Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 09)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 09)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
دسمبر کا اینڈ چل رہا تھا آسمانوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی عجیب گھٹا گھٹا سا موسم تھا کہنے والوں کا کہنا تھا کہ شاید بارش کے اثرات ہیں لیکن کچھ الگ تھا کچھ جیسے آسمان اور پرندوں کی آپس میں بن نہیں رہی ہو ۔۔۔۔
جیسے بادل چاہتے ہوں برسنا لیکن آسمان ایسا نہ چاہتا ہو اور اللّٰہ بھی آج آسمان کے ساتھ ہو ۔۔۔۔
ایسے میں آج منور ولا میں پھر گہما گہمی عروج پر تھی آج علیزہ کا ولیمہ تھا اور صبح ہی ان سب کی فلائٹ تھی جس پر سب اداس تھے اس گھر کی لڑکی جا رہی تھی رخصت ہو رہی تھی وہ لڑکی جس کی تیز آواز بھی آج تک کسی نے نہیں سنی تھی ، فرمانبردار ، ہر کام میں ماہر وہ لیزہ کا الٹ تھی ۔۔۔ علیزہ کا کوئ جوڑ نہیں تھا باقی کسی بھی لڑکیوں سے علیزہ علیزہ تھی ۔۔۔
باہر بسوں کا شور بتا رہا تھا کہ سب ریڈی ہیں لیزہ نے تیزی سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی سینڈل پہنی تھی ابھی وہ سیدھی ہوتی کہ سارہ اندر داخل ہوئی تھی ۔۔
لیزہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
بس میں ابھی آئ ۔۔۔ پرفیوم تو لگا لوں ۔۔۔۔
لیزہ نے اسکی آنکھوں کا مفہوم پڑھتے ہوئے خود ہی اسکو کہا تھا ۔۔۔
بڑا تیار ہوئ ہو آج خیریت ہے ۔۔۔۔
سارہ نے اسکا جائزہ لیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
میری بہن کا ولیمہ ہے میں تیار نہیں ہوں گی تو تم تیار ہو گی ۔۔۔۔
اسنے مصروف انداز میں جواب دیا تھا ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔ تمہارا رائٹ بنتا ہے ویسے مجھے انتظار ہے واپسی کا ۔۔۔۔ سی یو سون ۔۔۔۔
سارہ عجیب سے لہجے میں لیزہ کو کچھ جتاتی ہوئ چلی گئ تھی جبکہ وہ سوچ میں پڑ گئ تھی کہ ایسا کیا ہونے والا ہے لیکن اگلے ہی لمحے اسنے سر جھٹکا تھا کہ وہ ابھی لیٹ ہو رہی ہے ۔۔۔۔
پورا فنکشن بہت اچھے سے نبٹا تھا علیزہ اسکین کلر کے غرارے میں بہت حسین لگ رہی تھی اور کچھ رمیض کی محبت نے اسکے حسن میں چار چاند لگا دیئے تھے وہ عجیب سی شرمائ شرمائ گھبرائ گھبرائ سی سب سے مل رہی تھی ۔۔۔۔
اسکے ذہن و دل پر یہ بھی سوار تھا کہ آج وہ ہمیشہ کے لیے یہ گھر چھوڑ کر جارہی تھی جہاں اسکا بچپن گزرا تھا ۔۔۔ بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے یہ جو ہر لڑکی کو فیس کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔
بابا میں تیری گڑیا ، ٹکڑاہوں تیرے دل کا ،۔
دہلیز اونچی ہے یہ پار کرادے ۔۔
زیب کہا ہو آج نظر ہی نہیں آرہے ۔۔۔۔
لیزہ جو کب سے زیب کو ڈھونڈ رہی تھی اسے وہ چھت پر جاتا ہوا نظر آیا تھا وہ سب تھوڑی دیر پہلے ہی پہنچے تھے ولیمہ سے اور اب سب نیچے لان میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔
وہ جو ابھی ابھی چھت پر آیا تھا اپنے پیچھے لیزہ کی آواز سن کر بغیر مڑے ہی اسکا دل دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
ناراض ہو مجھ سے ۔۔۔۔ پھر کوئ غلطی ہوگئی ہے ۔۔۔۔
لیزہ نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھا تھا جس پر زیب نے ایک نظر دیکھ کر سیگریٹ جلا لی تھی ۔۔۔۔
اسے ایک دم گھبراہٹ ہوئ تھی اسکو دھوئیں سے الرجی تھی اور سیگریٹ کبھی پسند ہوتی ہے لڑکیوں کو ؟؟ لیکن کہتے ہیں نہ جب محبوب پسندیدہ ہو تو ہر بری چیز بھی اچھی لگنے لگتی ہے اگر وہ محبوب سے ریلیٹڈ ہو ۔۔۔
ایسی کوئ بات نہیں ہے ۔۔۔
زیب نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا اسکی بھاری آواز سن کر اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا یا یہ کہا جائے بے قابو ہو رہا تھا تو غلط نہ ہو گا ۔۔۔۔
اچھا خیر ۔۔۔۔۔ مجھے نہ تم سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟؟
لیزہ نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا تھا ۔۔۔۔
ہاں وہ آج بتا دینا چاہتی تھی کہ وہ کتنی محبت کرنے لگی تھی کیونکہ سارہ کی باتوں نے اسے ڈرا دیا تھا ۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔ سن رہا ہوں میں ۔۔۔۔
اسکی پھر سنجیدگی بھری آواز پر اسکا دل ایک لمحے کو چاہا تھا کہ نہ بولے لیکن دوسرے ہی لمحے دماغ کی سنتے ہوئے اسنے اپنے آپ کو تیار کیا تھا ۔۔۔۔
ہم کب تک ایسے ہی بات کرتے رہیں گے ۔۔۔ آئ مین اب مجھے لگتا ہے پھوپھو کو بتا دینا چاہیئے ہمیں ۔۔۔۔
لیزہ نے نظریں نیچی کر کے کہنا شروع کیا تھا ۔۔۔
زیب نے ٹھٹھک کر اس مغرور لڑکی کو دیکھا تھا اسکی پلکیں اس وقت اعتراف کرتے ہوئے لرز رہی تھیں اور یہ حسین منظر کس کو نہ بھائے گا اسکے دل نے اعتراف کیا تھا کہ وہ گندمی رنگت کی لڑکی واقعی حسین تھی اور اس پر اسکی آنکھیں غضب ڈھاتی تھیں اگر ارحم اسکے آگے پیچھے گھومتا تھا تو غلط بھی نہ تھا لیکن اگلے ہی لمحے مسکراہٹ جھپ دیکھا کر غائب ہوئ تھی لیکن وہ ۔۔۔۔ وہ بے وقوف لڑکی اسے پسند کرتی تھی بلکہ محبت کرتی تھی ۔۔۔۔ وہ اصل کو چھوڑ کر نقل کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔
اسکی خاموشی پر لیزہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا اسکی آنکھوں کا نظارہ قیامت تھا وہ خود ایک قیامت تھی یہ شاید اسے پتا نہیں تھا ۔۔۔۔
زیب میں کچھ کہہ رہی ہوں تمہیں ۔۔۔۔ کل تم لوگ چلے جاؤ گے تو پھر پتا نہیں کب واپسی ہو گی ۔۔۔۔
لیزہ نے چھت پر ہاتھ ٹکاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔
زیب نے اسکا انداز ملاحظہ کیا تھا جیسے اسے یقین ہو سامنے والا بھی اسے اتنا ہی چاہتا ہے جتنا وہ ۔۔۔۔
یہ سوچتے ہوئے زیب نے لیزہ کے دائیں بائیں ہاتھ رکھا تھا اور اسے مکمل قید میں لیا تھا جبکہ لیزہ سٹپٹا گئ تھی اس سے پہلے وہ کوئ ردعمل دیتی زیب اسکے کان کے پاس جھکا تھا ۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔
اسکی بات پر لیزہ نے پر یقین نظروں سے اسے دیکھا تھا
مجھے یقین ہے تم پر ۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے تمہاری آنکھوں پر جس میں صرف میرا عکس ہے مجھے یقین ہے اپنی محبت پر جو صرف اور صرف تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔
لیزہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مظبوط لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
یہ یقین جھوٹا بھی تو ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے میں تم سے مزاق کر رہا ہوں ہو سکتا ہے میں تمہارا غرور توڑنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ہو سکتا ہے مجھے تم میں کوئ انٹرسٹ ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔
لیزہ کے ٹھوس لہجے میں کہی بات نے اسے اندر تک بے چین کیا تھا اگلے ہی لمحے اس نے فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ ایک ایسا فیصلہ جو یقیناً سامنے کھڑی لڑکی کو توڑ دے گا ۔۔۔ اور وہ یہی تو چاہتا تھا ۔۔۔۔
زیب نے جواباً اس پر وار کیا تھاجس پر وہ بلبلا ہی تو اٹھی تھی ۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ تم مزاق کر رہے ہو نہ ۔۔۔۔
لیزہ نے اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
ایسا کیسے ہوسکتا تھا وہ اسکی عزت بچانا اس سے دوستی کرنا کسے سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر برداشت نہ کرنا اسکی تعریف کرنا ۔۔۔ نہیں یہ سب جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ لیزہ بہروز خان میں مزاق نہیں کر رہا میں تو آج بہت خوش ہوں تمہیں اس طرح دیکھ کر ۔۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا کہ رہی تھیں اس دن مجھ جیسے لڑکے ۔۔۔ ہاں مجھ جیسے لڑکے سے محبت ہوگئ ہے ۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ قہقہہ مار کر ہنسا تھا اور لیزہ کو لگا تھا کہ اسکے کان پھٹ جائیں گے وہ کیا پاگل ہو گیا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ لیزہ کسی غیر کو اپنےآس پاس برداشت نہیں کرتی وہ کیسے اس وقت سب برداشت کرتی جب وہ زیب کو جانتی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
میں تو تم جیسی لڑکی کو منہ لگانا پسند نہ کروں اور تم محبت کی بات کرتی ہو ۔ ۔۔ تم شاید بھول گئیں لیکن میں نے کہا تھا میں حسن پرست ہوں حسین چیزوں پر میرا حق ہے صرف لیکن ایک بات تو بتاؤ تم ۔۔۔۔۔ تم حسین کب ہو ۔۔۔ ؟؟؟؟
وہ بلکل سن کھڑی ہوئ تھی اسکے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ لیزہ نے اپنی پتھرائی آنکھیں اٹھا کر دیکھا تھا ۔۔۔۔
وہ اپنی جیت پر زیر خمار بیٹھا ہے ،۔
اسے خبر کرو وہ مجھے ہار بیٹھا ہے ۔۔
وہ ایک دم ہوش میں آکر اسکی طرف بڑھی تھی اسے اپنی سی کوشش کرنی تھی اسے پتا تھا وہ ابھی کہہ دے گا وہ مزاق کر رہا تھا وہ بڑی آس سے اسکی طرف بڑھی تھی ۔۔۔
اوکے اوکے ہو گیا مزاق ۔۔۔ اب تم میرے ساتھ چلو اور ابھی سب کو بتاؤ کہ ہم پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو ۔۔۔ یہ مزاق نہیں ہے میں ۔۔ میں سریس ہوں ۔۔۔۔
اب کہ لیزہ کے ضبط کے باوجود آنکھوں سے آنسو نکلے تھے ۔۔۔۔
تم پلیز سب کو بتاؤ نہ کہ ہم کیا چاہتے ہیں، وہ عجیب سے لہجے میں دنیا مافیہا سے بیگانا اپنی بات پر پرزور تھی۔
میں کچھ سمجھا نہیں ، ایک منٹ ۔۔۔۔۔ مطلب کیا کہنا چاہتی ہو تم ؟
اس نے ناسمجھی سے سامنے کھڑی لیزہ کو دیکھا تھا ۔
اسکا لہجہ اور انداز بدلہ تھا لیکن وہ پاگل لڑکی یہ نہیں سمجھی تھی ۔۔۔۔
وہ مغرور حسن کی دیوی اس وقت اپنی اہمیت بھولاۓ اسکے سامنے کھڑے کسی اور ہی دنیا کی واسی لگ رہی تھی۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سب اتنی جلدی ہو گا اس لیے وہ عجیب سا ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن نہیں اسے لیزہ کا اسے باتیں سنانا ۔۔ اسے گلٹ میں مبتلا رکھنا ۔۔۔ اسے اگنور کرنا سب یاد آیا تھا ۔۔۔
اور فیصلہ ہو گیا تھا اسنے دل کی نہیں دماغ کی سنی تھی ۔۔۔
ہاں ! وہ اس لڑکی کی اکڑ غرور توڑنا چاہتا تھا ، لیکن اب اسے اس حال میں دیکھ کر اسکی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی ، لیکن منزل کے اتنا قریب آنے کے بعد کون کافر راستہ بھٹکتا ہے۔۔۔
یہی کہ تم مجھے پسند کرتے ہو اور ۔۔۔۔۔۔۔
اسنے اسکی شکل دیکھی تھی اور کہنا شروع ہوئ تھی لیکن ابھی اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ اسکی بات پر اسے سرے سے جھٹکا لگا تھا وہ حیران ہوئ تھی
ہاں تو پسند تو تمہیں سب کرتے ہیں اس میں نئ یا بتانے والی بات کیا ہے ، اور پھر ہم اچھے دوست ہیں اور دوستوں کی تعریف کرتے رہنا چاہیئے ۔۔۔۔
اسکی بات کو کاٹ کر اسنے اس پر حیرتوں کا پہاڑ توڑا تھا۔۔۔
یہ کیا تماشا لگا یا ہوا ہے تم نے ، یہ کونسا وقت ہے ان باتوں کا ۔۔۔۔
نور بیگم جو کب سے یہ سب سن رہی تھیں اور سمجھنے کی کوشش کر رہیں تھی دونوں کے درمیان آکر اچانک بول اٹھیں ۔۔۔۔
وہ جو لیزہ کو بلوانے چھت پر آئی تھیں اپنی بیٹی کے منہ سے یہ سب سن کر انھیں حیرت کا جھٹکا لگا تھا جبکہ زیب پہلے ہی نور بیگم کو دیکھ چکا تھا اس لیۓ اسنے اپنا انداز بدلہ تھا ۔۔۔
جب کہ وہ سن کھڑی اب تک اسکی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی یا یہ کہا جاۓ تو زیادہ بہتر تھا کہ سمجھ کر انجام بن رہی تھی ۔۔۔۔
ماما ۔۔۔۔ ماما ۔۔۔۔ ہم ۔۔۔ ہم محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے ۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں تم بتا کیوں نہیں رہے ۔۔۔۔
لیزہ نے روتے ہوئے پہلے نور بیگم اور پھر زیب کی طرف مڑ کر کہا تھا جس پر اس نے لب بھینچ لئے تھے ۔۔۔۔
زیب ۔۔۔۔۔
لیزہ نے بہت مان سے اسے پکارا تھا اور اگلے ہی لمحے اسے زور سے تھپڑ پڑا تھا ۔۔۔۔ مارنے والی کوئ اور نہیں اسکی اپنی ماں تھیں ۔۔۔
وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ زیب انکے اتنے شدید ردعمل پر شدرد رہ گیا تھا ۔۔۔ وہ یہ تو نہیں چاہتا تھا کہ ممانی آئیں یہ تو صرف ان دونوں کا کھیل تھا ۔۔۔۔
تمہیں شرم آنی چاہیئے ۔۔۔۔ میں نے ایسی تربیت کی تھی تمہاری ۔۔۔ کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا مجھے تم نے ۔۔۔۔۔
نور بیگم نے روتے ہوئے اسے کہا تھا لیزہ نے اپنی ماں کو ایسے دیکھا تھا جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔
اسنے زخمی نظریں اٹھا کر پہلے اپنی ماں کو اور پھر خاموش کھڑے زیب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
بس ایک دفعہ بتا دو ۔۔۔ سب کا منہ بند ہو جائے گا ۔۔۔ تم تو میرے خلاف کچھ نہیں سنتے نہ تو یہ سب ۔۔۔۔
لیزہ نے زیب کے سامنے جاکر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھاجس پر وہ ڈگمگا یا تھا ۔۔۔
دیکھو لیزہ ۔۔۔۔ ہاں میں تمہیں پسند کرتا ہوں لیکن جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ کلئیر بات ہے بقول تمہارے میں حسن پرست ہوں تم یہ جانتی ہو پھر ان سب باتوں کا مقصد ۔۔۔ مجھے پتا ہوتا کہ تم یہ سمجھ رہی ہو تو میں اسی وقت روک دیتا تمہیں ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔
زیب نے سرد لہجے میں لیزہ کو اسکی اوقات بتائ تھی ۔۔۔۔ اور لیزہ وہ تو ایسی تھی کہ جیسے اسکے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو ۔۔۔۔
حسن والے جب ٹوڑتے ہیں دل کسی کا ،
بڑی سادگی سے کہتے ہیں مجبور تھے ہم ۔۔
لیزہ کاش تم پیدا ہوتے ہی مر جاتیں ۔۔۔۔ کس کس کو جواب دونگی میں ۔۔۔۔۔
نور بیگم نے روتے ہوئے لیزہ کوکہا تھا ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دیں ممانی میں ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا پتا نہیں یہ کب اس راستے پر نکل گئ ۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں پلیز ۔۔۔۔۔
زیب نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا جس پر انھوں نے کوئ جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔
