Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828
Last updated: 28 July 2026
No chapters found.
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz
زعیم گھر آیا تو معمول کے مطابق دستر خوان لگائے اماں اور انوشہ اسی کے انتظار میں تھیں جو اپنی روٹین سے کافی لیٹ آیا تھا اور اب ان دونوں کو سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اماں اور انوشہ نے حیرانگی سے پہلے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر اک دوسرے کو دیکھا تھا
ایسا تو کھبی نہیں ہوا تھا کہ وہ بس سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ جائے لیکن وہ اپنی حیرانگی میں اس کے ہاتھ میں موجود چھوٹا سا تھیلا نہیں دیکھ سکی تھیں زعیم باہر آیا تو دونوں حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھیں
"کیا ہوا آپ دونوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟" زعیم نے ان کے پاس بیٹھتے پوچھا تھا
"بھائی آج آپ نے ہمیشہ کی طرح اپنے ساتھ لگا کے سر نہیں چوما بس سلام کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے" انوشہ نے منہ پھلائے کہا تھا
"ارے میرا بچہ ادھر آؤ ابھی میں اپنے بچے کا سر چوم لیتا ہوں" زعیم نے کہنے کے ساتھ ہی اسے اپنے حصار میں لے کر اس کا سر چوما تھا
"آپ گھر آتے ہی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے" اس نے اک اور شکایت لگائی تھی
"وہ تو میں پیسے رکھنے گیا تھا" اس نے کہا تو اماں اور انوشہ دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا اماں تو جانتی تھیں کے اسے کس سلسلے میں پیسے چاہیے تھے اور وہ سوچ رہی تھیں کہ پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا ہے
"لیکن پتر پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا؟" اماں کی بات سن کے انوشہ نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا تھا
"بس ہو گیا ہے" اس نے انہیں ٹالا تھا
"بھائی کیسے پیسے؟ اور آپ کو کیوں چاہیے ہیں پیسے؟" انوشہ کے سوال پہ دونوں نے اسے دیکھا تھا اسے ابھی اپنی بیماری کے بارے میں نہیں پتہ تھا
"وہ اس دن ہم ڈاکٹر کے پاس گئے تھے نا تو وہ کہہ رہا تھا کہ آپ کہ بہن کو چھوٹی سی بیماری ہے اس لے لیے اک بلکل چھوٹی سی سرجری کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی بس اس کے لیے پیسے چاہیے تھے" اسے بچوں کی طرح بہلاتے زعیم نے کہا تھا
"کونسی بیماری اور بھائی مجھے سرجری نہیں کروانی" اس کے چہرے پہ ڈر واضح تھا
"بیماری چھوٹی سی ہے نا اسے چھوڑو اور میرا بچہ سرجری سے ڈرنا نہیں ہے میں ہوں نا اپنے بچے کے ساتھ" زعیم نے اس کا ڈر دور کرنا چاہا تھا
"لیکن بھائی،،،" اس نے کچھ کہنا چاہا تھا
"کیا تمہیں اپنے بھائی پہ بھروسہ نہیں ہے؟" اس کی بات کاٹ کے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے زعیم نے پوچھا تھا
"نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے" وہ جلدی سے بولی تھی
"تو پھر میرا بچہ اپنے بھائی پہ یقین رکھو کچھ بھی نہیں ہو گا اک بلکل چھوٹی سی سرجری ہو گی لیکن میں اور اماں ہیں نہ اپنے بچے کے ساتھ اور سب سے بڑھ کے اللہ ہے نا اس لیے میرا بچہ ڈرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے" زعیم نے کہا تو انوشہ نے سر ہلا دیا تھا لیکن ڈر اس کے چہرے پہ ابھی بھی موجود تھا
زعیم اماں کی کھوجتی نظریں خود پہ اچھی طرح محسوس کر رہا تھا لیکن وہ حقیقت انہیں بتا نہیں سکتا تھا اس لیے دونوں کا دھیان بٹانے کے لیے اس نے دونوں کو کھانے کی طرف متوجہ کیا تھا
