Parishay by Manal Ali

ثمن نے گھر آکر صائمہ کو ایک ایک بات بہت ہی بڑھا چڑھا کر بتائی جس کو سن کر صائمہ کا پارہ کافی ہائی ہو چکا تھا ۔۔۔۔صائمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پری کا ہاتھ پکڑ ے اور اسے گھر سے باہر نکال دے ۔۔۔اسے اب جلد از جلد کچھ کر کے شہریار کو ثمن کے ساتھ ہر حال میں جوڑنا تھا اور پری کو جڑ سے نکال کر پھینک دینا تھا ۔۔۔ اور کہاں پھینکنا تھا یہ وہ بہت اچھی طرح سے جانتی تھی ۔۔۔ ولید ابھی سکھر میں ہی موجود تھا ولید کے آنے کے بعد وہ پری کے لئے ولید سے بات ضرور کرے گی ۔۔ اسے اپنے گھیرے میں لے کر یہ سمجھائے گی کہ وہ پری سے شادی کرلے ۔۔اور صائمہ یہ بھی جانتی تھی کہ ولید بہت ہی خوشی خوشی اس بات پر راضی بھی ہو جائے گا ۔۔۔۔
ثمن اور شہریار ایک ساتھ ہو جائیں گے ۔۔۔پری کو وہ ولید کے پاس پھینک دے گئی ۔۔۔
فرحان اور اقرا بھی ایک طرف ہو جائیں گے۔۔
اور اس کے راستے میں موجود پری نامی کانٹا بھی بڑی آسانی سے نکل جائے گا ۔۔۔۔۔صائمہ کو اب اپنا دماغ اور تیزی سے چلا نا تھا تاکہ وہ پری کو فوراً ہی راستے سے ہٹا دۓ ۔۔۔۔
اور شہر یار ثمن کو ایک کر دۓ۔۔۔۔
پھر چاہے اس کے لئے وہ اپنے بھانجے ولید کا استعمال کرے یا پھر اپنے بیٹے فرحان کا ۔۔صائمہ نے سب سے پہلے فرحان کو استعمال کرنے کا سوچا ۔۔۔۔
فرحان اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کی ماں کبھی بھی پری کو اپنی بہو نہیں بنائی گئی ۔۔مگر پھر بھی فرحان نے لالچ میں ہی سہی لیکن اپنی ماں سے پری کے لئے بات کی تھی تو صائمہ نے فورا ہی منع کردیا ۔۔۔اب صائمہ کو بڑے ہی ماہرانہ انداز کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بیٹے کو گھیرے میں لینا تھا ۔۔۔اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ وہ اگر پری کا نام اس کے سامنے لے گئی تو فرحان بڑی آسانی سے اس کے گھیرے میں آ بھی جائے گا ۔۔۔اگر اس طریقے سے صائمہ کی چال کامیاب نہیں ہوتی یا اس کی دال یہاں نہیں گلتی تو پھر وہ ولید کا سہارا لے گی اور پری کو اندھیری کھائی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پھینک کر اپنی جان چھڑائی گئی ۔۔لیکن کسی بھی صورت شہریار اور پری کو ایک ہونے نہیں دے گی ۔۔۔۔وہ
ثمن شہریار کو ایک کرکے پری کو راستے سے ہٹانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اور جہاں تک رہی شہریار کی محبت کی بات تو میں پری کو اتنا گندا کر دوں گی اتنا برا کر دوں گی اس کی نظروں میں کہ وہ خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا ۔۔۔۔۔
مگر میں کبھی بھی ان دونوں کو ایک نہیں ہونے دوں گی پھر چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔۔۔
فرحان صائمہ سے بات کرنے کے لئے اس کے کمرے میں آیا منگنی کی تاریخ طے ہوگئی تھی مگر کچھ ہی مہینوں کے بعد شادی کا سن کر فرحان اچانک ہی غصے میں آ گیا تھا اور غصے سے بلبلا اٹھا تھا ۔۔۔۔
منگنی تک تو ٹھیک تھا ماما لیکن شادی میں کچھ سال بعد کرنا چاہوں گا ۔۔میں اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔فرحان نے تیز آواز میں اپنی ماں کو صاف انکار کیا ۔۔۔صائمہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود صوفہ سیٹ کے تیسرے صوفے پر بڑی شان و شوکت سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنے مخصوص انداز میں بیٹھی ہوئی تھی ہمیشہ کی طرح تیار ۔تھری پیس لان کا سوٹ پہنے کانوں اور ہاتھوں میں سونے کے زیور پہنے وہ اپنی پوری شان و شوکت سے بیٹھی ہوئی اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
شادی کی تاریخ ابھی طے تو نہیں تھی لیکن صرف ایک بات کی تھی اور وہ یہ جانتی تھی کہ فرحان جب شادی کی بات سنے گا تو بلبلا اٹھے گا اور اس کے پاس چلا جائے گا ۔۔۔صائمہ نے سوچا کہ جیسے ہی لوہا گرم ہو گا وہ اس پر وار کرے گی ۔۔۔صائمہ کو جس موقعے کی تلاش تھی فرحان نے اسے بڑی آسانی سے دے دیا تھا ۔۔۔۔
صائمہ فرحان کی باتیں بڑے ہی پرسکون انداز میں سن رہی تھی اس کی گردن ہمیشہ کی طرح اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
صائمہ نے فرحان کو اپنے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو فرحان کچھ دیر بعد اس کے برابر میں بیٹھا ۔۔۔۔۔
شادی سے انکار کی کیا وجہ ہے فرحان ۔۔۔؟؟!
فرحان صائمہ کے برعکس خاصی غصے میں تھا مگر صائمہ بڑے ہی پرسکون انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر صوفہ سیٹ پر چہرے پر منافقت سجائے بیٹھی ہوئی تھی ،اور اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
دیکھو فرحان تم مجھے شادی آگے بڑھانے کی کوئی مضبوط وجہ بتا دو تو میں تمہاری بات بڑی ہی آسانی سے مان جاؤں گی ۔۔۔
وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن میں ابھی شادی نہیں کر سکتا یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔فرحان اٹھ کر کمرے سے جانے لگا تو صائمہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے جانے سے روکا ۔۔۔
فرحان نے بے چینی سے اپنی ماں کو دیکھا ۔۔میں نے تم سے وجہ پوچھی ہےفرحان تمہیں جانے کا نہیں کہا ۔۔۔۔۔
وجہ چاہے جو بھی ہو میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں ابھی شادی نہیں کروں گا منگنی آپ کی مرضی سے میں نے کرلی ہے مگر شادی ۔ ۔شادی میری مرضی سے ہوگی جب میں چاہوں گا ۔۔۔۔
وہ غصے سے چیخ اٹھا تھا مگر صائمہ اب بھی پرسکون تھی ابھی بھی اس کے چہرے پر اتنی ہی منافقت تھی جتنی پہلے تھی ۔۔۔۔صائمہ نے اسے صوفے پر واپس بٹھایا ۔۔اور خود بھی اس کے برابر میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
تم پری کی وجہ سے یہ شادی آگے بڑھانا چاہتے ہو ۔۔۔ ؟؟؟

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *