Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 10)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 10)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
کھیل کھیلا گیا سب تماشہ ہوا ،۔
اس تماشے سے دو نام پیدا ہوئے ،۔
ایک راجہ بنا اور ایک رانی بنی ،۔
کھیل ہی کھیل میں یہ کہانی بنی ،۔
پھر زمانے کو یہ سب سنایا گیا ،۔
اس تماشے کو سچ ہی بتایا گیا ،۔
جب زمانہ بھی مسرور ہونے لگا ،۔
تب سے یہ کھیل مشہور ہونے لگا ،۔
لڑکیوں نے سنی یہ کہانی تو پھر ،۔
ذہن انکے بھی مفلوج ہونے لگے ،۔
تھام کر ہاتھ لڑکوں کا کہنے لگی،۔
میرا راجہ ہے یہ اسکی رانی ہوں میں
بس دیوانی ہوں میں بس دیوانی ہوں میں ۔۔۔۔
ممانی کو اس طرح روتے دیکھ کر زیب آگے بڑھا تھا جب لیزہ لڑکھڑا کر زمین پر منہ کے بل گری تھی اور اسکے منہ سے ابلتا خون دیکھ کر زیب کو اپنے ہر طرف سناٹا ہوتا نظر آیا ۔۔۔۔
نور بیگم کی چیخیں پورے ولا میں گونج رہی تھیں آہستہ آہستہ سب اوپرآۓ تھے اور لیزہ کی طرف بڑھے تھے کوئ اسکا ہاتھ ہلا رہا تھا کوئ آوازیں دے رہا تھا اور وہ تو منہ کے بل گری تھی اب اسکے اندر اٹھنے کی چاہ نہیں بچی تھی ۔۔۔۔
راحیل اسے گود میں اٹھائے نیچے بھاگا تھا اسکے پیچھے سب بھاگے تھے عجیب منظر تھا ابھی تو خوشیوں بھرا گھر تھا اب اچانک کیا ہو گیا تھا کہ کہرام مچ گیا تھا گھر میں ۔۔۔۔
وہ چھت کے بیچ و بیچ گٹھنوں کے بل گرا تھا اور اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھ لیزہ کے خون پر رکھے تھے اگلے ہی لمحے اسنے اپنا رومال نکالا تھا اور سارہ خون اس میں سمیٹ لیا تھا ۔۔۔۔
وہ کیسے برداشت کرتا کہ لیزہ کا خون کوئ اور صاف کرے ۔۔۔
ہسپتال کے بیچ و بیچ اس وقت سب موجود تھے لیزہ کو شدید اسٹریس کی وجہ سے چکر آئے تھے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کوئ بات ایسی ہوئ جس نے لیزہ کا دماغ مفلوج کر دیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ یہ سب سن کر بہروز صاحب کرسی پر ڈھے گیۓ تھے ۔۔۔۔
بیٹیوں کا چہرا جو دیکھا تو پھر ،۔
بیٹیوں تک سے بھی باپ ڈرنے لگے ،۔
اس تماشے سے کئ باپ مرنے لگے ،۔
باپ کا مان رکھ اسکی پگڑی بچا ،۔
جھوٹ ہے یہ فقط جھوٹ میں تو نہ آ
اپنا دامن بچا ،۔
جاؤ گڑیا کہانی مکمل ہوئ ،۔
کوئ راجہ نہیں کوئ رانی نہیں ،۔
اس محبت کی کوئ کہانی نہیں ۔۔
ب اگلے ایک ہفتے تک ہسپتال آتے جاتے رہے تھے پھوپھو نے بھی فلائٹ آگے بڑھا لی تھی اس حال میں وہ چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھیں جبکہ علیزہ بہت ڈسٹرب تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا لیزہ کو ہوش آۓ وہ وہ اسکو جھنجھوڑ کر پوچھے کہ کیا ہم اتنے غیر ہو گیۓ کہ اپنی پروبلم بھی شئیر نہیں کر سکیں وہ ابھی بھی ہسپتال کے کمرے میں موجود اس پر ورد کر کر کے پھونک رہی تھی نور بیگم کی طبیعت خود ناساز تھی جس کی بنا پر انہیں بہت مشکلوں سے گھر بھیجا تھا ۔۔۔۔
گھر سے ہی اسے پتا چلا تھا کہ زیب اس رات واپس چلا گیا جس رات حادثہ ہوا تھا اور یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ وہ لیزہ کو اس حال میں چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔
کون نہیں جانتا تھا ان دونوں کی دوستی کو لیکن یہ عمل سب کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا لیکن اس حالات میں پوچھنا کسی کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور بھی سوچتی جب لیزہ کے منہ سے کراہ نکلی تھی اور وہ بھاگ کر اسکے قریب گئ تھی ۔۔۔
لیزہ ۔۔۔ لیزہ میری جان ۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔۔ دیکھو میں تمہاری علیزہ آپی ۔۔۔۔ اٹھ جاؤ یار میں بور ہوگئ ہوں بہت ۔۔۔۔
علیزہ نے محبت سے کہتے ہوئے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے جس پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔
اسکی کھلتی آنکھیں دیکھ کر علیزہ مسکرائی تھی ۔۔۔
کہیں درد تو نہیں ہو رہا ۔۔۔؟؟؟
اس نے سوال کیا تھا جس پر لیزہ کے دل میں ٹیس اٹھی تھی اگلے لمحے اسنے سختی سے آنکھیں بند کی تھیں وہ کیسے بتاتی کہ درد تو بہت ہے بہت زیادہ ۔۔ کس کو دیکھاۓ کس کو سنائے اپنے درد سے پھٹتے دل کی آواز ۔۔۔۔
کنپٹی سے ایک آنسو بے مول ہوتا ہوا نکلا تھا اور اگلے پل علیزہ نے صاف کیا تھا ۔۔۔۔
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر تھپکی دی تھی جس پر لیزہ نے سکون سے آنکھیں موندی تھیں ۔۔۔۔
اگلے دو دن کے بعد اسے گھر شفٹ کر دیا گیا تھا اسکی حالت قدرے بہتر تھی لیکن خاموشی اسکے لبوں پر جیسے ساۓ کی طرح چپک گئ تھی اور کوئ چاہ کر بھی اسکی خاموشی نہیں توڑ پایا تھا ۔۔۔۔
ہزاروں ناکام حسراتوں کے بوجھ تلے ،۔
یہ جو دل دھڑکتا ہے کمال کرتا ہے ۔۔
تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا ،۔
ایک دھڑکا لگا گئ بارش ،۔
بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر ،۔
عکس تیرا بنا گئ بارش ،۔
وقت رخصت تجھے نہیں معلوم ،۔
کتنے آنسو چھپا گئ بارش ،۔
قطرہ قطرہ گری مگر پھر بھی ،۔
زخم گہرا لگا گئ بارش ۔۔
جنوری کا آخر اور اس میں ٹھٹھرا دینے والی طوفانی بارش جس سے ہر سو اندھیرا اور سناٹا ماحول کو ہیبت ناک بنا رہا تھا شدید سردی میں بس درختوں کے جھولتے ہوئے پتے اور تیز ہوا کی آواز چاروں اور گھوم کر خوفناک منظر پیش کر رہی تھی ایسے میں جب سب اپنے گرم بستر اور گرم ماحول تلاش کرتے ہیں منور ولا کا ایک شخص ایسا تھا جسے گرمی سردی سے کوئ لینا دینا نہیں تھا ۔۔۔۔
اگر کوئ دور سے یہ نظارہ دیکھتا تو ایک دفعہ تو ضرور اسے کپکپی چڑھتی اور پاگل تو لازمی سمجھتا ۔۔۔۔
وہ ا س خوف ناک موسم میں اپنے کمرے کی ونڈو پوری کھولے اسکی دیوار پر ٹکی دنیا سے بے خبر باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ہلکا نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور شرٹ پہنے وہ ہلکی سی چادر جو اسکے آدھے چہرے کو ڈھانپی ہوئ تھی ۔۔۔
اسکے خوبصورت بال اس وقت آگے ماتھے سے بلکل صاف تھے اور منہ پر زخم کے نشان ہلکے ہوگئے تھے ۔۔۔
زور سے ایک ہی طرف سے گرنے کی وجہ سے اسکا آدھا چہرا زمین پر لگا تھا جس سے اسکے گال کے ٹشوز اور ناک کے ٹشوز پھٹ گئے تھے ریکور ہونے میں اسے اتنا وقت لگ گیا تھا اسکا آدھا چہرا ابھی بھی ہلکا نیلا تھا اور اس پر تضاد اسکا پھٹا ہوا سر جو زمین پر لگنے سے پھٹ گیا تھا خون اتنا تھا کہ ڈاکٹر کو اسٹیچس لگانے پڑے جس کی وجہ سے اسکے سامنے سے بال بلکل صاف کیے گئے تھے ۔۔۔۔۔
اگر کوئ اس لیزہ کو اور پندرہ دن پہلے کی لیزہ کو دیکھتا تو یقیناً غش کھا جاتا وہ گندمی رنگت کی لڑکی مرجھا گئ تھی ۔۔۔۔
کاش تجھے پتا ہو بارش ،۔
کچھ لوگوں کے لیے تو عذاب ہوتی ہے ۔۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں پر گرا تھا بہت شدت سے یاد آیا تھا وہ اسکے دل سے ایک آہ نکلی تھی کہ کاش سب صحیح ہوتا کاش وہ مجھے سمجھتا ، کاش وہ مجھے سن لیتا لیکن کاش ۔۔۔۔۔ یہ “کاش” کاش اسکی زندگی میں آجاتا ۔۔۔۔۔
دور بھٹکتی ہوئی اسکی نظریں واپس مایوس لوٹی تھیں ابھی وہ اور پاگل ہوتی جب پیچھے کوئ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا اور اسے لگا تھا اسکا سانس سینے میں اٹک گیا ہو ۔۔۔
کیا وہ آگیا تھا ؟؟؟؟ وہ ۔۔ وہ واقعی آگیا تھا کیا ؟؟؟
لیزہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
اگر یہ خواب ہے تو خواب ہی رہنے دو اسے ،۔
کچھ وقت تو کھل کے سانس لینے دو اسے ۔۔
لیزہ ۔۔۔۔ لیزہ کہا ں ہو ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
علیزہ جو ابھی اسکو دیکھنے آئ تھی اسکو بیڈ پر نہ پاکر اسے پکارنے لگی تھی جبکہ لیزہ اسکی پکار پر آنکھیں بند کر گئ تھی اسکا خواب ٹوٹا تھا وہ حقیقت کی دنیا میں پٹخی گئ تھی اسکو چیخ چیخ کر اسکے ضمیر نے کہا تھا وہ نہیں آئے گا وہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔
یہ کیا بچپنا ہے لیزہ ۔۔۔۔ کتنا بھیگ گئی ہو تم ۔۔۔۔ طبیعت خراب ہوگئی تو ۔۔۔۔
علیزہ کی نظر کھلیں ونڈو پر پڑی تھی پورا کمرا یخ بستہ ہو رہا تھا ۔۔۔
اس نے لیزہ کو شال اڑایا تھا اور بیڈ پر لے کر آئ تھی جبکہ لیزہ نے چپ کا روزہ نہ توڑا تھا ۔۔۔۔
لیزہ میں کچھ کہ رہی ہوں میں کب تک چلے گا یہ سب ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ایسا جو تمہاری یہ حالت ہوگئ ہے ۔۔۔۔ ایسا کیا ہوا ہے جو تم مجھ سے ۔۔۔ اپنی علیزہ آپی سے چھپا رہی کچھ ۔۔۔۔ بولو لیزہ بولو ۔۔۔۔
علیزہ اسکے جواب نہ دینے پر پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔
ایسا کیا ہوا ہے جو تمہیں ہم سب سے ذیادہ پیارا ہے ۔۔۔۔ ہماری حالت پر رحم کھاؤ ۔۔۔ میں نہیں دیکھ سکتی ایسے تمہیں ۔۔۔۔ بتاؤ لیزہ جو دل میں ہے بول دو لیکن کچھ تو بولو ۔۔۔۔۔
علیزہ نے روتے ہوئے اسکو کہا تھا ۔۔۔
اسکی بات پر لیزہ کا ایک آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر نکلا تھا ۔۔۔۔
آپ نے دیکھا ہے کبھی کسی مردے کو بولتے ہوئے ۔۔۔
اسکو اپنی آواز کھائ میں سے آتے ہوئے محسوس ہوئی تھی علیزہ نے اسکی بات پر حیرانی سے اسے دیکھاتھا بولا کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔
ہاں آپی بے موت مرتے ہوئے دیکھا ہے آپنے ۔۔۔۔ ؟؟؟ دیکھیں مجھے غور سے دیکھیں ۔۔۔۔ سننا چاہتی ہیں نہ آپ ۔۔۔۔ میں بھی بتانا چاہتی ہوں لیکن آپ مجھے بیچ میں روکیں گی نہیں ۔۔۔۔
لیزہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
آپ نے ایک دفعہ بتایا تھا مجھے کہ رشتوں پر اتنا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ آپکو اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں آپ شکوے شکایات بھی نہیں کر سکتے کیونکہ قصور سراسر آپکا اپنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ آپی میں بھول گئ تھی یہ بات ۔۔۔۔ نکل گئ تھی میرے زہن سے ۔۔۔۔۔بھول گئ کہ میں ایک مغرور لڑکی اپنے میں رہنے والی لڑکی کسی کو اپنے قریب نہ آنے دینے والی لڑکی ہوں ۔۔۔۔ سب تباہ کر دیا میں نے ۔۔۔ سب میں نے ایک ایسے شخص سے محبت کی کہ آج میں خالی ہاتھ رہ گئ سب کچھ اس پر نچھاور کر کے میں خالی ہو گئ ہوں آپی میں خالی ہوگئ ہوں ۔۔۔۔
لیزہ بولتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔۔
کون ہے وہ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
علیزہ اسکو بری طرح روتے ہوئے دیکھ کر ضبط کرتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
آپی اسنے مجھ سے دوستی کی میرے قریب رہا میری جان بچائ سب کو مجھ سے دور رکھا میری تعریف کرتا تھا اسکی آنکھوں میں میرا عکس تھا وہ مجھ سے محبت کرتا تھا لیکن ۔۔۔۔۔
لیزہ نے سرے سے علیزہ کا سوال سنا ہی نہیں تھا وہ اپنی دھن میں تھی ۔۔
ان سے پوچھو کہ ہم سے خطا کیا ہوئ ،۔
بے وفا ہوگئے دیکھتے دیکھتے ۔۔
