Nadeeda Ishq by Eira Shah

"ابے اسے تو ہوش نہیں آ رہا۔۔۔اب کیا کریے۔۔۔ سر نے تو ہمیں نہیں چھوڑنا“ اس کھنڈر نما گھر میں موجود سمیر کے آدمیوں میں سے ایک آدمی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
"بیٹھ جا چپ کر کے آ جائے گا ہوش بھی“ دوسرے آدمی نے بے زاری سے اسے ٹوکا۔
"کافی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو سمیر صاحب نے ہمیں چھوڑنا نہیں ہے“ پہلے آدمی نے ڈرتے ہوئے اسے کہا جس پر دوسرا اسے غصے بھری نظر سے نوازتا کرسی سے اٹھا اور اس کے ساتھ کمرے کی طرف چلا گیا۔
ارشیہ کو کچھ دیر پہلے ہی ہوش آیا تھا۔ خود کو انجان جگہ پا کر اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر سے آتی آوازوں اور اپنے بندھے بازوں کو دیکھ اسے کچھ کچھ سمجھ آیا تھا۔ اچانک اسے قدموں کی آواز سنائی دی جو کہ آہستہ آہستہ نزدیک آ رہی تھی۔ ارشیہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کی۔
"ابے یہ کیا اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا” دوسرے آدمی نے ارشیہ کی ایک طرف ڈھلکی گردن دیکھ کہا تھا۔
"تب سے میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔ سمیر صاحب کو فون کر کے بتا“ پہلا آدمی اس پر چڑھ دوڑا۔ سمیر کے کہے کے مطابق اگر اسے کچھ ہو جاتا تو وہ ان کو زندہ گاڑھ دیتا۔
"ہیلو سمیر صاحب۔۔۔ وہ ارشیہ بی بی کو ہوش نہیں آیا ابھی تک“ دوسرے آدمی نے ڈرتے ڈرتے فون کرکے سمیر کو اطلاع دی۔
"کیا مطلب ہوش نہیں آ رہا“ سمیر نے غصے سے پوچھا۔ جس پر اس آدمی نے بمشکل تھوک نگلا۔
"پتہ نہیں۔۔۔ سمیر صاحب۔۔۔۔ بی بی کو ہوش نہیں آ رہا“ آدمی نے اٹکتے ہوئے کہا۔ جس پر سمیر نے دوسری جانب دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی سہلائی۔
"اچھا میں دیکھتا ہوں۔۔۔ کرم دین....کرم دین۔۔۔ ڈرائیور کے ساتھ جاؤ” سمیر نے فون بند کرکے کرم دین کو آواز دینا شروع کی۔ وہ آیا تو اسے ڈرائیور کے ساتھ جانے کا کہہ کر زیاد اور نمرا کو فون کرنے لگا۔
"ہیلو زیاد۔۔۔ ہاں وہ ارشیہ کا کچھ پتہ ہے۔۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔۔ میں نے اسے فارم ہاوس بلوایا تھا مجھے کام تھا لیکن ابھی تک وہ آئی ہی نہیں۔۔ پلیز پتہ کرنا اس کا نمبر بھی بند جا رہا ہے“ سمیر نے مصنوعی فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے زیاد کو کہا۔
"کتنی دیر ہو گئی۔۔ اور تم نے پتہ کروایا کہ وہ کہا ہے“ زیاد نے ٹیبل سے اپنی والٹ اور کیز اٹھاتے ہوئے کہا اور ساتھ نمرا کو آنے کا اشارہ کیا۔ وہ اور نمرا اس وقت ریسٹورنٹ آئے ہوئے تھے۔
نمرا پریشان سی اس کے پیچھے پیچھے گاڑی کی طرف چل دی۔ زیاد نے کچھ ضروری باتیں اور کی ور پھر فون کاٹ کر گاڑی بھگا لی۔ دوسری طرف سمیر نے فون کاٹ کر کیز اور والٹ اٹھایا اور جہاں ارشیہ کو رکھا تھا گاڑی کو اس طرف موڑ لیا۔
"کیا ہوا ہے زیاد“ پریشانی میں زیاد بار بار کسی کو کال ملا رہا تھا لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔ اسے پریشان دیکھ نمرا نے پوچھا۔ جس پر زیاد نے اسے سمیر کی بات من و عن بتائی۔
"اب کیا ہو گا زیاد“ نمرا نے پریشانی سے زیاد سے پوچھا۔ زیاد نے گاڑی نمرا کے گھر سے تھوڑی دور کھڑی کی۔
"کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ میں ہوں نہ۔۔۔ اور ٹیشن نہ لوں بس ایک بار ارشیہ مل جائے میں جلد ہی ماما اور بابا کو تمہارے گھر بھیجتا ہوں۔۔ ٹھیک ہے“ زیاد نے پیار سے اسے سمجھایا تھا۔ جس پر نمرا نے ہاں میں سر ہلایا اور گاڑی سے اتر کر اندر کی طرف چلی گئی۔ اس کے جتے ہی زیاد نے گاڑی کا رخ پولیس سٹیشن کی جانب کیا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *