56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 25)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

آپریشن تھیٹر کے باہر موجود سب گھر والے زیب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے تھے اس بڑے سے ہاسپٹل میں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ڈاکٹر کیس ڈیل کرنے کے لیے تیار تھا اور اندر بہت سے ڈاکٹر موجود تھے جبکہ باہر لیزہ کرسی پر بیٹھی خشک آنکھوں سے آپریشن تھیٹر کے کمرے کے دروزے کو تکنے میں مصروف تھی ایک لمحے کے لیے بھی اس کی آنکھیں وہاں سے نہیں ہٹی تھیں کہ اگر اس نے اپنی نظریں کہیں اور کیں تو زیب اس سے روٹھ جائے گا ذہن کے پردوں پر خون میں لت پت اسکا چہرا بار بار اسے بے چین کر رہا تھا ۔۔۔۔

اسے اب اندازہ ہوا تھا وہ کل رات کیوں بے چین ہوئ تھی اور یہ سوچ آتے ہی وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور کھڑکی کے پاس جا کر اس پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکاۓ تھے جبکہ ژالے اس کی حالت کے پیشِ نظر اس کے پاس چلی آئ تھی کاندھے پر ہاتھوں کا بوجھ محسوس کر کے اس کی خشک آنکھیں کھلی تھیں اور ژالے کو دیکھ تھک کر اس نے دوبارہ گردن ٹکائ تھی ۔۔۔۔

تین گھنٹے کے صبر آزما وقت کے بعد دروازہ کھلا تھا جب کہ سب بھاگ کر باہر نکلتے ڈاکٹرز کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔۔

پیچھے کھڑی لیزہ نے ساکت ڈاکٹر کا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔۔

آپریشن کامیاب ہو گیا ہے لیکن اگلے 24 گھنٹے انکے لئے بہت ضروری ہیں بس آپ سب دعا کریں ۔۔۔۔

ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے لیکن انکے پیچھے کھڑے صمد نے ایک گہری سانس لے کر اپنے اوپر ٹکی سب کی نظروں کو محسوس کر کے بولنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔

آپریشن تو کامیاب ہو گیا ہے لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی صورت میں انکو ہوش میں آنا بہت ضروری ہے سر کی چوٹ خطرناک تھی ریکور میں ٹائم لگے گا لیکن ایک چیز جو ہم نے محسوس کی جیسے وہ ریکوور نہیں ہونا چاہتے خیر انشاء اللہ آپ سب پریشان مت ہوں وہ بہت جلد ہوش میں آجائیں گے بس آپ سب کی دعاؤوں کی ضرورت ہے انھیں ۔۔۔۔

اور ۔۔۔ اور تو کوئ مسئلہ نہیں ہے نہ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

رمیض آگے بڑھ کر صمد سے بولا تھا ۔۔۔

ہمممم ۔۔۔۔۔ دونوں ٹانگیں فریکچر ہیں انھیں تقریباً چلنے پھرنے میں چار مہینے لگ جائیں گے لیکن یہ بھی ان پر منحصر ہے کہ وہ کتنا ٹائم لیتے ہیں ۔۔۔۔

صمد کی بات پر سب کے چہروں پر دوبارہ اداسی چھا گئ تھی جبکہ صمد رمیض کے کاندھے پر تھپکی دے کر لیزہ کے پاس رکا تھا جو ابھی بھی صمد کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں درد تکلیف خالی پن دیکھ کر صمد کے دل میں چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا وہ اپنی ٹوٹی کر چیوں کو سمیٹ لیزہ کے گال پر تین انگلیاں مس کرے آگے بڑھ گیا تھا جبکہ اسکے آگے کھڑی ژالے نے تکلیف سے جاتے صمد کی پشت دیکھی تھی آنسوؤں کی بوندیں قطار بناتے ہوئے آنکھوں سے نکلی تھیں ۔۔۔۔

لیزہ چلتی ہوئ کمرے کے باہر پہنچی تھی اور پھر دروزہ کھولتے ہوئے اندر چلی گئ تھی پیچھے سب نے اسے اداسی سے دیکھا تھا ۔۔۔

اندر داخل ہوئے اس نے سامنے پڑے بے جان وجود کو دیکھا تھا جو سانسیں تو لے رہا تھا لیکن ہوش سے بیگانہ تھا ۔۔۔ اسکو اندر آتے دیکھ ایک ایک کر کے سب باہر نکل گئے تھے بس ایک نرس وہاں رک گئی تھی جبکہ لیزہ کو تو ہوش ہی نہیں تھا کسی کا بھی ۔۔۔

سست قدموں سے وہ زیب کے بیڈ کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔

مجھے پسند نہیں ہے کوئ تمہیں دیکھے ۔۔۔۔۔

کہیں بہت دور سے اس کی آواز لیزہ کے کانوں میں گونجی تھی ۔۔۔۔

میں نے کبھی تمہیں نہیں کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔

مجھے پتا ہوتا کہ تم ایسا سوچ رہی ہو تو میں پہلے ہی سب روک دیتا ۔۔۔۔

ہم تو دوست تھے نہ اچھے ۔۔۔۔۔ اچھی تو تم سب کو لگتی ہو ۔۔۔۔

لیزہ مت کرو میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔

میں مر جاؤں گا ۔۔۔۔

بہت محبت کی ہے میں نے تم سے ۔۔۔۔

میں مر جاؤں گا ۔۔۔۔

مختلف آوازوں نے اسکےکانوں میں دستک دی تھی جس پر اس نے آنکھیں سختی سے بند کر کے دوبارہ کھولی تھیں اور اب نظریں سیدھی اپنے بلکل سامنے لیٹے زیب پر گئی تھیں ۔۔۔

اس نے سامنے لیٹے بے جان وجود کو دیکھا تھا جس کا چہرہ اس وقت پیلا زرد ہو رہا تھا سر پر بندھی پٹی منہ پر خراشیں گردن پر خراشیں جسم پر ٹانکیں اور ٹانگوں کو پلستر سے باندھے بلکل سیدھا باندھا ہوا تھا اسکی حالت دیکھ دل میں تکلیف سی اٹھی تھی ۔۔۔۔

مبارک ہو ۔۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو مسٹر زیب مغل ۔۔۔۔۔ اٹھو اور جشن مناؤ ۔۔۔ جشن مناؤ کہ تم ایک بار پھر جیت گئے ۔۔۔۔ جشن مناؤ کہ ایک بار پھر تم نے لیزہ بہروز خان ۔۔۔۔۔

وہ بولتے بولتے ایک دم رکی تھی اور پھر طنزیہ ہنستی ہوئ اپنی بات کی نفی کی تھی ۔۔۔۔

نہیں ڈاکٹر لیزہ خان کو شکست دی ہے اب کہ تم نے ۔۔۔ جشن تو بنتا ہے لیکن اٹھو تو پہلے تم جشن مناؤ پھر میری باری ہے کیونکہ پھر تمہیں میرے ہاتھوں میں لگی مہندی بھی تو دیکھنی ہے جو کسی اور کے نام کی ہو گی ۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں میرا نکاح دیکھنا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ میں کسی اور کی سیج سجاؤں گی ۔۔۔۔

ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے اتنی جلدی تم کیسے جا سکتے ہو ہمت کرو اٹھو اور جشن مناؤ کیونکہ تم نے ایک بار پھر مری ہوئ لیزہ بہروز خان کو زندہ کیا ہے انعام تو بنتا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔

ضبط کے باوجود بھی ایک آنسو ٹوٹ کر پلکوں پر ٹہرا تھا جس کو اس نے سختی سے صاف کیا تھا جبکہ مصنوعی سانس لینے کے لیے لگی آکسیجن مشین ایک دم سائرن دینا شروع ہوئ تھی ۔۔۔

نرس نے چونک کر مشین دیکھی تھی اور پھر ساکت پڑے مریض کو دیکھا تھا اور پھر اسکی نظریں لیزہ پر گئی تھیں جس کے وجود میں ہل چل نہیں ہوئ تھی وہ ابھی بھی دم سادھے زیب کو دیکھ رہی تھی اور پھر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئ تھی پیچھے مشین ایک بار پھر ساکت ہوئ تھی اور نارمل ہارٹ بیٹ شو کرنا شروع ہوگئی تھی ۔۔۔

میں گھر جا رہی ہوں تھک گئ ہوں اور نہیں رک سکتی میں یہاں ۔۔۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔

باہر نکل کر کسی کی بھی طرف دیکھے بغیر اپنی بات کہتے ہوئے وہ ہاسپٹل سے باہر نکلتی چلی گئ تھی جب کہ پیچھے موجود تمام گھر والے حیران ہو کر لیزہ کو جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے اور کمرے کے اندر موجود نرس بھی حیرت کا پہاڑ بنی کھڑی تھی ۔۔۔

چاد دن پر لگا کر اڑے تھے گھر کے لوگ ہاسپٹل اور وہاں سے گھر ۔۔۔ بہت ٹف روٹین کے بعد زیب کی حالت قدرے بہتر تھی لیزہ تو دوسرے دن ہی ایک صحرائی علاقے میں کیمپ کے سلسلے میں نکل گئ تھی وہ جانتی تھی کہ اگر وہ یہاں رکتی تو اس سے ہزار قسم کے سوال ہوتے جو وہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھیں ۔۔۔ موبائل آف کئے وہ دنیا سے کٹ گئ تھی جبکہ اسکا دل بھی وہاں موجود بیمار اور غریب لوگوں میں لگ گیا تھا ۔۔۔۔

زیب کو ہوش اسی رات آگیا تھا اور یہ بات لیزہ کو بھی پتا چل گئ تھی لیکن وہ حادثے والے دن کے بعد سے ہاسپٹل نہیں گئ تھی وہ ڈاکٹرز نے اسے بھی کیمپ پر چلنے کے لیے کہا تو وہ انکار نہ کر سکی اور آج اس کی وہاں سے واپسی ہوئ تھی اور آج رات ہی اس کی نائٹ شفٹ تھی تھکی تھکی سی وہ ہاسپٹل جانے کی تیاری کر کے بغیر کسی سے ملے نکل گئ تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر روم نمبر 706 کے پیشینٹ کافی تنگ کر رہے ہیں میڈیسن نہیں لے رہے اور انکا کہنا ہے انہیں ابھی گھر جانا ہے ۔۔۔۔

ابھی وہ راؤنڈ لے کر کرسی پر ٹک کر بیٹھی تھی جب ایک نرس نے آکر تھکی ہوئی آواز میں کہا تھا جس پر وہ کھڑی ہوگئی تھی ۔۔۔۔

راہداری سے گزرتے ہوئے وہ نرس کے ساتھ روم نمبر706 میں داخل کوئ تھی اور بیڈ پر نظر پڑتے ہی اسکے قدم سست ہوئے تھے ۔۔۔

وہ تو بچ رہی تھی اسکے کمرےمیں آنے سے جبھی تو روم نمبر بھی نہیں معلوم کیا تھا تو قسمت اسے ایسے لے آئ تھی یہاں ۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر زیب نے بیزاری سے گردن گھماکر دیکھا تھا اور لیزہ کو کھڑے دیکھ اسکے چہرے سے بیزاری چھو کر کے بھاگی تھی ۔۔۔۔

دیدارِ یار ہوگا لیکن اس کے بعد۔

ہمارا کچھ نہ ہو گا ۔۔۔

اعصاب کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے وہ چلتی ہوئ زیب کی ٹیبل کی طرف آئ تھی اور اسکی فائلز اٹھائ تھی جبکہ زیب کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔۔

کیا پروگریس ہے پیشینٹ کی ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

فائلز پڑھتے ہوئے اس نے نرس سے پوچھا تھا جو گڑبڑا کر لیزہ کو دیکھنے لگی تھی اسکو جواب نہ دیتے دیکھ لیزہ نے فائل سے نظریں اٹھا کر نرس کو دیکھا تھا اور نرس کی نظریں زیب پر دیکھ اسکا خون کھولا تھا کیوں وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔

لیزہ نے گھور کر پہلے نرس اور پھر زیب کو دیکھا تھا جس کی آنکھیں اسے ہی دیکھنے میں مگن تھیں ۔۔۔ زیب کی نظریں خود پر جمی دیکھ لیزہ نے نرس کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔

نرس ۔۔۔۔ انکی جتنی بھی میڈیسن چینج ہوئ ہیں آپ وہ سب مجھے لا کر دکھائیں ابھی۔۔۔ گو فاسٹ ۔۔۔۔

نرس اسکی تیز آواز پر گڑبڑا کر باہر نکلی تھی جبکہ لیزہ کا منہ غصے سے لال کو گیا تھا ۔۔۔۔

کیوں پریشان کیا ہوا ہے اپنے سب کو ؟؟؟ یہ ہاسپٹل ہے ریسٹورینٹ نہیں جہاں آپکی مرضی چلتی رہے ۔۔۔۔

فائلز پر نظریں کئے وہ غصے سے بولی تھی ۔۔۔

جس پر زیب کر چہرے پر ہنسی آئ تھی ۔۔۔

ریسٹورینٹ کے بجائے کسی کا دل کہتی تو زیادہ اچھا لگتا ۔۔۔۔

ہنستے لہجے میں آگے سے جواب سن کر لیزہ کی آنکھیں اٹھی تھیں ۔۔۔۔

ہمیں کوئ شوق نہیں ہے کسی پیشینٹ کو رکھنے کا آپ ریکوور کر لیں جلد از جلد ہم آپ کو ڈسچارج کر دیں گے ۔۔۔۔

لیزہ نے اسکی بات کا الٹا جواب دیا تھا جس پر زیب کی مسکراہٹ گہری ہوئ تھی ۔۔۔۔

اگر آپ اپنے ان ہاتھوں سے میڈیسن کھلا دیں تو ہو سکتا ہے میں جلدی صحتیاب ہو جاؤں کیونکہ سنا ہے آپکے ہاتھوں میں کافی شفا ہے ۔۔۔۔

آہستہ لیکن گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے اس نے لیزہ کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

نرس بھیج رہی ہوں میڈیسن لیں اور خود بھی سکون میں رہیں اور مجھے بھی رہنے دیں ۔۔۔۔

اپنی بولتی ہوئ اس نے جانےکے لئےقدم بڑھائے تھے وہ یہاں ذیادہ دیر نہیں رک سکتی تھی ۔۔۔۔

کافی سالوں سے بیمار ہوں اور اس بیماری کی دوا بھی تمہارے پاس ہے اگر تم دے دو یہ دوا تو ۔۔۔۔ ورنہ شاید اب کے میں نے مر جانا ہے ۔۔۔۔

تو مر جاؤ لیکن اب میری دوا آپکے کسی کام کی نہیں ہے ۔۔۔

زیب کی آواز پر لیزہ کے چلتے قدم تھمے تھے اور بغیر مڑے ہی اس نے زیب کو جواب دیا تھا

اب مر نااتنا آسان نہیں ہے ابھی تو تمہارے ہاتھوں میں مہندی دیکھنی ہے تمہارا نکاح دیکھنا ہے تمہاری سجی ہوئ سیج دیکھنی ہے اب یہ مرنا ناممکن ہے ۔۔۔۔

جبکہ جیسے جیسے زیب کے الفاظ لیزہ کے کانوں میں پڑ رہے تھے اسکے ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضح محسوس ہورہی تھی پسینے کے ننھے ننھے قطرے اسکے ماتھے پر چمکے تھے ۔۔۔

اپنی حالت پر نالا وہ بغیر کچھ کہے تیزی سے کمرے سے نکل گئ تھی اپنی حالت سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھی ۔۔۔ دل بے ہنگم دھڑک رہا تھا کہ سنبھالنا مشکل تھا زیب کا لہجہ زیادہ مشکوک تھا یا الفاظ ؟؟؟ اور یہ بات سمجھنا فلحال اسکے لئے ناممکن تھا ۔۔۔۔

اپنے روم میں آکر دھم سے کرسی پر گرتے ہوئے اس نے کمرے میں اے ۔ سی کی کولنگ بڑھائ تھی لیکن حالت سنبھلنے میں پھر بھی کافی وقت لگا تھا ۔۔۔۔۔