56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 28)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

کافی عرصے کے بعد منور ولا کو دوبارہ دلہن کی طرح سجایا گیا تھا سب لڑکے لڑکیوں نے اپنی پارٹی بنا کر ادھم مچایا ہوا تھا آج لیزہ کی ڈھولکی تھی جو سب نے بہت دھوم دھام سے کرنی تھی ایک ہی تھیم رکھے لڑکے سب بلیو کلر کے کرتے پجامے جب کہ لڑکیاں بھی بلیو کرتے پجامے میں ہم رنگ ڈوپٹہ لئے محفل کو چار چاند لگا رہی تھیں ۔۔۔۔

جہاں سب لڑکے لڑکیاں انجوائے کرنے کے لئے بلکل تیار تھے وہیں باقی سب بڑے دوسرے کاموں کو نبٹاتے ہوئے آدھ موئے ہو رہے تھے ۔۔۔۔

ایسے میں صرف ایک لیزہ ہی تھی جو نیوی بلیو کلر کی ٹخنوں کو چھوتی فراک پہنے چھوڑی دار پاجامہ جبکہ شیفون کا کام دار ڈوپٹہ لئے ہلکے میک اپ میں حسن کو مات دے رہی تھی ہلکے گندمی رنگت کے حامل ہاتھ میں اسکن کلر کی نیل پالش لگاۓ اپنی انگھوٹی کو گھماتے ہوئے وہ کھڑکی میں کھڑی نیچے سجے ہوئےلان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جب دروازہ کھولے تبریز اندر داخل ہوا تھا اور اسے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔۔۔

اووو واؤ آنی ۔۔۔ یو آر لوکنگ گارجئیس ۔۔۔

اپنے دونوں ہاتھوں کو گالوں پر رکھے اس نے آنکھیں باہر نکالے لیزہ کو دیکھ کر کہا تھا جبکہ اسکی اس ادا پر لیزہ صدقے واری گئ تھی ۔۔۔

اس کو اپنے قریب کئے اسکے گالوں پر چٹاچٹ پیار کیا تھا اور دونوں گالوں پر لپ اسٹک کے نشان چھوڑ دئیے تھے ۔۔۔۔

آنی ۔۔۔۔ ماما سیز ود می ، یو آر برائیڈ …. اور آپکی شادی بھی ہو جاۓ گی جلد ہی ۔۔۔۔

اسکی گود میں چڑھتے ہوئے وہ لیزہ کے گالوں پر ہاتھ رکھ کر معصومیت سے بولا تھا ۔۔۔۔

یس ماما از کریکٹ ۔۔۔۔

اس نے ہنس کر اسکے دائیں بائیں کان پکڑے تھے جس پر وہ کھلکھلاتا ہوا اسکی گود سے اترا تھا ۔۔۔

ویٹ ۔۔۔ لیکن چاچو سیز ، لیزہ آنی جسٹ مائین انشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔

دروازے کے پاس پہنچ کر وہ واپس مڑا تھا اور ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں اس پر بم گرا کر بھاگ گیا تھا پیچھے وہ سن کھڑی زیب کے الفاظ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن کوئ سرا ہاتھ میں نہیں آیا تھا تمام سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ خاموشی سے نیچے دیکھنے لگی تھی جہاں اب سب بڑے اور چھوٹے جمع ہو چکے تھے ۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ ادھر ادھر کہاں چلے شرارتی ٹٹو ۔۔۔۔۔

اسکوبھاگتے دیکھ زیب نے اسے پکڑ کراونچا کیا تھا جس پر وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا ۔۔۔۔

اور یہ کیا ہوا ہے تم نے منہ پر ؟؟؟ کس بلی نے منہ مارا ہے تم پر ہاں ۔۔۔۔

انگلی سے اسکے گالوں پر سے لپ اسٹک کے نشان ہٹاتے ہوئے اس نے تبریز کے سامنے کیا تھا تو وہ سر پرہاتھ مار کر رہ گیا تھا ۔۔۔

او ہو ۔۔۔۔ یہ لیزہ آنی نے کیا ہے آپ کو پتا ہے وہ برائیڈ بن گئ ہیں اب وہ چلے جائیں گی لیکن آپ نے کہاں تھا وہ آپکے ساتھ جائیں گی ۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر زیب نے جبڑے بھینچے تھے لال سرخ آنکھوں کے ساتھ اس نے تبریز کے چہرے کو دیکھا تھا ایک دم سے اسکی نظر اسکے گالوں پر گئ تھی ۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ یہ کس حسینہ نے کیا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ ؟؟؟

اسکے گالوں کو چھوتے ہوئے زیب نے اس سے شرارتا پوچھا تھا جس پر وہ زور سے ہنسا تھا ہنسنے سے اسکے گالوں کے ہلکے پڑتے ڈمپل واضح ہوۓ تھے جو اس نے زیب سے چراۓ تھے۔۔۔۔

یہ ۔۔۔۔ یہ تو آنی نے کیا ہے بہت پیاری لگ رہی ہیں وہ ….

اچھاااااا ۔۔۔۔۔ آنی نے کیا ہے ۔۔۔۔

اسکی بات پر زیب نے سامنے سے آتی لیزہ کو دیکھا تھا جس کی نظریں دونوں پر تھیں لیکن زیب کے اگلے عمل نے اسکے چہرے پر لال رنگ مل دیا تھا ۔۔۔۔

لیزہ کو نظروں میں رکھتے ہوئے وہ تبریز کے گالوں پر جھکا تھا اور ٹھیک اسی جگہ جہاں لیزہ کی لپ اسٹک کے نشان تھے وہیں جھک کر اپنے لب رکھے تھے اور گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تبریز کو نیچے اتار دیا تھا جبکہ تبریز بھاگتا ہوا علیزہ کے پاس بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔

آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ لیزہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا جبکہ لیزہ کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں لال سرخ چہرہ اور اس پر تضاد ہلکا میک اپ اسکے چہرے پر چار چاند لگا رہا تھا ۔۔۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔

اسکی ہلکی لیکن گھمبیر لہجے میں کہی جانے والی بات پر لیزہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

محبت میں ستم اتنا ہی کرو

جتنا تم میں سہنے کی عادت ہو

اسکی آنکھوں کے نین کٹوروں پر اپنی آنکھیں گاڑھے شعر پڑھا تھا ۔۔۔۔

تم چلے جاؤ یہاں سے زیب تمہارے لیے یہی اچھا ہے ۔۔۔۔

اسکے خوبصورت بال لہرا کر چہرے پر آۓ تھے جبکہ پہلے ہی وہ اسکے شعر پڑھنے پر جزبز ہوئ تھی ۔۔۔۔

چلا جاؤں گا بہت دور پہلے تمہارے ہاتھوں میں لگی مہندی تو دیکھ لوں اور تمہیں دلہن بھی تو بنتا دیکھنا تھا ۔۔۔۔۔

ظلم مت کرو اپنے ساتھ زیب ۔۔۔۔

ظلم تو کر چکا ہوں تم سے دھوکا کر کے ۔۔۔۔۔

دھوکا کر ہی چکے ہو تو مرد بنو اور اپنے دھوکے پر قائم رہو ۔۔۔۔

طعنہ مت دو لیزہ کیونکہ اگر میں مرد بننے پر آیا تو با خدا تمہیں میرا ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔

اسکےطعنے پر زیب بلبلا اٹھا تھا ا س لئے لیزہ کو برہم نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اتنی ہی ہمت ہوتی ہے مردوں میں بس جہاں عورت نے ایک طنز یا طعنہ دیا نہیں ان کی مردانہ آنا جاگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے لہجے کو محسوس کر کے لیزہ طنزیہ ہنسی تھی جس پر زیب ایک قدم اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

انانہیں محبت بولو عشق بولو اگر ایک دفعہ اٹک گیا تو بس پھر میرا ہونا ہوگا تمہیں ۔۔۔۔

جسٹ انف زیب پلیز مت کرو اس قسم کی باتیں شادی ہو رہی ہےمیری بخش دو مجھے بخش دو ۔۔۔۔

جبکہ زیب اسکے آنکھوں میں آنسو دیکھ ایک قدم پیچھے ہوا تھا اور پھر دوسرا تیسرا قدم لیتے ہوئے وہ پیچھے ہوا تھا تکلیف دہ ہنسی کے ساتھ اس نے لیزہ کو دیکھا تھا اور پھر گھر کے اندر چلا گیا تھا پیچھے اسکی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا اور پھر وہ صاف کرتے ہوئے وہ آگے بڑ ھ گئ تھی ۔۔۔۔۔

ورے جوش و خروش سے پوری رات ڈھولکی کی ، ہنسی مذاق کی آوازیں منور ولا میں گونجتی رہیں اور صبح پونے پانچ بجے سب تھک ہار کر جو سوۓ تو پھر انکی آنکھ سہ پہر تک اٹھانے پر بھی نہیں کھل رہی تھی اور ایک لیزہ تھی جس کو جاگتے ہوئے آج دو راتیں ہو گئی تھیں لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔۔ آج بھی جب وہ اس کے کمرے میں زمین پر پڑے آڑے ترچھے لوگوں کو اٹھانے آئیں تو وہ صحیح معنوں میں حیران رہ گئی تھیں کیونکہ لیزہ فریش ہو کر کمرے میں ہیئر ڈرائر استعمال کر رہی تھی ۔۔۔۔

تم اتنی جلدی اٹھ گئیں تھوڑی دیر اور سو جاتیں پھر تو اتنا تھک جاؤ گی تم ۔۔۔۔

نیچے لیٹے سب کو پھیلانگتے ہوئے وہ کھڑکی کی طرف گئی تھیں اور سارے پردے ہٹا دیے تھے جس کے سبب پورے کمرے میں روشنی پھیل گئ تھی ۔۔۔۔

بس نیند پوری ہو گئ تھی اس لیے اٹھ گئ ۔۔۔۔

بالوں کو کھلا چھوڑے وہ بیڈ پر چڑھ کر بیٹھی تھی جبکہ نور بیگم نے اسکا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔

لگ تو نہیں رہا تم سوئ ہو آنکھیں دیکھی ہیں اپنی اتنے ہلکے ہو رہے ہیں آج نکاح ہے تمہارا تمہیں تو فریش دکھنا چاہیئے پھر یہ سب ۔۔۔۔

اسکے پاس جاتے ہوئے انھوں نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔ بہت مشکل ہے بہت مشکل لیکن پھر بھی مجھے اسے پار کرنا ہے یہ لمحات پل صراط کی طرح ہیں میرے لیے ۔۔۔

کہتے کہتے وہ رکی تھی اور پھر اپنی بات جاری رکھی تھی ۔۔۔۔

نیند آنا یا نہیں آیا یہ ایک فطری عمل ہے آج امی ۔۔ صرف آج کھل کر بولنے دیں کھل کر رونے دیں کھل کر اپنی نام نہاد محبت کو خیر آباد کہنے دیں کہ آج کے بعد میں کسی اور کے نام سے جانی جاؤں گی کسی اور کے نام سے پکاریں جاؤں گی مجھے آج وہ سب کر لینے دیں جو میں کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔

بولتے بولتے اسکی آنکھوں سے آنسو کب جاری ہوئے پتا بھی نہیں چلا تھا جس پر نور بیگم کے بھی آنسو ٹپ ٹپ گرے تھے ۔۔۔۔

تمہیں اجازت ہے لیزہ لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ آج ہی رو کر دل سے سب نکال دو آج کے بعد تمہارے دل میں صرف اور صرف اپنے شوہر کے لیے محبت ہونی چاہیئے ۔۔۔۔

انکی بات سن کر لیزہ کے رونے میں شدت آئ تھی اور اسی لمحے علیزہ اٹھ کر اسکے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے سے لگا گئ تھی اور پھر وہ بکھر گئ تھی ٹوٹ کر روئ تھی کہ آج آخری بار اسے اپنے محبت کا سوگ منانا تھا جبکہ اسے ایسے دیکھ کر وہاں موجود جتنی بھی لڑکیاں سو رہی تھیں اٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے خود بھی رو پڑی تھیں بقول ان سب کے شادی وہ واحد عمل ہے جس سے پہلے رونے کا عمل لازمی ہوتا ہے لیکن کون جانے۔۔۔۔۔

تمہیں پا کر کہاں خوش تھے ،

تمہیں کھو کر کہاں روئے ،

کرے تو کیا کرے کوئ ،

اگر تقدیر ہی سوۓ ،

یہی تو راز الفت ،

کہ ہر آنسو کا رخ موڑا ،

بہت خوش ہیں تیرے بارے میں جب سے سوچنا چھوڑا ۔۔

امی پلیز میں پارلر جا کر کیا کرونگی چھوڑیں گھر میں تیار ہو جاتی ہوں نہ ۔۔۔۔

پچھلے آدھے گھنٹے سے لیزہ کے کمرے میں جنگ چھڑی ہوئ تھی اور جس بات پر جنگ تھی وہ خود تیار نہیں وہ رہی تھی ۔۔۔

دماغ درست ہے تمہارا نکاح ہے آج تمہارا سادگی سے بیٹھو گی ۔۔۔ ؟؟؟

نور بیگم کو اسکی بلا وجہ کی ضد پر کوفت چڑھی تھی ۔۔۔۔

ہاں تو کیا ہوا اس میں ایسا سادگی نہیں دیکھی کیا آپ سب نے ۔۔۔۔

جبکہ لیزہ مسلسل ایک ہی تکرار پر تنگ آگئ تھی ۔۔۔۔

کیوں کرتی ہو تم ہمیشہ ایسا تم ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کے نور بیگم کچھ بولتیں علیزہ نے انھیں روکا تھا جس پر وہ ایک بے بس نظر ڈال کر کمرے سے نکل گئی تھیں پیچھے وہ دونوں اکیلے بیٹھی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔

لو پانی پیو ۔۔۔۔۔

کچھ لمحوں بعد ہی علیزہ کی آواز پر وہ چونکی تھی پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے وہ اسکی منتظر تھی جب لیزہ نے گلاس اسکے ہاتھوں سے لیا تھا ۔۔۔۔

آپی ۔۔۔۔ کوئ سمجھ کیوں نہیں رہا مجھے ۔۔۔۔

ایک بے بس سی نظر اٹھی تھی اور علیزہ کو کچھ کھو دینے کا ملال شدت سے ہوا تھا

جیسے اگر آج یہ سب ہو گیا تو وہ سب لیزہ کو ہمیشہ کےلئے کھو دیں گے ۔۔۔۔۔

لیزہ ۔۔۔۔ ریلیکس رہو سکون دو اپنے دماغ کو ۔۔۔۔

آپی مجھے نہ ایسا لگ رہا ہے کہ میں اپنا آپ کھونے جا رہی ہوں مجھے لگ رہا ہے میں اندھیر ہونے والی ہوں آپ تو سب جانتی ہیں نہ تو ۔۔۔ تو میں کیاکروں مجھے بتائیں ۔۔۔۔

بولتے بولتے اسکی سسکی کمرے میں گونجی تھی جب علیزہ نے اسے اپنے سے لگایا تھا ۔۔۔۔

بس کرو لیزہ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتی باخدا صمد بہت اچھا ہے وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اور تم بھی اس سے جلد محبت کرنے لگو گی پتا ہے یہ جو نکاح کے دو بول ہوتے ہیں نہ یہ ایک مرد کو شوہر اور عورت کو بیوی بنا دیتا ہے اور پھر اللہ نے ایسی طاقت رکھی ہے ان دو بولوں میں اور اس میاں بیوی کے رشتے میں کہ دونوں نا چاہتے ہوئے بھی محبت کرنے لگتے ہیں ۔۔۔

آہستہ آہستہ بولتے ہوئے علیزہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی جس پر لیزہ نے بے آواز آنسو بہاتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا تھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی سے صاف نظر آرہا تھا ۔۔۔۔

بس اب رونا نہیں ہے سنا تم نے اور میں اپنی بہن کو اپنے ہاتھوں سے تیار کرونگی آج ۔۔۔۔ یاد ہے تم نے خود مجھے تیار کیا تھا آج میری باری ۔۔۔

اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ بولی تھی جس پر لیزہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا لیکن یہ وہی جانتی تھی جھوٹ موٹ کا مسکرانا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے ۔۔۔۔