Zindagi Afsana Ha by Ammara Naveed

زرنیش آپا کیوں ناراض ہورہی ہیں ۔ میں نےاب کوئی انوکھی بات نہیں کی تھی ۔وہ اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوا۔
اوہ شٹ اپ شافع! تم نے ایسی بات نہیں کی ۔جانتے ہو ہمارے الفاظ اکثر لوگوں کو وہ اذیت دیتے ہیں ۔جو بڑے بڑے ہتھیار بھی نہیں دیتے ۔کیا تم جانتے ہو تمھارے الفاظ نے اسکو کتنی تکلیف اذیت دی ہوگی ۔وہ بولی ۔
نہیں شافع تم نہیں سمجھ سکتے۔کیونکہ تم کبھی ایسے مراحل سے گزرے ہی نہیں۔
انسان کبھی بھی کسی کا درد تب تک نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ محسوس نہ کرلے۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ رکی۔
لیکن پھر بھی اسکو اپنا ررد بڑا لگے گا۔وہ ٹھہر کر بولی ۔
اسکی بات پر اسے واقعی شرمندگی ہوئی۔۔
سوری ۔وہ سر جھکا کر بولے ۔
مجھے کیوں سوری کررہے ۔۔۔۔
شافع اگر کوئی مجھے بولے کہ میں ایک ہاتھ سے معذور ہوں تو تم کیا کرلوگے۔وہ اس کے جھکے سر کی طرف دیکھ کر سوالیہ لہجے میں بولا ۔
میں اسکانہ توڑ دوں گا۔ وہ چلایا ۔
کیوں وہ تو سچ کہہ رہا ہے میں ایک ہاتھ سے معذور ہوں میں اپاہج ہوں۔اس کے لہجے میں لرکھڑاہٹ واضح تھی۔
لیکن آپا اس میں آپکا تو کوئی قصور نہیں وہ تو صرف حادثہ اور یہ تو اللّٰه‎ کی حکمت ہے ۔وہ اسکی طرف دیکھ کرمحبت بھرے لہجے میں کہا۔
واہ شافع بات مجھ پر آئی تو اللّٰه‎ کی حکمت ۔۔۔۔۔
اسی طرح غریب ہونا اسکا قصور نہیں اللّٰه‎ کے کام ہیں اور تم وعدہ کرو آج کے بعد کسی کو بھی یوں نہیں بولو گے۔وہ نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی۔جہاں شرمندگی واضح تھی۔
میں نہیں کرونگا ۔وہ جھکے سر کے ساتھ بولا۔
اسکی بات سن کر وہ مسکرائی ۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *