56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 03)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

کراچی کی سڑکوں پر اس وقت شدید ٹریفک جام تھااور اسی ٹریفک میں پھنسے ایک شخص کا غصےسے برا حال تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ کچھ کر دے لیکن اس وقت وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا اسے جلد از جلد پہنچنا تھا ورنہ ماما سے ڈانٹ پکی تھی آخر کو اسکے بھائ کی ڈھولکی تھی آج اور وہ نواب ابھی سیدھے اسلام آباد سے کراچی آرہے تھے ۔۔۔۔

ابھی کچھ ٹریفک چلا تھا تو اس نے اپنی گاڑی آگے بڑھائ تھی کہ اسکا موبائل بجنے لگ گیا اس نے موبائل کی اسکرین پر دیکھا تھا اگلے ہی لمحے اس نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔۔

زیب کہاں ہو بیٹا ۔۔۔۔ ؟؟؟ پتا ہے ہم بس پہنچنے والے ہیں ۔۔۔۔

اسکے فون اٹھانے پر فریدہ بیگم بولی تھیں جبکہ ان کی بات پر اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی تھی ۔۔۔۔

خبر دار جو ریش ڈرائیونگ کی ۔۔۔۔۔ بہت برا پیش آؤں گی میں ۔۔۔۔

انکو پتا تھا اب یہی ہونا تھا اس لیے انھوں نے پہلے ہی اسے الرٹ کیا ۔۔۔ جب کہ ماں کی تنبیہ سن کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ تھی اور دونوں گالوں پر گڑھے نمودار ہوئے تھے ۔۔۔۔

اسکی خوبصورت مسکراہٹ پر لڑکیاں مرتی تھیں اور وہ کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔۔۔ ہاں اسے اپنے آپ پر غرور تھا وہ حسن پرست تھا ۔۔۔۔ ہر خوبصورت اور یونیک چیز پر اسکا حق تھا ۔۔۔ ایسا وہ سمجھتا تھا اور کچھ غلط بھی نہ سمجھتا تھا وہ تھا ہی ایساکہ ہزاروں میں ظاہر ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

ارےےےے ۔۔۔ آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں ۔۔۔ بس آپ پہنچیں میں آپکے پیچھے پہنچتا ہوں ۔۔۔۔

اس نے بڑے پیار سے فریدہ بیگم کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔ زیب کی بات سن کر انھوں نے ٹھیک ہے کہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔ جبکہ زیب نے ائیر فون نکال کر سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بیک ویو مرر میں دیکھا تھا اور اپنے بالوں کو ہاتھوں سے صحیح کیا تھا ۔۔۔۔

کیا کہہ رہا تھا ؟؟؟ کہاں ہے ؟؟؟ زرا جو بھائ کا خیال ہو اسے ۔۔۔۔

رمیض جو بیک سیٹ پر فریدہ بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا ماں سے سوال کرنے لگا ۔۔۔۔

بس کہہ رہا تھا پہنچ رہا ہوں ۔۔۔۔ آپ آگے آگے میں پیچھے پیچھے ۔۔۔۔

رمیض کی روڈنیس دیکھ کر ماں نے تھوڑا ہنس کر کہا ۔۔۔۔

ماں کی بات پر وہ بھی مسکرا دیاجو بھی تھا محبت بہت تھی تینوں بہن بھائ میں ۔۔۔۔

فریدہ بیگم نے اپنے دوسرے سائیڈ پر بیٹھی اپنی بیٹی کو دیکھا اور دل ہی دل میں ماشاءاللہ کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

سب کی باراتیں آئیں ڈولی تو بھی لانا

دلہن بنا کے مجھ کو راجا جی لے جانا ۔۔۔۔۔

باہر بڑے سے لان میں اس وقت سجاوٹ کا کام تقریباً نمٹ چکا تھا ۔۔۔ تیز میوزک میں چلتے گانے ایک الگ ہی سماں باندھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ جب کہ گھر کے اندر کا موسم اس وقت کافی گرم تھا سب کو صرف اپنی لگی ہوئ تھی شام ہو چکی تھی ۔۔۔ اور سب کو یہ فکر تھی کہ تیار کب ہوں گے سب لڑکیاں پہلے ہی ایک کمرے میں گھسی اپنی تیاریاں مکمل کر رہی تھیں یا یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ سب سے اچھا لگنے کے چکر میں تھیں ۔۔۔۔

ان سب سے بلکل الگ علیزہ کے کمرے میں اس وقت لیزہ جو اپنی آپی کو خود تیار کر رہی تھی کہ علاؤہ تائ امی اور صائمہ چاچی موجود تھیں جو مسلسل لیزہ کو تنگ کر رہی تھیں کہ ایسے نہ کرو ویسے نہ کرو اور بیچاری علیزے کنفیوز سی لیزہ کو دیکھ رہی تھی جو خود اس وقت کنفیوز تھی ۔۔۔۔۔

تم ایسا کرو ڈوپٹے کو سر پر اڑھا دو ۔۔۔۔

تائ امی نے اپنا مشورہ دیا ۔۔۔۔ جب کہ صائمہ چاچی کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا ۔۔۔

نہیں نہیں لیزہ تم ایسا کرو اسکا گھاگرہ چولی والا اسٹائیل کر دو ۔۔۔۔

صائمہ چاچی نے فوراً کہا تھا ۔۔۔۔

لیزہ نے پہلے علیزہ کو جو معصوم سی شکل بنا کر بیٹھی ہوئی تھی پھر ان دونوں کو دیکھا تھا اگلے ہی لمحے اس نے علیزہ کا دوپٹہ پیچھے دونوں ہاتھوں کی طرف سے گزارتے ہوۓسیدھے ہاتھ میں لپیٹ دیا تھا ۔۔۔ اور پھر دونوں کی شکل دیکھی تھی جو لیزہ کو خاموشی سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ کمرے سے باہر تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں اب لیزہ کسی کی نہیں سنے گی ۔۔۔۔۔

وہ دھم سے بیڈ پر گری تھی جس سے کمرے میں آواز پیدا ہوئ تھی ۔۔۔ علیزہ نے ایک دم سے لیزہ کو دیکھا تھا لیزہ نے علیزہ کو اور پھر دونوں کے قہقہے کمرے میں گونجے تھے ۔۔۔۔۔۔

شام کےساۓ گہرے ہوۓ تو ہر طرف رونق اور افراتفری پھیل گئ لڑکوں اور لڑکیوں کا ہجوم امنڈ آیا تھا جیسے ، خوش رنگ لباس پہنے لڑکے ہر چیز کے لیے تیار تھے ۔۔۔۔ اور لڑکیاں تو ایک دوسرے سے اچھا لگنے کے چکر میں پتا نہیں کیا کیا جتن کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی بالوں کو کرل کر کے ہٹی تھی جب دروازہ کھول کر کوئ تیزی سے اندر داخل ہوا تھا دروازے کی آواز پر اسکی نظریں دروازے کی طرف اٹھی تھیں جب کہ آنے والے نے بھی بے ساختہ اسکو دیکھا تھا اور اسکی آنکھیں وہیں ساکت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ڈارک بلیو کلر کی فل ایمبرائیڈری والی لونگ فراک جس کی آستینیں چوڑی دار تھیں پہنے لائیٹ میک اپ میں بغیر ڈوپٹے کے وہ قیامت لگ رہی تھی دیکھنے والا اسے ایک نظر دیکھ کر ضرور دوبارہ رک کر دیکھتا ۔۔۔۔۔ سامنے والے کو اس طرح خود کو گھورتا ہوا دیکھ کر اس نے تیزی سے ڈوپٹہ اوڑھا تھا جو بیڈ پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اووووو ۔۔۔۔ ہیلووو ۔۔۔۔ کون ہو بھائ ۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں بغیر اجازت آنے کی ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔

لیزہ نے غصے سے آنے والے کو دیکھا تھا جب کہ اسکا غصہ دیکھ کر زیب کو پریشانی لاحق ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

دیکھیں میڈم ۔۔۔۔۔ مجھے یہاں ریان نے بھیجا ہے ۔۔۔ مجھے واش روم جانا تھا لیکن شائد میں غلط روم میں آگیا ۔۔۔۔۔

اس نے رسانیت سے اسکی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔

اوووووو ۔۔۔۔ مسٹر چلانا کسی اور کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں تم لڑکوں کو ۔۔۔۔ بس جہاں لڑکی دیکھی نہیں آگئے منہ اٹھا کر ۔۔۔۔

اسنے غصہ سے دوبارہ اسے دوبدو جواب دیا تھا ۔۔۔۔

شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔۔۔۔ تمھاری جیسی لڑکیاں پانی بھرتی ہیں میرے سامنے ۔۔۔۔۔۔

اسنے اپنے لہجے کو تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔

اووہہہہہ ۔۔۔۔۔ گاؤں سے آۓ ہو کیا ۔۔۔؟؟؟ کیونکہ وہاں ہی پانی بھرتی ہیں ۔۔۔۔۔

اسکی بات سن کر لیزہ کی زبان پھسلی تھی ۔۔۔۔۔

تمممممم ۔۔۔۔۔۔۔ تم سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

زیب کو اسکے لہجے سے آگ ہی تو لگ گئ تھی ۔۔۔۔

لیزہ بہروز خان ہوں میں ۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔ ابھی ایک آواز لگاؤں گی نہ پورا گھر اکھٹا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔

جب کہ زیب اسکا نام سن کر چونکا تھا اگلے ہی لمحے اسکے چہرے پرہمسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔۔

تو تم ہو لیزہ بہروز خان ۔۔۔۔۔ ہاں تمہی سے تو ملنے آیا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ اسکے قریب جاتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔۔

وہ ایک ہاتھ کے فاصلے پر جا کر رکا تھا جب کہ اسے قریب آتے ہوئے دیکھ کر وہ قدم قدم پیچھے ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔

دیکھوووووو ۔۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی زیب نے اس کی بات کاٹی تھی ۔۔۔۔

دیکھ ہی تو رہا ہوں ۔۔۔۔۔ اور کیسے دیکھوں ۔۔۔۔۔

اس لڑکے کی بات پر لیزہ کا حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی اس کی آواز اس کمرے سے باہر کوئ سننے والا نہیں ہے اس لیے اس نے رسانیت سے اس سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

تم جو بھی ہو میں بخشوں گی نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔ تمہیں ابھی پتا نہیں ہے میں ہوں کون ۔۔۔۔۔

لیزہ کی بات اور اسکا ڈر محسوس کر کے اسکا قہقہ نکلا تھا لیکن وہ حیران تھا کہ ڈرنے کے ساتھ ساتھ لیزہ اسکو دھمکیاں بھی دے رہی تھی اور وہ جانتا تھا کہ اسکی لیزہ کے ساتھ بہت اچھی ٹھنے گی ۔۔۔۔۔

فریدہ پھوپھو اور انکی فیملی ابھی ابھی منور ولا پہنچے تھے انکا استقبال بہت جوش سے کیا تھا لیکن اس دوران دلہن کی بہن موجود نہیں تھی کیونکہ وہ دلہن کو تیار کرنے کے چکر میں خود لیٹ ہو گئ تھی اور لیزہ کو تو اپنے ہر کام میں پرفیکشن چاہیئے تو وہ کیسے نہ اپنی بہن کی شادی میں اپنا ہنر دیکھاتی ۔۔۔۔

سب نے اسکا پوچھا تھا اور نور بیگم جواب دے دے کر تھک گئی تھیں اس لیے بات بدلنے کے لئے انھوں نے زیب کا پوچھا ۔۔۔۔۔

یہ زیب کہا ہے ۔۔؟؟؟ اتنا عرصہ ہو گیا اسکو دیکھے ہوئے ۔۔۔۔ تم نے بھی اسے پڑھائ کی وجہ سے اتنا دور کر دیا ہے ہم سب سے ۔۔۔۔۔

تم تو جانتی ہو کتنا شوق تھا اس کو بزنس پڑھنے کا بس اپنا خواب پورا کر رہا ہے اور ہم روک بھی نہیں سکتے آخر کو ضدی ہے ۔۔۔۔۔ اور بس پہنچنے والا ہے ۔۔۔۔

فریدہ بیگم نے رسانیت سے جواب دیا تھا ۔۔۔۔

آخر بیٹا کس کا ہے ؟؟؟؟

جب کہ احمد صاحب نے اپنی بیگم کی بات سن کر ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔

انکی بات سن کر سب ہنسنے لگے تھے ۔۔۔۔ اتنے میں ایک بلیک کلر کی چمکتی ہوئ کار داخل ہوئے تھی اور اس میں سے نکلنے والے شخص کو دیکھ کر سب کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں ۔۔۔۔

بلیک کلر کی پینٹ پر بلیک کلر کی ہی ہائ نیک پہنے ، بلیک کلر کا ہی چشمہ لگائے سلیقے سے بنی بئیرڈ میں، بالوں کو ماتھے پر سے سیٹ کرتا ہوا وہ لمبا چوڑا بندہ اور کوئ نہیں زیب احمد مغل تھا ۔۔۔۔ جو اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سب میں نمایہ نظر آتا تھا ۔۔۔

وہ شان بے نیازی سے چلتا ہوا اندر آیا تھا لیکن سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی جس سے اسکے گالوں پر پڑنے والے ڈمپل بے ساختہ تھے کتنی ہی لڑکیوں نے اپنے دل سنبھالے تھے ۔۔۔۔ حسن کس کو نہیں بھاتا اور آج کل سب صورت دیکھتے ہیں سیرت نہیں ۔۔۔۔۔

اسلام و علیکم ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔

اس نے سب کو سلام کیا تھا اور باری باری سب سے ملا تھا ۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ کتنا پیارا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ لگتا ہے تمہیں امریکہ کی ہوا لگ گئ ہے ۔۔۔۔

صائمہ چاچی نے اسکی جسامت اور خوبصورتی دیکھ کر کہا ۔۔۔ جب کہ انکی بات سن کر زیب ہنسنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔

ممانی ۔۔ صرف ہوا نہیں اور بھی بہت کچھ لگ گیا ہے ۔۔۔۔

اس نے انکے جواب میں بڑی زومعنی بات کی تھی جس پر سب کے قہقہے نکلے تھے جب کہ صائمہ بیگم جھینپ گئی تھیں۔ ۔۔۔

میں آپ سب سے ملوں گا ۔۔۔ باتیں بھی کروں گا ۔۔ بٹ میں اس وقت فریش ہونا چاہتا ہوں سو پلیز مجھے بتا دو میں کس طرف جاؤں ؟؟؟ ۔۔۔۔

ایک دفع پھر سے سب کا منہ کھلتا دیکھ کر زیب نے آرام سے کہا تھا ۔۔۔۔

اسکی بات پر ریان کو ایک دم سے شرارت سوجی تھی اور رات والا اپنا بدلہ لینے کے لئے اسکو اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا تھا ۔۔۔۔۔

میں ہوں نہ میں بتا دیتا ہوں اپنا روم ۔۔۔۔ آجائیں میرے ساتھ ۔۔۔۔

زیب اسکی بات سن کر اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔۔

سیڑھیوں پر پہنچ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا پھر چونکتا ہوا پیچھے پلٹا تھا جبکہ اس کو اس طرح پلٹتے دیکھ وہ اپنی جگہ رکا تھا ۔۔۔۔

ارے آپ کیوں رک گئے ۔۔۔۔ میں تو بھول گیا مجھے بڑے تایا ابو نے پھول دیکھنے کو کہا تھا ۔۔۔۔ اوووو ۔۔۔۔۔

اسنے اداکاری کے جوہر دیکھاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔۔

تو تم مجھے بتا دو میں خود چلا جاؤں گا ۔۔۔۔

زیب نے اسکو دیکھتے ہوئے اسکا مسئلہ حل کیا تھا ۔۔۔۔

آااا ہااااا ں ں ۔۔۔۔ بلکل بلکہ یہ سامنے والا کمرا میرا ہے آپ چلے جائیں ۔۔۔ میں بس کام نمٹا کر آیا ۔۔۔۔

اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ اسکو لیزہ کے روم میں داخل ہوتے دیکھ کر اسکے منہ پر شیطانی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔۔۔

اب مزہ آئے گا بچوووووو ۔۔۔۔ یا تو تم گئیں آج یا پھر زیب بھائ ۔۔۔۔۔

اسکو کمینی سی خوشی محسوس ہوئی تھی۔ ۔۔۔

معاف کر دینا زیب بھائ ۔۔۔۔ وہ دروازے پر الودائ نظر ڈال کر باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔

میں نے سنا تھا جب ایک لڑکا لڑکی کے ساتھ اکیلا ہو تو لڑکیاں آئ مین پاکستانی گلز ڈرنے لگتی ہیں ۔۔۔۔ بٹ یو آر سو بریو ۔۔۔۔۔

زیب نے تعریفی انداز میں لیزہ کو دیکھا تھا ۔۔ ۔۔۔

جب کہ اسکی تعریف پر اسکا دماغ کھول گیا تھا ۔۔۔۔۔

ڈونٹ کروس یور لمٹ ۔۔۔۔۔ ہوتی ہوں گی وہ پاکستانی گلز جو تم جیسوں سے ڈرتی ہیں ۔۔۔۔ میری تو سینڈل بھی نہ ڈرے تم سے ۔۔۔۔۔

وہ اسکو انگلی دیکھاتے ہوۓ اپنی سینڈل تلاش کر رہی تھی جو پتا نہیں کہاں موجود تھی ۔۔۔ مطلب کام کے وقت کچھ سامنے نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ لعنت ہو تم پر لیزہ ۔۔۔۔۔ اسنے اپنے آپکو لتاڑا تھا۔ ۔۔۔۔

اسکی مخروطی انگلی جو زیب کی طرف اٹھی ہوئ تھی ۔۔۔

زیب نے وہی انگلی پکڑ کر ہلکا سا جھٹکا دیا تھا اگلے ہی لمحے وہ اسکے سینے سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔

سہی معنوں پر لیزہ کے ہاتھ پاؤں اب کپکپاۓ تھے جبکے زیب تو اسکی رنگت دیکھ رہا تھا جو لمحہ بہ لمحہ سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

“واللہ انکی سرخی جو دیکھی چہرے کی

مشرق سے نکلتے ہوئے سورج سا سماں لگتا ہے” ۔۔۔۔۔۔

زیب نے کسی احساس کے تحت اسے پیچھے کیا تھا جب کہ وہ سن رہ گئ تھی ۔۔۔۔ کسی کی ہمت نہیں ہوئ تھی آج تک لیزہ کی قریب آنے کی ہتہ کے چھونا ۔۔۔۔ یہ پہلی شکست تھی جو شاید اسکے نصیب میں آئ تھی ۔۔ آللہ جانتا تھا کہ یہ پہلی شکست اور کتنی شکستوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئ ردعمل دیتی دروازہ ایک بار پھر کھلا تھا اور آنےوالا کوئ اور نہیں ژالے تھی ۔۔۔۔۔ وہ جو ابھی اندر داخل ہوئی تھی جوش سے زیب بھائ کو یہاں دیکھ کر حیران رہ گئ ۔۔۔

بھائ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟ آپ تو فریش ہونے آۓ تھے نہ ۔۔۔ تو یہاں کیسے ۔۔۔۔ ؟؟؟

ژالے نے زیب کو دیکھ کر سوال کیے تھے ۔۔۔۔

اسکے سوال سن کر اس نے لیزہ کو دیکھا تھا جو حیران و پریشاں سی کھڑی تھی ۔۔۔۔

یار آئ تھنک میں مس گائیڈ ہو گیا ۔۔۔۔ باۓ مسٹیک اس روم میں آگیا ۔۔۔۔ زیب نے لیزہ کو دیکھتے ہوئے آنکھ دبا کر کہا تھا ۔۔۔۔ اسکا انداز دیکھ کر اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی ۔۔۔۔۔

زیب اسکو جلا بھنا سا دیکھ کر مسکراہٹ پاس کرتا ہوا کمرے سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

کون تھا یہ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

لیزہ جو ژالے کے بھائ لفظ پر اٹکی ہوئ تھی اسکے جاتے ہی پوچھنے لگی ۔۔۔

کیا ہو گیا لیزہ ۔۔۔ پہچانی نہیں ۔۔۔۔ زیب بھائ ہیں بھئ ۔۔۔۔۔ ہاں مجھے پتا ہے ہینڈسم ہو گیۓ ہیں لیکن پھر بھی مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ تم بھی اسٹیل ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔

ژالے نے اسکے سوال پر شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ جب کہ اسکی بات پر لیزہ نے افسوس سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔ اور پھر ٹائم کا خیال کرتے ہوئے اپنی بچی ہوئ تیاری کرنے لگ گئ ۔۔۔۔