Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

” حجاب میری جان۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا میں نانی بنوئنگی نجانے کب تم بڑی ہوگئیں مجھے تو آج تک اپنی وہ چھوٹی حجاب لگتی ہو “ آمنہ نے آکر اسے گلے لگایا پھر کیا ہونا تھا وہ پورا دن اپنے کمرے کی ہوکر رہ گئی۔۔ آمنہ سے طبیعت خرابی کا کہ کر وہ پورا دن بس بستر پر لیٹی رہی نماز کا ٹائم ہوتا تو اٹھ کر پڑتی لیکن دعا۔۔ دعا کے لئے اٹھتے ہاتھ واپس نیچے گر جاتے یہ بےبنیاد نفرت ہی تھی جس نے حجاب تاثیر کو اپنا آپ تک بھلا دیا۔۔۔ وہ یہ نہیں سوچ رہی تھی بہت جلد اسکے پیڑوں تلے بھی جنّت ہوگی بس اسکی سوچ یہ تھی یہ بچا ابراز حیات کا ہے۔۔ جس سے وہ کبھی ہارنا نہیں چاہتی کبھی نہیں۔۔۔
آج یہ نئی خوشی ہی تھی جسکی وجہ سے اسکے بابا نے اپنا بستر چھوڑا وہ خود اٹھ کر اس سے ملنے آئے۔۔ نانا بنی کی خوشی نے انہیں پھر زندگی کی طرف لوٹا دیا۔۔ لیکن حجاب ان سب سے بےخبر اپنی ویرانی کا سوچ رہی تھی جب دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے تو وہ کیسے ساری زندگی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں کیا آنے والے دنوں میں اسکا بچا بھی باپ جیسا ہوگا؟؟ جس سے لوگ نفرت کرتے ہیں جسکی موجودگی سے حجاب تاثیر کو بھی نفرت ہو؟؟؟ آخر ابراز حیات بھی تو باپ جیسا ہے پھر اسکی اولاد بھی؟؟؟۔۔۔۔ یہ سوچیں اسے دن با دن زندگی سے دور کر رہی تھیں وہ خود نہیں جانتی تھی اسکی آمد نے ابراز حیات کو سر تاپا بدل دیا جان پاتی تو اس محبت پر فخر کرتی۔۔۔اس پر ایمان لاتی۔۔۔
پورا دن اسامہ اور ثنا نے اسکا سر کھایا۔۔۔ کبھی امی آکر اسے کچھ کھلاتیں ڈرائے فروٹس تو ہاتھ میں لیکر گھومتیں ایک گھنٹے بعد خود اسکے منہ میں ڈال کے چلی جاتیں حجاب بس منہ بنا کر خاموشی سے بیٹھی رہتی۔۔۔۔۔
” اب تو سدھر جاؤ۔۔۔ ورنہ بچے بھی تمہیں دیکھ کر استغفار پڑھیں گئے۔۔۔ “ حجاب اور جویریہ گارڈن ایریا میں بیٹھیں تھیں کے جویریہ نے اسکے پھولے گال دیکھ کر کہا لیکن حجاب کسی اور ہی سوچ میں گھم تھی۔۔۔
” حجاب “ جویریہ نے اسکا کندھا ہلایا۔۔
” تمہیں پتا ہے کوئی ہر وقت مجھے دیکھتا ہے اب بھی کوئی دیکھ رہا ہے؟؟ “ وہ سامنے یونیورسٹی کی بلڈنگ دیکھتی کھوئے ہوے لہجے میں بولی۔۔۔
” کون ہمارا کوئی کلاس فیلو۔۔۔۔؟؟ “ جویریہ نے آس پاس دیکھا پھر پیچھے مڑی سب لڑکے لڑکیاں اپنے گروپس کے ساتھ بیٹھے سب سے بےنیاز اپنی باتوں میں مشغول تھے۔۔۔۔
” نہیں کوئی لڑکا نہیں کیوں کے یہ نظریں میں ہر وقت محسوس کرتی ہوں انفکٹ گرلز کامن روم میں، نماز پڑھتے وقت یونیورسٹی میں چلتے پھرتے لیکن کلاس روم میں نہیں۔۔۔ پتا نہیں کون ہے میں اسے ڈھونڈے لگتیں تو وہ نظریں پھیر لیتی “ حجاب کے لہجے میں جہاں بےبسی تھی وہیں آنکھوں میں اداسی۔۔۔
” حجاب خھمکھا پریشان ہو رہی ہو کوئی نہیں ہے چھوڑو یہ بتاؤ لڑکا ہوا تو کیا نام رکھوگی اور لڑکی؟؟ اور ایک بات تو بتاؤ ابراز بھائی کو بتایا یا شرم کے مارے بتایا نہیں گیا “ حجاب جو اپنی ہی دنیا میں کھوئی تھی ابراز کا نام سن کر بُرا سا منہ بنایا۔۔۔
” مجھے کیوں شرم آنی چاہیے اُسے آئے جو ایسے کام کرتا پھرتا ہے“ وہ تو نام سن کر آگ بگھولا ہوگئی۔۔۔اپنے الفاظ تک پر غور نہیں کیا۔۔۔
” اف تم تو اس بیچارے کی پیدائشی دشمن ہو کبھی آنکھیں کھولے تو پتا لگے کل ہی اسکے نام کا چیک آیا تھا چیرٹی فنڈ کے لئے جو ہماری یونی سے جا رہا تم نے اور میں نے تو بس ایک ہزار دیا اسے دیکھو پانچ لاکھ دیے ہیں “ جویریہ نے اسکی عقل پر ماتم کرتے کہا حجاب تاثیر وہ ہے جو خود کے بجاۓ دوسروں کا ایمان جج کرتی پھرتی ہے۔۔۔
” ہاں تو کون سا خود کماتا ہے باپ کا پیسا ہے اڑائے گا ہی“
جھٹ سے جواب آیا تھا لہجہ وہی غصّے سے بھرا تھا۔۔ حجاب نے بیگ سے شول نکال کر اپنے گرد اوڑھی سرد حوائیں بار بار اس سے ٹکرا کر اسکے جسم کو برف کی مانند ٹھنڈا کر دیتیں۔۔
” تم کون سا خود کماتی ہو؟؟ “ جویریہ کو غصّے سے آگیا یہ بندی ابراز حیات کے معملے میں واقعی عقل سے پیدل ہے۔۔
” حجاب تمہارا نشئی شوہر نشے میں پیسے اڑا دیتا عیاشی کرتا لکین اس نے اس کام کے لئے پیسے دیے یہ بڑی بات نہیں؟؟ کوئی انسان اللہ‎ کو خوش کرتا تو کوئی اسکے بندوں کو تم وہ ہو جو حقوق اللہ‎ پر عمل کرتی ہو مگر تمہارا شوہر حقوق العباد پر اور ایک بات یاد رکھنا حجاب۔۔۔ ساری زندگی۔۔۔۔
حقوق العباد کے گناہ نمازیں پڑھنے حج کرنے یا روزے رکھ لینے سے بھی معاف نہیں ہوتے!!! یاد رکھو ان گناہوں میں معافی ہی نہیں، تلافی بھی کرنی ہوگی!!!!
اور تمہیں نہیں لگتا تم نے اسکا دل دکھایا ہے تم اسکی مجرم ہو۔۔ “ جویریہ نے اسے احساس دلانا چاہا جو ہر احساس سے عاری تھی اسے صرف اپنا ہی دکھ یاد تھا۔۔۔
” جویریہ تم نے غلط کہا کے میں اسکی مجرم ہوں آگر میں اسکی مجرم ہونا تو اس سے زیادہ وہ میرا مجرم ہے گہنگار ہے میرا “
حجاب کی آواز بھر آگئی۔۔
” اور ہاں بندوں کے حقوق نا؟؟؟ پوچھنا اپنے ابراز بھائی سے اسنے کتنا رلایا مجھے؟؟ میرے ماں باپ کو؟؟ میں نہیں وہ میرا مجرم ہے جسے تاقیامت معاف نہیں کرونگی میں “ وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی آنکھیں جھپکائے اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔ شادی کا دکھ کم تھا جو اب اولاد بھی نجانے کیوں اسے ہر شخص سے نفرت ہونے لگی تھی اسے اپنی پہلے والے زندگی عزیز تھی جس میں وہ آزاد تھی کسی سے بحث نہیں تھی۔۔کوئی ہر وقت اسے سمجھاتا نہیں تھا بلکے سب اسے سمجھدار کہتے نجانے وہ دن کہاں گئے؟؟ یہ سب ابراز کے آنے کے بعد ہی ہوا ہے جو اسکے ماں باپ بہن بھائی سب اس سے دور ہوگے اسکی دوست تک۔۔۔۔۔۔

                   ☆.............☆.............☆

مغرب کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تو حجاب نے اپنی آنکھیں کھولیں چھت کو گھوڑتے بےاختیار اسکا ہاتھ اپنے پیٹ پر گیا۔۔۔ دھیرے دھیرے وہ اسے سہلانے لگی اسکے ہونٹوں پر خود با خود ایک خوبصورت مسکراہٹ آن ٹھری اسے خود نہیں پتا تھا وہ کیا کر رہی لیکن اس خوشی کو محسوس کرتے ہی ایک عجیب سا سکون اسے محسوس ہوا۔۔۔ نجانے کتنے پل گزرے تھے کے اسے کسی کی نظروں کی تپش اپنے وجود پر محسوس ہوئی حجاب دھیرے سے اٹھ بیٹھی تبھی اسکی نظر سامنے بیٹھے ابراز حیات پر پڑی جو بےخودی کے عالَم میں مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ حجاب نے بوکھلاتے ہوئے اپنا دوپٹا ڈھونڈا جو اسے تکیے پر ہی پڑا ملا۔ حجاب نے جلدی سے دوپٹا اٹھا کے اپنے گرد پھلایا۔ حجاب کی اس حرکت پر سامنے بیٹھے ابراز کے ہونٹوں کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔۔۔
” یہ تو ظلم ہے دشمن جاں وہاں ہم جدائی میں تڑپتے رہے اور یہاں آپ اپنی نیندیں پوری کر رہی ہیں “
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اسکے پاس چلا آیا نظریں اس دشمن جاں پر تھیں جو ان بیس دنوں کی جدائی میں ہر حسن کو مات دے گئی تھی یا اسکے شوہر کی نظریں تھیں جس نے اسے دنیا کی حسین ترین بیوی بنا دیا۔۔۔ وہ آکر اسکے پاس بیٹھ گیا حجاب فوراً سے دور کھسکی۔۔
” بہت ظالم ہو۔۔ آپ کے دیدار کے لئے کتنا بےچین رہے ہیں آپ کو اندازہ بھی نہیں۔۔۔ “ وہ اسکے دور کھسکنے پر چوٹ کرتا ہوا بولا حجاب نے خونخوار نظروں سے اسے گھوڑا۔۔
” اُف یہ قاتل نگاہیں کسی دن جان سے جائیں گے اور آپ کو خبر بھی نہ ہوگی۔۔۔۔ “
ابراز نے مسکراتے ہوئے ان قاتل نگھائوں کو آنکھوں کے حصار میں لیا۔۔ حجاب نے فوراً نگھائیں پھیر لیں یہ شخص تو آنکھوں کی ذریعے نگلنے کا فن جانتا ہے۔۔۔۔۔
” ابراز بھائی۔۔ امی نے بتایا آپ آئیں ہیں میں تو بھاگا چلا آیا۔ کیسے ہیں آپ؟؟ “ اسامہ اچانک سے دروازہ کھول کر آٹپکا ابراز کا ہلک تک کروا ہوگیا اس طرح کی مداخلت اسے کہاں پسند تھی لیکن سالا تھا اسلئے یہ کڑوا گھونٹ پی لیا۔۔ ویسے ہی ابراز کو حجاب کی فیملی سے اپنائیت تھی نجانے کیسے اجنبی رشتے اسکے دل میں گھر کر گئے۔۔۔
” میں ٹھیک تھا۔۔۔ اب خوش ہوں “ ابراز کی نظر حجاب پر آن ٹھیری جو اب بستر سے اٹھ چکی تھی۔ وہ اسکی بات کا مفہوم خوب جانتی تھی اسے سنانے کے لئے ہی تو کہا گیا تھا۔۔۔وہ اسکی لو دیتی نگھاؤں کو نظر انداز کرتی واشروم کی جانب چل دی اسامہ بھی حجاب کی یے بےرخی محسوس کر چکا تھا لیکن خاموش رہا۔۔۔
” تم سناؤ کیسے ہو؟؟ “ ابراز نے حجاب کے جانے کے بعد اسامہ سے پوچھا اسامہ جواب دیتا اسے باہر تاثیر صاحب کے روم میں لے آیا۔۔ حجاب بھی انکے جاتے ہی واشروم سے باہر آئی اور مغرب کی نماز ادا کی۔۔
حجاب نماز کے بعد کمرے سے باہر آئی تو اسنے ایک شکوہ کناں نظر ماں پر ڈالی جنہوں نے اسے ابراز کے آنے کی خبر تک نہیں دی۔۔۔ وہ چلتی ہوئی کچن میں آئی اسے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی لیکن اسکا پاڑا تب ہائی ہوا جب اس نے کوئی چار پانچ ڈیشز تیار ہوتے دیکھیں کسی چولے پر چکن بن رہا تو کسی میں پراونس اور فش یہ سب دیکھ کر الٹا اسکا دل خراب ہوگیا۔۔ وہ تاثیر صاحب کے روم میں آگئی جہاں ابراز قہقہ لگاتا اسے زہر لگ رہا تھا وہ آکر تاثیر صاحب سے چپک کر بیٹھ گئی اور یہی اسکی غلطی تھی۔ ابراز ڈھٹائی سے تاثیر صاحب سے بات کرتا ایک گہری نظر سے اسے نوازتا حجاب نے اسکی حرکت دیکھ سر پر اوڑا دوپٹا درست کیا۔۔ وہ بھی ایک نظر اسے ضرور دیکھتی جو ڈھٹائی سے اسے گھور رہا تھا لیکن اسے کیا پتا تھا اس وارننگ کو ابراز کوئی اور ہی رنگ دیگا۔۔۔

” مجھ سے مت پوچھو میرے محبوب کی سادگی کا انداز
نظر بھی مجھ پر تھی اور پردہ بھی مجھ سے تھا “

آمنہ نے دونوں کو ڈنر کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر بلایا تب ابراز نے موقع دیکھتے ہی اسکے قریب آکر سر گوشی کی اور حجاب اسے کچھ سناتی اس سے پہلے تیزی سے وہ ڈائننگ ٹیبل تک پہونچ گیا۔۔۔
” اللہ‎ پوچھے تم سے “ وہ رو دینے کو تھی۔ آنسوں پیتی زہر مار کر ایک ایک نوالا ہلک سے اتارا اور وہ انسان مزے سے ایک ایک ڈش ٹیسٹ کر کے اسکی ماں کی تعریف کر کے مزید انہیں اپنی سائیڈ پر کر رہا تھا۔۔ حجاب کو وہاں لگ رہا تھا وہ کوئی مہمان ہے اس سے زیادہ وہ سب ابراز کی خاطرداری کر رہے تھے جیسے پچھلے بڑے خوشگوار تعلقات رہیں ہیں۔۔۔
ڈنر کے بعد وہ اپنے ماں باپ سے ملتی ابراز کے ساتھ کار میں آبیٹھی۔۔۔۔

                     ☆.............☆.............☆

” کبھی مسکرا بھی لیا کرو بےبی۔۔۔ “حجاب نے نظریں کھڑکی سے باہر آتی جاتی گاڑیوں پر جما لیں اسے ابراز کا بولنا دیکھنا ہر چیز سے چڑ ہو رہی تھی اسکے ماں باپ کو ذرا پروا نہیں انہوں نے اسکے ساتھ کیا کیا ہے؟؟ آج سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی سب ابراز کو ایسے عزت دے رہے تھے جیسے کھاتے ہی اسی کے پیسوں کا ہیں تبھی تو یہ شخص سب کو انگلی پر نچاتا ہے ماں باپ ساس سسر حتاکہ اسکے بھائی بہن۔۔۔ اور عزیز دوستیں۔۔۔۔۔۔ سب چھین لیا ابراز نے اس سے اب تو اسکا یونیورسٹی جانے کو دل بھی نہیں کرتا۔۔۔
” حجاب “ ابراز اسے سر سیٹ کی پشت سے لگاتے دیکھ ایک پل کو ڈر گیا کہیں اسکی طبیعت؟؟؟ تبھی اسے پکارا
” خدا کے لئے چپ رہو میرا دماغ پھٹ جائے گا “ ابراز نے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا یکدم بدلتا موڈ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔ اس نے تو آج کچھ کیا بھی نہیں پھر؟؟ اسکی بےرخی دیکھ ابراز نے خاموشی سے ڈرائیونگ جاری رکھی۔۔۔۔
گھر کے آتے ہی اسنے چابی ڈرئیور کو دی اور اسکے ساتھ قدم اٹھاتا کمرے تک آیا۔۔ کمرے میں آکر ابراز نے دروازہ بند کر دیا اور قدم قدم چلتا اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا جو فرج سے پانی نکال رہی تھی۔ یہ چھوٹا سائز فرج ابراز نے ہی اپنے روم میں رکھوایا تھا۔۔ حجاب پانی کی بوتل نکال کر پیچھے مڑی تو ابراز سے ٹکراتے بچی ابراز نے اسکے ہاتھ سے بوتل لیکر فرج کی اوپر رکھی اور اپنے سالوں کی خوائش پر عمل کیا۔۔ ہمیشہ سے وہ چاہتا تھا یہ نقاب خود وہ اپنے ہاتھوں سے اُتارے پاکستان آتے ہوے بھی یہی اسکے اندر خوائش جاگی تھی اور اب تو وہ اسکی ملکیت تھی اسکی شریکِ حیات۔۔۔۔پھر کیوں نا وہ دل کی خوائش پر عمل کرتا۔۔۔۔ ابراز نے نقاب کی ہوئی پنز کو احتیاط سے ہٹایا۔۔۔۔
” تمہیں پتا ہے تم دنیا کی خوبصورت ترین بیوی ہو اور اس نئی تبدیلی نے تمہیں بےحد حسین بنا دیا ہے۔۔۔۔“ ابراز محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔ حجاب کا حسین چہرہ ان آنکھوں میں سموئے وہ بیس دن کی پیاس بھجا رہا تھا۔۔۔
” اور تم دنیا کے بدصورت شوہر ہو۔۔۔ “ حجاب نے نفرت سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔۔
” آج کے دن پلیز یہ سب چھوڑو تمہیں پتا ہے میں کتنا خوش ہوں؟؟ سوچو حجاب ہماری اولاد۔۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتیں کتنی عزیز ہوگی مجھے۔۔۔ اور مجھے پتا ہے تم بھی بہت خوش ہو وہ حرکت میں بھولا نہیں جب تم ہمارے بچے کو محسوس کر۔۔۔ “ ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آٹھری وہ ان آنکھوں میں دیکھتا اس نئی خوشی کو محسوس کر رہا تھا کے حجاب نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے اسے خود سے دور دھکیلا
” میرا نہیں تمہارا سب تمہارے ہیں میرا کوئی نہیں تمہیں سکون کہاں ملتا ہے مجھے خوش دیکھ کر ہر رشتہ تو چھین لیا مجھ سے کیا بچایا ہے؟؟ یہ بچا جسکا نام حجاب سے نہیں ابراز سے ہوگا۔۔ نہیں چاہیے تمہاری یہ مہربانی آگ میں جھونکو۔۔۔۔ “ اسکا اندر کا ابلتا لاوا آج پھٹ گیا۔۔ وہ غصّہ جو ناسور کی طرح اسکے رگوں میں دور رہا تھا وہ آج برداشت سے باہر ہوگیا۔۔۔
” شٹ اپ کونسا سوگ مناتی ہو دن رات؟؟ کیا کیا ہے میں نے؟؟ کس کو چھینا میں نے؟؟؟؟ ہر رشتہ موجود ہے تمہارے پاس تم وہ ناشکری بندی ہو جسے زمین و آسمان کی دولت سے بھی نوازا جائے تو ماتم کریگی۔۔ “ ابراز کا پاڑا ہائی ہوگیا اپنے بچے کے بارے میں یہ سب سن کر زندگی میں پہلی بار اسے کوئی اپنی روح سے جڑی خوشی ملی تھا جسے حجاب تاثیر نے پل بھر میں اسکی روح سے جدا کر دیا۔۔۔۔
” کونسی دولت تم جیسا شخص؟؟؟ “ وہ نفرت و حقارت سے چلائی
” کیا خرابی ہے مجھ میں کیا کیا ہے میں نے جو بےبنیاد ماتم بنایا ہے “ وہ اس سے اونچی آواز میں چلایا۔۔۔
” تم۔۔ زندگی برباد کی ہے میری۔۔۔ نفرت ہوگئی ہے آپنے آپ سے تم جیسے نشئی کی بیوی ہوں نفرت ہے تمہارے ان ہاتھوں سے جس سے تم نے مجھے بےنقاب کیا نفرت ہے ان غلیظ نظروں سے جو مجھے اپنے جسم میں چُبتی محسوس ہوتی ہیں۔۔ نفرت ہے تمہارے وجود سے جس نے مجھے میرے ماں باپ کی نظروں میں شرمندگی دیکھنے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔۔ کیا کیا ہے میں نے آج تک جو سب مجھے سناتے ہیں تمہاری نظروں سے خود کو بچایا،،، تمہارے لمس سے خود کو محفوظ رکھا۔۔ تمہاری موجودگی سے ڈرتے ہوے اس جگہ پر جانے سے پرہیز کیا لیکن تم نے۔۔۔ تم نے میرے بابا کو بستر سے لگایا، میری زندگی حرام کردی۔۔۔ مجھ سے شادی کی تم خود بتاؤ تم جیسا حرام رشتے بنانے والا مجھ جیسی بیوی ڈیزرو کرتا ہے؟؟ نہیں نا اور میرے ماں باپ کو دیکھو سب خوش ہو رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں میری پسند سے میری شادی کی ہے۔۔۔ “
وہ روتے ہوے زمین پر بیٹھ گئی اسکا دل آج سارا غباڑا نکال کر ہلکا ہوچکا تھا لیکن۔۔ یہ درد یہ درد تو اب بھی تھا۔۔۔۔
” کبھی آئینہ دیکھو تو جانو تم بھی برابر کی زمیدار ہو شرط رکھی تھی تم نے خود، آخر وقت میں اس سے مکر گئیں، ہر غلطی کا ازالا کرنے کی کوشش کی ہے نقاب اتارا تھا تو کسی کو دیکھنے نہیں دیا وہاں میرے علاوہ سب پیچھے تھے کسی نے تمہارا چہرہ نہیں دیکھا تم آگے بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔۔ “ ابراز نے سرد لہجہ میں کہکر قہر آلودہ نگھاؤں سے روتی بالکتی اپنی بیوی کو دیکھا۔۔۔ پھر سر ہاتھوں میں تھام کر اپنا غصّہ کنٹرول کیا یہ لڑکیاں پل بھر میں رو کر غصّہ کسی جھاک کی طرح بیٹھا دیتیں ہیں وہ بھی اپنے آپ کو سو گالیوں سے نوازا اسکے ساتھ نیچے بیٹھا۔۔۔
” حرام رشتے؟؟؟ حجاب خود سے پوچھو تم سے نفرت کے باوجود نفرت نہیں کر پاتا تمہاری موجودگی نے بدلہ ہے مجھے۔۔۔۔ دیکھو تم تمہارے آنے کے بعد میں نے شراب نہیں پی کہیں نہیں گیا صرف تمہاری موجودگی مجھے سکون بخشتی ہے بیس دن میں وہاں پاگل ہوگیا تھا پلیز حجاب کمپرومائز کرلو۔۔ اس طرح ہم دونوں خوش نہیں رہ پائیں گئے۔۔“ ابراز نے محبت سے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر کہا
” میں نہیں تم اور یقین جانو بہت سکون ملیگا مجھے۔۔“
حجاب نے آنسوں بھری آنکھوں سے نفرت سے اسے دیکھا
” محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔ “ وہ بےبسی سے بولا کیا ابراز حیات کی حجاب تاثیر کی نظروں میں کیا کوئی ویلیو نہیں؟؟
” نفرت کی انتہا ہوتی نا تمہیں دیکھاتی لعنت بھیجتی ہوں ایسے محبت پر۔۔۔ “ وہ غرائی۔۔۔ وہ جو اسے زندگی سمجھ بیٹھا تھا اسکی نظروں میں مٹی کی دھول برابر بھی نا تھا؟؟؟ ابراز کے حواس مفلوج ہوگئے اسے لگا آج زندگی اس سے بہت دور چلی گئی بہت دور جسے وہ ہاتھ لگاے گا تو دھول بن کر مٹی میں مل جائے گی۔۔۔۔۔۔نظریں جھکائے وہ ضبط کی انتہاوں پر تھا۔۔ کسی ننے بچے کی طرح اسکا دل رو رہا تھا اپنی ہی بیوی کے ہاتھوں ایسی عزت؟؟؟ کیا گناہ تھا اسکا بیوی سے محبت؟؟ جس راہ پر اس نے قدم رکھے تھے قسمت نے خود بتایا تھا وہ راہ تمہیں گمراہی سے نکالے گی پھر یہذلت کیوں؟؟؟؟ یکدم اسکی آنکھیں خون آلودہ ہوگئیں اسنے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ رو رہی تھی اپنی زندگی پر ماتم کر رہی تھی ابراز نے پوری قوت سے اسکا جبڑا سختی سے دبوچا۔۔۔
” تم حجاب تاثیر ہر بار تم نے مجھے ضد دلائی ہے میں حیوان سے انسان تمہارے لئے بنا تھا لیکن تم اس لائق نہیں۔۔ میری محبت کے لائق نہیں تم۔۔۔۔ آج سے دیکھنا ابراز حیات کون تھا؟؟ کیسا تھا؟؟ اور کیوں تھا ؟؟؟ آج ایک عورت نے دوسری بار مجھے توڑا ہے تم عورتیں بیوی بنے کے قابل ہی نہیں ہو “ لال انگارہ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر حجاب کانپ گئی۔۔۔
اسکے جبڑے کو۔ آزاد کرتا وہ زہر اسکے کانوں میں اگل کر جا چکا تھا اسکے اندر کی آگ کا پتا حجاب کو تب لگا جب اس نے پاس پڑا موبائل پوری قوت سے ڈریسنگ کے شیشے پر مارا جو ابراز کے دل کی طرح چکنا چوڑ ہوگیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔