Ana Parast By Yusra Readelle50055 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
Epi 23 part 2
اُس نے نہ لالچ دی نہ وجہ پوچھی کے کونسی غرض تجھے یہاں کھنچ لایا ہے بس پاس بلایا اور دل میں چھپا ہر غم مٹا دیا۔۔۔ میرے دل کو اس فانی دنیا کے غموں سے آزاد کر دیا جب اُسکے پاس جاتا کوئی نہ کوئی شکایت لیکر جاتا۔۔۔ زندگی سے جڑی ہو یا کاروباری سب اُس سے مانگا سب کچھ۔۔۔ میں نے انسانوں کے آگے جُھکنا چھوڑ دیا بس وہ کیا جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور آج بھلے امیر ہوں لیکن اُسکی درگاہ میں فقیر بن کر جاتا ہوں یہ دولت شہرت سب اُسکی ادا کردہ ہے جو موت کے بعد واپس چھین لی جائے گی لیکن اُسکی محبت میرے دل میں ہمیشہ قائم رہے گی۔۔۔
کیا نہیں دیا اُس نے؟؟ بچپن کی محرومی ختم کردی ماں لوٹا دی۔۔ وفا شعور بیوی عطا کی تین صحت مند بچوں سے نوازا۔۔ نام دیا شہرت دی سب سے بڑھ کے عزت دار زندگی دی۔۔۔۔
سب بدلا ہے اِس زندگی سے اُس زندگی میں جو میں نے ایک عرصے تنہائی میں گزاری سوائے ڈیڈ کے وہ آج بھی اُنہی راستوں کے مسافر ہیں لیکن اب فرق اتنا ہے کے میرا لہجہ رویہ سب تبدیل ہو چکا ہے وہ دھمکی دینا وہ تنگ کرنا سب چھوڑ چکا ہوں۔۔۔۔۔
ویسے بھی اب میری اپنی اولاد مجھے نہیں بخشتی ہاں آیان۔۔۔ سانس تک ڈر کے لیتا ہوں کہیں کسی طرف سے آکر دو لگا نا دے۔۔۔ نماز پڑھتے وقت وہ میرے ساتھ اپنی ماں کی دی چھوٹی جاں نماز بچھا کر نماز پڑھتا اور جب میں دعا مانگنے لگتا میرے پیٹھ پر چڑ کر مجھے تنگ کرتا۔۔اُسکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں مجھے عزیز ہیں میں اکثر تنگ کرنے کی غرض سے حجاب کو کہتا سب سے مہنگا مجھے آیان ہی پڑا ہے جس نے آج تک لاکھوں کا نقصان کیا ہے ڈیڑھ لاکھ کے دونوں فون ڈبو دیے آگے سے حجاب کا جواب یہی ہوتا کونسا پیسے قبر میں لے جانے ہیں؟؟ موم کا جواب بھی اس سے کچھ کم نا ہوتا میں بس دونوں ساس بہو کو دیکھتا رہ جاتا جو آیان کے خلاف لفظ تک برداشت نا کرتیں خاص کر موم۔۔۔
” آخر کونسا جرم ہوا مجھ سے سے جو اتنا ظلم؟؟؟ “ میں نے دھیرے سے حجاب کے کان میں کہا جو آیان کو سلا رہی تھی۔۔
میرا اشارہ آیان کی طرف تھا جو گھنٹے سے نیند کے بہانے ماں سے چپکا بیٹھا تھا۔۔۔
” مجھے شادی والی رات روم سے نکالا تھا نا اُسی کی سزا ہے “ حجاب نے بھر پور طنز کیا جسے میں نے بامشکل ہضم کیا اور چُپ چاپ لیٹ گیا۔۔۔ آج تک حجاب نا خود وہ شادی والا واقعہ بھولی ہے نا مجھے بھولنے دیا ہے۔۔۔ حالانکہ میں تو توبہ کر چکا ہوں لیکن میڈم نے معاف نہیں کرنا پوری زندگی طنز کی صورت میں ڈوز دیتے رہنا ہے۔۔۔
ایسی ہے میری زندگی جہاں آج میرے گھر میں حجاب اور پرنیا کی ہنسی گونجتی ہے آیان اور احتشام کی شرارتیں دیکھتی ہیں۔۔ موم کی پُر سکون مسکراہٹ میرا سکون برقرار رکھتی ہے میرے رب نے مجھے بےشمار نعمتوں سے نوازا جنکا شکر ادا کرنا میں نہیں بھولتا۔۔
ہم تینوں(احتشام پرنیا اور میں) گارڈن آئیریا میں گھومتے پودوں کو پانی دے رہے تھے تبھی میری نظر اوپر اُس خوبصورت چہرے پر پڑی جسکا دیوانہ میں آج تک ہوں وہ آیان کو گود میں اٹھائے ہم تینوں کو دیکھ رہی تھی میری نظروں کی تپش محسوس کر کے اُس نے میری طرف دیکھا اور شرمگین مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا وہ آیان کو لیکر بالکنی سے چلی گئی اب میرا دل بھی یہاں کہاں لگنا تھا بہانا ڈھونڈ کر میں نکلنے لگا تھا کے وہ آیان کا ہاتھ تھامے ہمارے قریب چلی آئی میں مسکراتے ہوے اُسے دیکھنے میں مگن تھا اس بات سے بےخبر آیان صاحب میرے ہاتھوں سے پائپ لینے میری طرف آرہے تھے ہوش تو تب آیا جب یکدم سے پانی کی پھوار منہ پر پڑی فضا میں چاروں کی ہنسی گونجی میں نے آیان کو اٹھا کر اوپر اوچھالا۔۔ اُسکی ہنسی ایسی شروع ہوئی کے پل بھر کو بھی نا رکی اسکے آگے کے دو دانت ہنستے ہوے نظر آرھے تھے۔۔ احتشام اور پرنیا کی ہنسی بھی اس ہنسی میں شامل ہوگئی اور میرے روح تک میں سکون کی لہر دوڑ گئی سامنے کھڑی میری زندگی محبت پاش نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور کیا چاہیے مجھے؟؟؟؟
یاد رکھیے۔۔۔
جو کھویا ہے، اُس کا غم نہیں
جو پایا ہے، وہ کسی سے کم نہیں
جو نہیں ہے،وہ ایک خواب ہے
اور جو ہے، وہ لاجواب ہے
ختم شد۔۔
