Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 07)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 07)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
میں دنیا بھر کی تعریفیں تیرے سجدے میں لایا ہوں ،۔
میں تم سے عشق کرنے کی اجازت رب سے لایا ہوں ۔۔
وہ اس وقت چھت پر کھڑا سگریٹ نوشی کر رہا تھا یہ سگریٹ وہ جب پیتا تھا جب وہ بہت ذیادہ ڈسٹرب ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ آج جو کچھ ہوا اگر وہ وقت پر نہ پہنچتا تو ۔۔۔۔
اس تو کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا وہ تو لیزہ کے نکلنے کے فوراً بعد گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔ وہ سیدھا ممانی کی طرف آیا تھا جس پر ممانی نے زیب کو دیکھ کر اسے ایک شا پر پکڑایا تھا کہ یہ درزی کے یہاں دے دو اور شام تک ارجنٹ چاہیئے جس پر وہ جی کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا وہ آدھے راستے پہنچا تھا جب اسے وہی گاڑی جس میں لیزہ بیٹھی تھی کھڑی ہوئ نظر آئ ۔۔۔
اس نے تیزی سے اتر کر نیچے دیکھا اور اس کے غصے کی کوئ حد نہیں رہی تھی جب اس شخص کو اسنے لیزہ کے اتنے قریب دیکھا ۔۔۔۔
وہ بتا نہیں سکتا تھا اس وقت اسکا کیا حال ہوا تھاشاید وہ مر جاتا اگر لیزہ بیچ میں نہ آتی تویہ سب یاد کرتے ہوئے اسکے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ کب انگلی تک پہنچی تھی اسے اندازہ بھی نہیں ہوا تھا معلوم جب ہوا جب وہ انگلی جلا گئ ۔۔۔
زیب نے سییی کی آواز سے سگریٹ نیچے پھینکی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ اندر جانے کا سوچ رہا تھا جب اسے نیچے سایہ نظر آیا تھا اس نے تھوڑا جھک کر دیکھا تھا ۔۔۔ اور اسکا منہ کڑوا ہوا تھا لیزہ کو اب تک شادی والے ہیولے میں دیکھ کر اور اس ہیولے میں وہ جھولے پر آکر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ اس پر سے نظریں ہٹاتا تب لیزہ کی نظریں نامحسوس طریقے سے اوپر اٹھی تھیں اور تھم گئی تھیں ۔۔۔۔
وہ بھی ابھی تک سویا نہیں تھا ۔۔۔ کیا وہ میرے بارے میں غلط سوچ رہا ہو گا ۔۔۔۔
لیزہ کے ذہن میں خیال آیا تھا اتنے میں زیب اپنی آنکھیں ہٹا چکا تھا۔ ۔۔۔۔ لیزہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئ اوپر آئ تھی ۔۔۔ پیچھے آہٹ سن کر زیب نے اپنے پیچھے دیکھا تھا ۔۔۔
اسکو حیرت ہوئ تھی اسے چھت پر دیکھ کر اسی لئے وہ اسکے سائیڈ سے گزرنے لگا تھا جب لیزہ نے اچانک اس کا بازو پکڑا تھا ۔۔۔۔
زیب نے چونک کر اسکی حرکت ملاحظہ کی تھی جبکہ اپنی حرکت پر وہ خود شرمندہ ہو گئ تھی ۔۔۔۔
آئ ایم سوری ۔۔۔۔
اسنے زمین کو گھورتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے ؟؟؟
لیزہ زیب کو دوبارہ نکلتے دیکھ کر اسکے سامنے آتے ہوئے بولی ۔۔۔
جب کہ زیب نے دونوں بازو اپنے سینے پر باندھ لیے تھے ۔۔۔۔
وہ میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ ۔۔۔۔ وہ مجھ سے بدتمیزی کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسنے پہلے ہکلاتے پھر روتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دووو ۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں ۔۔۔۔
لیزہ نے زیب کو روتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی تھی ۔۔۔۔
جب کہ زیب آنکھیں سپاٹ کئے غور سے اسکی بات سن رہا تھا ۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ وہ پتا نہیں کیوں وہ میرے رستے میں آگیا میرا کوئ قصور نہیں ہے تم پلیز کسی کو مت بتانا ۔۔۔۔ سب مجھے قصوروار سمجھیں گے سب کو لگے گا میں غلط ہوں ۔۔۔۔ سب میرے بارے میں غلط سوچیں گے ۔۔۔۔۔۔
وہ جو کسی کے بارے میں نہیں سوچتی تھی آج ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ مسلسل صفائ پیش کر رہی تھی ۔۔۔ آخر میں اس نے خاموش کھڑے زیب کی طرف دیکھ کر اپنے ہاتھ باندھے تھے ۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔ ؟؟؟
زیب نے فوراً اسکے ہاتھ کھولے تھے ۔۔۔۔
میں یہ سب نہیں چاہتا ۔۔۔۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم ہر ایک سے ایک ہی لہجے میں بات نہ کیا کرو ۔۔۔ تمہیں کیا لگا میں ہر ایک کے لئے لڑ لیتا ہوں ۔۔۔ نہیں جو میرے لیے خاص ہوتے ہیں انکے لیئے میں ہر اسٹیپ لے سکتا ہوں چاہے قتل کا ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔
تم اچھی لڑکی ہو ۔۔ بہت اچھی ہو ۔۔ لیکن ہر کوئ زیب مغل نہیں ہوتا ۔۔۔۔
اسکو سمجھاتے ہوئے آخر میں اس نے بات کو مزاقا کہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ لیزہ اسکے مسکراتے لہجے کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
کتنا اچھا بولتا تھا وہ ۔۔۔ اسے آج پتا چلا تھا ۔۔۔ جب دل کا موسم اچھا ہو تو سب اچھا لگتا ہے ۔۔۔
عزت لینے والا اور دینے والا اللّٰہ ہے بس لڑکیوں کو تھوڑی احتیاط کرنی ہوتی ہے ۔۔۔ لڑکیوں کی عزت انمول ہوتی ہے اگر انکے پاس سب کچھ ہے اور عزت نہیں ہے تو اسکی کوئ وقعت نہیں ہے ۔۔۔۔
ایک شرط پر میں تمہیں معاف کر سکتا ہوں ۔۔۔۔
زیب کے بولنے پر لیزہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
اگر ہم دوست بن جائیں تو ۔۔۔۔ ویسے کوئ مسلئہ نہیں ہے بٹ اگر کزنز میں اگر دوستی بھی ہو تو یہ بہت اچھا ہوتا ہے آگے چل کر ۔۔۔۔
زیب نے مسکراتے ہوئے اسے کہا تھا جبکہ لیزہ اسکے ڈمپل میں کھو گئ تھی ۔۔۔۔ اسکا دل چاہا تھا اسے چھو کر دیکھے اپنے خیال پر اسکے لاحول ولاقوۃ پڑھا تھا ۔۔۔۔
دوستی ۔۔۔ ہممم ہاں بلکل ۔۔ تم میرے محافظ بنے ہو ۔۔۔ جو میں ہمیشہ یاد رکھونگی۔۔۔۔
لیزہ نے اٹکتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
اوووہہہہ ۔۔۔۔۔ دیٹس مائ گرل ۔۔۔۔۔ اوکے شیک ہینڈ ۔۔۔۔۔
زیب نے اسکے آگے اپنا مضبوط ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔ جسکو تھام کر لیزہ کو لگا تھا اسے ہفت و اقلیم کی دولت مل گئی ہو ۔۔۔۔۔
ایک سکون اسکے دل و دماغ پر اترتا چلا گیا تھا پھر وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے تھے ۔۔۔۔۔
دور افق پر چاند ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔ ایک کھیل وہ لوگ کھیل رہے تھے ۔۔ایک کھیل اوپر والے نے سوچ رکھا تھا ۔۔۔۔
ظاہری طور پر کچھ بھی نہیں اچھا لیکن،
تم جو کہہ دو یہ اچھا ہے تو یہ اچھا ہے ۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ انکی دوستی پروان چڑھ رہی تھی کہنے کو تو صرف بات کرتے تھے لیکن سب ہی دیکھ رہے تھے وہ بات کرتے تھے یا باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔
جہاں جانا ہو دونوں ساتھ ہوتے تھے اگر ایک غائب ہو تو دوسرا بے چین ہو جاتا تھا ۔۔۔ وہ جو کتنا روئ تھی کہ شاہرخ والی بات کسی کو پتا چل گئ تو اسکی کتنی بےعزتی ہو گی اب بلکل آرام سے ادھر اودھر گھوم رہی تھی ۔۔۔۔
کہتے ہیں جب زوال کا وقت آتا ہے ،۔
تو انسان کو محبت کا الہام ہوتا ہے ۔۔
آج پانچ دن بعد منور ولا میں پھر چہل پہل ہوئ تھی کیونکہ آج نئی نویلی دلہن واپس آرہی تھی جس کی وجہ سے آج بہت بڑی دعوت تھی ۔۔۔ آج بڑے کیا چھوٹے بھی کام میں لگے ہوئے تھے ایسے میں کسی کو فرصت نہیں تھی ۔۔۔۔
یار یہ والا کیپ دو ۔۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کون سا کیپ لگنا ہے اس پر ۔۔۔۔
لیزہ نے تھک ہار کر ژالے سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر ژالے نے ہنستے ہوئے ایک کیپ اٹھا کر اسے دیا تھا جس پر اسنے منہ بنایا تھا اب کچن میں نہ آنے والی لڑکی کو کیا پتا کون سا ڈھکن کس پر استعمال ہوتا ہے ۔۔۔۔ عجیب ہیں سب ۔۔۔۔۔
ہاں تمہیں یہ نہیں پتا کون سا ڈھکن لگنا ہے ۔۔۔ یہ پتا ہے کون سے داؤ چلنے ہیں کہ سب تم سے امپریس ہو جائیں ۔۔۔۔
سارہ جو کب سے اسے دیکھ رہی تھی قریب آتے ہوئے ہلکے سے کہا تھا ۔۔۔۔ لیزہ نے چونک کر اسے دیکھاتھا اور بات سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟؟؟
اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
اتنی معصوم اور تم ۔۔۔۔ ویسے ایک بات بتاؤں مشورہ سمجھنا یا الرٹ لیکن یہ سب جو آج کل تم کر رہی ہو سب کو دکھ رہا ہے ۔۔۔۔ حسن کا دیوانا ہے وہ اور اگنورینس پسند نہیں ہے ۔۔۔ منہ کے بل گرو گی اور بہت پچھتاؤ گی ۔۔۔ وقت ہے سنبھل جاؤ ۔۔۔۔
سارہ اسے عجیب سے لہجے میں الرٹ کرتی ہوئ اسے بولنے کا موقع دئیے بغیر کچن سے نکل گئ تھی اور لیزہ سوچ میں ڈھوب گئ تھی ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔۔ جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ بہت کام ہے ابھی ۔۔۔۔
ژالے اسے اسٹل دیکھ کر اسے ہلاتے ہوئے وقت کا احساس دلایا تھا ۔۔۔۔ اور وہ چونکتی ہوئ دوبارہ کام پر لگ گئ تھی ۔۔۔۔
ایک کپ چاۓ مل جائے گی ۔۔۔۔
زیب جو ابھی کچن میں داخل ہوا تھا لیزہ کی طرف آتا ہوا ژالے سے بولا تھا لیزہ نے اسے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر کام میں لگ گی ۔۔ اس وقت اسکا دماغ الجھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیزہ کے رئیکشن پر زیب کی آئبرو اوپر ہوئی تھیں اگلے ہی لمحے وہ گہری سانس لے کر مسکرا یا تھا ۔۔۔
لگتا ہے بزی ہو آج بہت ۔۔۔۔ اگنور بھی کر رہی ہو ۔۔۔۔
زیب نے گاجر کا ٹکڑا اٹھا تے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
نہیں بزی ہوں شاید اس لیے فیل ہو رہا ہے تمہیں ۔۔۔۔
لیزہ نے کام جاری رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
زیب نے اسکے انداز پر ضبط سے کام لیا تھا ۔۔۔۔
مجھے پسند نہیں ہے لیزہ کہ جب میں سامنے ہوں تمہارا دیہان کہیں اور ہو ۔۔۔ چاہے وہ یہ بے جان چیز ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔
زیب نے ایک دم سے اسکے ہاتھ سے چھری چھینتے ہوئے اسے اپنے دوسرے ہاتھ ہیں منتقل کیا تھا جس سے اسکی ہتھیلی پر کٹ لگا تھا ۔۔۔۔
لیزہ نے ہڑبڑاتے ہوئے اسکا ہاتھ دیکھا تھا اور اسے بغیر چاۓ لئیے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر وہ بے چین ہوئ تھی ۔۔۔۔ زیب کو ایسے نکلتے دیکھ ژالے لیزہ کے پاس آئ تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے بھائ کو ۔۔۔ خیریت ایسے تیزی سے نکلیں ہیں ۔۔۔۔
ژالے کے پوچھنے پر لیزہ کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے ۔۔
وہ ۔۔۔ زیب کے ہا تھ پر لگ گئ ہے ۔۔۔ م۔مجھے جانا ہے میں دیکھ کر آجاؤ ۔۔۔
لیزہ کی کپکپاتی آواز سن کر ژالے نے غور سے حیران ہو کر اسے دیکھا تھا اور خودبخود اسکا سر ہاں میں ہلا تھا ۔۔۔ اسکی اجازت ملتے ہی وہ تیزی سے روم میں بھاگی تھی ۔۔۔ جبکہ ژالے تو حیرت کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہی تھی ۔۔۔۔
یہ بات اتنی آگے نکل گئ اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی ۔۔۔ کیا یہ سب صرف لیزہ کی طرف سے ہے یا زیب بھائ بھی ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
یہاں آکر وہ اٹک گئ تھی اسکے لئے یقین کرنا ناممکن تھا ۔۔۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ آیا یہ سچ تھا یا دماغ کا فتور ۔۔۔۔
محبت کی بد قسمتی یہ ہے کہ ،۔
ہمیشہ ایسے لوگوں سی ہوتی ہے جو اس قابل نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔
دروازے پر زور دینے سے وہ کھلتا چلا گیا تھا سامنے ہی وہ اپنا ہاتھ دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا جیسے پتا ہو آنے والا کون ہے ۔۔۔۔
یہ کیا کیا ہے تم نے ۔۔۔۔
لیزہ جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لائ تھی اور اسکے پیروں میں بیٹھی تھی ۔۔۔
اسکے ہاتھ پکڑنے پر زیب نے اسکی شکل دیکھی تھی ۔۔۔۔
سزا دی ہے خود کو ۔۔۔ تمہیں تو تکلیف میں دیکھ نہیں سکتا دینا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔۔
زیب نے ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
کیوں کر رہے ہو یہ سب ۔۔۔۔۔ دماغ سیٹ ہے ۔۔۔۔ جب انسان کام میں بزی ہوتا ہے تو ایسا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
لیزہ نے اسکا ہاتھ دوبارہ پکڑتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
لیکن تم ایسا نہیں کرو گی ۔۔۔۔ جب جب میں تمہارے پاس ہوں تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ۔۔۔۔
زیب نے وارن کرتے ہوئے اسے کہا تھا ۔۔۔ اسکی بات پر لیزہ رک کر اسے دیکھنے لگی تھی ۔۔۔۔
لیزہ کی روئ روئ آنکھوں میں وہ صاف اپنا عکس دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
اوکے ۔۔۔ دوبارہ ایسانہیں ہوگا ۔۔۔۔
لیزہ نے معزرت خواہ لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
جس پر زیب مسکرایا تھا اسکے مسکرانے پر لیزہ کی نظریں نامحسوس طریقے سے اس کے گالوں پر پڑتے ڈمپل پر چلی گئی تھیں ۔۔۔۔
زیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر نامحسوس طریقے سے اوپر بیٹھایا تھا ۔۔۔
تمہاری جگہ نیچے نہیں یہاں ہے میرے قریب ۔۔۔۔
زیب نے عجیب سے لہجے میں اسے کہا تھا ۔۔۔
لیزہ نے سٹپٹا کر نظریں پھیری تھیں اور تھوڑا دور ہوئ تھی ۔۔۔۔۔
میں کام کر لوں ۔۔۔۔ تم پلیز اب ناراض مت ہونا ۔۔۔۔۔۔
لیزہ کہتے ہوئے کھڑی ہوئ تھی ۔۔۔۔۔
اگر اتنی خوبصورتی سے مناؤ گی تو ہر دفعہ روٹھوں گا میں ۔۔۔
زیب نے اسے جھجھکتے دیکھ کر زومعنی لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
اسکی بات پر وہ ہنستی ہوئ کمرے سے باہر نکل گئ تھی زیب نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر کچھ سوچ کر مسکرا دیا تھا ۔۔۔۔
