56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 05)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

اٹھا لے جاؤں گا تجھے میں ڈولی میں۔

دیکھتی رہ جائیں گی سکھیاں یہ ساری ۔۔

تیرے گھر آؤں گی دلہن بن جاؤں گی۔۔۔

دیکھتی رہ جائے گی دنیا یہ ساری ۔۔۔۔۔

آج منور ولا میں مصروف ترین دن تھا سب اپنی تیاری کے ساتھ ساتھ علیزہ کو پالر کے لیے بھی ریڈی کر رہے تھے آخر کو آج اتنا بڑا دن تھا علیزہ کا ۔۔۔۔

مایوں کی تقریب کے ساتھ ہی آج نکاح کا فریضہ بھی سر انجام دیا جا نا تھا ۔۔۔۔ سب سے پہلے علیزہ کو نکاح کے لۓ تیار کرنا تھا تاکہ اسکا بعد میں فوٹو شوٹ اچھے سے ہو سکے۔۔۔۔

مایوں کی تقریب نکاح کے بعد تھی اور مہندی بھی آج ہی لگنی تھی کیونکہ کل اسکی رخصتی تھی ۔۔۔۔

صبح سے ہی افراتفری پھیلی ہوئ تھی لیزہ کو تو ایک منٹ فری نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ اسے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔ ابھی بھی وہ اور ماہم علیزہ کی چیزیں آخری دفعہ دیکھ رہی تھیث کہ کوئ چیز نہ رہ جاۓ پارلر لے جانے کے لئے ۔۔۔۔۔

بس تیار ہیں آپی آپ ۔۔۔۔ اب ہمیں نکلنا ہے پھر آپ کو چھوڑ کر کپڑے اٹھانے ہیں درزی سے اور پھر مارکیٹ بھی جانا ہے امی کے کام کے سلسلے میں ۔۔۔۔

لیزہ نے جلدی جلدی اسے کام کی لسٹ بتائ تھی ۔۔۔۔ اسکی جلد بازی پر علیزہ مسکرا دی تھی ۔۔۔ بہت محبت تھی دونوں میں وہ جانتی تھی کہ لیزہ کام میں لگ کر اپنا دیہان بٹانا چاہتی ہے ۔۔۔ یہ سوچھ کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ اسنے اثبات میں سر ہلا کر اسے چلنے کے لیے کہا تھا ۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔ گاڑی نکلوائیں جلدی ۔۔۔۔ بہت دیر ہورہی ہے ۔۔۔۔۔

لیزہ کے کہنے پر اسکی امی نے باہر جانے کا کہا تھا ۔۔۔۔۔ گاڑی کے پاس پہنچ کر وہ بیگ رکھ کر پیچھے بیٹھی تھی جب اسکی نظر فرنٹ سیٹ پر پڑی تھی جہاں وہ شان بے نیازی سے وہیل پکڑے گاڑی اسٹارٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

تم ۔۔۔۔۔ ڈرائیور کہا ہے ۔۔۔ ؟؟؟؟

لیزہ نے زیب سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

بزی ہے وہ تو ممانی نے مجھ سے کہا اور میں انکار نہیں کر پایا ۔۔۔۔ آخر کو بھابھی کا معاملہ ہے ۔۔۔۔

زیب نے پہلے سریس آخر میں مزاقا کہا تھا ۔۔۔۔ اسکی بات پر علیزہ جھینپ گئ تھی ۔۔۔۔۔

پارلر پہنچتے ہی لیزہ اسکو دس منٹ کا بول کر باہر نکلی تھی اور ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ باہر آئ تھی ۔۔۔۔

بیک ڈور کھول کر بیٹھنے ہی لگی تھی جب زیب کی آواز پر چونکی تھی ۔۔۔

آئ ایم ناٹ یور سرونٹ ۔۔۔ سو پلیز بغیر میرا وقت ضائع کئے آگے آجاؤ ۔۔۔۔

اسکے سریس انداز دیکھ کر لیزہ نے دھڑ سے دروازہ بند کیا تھا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔ ۔۔۔۔

اس نے تھوڑی دیر بعد ہی ایک شاپ کےآگےگاڑی روکی تھی جبکہ لیزہ نے اسکو دیکھا تھا وہ کل سے بہت سریس تھا جب سے اسنے زیب کو سنائی تھی ۔۔۔۔۔

اسنے کپڑے اٹھائے تھے شاپ سے اور پھر وہ قریب بنی مارکیٹ چلے گیۓ تھے ۔۔۔۔

لیزہ کی نظر گھومتے گھومتے چوڑیوں کی شاپ پر تلاش ختم ہوئ تھی وہ اندر داخل ہوئی تھی زیب اسکے پیچھے پیچھے تھا ۔۔۔

یہ والا اچھا ہے نہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تم ہیلپ کر دو ۔۔۔

جب کافی دیر تک کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ اس سے بول اٹھی ۔۔۔

جب کہ زیب کو لگا تھا کہ وہ پاگل ہے بھلا اسے کیا پتا چوڑیوں کا یہاں تک آگیا تھا وہ بھی بہت تھا ۔۔۔۔۔

میں آلریڈی لیٹ ہوں ۔۔۔۔ پلیز زرا جلدی ۔۔۔۔۔

زیب نے اکتا کر اس سے کہا تھا ۔۔۔۔۔

جب کہ اسکی شکل دیکھ کر لیزہ نے منہ بنا یا تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر اسکے ذہن میں ایک ترکیب آئ تھی ۔۔۔۔

دو تین چیزیں لینے کے بعد وہ لوگ گاڑی کی طرف آۓ تھے شاید قسمت بھی لیزہ کے ساتھ تھی اسی لئے وہ عین اسی وقت ایک لڑکے نے اسے روکا تھا اور شاید راستہ پوچھ رہا تھا یا کچھ اور لیکن لیزہ کے لیۓ گولڈن چانس ثابت ہوا تھا ۔۔۔۔

لیزہ نے گاڑی کے پاس پہنچ کر اپنے بالوں سے پن نکال کر ٹائر پر گاڑ دی تھی وہ یہ بھول گئ تھی کہ وہ اس وقت زیان یا ریان کے ساتھ نہیں زیب کے ساتھ تھی اور یہ حرکت اسے مہنگی پڑ سکتی تھی ۔۔۔۔

وہ جو گھوم کر اس طرف آیا تھا بلا ارادہ نظر ٹائر پر پڑی تھی ۔۔۔۔

اوووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیب کا رئکشن دیکھ کر اسکی بانچھیں کھلیں تھیں ۔۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔؟؟؟؟ اوووہہہہ ۔۔۔۔ اب کیا ہو گا مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے ۔۔۔۔۔

لیزہ نے پریشانی سے کہا تھا ۔۔۔۔

تو مجھے کیا یہاں رات گزارنی تھی ہاں ۔۔۔۔۔۔

زیب نے اسکی بات پر جل کر کہا تھا ۔۔۔۔

اسکی بات پر لیزہ کی ایک آئبرو اوپر ہوئ تھی اور اسی وقت زیب کی نظر اسکی طرف اٹھی تھی ۔۔۔۔۔

دھوپ میں شارٹ شرٹ اور ٹراؤزر پہنے بالوں کا جوڑا بناۓ جس میں سے اسکے کٹنگ والے بال لٹوں کی صورت باہر نکل رہے تھی ۔۔۔ اور اس پر غضب دھوپ میں چمکتی ہوئیں اسکی ہلکی براؤن آنکھیں اس پر سحر طاری کر رہی تھیں ۔۔۔ وہ کتنے لمحے ہی لیزہ کو دیکھے گیا جبکہ اسکے دیکھنے پر لیزہ جزبز ہوئ تھی ۔۔۔۔

پلیز مجھے آٹو کروا دیں میں تو جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔

لیزہ کی آواز پر وہ ہوش میں آیا تھا اور پھر اسے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر ادھر اُدھر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر اسکی آئبرو تنے تھے کیونکہ وہ اسکو دیکھنے والا اکیلا نہیں تھا اور بھی بہت تھے جو اسکو اس ہیولے میں دل بھر کر دیکھ رہے تھے اور لیزہ ان سب سے لاپرواہ کھڑی تھی ۔۔۔

زیب نے ایک دم سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور ایک سمت لے کر چلنے لگا تھا جب کہ زیب کے ایسے ہاتھ پکڑنے پر اس نے بے ساختہ زیب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

اور وہ کچھ بھی بولے بغیر اسکے ساتھ چلتی جا رہی تھی عجیب سا احساس تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ۔۔ اسے برا نہیں لگا تھا زیب کا ہاتھ پکڑنا لیکن کیوں وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔

زیب نے اسکو رکشہ کر وایا تھا اور جب تک کھڑا رہا جب تک رکشہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا ۔۔۔ اور پھر گہری سانس لی تھی ۔۔۔۔۔

خوبصورت گیندے کے پھولوں سے سجا اور اس پر ڈھیروں لائیٹس نے چمچماتے ہوئے لان کو اور خوبصورت بنا دیا تھا ۔۔۔۔ سر سبز اور شاداب پھولوں کی مہک نے ایک تازگی بھرا احساس بھر دیا تھا ۔۔۔۔ ایک طرف بہت سارے لال گلابوں کا ایک پردہ بنایا گیا تھا جس کے دائیں اور بائیں طرف چئیرز رکھی تھیں یہ اسپیشلی نکاح کے لۓ تیار کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ نکاح کے بعد علیزہ اور رمیض کو ایک ساتھ مایوں کے اسٹیج کی طرف جانا تھا ۔۔۔۔ تمام لڑکیوں نے پیلے کلر کی پٹیالا شلوار اور مختلف رنگ کی شرٹس پہنی تھیں ۔۔۔۔

علیزہ جو پارلر سے کب کی آچکی تھی بہت پیاری لگ رہی تھی آف وائٹ کلر کے سوٹ میں ریڈ ڈوپٹے میں ڈارک میک آپ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔ جب کہ لیزہ نے ییلو کلر کی پٹیالا شلوار کے ساتھ اونچی ڈارک گرین کلرکی قمیض اور اسکے ساتھ چندری کا ڈوپٹہ زیب تن کیا تھا ۔۔۔۔

نفاست سے کیا میک آپ اس کی گندمی رنگت میں اور رنگ بھر رہے تھے ۔۔۔۔

کسی نے نکاح خواں کے آنے کا بتایا تھا تو سب علیزہ کو اٹھانے لگے ۔۔۔۔

لال ڈوپٹے کے ساۓ میں جو کناروں سے لڑکیوں نے پکڑاہوا تھا نکاح کے لیۓ تیار کئے ہوۓ اسٹیج کی طرف آئ تھی ایک طرف علیزہ اور اسکے گھر والے تھے جب کہ دوسری طرف رمیض اور اسکے گھر والے تھے ۔۔۔۔

نکاح خواں نے نکاح شروع کرنے کی اجازت لی تھی ۔۔۔۔

لیزہ نے علیزہ کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ پکڑا تھا وہ چھوٹی تھی لیکن اسے پتا تھا کہ یہ وقت ہر لڑکی کے لیے کس قدر مشکل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

اپنے گھر سے دوسرے گھر جانا ، اپنے باپ کا نام جس نام پر اکڑتے ہوۓ بچپن گزارا تھا اسکا نام ہٹا کر ایسے شخص کا نام لگانا جو اسکے لئے بلکل نیا ہوتا ہے ، ایک ایسے شخص کو زندگی کی ڈور پکڑانا اس پر مکمل بھروسہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ایک لڑکی کے لیے ۔۔۔۔۔ اور یہ وقت بہت امپورٹینٹ ہوتا ہے ۔۔۔۔

نکاح شروع ہوا تھا ۔۔۔۔۔

علیزہ خان ولد بہروز خان آپ کا نکاح رمیض مغل ولد احمد مغل حق مہر پانچ لاکھ روپے سکئہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟ ۔

نکاح خواں نے علیزہ سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

علیزہ نے گھبراتے ہوئے لیزہ کا ہاتھ زور سے پکڑا تھا تو لیزہ نے اسکا ہاتھ دبایا تھا ۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔

علیزہ نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔

“ہم محبت تم سے بے انتہااور کمال کریں گے

نکاح کر کے اپنا عشق حلال کریں گے”

نکاح خواں کے دوسری اور تیسری بار بھی پوچھنے پر اسکا جواب سن کر سب نے خوشی سے ایک دوسرے کو مبارک باد دی تھی ۔۔۔۔

اب نکاح خواں لڑکے کی طرف مڑے تھے ۔۔۔۔

انکو مڑتے ہوئے دیکھ کر رمیض نے بنا وقت ضائع کئے تین دفع قبول ہے کہا ۔۔۔ جس پر سب کےقہقہے نکلے تھے ۔۔۔۔

اتنی جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔

راحیل جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پہنچا تھا نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔

ہاں خود تو جلدی شادی کر لی اب دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑا لے ۔۔۔۔

رمیض نے جل بھن کر کہا تھا ۔۔۔۔

اسی ہنسی مزاق میں رمیض سے اسکی رضامندی پوچھی گئ تھی ۔۔۔

رمیض مغل ولد احمد مغل آپکا نکاح علیزہ خان ولد بہروز خان سے کیا جاتا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔ ؟؟؟ ۔۔۔۔

رمیض نے تیزی سے تین دفعہ” قبول ہے ” کہا تھا ۔۔۔۔۔

“لو آج ہم تم سے نکاح عشق کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

ہمیں تم سے محبت ہے ، محبت ہے ،محبت ہے ۔۔”

رمیض کے سائن کر نے پر علیزہ نے سائن کیا تھا اور دعا کے بعد بیچ میں موجود پھولوں کا پردہ گرا دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

“قبول ہے تیرا عشق ،۔

نکاح کی صورت میں ۔۔۔۔”

دونوں کو ایک ساتھ بٹھایا گیا تھا مبارک و سلامتی کا شور ہر جگہ سے آرہا تھا ۔۔۔ ایسے میں رمیض نے بھی جھک کر علیزہ کے کان میں مبارک باد دی تھی جس پر اسنے تھوڑا سمٹ کر خیر مبارک کہا تھا ۔۔۔ اسکے سمٹنے پر رمیض کے ہونٹوں پر مسکان آئ تھی اور پھر کچھ دیر بعد ہی مایوں کی رسم شروع ہوئ تھی ۔۔۔۔

لیزہ تم نے ڈھولکی میں بھی چلا دیا تھا اب ایسا نہیں چلے گا ۔۔۔ چلو بیٹا میدان میں آجاؤ ۔۔۔۔

ژالے کے کہنے پر اسنے ژالے کو گھورا تھا ۔۔۔۔۔

اور سب کے بار بار کہنے پر آخر کار تیار ہو گئ تھی ۔۔۔۔

اسپورٹس لائٹس آن ہوئی تھیں ۔۔۔ سب کا رجحان اسٹیج کی طرف ہوا تھا ۔۔۔

“سنتے ہیں جب پیار ہو تو دئیے جل اٹھتے ہیں ،۔

تن میں من میں اور ناین میں دئیے جل اٹھتے ہیں

آجا پیا آجا بولے رے بولے رے جیا۔

جلتے دئیے ۔۔۔۔ بیتانی تیرے ساۓ میں ساۓ میں ،۔

زندگانی بیتانی تیرے ساۓ میں ساۓ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

اگلے لمحے اس نے مائک کا سائیڈ تبدیل کیا تھا ۔۔۔ جبکہ زیب اسکی خوبصورت آواز میں کھو گیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

“سورج ہوا مدھم ، چاند جلنے لگا ،۔

آسماں یہ ہائے ، کیوں پگھلنے لگا ،۔

میں ٹھہری رہی زمین چلنے لگی ،۔

ڈھرکا یہ دل سانس تھمنے لگی ،۔

کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے سجنا ،۔

کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے۔۔”

اسنے سر چینج کیا تھا ۔۔۔اور سب اس ہی لوہ پر جھومنے لگے تھے شدید قسم کی ہوٹینگ جاری تھی ۔۔۔۔ اس لڑکی کے نئے نئے روپ دیکھنے کو مل رہے تھے اور وہ حیران تھا ۔۔۔۔۔

“مہندی لگا کے رکھنا ، ڈولی سجا کے رکھنا ،۔

لینے تجھے آ گوری آئیں گے تیرے سجنا ۔۔”

اسنے علیزہ کے قریب جا کر اسکے ہاتھوں میں لگتی مہندی کو دیکھ کر سر لگایا تھا جبکہ وہ شرما گئ تھی ۔۔۔۔۔

“سچ کہوں ، تیرے نام پہ ،۔

دل دھڑکتا ہے یہ آج بھی۔

دیکھ کے تجھے ایک دفعہ۔

پھر کسی کو نہ دیکھا کبھی”

سب نے اس کے ساتھ گانا تبدیل کیا تھا ۔۔۔۔

“اڑ اڑ کے تیری زلفیں کرتی ہیں کیا اشارے،

دل تھام کے کھڑے ہیں عاشق سبھی کنوارے”

“مہندی ہے رچنے والی ہاتھوں میں گہری کالی

اوہے سکھیاں اوہے بلیاں ہاتھوں میں کھلنے والی ہیں ۔۔

تیرے من کو جیون کو نئ خوشیاں ملنے والی ہیں ۔۔۔”

سب نے اسکی آواز کو سراہا تھا اور کیا نہ سراہتے اسکی آواز سراہے جانے کے قابل تھی ۔۔۔۔۔

گانوں میں اور ہللے گللے میں وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا رات دیر تک فنکشن ہوا تھا ۔۔۔۔ بے شک کل کا دن اس سے ذیادہ ہنگامہ خیز ہونا تھا ۔۔۔۔۔۔۔