Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 14)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 14)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
مئ کی شروعات اور شدید چلچلاتی ہوئ دھوپ نے اچھے اچھوں کا حال خراب کر دیا تھا ہر کوئ اس گرمی سے پریشان رزق حلال کمانے کے لیے اپنے اپنے گھروں سے نکلے ہوئے تھے سورج اپنے جوبن میں تھا شربت اور گنے کے شربت پر لوگوں کا کافی رش دیکھائی دے رہا تھا آتے جاتے لوگ کچھ ہنستے ہوئے بے فکری سے اور کوئ گرمی سے نڈھال ایسے میں ایک لیزہ خان تھی جو خاموشی سے روڈ پر چلتی جا رہی تھی آج اسکا ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد وہ کافی دیر تک ڈرائیور کا انتظار کرتی رہی لیکن شاید انتظار لاحاصل تھا وہ یہی سو چتے ہوئے وہ پیدل چلتی ہوئی کافی آگے نکل آئ تھی سوچا تھا آگے سے ٹیکسی لے لےگی پر وہ سوچوں میں گم لوگوں کے بیچ سے گزرتی ہوئی اب اپنی اسٹریٹ میں داخل ہوگئ تھی ۔۔۔۔
گرمی سے گندمی رنگت سرخی مائل ہورہی تھی ماتھے اور گردن پر پسینے کے قطرے اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس گرمی میں کبھی پیدل نہ چلی تھی ۔۔۔۔ چلتے چلتے اس نے آس پاس نظریں دوڑائی تھیں اور پھر اپنے آپ پر افسوس کیا تھا اس نے ابھی وہ اپنے بارے میں کوئ غلط راۓ قائم کرتی جب ایک گاڑی تیزی سے اس کے برابر سے گزری تھی اور روڈ پر پڑی تھوڑی سی کیچڑ کو اچھالتی ہوئ وہ لیزہ کے کپڑے خراب کر چکی تھی ۔۔۔۔
اہہہہہہہ ہاں ں ں ں ں ۔۔۔۔۔
اس نے اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ آگے کیا تھا ہاتھ پر پڑتے چھینٹوں نے اسے ہوش کی دنیا میں پٹخا تھا اسکی بلا ارادہ نظر اپنے کپڑوں پر گئ تھی اور اگلے ہی لمحے وہ صدمے میں چلے گئ تھی اسکے پورے ڈریس پر آگے کی طرف کیچڑ کے چھینٹوں نے اپنا نقش و نگار بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ گاڑی کافی آگے جاکر جھٹکے سے رکی تھی ۔۔۔ وہ ہونکوں کی طرح دم سادھے کھڑی تھی دوسری طرف گاڑی میں سے تیزی سے بلیک شرٹ اور براؤن پینٹ پہنے آنکھوں پر براؤن گلاسس لگائے ایک بلا کا ہینڈسم نوجوان نکلا تھا اور اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔
اوووہ گاڈڈڈڈڈ ۔۔۔۔۔۔۔ آئ ایم رئیلی سوری ۔۔۔۔ رئیلی سوری ۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا یہاں کیچڑ ہے ورنہ میں دھیان سے چلاتا ۔۔۔۔۔
جبکہ اس شخص کے بولنے کی وجہ سے لیزہ ہوش کی دنیا میں آئ تھی
ہوووو ۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ میرا ڈریس ۔۔۔۔۔۔
صدمے سے اسکی گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی اور اسی کے ساتھ شدید غصہ اسکی طبیعت پر سوار ہوا تھا ۔۔۔۔
یہ کیا کیا آ پ نے ۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں کیا کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
لیزہ کی چیخ نما آواز نمودار ہوئئ تھی جس پر وہ ایک دم سے گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔۔
دیکھیے میڈم ۔۔ میں معزرت خواہ ہوں لیکن غلطی آپکی ہے آپ ۔۔ ۔۔
اس شخص نے رسانیت سے اس سے کہنا چاہا تھا لیکن قسمت خراب تھی جو لیزہ کے سامنے ہی اسکی غلطی بتا دی ۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔۔ میری غلطی ہے ایک تو آپ نے میرا ڈریس خراب کر دیا اوپر سے میری غلطی ہے ۔۔۔۔ خود تو اتنی بڑی گاڑی میں گھوم رہے ہیں اور دوسروں کا خیال ہی نہیں ہے آپ جیسے لڑکوں کو۔۔۔۔۔
وہ ایک دم سے ہائپر ہوتے ہوئے سامنے کھڑے شخص سے بولی تھی ۔۔۔۔
جی آپکی ہی غلطی ہے بلکل اور مجھے طعنے ایسے دے رہی ہیں جیسے خود ابھی بھیگ مانگ کر آرہی ہیں حد ہوگئ بھلائ کا زمانہ نہیں ہے ۔۔۔۔
لیزہ کی بات پر اس نے اپنی آنکھیں گھما کر بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔
بھلائ اور تم ۔۔ ۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے پورے چودہ ہزار کا سوٹ ہے فرسٹ ٹائم پہنا تھا میں نے ۔۔۔ میں کیا کرونگی اب ۔۔ ۔ میرا فیوریٹ سوٹ ۔ ۔۔۔
اسنے آپ جناب کا لائحہ سائڈ میں رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
اوووو بی بی ۔۔ ۔۔۔ معاف کرو مجھے لو پکڑو چودہ ہزار روپے اتنے تو میں اپنی گھر کی ماسی کو چلتے پھرتے دے دیتا ہوں ۔۔۔۔
کچھ لمحوں تک تو وہ چودہ ہزار پر اٹکا رہا پھر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی اور مسکراتے لہجے میں اس سے بولا تھا ۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہ پیسے دیکھانے کی کیا سمجھتے ہو خود کو ہاں ۔۔۔۔۔۔ مجھے میرا ڈریس صحیح چاہیے بس ۔۔۔۔۔
اس کا لہجہ خطرناک حد تک تبدیل ہوا تھا ۔۔۔۔
کہاں سے لا کر دوں میں ۔۔۔۔ دیکھیں معمولی سا دھبہ ہے دھل جائے گا آپ پلیز میرا ٹائم ویسٹ مت کریں مجھے ارجنٹ پہنچنا ہے ۔۔۔۔
اچھاااااا ۔۔۔۔۔ معمولی ہے تو پھر ٹھیک ہے آپ جائیں ۔۔۔۔۔
لیزہ نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر کہا جو جانے کی بات سن کر خوش ہوا تھا ۔۔۔
ابھی وہ سیٹ پر بیٹھا ہی تھا جب کرررررچچچچچ کی آواز سنائ دی تھی گاڑی میں بیٹھے شخص کی نظریں باہر کی طرف اٹھی تھیں اور لیزہ کو سامنے کھڑے دیکھ چونکہ تھا اگلے ہی لمحے وہ سامنے سے ہٹی تھی اور وہ اسے ایک نظر دیکھتا ہوا آگے بڑھا لے گیا تھا اپنی گاڑی ۔۔۔۔
خس کم جہاں پاک ۔۔۔۔۔
پیچھے لیزہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی تھی اور پھر گھر کی طرف بڑھ گئ تھی پورے چار مہینے بعد وہ مسکرائ تھی لیکن کون جانے کہ آگے کیا ہو گا ۔۔۔۔
ہمارا ساتھ اگر مناسب لگے تو ،۔
کچھ پل ہمیں بھی دے جانا ،
تم کچھ ہمیں بھی کہ جانا ،۔
کہ جب تنہائی میں بیٹھوں اکیلے میں ،۔
تو کچھ یادیں ہمیں بھی دے جانا ۔۔
لان میں ایک زبردست قہقہ لگا تھا جبکہ کچھ بڑے اسے تاسف سے دیکھ رہے تھےلیکن آج اسکی ماں ہنسنے میں سر فہرست تھیں کیونکہ کافی ٹائم کے بعد اپنی بیٹی کو ہنستے دیکھا تھا انھوں نے غائبانہ اس شخص کو دعا دی تھی جس کی وجہ سے لیزہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی انھوں نے محبت سے لیزہ کا چہرہ دیکھا تھا اور پھر ڈھیر ساری دعائیں انکے منہ سے نکلی تھیں ۔۔۔۔
اسکو تو پتا بھی نہیں ہے اس بیچارے کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔۔۔۔
لیزہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
ہاں یار کتنا نقصان کر دیا تم نے اسکا ۔۔۔۔۔۔ بیچارہ گنڈی میں پھنس گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ریان نے بیچ میں بیٹھ کر تڑکہ لگایا تھا جس پر اسکی ہنسی کو بریک لگے تھے اور اس نے خونخوار نظروں سے ریان کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
کوئ نہیں بیچارہ کوئ غریب وریب نہیں تھا کیا گاڑی تھی اسکے پاس ۔۔۔۔۔۔
لیزہ نے پہلے کڑوا منہ بنا کر پھر ستائشی لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
کو نسی گاڑی تھی جو لیزہ خان کو پسند آگئ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔
ریان نے چونکتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔
ارے وہی جو آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے کتنے کی ہے ۔۔۔ ؟؟؟ ہاں ۔۔۔ 3.1 کڑوڑ کی مالیت ہے جس کی ۔۔۔۔۔۔
لیزہ نے بے فکری سے تمام لوگوں کے سامنے تبصرہ کیا تھا جبکہ یہ سن کر سب کے منہ سے ایک ساتھ کیا نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا آپ سب کو ۔۔۔۔ ڈرا دیا مجھے ۔۔۔۔
انکی چیخ پر لیزہ نے ڈرنے کی اداکاری کی تھی ۔۔۔۔
تم پاگل ہو کیا ۔۔۔۔ تم نے اتنی مہنگی گاڑی کی باڈی خراب کر دی ۔۔۔۔۔ جانتی ہو کتنی ایکسپینسو ہے اسکی باڈی بلکہ یہاں کہیں ملتی بھی نہیں ہے مطلب اس کے 3.1 کڑوڑ ضائع ہوگئے ۔۔۔۔ یااللہ ۔۔۔۔۔۔
زیان جو اکثر کار گیمز کھیلتا ہوا نظر آتا تھا کیونکہ اسے گاڑیوں میں کافی دلچسپی تھی اسی لیے وہ سب بتا دیتا تھا گاڑیوں کے بارے میں ابھی بھی اس نے صدمے سے چور لہجے میں کہا تھا جس پر سب نے ہونک بنی لیزہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
جبکہ لیزہ بت بن گئ تھی کیا وہ اتنا بڑا نقصان کر آئ ۔۔۔۔ صرف چودہ ہزار کے لئے ۔۔۔۔ یا میرے خدایا ۔۔۔ یہ میں نے کیا کر دیا ۔۔۔۔۔ لیکن اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت ۔۔۔۔۔ افسوس کے علاؤہ اور کوئ کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم امی کیسی ہیں آپ ؟؟؟؟؟
علیزہ نے نور بیگم سے انکی خیریت پوچھی تھی ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا بس ۔۔۔۔۔
وہ کچھ کہتے کہتے رکی تھیں ۔۔۔
امی کیا ہوا ؟؟؟؟ کوئ مسلئہ ہے تو مجھے بتائیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
علیزہ نے انھیں رکتے دیکھ پوچھا تھا ۔۔۔
ہاں بس ۔۔۔ لیزہ کی وجہ سے بہت پریشان ہوں بلکل خیال نہیں رکھتی اپنا دن بھر کمرے میں بند رہتی ہے نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے اسکی یاد ہے نہ ڈاکٹر نے کیا کہا تھا ۔۔۔۔ ایسے تو وہ ڈپریشن میں چلے جاۓ گی ۔۔۔۔۔
نور بیگم نے پریشان کن لہجے میں علیزہ کو بتایا تھا جس پر وہ بھی پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔
امی آپ اس کے ساتھ رہا کریں نہ اسے سوچنے کا موقع نہیں ملے گا کام میں بزی رکھا کریں اسے ۔۔۔۔ ایسا کریں کوکنگ کروا لیں اس سے بلکل صحیح کہہ رہی ہوں وہ ابھی سیکھ جائے گی ۔۔۔۔۔
علیزہ نے نور بیگم کے سامنے آسان سا حل رکھا تھا جس پر وہ سوچ میں پڑ گئی تھیں ۔۔۔
آئیڈیا تو اچھا ہے کر کے دیکھتی ہوں ۔۔۔۔ خیر تم سناؤ گھر میں سب ٹھیک ہے ۔۔۔ تمہیں کوئ مسلئہ تو نہیں ہے ؟؟؟؟
انھوں نے بات بدلتے ہوئے اس سے خیریت دریافت کی تھی اور پھر ماں بیٹی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور یہ تو سب کو پتا ہے شادی شدہ بیٹی کی ویلیو الگ ہوتی ہے تو اب ڈیڑھ دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے ۔۔۔۔
منور ولا کے اے سی لگے کمرے میں اس وقت بچہ پارٹی کا جمگھٹا لگا ہوا تھا جبکہ باقی بڑے سب اپنے اپنے کمروں میں تھے صوفوں پربراجمان وہ سب ایک ہی شخص کو نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھے اور وہ تھی لیزہ جو اس وقت پورے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی بے چینی سی بے چینی تھی جب سب تھک گئے اسے ایسے دیکھ دیکھ کر تو بلا آخر ماہم اپنے چکراتے سر کو پکڑے بولی تھی ۔۔۔۔
لیزہ آپی بیٹھ جائیں میرا تو سر چکرا گیا آپ کو ایسے چکر لگاتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔
ماہم کی بات پر سب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا تھا جبکہ لیزہ سب کو ایک نظر دیکھ کر سر جھٹکتے ہوئے فون کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
لیزہ آج تو امتحان ہے ۔۔۔۔۔
ایسی خراب سیچیویشن میں بھی ریان مغالظات بکنے سے بعض نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
دماغ میں چوٹ آگئ تھی کیا ۔۔۔؟؟؟ امتحان نہیں نتیجہ بولو نتیجہ ۔۔۔۔۔
اریبہ نے سڑا ہوا منہ بنا کر اسکو دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔۔
تم سے کون بات کر رہا ہے بونی ۔۔۔۔
ریان نے بھی حساب برابر کیا تھا ۔۔۔۔
تم دونوں چپ کرو گے ایک منٹ ۔۔۔۔
لیزہ نے بیڈ پر دھم سے گرتے ہوئے ان دونوں سے کہا تھا وہ آگے سے کچھ بولتے اس سے پہلے ہی فون کی گھنٹی نے انکو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔۔
لیزہ نے چونک کر کپکپاتے ہاتھوں سے یس کا بٹن دبایا تھا ۔۔۔۔
لیزہ ۔۔۔۔۔
دوسری طرف موجود نادیہ نے اسے پکارا تھا جس پر اسکا دل زور زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ کیا بنا نادیہ ؟؟؟؟؟؟
اسکا لہجہ اور آواز دونوں کپکپاۓ تھے ۔۔۔
یہ بہت اہم فیصلہ تھا یا تو آج اسکی جیت ہوگی یا پھر اسکے مخالف والوں کی اور مخالف کی جیت ہوئی تو ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی لیزہ نے آنکھیں زور سے بند کی تھیں جیسے ایسا کر کے وہ حقیقت کو چھپا دے گی لیکن ایسا نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
