Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اس واقع کے بعد میں حجاب تاثیر کو بھول نہ سکا وہ میرے ذہن پر سوار نہیں تھی لیکن مہوش جو اکثر اپنی دوستوں کا ذکر کرتی اور میں بےدلی سے سنتا اب پورے کان کھول کر حجاب تاثیر سے متعلق ایک ایک بات سنتا۔۔
” رازی اسے پتا نہیں کیا ہوگیا کے اچانک چلی گئی کھانا بھی نہیں کھایا اور بہت ڈری ہوئی تھی “ مہوش نارملی چپس کھاتے کل رات کی بات بتا رہی تھی اور میں ٹریڈ مل پر کھڑا پسینہ سے شرابو ہوتا رننگ میں مگن غور سے اسے سن رہا تھا آخر ذکر جو حجاب تاثیر کا تھا۔۔۔ یہ نام نجانے کیوں اتنا اٹریکٹ کرتا ” حجاب “ میرے لبوں نے بےآواز جنبش کی۔۔۔
” ہمم “ میں نے ٹریڈ مل کو اوف کر کے پاس پڑے ٹاول سے پسینہ پونچھا اس وقت اکثر میں جم میں ہوتا اور مہوش آکر مجھ سے دن بھر کی باتیں اسی وقت کرتی۔۔ مہوش کو میں نے خود سے بےحد قریب کیا تھا میں نہیں چاہتا تھا ایک اور امیر باپ کی بگڑی بیٹی اس گھر سے نکلے کیوں کے ماں باپ کا گہرا اثر اولاد پر پڑتا ہے مثال میرے ساتھ میری موم کی ہی موم کو انکے باپ نے بگاڑا مجھے میرے باپ نے۔۔۔ سکون کا ھل بتا کر اندھیری گلیوں میں بھٹکا دیا جہاں میں آج تک سکون کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔۔۔۔
” ایم بی اے یہیں سے کر سکتے ہو ضروری نہیں باہر جا کر کرو “ ڈیڈ نے میرے دبئی جانے کا سن کر ہی دانت پیسے وہ اچھی طرح جانتے ہیں وہ مجھے فورس نہیں کر سکتے۔۔۔
میں اس وقت جانے کی تیاری کر رہا تھا صبح پانچ بجے کی میری فلائٹ تھی۔ ڈیڈ کو جیسے ہی اپنے مینیجر کے ذریعے میرے جانے کا پتا لگا وہ مجھ سے لڑنے میرے کمرے میں چلے آئے۔۔۔
” مشورہ نہیں مانگا بتایا ہے کل جا رہا ہوں “ میں نے سکون سے جواب دیکر انھیں آگ بغولا کر دیا
” تمیز سے بات کرو!! ایسا کیا کیا ہے میں نے جو میرے سر پر سوار رہتے ہو؟؟؟؟ “ ڈیڈ نے اپنی عادت کے مطابق قریب ہی ڈریسنگ پر رکھا پرفیوم غصّے سے دیوار پر دے مارا
” عزت کا جنازہ نکالا ہے ڈیڈ۔۔۔۔ “ میں تھا تو انکا بیٹا ہاتھ میں پکڑی شرٹ جو سوٹ کیس میں ڈالنے لگا تھا غصّے سے پٹکی۔۔۔۔
” آپ نے میری موم کو سدھارنے کے بجائے انھیں سونے کے انڈے دینی والی مرغی بنا دیا؟؟؟؟ ایسی کونسی بھوک ہے جو مٹتی نہیں؟؟ کون سا لالچ ہے جو ختم نہیں ہوتا؟؟ “ میری چیخیں اتنی بلند تھیں کے کمرے کی در و دیوار کانپ اٹھیں
” میں اکیلا نہیں ہوں اُن سے جا کر کیوں نہیں پوچھتے؟؟ اور تمہاری موم کو میں نے سر پر بندوق رکھ کر نہیں کہا وہ خود راضی ہوئی تھی۔۔۔ یہ پیسہ ہے ہی بڑی ذلیل چیز غریب امیر بنے کی لالچ میں کماتا ہے اور امیر سے امیر تر ہونے کی لالچ میں یہ بھوک نہ مٹتی ہے نہ ختم ہوتی ہے اور تمہاری موم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ ۔۔۔ “ سرد لہجے میں کہہ کر انہوں نے اپنا دفاع کیا
” سلام ہے آپ جیسے شوہر پر۔۔۔ آپ کی تعریف میں یقین جانیں الفاظ نہیں ہیں میرے پاس۔۔۔ ناؤ ڈونٹ یو ڈیر ٹو انٹر فیئر ان مائے میٹر اور نہ مجھے روکنے کی کوشش کرنا “ وہ چلاتے رہے میں ان سنی کرتا پیکنگ کر کے ائیرپورٹ پہنچا۔ میرے کچھ یونی فیلوز بھی وہیں سے ایم بی اے کرنے میرے ساتھ جا رہے تھے جن میں ایک میرا جگری دوست عاصم بھی میرے ساتھ تھا۔۔
میرے باہر آنے کا مقصد صرف گھر سے دور رہنا تھا اُس ماحول سے دور رہنا جہاں کی در و دیوار مجھے وحشت میں مبتلا کرتے ۔ یہاں آنے سے پہلے میں ایک آخری دھمکی اپنے ڈیڈ کو دینا بھولا نہیں تھا۔۔۔
” میری پیچھے اگر میری بہن کے ساتھ کوئی کھیل کھیلا تو یاد رکھیے گا صرف جنازے اٹھیں گئے اس گھر سے۔۔ “
” اتنا گرا ہوا سمجھتے ہو کے میں اپنی ہی بیٹی؟؟ “
ڈیڈ کو مجھ سے ایسی بات کی امید نہ تھی انکا چہرہ غم و غصّے کی شدت میں سرخ پڑ گیا لیکن اگلے ہی لمحے میرے جواب نے انہیں خاموش کردیا۔۔۔۔
” مرد کی عزت کا پتا اُسکے گھر کی عورت سے چلتا ہے “ ڈیڈ کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا میں انھیں اس عالیشان محل میں تنہا چھوڑ کر امریکا چلا آیا۔ لوگ اپنے گھروں میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔۔ میں پرائے ملک میں سکون کی تلاش میں بھٹکتا رہا۔۔۔۔ یہاں تین سالوں میں میں نے صرف تنہائی، اذیت، ڈگری اور لاتعداد دوست پائے۔۔ دوست بھی ایسے جو دل کے حال کھول کر بیٹھ جائیں۔۔۔
میں اُس دن خوش تھا سب نے ملکر میرا برتھ ڈے سیلیبریٹ کیا یہ سرپرائز عاصم کی طرف سے تھا میں بات بات پر ہنس رہا تھا صبح سے ہی موم،ڈیڈ،مہوش اور فرنڈز کی کال وصول کر کے برتھڈے وشیز لے رہا تھا۔۔
میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا حرام سے لطف اندوز ہو رہا تھا ساتھ ہی ایک مسّلم دوست بیٹھا تھا اُسکی نظریں کافی دیر سے مجھ پر ٹکیں تھیں اس نے جھک کر میرے کان میں نہایت دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
” تمہاری مسکراہٹ کھوکلی ہے “
میری مسکراہٹ کچھ اور گھیری ہوگئی۔۔۔
” میرا وجود بھی کھوکلا ہے “ میں نے ایک اور سپ لیا اور جینی جو کے کب سے مجھے بلا رہی تھی اسکا ہاتھ پکڑ کے ڈانس فلور کی طرف چلا گیا۔۔۔
” اللہ‎ تمہیں سکون دے۔۔ “ اسکی آواز نے میرا دور تک پیچھا کیا۔۔۔
ڈگری مجھے ایم بی اے کے دو سال مکمل ہوتے ہی مل گئی لیکن میں یہاں سے گیا نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا تھا اُس گند میں جاؤں نجانے میں یہاں اور کتنا بھٹکتا کے دادو کی کال نے میرے دل کو ایک عجیب سی امید دلائی۔۔۔
” دادو میں نہیں آسکتا میرا ائیر بیک ہوگیا اب مزید دو سال اور لگیں گئے۔۔ “ میں نے بس جان چھڑانے کے لیے ائیر بیک بولا تھا لیکن مجھے کیا پتا تھا یہ لفظ مجھ پر ہی بھاری پڑ جائے گا۔۔۔
” ہیں یہ موا ائیر بیک کون ہے جس کی وجہ سے تو آنہیں سکتا؟؟ “ دادو بھی کہاں پیچھا چھوڑنے والیں تھیں۔۔
” میرا سسر ہے دادو۔۔ “ میں چڑ گیا انکے سوال پر لیکن مجھے کیا معلوم تھا میں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری ہے ۔۔۔
” تو نے وہاں شادی کر لی نہ؟؟ کون ہے وہ چڑیل؟؟؟ میں ٹانگیں توڑ دوں جو میرے بچے پر حکم چلا رہی ہے؟؟ “ دادو تو آگ بگولا ہوگئیں آخر موم کی صورت میں ایک فرمانبردار بہو جو انہیں ملی ہے تو دوسری کہاں ہضم ہوتی؟؟؟؟
” دادو کوئی نہیں ہے میں مذاق کر رہا تھا اگلے سال پکا آؤنگا اب میں رکھتا ہوں۔۔بائے “ میں بس جان چھڑانا چاہتا تھا
” روک اگلے سال نہیں کل تک آ میں نے میلاد بھی رکھوایا ہے پھر میں گاؤں چلی جائونگی “
نجانے کیوں دادو کی بات سن کر میرا مردہ دل جی اٹھا پچھلی دفع بھی میلاد میں وہ آئی تھی اور اب کی بار بھی؟؟ ہاں وہ آئے گی۔۔ حالانکہ وہ لڑکی مجھے یاد بھی نہیں بس دن میں کبھی اسکا عکس میری آنکھوں کے سامنے لہرا جاتا۔۔
لیکن پھر بھی اسکے ذکر پر ایک عجیب سے کیفیت ہوتی جسے سمجھنے سے میں خود قاصر ہوں اور نجانے کیوں یہ یقین ہیں مجھے اُس پر کے وہ آئے گی۔۔۔۔
میں یہاں آیا سکون کی تلاش میں تھا لیکن لگتا ہے پل پل بےچینی حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے اب میں تنگ آچکا تھا ایک سال یہاں رہ کر خود کو اذیت ہی دی ہے اور کیا کیا ہے؟؟
پھر وہ حجاب؟؟ ایک دفع وہاں جانے میں کیا ہے؟؟ دل چاہا تو واپس لوٹ آونگا؟؟؟ مجھے لگ رہا تھا میں روبوٹ بن چکا ہوں دل و دماغ الگ حکم چلا رہے تھے میں نہیں جانتا کیسے بس میں نے کل کی سیٹ کنفرم کروائی اسکے بعد کہی بار میرے دماغ نے اُکسایا نہ جا وہاں کچھ نہیں ہے لیکن دل نفی کرتا رہا وہیں تو سب کچھ ہے دل و دماغ کی کیفیت میں اُلجھتا میں پاکستان کی سر زمین پر آن پہنچا۔۔۔
مجھے پہنچتے پہنچتے کافی دیر ہو چکی تھی میلاد ختم ہو چکا تھا مجھے لگا وہ جا چکی ہے پہلی بار ہوا تھا میں نے کسی چیز کی چاہ کی تھی اور وہ میرے ہاتھوں سے نکل گئی ” چاہ؟؟ “ میں خود اپنی سوچ پر حیران تھا میں بےدلی سے دادو کے روم کی طرف بڑھا لیکن دروازہ کھولتے ہی جہاں میرے منہ سے ” دادو ڈارلنگ “ نکلا وہیں حجاب تاثیر کا ہاتھ میری آواز سن کر لرز اٹھا میں اُسے دیکھ کر ابھی ٹھیک سے حیران بھی نہ ہوا تھا کے اُس نے جلدی سے نقاب لگا لیا۔۔
میں بھی خود کو سنبھالتا دادو کے پاس آیا مہوش اور جویریہ کی موجودگی لمحے میں میرے دماغ نے محسوس کی لیکن دادو کے پاس جاتے یہ کوشش پوری کی کے میرا بازو اُس سے مس ہو سکے لیکن مجھے کیا پتا تھا میری یہ چھوٹی سے حرکتیں میرے لئے ہی آزمائش بن جائیں گی وہ جلد ہی روم سے نکل گئی دادو کی ناراضگی کا علم ہونے کے باوجود میری نظروں نے دور تک اسکا تعاقب کیا دادو تو یہیں تھیں مان جائیں گی لیکن وہ پھر دیکھے نہ دیکھے؟؟؟
میرے آنے کی خوشی میں دادو، میں اور مہوش پوری رات باتیں کرتے رہے اور اسی وجہ سے مہوش اگلے دن یونیورسٹی نہیں جا سکی۔۔۔ موم ڈیڈ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے میں ان سے بغیر ملے روم میں چلا گیا صبح کے پانچ بجے تھے اور یہ میاں بیوی اب آرھے تھے غصّے میں مٹھیاں بھینچے میں باتھ لیکر سو گیا۔۔۔
اگلے دن مہک صبح صبح گھر آٹپکی ناشتہ کرتے وقت اسے گھر میں آتا دیکھ میرا موڈ سخت اوف ہوچکا تھا میں جان گیا تھا یہ ڈیڈ کا ہی کام ہوگا وہ زبردستی ناشتہ کے بعد مجھے اپنے ساتھ لے گئی مجھے خود سے چپکنے والی لڑکیوں سے کوفت ہوتی ہے یہی وجہ ہے میں مہک کو خود سے دور رکھتا ہوں لیکن اُسے خود مردوں کی باہوں میں جھولنے کی عادت ہے اور مجھے ایسی لڑکیوں سے نفرت ہے۔۔۔۔
مہک، ابریش ارسلنا سب میرے یونی فیلوز سے واقف تھے اُس دن مہک نے جلد بازی میں دانش سے شرط لگائی بعد میں مجھے ایک دوست سے پتا لگا دانش نے مہک کو پروپوز کیا تھا اور مہک کو یہ بات غصّہ دلا گئی کے ایک مڈل کلاس لڑکے نے اِس سے شادی کے خواب دیکھے بھی کیسے؟؟؟ مجھے افسوس نہیں تھا کے میں جیت گیا میری خیال سے دانش مہک کو ڈیزرو نہیں کرتا وہ اس سے بہتر لڑکی ڈیزرو کرتا ہے مہک اُس کے لائق نہیں تھی وہ کسی کے جذبات کی قدر نہیں کرتی۔۔ لیکن اُس دن دانش کی باتیں مجھے دل پر لگیں تھیں آخر کھیل ہار کر کون خوش ہو سکتا ہے؟؟؟ اُس نے کہا تھا زندگی کے کھیل عجیب ہیں کبھی بھی پاسا پلٹ سکتا اور واقعی قسمت نے ایک کھیل کھیلا تھا جس میں میں بُری طرح ہار گیا۔۔۔۔
مہک کی عادت تھی چپکنے کی میں اُس سے جتنی دور جانے کی کوشش کرتا وہ اتنا ہی میرے قریب آتی یہی وجہ تھی میں نے اسے ڈانٹ دیا لیکن پھر اسکے کہنے پر میں اُس دن اُسے ڈیفنس سینٹرل لائبریری لے آیا جہاں میری ملاقات حجاب تاثیر سے ہوئی میں نے سنا تھا عورت اپنی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ پہچان لیتی ہے اور اسکا چہرہ دیکھ مجھے یقین ہو چلا تھا وہ میری ان نظروں کا مفہوم جان چکی ہے میں بس اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔
” اتنا سنمبھالتی ہو خود کو پھر بھی گر گئیں کیا فائدہ ایسی حفاظت کا جب مقابل کی نظریں زیر کرنے کا فن جانتی ہوں “
وہ میرے جملے سے اس قدر خوفزدہ ہوگئی کے اپنی جگہ سے ہل تک نہ پائی نہ میری موجودگی اُسے ہوش میں لا سکی نہ میرا لمس لیکن اپنی دوست کی آواز سنتے ہی وہ تیزی سے باہر نکل گئی ناچاہتے ہوے میں بھی اسکے پیچھے گیا مہک وہیں ابھی تک بک ڈھونڈ رہی تھی اس بےوقوف لڑکی کے ساتھ کون سر کھپاتا جو خود کو میری نظروں میں برتر دیکھانے کے لئے سوفٹویر ایجینیرنگ میں ہوکر بُکس الیکٹریکل ایجینیرنگ کے پورشن میں ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔
” جویریہ تم نے دیکھا وہ۔۔ وہ گھٹیا شخص وہ گندا ناپاک انسان اس نے مجھے چھوا۔۔۔!!!! اسنے مجھے بھی ناپاک کردیا۔۔۔ اسکی۔۔ اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی “
حجاب کے الفاظ نے جہاں میرے اندر کے حیوان کو جگایا وہیں اسکی حرکت نے مجھے زندگی بھر کا اعتبار دے دیا وہ بار بار اپنا ہاتھ بُری طرح رگڑ رہی تھی جیسے کسی ناپاک شے کو ہاتھ لگا لیا ہو میری حیرت کی انتہا نہیں تھی اس قدر پاگل لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی لیکن اُس وقت مجھے اُسکی حرکت سے زیادہ اُسکے لفظوں نے جنجھوڑ ڈالا میں ناپاک؟؟ مجھے اپنے وجود سے گن آنے لگی آنکھیں بند کیں تو موم کی وہ ہنسی آنکھوں کے سامنے لہرائی ٹھاہ کی آواز سے وہ دروازہ بند ہوا جس کے بعد میری آنکھیں ہمیشہ کے لئے کُھل گئیں لیکن آج تک وہ ابراز مجھے نہیں ملا جو ” اہم “ تھا ” خاص “ تھا۔ میں نے بےاختیار اپنا ہاتھ ناک کے قریب کیا میں اس بدبو کو محسوس کرنا چاہتا تھا جس نے حجاب تاثر کو رلایا لیکن میرے ہاتھوں میں وہ بدبو نہیں تھی یا تھی لیکن میں محسوس نہ کرسکا کیوں کے میں ہوں تو ناپاک اور وہ پاک؟؟
بار بار اسکے لفظ میرے ذہن میں گونج رہے تھے وہ تو چلی گئی لیکن پیچھے اپنا عکس میرے ذہن میں چھوڑ گئی جس کا اثر یہ ہوا سارا غصہ میں نے مہک پر نکالا۔۔۔ جواب میں مہک نے بھی مجھے سنایا پر اِسکے لفظوں نے بھی مجھے اس قدر نہیں جھنجوڑا جتنا حجاب تاثیر کے لفظوں نے جھنجوڑا میں مہک کو چھوڑ کر گھر پہنچا۔۔۔
گھر میں موم اور دادو میرے لئے لڑکیاں ڈھونڈنے کی تیاری میں تھیں میں انہیں کیسے بتاتا مجھے عورت کا وجود تک اپنے پاس برداشت نہیں میں انکے قریب جانے کی کوشش بھی کروں تو دل روتا ہے چیخ کر کہتا ہے آخر ہو نہ حیات عالَم کی اولاد بھلا اس سے منفرد کیسے ہو سکتے ہو؟؟؟ پہلی بار جب کسی عورت کے قریب جانا چاہا تب حجاب تاثیر روکاوٹ بن گئی اُسکے بعد سے نجانے کیوں میں اُنکے پاس جا نہیں پتا مہک اور ابریش بہت بار میرے قریب آئیں لیکن اِنکو قریب آتا دیکھ دل چیخ پڑتا ہے موم کی وہ ہنسی آنکھوں کی سامنے لہراتی ہے۔۔ اور تب مجھے ہر عورت سے نفرت ہوجاتی۔۔۔ جو خود سے میرے قریب آتی۔۔۔۔ لیکن حجاب تاثر وہ پہلی لڑکی تھی جس نے میرے وجود کی نفی کر کے ضد دلائی اور اسی ضد کا نتیجہ تھا میں نے شادی کے لئے ہاں کردی۔۔۔۔۔
موم کی مداخلت مجھے غصّہ دلا گئی انھیں اپنی جیسی لڑکی چاہیے تھی ایک شوپیس جو اس محل کو اور شاندار بنائے لعنت ہو ایسے مرد پر جو بیوی کی نمائش کراتا پھرتا ہے میرا دل چاہا تھا اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دوں لیکن مہوش اور دادی کی وجہ سے خود پر قابو پا لیا۔۔ میرا کام بس میری ایک دھمکی سے بن چکا تھا پھر بحث کیوں کرتا؟؟؟ اب بس انتظار تھا حجاب تاثیر کے جواب کا۔۔۔۔۔
میرے دل میں خیال آیا تھا شاید حجاب نے جان بوجھ کر مجھے متاثر کرنے کے لئے یہ حرکت کی لیکن یہ بھی سچ تھا اُسے نہیں پتا تھا میں نے اُسکا عمل (ہاتھ دھونا )دیکھا تھا اُسکے الفاظ سنے تھے میری موجودگی کا اُسے علم تک نہ تھا
آج تک زندگی میں خود کو پیش کرنے والی لڑکیوں سے پالا پڑا تھا کبھی کبھی لگتا حجاب بھی ان میں سے ہے جو مجھے اپنی ان حرکتوں سے متاثر کرتی ہے لیکن نہیں دل یہ بات مانتا ہی نہیں۔۔۔۔۔
مجھے لگا تھا مجھ جیسے امیر بندے کو حجاب تاثیر تو کیا کوئی محلوں کی شہزادی تک رد نہیں کر سکتی، انکار نہیں کر سکتی لیکن انکار ہوا تھا، عزت افزائی تک کی تھی میری دادو کی میری بہن کی، وہ پورا دن میں سلگتا رہا ایک آگ سی جل رہی تھی میرے اندر اور اُس دن بھی کلب جاکر میں نے شراب کا سہارا لیا لیکن اُس دن وہ شراب بھی مجھے دغا دے گئی اور پھر سیم کے الفاظ۔۔۔۔ میں لاکھ اپنے ڈیڈ سے نفرت کرتا اُنکے سامنے انھیں بُرا بھلا کہتا لیکن کسی اور کے منہ سے اپنے ڈیڈ کے لئے لفظ تک برداشت نہیں کرتا، اُس نے غلط وقت پر غلط بات کی جسکی سزا اُسے میرا غصّہ دلا گیا میں وہاں سے چلا آیا مجھے سیم کی فکر نہیں تھی میں جانتا ہوں ویٹر انکل کو کال کر کے بتا دیگا کیوں کے سیم بھی اُسی دوزخ سے تعلق رکھتا ہے جہاں میں پیدا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
رات بھر میرا وجود کسی انگارے کی مانند جلستا رہا پوری رات میں ڈرنک کرتا رہا جسکی وجہ سے صبح دیر سے آنکھ کھلی۔۔ نیند سے بیدار ہونے کی وجہ بھی فون کال تھی سر ریاض نے مجھے یونیورسٹی بلایا تھا میرے ساتھ میرے کچھ یونی فیلوز کو بھی انہوں نے بلایا تھا آج وہ کنیڈا جا رہے تھے ہمیشہ کے لئے یہی وجہ تھی آخری بار وہ ہم سب سے ملنا چاہتے تھے میں بےدلی سے تیار ہوکر نیچے چلا آیا۔ ابھی کار میں بیٹھا ہی تھا کے مہوش کی کال آگئی۔۔۔
” رازی مجھے یونی سے پک کرلو ڈرائیور گھر پر نہیں دادو کو انکی کسی دوست کے یہاں چھوڑنے گیا ہے اور میرا کوئی لیکچر بھی نہیں میں بہت بور ہو رہی ہوں “
” اوکے “ مجھے یقین تھا مہوش حجاب سے الگ ہو چکی ہے وہ میرے معاملے میں بہت پوزیسو ہے۔۔ ایک بار پھر میری سوچوں کا مرکز وہ بنی دانت بھنچتے میں ڈرائیونگ کرتا رہا لگ رہا تھا ابھی غصّے کی شدت سے میرا دماغ پھٹنے لگے گا۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کیوں اُسے اتنا سوچتا ہوں تنگ کرتا ہوں؟؟؟ اُسے سوچتے میں بھی اُس جگہ چلا آیا جہاں اُسکا چلتا پھرتا وجود تھا۔۔۔کار سے نکل کر مہوش کی تلاش میں کفٹیریا کی جانب چلا آیا لیکن وہاں حجاب تاثیر کو ہنستا مسکراتا سموسہ کھاتا دیکھ میرا خون گرم ہوگیا۔ لمحوں میں اُسکے سر پر جا پہنچا اور اپنے لفظوں سے اُسے اس کی اوقات یاد دلا دی میں اُسے مسکراتا دیکھ اس قدر پاگل ہوچکا تھا کے لفظوں کے تیر کب اُسکے باپ کا رخ کر گئے مجھے اندازا نہیں ہوا۔۔۔
لیکن اُسکے بعد حجاب تاثیر کے لفظوں نے میرا وجود مٹا دیا میں جو ” خاص “ تھا اُسکی نظر میں گندگی کا ایک ڈھیر تھا، اُسکی ریجیکشن نے مجھے اتنی تکلیف نہیں دی کیوں کے مجھے تکلیف دادی کی انسلٹ سے ہوئی تھی ریجیکشن تو حجاب تاثیر کے لفظوں نے مجھے آج بتائی۔۔ مجھے میری اوقات یاد دلائی کے اُسکی انگلی برابر بھی نہیں ہوں وہ پاک ہے میں ناپاک وہ فرشتہ ہے تو میں شیطان۔۔
وہ مجھے اِس قدر گرا چکی تھی کے مجھ میں نظریں اٹھانے تک کی ہمت نہیں تھی وہاں سب لوگوں کی نظریں مجھ پر تھیں اور میں شرمندگی کے باعث سر نہ اٹھا سکا شرمندگی مجھے اپنی لفظوں پر نہیں بلکے اُسکے لفظوں سے ہو رہی تھی کیوں کے وہ سچ تھا کڑوا سچ لیکن اِس سچ میں حجاب تاثیر کا غرور بھی جھلک رہا تھا اور اسی غرور نے مجھے مجبور کیا شیطان بننے پر میں دوغلا، منافق، گنہگار بقول اُسکے پھر دوبارہ گناہ کرنے میں شرم کیسی؟؟؟ میری نظریں جیت کی خوشی میں اٹھیں اور اگلے ہی لمحے میں نے اُسے بےنقاب کردیا وہ کیفیٹیریا میں فرنٹ چیر پر بیٹھی تھی اِسکا چہرہ میری طرف تھا سب نے اُسے بےنقاب ہوتے دیکھا لیکن کسی نے اُسے بےنقاب نہیں دیکھا میں ابھی اسکا چہرہ حفظ بھی نہ کر پایا تھا کے اُسکے پڑنے والے تھپڑ نے مجھے وحشی درندہ بنا دیا اور میں عزت کا دعویدار لوٹیرا بن بیٹھا اس تھپڑ نے میرے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا میں پاگل ہوگیا تھا
وہاں سے نکلتے ہی ڈیڈ کے مینیجر کو کال کر کے اُسے اغواہ کرنے کا کہا کیوں کے میں اُس کا غرور مٹی میں ملانا چاہتا تھا عزت کا غرور، نیکی کا غرور، اُس عزت دار خاندان کو بےعزت کرنا چاہتا تھا اُسکے لفظوں نے مجھے گھائل کیا اُسکی زبان نے مجھے کافر کہا میں اُسے اُسی کی زبان کے دیے زخم لوٹا رہا تھا اُسی کے لفظوں سے اُسے مات دے رہا تھا۔۔ اُسکا استعمال کر کے اُسے رسوا کرنا چاہتا تھا لیکن کہتے ہیں نا دعا۔۔۔۔ بس دعا کیا کر جائے پتا نہیں چلتا انسان بس اسکی قدرت کے کرشمے دیکھتا رہ جاتا ہے اور دعا سے ہوا وہ معجزہ انسان کو موت کے منہ سے زندہ لے آتا ہے۔۔۔

” نہ جانے کون
میرے حق میں دعائیں کرتا ہے
میں ڈوبتا بھی ہوں تو
سمندر اچھال دیتا ہے “

ماں باپ کی دعائیں تھیں کے عزیزوں کی میں نہیں جانتا لیکن جب بےنقاب کرنا چاہا نہیں ہوئی بےعزت کرنا چاہا نہیں ہوئی۔۔۔ کیا اُسکا نقاب کرنا خدا کو پسند تھا؟؟؟ کیا وہ بہت نیک تھی؟؟ یا اسکا جسم ڈھانپنا اُسے ہر کسی سے محفوظ رکھتا ہے؟؟؟ میں ہر بار اُس سے ہارا تھا اور اُس دن بھی میری گھٹیا سوچ نے مجھے برباد کر دیا اور اُس ایکسیڈنٹ نے مجھے گناہ سے بچا لیا کیوں کے وہ میری محرم بنے والی تھی
میری دھمکی نے ڈیڈ کو نڈھال کردیا وہ تاثیر انکل کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے لیکن میری ضد نے انھیں اِس معاملے سے دور کردیا۔۔۔۔۔
تاثیر انکل کو دھمکی دیکر مجھے یقین تھا کام بنے گا میری ضد تھی اُسے پانا میں حاصل کرنا چاہتا تھا اُسے اور اِس ضد، انتقام نے مجھے اِس قدر اندھا کردیا کے مجھے اُس نیک انسان کا وہ آنسوں سے بھرا چہرہ نہ دکھا میں ہنسا تھا ایک باپ کے سامنے اُسکی بیٹی کو رسوا کرنے کی دھمکی دی تھی میرا دل ایک پل کو نہیں کانپا خوفِ خدا میرے دل سے نکل چکا تھا۔ میں وہاں ُاُنکی حالت دیکھ کر قہقہ لگا رہا تھا بغیر یہ جانے کے اُنکی سسکیاں خدا تک پہنچ رہیں تھیں۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔