Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

” تمہاری اوقات ہے یہاں بیٹھنے کی؟؟؟ “ وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ اسکا دل کانپ اٹھا۔۔۔
ڈیپ ریڈ شرارے میں ملبوس وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی جس سے کچھ دیر پہلے اسکا نکاح ہوا تھا اسکا دل کسی سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ ویسے ہی گھبرائی سہمی اسکا انتظار کر رہی تھی کہ اسکا شوہر روم میں داخل ہوا وہ دروازہ کھولتے ہی تیزی سے اسکی طرف لپکا اور جھٹکے سے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔
” چٹاخ “
وہ اسے تھپڑ سے نوازتا زہریلے الفاظ اسکی سماعتوں سے گزار رہا تھا۔۔
” زندگی عذاب کر دونگا تمہاری موت مانگو گی تم “
اس نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا روم سے باہر لے آیا وہ سہمی چڑیا کی طرح اسکے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی سیڑھیوں سے اترتے وہ اسے حال میں لے آیا جہاں مہمان گپ شپ میں لگے ہوئے تھے اسکا پورا خاندان اس وقت حال میں موجود تھا۔۔ اس نے گرفت ڈھیلی کر کے تقریباً اسے پھینکتے ہوئے اپنی ماں سے کہا۔
” یہ کیا کر رہی تھی میرے روم میں؟؟؟ اسکی اوقات ہے میری کمرے میں قدم رکھنے کی؟؟ “ اسکی دھاڑ سے اسکی بہن تک کانپ اٹھی جو پہلی بار اپنے بھائی کا ایسا روپ دیکھ رہی تھی۔
” یہ تمہاری ہی پسند تھی مت بھولو “
اسکی ماں نے نخوت سے کہا
” پسند تھی اب نہیں ہے!!!! اینڈ مائنڈ اٹ یہ مجھے اپنے روم میں نظر نہ آئے “ وہ اسےقہر برساتی نظروں سے گھور کر اپنے روم میں چلا گیا دروازہ بند کرنے کی آواز نیچے تک سنائی دی۔۔
دلہن کے روپ میں سجی وہ زمین پر اوندھے منہ گری پڑی تھی اتنے مہمانوں کے سامنے بےعزتی پر پہلی دفعہ اس نے موت کی شدت سے دعا کی۔۔۔۔ اسکی غلطی کیا تھی صرف اتنی کہ خود کو غلیظ نظروں سے بچانے کے لیے وہ پردہ کرتی تھی؟؟؟ اس نے سامنے کھڑی اپنی بیسٹ فرینڈ کو دیکھا جو فتح مند نظروں سے اسے دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کہ رہی تھی
” کیوں اُتڑ گیا پارسائی کا بھوت؟؟ “ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں تو گالوں پر آنسوؤں کا آبشار بہہ نکلا۔۔
” کہا تھا ناں جلتی آگ میں تم نے خود کو جھونکا ہے…. افسوس ہوتا ہے کہ تم میری بیسٹ فرینڈ رہ چکی ہو “ وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے گویا ہوئی…
☆………….☆………….☆
” آپی ابو سے مل کر جانا وہ تمہارا پوچھ رہے تھے “
” ہاں وہیں جا رہی ہوں میری نوٹ بک کہاں ہے کل یہیں تو رکھی تھی “ حجاب بڑبڑاتے ہوے تیزی سے ایک ایک دراز کھول کر چیک کر رہی تھی تبھی مطلوبہ نوٹ بک ملنے پر جلدی سے وہ بیگ اٹھا کر باہر کی طرف دوڑی۔۔۔
” ابو آپ نے بلایا؟؟ “
” ہاں بیٹے آج پوائنٹ سے مت جانا میں خود چھوڑ آؤنگا آج جویریہ بھی نہیں جا رہی “ تاثیر صاحب جو اخبار پڑھ رہے تھے بیٹی کو آتا دیکھ اخبار رکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
” بابا جویریہ کا تو روز کا بہانہ ہے اس ہفتے یہ اسکی تیسری چھٹی ہے جب اٹینڈینس کا اشو ہوگا تب اسکی عقل ٹھکانے آئے گی “ حجاب نقاب پہن کر بائیک پر سنمبھل کر بیٹھی۔۔ ساتھ ہی اس نے جویریہ کی برائی شروع کر دی جسے سن کر تاثیر صاحب بس مسکرائے۔۔۔
“ حجاب بیٹے یہ باتیں جویریہ کے سامنے کہتیں تو بہتر ہوتا اس طرح پیٹھ پیچھے تو برائی ہوئی نا اب تمہارے حصے کی نیکی اسکے اعمال میں ہوگی “ حجاب جب یونی کے گیٹ کے پاس آرکی تو اسکے بابا کہتے ساتھ بائیک آگے بڑھا کر نکل گئے اور حجاب اپنی عقل پر ماتم کرتی کلاس میں چلی آئی۔۔۔
☆………….☆………….☆
وہ مہوش کے آسرے یونی آئی تھی لیکن اس نے بھی نہ آکر دھوکا دے دیا حجاب کو دونوں پر سخت غصّہ آرہا تھا کیا تھا اگر بتا کر چھٹی کرتیں حجاب دونوں کے بغیر دن بھر بور ہوتی رہی کلاسز ختم ہوتے ہی حجاب نے اپنے بھائی اُسامہ کو کال کر کے لینے کے لیے بلایا۔ گھر آتے ہی وہ کھانا کھا کر سوگئی آج حجاب اور جویریہ کو مہوش کے گھر جانا تھا جہاں مہوش کی دادی نے میلاد کی تقریب رکھی تھی۔
” حجاب تم تیار نہیں ہوئیں۔۔ “
جویریہ آمنہ(حجاب کی امی)سے مل کر فوراً اسکے کمرے میں چلی آئی جہاں حجاب اپنا نقاب پہن رہی تھی۔۔
” اف خدا کی بندی آج تو اس نقاب کا پیچھا چھوڑ دو “
جویریہ نے جھنجھلا کر کہا
” خبردار جو دوبارہ کبھی ایسی بات کی۔۔۔ نقاب تو میری جان ہے۔۔ اسے پہن کر لگتا ہے میں بہت محفوظ ہوں ہر اُس بُری نظر سے جسے اللہ‎ مجھے بچانا چاہتا ہے۔۔ “ حجاب نے نقاب پن اپ کر کے تیز لہجے میں اسے جتایا۔۔
” میں بس کہہ رہی تھی آج نہ پہنو۔۔ تم جانتی ہو ناں مہوش کی فیملی کو وہ دوپٹہ چھوڑو کپڑے ہی پورے پہن لیں بڑی بات ہے اور مہوش خود بھی ایسی ہے ہم آدھا گھنٹہ یا زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ وہاں بیٹھیں گے پھر مہوش کے روم میں چلے جایئں گے۔۔۔“ حجاب نے اسے سخت گھوری سے نوازا لیکن وہ ڈھیٹ بنتی بولتی رہی۔۔۔
” مہوش نے آج کال کی تھی کہہ رہی تھی ایک تو آتے نہیں میرے گھر اب مشکل سے آرہی ہو تو آسانی سے جانے نہیں دونگی لیٹ نائٹ ہم باتیں کرتے رہیں گے ویسے بھی کل تو سنڈے ہے۔۔۔ “ جویریہ نے آخری بات تھوک نگل کر اجازت طلب نظروں سے حجاب کو دیکھتے کہا جس نے پاس پڑی بک ہلکے سے اسکے سر پر ماری۔۔
” ہاے اللہ‎ “ جویریہ نے اپنا سر سہلایا
” میں جب کہوں ناں اٹھو گھر کے لیے نکلنا ہے تب شرافت سے اٹھنا سمجھی اب چلو بھائی انتظار کر رہے ہیں۔۔ “ حجاب کہتے ہی روم سے نکل گئی جویریہ بھی منہ میں بڑبڑاتی اسکے ساتھ چل دی۔۔ آمنہ دونوں کو باہر چھوڑنے آئیں انکے جاتے ہی آمنہ بھی کچن کے کاموں میں مشغول ہوگئیں۔۔۔
” کتنی دیر سے آئی ہو یار میں بور ہو رہی تھی اوپر سے دادی تو آج میری سوتیلی ماں بن بیٹھی ہیں چھوٹی چھوٹی بات پر ٹوک رہی ہیں ۔۔۔ “ مہوش انہیں دیکھتے ہی خوشی سے آکر ان سے لپٹ گئی۔ حجاب سے مل کر وہ جویریہ سے ملی۔۔
” چھمک چھلو پلین یاد ہے نا “ مہوش نے جویریہ سے گلے لگتے کہا۔ جس پر جویریہ نے خون خوار نظروں سے حجاب کو گھورتے کہا
” حجاب کے ہوتے ہوئے کوئی پلین کامیاب ہو سکتا ہے؟؟ ” مہوش بی بی اماں بی آپ کا پوچھ رہی ہیں “ ملازمہ نے آکر مہوش کو اطلاع دی جس پر وہ جلدی سے دونوں کو لے کر دادی کے پاس چلی گئی۔۔
” ڈونٹ وری جویریہ! حجاب مان جائے گی دادی کو بولوں گی اُسے روک لیں۔۔“ دادی کے پاس جاتے ساتھ مہوش نے جویریہ کے کان میں دھیرے سے کہا۔۔ جویریہ نے بس سر ہلایا اسے حجاب سے کوئی اچھی امید نہیں تھی ایک دو دفعہ حجاب یہاں جویریہ کے ساتھ آئی تھی حجاب کا رویہ یہاں نارمل ہی ہوتا، لیکن ایک دن انکا دیر تک رکنے کا پلین بنا تب حجاب نے قسمیں دیکر اس سے گھر چلنے کے لئے کہا وہ اُس دن اتنی ڈری سہمی ہوئی تھی کہ جویریہ اسکی حالت دیکھ کر خود پریشان ہوگئی۔۔ جویریہ نے اس سے بہت بار پوچھا لیکن حجاب نے طبیعت خرابی کا کہہ کر ٹال دیا۔۔۔ اُس دن بھی حجاب یہاں میلاد اٹینڈ کرنے آئی تھی اور وہ پہلی بار ہی تھا جب جویریہ اور حجاب دادو سے ملیں ورنہ ہمیشہ بس مہوش سے انکا سنا تھا کہ نمازی ہیں اور گاؤں کے رہہن سہن کی عادی ہیں تبھی شہر کی آب و ہوا انہیں نہیں لگتی۔۔
” دادو میں اپنی فرینڈز کو رسیو کرنے گئی تھی۔۔۔ “ دادو نے عینک کے پیچھے سے حجاب اور جویریہ کو غور سے دیکھتے ساتھ اپنی پوتی پر افسوس کیا جو انکے ساتھ رہ کر بھی نہ سدھری۔۔
” ماشاللہ کتنی پیاری بچیاں ہیں، نیک سیرت باحیا دیکھو کس طرح دوپٹا لیا ہے کہ سر سے ڈھلک نہ جائے۔۔ “ دادی کی آنکھیں تو حجاب کا اس طرح ڈھکا چھپا سراپا دیکھ کر چمک اٹھیں جویریہ اپنی تعریف سن کر جھٹ سے ان سے گلے ملی جبکہ نقاب میں چھپے حجاب کے ہونٹ مسکرائے یہ خاتون اسے پہلے ہی دن سے بہت اچھی لگی تھیں حجاب انکے سامنے احترامأ جھکی دادی کی تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا انہوں نے شفقت بھرا ہاتھ اسکے سر پر پھیرا
” ماشاءالله بچے ماں باپ کی پرورش دِکھ رہی ہے“ دادی نے اسے خود سے لگاتے کہا۔۔ بہت پہلے اکثر لوگ بزرگوں کے سامنے جھکتے انھیں احترامأ عزت دیتے، نجانے آج کل کیوں یہ روایت ختم ہوگئی۔۔۔
” دادو اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟؟ مہوش بتاتی ہے آپ ہارٹ پیشنٹ ہیں “
” یہ پھر شروع ہوگئی دادی اماں “ جویریہ نے مہوش کو دھیرے سے کہتے کوفت سے ان دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے سے بچھڑی بہنوں کی طرح گفتگو کر رہی تھیں۔۔۔۔
” بس بچے عمر کا تقازہ ہے “ دادو نے دُکھ بھری مسکراہٹ سے کہا۔۔
” دادو میلاد والی آگئی چلیں مہمان بھی انتظار کر رہے ہون گے۔۔ وہاں کوئی بڑا ہے بھی نہیں۔۔ “ دادی جو حجاب پر سوالوں کی بوچھاڑ کرنے والی تھیں یہ سن کر چھڑی سنمبھال کر اٹھنے لگیں کہ حجاب نے انہیں سہارا دیا مہوش جویریہ کو لیکر آگے بڑھ گئی جبکے حجاب دادو کو چلنے میں مدد دینے لگی۔۔
” تم کپڑے نہیں بدلو گی کیا؟؟ جینز پہن کر کون میلاد اٹینڈ کرتا ہے“ جویریہ نے اسکے کپڑوں پر چوٹ کی۔۔۔
” بڑا سا دوپٹا اوڑھ کے بیٹھ جاؤنگی شلوار قمیض ہے نہیں اور باقی کپڑے ایسے ہیں کہ دادو نے دیکھتے ہی اللہ‎ کو پیارا ہوجانا۔۔۔ “ مہوش نے آنکھ دباتے ہنستے ہوئے کہا جویریہ افسوس سے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
میلاد کی تقریب گھر کے پچھلے حصے میں ہورہی تھی.۔۔ خوبصورتی سے اسٹیج بنوایا گیا تھا ہر طرف تازہ گلابوں کی مہک تھی حجاب نے اندر آتے ہی نقاب اور عبایا اتار کے رکھ دیا دادو اسے دیکھتی رہ گئیں خوبصورت تو وہ تھی ہی لیکن اسکے تیکھے نفوش نے اسکے حسن کو چار چاند لگا دیے اور کاجل سے بھری آنکھیں اسکے حسن کو نکھار رہی تھیں۔۔
دادو جب پچھلی بار اسے ملیں تھیں تب دیر سے آنے کے باعث حجاب نے ایک پل کو نقاب نہیں اتارا تھا اور کھاۓ پیے بغیر ہی چلی گئی۔۔
دادو نے اسے اسٹیج پر اپنے ساتھ بیٹھایا حجاب کو آج کئی چہرے نظر آئے جو عام دنوں میں گھر رہنا تو دور بلکہ گھر تشریف ہی مہمانوں کی طرح لاتے تھے۔۔ مہوش کی امی تائی اور بھابی نک سج کے مہمانوں کی طرح کونے میں بیٹھیں کوفت سے ہر آتے بندے کو دیکھ رہی تھیں مہوش بھی جویریہ کو لیکر دور جا بیٹھی میلاد شروع ہوتے ہی خاموشی چھاہ گئی بس اس خوبصورت لڑکی کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی ابھی میلاد شروع ہوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہوگا کہ مہوش جویریہ کو لیکر گھر کے اندر داخل ہوگئی آہستہ آہستہ مہوش کی امی اور تائی بھی نکل گئیں۔۔۔ حجاب کو افسوس ہوا کم سے کم دادی کا دل رکھنے کے لئے کچھ دیر اور بیٹھ جاتیں۔۔
” بیٹے ان پر دھیان نہ دو ساری زندگی گزر گئی انکی یہ حرکتیں دیکھ کر “ دادی دکھ بھرے لہجے میں کہہ کر میلاد پڑھنے والیوں کی طرف متوجہ ہوگئیں حجاب بھی سوچ جھٹک کر انکو سنے لگی۔۔۔
دعا کے بعد وہ اندر چلی آئی ایک ایک قدم اسکا بھاری ہو رہا تھا اسکے لب ہل رہے تھے جس کی سوچیں یہاں آتے ہی اسکے دماغ میں گردش کرتیں حجاب دعا کر رہی تھی وہ یہاں نہ ہو۔۔۔
اور اللہ‎ نے اسکی سن لی وہ بخیریت مہوش کے روم کے باہر پہنچی اور بنا وقت ضائع کیے تیر کی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔۔
” شرم نام کی چیز ہے؟؟؟ اس طرح دعا کے بغیر اُٹھ آئیں تم دونوں “
وہ آتے ہی ان پر چڑھ دوڑی۔۔۔
” حجاب تم نے سنا نہیں جس نے کی شرم اُسکے پھوٹے کرم “
مہوش نے کہتے ساتھ اسے پکڑ کے سنگل صوفہ پر بٹھایا۔۔۔
” مہوش تمہیں ذرا احساس نہیں سال میں ایک دفعہ دادو میلاد کراتی ہیں اس میں بھی تم ٹک کے بیٹھ نہیں سکتیں “
مہوش اسکی بات ان سنی کرتی دونوں ہاتھ کان پر رکھے کھانا لینے چلی گئی لیکن جویریہ کو پھنسا گئی جو دانت پیستی رہ گئی۔۔
” یار مہوش زبردستی اٹھا کے لے آئی میں کیا کرتی “ حجاب اسے ایک بھر پور گھوری سے نوازنے کے بعد کھڑکی کے قریب آکر کھڑی ہوئی۔ وہ ہوا کے سرد جھونکے کو محسوس کر رہی تھی کہ مہوش کھانا لیکر آگئی تینوں نے خوش گوار ماحول میں باتوں کے ساتھ کھانا کھایا پھر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد حجاب نے گھر جانے کی ر ٙٹ لگا لی مہوش کو ماننا ہی پڑا کیوں کہ وہ اسے آئندہ نہ آنے کی دھمکی دی رہی تھی۔
مہوش منہ پھلائے دادی سے ملانے کے لئے انکے روم میں لے آئی۔۔
” دادو اب اجازت دیں ہم چلتے ہیں بہت دیر ہوگئی ہے “
” ارے بیٹے تھوڑی دیر رُک جاؤ تم سے باتیں کرنے کے لیے تو سب کو چھوڑ کے اندر چلی آئی۔۔ “
” دادو پھر آجائیں گے ابھی نہیں گئی تو امی بہت پریشان ہونگی ابو بھی آج رات گھر پر نہیں ۔۔ “ وہ محبت سے انکے آگے جھکی دادی نے اسکی بے داغ پیشانی چومی۔۔۔
” دادو ڈارلنگ!!! “
وہی وقت تھا جب حجاب نے مردانہ آواز سن کر خوف سے نقاب لگایا جلدبازی میں اسکا ہاتھ لرز رہا تھا لکین دروازہ کھولے وہ شخص اسکی کاروائی دیکھ چکا تھا وہ بنا کسی کی پروا کیے آگے بڑھا اور دادی کو گلے لگایا اس طرح کہ اس شخص کا بازو حجاب کے بازو سے ٹچ ہوا۔۔۔۔ حجاب کو سخت ناگوار گزرا اُسے یقین تھا اِس شخص نے یہ جان بوچھ کر کیا ہوگا۔۔
” منہ کیوں پھلایا ہے اب آتو گیا “ اس شخص نے کہتے ساتھ اپنی دادی کی پیشانی چومی۔ حجاب خاموشی سے کمرے سے نکلی اسکے پیچھے ہی جویریہ بھی۔۔ دادی نے اپنے پوتے کو گھوری سے نوازا اور منہ پھیر لیا۔۔ جبکے وہ شخص حجاب کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی۔۔
☆………….☆………….☆
” بچاؤ۔۔۔ مما۔۔مما یہ۔۔۔۔ انکل۔۔۔۔ “
وہ آٹھ سال کی معصوم بچی کچھ بولتی اس سے پہلے ہی اُس شخص نے بچی کے منہ پر ہاتھ رکھ کی اسکی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔ کمرے میں وحشت ناک خاموشی چھا گئی۔
اسے بُری طرح نوچ کر اب وہ وحشی درندہ خوف سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟؟ یہ سوچ آتے ہی اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوئے باہر سے مسلسل بچیوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں ایک ہی رٹ لگائے وہ واپس اس درندے کو اُکسا رہی تھیں۔۔۔
” چھوڑو میری دوست کو “
اس شخص نے پل بھر کو سوچا پھر دونوں ہاتھ سے بچی کا گلا گھونٹا وہ اپنے ہاتھ پاؤں مارتی اپنی ماں کو پکارتی رہی۔۔۔۔
” بیڈ انکل۔۔۔۔۔۔۔۔ گندے۔۔۔۔۔۔ گندے۔۔۔ “ باہر سے آتی چیخیوں سے اسکا خوف مزید بڑھایا اور زور لگا کر اس نے پل بھر میں اس بچی کی چلتی سانسیں روک دیں۔۔۔۔۔۔
اسکا پورا وجود پسینے میں شرابور تھا وہ سر کو دائیں بائیں ہلا کر اس چہرے سے دور جا رہی تھی جو اسکے قریب تر آتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ گھنی مونچھوں تلے ہونٹ شیطانیت سے مسکرا رہے تھے۔۔ وہ شخص اِسے بُلا رہا تھا اِسے آوازیں دے رہا تھا۔۔
” حجاب یہاں آؤ میں سمجھاتا ہوں “
وہ شیطان مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔ حجاب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اس کے پاس جا رہی تھی۔۔ ایک ایک قدم پر خوف مزید بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
یہ خواب ہے ہاں یہ سچ نہیں ہو سکتا اسکا ذہن جاگ رہا تھا لیکن جسم حرکت کرنے سے قاصر تھا
وہ اٹھنا چاہتی تھی جاگنا چاہتی تھی اس بھیانک خواب سے لیکن کوشش کے باوجود اسکی آنکھیں نہیں کھل رہی تھیں وہ روکنا چاہتی تھی خود کو آگے بڑھنے سے لیکن اسکا جسم اسکے دماغ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا تبھی کسی نے جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا۔۔۔
” حجاب “ جھٹ سے اس نے آنکھیں کھولیں، اسکا ذہن بیدار ہوا پل بھر میں اسکے ذہن نے سامنے موجود اس چہرے کو پہچانا یہ اسکی ماں تھی ہاں یہ حجاب کی امی تھی، ذہن نے آگاہی دی تو جسم نے حرکت کی وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔۔۔
” بس میری جان کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ میں ہوں ناں کوئی ہاتھ تو لگائے میری گڑیا کو۔۔۔ ہاتھ توڑ دوں اُسکے۔۔۔ “ حجاب کی ماں وہیں بیٹھی حجاب کا سر اپنی گود میں رکھے اسکے بال سہلانے لگیں حجاب نے بھی سختی سے انکا ایک ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔۔۔۔ آج بھی اسکی آنکھوں میں چودہ سال پہلے والا خوف تھا۔۔۔۔
آمنہ نے حجاب کی پیشانی چومی وہ ہر رات اسے دیکھنے آتی ہیں یہ خواب انکے لئے عام ہے لیکن انکی بیٹی کے لئے ہر بار نئی آزمائش آج بھی وقت پر آکر انہوں نے حجاب کو جگا دیا۔۔۔ لیکن یہ صرف خوب تھا انکی دعا ہے یہ خواب خواب ہی رہے لیکن کون جانے زندگی نے آگے کیا کھیل کھیلنا ہے۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
” مما مجھے ڈرائیور انکل کے ساتھ نہیں جانا۔۔۔ “
پرنیا کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر ایک پل کو اسکے حرکت کرتے ہاتھ رُک گئے خوف کی گہری لہر اسے اپنی بیٹی کے چہرے پر صاف نظر آرہی تھی۔
” کیوں بیٹا؟؟ انکل نے ڈانٹا ہے “
” نہیں وہ مجھے پیار کرتے ہیں.. اور وہ.. “ اسکے ہاتھ لرز اٹھے ہاتھوں میں تھامی ناشتے کی ٹرے گرتے گرتے بچی۔۔
” میں تو آپ کو پیار کرتا ہوں نہ رانیہ بیٹا “
پرانی یاد نے اسے مزید خوفزدہ کردیا۔۔۔۔۔
“ اور کیا؟؟ “ لال ہوتی غصّے بھری آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوے پوچھا اس وقت اسکا دل کانپ رہا تھا اسکی بیٹی نجانے کیا کہنے والی تھی؟؟ اسنے ناشتے سے بھری ٹرے ٹیبل پر رکھی۔
” مجھے یہاں ہاتھ لگاتے “
پرنیا نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے اب کے غصّے سے کہا وہ معصوم ان باتوں سے انجان اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر رہی تھی جیسے ڈرائیور کا عمل اسے اچھا نہیں لگا۔۔۔
” مجھے ان سے ڈر بھی لگتاہے مما۔۔ “ اب کی پرنیا آکر اسکی ٹانگوں سے چپک گئی اسنے پلک چھبکائے بغیر جھک کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔
” یا میرے خدا!!!!! کونسی بھول ہوئی مجھ سے؟؟ میرے کس عمل کے بدلے تو نے مجھے ایسے جہنم میں ڈال دیا۔۔ جیسے مالک ویسے نوکر۔۔۔ اب میں کیا کروں کیسے اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھوں۔۔۔ کیا مجھے؟؟ ہاں!! ایک یہی راستہ ہے میرے پاس۔۔“ تیز چلتی دھڑکنوں کو سمبنھالتے اسکا دل رو رہا تھا اب ایک ہی راستہ تھا اسکے پاس اس نے جھک کے پرنیا کے گال چومے۔
” آپ بیٹھ کے بھائی کے ساتھ ناشتا کرو میں آتی ہوں۔۔ گھبرانا نہیں مما ہیں نا۔۔ “ وہ اسکا گال تھپک کر تیزی سے اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی آئی سامنے ہی اسکا شوہر آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا بلیک سوٹ میں ملبوس وہ خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔۔
وہ دھیمے قدم اٹھاتی اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی اسکا شوہر اسکی موجودگی محسوس کرتے حیرت سے پیچھے مڑا۔۔
” کیا ہوا؟؟ “
” مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔ “ نظریں جھکائے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے وہ اسے پریشان لگی
” کرو “ بےنیازی سے کہتے وہ مُڑا اور ڈریسنگ پر رکھا فون اور والٹ اٹھایا
” ڈرائیور کو نکال دو اسکی جگہ کوئی۔۔۔ “
” کیوں؟؟ “ جتنی تیزی سے اس نے اپنا حدشہ بیان کیا اُسی تیزی سے اسکا شوہر پیچھے مُڑا
” وہ صحیح آدمی نہیں۔۔ اُسکی نظریں، حرکتیں اس سے پہلے کہ وہ پرنیا ۔۔۔ “ زنانے دار تھپڑ کی آواز خاموش کمرے میں گونجی اسکے شوہر نے سختی سے اسکے بازو کو جھکڑے خود سے قریب کیا اتنا قریب کے اِسکی بیوی اِسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی
” تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟؟ آسمان سے اُتری پری ہو؟؟ ہر مرد تمہارا دیوانہ ہے؟؟ تمہیں دیکھنے کے علاوہ کسی کو کوئی کام نہیں؟؟۔۔۔ “ غصّے سے کہتے اسنے جھٹکے سے اپنی بیوی کو بیڈ پر پٹخا اور سائیڈ سے پانی کا بھرا گلاس اپنے حلق سے اتارا ۔ اسکی بیوی سنبھل کر بیڈ پر بیٹھ چکی تھی اِسی رویے کی امید تھی اُسے وہ پلک جھپکائے بغیر اسکی ایک ایک کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔
اس وقت غصّے سے اسکی دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں۔۔ خالی گلاس رکھنے کے بجاۓ اِسنے پوری قوت سے دیوار پر دے مارا اور اِسکے ساتھ بیڈ پر اِسکے سامنے آبیٹھا اِسکے بےحد قریب اور ٹھوڑی سے پکڑ کے اسکا چہرہ اونچا کیا
” اپنے بارے میں کیا کہنا ہے تمہارا؟؟ بہت پارسا ہو نا کیا کیا اب تک؟؟ بولو بیوی کے ہوتے ہوئے تمہارا شوہر باہر منہ مارتا پھرتا ہے۔۔ شدید نفرت کرتا ہے تم سے کیا اسکے دل میں جگہ بنا پائی ؟ تم جیسی پارسا لڑکیاں تو دن رات ایک کر کے شوہر کے دل میں گھر بناتی ہیں تم نے اب تک کیا کیا بولو؟؟ یا کسی معجزے کا انتظار تھا؟؟ تمہارا شوہر تمہارے پیروں میں آن گرے گا۔۔۔ “ وہ ہنسا زہر خند ہنسی۔۔۔۔
” میں تمہیں شوہر مانتی ہی نہیں تو انتظار کیسا؟؟ اور نہ ہی کوئی معجزہ ہونا میرا حساب تم سے اللہ‎ لےگا۔۔ “ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے بےخوفی سے بولی۔۔۔ اِسکی انہی باتوں سے اِسکے شوہر کے دل میں اِسکے لیے نفرت مزید بڑھ جاتی آخر اپنا ٹھکرانا کہاں قبول تھا اُسے۔۔۔۔
” تمہیں لگتا ہے تم بہت معصوم ہو؟؟ میں ظالم ہوں ظلم کرتا ہوں؟؟تو ایک بات یاد رکھنا اللہ‎ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے اور اللہ‎ کو وہ عورتیں نہیں پسند جو رو رو کر موت مانگتی ہیں۔۔ “ کہتے ساتھ اس نے کسی بیکار شے کی طرح اِسے چھوڑا اور اُٹھ کے جانے لگا ورنہ یقیناً آج وہ اِسے قتل کر دیتا۔۔۔
” تم رسوا ہوگے دیکھنا اللہ‎ تم سے ہر حساب لیگا میرے ایک ایک آنسو کا تم سے حساب لیگا میں دیکھوں گی تمہیں تڑپتا ہوا روتا ہوا خدا کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے لیکن دیکھنا اُسے بھی تم پر رحم نہیں آئے گا۔۔۔ تم خوار ہوگے در در جاکر اسے ڈھونڈو گے معافی مانگو گے تمہیں وہ نہیں ملی گا، کہیں نہیں ملے گا، تم اِس دنیا میں اُسے ڈھونڈتے رہو گے لیکن افسوس وہ نہیں ملےگا۔۔۔ کیونکہ وہ تم جیسے لوگوں کا نہیں ہوتا نہیں ہوتا۔۔ تم قابل بھی نہیں کہ اُس کے سامنے سر اٹھا سکو۔۔۔ تم حرام کھاتے ہو حرام پیتے ہو۔۔ حرام رشتے بناتے ہو حلال تم جیسوں کے لیے نہیں۔۔ “
وہ پیچھے سے روتے ہوے اسے بددعائیں دے رہی تھی لیکن اس کے شوہر کو پروا کہاں تھی اسکی امپورٹنٹ میٹنگ تھی جو یقیناً اسکے لئے بہت اہم تھی….
جاری ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔