56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 02)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

بادل میں سے جھانکتی سورج کی کرنیں آسمان پر الگ ہی سر بکھیر رہیں تھی کہنے کو تو ابھی صرف صبح کے دس بجے تھے لیکن موسم کی وجہ سے سورج کا کہیں نام و نشان نہیں تھا ۔۔۔

دوسری طرف منور ولا میں ایک الگ ہی سماں تھا کیونکہ آج انکی سب سے بڑی بیٹی علیزہ خان کی ڈھولکی تھی جس کی وجہ سے پورے گھر میں اودھم مچا ہوا تھا کوئ باہر ڈیکوریشن والوں کو لے کر پریشان تھا جو انکے معیار پر پورا نہیں اتر رہا تھا تو کوئ کسی چیز کو لے کر پریشان تھا لیکن ان سب میں ایک فرد ایسا تھا جو اس منظر سے قطعی بے خبر اپنے کمرے میں مزے کی نیند لے رہی تھی اور کسی کی مجال نہیں تھی کہ کوئ اسے وقت سے پہلے تنگ کرتا اور وہ ہستی کوئ اور نہیں منور ولا کی مغرور اور اکھڑ مزاج لڑکی لیزہ خان تھی جس کی بہن کی آج ڈھولکی تھی مگر مجال ہے جو شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈالے کیونکہ سب کو پتا تھا کہ وہ نیند کی کتنی کچی تھی اگر کوئ اسے نیند سے اٹھا دے تو بس اسکی کمبختی ممکن تھی اس لیۓ اسکے علاؤہ ہر کوئ یہاں موجود تھا ۔۔۔۔۔

ماہم ۔۔۔ یہ لیزہ نہیں اٹھی ابھی تک ۔۔؟؟؟

نور بیگم جو کچن کی طرف جا رہی تھیں ماہم کو دیکھ کر اس سے بولیں ۔۔۔۔

جب کہ اسکے نفی کرنے پر انہوں نے افسوس سے اسکے کمرے کا دروازہ دیکھا تھا جو بادستور بند تھا ۔۔۔۔۔

اسی لمحے فون کی گھنٹی پر وہ قریب رکھے فون پر متوجہ ہوئی تھیں ۔۔۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ جی باجی ۔۔۔کیسی ہیں آپ ؟؟؟

انکے فون اٹھانے پر دوسری طرف موجود فریدہ بیگم نے سلام کیا تھا ۔۔۔۔ جب کہ انکی آواز سن کر نور بیگم نے فوراً جواب دیا تھا ۔۔۔۔

الحمداللہ میں بلکل ٹھیک ۔۔۔۔ سب کیسے ہیں گھر میں ؟؟؟ اچھا میں بس نکل رہی ہوں اگلے تین گھنٹے میں انشاللہ ملاقات ہوتی ہے ۔۔۔

دوسری طرف سے جلد بازی سن کر انھوں نے ہستے ہوۓ خیریت پوچھی تھی اور ساتھ ہی اپنے آنے کی اطلاع بھی دی تھی ۔۔۔۔ جب کہ نور بیگم انکی بات سن کر بوکھلا گئی تھیں ۔۔۔۔

ج۔۔۔جی ۔۔۔۔ باجی بس آپ لوگ پہنچیں ۔۔ ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے ۔۔۔۔

انکی بوکھلاہٹ کی وجہ اتنا سارا کام تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔

وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئیں لیزہ کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور اسے ایسے ہی دم بخود پڑے دیکھ کر انکا پارہ ہائ ہوا تھا ۔۔۔۔

لیزہ ۔۔۔ لیزہ ۔۔۔۔ شرم کرو کچھ ۔۔۔ آج تو خیال کر لو تمہاری اپنی بہن کی شادی ہے ۔۔۔۔ کچھ خیال ہے تمہیں تمہاری پھوپھو کی کال تھی وہ نکل گئی ہیں اور یہاں انہیں سونے سے فرصت نہیں ہے ۔۔۔۔

لیزہ جو بے خبر نیند کی وادیوں میں کھوئ ہوئ تھی بری طریقے سے جھنجھوڑنے پر ہڑبڑا کر اٹھی تھی ایک لمحے تو اسے سمجھ ہی نہ آیا کیا ہوا ہے لیکن جیسے ہی حواس بحال ہوئے اپنی ماں کو سر پر کھڑے دیکھ کر اسکی آنکھیں سہی معنوں میں کھلی تھیں ۔۔۔۔

اگر اگلے دس منٹ میں تم مجھے نیچے نظر نہ آئیں نہ تو سوچ لینا ناشتہ نہیں ملے گا ۔۔۔

اسکو دیکھ کر انکا غصے سے برا حال ہوا تھا جب کہ ماں کو غصے میں دیکھ کر وہ تیزی سے واش روم بھاگی تھی ۔۔۔۔

وہ پندرہ منٹ کے بعد نیچے اتر کر آئ تھی لیکن نیچے کی گہما گہمی دیکھ کر وہ تیزی سے علیزہ کی طرف آئ تھی جو اس وقت منہ پر فیس پیک لگا کر بیٹھی ہوئ تھی ۔۔۔۔

علیزہ آپی ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے پیچھے سے اسکے گلے میں لاڈ سے ہاتھ ڈالے تھے جب کہ وہ ایک دم سے اس وارد مصیبت پر گھبرا گئ تھی ۔۔۔۔

کیا لیزہ ۔۔۔ ڈرا دیا ۔۔۔۔۔

اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اس سے کہا ۔۔۔۔۔

اوووہوووو ۔۔۔۔۔ آپی عادت ڈال لیں اب کیونکہ ہمارے رمیض بھائ ایسے ہی ڈرایا کریں گے آپ کو۔ ۔۔۔۔

لیزہ نے اسکو ڈرتے ہوئے دیکھ کر شرارت سے کہا ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر علیزہ کا منہ لال ہو گیا تھا ۔۔۔۔

امی سہی کہ رہی تھیں تم بہت بد تمیز ہو گئ ہو ۔۔۔۔۔ ایسے بولتے ہیں ۔۔۔۔ ابھی کسی بڑے نے سن لیا نہ تو گئیں تم ۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے سرخ چہرے کے ساتھ کہا ۔۔۔۔۔۔۔

ہا ہا ہا ہاااااااا !!!! آپیییی ۔۔۔۔۔ آپ بلکل ہی لال ہو جاتی ہیں یار ایسے تو نہیں چلے گا ۔۔۔۔ کیا ہو گا بچارے رمیض بھائ کا ۔۔۔؟۔۔

اسنے اسکی سرخ رنگت دیکھ کر پہلے ہنس کر پھر افسوس سے کہا تھا ۔۔۔۔۔

تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے رمیض بھائ دونوں کو دیکھ لونگی میں ۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔

علیزہ کو اسکا ہنسنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا اسلئے اس نے تھوڑا غصے سے کہا ۔۔۔۔۔

جبکہ لیزہ اسکی حالت دیکھ کر دوبارہ ہنسنے لگ گئ تھی ۔۔۔۔۔

یہ سچ تھا کہ وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں ۔۔۔۔۔ مزاج میں بھی سیرت میں بھی اور صورت میں بھی ۔۔۔۔۔

علیزہ جو کہ منور ولا کی پہلی لڑکی اور بہروز صاحب نور بیگم کی پہلی اولاد تھی ۔۔ بہت ملنسار اور دھیمی مزاج کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔۔ خوبصورتی میں وہ اپنی ماں پر گئ تھی بڑی بڑی کالی آنکھیں ، لمبے بال اور لمبی کھڑی ناک اور بلا کی سرخ و سفید رنگت ۔۔۔۔۔ وہ حسین تھی لیکن وہ اتنی ہی اپنے حسن سے لاپرواہ تھی ۔۔۔۔

جبکے لیزہ کا رنگ بہروز صاحب پر گیا تھا گندمی رنگت ، بڑی بڑی ہلکی براؤن آنکھیں جن پر پلکوں کا باڑ خم دار تھا ، لمبے براؤن بال ، کھڑی ناک جو اسکی مغروریت میں اضافہ کرتی تھی ۔۔۔۔ ہاں وہ مغرور تھی اور اکھڑ مزاج تھی ۔۔۔۔ وہ حسین تھی ، وہ حسن سے مالا مال تھی اور اسکے حسن میں اضافہ اسکی خم دار پلکوں کی باڑ کے نیچے اسکی چمکتی ہوئ ہلکی براؤن سحر انگیز آنکھیں دیکھنے والے پر سحر طاری کر دیتی تھیں ۔۔۔۔ ہاں وہ منہ پھٹ تھی لیکن وہ گھر بھر کی رونق تھی اسکے بغیر کوئ کام ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔

ہاں وہ لیزہ بہروز خان تھی جس نے نہ ہارنا سیکھا تھا اور جو ہر کام آسانی سے کروانے کا ہنر رکھتی تھی ۔۔۔۔۔۔

منور صاحب اور بیگم منور کے پانچ بچے تھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ۔۔۔۔۔ بڑے بیٹے جن کا نام تنویرصاحب تھا انکی شادی بیگم منور کی بھانجی حاجرہ بیگم سے ہوئ تھی جن کے دو بچے تھے بڑا بیٹا راحیل خان بیوی کے ساتھ دبئ میں رہتا تھا اسکا بزنس تھا اور ایک بیٹی اریبہ خان جو بہت منت مرادوں کے بعد آئ تھی اس لیے نخریلی تھی ۔۔۔۔۔۔

دوسرے نمبر پر فریدہ بیگم تھیں جن کی شادی منور صاحب کے دوست کے بیٹے احمد مغل سے ہوئ تھی ۔۔۔۔ جن کے تین بچے تھے دو بیٹے زیب مغل اور رمیض مغل جسکی شادی کے فنکشن شروع تھے اور ایک بیٹی ژالے مغل تھی ۔۔۔۔

تیسرے نمبر پر بہروز صاحب تھے جنھوں نے اپنی پسند سے نور بیگم سے شادی کی تھی ۔۔۔ انکی دو بیٹیاں تھیں ۔۔۔ علیزہ خان اور لیزہ خان ۔۔۔۔ علیزہ کی بات رمیض سے تہ تھی اب آج کل انھی کی شادی کی تقریبات شروع تھیں ۔۔۔۔

چوتھے نمبر پر فیروز صاحب جنکی شادی منور صاحب کی بھتیجی صائمہ سے دھواں دھار محبت کے بعد ہوئ تھی ۔۔ انکے تین بچے تھے ۔۔۔۔ دو بیٹے ریان خان اور زیان خان جڑواں تھے جب کہ ایک بیٹی ماہم خان تھی جسے صرف پڑھائ کی لت تھی اور کچھ بھی ہو اسے کوئ غرض نہیں تھی ۔۔۔۔

آخری اور پانچویں نمبر پر ثمن تھیں جن کی شادی منور صاحب کے دور کے رشتداروں کے یہاں ہوئ تھی ۔۔۔۔ انکے دو بچے تھے ایک بیٹا ارحم اور ایک بیٹی سارہ ۔۔۔۔ ارحم تھوڑا ریزرو رہنے والا لڑکا تھا اپنے کام سے کام رکھنے والا جبکہ اسکے مقابلے میں سارہ تیز تھی ہر ایک کی ٹوہ میں رہنا اس نے اپنی ماں سے سیکھا تھا اور وہ ایسی کیوں تھیں یہ آج تک بچہ پارٹی کو نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔