Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 08)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 08)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
ایک بات پہ عورت کی میں عورت سے ہوں نالاں
عورت کبھی عورت سے رعایت نہیں کرتی ۔۔
کیا بات ہے ؟؟؟ بہت خوش دکھ رہی ہو ۔۔۔ ؟؟؟؟
ثمن بیگم نے اپنی بیٹی کو دل کھول کر تیار ہوتے دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔۔۔
بس ماما میں آج بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ بات ہی ایسی ہے ۔۔۔
سارہ نے چہک کر برش گالوں پر پھیرا تھا۔ ۔۔۔
ایسی بھی کیا بات ہے جو میری بیٹی اتنا خوش ہے ۔؟؟
ثمن بیگم کے سوال پر اسنے مڑ کر ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔
اگر آپکو میں بتا دوں تو آپ سے ذیادہ خوش کوئ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ یو نو آپکی جان چھوٹ جائے گی ایک ہی وار سے ۔۔۔۔۔
سارہ نے سنسنی پھیلاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
بول بھی چکو ۔۔۔۔ جب سے یہاں آئ ہوں خوشی کی خبر نصیب نہیں ہوئی مجھے ۔۔۔۔
انھوں نے نخوت سے کہا تھا ۔۔۔۔
ماما ۔۔۔ ماما ۔۔۔ ہماری سب سے بڑی رکاوٹ ہٹنے والی ہے ۔۔۔۔
سارہ یہ کہ کر سب کچھ دھیرے دھیرے ثمن بیگم کو بتانا شروع ہوئ تھی اور جیسے جیسے وہ بتاتی جا رہی تھی انکا منہ حیرت سے کھلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
آۓ ہاۓ یہ سب ہو رہا تھا اور میں سمجھی ۔۔۔۔۔ اب آۓ گا مزہ بڑی اکڑ تھی بھئ ۔۔۔۔ اب کیا ایک جھٹکے میں ختم ہو گی ۔۔۔۔۔
ثمن بیگم نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
اس سے یہ ہوگا کہ آپکا راستہ بھی صاف اور زیب بھی میرا ۔۔۔ جسے میں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔۔
سارہ کی بات پر ثمن بیگم نے فوراً ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
سب نیچے پورچ میں جمع تھے کیونکہ علیزہ اور رمیض بس پہنچنے والے تھے ۔۔۔۔ لیزہ کے ننہیال ددھیال والے سب اس وقت وہاں جمع تھے ایسے میں لیزہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جلدی پہنچ جائے بہت یاد آرہی تھی اسے اپنی بہن کی ۔۔۔۔ سب نے اسکی بےچینی محسوس کی تھی ۔۔۔
آجائیں گے ۔۔۔ اپنے آپ کو ہلکان کیوں کر رہی ہو ۔۔۔
ارحم جو پتا نہیں کب اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا تھا اسکی آواز قریب سے سنائ دی تھی ۔۔۔
اس نے ڈر کر دل پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
ڈرا دیا اپنے مجھے ۔۔
لیزہ کے ایسے کہنے پر وہ مسکرا دیا تھا ۔۔۔
ویسے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
ارحم اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ جواب دیتی ۔۔۔ زیب کی آواز پر وہ دونوں پیچھے مڑے تھے ۔۔۔۔
لیکن اس سے تمہیں کوئ مطلب نہیں ہونا چاہیئے ۔۔۔۔
سوری۔۔۔ میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔ تم بھی تو تعریف کرتے ہو اسکی ۔۔۔ میں بھی کر سکتا ہوں ۔۔۔۔
ارحم نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
مجھ میں تم میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔۔ ضروری نہیں جسکی میں تعریف کروں اسکی تم یا کوئ اور کرے ۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہے ۔۔۔۔
زیب یہ کہتا ہوا لیزہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔
یہ نیا نہیں ہے بھائ ۔۔۔ یہ تو سب جاننے لگے ہیں کہ ان دونوں کا چکر ہے اور سب سے ذیادہ لیزہ پر حیرت ہے مجھے ۔۔۔ کیسے کسی کہ ساتھ گھوم سکتی ہے ۔۔۔۔
وہ جو ابھی انکے پیچھے جانے کا ارادہ رکھتا تھا سارہ کی آواز پر اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے وہ ایسی نہیں ہے ۔۔۔
ارحم نے اسکا کمزور سا دفاع کیا تھا ۔۔۔
افسوس آپ کی سوچ پر ۔۔۔۔ وہ ایسی ہی ہے ۔۔۔۔ وہ ایسی ہو گئ ہے ۔۔۔۔ لازمی سی بات ہے زیب جیسے لڑکے کو کون لڑکی اگنور کرے گی ۔۔۔۔
سارہ نے اسکے زخموں پر نمک چھڑکا تھا ۔۔۔
جس پر وہ واقعی بلبلا اٹھا تھا لیکن سارہ کو صرف اپنی فکر تھی جو مسلسل لیزہ کی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
گاڑیوں کے شور کے ساتھ ہی لوگوں کا شور مل گیا تھا ایسے میں سارہ کی آوازیں دب گئ تھی لیکن اسکے دل میں سناٹا چھا گیا تھا ۔۔۔۔ کب سے پتا نہیں کب سے چاہتا تھا وہ لیزہ کو ۔۔۔
شاید تب سے جب اسے محبت کا مطلب بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔ دل و دماغ خالی ہو گیا تھا بلکل ۔۔۔
علیزہ کو رمیض کے ساتھ گھر میں لایا گیا تھا پھر سب سے پہلے انکی دودھ پلائ کی رسم ہوئ تھی جس میں لیزہ نے خوب مال بٹورا تھا ۔۔۔ پھر منہ دیکھائی ہوئ تھی ۔۔۔۔ اور پھر شاندار سا ڈنر ہوا تھا آخر میں سب کو بتایا گیا تھا کہ کل ولیمہ ہے اور پھوپھو لوگ پرسوں صبح نکل جائیں گے واپسی کے لئے ۔۔۔
لیزہ کو جب یہ پتا چلا تو اسکا دل ایک دم سے خالی ہو گیا ابھی تو اسے کچھ محسوس ہونے لگا تھا اتنی جلدی ۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔۔
اسنے زیب کو دیکھا تھا جو رمیض کے ساتھ بیٹھا مسلسل کچھ کہہ رہا تھا اور پھر زور زور سے قہقہے پڑ رہے تھے ۔۔۔۔
علیزہ جو کافی دیر سے لیزہ کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی اسکے کچن میں جاتے ہی خود بھی اسکے پیچھے گئ تھی ۔۔۔
کیا بات ہے لیزہ ۔۔۔ ؟؟؟ بہت خاموش ہو ۔۔۔ کوئ مسلئہ ہے اپنی بہن سے شئیر نہیں کرو گی ۔۔۔
علیزہ کے اتنے پیار سے پوچھنے پر اسے رونا آیا تھااور وہ علیزہ کے گلے لگ گئ تھی۔
سب ٹھیک ہے نہ لیزہ ۔۔۔
وہ اسے ایسے روتے دیکھ کر گھبرا گئ تھی ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں آپی ۔۔ بس آپکو دیکھ کر دل بھر آیا ۔۔۔۔
لیزہ کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے ٹالتے ہوئے کہا ۔۔۔ جس پر علیزہ نے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
آر یو شیور ؟؟؟؟
اسنے اسے دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر کچھ کھوجا تھا ۔۔۔
جی ۔۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ آپ پلیز پریشان نہ ہوں ۔۔۔ اچھا ایک بات تو بتانا بھول گئ ۔۔۔۔ میں نہ پاس ہوگئ ہوں ۔۔۔۔۔
لیزہ نے کچھ یاد آنے پر سر پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے خوشخبری سنائی تھی ۔۔۔ جس پر علیزہ بھی بہت خوش ہوئ تھی ۔۔۔۔
ارےےےے ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو گیا ۔۔۔۔ یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہے۔ ۔۔۔ ٹریٹ دو چلوو ۔۔۔۔
اسنے شرارت سے کہا تھا ۔۔۔۔
ہاں بلکل بلکل ۔۔۔۔ آج رات ہی ۔۔۔۔
اسنے بڑے دل سےکہا تھا جس پر دونوں ہنسنے لگ گئی تھیں۔ ۔۔۔
سب بچہ پارٹی اس وقت لیزہ کے کمرے میں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے سب کے سامنے ایک بڑا ڈبہ اور کولڈرنک کا کین آگے رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔
کچھ بیڈ پر ، کچھ نیچے اور کچھ صوفوں پر براجمان تھے بیڈ کے بیچ میں تین پیزا کے ڈبے کھلے رکھے تھے ۔۔۔ جی بلکل ۔۔۔ آج لیزہ کو لوٹا گیا تھا اور وہ دوسروں کے پیسے خرچ کرتی تھی آج اپنے ہوتے دیکھ اسکا منہ پھولا ہوا تھا ۔۔۔۔
ویسے لیزہ ۔۔۔۔۔ کتنے پیسے کھلاۓ اپنے سر کو جو انھوں اب کے کلئیر کر دیا تمہیں ۔۔۔
لیزہ جو ابھی ابھی آرام دہ کپڑے بدل کر نکلی تھی ۔۔۔ ریان کی بات پر اس نے دانت پیسے تھے ۔۔۔
تم جیسے سڑے ہوۓ منہ والے سے ایسے ہی سوال کی توقع تھی ۔۔۔۔
لیزہ نے جل کر کہا تھا ۔۔۔ جس پر ریان کا قہقہہ لگا تھا ۔۔۔
اس منہ پر لڑکیاں مرتی ہیں ۔۔۔۔ تمہیں کیا پتا ۔۔۔۔
ریان نے ہنستے ہوئے اسکا لال منہ دیکھا تھا ۔۔۔۔
اندھی ہوتی ہیں جبھی مرتی ہیں ۔۔۔۔
لیزہ نے پٹاخ سے جواب دیا تھا جس پر ساتھ بیٹھی اریبہ ہنسی تھی ۔۔۔
اریبہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کر ریان نے اسے ایسے دیکھا تھا کہ اب بچ کر دیکھاؤ ۔۔۔۔ اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی ۔۔۔۔
تو تھوڑا تم کیوں اندھی نہیں ہو جاتیں ۔۔۔۔ قسم سے چھوٹی ہو مجھ سے ۔۔۔۔
ریان نے آنکھ دبا کر اسکو کہا تھا جس پر اسکا منہ کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔
کیا کیا کیا ۔۔۔۔ بکواس کی ۔۔۔۔ شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔۔۔ سڑے ہوۓ پھیکے کدو ۔۔۔۔
لیزہ کا ریئکشن دیکھ کر سب کے قہقہے نکلے تھے ۔۔۔۔
جب کہ اسکا منہ رونے والا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
اچھا بس بہت ہو گیا ۔۔ فلم لگاؤ کوئ ایسے مزا نہیں آرہا ۔۔۔۔
ژالے نے بیچ میں ٹوکتے ہوۓ سب کو کہا تھا ۔۔۔۔ یہ سنتے ہی ریان اور زیان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا تھا ۔۔۔
ٹائٹینک ۔۔۔۔۔۔
جس پر لیزہ نے کڑوا منہ بنایا تھا ۔۔۔۔
کوئ ایسی مووی لگاؤ جس میں ہمیں ریموٹ کا استعمال نہ کرنا پڑے ۔۔۔۔
لیزہ کے جملے پر سب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور پھر علیزہ نے لیزہ کو گھورا تھا جس پر وہ گڑبڑا گئ تھی ۔۔۔۔۔
ہاں تم تو شاہرخ خان یا سلمان خان کی ہی کہو گی ۔۔۔ اور نام ہی کہاں آتے ہیں تمہیں ۔۔۔۔
ریان نے جل کر کہا تھا ۔۔۔۔
ہاں ایسا کرتے ہیں جب تک ہے جاں دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
لیزہ نے جوش سے کہا تھا ۔۔۔۔
ارےےےے ہاں ۔۔۔ اور ریموٹ ہم سامنے رکھ دیں گے تاکہ ہر دفعہ لیزہ اٹھے گی ۔۔۔ آخر کو بہت اچھی فلم ہے ۔۔۔۔
ریان نے طنزیہ کہا تھا جس پر وہ شرمندہ ہوئ تھی ۔۔۔۔
وہ لوگ ابھی اور لڑتے جب زیب اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
بھائ آپ بتائیں کونسی مووی لگائیں ۔۔۔۔۔
زیان نے زیب کو بیچ میں دکھیلا تھا ۔۔۔۔
اسنے سب کو دیکھا تھا پھر ایک جملے پر بات ختم کر دی تھی ۔۔۔
جو لیزہ کہے گی وہ ہی لگا دو ۔۔۔۔
اس پر لیزہ کی گردن اکڑی تھی اور باقی سب ہونکوں کی طرح دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
آخر میں کافی سوچ بچار کے بعد فلم ٹائیٹینک ڈن ہوئ تھی اور جیسے جیسے فلم آگے بڑھ رہی تھی ایک ایک کر کے سب کمرے سے بھاگ گئے تھے اور لیزہ کا ہنس ہنس کر پیٹ میں درد ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
اب منظر یہ تھا کہ کمرے میں صرف دو نفوس رہ گئے تھے ایک لیزہ اور زیب ۔۔۔
اسنے ہنستے ہوئے کمرا سمیٹنے شروع کیا تھا جب اسکو اپنے اوپر کسی کی نگاہیں محسوس ہوئی تھیں۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔
اسکو اپنی طرف دیکھتے پا کر لیزہ نے اس نے پوچھا تھا ۔۔۔
مشرقی حسن دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔
زیب نے آہستہ سے کہا تھا ۔۔۔۔ لیزہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں رکھی تھی برکتیں رب نے ،۔
اس حسین شخص سے واجب تھا محبت کرنا ۔۔۔۔۔
زیب قدم قدم چلتا ہوا اسکی طرف آیا تھا ۔۔اسکو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر لیزہ نے آنکھیں اٹھائی تھیں جس پر زیب نے قریب رکتے ہوۓ بڑے دلفریب انداز سے شعر پڑھا تھا ۔۔۔
اسکی شاعری سن کر لیزہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا گندمی رنگت میں سرخی گھلتی دیکھ کر زیب کے چہرے پر ہنسی آئ تھی ۔۔۔۔
زیب نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور اسکے بالوں سے نکلتی لٹ کو اپنی انگلی میں لپیٹا تھا اسکے اس عمل پر لیزہ کا خون خشک ہوا تھا ۔۔۔۔
حسن والوں نے جب بھی کی ہے
ہمیشہ بے وفائی کی ہے ۔۔
وہ دو قدم پیچھے ہو کر اپنے اور اسکے بیچ فاصلہ قائم کر گئی تھی۔۔۔۔
کب تک بڑھاؤ گی یہ فاصلے آنا تمہیں میری طرف ہی ہے ۔۔۔۔
زیب نے اسکے کان کی طرف جھکتے ہوۓ آہستہ سے کہا تھا ۔۔۔۔
زیب پلیز ۔۔۔۔۔
اسکی بات سن کر لیزہ کے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے صرف یہی ادا ہو سکا تھا ۔۔۔۔
اسکی حالت کے پیشِ نظر زیب دور ہٹا تھا اور آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ لیزہ اب تک سن کھڑی تھی ۔۔۔
محبت میں جب دونوں فریق شامل ہوں تو لگتا ہے جیسے ہواؤں میں اڑ رہے ہیں اور لیزہ کے پیر زمیں پر ہی تو نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔
اس نے خوشی سے جھوم کر گہری گہری سانس لی تھی اور پھر سامان سمیٹنے لگی تھی لیکن ہونٹوں پر مسکان جوں کی توں تھی ۔۔۔۔
کاش کوئ اسے بتاۓ وہ غلطی پر ہے ،۔
کاش کوئ اسے بتاۓ کہ وہ غلط انسان سے محبت کر بیٹھی ہے ۔۔۔۔
