Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 14 (Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14 (Part 2)
انا_پرست
از_یسرا
قسط_14 پارٹ 2
” آپ ؟؟ “ حجاب جو گیٹ کے پاس نقاب کیے بےقراری سے ابراز کا انتظار کر رہی تھی اُس کی ریسپشنیسٹ کو دیکھ حیران رہ گئی۔۔۔۔
” جی میم مجھے سر نے بھیجا ہے یہ کار ایک ہفتے تک رینٹ لے ہی جب تک آپ کی اپنی کار نہیں آجاتی “ وہ کسی رٹے رٹائے سبق کی طرح بولتی اسے مایوس کر گئی۔۔ ریسیپشنیسٹ نے اسکی طرف چابی بڑھائی جسے تھامے بغیر حجاب نے کہا
” آپ کے سر کہاں ہیں اس وقت؟؟؟ “ حجاب کو رونا آرہا تھا۔۔۔ اس قدر بےرُخی پر۔۔۔۔
” وہ میم علیزہ کے ساتھ ایک بنگلو دیکھنے گئے ہیں میم آپ بیٹھیں نہ سر نے کہا ہے میں آج کی پروگریس کا انھیں بتاؤں۔۔۔۔ “ حجاب کا دل علیزہ کا نام سن کر رُک گیا کل رات کی بات اسے شدت سے یاد آئی۔۔۔۔
” صرف منہ مارتا ہوں نہ؟؟ ایسا نہ ہو تمہاری یہ بےعتنائی دیکھ کر کسی دن دوسری شادی کر لوں۔۔۔“ کچھ دیر پہلے کا وہ پچھتاوا کہیں اڑن چھو ہوگیا۔۔۔ بس یاد آیا تو اس ستمگر کی بےرخی وہ خاموشی سے آکر کار میں بیٹھ گئی۔۔۔
رانیہ کے جانے بعد عائشہ بھی اسے چھوڑ کے چلی گئی رانیہ کے ماں باپ انصاف کے لئے عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے لیکن رانیہ کی باڈی نہ ملنے کی صورت میں وہ کیس ہی بند ہوگیا اور ساتھ فہیم احمد بیوی بچی کو لیکر فرار ہوگیا تب سے حجاب کو ہر شخص میں ایک فہیم احمد نظر آتا وہ دن جب ابراز نے شراب کے نشے میں اسے بےنقاب کرنا چاہا جب بھرے مجمعے میں اس نے واقعی بےنقاب کیا وہ گندی نظریں،، حجاب کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک لمحہ گھوما وہ شعر و شاعری۔۔۔ انا پرست حجاب تاثیر؟؟ اور وہ خود انا کا مارا انسان میری روتی آواز میری آمد کو ٹھکرا گیا آج تک کب میں نے اُسے بلایا؟؟ آج سے پہلے اُسے کال کر کے کب خود سے بات کی؟؟؟ حجاب کی انکھیں مسلسل بہ رہیں تھیں اسکا نقاب بھیگ چکا تھا۔۔۔
” میم۔۔۔ “ وہ اپنی سوچوں سے چونکی اور رخ موڑ کر دیکھا وہ سی ویو پہنچ چکے تھے۔۔۔
” ہاں؟؟ “ اسکی آواز ابھی بھی بھاری تھی۔۔۔
” سمجھ آیا؟؟ اب آپ کو دوبارہ ایکسپلین کرتی ہوں “ وہ کہتے ہی کار ریورس کرنے لگی
” تمہارا نام کیا ہے؟؟ “ حجاب نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو روکا جسکی وجہ سے اسکی آواز تک بھاری ہو رہی تھی۔۔۔
” منتہا “
” منتہا م۔۔۔مجھے شروع سے سمجھائو “
حجاب نے اپنی سرخ ناک رگڑی منتہا نے اثبات میں سر ہلاتے کار اسٹارٹ کی وہ اب منتہا کی ایک ایک کروائی دیکھ رہی تھی کیوں کے اسے اپنے بچوں کے لئے ڈرائیونگ سیکھنی تھی کسی پر ڈیپینڈ نہیں ہونا تھا۔۔۔۔ لیکن ابراز حیات کی بےرُخی نے آج وہیں وار کیا جہاں حجاب نے چھ سال پہلے اسکے دل پر کیا تھا۔۔۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
ڈائننگ ٹیبل پر وہ کھا کم رہی تھی بلکے اسکی نظریں بار بار ابراز کی طرف اٹھتیں جو اپنی ماں سے نجانے کس پارٹی میں جانے کے لئے انکار کر رہا تھا۔۔ وہ اس سے بےنیازی برتتے مزے سے کھانا کھاتا رہا کافی تک اس نے ملازمہ سے کہکر بنوائی۔۔۔
وہ آنسوں پیتی بار بار اسے دیکھتی رہی کھانے کے بعد بھی وہ آکر ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھ گیا۔۔ جہاں بچے اپنا فیوریٹ شو M.A.D دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
حجاب نے سوچا وہ بھی جا کر اسکے پاس بیٹھے وہ اس سوچ پر عمل کرنے لگی تھی کے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا ابراز کا فون بجا حجاب وہیں کھڑی تھی اس نے فون اٹھا کر نام دیکھا تو علیزہ کا نام دیکھ کر اسکی پیشانی پر بل نمایاں ہوے۔۔ وہ غصّے سے تیز قدم اٹھاتی ابراز کے پاس آئی اور فون اسکی گودھ میں پھینکا۔۔۔
” کال آرہی ہے فون سالینٹ پر مت رکھا کرو کل کو کسی کو اٹیک آجاے تم بےخبر بیٹھے رہو گئے۔۔۔ “ وہ سنجیدگی سے کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔۔
”اتنا غصّہ کیوں آرہا ہے؟؟؟ تمہاری سوتن کا فون ہے کیا؟؟ “
مزے سے کہہ کر ابراز نے کال پک کی جبکے وہ آنسوؤں پیتی دوڑتی ہوئی کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔
میں ہی بُری ہوں اور وہ خود کیا ہے؟؟؟ پارسا پانچ وقت نماز پڑھیں گئے اسے تو کلمے بھی نہیں یاد ہونگے عائشہ سب جھوٹ کہتی ہے جھوٹ اس جیسا شخص کبھی نہیں بدل سکتا۔۔۔
وہ تکیے میں منہ دیے رو دی۔۔ دل اور دماغ کی جنگ نے اسے پاگل کر دیا وہ جو عوروں کو دیکھتا ہے مجھے کیوں نہیں دیکھتا؟؟؟ مجھے سے پیار کرتا ہے تو علیزہ سے کیوں بات کر رہا صبح سے اگنور کر رہا مجھے۔۔۔۔ کتنی ہی دیر وہ تکیے میں منہ چھپاتی رو دی ہوش اسے تب آیا جب پرنیا نے اسے اٹھایا۔۔
” مما نیںنی آرہی “ پرنیا نیند میں جھول رہی تھی حجاب نے اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا خود منہ دھونے واشروم میں چلی آئی۔ منہ دھوکر اس نے وضو کیا اور باہر آگئی تب تک احتشام بھی روم میں آچکا تھا۔۔۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
“ sweet heart i will be there!!! Just few more minutes ”
وہ اپنے بال ٹاول سے رگڑتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا جو پرنیا کو سلا رہی تھی ساتھ احتشام کو ڈانٹ رہی تھی جس کا سونے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔
” مس یو ٹو بےبی آج رات تمہارا ہی ہوں “
وہ بغور اسے دیکھتے کہ رہا تھا جو اسکی رات والی بات پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔۔۔ابراز اسکے چہرے پر کچھ كهوجنا چاہتا تھا لیکن آج بھی وہ چہرا بےتاثر تھا۔۔۔
” اٹھو کپڑے نکالو۔۔۔۔ “ وہ فون رکھتے ہی اسکی طرف متوجہ ہوا وہ اٹھ کر اسکے کپڑے نکالنے لگی۔۔ لیکن آج نجانے کیوں اسکا دل رو رہا تھا آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا، اسے کوئی فرق نہیں پڑا، وہ تو خود یہی چاہتی تھی وہ اسکے قریب نا آئے بھلے کسی اور کے پاس جائے لیکن اس کے آس پاس نا رہے۔۔۔۔
” ڈیڈ آئ وانٹ اسپورٹس بائیک۔۔ “ احتشام آکر باپ سے لپیٹ گیا جو پرنیا کی پیشانی چوم رہا تھا۔۔۔
” اوکے کل گھر واپسی پر تمہاری بائیک تمہارے سامنے
ہوگی۔۔ “
” سچی ڈیڈ آئ لو یو۔۔ “ احتشام نے خوشی سے اپنے باپ کو گلے لگایا۔۔ اسکی نظریں بار بار حجاب کی طرف اٹھتیں اور مایوس ہوکر واپس لوٹتیں۔ اب وہ موبائل پر احتشام کو کچھ بائیکس کی پیکس دیکھانے لگا پھر اسکی پسند پر کال کر کے آرڈر کی جو کل فیکس احتشام کی اسکول اوفف ٹائمنگ میں ڈیلیور ہوگی۔۔۔
” حلیم بنا رہی ہو یا شرٹ پریس کر رہی ہو؟؟ “
وہ کوشش کرتا بچوں کے سامنے لہجہ نارمل رکھے۔۔
” شرٹ جل گئی “
آج پہلی بار اس نے کوئی ایسی حرکت کی تھی۔۔۔ شرٹ جان بوچھ کے جلائی۔۔۔۔ وہ خود نہیں جانتی کیوں؟؟
وہ جو کب سے اسے دیکھ رہا تھا جھٹکے سے اٹھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے کھنچتے ہوے اسے ٹیرس پر لے آیا جو انکے روم میں ہی گلاس وال دھکیلتے آجاتی۔ احتشام اسکے فون سے گیم کھیلنے لگ گیا تبھی انکے عمل سے بےخبر رہا کمرہ آخری فلور پر ہونے کی وجہ سے ٹیرس کی اونچائی کافی وسیع تھی۔۔۔ ابراز نے اسے ایک بازو سے پکڑ کے نیچے کی طرف دھکیلا ٹیرس کی اونچائی دیکھ کے بھی اسے ڈر نا لگا۔ وہ موت کا منظر باخوبی دیکھ سکتی تھی اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد شاید ہی کسی کی سانسیں واپس آئیں۔۔ آج موت یا ابراز کی شعلہ برساتی آنکھیں بھی حجاب کو خوف میں مبتلا نا کر سگیں۔۔ کوئی ڈر و خوف نہیں تھا ڈر تو اسے خود سے لگ رہا تھا آج۔۔ ہاں یہ ڈر ہی تھا جس کی وجہ سے وہ بےچین ہے، جس سے اس نے شدید نفرت کی بدعائیں دیں آج اُسی کے لیے اسکا دل دھڑک رہا ہے۔۔۔ اسے ڈر لگ رہا تھا دل کے اس شور سے اسکا اپنا دل اسے دھوکا دے رہا تھا۔۔۔
” کیا چاہتی ہو؟؟ بولو یہیں سے پھینک دوں تمہیں؟؟ مجھے اور میرے بچوں کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں تو زندہ رہ کر کب تک یہ دن بھر آنسوؤں بہا کر نہوست پھیلا رکھو گی؟؟ ظلم ہوا ہے نہ تمہارے ساتھ؟؟ بےزار ہو نہ اس زندگی سے؟؟ تو آسان حل یہی ہے ہمیں بھی تمہاری ضرورت نہیں گو ٹو ہیل “
ابراز کی سنجیدہ آنکھیں اور آگ برساتا لہجہ بھی اسے خوفزدہ نہ کر سکا۔ دوسرے ہاتھ سے اسنے ابراز کا بازو پکڑا اور اسکے سینے سے لگی بلک اٹھی۔۔۔۔
” پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے میں خود نہیں جانتی۔۔۔ مجھے بس سونا ہے ڈھیر سارا سونا اور کبھی نہیں اٹھنا۔۔۔ “
وہ ظالم لڑکی کیا کہہ گئی تھی اسے خود اندازہ نہیں تھا جبکے ابراز اسکے آخری الفاظ سن کر جی جان سے کانپ اٹھا تھا۔۔۔
” تم کون ہو جینے مرنے کا فیصلہ کرنے والی آئندہ مرنے کا نام لیا تو زبان کاٹ دونگا “ سختی سے اسے خود میں بھنچے وہ اسکی کمر کے گرد گرفت سخت کر چکا تھا۔۔۔
” کیا پریشانی ہے؟؟ کیوں اتنی ڈل ہو رہی ہو؟؟ “ کچھ لمحوں بعد جب رونے کی شدت میں کمی آئی تب ابراز نے تھوڑی سے پکڑ کے اسکا چہرہ اونچا کیا
” پتا نہیں “ آواز رندھی ہوئی تھی۔۔۔
” کسی نے کچھ کہا؟؟ “ اب کی بار محبت سے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھاما
” نہیں “ وہ نفی میں سر ہلانے لگی
” پھر؟؟ “ محبت بھرا لہجہ ایک بار پھر وہ اپنی ہی نفرت سے ہار گئی یہ وہ نہیں تھا جو اسے روتا دیکھ کر پُر سکون ہوجاتا یہ تو کوئی اور ہی تھا۔۔۔۔
” دل میں درد ہو رہا “ آنسوؤں کا سیلاب ابراز کے ہاتھ بھگو گیا۔۔۔ دل کا درد مزید بڑھ گیا
” کیوں؟؟ “ ابراز کو آج ان آنکھوں میں اپنا عکس صاف دیکھائی دیا
” پتا نہیں۔۔ “ وہ نظریں چُراگئی ابراز کے دونوں ہاتھ جو اسکے چہرہ تھامے ہوے تھے انھیں جھٹکا۔۔۔آخر کب تک وہ جان بوچھ کر ابراز کی محبت سے انجان رہے گی۔
” کیا پتا ہے؟؟ میری آنکھوں میں دیکھ کر جواب دو “ وہ کہاں اس سے ہارنے والا تھا ایک ہاتھ اسکی کمرکے گرد حمائل کیا جبکے دوسرے ہاتھ سے اسکی ٹھوڑی پکڑ کے سر اونچا کیا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ان آنکھوں میں آج نا نفرت تھی نا انا بس محبت تھی اپنی بیوی کے لئے۔۔۔ایک بار پھر اسے وہ خط یاد آگیا۔۔۔ وہ اسکی شرٹ دونوں ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑے۔۔ اسپر سر رکھے۔۔ رو دی
” یہی کے مجھ سے کوئی راضی نہیں۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔ “
” کون نہیں ہے “ وہ نرمی سے اسکی پیٹھ تھپکنے لگا۔ دل ہی دل میں آج وہ بہت خوش تھا اسے یقین ہو چلا تھا محنت رائیگاں نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔۔
” اللہ “ ابراز کے حرکت کرتے ہاتھ رُک گئے۔۔ چند لمحے آسمان کو تکتے جیسے وہ سب منظر ذہن میں ریوائنڈ کر رہا تھا پھر اسے دونوں کندھوں سے تھامے جنونی انداز میں اگلا سوال دغا۔۔۔
” اور۔۔ “ وہ خاموش رہی
” پلیز بولو نا؟؟ آج چُپ مت رہو تمہاری چپ میری جان لے لے گی “
” شوہر “ رندھی ہوئی آواز کے ساتھ اسکے ہلک سے الفاظ برآمد ہوئ جس نے اسکے شوہر کو زندگی کی نوید سنائی
” مانتی ہو شوہر اُسے؟؟ “ خوشی بےیقینی کیا کیا نا تھا اسکے شوہر کی آنکھوں میں۔۔۔۔
” ہاں “ وہ جھکا تھا اور اسکی بےداغ پیشانی چومی۔ آج یہ لمس اسے سکون بخش رہا تھا نہ گھن آئی نہ نفرت ہوئی بلکے محبت بھرا لمس اسکی آنکھیں نم کر گیا یہی تو ہے جو اسے بےچین کیے ہے۔۔۔ یہ محبت ہاں آج وہ ہار گئی اپنے شوہر سے، اس دل سے جہاں وہ بستا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے کمرے میں لے آیا۔۔۔
” بیٹھو “ اسے بیٹھنے کا کہ کر خود اسکی گود میں سر رکھے لیٹ گیا۔ نم آنکھوں سے وہ اسکا روشن چہرہ دیکھ رہی تھی جو اسے ہمیشہ خوفناک لگتا تھا آج وہ چہرہ اسے خود سے زیادہ خوبصورت اور روشن لگ رہا تھا۔۔
” میرا سر دباؤ “ اگلا حکم جاری کیا لیکن وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔
” تم سے کہ رہا ہوں۔۔ کہاں ہو “ وہ جو آنکھیں موندھے لیٹا تھا اسے حرکت کرتا نا دیکھ آنکھیں کھولے تھوڑے سخت لہجے میں بولا۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اسکا سر دبانے لگی آج سے پہلی ایسی کوئی خواہشں ابراز نے نہیں کی تھی اگر کہتا بھی تھا تو صرف چڑانے کے لئے لیکن آج جہاں وہ بدلی تھیں وہیں ابراز بھی اس میں تبدیلیاں دیکھ چکا تھا شاید تبھی آج ابراز نے پہل کی۔۔۔
” بس چھوڑو یہاں آکر میرے ساتھ لیٹو “ پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے ہونگے کے ابراز نے اگلا حکم سنایا۔ اسنے دھیرے سے اسکا سر اپنی گود سے ہٹا کر وہاں تکیے پر رکھا۔۔۔ جھجھکتے ہوے وہ دوسری بات پر عمل کرنے کے لئے بیڈ پر جھکی تھی اسکا ارادہ بچوں کی سائیڈ پر سونے کا تھا جو بیڈ کی دوسری سائیڈ پر سو رہے تھے۔۔۔
” یہاں سر رکھو۔۔۔ “ اپنا بازو پھلائے وہ اسے اپنے پاس سونے کی دعوت دے رہا تھا۔۔۔
” اتنا سوچ کیا رہی ہو شرافت سے یہاں آئو میں اٹھا تو تم جانتی ہو۔۔۔ “ رعب دار لہجے میں وہ اسے دھمکی دے کر پاس آنے پر مجبور کر گیا۔۔ وہ کچھ ججھک کر اسکے پاس آئی اور آنکھیں موند کر اسکے پھیلائے بازو پر سر رکھ دیا۔۔۔
” میری طرف دیکھو۔۔۔ “
” پلیز۔۔۔ “ وہ کروٹ ابراز کی سائیڈ لیکر اسکے سینے میں منہ چھپا گئی۔ آنکھیں کھولنے کی اس میں ہمت نا تھی وہ جو خود کو ہمیشہ اس سے بہتر سمجھتی تھی آج کہیں سے وہ اس باوقار شخص کی ایک انگلی برابر بھی نا لگ رہی تھی۔۔۔۔اسکے شوہر نے بھی ضد نہ کی بس اسے سختی سے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
وہ صبح نماز کے لئے اٹھی تو ابراز کہیں نہیں تھا۔ رات کا منظر یاد آتے ہی اسے خود پر حیرت ہوئی لگ رہا تھا جیسے وہ کسی خواب کی کیفیت سے بیدار ہوئی ہے۔۔۔ وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر بالوں کا جوڑا بنا کر اٹھی وضو کیا اور نماز ادا کی۔۔۔
” وہ کہتا ہے میں بدل گیا ہوں۔۔ اگر بدل گیا ہے تو کہاں ہے؟؟ آج پھر وہ اپنی جیسی عورتوں کے پاس گیا ہے۔۔۔ ایسے انسان کبھی نہیں بدلتے۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ آج مجھے جھکا کر وہ چلا گیا۔۔۔ لیکن میں جھکنے والوں میں سے نہیں وہ مر بھی جائے تب بھی کبھی اقرار نہیں کرونگی یہ راز صرف میرے اندر دفن رہیگا کے میں ایسے انسان سے محبت کرتی ہوں جو میری محبت کیا؟؟ نفرت کے لائق بھی نہیں۔۔۔ عائشہ کہتی ہے میں نیکی کا تکبر کرتی ہوں نہیں میں نیکی کا تکبر نہیں کرتی لوگوں کو انکا اصل چہرہ دیکھاتی ہوں جسے تنہائی میں دیکھنے سے بھی وہ ڈرتے ہیں۔۔۔ میں نہیں کرتی غرور میں سچ کہتی ہوں جو اُنھیں کڑوا لگتا ہے اور وہ کہتی ہے میں خوش نصیب ہوں ایسا شوہر پا کر لیکن مجھ سے برا بدنصیب کون ہوگا؟؟ وہ پاگل انجان ہے اُس نے محبت جاگا تو دی میرے دل میں لیکن وہ اُس شخص کے دل میں نہیں جاگا سکتی جو صرف خود سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ “ وہ دعا مانگ کر آنسوؤں پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی جانماز رکھتے وہ پیچھے مُڑی تھی تبھی دروازہ کھول کر ابراز شلوار قمیض میں ملبوس اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔
” تم۔۔۔ تم تو چلے گئے تھے؟؟ “ وہ اسے یکدم سامنے کھڑا دیکھ بوکھلا گئی۔۔
” تو واپس نہیں آسکتا؟؟ “ وہ قدم اٹھاتا اسکے قریب تر آرہا تھا۔۔۔
” تمہیں کیا لگا عیاشی کرنے گیا ہوں “ وہ اس کے اسقدر قریب آگیا کے حجاب کا سر اسکے دل سے ٹکرایا۔ اسکا قد بمشکل ابراز کے دل تک آتا۔۔۔ وہ اسکی طرف جھکتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا ہونٹوں پر ایک بےبس سے مسکراہٹ تھی۔۔ حجاب شرمندگی سے نظریں جھکا گئی
” عرصہ ہوا ہے۔۔ ایک لڑکی نے دل پر قبضہ جما لیا تب سے یہ دل بےبس ہے کہیں اور جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔۔ “ خاموش پاکر ابراز نے محبت سے اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔ وہ اسکی سوچ سے کیسے انجان رہ سکتا ہے پل پل تو اِسی کو پڑتا آیا ہے۔۔۔
” ان چھ سالوں میں ایسی سکون بھری نیند لی تھی؟؟ “ بات بدلنے کو اسنے کل رات والا واقع دوڑایا
” نہیں “ اپنے دونوں ٹھنڈے ہاتھ اسنے ابراز کے سینے پر رکھ دیے۔۔
” تم کہاں چلے گئے تھے صبح؟؟ “ اب وہ اسکی قمیض کے بٹنوں کو چھیر رہی تھی۔۔ ابراز یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جس سے وہ کنفیوز ہوکر نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
” تم نے مس کیا؟؟ “ پل بھر کو اسنے ابراز کو دیکھا اور واپس نظریں جھکا لیں ہونٹوں پر خوبصورت شرمگین مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
” تم پاس نہیں تھے تو میں گھبرا گئی۔۔۔ “
” ہمیشہ رہونگا اگر اجازت دو تو۔۔۔ “ وہ اسکی طرف جھکتا ہوا معنی خیزی سے بولا۔۔
” آج تک مجھ سے کب اجازت لی ہے۔۔۔ “ حجاب نے خفگی سے کہتے ہی اسے دور دھکیلا اور بیڈ کی سائیڈ کورنر پہ جاکر بیٹھ گئی۔۔۔
” اگر احتشام اور پرنیا کی بات ہے تو وہ میرا حق ہے، چلو تھرڈ جو آیا تمہاری مرضی سے ہوگا “ دھیرے دھیرے اسکی طرف قدم بڑھاتے وہ اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ رہا، آنکھیں حیا سے جھکی ہوئیں تھیں ناک اور گال کچھ شرم اور سردی کی شدت سے سرخ پر چکے تھے وہ ایک گھٹنے کے بل ٹھنڈی زمین پر اسکے ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
” آج سے پہلے تم کہاں تھیں؟؟؟ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لئے جتنا میں تڑپا ہوں تم جان بھی نہیں سکتیں ساری دولت لوٹا دوں تب بھی فائدہ نہیں یہ منظر دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔۔۔۔ “ وہ خاموش رہی ابراز کی باتیں سن کر ویسے ہی اسکا دل تیز دھڑک رہا تھا اب تو اسنے آنکھیں بھی سختی سے میچ لیں۔۔۔۔۔
” محبت ہے شوہر سے۔۔۔ “ سوال ایسا تھا کے وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی پوری آنکھیں کھولے وہ اسے تک رہی تھی۔۔۔۔
” ایسے دیکھ رہی ہو جیسے موت کی خبر سنا دی۔۔۔ “ دکھ بھرے لہجے میں کہہ کر اس نے ہاتھ کی پشت پر ہونٹ رکھنے چاہے تو حجاب نے ارادہ بھانپتے ہی جھٹ سے ہاتھ کھنچے۔۔۔
” سوری “ وہ اپنی بےاختیاری پر جی بھر کے شرمندہ ہوئی۔۔۔
حجاب کے چہرے پر بل بھر کو مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی جیسے اسی جواب کی امید تھی۔۔۔
” میری لیے دعا کروگی؟؟ “ وہ امید لگائے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے گویا ہوا۔۔۔۔
” جی۔۔ جی “ نجانے کیسا ڈر و خوف تھا جو ابھی تک اسے جکڑے ہوے تھا ابراز کی کسی بات پر حجاب کو اعتبار نہ تھا۔۔۔
” دعا کرنا میں ہار جاؤں زندگی کی پہلی بازی ہے جو میں ہارنا چاہتا ہوں آج تک صرف جیتنے کی خوائش کی ہے آج پہلی مرتبہ میں نے اُس سے ہارنے کی خوائش کی۔۔۔ تم بھی بولوگی تو وہ میری دعا ضرور قبول کریگا۔۔۔ میں جیتنا نہیں چاہتا اگر میں جیتا تو اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھونگا۔۔۔ جو مجھے بہت عزیز ہے بہت۔۔۔ “ وہ اسکا ہاتھ جو گودھ میں رکھا تھا نرمی سے سہلاتے ہوے کہ رہا تھا۔۔ حجاب کو اسکی آواز رندھی ہوئی لگی۔۔۔۔
” میرے کپڑے نکال دو آٹھ بجے کی فلائٹ ہے، ارجنٹ پہنچنا ہے وہاں میٹنگ اٹینڈ کر کے چار بجے تک لوٹ آؤنگا “ وہ کہتا ہوا اسکا ہاتھ چھوڑ کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
” میں خود ڈرائیو کرونگی آپ بس دیکھیں “ منتہا نے بےبسی سے اسے دیکھا جو ضد کر کے خود کار چلا رہی تھی ابھی وہ دونوں بچوں کو اسکول چھوڑ آئے تھے منتہا کے منع کرنے کے باوجود ضد کر کے ڈرائیونگ اس نے خود کی۔۔۔۔
” میم آرام سے جلد بازی کیسی؟؟ “ منتہا نے دوسری دفع اسے ٹوکا۔۔
” دیکھتی رہیں بس۔۔ “ حجاب کا آج موڈ بہت اچھا تھا خوشی اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی آج بار بار اسے ابراز کی ایک ایک بات یاد آرہی جسے یاد کر کے اس کی خوشی دو گنی ہوجاتی۔۔۔ ابراز کا اظہار اسکی رگ رگ میں سکون کی لہر دوڑا گیا۔۔۔ وہی تو اسکے سامنے جھکا تھا؟؟ اعتراف کیا تھا۔۔ محبت کا دعویدار تھا۔۔۔ دل چاہ رہا تھا اسکے آفس جاکر ایک دیدار کرے لیکن۔۔۔۔ اسے خود نہیں پتا اسکے سامنے دھڑلے سے بولنے والی آج کیوں اس سے شرما رہی ہے۔؟؟
☆.............☆.............☆
بچے کو وہ لاکھ پڑھانے کی کوشش کرتی لیکن وہ ہاتھ ہی نہیں آتے اسلئے حجاب نے انہیں پاس ہی ایک ٹیونشن میں لگایا تھا جو کے ایک فیمل ٹیچر ہیں۔۔۔
” گڈ ایوننگ میم۔۔۔ “ وہ بچوں کو ٹیوشن چھوڑ کر گھر کے لیے نکلی تھی۔ ابھی وہ ایک اسٹاپ پر رکی تھی کے اسے ابراز کے آفس سے کال وصول ہوئی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔۔۔
” گڈ ایوننگ جی کہیں آج مجھے کیسے یاد کیا؟؟؟ “ فون رسیو کرتے ہی وہ نہایت مؤدب لہجے میں گویا ہوئی
” میم وہ سر امپورٹنٹ میٹنگ میں ہیں انھیں ارجنٹ ایک فائل چاہیے جو انہوں نے آپ کی کار میں رکھی تھی۔۔۔ “ منتہا ایک ہی سانس میں بولتی اسے حیران و پریشان کر گئی۔۔۔
” میری کار؟؟ آر یو شیور؟؟ ان کی اپنی کار ہے میری کار میں کیوں رکھیں گئے؟؟؟ “ سگنل کی گرین لائٹ ہوتے ہی وہ اپنی کار آگے بڑھا گئی۔۔ اسے عجیب سا لگ رہا تھا ابراز تو کبھی اسکی کار لیکر ہی نہیں گیا پھر فائل کیسی رہ گئی؟؟
” آئ ڈونٹ نو میم آپ سیٹ کور میں چیک کریں سر نے وہیں کا بتایا تھا۔۔۔ “ اپنی سوچوں میں الجھی وہ کوئی پارکنگ ایریا دیکھ کر کار روکنے کا سوچ رہی تھی کے دوسری طرف کی بات سن کر گہرا سانس لیکر رہ گئی۔۔۔
” ویٹ آ منٹ “ ایک شاپ کے باہر اسے خالی جگہ ملی جہاں آس پاس کافی گاڑیاں کھڑیں تھیں اس نے کار ریورس کر کے وہیں کھڑی کی اور خود فون وہیں فرنٹ سیٹ پر رکھ کر کار سے باہر نکل کر پچھلی سیٹ کورز دیکھنے پیچھے والی سائیڈ آگئی۔۔۔ پچھلی سیٹ کوور میں اندر ہی ایک فائل رکھی تھی جسے دیکھ وہ حیرت زدہ رہ گئی اور فائل لیکر فرنٹ سیٹ پر آبیٹھی ساتھ سیٹ پر پڑا فون کان سے لگایا۔۔
” ہاں ہے اوکے میں خود لے آتی ہوں ویسے میٹنگ کب تک ختم ہوگی؟؟؟ “ فائل رکھ کے اسنے فوراً کار اسٹارٹ کی۔۔۔۔
” میم جلد ہی تقریباً دس منٹ میں۔۔۔ آپ کے پاس جو ہے وہ اوریجنل ہے اسکی کاپی ہمارے پاس ہے، وہ میٹنگ کے لئے نہیں ہے بس کلائنٹس کو دینی ہے۔۔۔ “
” اوکے۔۔۔ “ وہ ابھی بھی حیرت کا شکار تھی۔۔۔ فون کاٹ کر وہ آفس کی طرف چل دی۔۔۔
” یہ لیں فائل۔۔ “ تقریباً بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ آفس پہنچی اور آتے ہی سامنے بیٹھی منتہا کو فائل پکڑا دی۔۔
” تھنک یو میم۔۔ “ مسکراتے ہوے منتہا نے فائل تھامی وہ جانے ہی لگی تھی کے اسے ابراز کا خیال آیا کیوں نہ وہ اس سے ملکر جائے؟؟؟ دل کے شور پر وہ خود حیران تھی
” ویسے سر کہاں ہیں؟؟؟ “ جھجھکتے ہوے اسنے پوچھ ہی لیا لیکن اسے سمجھ نہیں آئی وہ ابراز ہے اسکا شوہر آخر ملنے میں جھجھک کیسی؟؟؟
” میم وہ اپنے کیبن میں ہیں۔۔ “ لڑکی نے رائٹ سائیڈ پر اشارہ کیا۔۔۔
” کو ئی ہے تو نہیں اندر؟؟ “ اس نے جاننا مناسب سمجھا
” میم علیزہ۔۔ “ ایک قدم کیبن کی طرف بڑھایا تھا کے یہ نام سن کر ٹھٹھک کر رک گئی۔۔
” یہ کون ہے؟؟ آج سے پہلے تو نہیں تھی؟؟ “ وہ خود نہیں جانتی لہجے میں غصّے کی رمک کیسے آئی ؟؟
” س۔۔۔ر۔۔۔۔سر۔۔۔ک۔۔ ک۔۔۔۔کی و۔۔۔۔ا۔۔۔وائف “ منتہا ڈرتے ڈرتے بامشکل بول پائی ساتھ ایک قدم پیچھے ہوئی کے کہیں سامنے رکھا کرسٹل ہی سر پر نہ دے مارے۔۔۔
” دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟؟ “ وہ چلا اٹھی۔۔
” سوری ہونے والی۔۔۔۔ نیکسٹ ویک انکی شادی ہے۔۔۔ “ ایک ہی سانس میں بولتے وہ تھوڑا اور پیچھے کھسکی
” کس نے کہا پاگل ہو تم۔۔ “ دانت پیستے وہ گویا ہوئی
” م۔۔۔۔میںم۔۔۔ آپ۔۔۔ کی۔۔۔۔ ک۔۔۔کسی س۔۔سے بھی پوچھ لیں صبح سر نے آنائونس کیا تھا۔۔۔۔ “ منتہا کہتے ہی فائل اٹھا کے دوڑی جب کے وہ ایک ایک قدم اٹھاتی ابراز کے کیبن کی طرف بڑھی۔۔ سامنے کا منظر صاف نظر آرہا تھا سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر وہ دونوں کسی سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
وہ ماؤف ذہن کے ساتھ ایک ایک قدم پیچھے بڑھا رہی تھی۔ سامنے نظر آتا منظر پل پل دھندھلا رہا تھا۔۔۔ دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے اور۔۔۔۔۔د۔۔۔۔۔دل۔۔۔ دل غم کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
” صرف منہ مارتا ہوں نہ؟؟ ایسا نہ ہو تمہاری یہ بےعتنائی دیکھ کر کسی دن دوسری شادی کر لوں۔۔۔“ وہ چیخ رہا تھا اسکے کانوں میں بار بار یہی جملا دوڑا رہا تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے۔۔۔ وہ اس آواز سے دور جانا چاہتی تھی اس دوغلے انسان سے دور وہ یکدم بھاگتی ہوئی گلاس وال دھکیل کر باہر آگئی آنسوؤں بےدردی سے رگڑتے اس نے کار اسٹارٹ کی۔۔۔
” کبھی پاس بیٹھ کر محسوس کرنا نہ شراب کی بو آئے گی نہ نشے میں دت ملیگا “
“ تم بہت خوب صورت ہو پر افسوس خوب سیرت نہیں“
” دین تو کہتا ہے ناچنے والی سے نفرت نا کرو تم نیک لوگوں میں عیب ڈھونڈتے پھرتے ہو؟؟ “
” تمہیں حق نہیں تم میرے اور اللہ کے درمیان آؤ۔۔۔۔ “
دماغ پر مسلسل ہتھوڑے پر رہے تھے یہ آوازیں اسے جینے نہیں دے رہیں تھیں اگر یہ بند نہ ہوئی تو یقیناً وہ پاگل ہوجائے گی۔۔۔ آج وہ کسی ننھے بچے کی طرح سسک کے رو رہی تھی۔۔
شام کے اس ٹائم جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم تھا وہ بلا خوف و جھجھک فل سپیڈ میں گاڑھی دوڑائے جا رہی تھی وہ کہیں دور جانا چاہتی تھیں جہاں یہ آوازیں نہ ہو کوئی نہ ہو بس وہ۔۔۔ اکیلی، تنہا کسی ویرانے میں۔۔۔۔۔ جہاں اسے اپنی آواز تک نہ سنائے دے بس خاموشی ہو صرف خاموشی۔۔۔۔۔۔
فل سپیڈ سے کار آگے بڑھاتے اس نے یو ٹرن لیا۔ ہاتھ کی پشت سے آنکھ کو رگڑا تو سامنے کا منظر کچھ واضع ہوا۔ سگنل کی ریڈ لائٹ دیکھ کر بھی وہ نہ رکی اسے بس ان آوازوں سے دور جانا تھا ابھی وہ اگلا سگنل توڑتی کے اس سے پہلے اسکا موبائل رنگ ہوا اس نے بینا دیکھ کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔۔۔
” ہیلو “
یہ آواز سن کر وہ ہچکیاں لیکر رو دی۔۔۔
” بابا سب ختم ہوگیا سب دھوکےباز ہیں یہاں۔۔۔۔ ہر کسی کو میں مجرم لگتی ہوں عائشہ بھی مجھے غلط کہتی ہے، اور اس دھوکے باز نے بابا دوسری شادی کر لی۔۔۔۔ مجھے برباد کر کے وہ سکون میں ہے اسے نہ کل میری پروا تھی نہ آج ہے۔۔۔ سب جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ سب۔۔۔۔۔ آپ نے بھی میرے ساتھ غلط کیا۔۔۔ کاش مجھے سے ایسی زندگی کی التجا کرنے سے پہلے مار دیتے۔۔۔۔ اب دیکھیں یہ آوازیں یہ مجھے مار دینگی بابا مجھے مار۔۔۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔ “ ٹائیرز کی چڑچڑاتی آواز فون کے دوسری سائیڈ سنتے شخص کا دل ہلا گئی۔۔۔۔
” حجاب۔۔۔۔۔ “ وہ چیخے۔۔
☆.............☆.............☆
ہوش و حوس کھونے سے پہلے اسے ایک چہرہ دیکھا تھا وہ چہرہ اس نے زندگی میں دوسری بار دیکھا تھا اور وہ چہرہ کیوں دیکھا تھا؟؟؟ اسکا ذہن اس وقت کچھ بھی سوچنے کی صلاحیت میں نہیں تھا اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں لیکن یہ کیا اسے ہر طرف اندھیرا دیکھا اس نے ہاتھ اٹھا کر آنکھ رگڑنی چاہی تو ہاتھ میں لگی کسی شے کی وجہ سے وہ ہاتھ نہ اٹھا سگی۔۔۔۔
” حجاب تمہیں ہوش آگیا میرے بیٹے۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ڈاکٹر۔۔ “ تاثیر صاحب کو ایک کال وصول ہوئی تھی ہسپتال سے جنہوں نے حجاب کی ایکسیڈنٹ کی خبر انہیں دی وہ تو فون پر دھماکے کی آواز سن کر اتنے خوفزدہ ہوگے کے انکا جسم حرکت کرنے سے قاصر تھا اس کال کے آتے ہی انہوں نے بےتابی سے فون اٹھایا انہیں لگاتا تھا حجاب کا فون ہوگا لیکن حجاب کے نمبر سے انہیں جسکی کال وصول ہوئی تھی انکے ہوش اڑا گئی وہ آمنہ اور اسامہ کو لیکر ہسپتال پہنچے۔۔۔۔۔ اور اب کب سے آپریشن ٹھیٹر کے باہر حجاب کے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھے۔۔۔
” با۔۔۔بابا۔۔۔ لائٹ۔۔۔ لائٹ جلاؤ “ وہ آنکھیں کھولے دائیں بائیں دیکھتی کسی روشنی کی تلاش میں تھی یہ اندھیرا اسکی جان لے رہا تھا
” لائٹ جلاؤ؟ بیٹے تم۔۔۔ لائٹ تو جل رہی ہے۔۔۔ “ تاثیر صاحب کا دماغ میں یکدم دھماکہ ہوا انہیں لگ رہا تھا وہ پاگل ہو جائیں گئے کیا انکی بیٹی؟؟؟ حجاب؟؟؟ اب وہ نہیں رہی؟؟؟کیا اس قوت سے محروم ہوگئی؟؟؟یہ۔۔ یہ انکا دل بار بار انکے دماغ کی نفی کر رہا تھا
” بابا۔۔۔ مجھے نہیں دیکھ۔۔۔ رہا بابا میں۔۔۔ “ وہ چلا رہی تھی چیخ رہی تھی ڈاکٹرز نے آکر با مشکل اسے قابو کیا نرس نے جلدی سے اسے نیند کا انجکشن دیا جسکی وجہ سے وہ واپس غنودگی میں چلی گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم ریڈر!!!!!! کیسی لگی ایپی؟؟؟ ریڈر عقل خط پڑھ کے نہیں آتی بلکے ٹھوکر کھا کر آتی ہے۔۔۔ نیکسٹ انشااللہ friday کو۔
