Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266

Last updated:

1.0(2 ratings)
Episodes
37
Views
56.5K
Status
—

About this novel

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

دروازہ کھول کر وہ کمرہ اندھیرے میں ڈوبے دیکھ نفی میں سر ہلاتی ہوئی آگے بڑھی تھی لیکن اگلے ہی لمحے وہ بٹن تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک جھٹکے سے دیوار پر ٹکرائی تھی جس پر اسکی چیخ نکلتی اس سے پہلے ہی مقابل نے اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔
اپنے منہ پر سخت اور مظبوط ہاتھ دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹ گئی تھیں اپنے اتنے قریب کسی مرد کو محسوس کر کے اسکا جسم ڈر کے مارے کپکپایا تھا ۔۔۔ ہاتھ پاؤں چلا کر جب وہ اپنے آپ کو نہ چھڑا سکی تو ڈھیلے پڑتے ہوئے آنکھوں سے آنسوں جاری ہوۓ تھے ۔۔
جب کہ اسکے آنسو دیکھ مقابل اسکے کان کے پاس جھکا تھا ۔۔۔۔
شششششششش ۔۔۔۔۔۔ میں ہوں زیب ۔۔۔۔
لیزہ جو اسے اپنے قریب جھکتے دیکھ سختی سے آنکھیں بند کر چکی تھی اسکی آواز سن کر جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تھی ۔۔۔
دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائی تھیں اور دونوں اپنی جگہ جم گئے تھے ۔۔۔۔
زیب نے آرام سے منہ سے ہاتھ ہٹایا تھا جبکہ لیزہ کا منہ ابھی تک کھلا ہوا تھا ایک بازو پر ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ کو منہ سے ہٹاۓ وہ اس کے نہایت قریب کھڑا تھا جب لیزہ کے لبوں پر جنبش ہوئی تھی ۔۔۔
زی ۔ ی ۔۔۔۔ ب ۔۔۔۔
اٹکتے ہوئے لہجے میں اسنے دوبارہ نام پکارا تھا جبکہ زیب نے اپنا سر ہلا کر اسکی بات کی تصدیق کی تھی ۔۔۔۔
وہ جو سمجھ رہی تھی جھوٹ ہے دھوکا ہے اسکے سر ہلانے پر اسکے دل میں درد اٹھا تھا اور زور سے پیچھے دھکا دیتے ہوئے وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
تم ۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں میرے اتنے قریب آنے کی ۔۔۔۔ بولو ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔؟؟؟
جبکہ زیب اسکے ریکشن پر سکون سے کھڑا اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں چیخ چیخ کر سب کو جمع کر لونگی ۔۔۔۔
وہ چیختے ہوئے اس سے بولی تھی جب زیب نے دونوں کلائیوں کو پکڑتے ہوئے اسے اسکی کمر سے لگا کر اسکی کمر اپنے سینے سے لگائی تھی جس پر لیزہ نے درد کے مارے ایک آہ بھری تھی ۔۔۔۔
لیزہ بہروز خان ۔۔۔۔۔ تم اب سب کو بلاؤ یا نہیں مجھے کوئ لینا دینا نہیں ہے میں بس اتنا جانتا ہوں لیزہ صرف میری ہے لیزہ صرف اور صرف میری ہے اور اسے لینے ہی آیا ہوں ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔
اسکے کان کے قریب جھکتے ہوئے وہ شدت پسندیدگی سے بولا تھا جس پر لیزہ کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں میں تیزی آئ تھی ۔۔۔
مر گئ لیزہ اسی دن جس دن تم اسے مار کر گئے تھے بےوفائ کر کے گئے تھے اب جو لیزہ تمہارے قریب ہے وہ ڈاکٹر لیزہ ہے سنا تم نے ۔۔۔۔
جھوٹ جھوٹ ۔۔۔۔۔ دیکھو دیکھو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کیوں دھڑک رہا ہے یہ اب تک ۔۔۔ نہیں پتا کیوں کہ جب تک تمہاری محبت زندہ ہے یہ دل دھڑکے گا مرتے دم تک دھڑکے گا اور میں تمہیں مرنے ہی نہیں دونگا ۔۔۔۔
لیزہ کی بات سن کر اس نے گھماتے ہوئے لیزہ کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا اور اسکا ہاتھ اسکے دل کے مقام پر رکھا تھا جہاں دھڑکنوں کی رفتار تیزی پکڑتی جارہی تھیں ۔۔۔
یہ جو دل دھڑک رہا ہے نہ یہ سب صرف اپنے ماں باپ کے لیے ہے اپنی ماں کےلئے ہے جو اپنی بیٹی کو مرتا ہوا دیکھ کر خود بھی موت کے قریب پہنچ گئ تھی یہ دھوکا ہے تم دھوکا ہو ۔۔۔۔ تم دھوکے باز ہو ۔۔۔۔
پیچھے کرتے ہوئےوہ دھکا دیتے ہوئے وہ چلائ تھی جبکہ زیب نے تکلیف سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔۔
تمھارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے توڑ ڈالا ہے ،۔
یہ ٹکڑے میں نہیں لونگی مجھے پھر دل بنا کر دو ۔۔
کچھوے کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت نہیں چھپے گی ۔۔۔ مان لو تم اب کہ تم بری طرح ہارے ہو اتنی بری طرح کہ میں تم سے محبت تو کیا نفرت کا اظہار بھی نہیں کرونگی کیونکہ تم اس قابل نہیں ہو ۔۔۔۔
محبت تو ایک ایسا جذبہ ہےجو پیدا خود ہوتا ہے ہم جان بوجھ کر نہیں کرتے تم نے ۔۔۔ تم نے کیا کیا محبت ہی میرے لیے بوجھ بنا دی ۔۔ میرے دل میں اتنا بوجھ ہے کہ اسکو کم کرنے کےلئے مجھے مرنا پڑے گا ۔۔۔
وہ روتے ہوئے کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
لیزہ معافی نہیں مل سکتی ایک دفعہ ۔۔ بس ایک دفعہ معاف کر دو پلیز ۔۔۔۔ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر پلیز ۔۔۔۔ محبت کرتا ہوں تم سے بہت بہت ۔۔۔
زیب بھیگی آنکھوں سے لیزہ کے سامنے سجدہ ریز ہوا تھا ۔۔۔۔
میں گناہ گار ہوں تمہارا مجھے ایک موقع دو میں ۔۔۔ میں ساری دنیا تمہارے قدموں میں لا کر ڈال دونگا لیکن پلیز ۔۔۔۔۔
مجھے نہ تم میں ۔۔ نہ تمہاری محبت پر کسی پر یقین نہیں ہے اب کچھ نہیں بچا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھ ایک لمحے کو ٹہری تھی دوسرے ہی لمحے اپنا لہجہ مظبوط کرتے ہوئے اس نے سپاٹ لہجے میں بولا تھا لیکن آواز پھر بھی بھرا گئ تھی ۔۔۔۔
اور پھر اسکو وہیں چھوڑے وہ کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی تھی پیچھے وہ وہیں بیٹھا زمین کو گھورتا ہوا رہ گیا تھا ایک آنسو نکل کر نرم قالین پر جزب ہوا تھا لیکن دیکھنے والا وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔
خدا ہی جانے تمہارے نزدیک عشق کیا ہے ،۔
میرے نزدیک تو محظ تین لفظوں کی اذیت ہے ۔۔

Episodes

Asmano Pe Likha (Episode 01)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

___________________________________

افق پر نمودار ہوتی ہلکی ہلکی سورج کی کرنیں کراچی کے ساحل پر ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھیں اور اس پر ٹھنڈی اور پرکیف ہوا دلوں پر اچھا اثر ڈال رہی تھی۔۔۔ ہوا کے دوش پر پرسکون ماحول میں ایک دھیمی سی آواز ماحول کو پر اسرار بنا رہی تھی۔۔۔۔

تمھاری تصویر کے سہارے ،

موسم کئی گزارے ،

موسمی نہ سمجھو پر عشق کو ہمارے ،۔

نظروں کے سامنے میں آتا نہیں تمہارے ،

مگر رہتے ہو ہر پل منظر میں تم ہمارے ،۔

گر عشق سے ہے ملا ، پھر درد سے کیا گلہ ،۔

اس درد میں زندگی خوشحال ہے ،،۔

یہ دوریاں فلحال ہے ۔۔۔۔

خیریت پوچھو کبھی تو کیفیت پوچھو ،۔

تہمارے بن دیوانے کا کیا حال ہے ،۔

دل میرا دیکھو نہ میری حیثیت پوچھو ،،،۔

تیرے بن ایک دن جیسے سو سال ہیں۔۔۔۔۔

اسکی پرسوز آواز چاروں طرف ایک فسوں پھیلا رہی تھی ۔۔۔ کیا نہیں تھا اسکی آواز میں تڑپ ، کچھ کھو دینے کا ملال ۔۔۔۔ وہ دیوانی بھول گئ تھی کہ اس وقت وہ کہاں تھی ۔۔۔۔

محبت کر کے نا پانا الگ بات ہے اور محبت میں محبوب سے شکست کھانا الگ بات تھی ۔۔۔۔ وہ جو محفلوں کی رونق ہوا کرتی تھی اور ابھی بھی اپنی شخصیت سے ایک سحر طاری کئےہوئ تھی ۔۔۔ محبت میں ٹھکرائ ہوئ لڑکی تھی جو اب بدل چکی تھی ۔۔۔

اس نے گانے کے بول ختم کر کے اپنی ہلکی براؤن آنکھیں اٹھائیں تھی آنکھوں کی نمی دیکھ کر کوئ بھی بتا سکتا تھا کہ اس وقت وہ کس قرب سے گزر رہی ہے لیکن اس وقت سب اسکی دلسوز آواز میں کھوۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ جب کہ ایک شخص ایسا بھی تھا جس کی نظریں اس پر سے نہیں ہٹ رہیں تھی

اس کو آج پتا چل رہا تھا کہ اسکی مغروریت کی وجہ ، اسکا گریز سب کچھ اصلی نہیں تھا ۔۔۔ اصل میں تو سہی وہ تھا جو کچھ دیر پہلے اس نے دیکھا تھا ۔۔۔

ہاں اس نے آج مانا تھا کہ وہ محبت میں ٹھکرائ ہوئ تھی ۔۔۔

اسلام آباد کا موسم اس وقت عجیب بوجھل ہو رہا تھا آسمان پر کالے سیاہ بادل چھائے ہوۓ تھے اور حبس اتنا کہ لوگ پاگل ہو رہے تھے جو اس بات کا ثبوت تھا کے بادل اب برسے کہ تب برسے ۔۔۔۔ لیکن پچھلے ایک گھنٹے سے ان سب کا انتظار لاحاصل رہا تھا ۔۔۔۔۔

سڑک کے اس پار شیشے کی ایک بلڈنگ جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ اس کے مالک نے رات دن ایک کر کے یہ آرائش کھڑی کی ہے ۔۔۔۔

ملک کے جانے مانے ناموں میں سے ایک نام مغل ٹرینڈرز کا بھی آتا تھا جس نے کم وقت میں اپنا ایک نام بنایا تھا اور جس کا کریڈٹ زیب مغل کو جاتا تھا جس نے اپنا لوہا منوایا تھا کہ آج لوگ اسکے ساتھ کام کرنے کے لیے باضد تھے ۔۔۔

میٹینگ روم سے باہر نکلتے شخص نے اسکے لئے دروازہ وا کیا تھا اور وہ بڑی شان بے نیازی سے باہر نکلا تھا

اسکے پیچھے چلتا ہوا شخص اسکو اگلا لائحہ عمل بتا رہا تھا اور بے توجہی سے سنتا ہوا چل رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنے روم میں داخل ہوا اور پیچھے آتے ہوئے شخص کو ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک دیا ۔۔۔۔

ہلکی آواز سے کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا اس نے ایک گہرا سانس چھوڑا اور کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔ باہر کے موسم نے ایک دم سے اسکے دل کا موسم بھی بوجھل کر دیا تھا ۔۔۔۔

تو تم نے سوچ لیا ہے کہ تم اسے چاہو گے ۔۔۔۔

اس نے اپنے دل سے سوال کیا تھا اور اپنے دل کی آواز پر وہ زخمی سا مسکرایا تھا ۔۔۔

شیشے پر ایک بوند گری تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد کی سڑکیں بھیگ گئی تھیں لوگوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت دیکھ کر اسے اپنا آپ خالی خالی لگا تھا ۔۔۔۔

ایسے ضروری ہو مجھ کو تم ،۔

جیسے ہوائیں سانسوں کو ،۔۔

ایسے تلاشوں میں تم کو ،

جیسے کے پیر زمینوں کو ،

ہنسنا یا رونا ہو مجھے ،

پاگل سا ڈھونڈوں میں تمہیں۔

کل مجھ کو محبت ہو نہ ہو

کل مجھ کو اجازت ہو نہ ہو ،۔

ٹوٹے دل کے ٹکڑے لےکر بن کے ہوا اڑ جاؤں گا

میں پھر بھی تم کو چاہوں گا۔

آسمان پر بادلوں کا راج اور نومبر کی سردی نے اچھے اچھوں کا حال خراب کر دیا تھا اور جب دسمبر کی آمد آمد ہو تو سرد موسم ٹھٹرتی ہوئ رات جیسے عام تھی ۔۔۔۔ اس موسم میں جب سب لوگ گرم بستر ڈھونڈتے ہیں منور ولا میں جیسے دن کا سا سماں تھا ۔۔۔۔ بڑے سے ہال نما کمرے میں اس وقت سارے بچہ پارٹی نے ہلا بولا ہوا تھا کپڑے ، جوتے ، جیولری ، اور پتا نہیں کیا کیا جو وہ تھوڑی دیر پہلے خرید کر لائے تھے ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے اور جو بکھیرنے والے تھے وہ سارے آڑے ترچھے صوفوں پر پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔

اچھا چلو یہ سمیٹو تو سہی اور پھر چل کر کھانا کھاؤ ۔۔۔ بھوکے کب سے نکلے ہوئے ہو پتا نہیں کچھ کھایا بھی ہو گا یا نہیں ۔۔۔

حاجرہ بیگم نے سامان دیکھ کر ان کو یہ سب سمیٹنے کے ساتھ ساتھ کھانے کا بولا تھا ۔۔۔ وہ اس معاملے میں بہت حساس تھی کہ بچے بھوکے نہیں رہیں ۔۔۔

ماما میں نہ بہت تھک گئ ہوں میں کھانا نہیں کھا رہی بس سونا ہے مجھے ۔۔۔۔

اریبہ اپنی ماں کی بات پر تیزی سے اٹھی تھی گھر کی چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ بہت سر چڑھی تھی اور نکمی اتنی کہ ہزار دفعہ بولنے پر بھی نہیں سنتی تھی ۔۔۔۔

ابھی وہ کھڑی ہو کر بھاگتی اس سے پہلے ہی قریب صوفے پر بیٹھے ریان نے بیچ میں اپنی ٹانگ اڑائی تھی اگلے ہی لمحے وہ بری طرح قریب رکھے صوفے پر گری تھی اور سب کے حلق پھاڑ قہقہے نکلے تھے ۔۔۔ بڑے سب جو اچانک گرتے ہوئے دیکھ کر حیران تھے ان سب کے قہقہوں پر خود بھی اپنی ہنسی نہیں روک پائے تھے ۔۔۔

بڑوں کو ہنستا دیکھ وہ رونے والی ہو گئ تھی ۔۔۔۔

اور وہ واقعی وہی بیٹھے جو روئ تھی سب کو پریشان کر گئ تھی چھوٹی تھی اور لاڈلی بھی کیسے نہ تڑپتا کوئ ۔۔۔

کیا لگایا ہوا ہے تم سب نے نہ دن دیکھتے ہو نہ رات دیکھتے ہو حد ہوتی ہے ویسے اور تم شرم کرو زرا چھوٹی بہن ہے وہ لگ جاتی اسکے پھر ۔۔۔۔۔

صائمہ بیگم جو کب سے یہ سب دیکھ رہیں تھی اپنے بیٹے کی حرکت انکی نظروں سے نہ بچ سکی ۔۔۔

مامااس میں میرا کیا قصور ہے خود ہی دیکھ کر نہیں چلتی ۔۔۔۔

ریان نے چڑاتے ہوۓ اسے پتنگے لگائے تھے ۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی علیزہ کی آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔

علیزہ جو کھانے کا بولنے آئ تھی یہاں گرما گرمی دیکھ کر کھانے کی نوید سنائی تھی جب کہ اسکی آواز پر ریان تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔

یہ کیا آپی ….. آپ ابھی تک یہ کام کر رہی ہیں حد ہوتی ہے ۔۔۔ تم کیسی بہن ہو علیزہ آپی کے کل سے فنکشن شروع ہیں اور وہ اب تک کام کر رہی ہیں ۔۔۔۔

علیزہ کی آمد کو غنیمت جانتے ہوئے اس نے سب کا رخ اپنی طرف سے ہٹا کر لیزہ کی طرف موڑ دیا تھا جو ابھی تھکی ہوئی سن بیٹھی تھی اور وہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا اسکا منٹوں میں پارہ ہائ ہوا تھا ۔۔۔۔

کیااااااا ؟ مطلب میں بھی تم لوگوں کے ساتھ تھی نہ تو کیسے ہاتھ بٹواتی ؟؟؟

اس نے چیختے ہوۓ اس سے پوچھا تھا اس کا ریکشن دیکھ کر سب نے اپنا سر پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو جلدی جلدی کرتیں نہ شاپنگ کس نے کہا تھا اتنا دیر کرو ۔۔۔۔

جب کہ یہ بات کر کے ریان بری طرح پھنسا تھا ۔۔۔

اچھاااااااا !!!! دیر میں نے کی تھی ۔۔۔۔ تائ امی تین دفعہ یہ اسٹولز پر رکا تھا کھانے پینے پہلے اس نے بریانی کھائ اس کے بعد حلیم کی پلیٹ اور آخر میں جوس کا ایک بھرا ہوا گلاس ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر ریان بوکھلا گیا تھا وہ جانتا تھا کہ اب وہ نہیں بچے گا ۔۔۔۔

تائ امی وہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی اس کے الفاظ منہ میں تھے جب تائ امی کا پارہ ہائ ہوا تھا ۔۔۔۔

ہزار دفعہ کہا ہے باہر کا مت کھایا کرو مگر تم لوگ سونو جب نہ ۔۔۔۔

وہ نہایت غصے میں مخاطب تھی ۔۔۔ جب کہ لیزہ طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی ۔۔۔ جیسے کہ رہی ہو اب لو پنگے ۔۔۔۔

ریان اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اچھا نہ تائ امی بخش دیں آج میرے لیے پلیز ۔۔۔۔

تائ امی کا غصہ دیکھ کرعلیزہ آگے آئ ۔۔۔۔

اسکی بات سن کےکر انکا غصہ کم ہوا تھا جب علیزہ نے غصے سے لیزہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا جو ریان کو دیکھ کر ہنس رہی تھی ۔۔۔۔

لیزہ اسکا اشارہ دیکھ کر تیزی سے باہر نکل گئ تھی آہستہ آہستہ کمرہ خالی ہو گیا تھا اور شاپنگ اپنی قسمت پر ماتم کرتی رہ گئ ۔۔۔

علیزہ نے ساری شاپنگ سمیٹی تھی اور نم آنکھوں سے چاروں اور دیکھا تھا یہاں کی رونق ، لڑائ ، محبت سب یاد آئیں گے اسے ۔۔۔۔

ہم پرائ ہیں ، ہمیں اپنا نہ کہو کوئ ۔۔۔۔۔۔

سمندر کی گہرائ ہیں ، اپنا نہ کہو کوئ ۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 2 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Brownish Girl BasedCousin BasedRomantic Urdu NovelsRude heroUrdu Novels