Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 35) 2nd Last Episode

56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 35) 2nd Last Episode

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan


🥳 SURPRISE 🥳🎉 (2nd last epi)🎉

___________________________________

ژالے مغل بنت احمد مغل آپکا نکاح صمد درانی ولد اسد درانی کے ساتھ حق مہر پانچ لاکھ روپے سکئہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

کمرے میں موجود سناٹے میں مولوی صاحب کی آواز نے شاید موت کا پروانہ تھمایا تھا جسے تھامنے کے لئے ژالے نے خود شروعات کی تھی ۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔

آنکھوں سے گرتے آنسوؤں کے درمیان اس نے اپنے قتل کا انتظام کیا تھا جبکہ باقی سب سر جھکائے مجرم کی طرح کھڑے تھے ۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔۔

کاش معلوم ہوتا ہمیں

تو ہم محبت کو بھی گناہ سمجھ کر بھول جاتے ۔۔۔۔

صمد درانی ولد اسد درانی آپکا نکاح ژالے مغل بنت احمد مغل کے ساتھ کیا جارہا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟

قبول ہے ۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔

قبول ہے ۔۔۔۔۔

بھاری سنجیدہ آواز کمرے کے سناٹے کو چیرتی ہوئی گونجی تھی جبکہ ژالے کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی تھیں ۔۔۔۔

ایجاب وقبول کے بعد دعا ہوئ تھی اور اسکے بعد ژالے بغیر آنسو بہائے نیچے آئ تھی جہاں دونوں کو ساتھ بیٹھایا گیا تھا سب نے منہ دیکھائی اور دعاؤوں سے نوازا تھا جس پر اسکے آنسو جمع ہوئے تھے ایک دفعہ بھی ڈیڈ یا بھائیوں میں سے کوئ اسکے پاس نہیں آئے تھے اور یہیں اسکی ہمت ٹوٹنے لگی تھی ۔۔۔۔

ژالے تم ٹھیک ہو ؟؟؟؟

ابھی وہ اور سوچتی جب لیزہ کی آواز پر اس نے لیزہ کو دیکھا تھا آنسو جو کونے پر ٹکا ہوا تھا ٹوٹ کر گرا تھا جسے لیزہ نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیا تھا ۔۔۔۔

بلکل پریشان مت ہو میں ہوں نہ بہت جلد سب کو منا کر تمہارے پاس لاؤں گی بس تم نے پریشان نہیں ہونا ۔۔۔۔

پیار سے بولتے ہوئے وہ صمد کی طرف مڑی تھی ۔۔۔

اور تم ۔۔۔ شادی چاہے کسی بھی طرح ہوئ ہو لاوارث مت سمجھنا اگر اتنی سی بھی چوٹ آئ ژالے کو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا سوچنا بھی مت کہ اسکے باپ بھائ اسکے ساتھ نہیں کھڑے تو جو چاہے کرو گے میں ابھی موجود ہوں اور میرے ہوتے ہوئے ژالے کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا مت سوچنا ۔۔۔۔

اسکو وارن کرتی نظروں سے دیکھتے ہوئے لیزہ نے کہا تھا جس پر صمد کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔۔

جو آپکا حکم ۔۔۔۔۔

اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر آگے کو جھکتے ہوئے وہ لیزہ کاحکم بجا لایا تھا جو زیب کی نظروں سے چھپا نہیں رہا تھا دانت پر دانت جمائے اس نے ضبط کیا تھا ۔۔۔۔۔

رخصتی کے وقت بھی کوئ آگے نہیں آیا تھا فریدہ بیگم بھی سب سے پیچھے کھڑی آنسو بہا رہی تھیں زیان نے ہی قرآن پاک کے ساۓ میں ژالے کو گاڑی تک چھوڑا تھا ۔۔۔۔

ہماری بیٹی اب آپکی ہوئ اب ہمارا اس سے کوئ لینا دینا نہیں ہے آپ جو چاہے سلوک کر سکتے ہیں اس کے ساتھ ۔۔۔۔

یہ کہہ کر احمد صاحب اندر چلے گئے تھے پیچھے وہ روتے ہوئے تڑپ گئ تھی ۔۔۔۔

___________________________________

رخصتی ہوتے ہی سب اداس چہرے کے ساتھ اپنے کمروں میں چلے گئے تھے جبکہ لیزہ سارا کام دیکھ کر خود بھی کمرے میں پہنچی تھی جب زیب اسے صوفے پر بیٹھا ہوا دکھا تھا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ اسکے برابر میں بیٹھی تھی جس پر زیب نے چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔۔

پیکنگ کرلی کل ہم نکل رہے ہیں دوپہر میں ۔۔۔۔

اپنے آپ کو کمپوز کرتے ہوئے زیب نے اسے دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔

ہمممم ۔۔۔۔۔ اداس ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

سر ہلا کر لیزہ نے اسکے چہرے سے اندازہ لگایا تھا ۔۔۔۔

نہیں ہونا چاہیئے کیا ۔۔۔ ؟؟؟ لیزہ !!!! ان ہاتھوں میں پالا ہے اسے ۔۔۔ اسکی رگ رگ سے واقف ہیں ہم تو کیسے ۔۔۔ کیسے اتنا بڑا بدلاؤ نہیں دیکھ پاۓ اپنی بہن میں ؟؟؟؟ تم سوچ بھی نہیں سکتی اس وقت میں کیا محسوس کر رہا ہوں دل چاہ رہا ہے اسے گلے سے لگا لوں اس سے پوچھوں کیا وجہ ہے جو یہ سب کیا پوچھوں اس سے کہ کہاں کمی رہ گئ ہماری محبت میں کہ تم باہر محبتیں ڈھونڈنے نکل گئیں کہاں کمی رہ گئ ماما ڈیڈ کی تربیت میں کہ تم خود سر ہو گئیں پوچھوں اس سے سب لیکن ۔۔۔۔ لیکن لیزہ اس نے کیا کیا ہمارے ساتھ ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اپنی اکلوتی بہن کو ایسے رخصت کریں گے ارے !!! ایسے خاموشی سے تو جنازے بھی نہیں اٹھتے اب تو جتنی خاموشی سے ژالے کی رخصتی ہوئ ہے کیا جواب دیں گے ہم لوگوں کو سب کو ؟؟؟؟

اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرائے وہ جیسے آج ٹوٹ گیا تھا جبکہ اس کی باتیں سن کر لیزہ کے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔۔

لوگوں کا تو کام ہے باتیں بنانا اور یہ بھی تو سوچیں زیب محبت کرنا گناہ نہیں ہے ورنہ ہم دونوں سب سے بڑے گناہ گار ہوتے ہمارے اسلام میں پسند کرنا جائز ہے لیکن جس طرح یہ سب ہوا اور پھوپھا نے فیصلہ دیا یہ سب مجھے غلط لگ رہا ہے اور پلیز اب یہ جنازے موت ان سب کی باتیں مت کرئیے گا میں یہ سب نہیں سن سکتی ہاں مانا آپ وہ سب نہیں کرسکے لیکن اب دعا تو کر سکتے ہیں تو ہم اسے دعاؤوں میں کیوں نہ یاد رکھیں بس جتنا جلدی ہو سکے بد گمانی نکال دیجیۓ گا دل سے کہیں ایسا نہ ہو دیر ہو جائے ۔۔۔۔

بھیگے لہجے میں بولتے ہوئے اس نے زیب کے ہاتھ تھامے تھے اور اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگائے چوما تھا ۔۔۔ اپنے ہاتھ پر گیلا پن محسوس کر کے زیب نے اپنے آنسو پونچھے تھے اور لیزہ کی طرف مڑا تھا ۔۔۔۔

تم میری زندگی کا حسین تحفہ ہو لیزہ میں جتنا شکر ادا کروں اس رب کا اتنا کم ہے ۔۔۔۔۔

آنسو پوچھتے ہوئے اس نے لیزہ کے بھیگے گال صاف کئے تھے جبکہ اس کے اقرار پر لیزہ جھینپ گئ تھی نظریں نیچے کرے اسے ایک دم کچھ یاد آیا تھا ۔۔۔۔

زیب !!!!! سارہ اور ثمن پھوپھو کا کچھ پتا چلا ؟؟؟؟

ثمن بیگم اور سارہ مایوں سے غائب تھیں جب سب لوگ سو گئے تو وہ دونوں کہاں گئیں کسی کو پتا نہیں چلا تھا یاد آنے پر لیزہ نے آج پوچھا تھا جس پر زیب نے گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔

سارہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسے دورہ پڑا تھا جس کی وجہ سے اس کے ایک ہاتھ نے موو کرنا چھوڑ دیا ہے خالہ وہیں موجود ہیں ہاسپٹل میں جبکہ خالو بھی پہنچ چکے ہونگے ۔۔۔۔۔

اتنے بڑے انکشاف پر لیزہ کا ہاتھ اپنے منہ پر گیا تھا اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی کہ زیب کا سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔

___________________________________

کافی دیر سے وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک گئ تھی اوپر سے چہرے پر ڈالا گیا گھونگھٹ اسے پریشان کرنے کے لئے کافی تھا گھونگھٹ ایسے کر کے بیٹھی تھی کہ بڑی من چاہی ہو کہ وہ آئے گا وہ گھونگھٹ اٹھا کر تعریف کرے گا ۔۔۔۔

تلخی سے سوچتے ہوئے اس نے گھونگھٹ اٹھایا تھا اور ایک نظر کمرے میں ڈالی تھی ۔۔۔۔

بلکل سادہ کمرہ نہ پھول نہ سجاوٹ یہاں تک کہ کسی قسم کی کوئ رسم یا اسکا استقبال بھی نہیں کیا گیا تھا جس پر وہ اور زیادہ دل برداشتہ ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

ایک بڑے سے کمرے میں سامنے ہی دیوار پر صمد کی ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئ تھی جس میں وہ ہالف آستینوں کی شرٹ پہنے الٹا کیپ پکڑے ایک آئبرو اچکاۓ ایک ادا سے کھڑا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سامنے کسی کو امپریس کر رہا ہو تھوڑی نظریں آگے بڑھی تھیں جہاں سائیڈ ٹیبل ایک ریک دو صوفہ سیٹ ایک ٹیبل شوپیس ایک فل سائز بیڈ جبکہ ایک طرف شاید واش روم کا دروازہ تھا جبکہ اسی کہ تھوڑا سائیڈ میں ایک اور دروازہ تھا شاید ڈریسنگ روم تھا ۔۔۔۔۔۔

کمرے کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ژالے تھک کر دوبارہ نظریں نیچی کر چکی تھی جب ایک دم کھٹکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

دروازہ کھول کر صمد اندر داخل ہوا تھا اور آرام سے اپنا کوٹ اتارا تھا جبکہ ژالے کی دھڑکنیں بے ہنگم شور مچا رہی تھیں ماتھے پر پسینہ اس کے ڈر کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔

الماری سے اپنے کپڑے نکال کر وہ کچھ بھی بولے واش روم میں گھس گیا تھا پیچھے ژالے نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو مٹھی میں دبایا تھا ۔۔۔۔

دس منٹ بعد جب وہ واش روم سے باہر نکلا تو ژالے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی آپنا ڈوپٹہ کھو رہی تھی جو کہ لیزہ نے شاید پوری جان لگا کر ٹکایا تھا اسے کھڑے دیکھ صمد اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا جسے محسوس کر کے ژالے کے ہاتھ سست پڑے تھے ۔۔۔۔

کیا ہوا کافی جلدی ہے چینج کرنے کی ؟؟؟؟؟

سخت آواز کمرے میں گونجی تھی جس سے ژالے کی رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی ۔۔۔۔۔

کچھ پوچھ رہا ہوں منہ میں زبان نہیں ہے کیا ؟؟؟؟

اپنی طرف موڑتے ہوۓ صمد نے اس سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

ای ۔۔۔ ایسا نہیں ہے وہ ۔۔۔ وہ میں ۔۔۔ میں بس ۔۔۔۔۔

ژالے کو سمجھ نہیں آیا تھا کیا بولے اسکے ہکلانے پر صمد ہنسا تھا ۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے میری تربیت ایسی ہوئ ہے کہ اگر سامنے والا بے غیرت ہے تو بدلے میں میں بھی بن جاؤں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

سرد لہجے میں بولتے ہوئے اس نے ژالے کا ڈوپٹہ آرام سے آزاد کروایا تھا جبکہ ژالے خاموش بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کہیں تم یہ تو نہیں سمجھ رہیں میں تم سے بدلہ لونگا اپنی شادی ٹوٹنے کا ؟؟؟؟

بغیر اسکی طرف دیکھے صمد نے اسکی جیولری اتاری تھی جبکہ اسکے لمس پر ژالے کانپ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔

نہیں نہیں نو نیور !!!!! میں اتنا کم ظرف نہیں ہوں کہ عورت سے بدلہ لوں ارے تم تو اس قابل بھی نہیں ہو کہ تمہیں دیکھا بھی جائے حتی کہ بدلہ لینا تم میری زندگی میں شامل ہوئ ہو اور تم میری عزت ہو لیکن میں تم پر اعتبار نہیں کرسکتا لہٰذا اگر تم نے مجھ سے بغیر پوچھے اس گھر سے قدم بھی باہر نکالا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا یہ تو تم جان چکی ہو گی ۔۔۔۔

آپ ۔۔۔ آپ سے محبت کرنا گناہ نہیں ہے اس لئے میں بے اعتبار نہیں ہوں ۔۔۔۔

بھیگے لہجے میں اپنی صفائ پیش کی گئ تھی ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہا !!!! محبت کرنا گناہ نہیں ہے لیکن ہونے والے بہنوئ سے محبت گناہ تھا اور جب تم مجھے حاصل کرنے کے لئے یہ گندا کھیل کھیل سکتی ہو تو کسی کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہو اس لئے مجھے یقین نہیں ہے تم پر اعتبار تو دور کی بات ہے ۔۔۔۔

زور سے ہنستے ہوئے آخر میں صمد نے زہر آلودہ جملے ژالے کے کانوں میں انڈیلے تھے اور پھر ایک آرام دہ ڈریس نکالے ژالے کو پکڑایا تھا ۔۔۔۔

وہ خاموشی سے اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلی گئ تھی تھوڑی دیر میں جب وہ رو کر تھک گئ تو باہر آئ تھی اسکا استقبال اندھیرے نے کیا تھا دومنٹ تک وہی کھڑے اس نے سوچا تھا کہاں جائے اور پھر صوفے پر کپڑے رکھے وہ بیڈ کی طرف بڑھی تھی ابھی وہ لیٹی ہی تھی جب صمد نے ایک دم اسے اپنی طرف کھینچا تھا ایک چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوئ تھی ۔۔۔۔

ڈر کیوں رہی ہو میں ہی ہوں تمہارا صمد ۔۔۔۔

اس کو دونوں کاندھوں سے پکڑے پھر طنز کا تیر چلایا تھا ۔۔۔۔

مت کریں ۔۔۔ اس ۔۔ اس قسم کی باتیں ۔۔۔۔

ہچکیوں کے ساتھ ژالے نے اسے کہا تھا جس پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔

چلو پیار کی باتیں کرتے ہیں کیونکہ حق تو میں اپنا نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔

کہہ کر وہ ژالے پر جھکا تھا جب ژالے نے اسے روکا تھا ۔۔۔

پلیز ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ ابھی نہیں ایسا کچھ مت کریں جو بعد میں پچھتاوے کا باعث بنے مت کریں ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر صمد نے اسکا ہاتھ ہٹایا تھا اور اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں پچھتاتا نہیں ہوں اور کبھی پچھتانا پڑا تو مرد کے پاس تو چار شادیوں کا آپشن موجود ہوتا ہے تو تم پریشان مت ہو لیکن تمہیں دستبردار نہیں کرونگا اب تم ژالے درانی بن کر ہی مرو گی اس لئے اب مجھے تنگ مت کرنا بلکل بھی ۔۔۔۔

ژالے نے کھلی کھڑکی سے آسمان کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

یہ راستہ میں نے اپنے لئے خود چنا ہے اور اب مجھے سب برداشت کرنا ہے بے شک اللہ میری سزا میں کمی ضرور کرے گا ۔۔۔۔

پوری رات بھیگی تھی دور کہیں تارے جھوم کر ناچے تھے ان کے ملن پر کہ ہوتا وہی ہے جو آسمانوں پر لکھا ہوتا ہے ۔۔۔۔

___________________________________

صبح کی چمکتی ہوئ دھوپ نے آکر کمرے میں دستک دی تھی جس پر ژالے نے کسمسا کر آنکھیں کھولی تھیں وقت کا احساس کرتے ہوئے وہ اٹھی تھی اور اپنے برابر دیکھا تھا جہاں صمد روز مرہ کی طرح آج بھی غائب تھا اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ژالے نے واش روم کا رخ کیا تھا باہر نکل کر وہ بال بنا کر نیچے اتری تھی جہاں مسز اسد صوفے پر بیٹھیں اخبار پڑھنے میں مگن تھیں یا یہ کہاں جائے تو ذیادہ بہتر ہو گا کہ وہ اخبار میں کاروباری سرگرمیاں ڈھونڈتی تھی وہ نیچے اتر کر انکی طرف گئ تھی جب مسز درانی کی نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں ۔۔۔۔

ارے اٹھ گئیں تم ؟؟؟ چلو بیٹھو یہاں میں ناشتے کا کہتی ہوں یہ بتاؤ کیا کھاؤ گی ۔۔۔ ؟؟؟؟

نرم لہجے میں بولتے ہوئے انہوں نے اس سے دریافت کیا تھا جس پر وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔۔

کچھ بھی بنا دیں کر لونگی ۔۔۔۔ صمد ناشتہ کر کے گئے ہیں نہ ؟؟؟؟

روز کا سوال دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔۔۔

جی میرا بچہ وہ ناشتہ کر کے گیا ہے اور تاکید کر کے گیا ہے کہ تمہارا خیال اچھے سے رکھیں ۔۔۔۔

اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر مسز اسد نے اسے بولا تھا جس پر وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔۔

وقت گزرنے کا پتا کسی کو چلا ہو کہ نہیں لیکن یہ چار مہینے ژالے کے بہت مشکل میں گزرے تھے صمد نے سب کے سامنے تو اسکی بہت عزت بنوا دی تھی اتنی کہ آج اس کے بغیر سب ادھورا تھا لیکن صمد کی طرف سے ملنے والے طنزیہ باتیں سن سن کر وہ سپاٹ ہو گئ تھی لیکن کچھ دنوں پہلے جو خبر اسے ملی تھی اس نے صمد کو مکمل بدل دیا تھا خوش خبری نے ژالے کو تھوڑا سکون دیا تھا کہ صمد کی باتیں لہجہ سب بدل گیا تھا وہ اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا شاید اولاد ہوتی ہی ایسی چیز ہے کہ سخت سے سخت انسان بھی سیدھا ہو جاتا تھا ۔۔۔۔

سائیڈ ٹیبل پر رکھا ٹیلی فون بجا تھا جس سے ژالے ایک دم سے چونکی تھی تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے ژالے نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔۔

دوسری طرف سے گہری سانس خارج کی گئ تھی ۔۔۔۔

ناشتہ کر لیا ؟؟؟؟

جی کر لیا ۔۔۔۔۔

آہستہ سے کہا گیا تھا جس پر صمد نے آنکھیں موندی تھی ۔۔۔۔

اپنا خیال رکھنا بہت میں بعد میں بات کرتا ہوں اللہ حافظ ۔۔۔۔۔۔

آنکھیں کھول کر آئبرو سہلاتے ہوئے اسنے کہا تھا اور پھر جواب سنے بغیر فون کاٹ دیا تھا ۔۔۔۔

سیٹ پر سر ٹکاتے ہوئے صمد نے اپنے آپ کو سنبھالا تھا ۔۔۔۔

اے اللہ !!! میرے کئے کی سزا میری اولاد کو مت دینا اور ژالے نے جو کیا اسکی معافی یقیناً وہ آپ سے مانگ رہی ہو گی اسے معاف کر دینا ۔۔۔۔

منہ پر ہاتھ رکھے اس نے ژالے کو نظروں میں رکھا تھا کہ اولاد کی خوشی کی خبر نے صمد کو یکسر تبدیل کر دیا تھا ۔۔۔

ہاں وہ ماننے پر مجبور ہوا تھا کہ ژالے ہی اب اس کے لئے سب کچھ ہے اور وہ ہی اسکے بچے کی ماں ہے ۔۔۔۔

___________________________________

لیزہ !!!! سنبھالو یار خود کو ۔۔۔۔۔

علیزہ جو کب سے لیزہ کو بہلانے میں لگی ہوئ تھی اب تھک کر چور ہو گئ تھی ۔۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں مجھ سے کچھ نہیں کھایا جا رہا جو کھا رہی ہوں وومٹ ہو جاتی ہے ۔۔۔۔

روتے ہوئے اسنے اپنی حالت بیان کی تھی جس پر علیزہ نے سر پکڑا تھا ۔۔۔۔

لیزہ ایسا ہوتا ہے اس کنڈیشن میں تم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو یار یہ میڈیسن لو کچھ دیر تو رکے گی ۔۔۔۔۔۔۔

علیزہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی جس پر چڑ گئ تھی ۔۔۔

مجھے نہیں پتا ۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔

اچھا اچھا رکو ۔۔۔۔ میں زیب کو کال کرتی ہوں وہ تمہیں ڈاکٹر کے لے جائے گا ۔۔۔۔

میں نے کہا تھا زیب کو مت جائیں لیکن انہیں میرا خیال ہی نہیں ہے کچھ ۔۔۔۔

روتے ہوئے اس نے زیب کی شکایت لگائ تھی ۔۔۔۔

بس کر دو ایسا تو کچھ نہیں ہے کتنا خیال رکھتا ہے وہ تمہارا یہ ہم سب کو پتا ہے ایک ٹانگ پر کھڑا ہوتا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔۔

علیزہ کی بات پر اس نے اپنے آنسو صاف کئے تھے ۔۔۔۔

کبھی کبھار تو مجھے لگتا ہے آپ میری بہن نہیں صرف زیب کی بھابھی ہیں ۔۔۔۔

زیب کی بھابھی اور تمہاری بھی بھابھی ہوں اور صرف تمہاری بہن بھی اب اٹھو فریش ہو کپڑے تبدیل کرو اچھا محسوس کرو گی ۔۔۔۔

علیزہ کی بات سن کر لیزہ نے سر ہلایا تھا اور اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔

___________________________________