ہے جو سب سے آخری کال کی گئ تھی براۓ مہربانی آپ یہاں آجائیں ۔۔۔۔
جبکہ جیسے جیسے وہ شخص بولتا جارہا تھا لیزہ کو لگ رہا تھا اسکی جان نکل رہی ہو جیسے ۔۔۔۔۔
موبائل ہاتھوں سے پھینک وہ تیزی سے بیڈ سے اتری تھے جبکہ سر میں ایک ٹیس اٹھی سر درد کو اگنور کرتے ہوئے وہ چپل اور ڈوپٹہ پہنے بغیر نیچے بھاگی تھی سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ نیچے بیٹھے سب لوگوں کو چھوڑے ننگے پیر باہر بھاگی تھی جب باہر سے آتے زیان نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا اتنے میں باقی سب بھی اسکی طرف متوجہ ہو کر بڑھے تھے ۔۔۔۔
کیا ہو گیا لیزہ ؟؟؟ کہاں جا رہی ہو ایسے ہیولے میں ؟؟؟ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ۔۔۔ ؟؟؟
بازو ابھی بھی زیان کے ہاتھ میں تھا لیکن وہ مسلسل چھڑوا رہی تھی ۔۔۔۔
چھ۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔ جانا ہے مجھے زیب ۔۔۔ زیب کے پاس جانا ہے مجھے پلیز جانے دو وہ مر جائے گا پلیز جانے دو ۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکا دے کر اسے اپنے سے دور کیا تھا اور باہر کی طرف بڑھتی جب ریان نے آگے بڑھ کر اسکے بازوؤں کو پکڑ ے اندر کی طرف کھینچا تھا اور جھٹکے سے ہال میں لا کر چھوڑا تھا ۔۔۔
کیا تماشہ لگایا ہوا ہے دماغ درست ہے تمہارا ۔۔۔؟؟؟ کتنے ملازم ہیں باہر ایسے ہیولے میں اپنا اور ہمارا تماشہ کیوں لگا رہی ہو ؟؟؟ ۔
پورے زور سے چیختے ہوئے اس نے لیزہ کو جھنجھوڑا تھا جبکہ لیزہ سن کھڑی اسکے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
آرام سے ریان ۔۔۔ اسکی حالت دیکھو وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے سن تو لینے دو ہمیں اس نے زیب کا نام لیا ہے کوئ مسلئہ تو نہیں ہے اسے ۔۔۔۔
اب کہ بہروز صاحب اپنی بیٹی کی حمایت میں آگے بڑھے تھے جس پر وہ پلٹ کر باپ کو دیکھنے لگی تھی اور پھر وہ ان کے سینے سے لگی تھی اور ہچکیوں سے روئ تھی ۔۔۔
بابا ۔۔۔۔ بابا ۔۔۔۔ وہ زیب ۔۔۔ زیب کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے بہت بہت برا ہوا ہے وہ ۔۔۔ وہ مر جائے گا بابا ۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا وہ مر جائے گا دیکھیں وہ ۔۔۔
بولتے بولتے وہ رکی تھی جب کہ باقی سب نے دل پکڑا تھا فریدہ بیگم دو قدم پیچھے ہوئ تھیں اگر ژالے انھیں نہ پکڑتی تو شاید وہ گر جاتیں ۔۔۔۔
میں ۔۔ میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگی ۔۔ میرے ہوتے ہوئے کچھ ہو سکتا ہے اسے نہیں بلکل بھی نہیں ۔۔۔
وہ خود سے بول رہی تھی جب کہ سب مرد حضرات اس کو چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف بھاگے تھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا کمرا خالی ہو گیا تھا اور وہاں صرف لیزہ اور علیزہ کھڑے رہ گئے تھے جبکہ لیزہ سن کھڑی اپنے آپ سے ایک ہی لفظ دہرا رہی تھی ۔۔۔۔ ۔
کچھ نہیں ہو گا اسے ۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔
علیزہ نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر اپنے سے لگایا تھا جبکہ آنسو اسکی آنکھوں میں سے نکل کر پورا چہرا بھیگا چکے تھے ۔۔۔۔
سمنبھالو خود کو لیزہ کچھ نہیں ہو گا اسے لیکن اگر تمہاری یہی حالت رہی تو تمہیں ضرور کچھ ہو جائے گا ۔۔۔۔
مسلسل ایک گھنٹے سے رونے سے اسکی ہچکیاں بن گئی تھیں جس پر علیزہ نے اسے ٹوکا تھا ۔۔۔۔ ۔
آپی ۔۔۔ میں نے کہا تھا اس کو اور ۔۔اور اس نے میری بات پر عمل کر لیا وہ ۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے کیسے ۔۔۔۔
اچھا اچھا میری بات سنو ۔۔۔۔۔ تم پلیز یہ پانی پیو پاگل طبیعت خراب ہو جائے گی تمہاری ۔۔۔۔
جبکہ علیزہ کی بات پر لیزہ نے کپکپاتے ہوئے گلاس پکڑا تھا ایک گھونٹ پی کر اسنے گلاس پیچھے کر دیا تھا ۔۔۔۔
کافی سمجھانے کے بعد لیزہ کچھ سنبھلی تھی آنکھیں بند کئے وہ علیزہ کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ۔۔۔۔
ایک دم سے وہ چیخ کر اٹھی تھی ۔۔۔
خون خون ۔۔۔۔ زیب زیب کو خون بہہ رہا ہے مجھے جانے دیں آپی مجھے جانے دیں پلیز جانے دیں ۔۔
اسکے ڈر کر اٹھنے پر علیزہ نے گہری سانس لی تھی اور پھر بغیر کچھ کہے لیزہ کو چلنے کے لئے کہا تھا اور خود رانی کو آوازیں دیتے ہوئے نیچے اتر گئ تھی ۔۔۔۔
رانی ۔۔۔۔ ہم تھوڑی دیر میں واپس آتے ہیں جب تک تم دونوں بچوں کا خیال رکھنا اگر میں نے شکایت سنی تمہاری تو پھر سوچ لینا سمجھ گئیں تم۔ ۔۔۔۔ ؟؟؟
رانی جو آواز سن کر باہر آئ تھی علیزہ کی سنجیدگی سے پرآواز سن کر سٹپٹائ تھی ۔۔۔
ج ۔۔ جی علیزہ بی بی ۔۔۔ جیسے آپکا حکم جی آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔
ہمممم میں جلدی آجاؤں گی ۔۔۔۔
اسکی گھبرائ ہوئ آواز پر علیزہ نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے کہا تھا اور باہر نکل گئ تھی ۔۔۔۔
