Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

آج پورے تین دن بعد وہ یونی آئی صبح سے بورنگ لیکچرز لیکر اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔ وہ جتنا مضبوط ہونے کی کوشش کرتی اُتنا اسے قسمت آزماتی آج تک وہ اس شخص کے خوف سے باہر نہیں آئی۔۔۔۔ تین سال پہلے اُس شخص نے جو اسکے ساتھ کیا آج تک سوچ کر اِسکا دل پہلے دن کی طرح کانپتا۔۔۔۔
شراب کے نشے میں دُھت وہ ایک لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالے گھر کے اندر داخل ہوا پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ حجاب اپنا فون لینے گھر کے اندر آئی تھی وہ باہر ہال کی طرف جانے لگی جہاں میلاد ہو رہا تھا تبھی اسکی نظر رازی پر پڑی حجاب انہیں دیکھتے ہی پلر کے پیچھے چھپ گئی۔۔ رازی چلتے چلتے لڑکھڑا کر گرنے لگا تھا کہ ساتھ چلتی لڑکی نے سہارا دے کر اسے سنبھالا۔ رازی نے اس لڑکی کو جھٹکے سے پلر سے لگایا اور خود دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھ کے جانے کے سارے راستے مسترد کر دیے۔۔
” رازی یو آر نوٹ ان یور سینسز!!! روم میں جاؤ تمہارے ڈیدڈ نے دیکھا تو۔۔۔ “
” سو واٹ؟؟ کیا کریگا وہ؟؟ اب میں کمزور نہیں جس کو باپ کا سہارا چاہیے کمزور وہ ہے۔۔۔ گیٹ ڈھیڈ چلو میرے ساتھ بیڈ روم میں۔۔۔ “ ابراز نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑا لیکن اسکا دماغ لمحہ با لمحہ سن ہوتا جارہا تھا گرفت خود بخود ڈھیلی ہوتی گئی۔۔۔وہ پیچھے ہوا تو سامنے ہوا سے لہراتا دوپٹا اسکے دھندلے ہوتے عکس میں واضح ہوا ابریش نے ہاتھ بڑھا کے رازی کا ہاتھ تھامنا چاہا جو رازی نے فوراً جھٹک دیا اور دیوار کے ساتھ لگے وجود کی طرف بڑھا حجاب سہمی سے کھڑی تھی اس کے تو کبھی پشتوں نے بھی شراب تک کا نام نہیں لیا اور یہ شخص پی کر اسکے قریب کھڑا تھا۔۔۔
وہ دو قدم بڑھ کے آگے آیا تبھی اسے نقاب میں ملبوس لڑکی ملی وہ اور آگے آکر سیدھا اسکے سامنے آکھڑا ہوا وہ یک ٹک اسے دیکھنے لگا۔۔
” رازی۔۔ “ ابریش نے اسے روکنا چاہا تو ابراز نے اپنے ہونٹ پر انگلی رکھ کے اسے چُپ ہونے کا اشارہ کیا۔۔ اسکی آنکھیں ادھ کھلی ادھ بند تھیں وہ نشے میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ باہر سے آتی آوازیں بھی اسے سنائی نہیں دے رہی تھیں۔۔
حجاب نے اپنی آنکھیں سختی سے میچی ہوئی تھیں اسکے تو فرشتے بھی رازی کی آمد سے بےخبر تھے باہر سے آتی شور کی آواز میں اسے ابریش کی آواز تک سنائی نہ دی۔لیکن جب حجاب کو آس پاس ایک گندی بو کا احساس ہوا اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔۔
” آ۔۔۔ آ “ زور دار چیخ ابراز کو ہونش کی دنیا میں لے آئی۔۔ ابراز اسکی خوف سے پھیلی آنکھیں دیکھ کر مسکرایا وہ جتنا ڈر رہی تھی ابراز کو اُتنی ہی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔۔
” رازی چھوڑو اُسے تم پاگل ہوگئے ہو۔۔ “
” شٹ اپ۔۔۔ ڈ۔۔۔۔ڈو۔۔۔ڈو۔۔۔نٹ ی۔۔۔یو ڈیئر ٹو انٹرفیئر ان مائے میٹر “ ابریش اسکی تیز آواز سن کر پیچھے ہوگئی۔۔ حجاب کا دل اسکی دھاڑ سن کر کسی سوکھے پتے کی طرح کانپ اٹھا۔۔۔
” حجاب۔۔۔۔۔۔۔۔ تم دوست ہو۔۔ نہ مہوش کی۔۔۔ “ حجاب اپنا نام سن کر خوف سے پھیلی بھیگی آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔۔نجانے کیسا نشہ تھا جو ابراز کے دماغ پر سوار تھا۔۔ بےاختیار اسکا ہاتھ حجاب کے نقاب کی طرف گیا۔ وہ نقاب کے لئے لگی پٹ ہٹانے لگا تھا کہ حجاب نے لمحے کے ہزارویں حصے میں پرس سے بلیڈ نکالا اور اسکا ہاتھ زخمی کیا وہ کراہ کر پیچھے ہٹا تو حجاب نے دوڑ لگائی۔۔۔
اسے آج بھی وہ خوفناک دن یاد ہے ابراز اور اسکی پہلی ملاقات اگر وہ بلیڈ اسکے پرس میں نہ ہوتا تو۔۔۔ آج بھی سوچ کر اسکا دل کانپتا۔ اُس دن جویریہ اور وہ دونوں لیٹ آئے تھے اور آتے ہی مہوش انہیں اپنے روم میں لے گئی جہاں وہ اپنا فون بھول کر میلاد کے لئے نیچے آگئی تھی ۔۔ احساس تو اسے تب ہوا جب اسامہ نے فون کر کے اسے ڈانٹا کہ امی کی کال پک کر لے تبھی وہ سب کے ساتھ دعا مانگ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور مہوش کے روم میں جاکر اپنا فون لے آئی لیکن اسے کیا پتا تھا اسکے ساتھ ایسا واقع پیش ہوگا جو اسکا چین و سکون لے جائے گا۔۔۔۔۔
” تمہارے لئے سرپرائز ہے؟؟ “
مہوش حجاب کے کان میں چلاتے ہوے تقریباً اسکے کان کے پردھے پھاڑ چکی تھی۔۔۔
” پاگل ہو مہوش بہرہ کرنا ہے کیا؟؟ “ حجاب نے اپنا کان سہلایا ہمیشہ کی طرح وہ فل نقاب میں تھی۔۔۔ مہوش اور جویریہ کیفےٹیریا لنچ لینے گئی تھیں تبھی حجاب کو رانیہ اور ابراز والا واقعہ یاد آیا۔۔۔۔
” بہری ہوگئی تو میرا ہی نقصان ہے “ مہوش کہتے خود ہی ہنس دی اسے بےصبری سے حجاب کے ریکشن کا انتظار تھا۔
” اچھا وہ کیوں؟؟؟ “ جویریہ نے جوس کا ایک گھونٹ لیکر پوچھا۔۔۔حجاب نے نقاب اوپر کر کے برگر کا ایک بائٹ لیا نظریں مہوش پر تھیں۔۔
” آج شام پتا لگ جائے گا بےبی۔۔۔ “ مہوش نے زور سے جویریہ کا گال کھینچا حجاب اور جویریہ نے ایک دوسرے کو دیکھا وہ اتنی خوش تبھی ہوتی تھی جب خوشی کا مرکز کوئی اور ہوتا۔۔۔
لنچ کے بعد پوانٹ کے آتے ہی حجاب اور جویریہ چلی گئیں۔۔ مہوش بھی اُسی وقت ڈرئیور کو بلا کر گھر چلی گئی۔۔۔
☆………….☆………….☆
” السلام عليكم دادو مجھے یقین نہیں آرہا آپ۔۔۔ “ حجاب نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی سلام کیا اور دادو کے آگے سر جھکا کے دعا لی۔۔۔
” وعلیکم السلام صدا خوش رہو۔۔ ہنستی مسکراتی رہو۔۔۔ “
دادو نے اپنا ہاتھ حجاب کے سر پر رکھ کے دعا دی حجاب جگہ بناتی انکے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ وہیں ڈبل صوفہ پر تاثیر صاحب سنجیدگی سے بیٹھے کسی سوچ میں گم تھے جبکی آمنہ کی نظریں زمین پر بیچھے قالین پر اٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
” کیسی میزبان ہو کوئی خاطر داری ہی نہیں۔۔ “ مہوش کی بات سن کر جہاں حجاب مسکرائی وہیں دادو نے اسے جھانپڑ رسید کیا۔۔۔
” بیٹا تمہاری پسندیدہ ادرک والی چائے بنائی ہے ثنا بس لاتی ہوگی۔۔۔ “ آمنہ دھیما سا مسکرائیں۔ انکے آتے ہی آمنہ مہوش کی پسندیدہ چائے چولہے پر چڑھا کر آئی تھیں اور ساتھ ثنا کو پکوڑے اور کباب تلنے کا کہہ آئیں۔۔۔
” نہیں بیٹا تکلف کی ضرورت نہیں بس جس کام کے لئے آئے ہیں اُسکی رضا مندی دے دیں یہ تو ساری زندگی کھاتی رہے پھر بھی اسکا کنواں (پیٹ) خالی رہنا۔۔۔۔“
” صحیح کہا دادو۔۔۔ “ حجاب نے اُنکی ہاں میں ہاں ملائی۔ تاثیر صاحب نے جواب طلب نظروں سے آمنہ کو دیکھا جو حجاب کی مسکراہٹ دیکھ رہی تھیں آخر کیسے وہ جانتے بوجھتے اپنی بیٹی کو کنویں میں دھکیل دیتیں۔۔۔۔ تبھی لوازمات سے بھری ٹرے لیکر ثنا ڈرائنگ روم میں آئی۔۔۔
” مہوش آپی آپ کی پسندیدہ چائے، آپ آتی ہیں تو مجھے بھی امی کی بنائی چائے مل جاتی ورنہ پھر خود ہی بنانی پڑتی“ ثنا کہتے ساتھ سب کو چائے سرو کرنے لگی تب تک حجاب نے دادو اور مہوش کے لئے کباب پکوڑے اور سینڈ وچ پلیٹ میں نکال کر انکے سامنے رکھے۔۔۔۔۔
” لیں نہ دادو۔۔ “ حجاب کا یہ پیار بھرا اپنائیت سا انداز انکا ارادہ اور پکّا کر رہا تھا لیکن اب انہیں تاثیر صاحب اور آمنہ کی خاموشی سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
” آپ نے کیا سوچا بیٹا۔۔ “ دادو نے تاثیر صاحب کی طرف رُخ کیا۔۔ اب کے حجاب ٹھٹکی۔۔۔
” کس بارے میں دادو۔۔ “ ثنا نے مداخلت کی جس پر آمنہ نے آنکھیں دکھائیں بچوں کا بیچ میں بولنا انہیں سخت بُرا لگتا۔۔
” حجاب کو ہمیشہ کے لئے اپنی بیٹی بنانے کا۔۔۔ “ دادو نے محبت پاش نظروں سے حجاب کو دیکھتے ہوے کہا حجاب نے اپنی امی ابو کو دیکھا جن کے سر یہ بات سنتے ہی جھک گئے۔۔
” حجاب میں تمہارے لئے ابراز کا رشتہ لیکر آئی ہوں میں چاہتی ہوں یہ پھول صرف میرے آنگن میں رہے۔۔ تم بتاؤ بچے اگر ماں باپ راضی ہوں تو تمہاری رضامندی کیا ہوگی “ دادی نے دونوں میاں بیوی سے مایوس ہوتے اب کے حجاب کو گھسیٹا انھیں یقین تھا حجاب کا جواب انکے حق میں ہوگا۔۔
” دادو آئی ایم سوری کیا آپ سے کچھ پوچھوں؟؟ “ حجاب نرمی سے گویا ہوئی وہ اپنے ماں باپ کے جھکے سروں کا مطلب جان چکی تھی وہ خود بھی کبھی مر کر بھی اُس شخص سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ماں باپ کی خاموشی؟؟ وہ جان چکی تھی اس خاتون سے وہ ہچکچا رہے تھے جو بہت امیدیں لیکر انکے در پر آئی ہے۔۔۔
” آپ اپنی بیٹی کسی نشئ کو دینگی؟؟ جو رات کی تاریکی میں، گھر میں جوان بہن کے ہوتے ہوئے دوسری لڑکیوں کو لائے؟؟ جس کے لئے شراب نشہ کرنا عام بات ہو؟؟؟ جو نشے میں جان لیکر صبح انجان بن جائے؟؟ نشہ کرنے والا یہ نہیں دیکھتا دادو باپ ہے یا بھائی۔۔۔ “ حجاب انہیں دیکھتے بہت دھیمے لہجے میں کہہ رہی تھی۔ دادو کا شرمندگی کے مارے سر جھک گیا انکا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائیں ۔۔۔ مہوش بھی غصّے، شرمندگی کے باعث مٹھی سختی سے بھینجے سن رہی تھی۔۔۔
” جسکا نہ دین ہے نہ ایمان ایسے انسان کو کون بیٹی دیگا؟؟
میرے ماں باپ خاموش ہیں کیوں کہ۔۔۔۔ “ مہوش سے یہاں بیٹھنا محال ہوگیا وہ اٹھی۔۔ اِسے اٹھتا دیکھ آمنہ بھی اٹھیں لیکن مہوش نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روکا۔۔۔
” چلیں دادو۔۔ “ مہوش نے دادی کا ہاتھ تھام کے اٹھایا وہ بھی یہاں سے نکلنا چاہتی تھیں جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
” مہوش۔۔ “ حجاب نے بھی روکنا چاہا لیکن مہوش کے سر پر تو جیسے خون سوار تھا۔۔۔۔
” پلیز حجاب۔۔۔ نوٹ آ سینگل ورڈ۔۔۔ “ وہ دادو کو لیکر وہاں سے نکلتی چلی گئی پیچھے حجاب کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔
” بیٹے “ وہ بابا کی پکار سن کر انکے گلے لگی۔۔۔
” نہیں میرے بچے تم نے کچھ غلط نہیں کیا غلطی ہماری تھی ہم بولتے لیکن وہ خاتون اتنی امیدوں سے آئی تھیں کہ میں کچھ بول ہی نہ سکا۔۔۔ “ تاثیر صاحب نے نرمی سے اپنا ہاتھ حجاب کے سر پر رکھا۔۔
” حجاب ساری زندگی رونے سے اچھا تھا بندہ ہمت کر کے منع کرے میں تو خود انکے آسرے بیٹھی رہی۔۔ “ حجاب کی ماں نے بھی گلے لگا کر اسکی پیشانی چومی۔۔ آمنہ کی بات سن کر تاثیر صاحب نے انہیں آنکھیں دکھائیں۔۔
” آئندہ آپ میرے آسرے نہ بیٹھنا۔۔ آپ جو کہیں گی ٹھیک ہی ہوگا۔۔ “ وہ دھیما سا مسکرا کے بولے ماں سے گلے لگتی حجاب نم آنکھوں سے مسکرائی۔۔ جبکے ثنا انکی نوٹنکی دیکھ کرمسکرائی اور ٹیبل سے سامان اٹھا کر کچن میں رکھنے لگی۔۔۔
☆………….☆………….☆
“ دادو ڈائٹ پر ہیں ؟؟ “
رازی نے فورک کی مدد سے تین چار فرائیڈ پران اپنی پلیٹ میں ڈالے۔۔۔ وہ ابھی نہا کر ڈائننگ ٹیبل پر آیا تھا آمنہ اور حیات صاحب کھانا شروع کر چکے تھے جبکے دادی بس برائے نام کھانا کھا رہی تھیں انہیں حجاب سے ایسے جواب کی امید نہ تھی لیکن سچ تو یہ تھا آج انکی لاڈلے پوتے کی وجہ سے انکا سر جھک گیا۔۔۔
” نہیں آج کی بےعزتی نے پیٹ بھر دیا۔۔ “ مہوش بلیک کافی کا مگ ہاتھ میں لیے رازی کے ساتھ والی کرسی پر آبیٹھی۔۔
” دادی کی؟؟ “
” یس برو۔۔۔ “ مہوش نے مزے سے کافی کا سپ لیا۔ اسے پتا تھا اِس کا اقرار ابراز کے غصّے کو ہوا دے گا۔۔
” واٹ؟؟ پوری بات بتاؤ۔۔۔ “ رازی نے زور سے فورک پلیٹ میں پٹخا اسکے لہجے کی سختی اور سنجیدہ چہرہ دیکھ کر مہوش مسکرائی۔
” ہونا کیا ہے؟ ہم تمہارا رشتہ لیکر حجاب کے یہاں گئے تھے۔۔ انکل آنٹی تو رشتے کا سن کر چپ رہے لیکن حجاب۔۔۔“ حجاب کا نام بولتے بولتے مہوش کے چہرے کے تااثرات سخت ہوئے۔۔ ابراز دانت بھینجے ضبط کی حدوں پر تھا۔
” حجاب نے دادو کی بہت انسلٹ کی اگر میں انھیں لیکر نہ آتی تو ضرور اُنکا ہارٹ فیل ہو جانا تھا۔۔۔ بقول حجاب کے تم جیسے شرابی نشئ کو کوئی بھی شریف انسان اپنی بیٹی نہیں دےگا۔۔۔ “ مہوش اب کے مسکراتی ہوئی کپ پر انگلی پھیرتی ابراز کے اندر جلتی آگ کو بھڑکا گئی۔۔۔۔ آمنہ ساس کی عزت افزائی کا سن کر دل ہی دل میں جھوم اٹھیں ساتھ حجاب نام کا کانٹا بھی نکل گیا جو انکے بیٹے کو ان سے دور کردیتا۔۔ وہ کل تک حیات صاحب کے سمجھانے پر زہر مار کر اس رشتے کے لئے راضی ہوگئی تھیں لیکن یہاں تو قسمت اِن پر خود ہی مہربان ہوگئی۔۔۔
” ماں آپ لوگ وہاں اپنا تماشا بنا کر آگئے؟؟؟ ارے وہ دو ٹکے کے لوگ انکی ہمت ہے ہمارے سامنے کھڑے ہو سکیں؟؟؟ ڈیم اٹ…
صرف ابراز کی وجہ سے میں مانا لیکن اسکی ضد سے زیادہ مجھے اپنی عزت عزیز ہے چھوڑونگا نہیں میں انہیں۔۔۔ “ حیات صاحب جو کب سے خاموش بیٹھے تھے بیٹے کے خلاف ایسے الفاظ اور ماں کی بے عزتی کا سن کر آگ بگولا ہوگئے۔ پلیٹ اٹھا کے زور سے نیچے پھینکی۔۔۔ انکے اس عمل کی امید کسی کو نہ تھی سب ہی سکتے کی عالَم میں بیٹھے رہے جبکے ابراز مٹھیاں بھینچتا پلیٹ دور کھسکا کر ٹیبل سے کار کی چابی اٹھا کر گھر سے نکل گیا۔۔۔
” رازی اسٹاپ۔۔۔ رازی۔۔۔۔ “ اسکا باپ پیچھے سے چلاتا رہا وہ ان سنی کر گیا۔۔۔
” تجھے منہ کھولنے کی ضرورت تھی ؟“ دادی نے ایک غصیلی نظر سے مہوش کو نوازا۔۔۔
” دادو اپنی بے عزتی برداشت کر سکتی ہوں لیکن آپ کا جھکا چہرہ میں نہیں بھولی۔۔۔ “ غصّے، غم کی شدت سے اسکی آواز بھرا گئی۔۔۔ وہ بھی اٹھ کے وہاں سے چلی گئی اسکے جاتے ہی حیات صاحب بھی اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔
” تو کیا یہاں بیٹھ کے کھا رہی ہے سب بھوکے چلے گئے جا جاکر حیات کو دیکھ کوئی اچھی امید نہیں مجھے حیات سے۔۔ وہ عزت دار لوگ ہیں اُسے سمجھا کے کچھ نہ کرے۔۔۔۔ “ دادی بھی اپنا سارا غصّہ آمنہ پر نکال کر چھڑی لیکر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
” جیسا بیٹا ویسی ماں بیٹے کے کرتوت پتا لگیں تو یہ کھوکلی عزت مٹی میں مل جائے۔۔ “ آمنہ لہو رنگ آنکھوں سے دادو کو دور جاتا دیکھتی رہیں آنکھوں میں بےتحاشا نفرت تھی۔۔۔
☆………….☆………….☆
وہ صبح نماز کے لئے اٹھی تو اِسکا شوہر کہیں نہیں تھا۔ رات کا منظر یاد آتے ہی اسے خود پر حیرت ہوئی لگ رہا تھا جیسے وہ کسی خواب کی کیفیت سے بیدار ہوئی ہے۔۔۔ وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر بالوں کا جوڑا بنا کر اٹھی وضو کیا اور نماز ادا کی۔۔۔
” وہ کہتا ہے میں بدل گیا ہوں۔۔ اگر بدل گیا ہے تو کہاں ہے؟؟ آج پھر وہ اپنے جیسی عورتوں کے پاس گیا ہے۔۔۔ ایسے انسان کبھی نہیں بدلتے۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ آج مجھے جھکا کر وہ چلا گیا۔۔۔ لیکن میں جھکنے والوں میں سے نہیں وہ مر بھی جائے تب بھی کبھی اقرار نہیں کرونگی یہ راز صرف میرے اندر دفن رہےگا کہ میں ایسے انسان سے محبت کرتی ہوں جو میری محبت کیا؟؟ نفرت کے لائق بھی نہیں۔۔۔ عائشہ کہتی ہے میں نیکی کا تکبر کرتی ہوں نہیں میں نیکی کا تکبر نہیں کرتی لوگوں کو انکا اصل چہرہ دکھاتی ہوں جسے تنہائی میں دیکھنے سے بھی وہ ڈرتے ہیں۔۔۔ میں نہیں کرتی غرور میں سچ کہتی ہوں جو اُنھیں کڑوا لگتا ہے اور وہ کہتی ہے میں خوش نصیب ہوں ایسا شوہر پا کر لیکن مجھ سے برا بدنصیب کون ہوگا؟؟ وہ پاگل انجان ہے اُس نے محبت جگا تو دی میرے دل میں لیکن وہ اُس شخص کے دل میں نہیں جگا سکتی جو صرف خود سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ “ وہ دعا مانگ کر آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی جائےنماز رکھتے وہ پیچھے مُڑی تبھی دروازہ کھول کر اس کا شوہر شلوار قمیض میں ملبوس اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔
” تم۔۔۔ تم تو چلے گئے تھے؟؟ “ وہ اسے یکدم سامنے کھڑا دیکھ بوکھلا گئی۔۔
” تو واپس نہیں آسکتا؟؟ “ وہ قدم اٹھاتا اسکے قریب تر آرہا تھا۔۔۔
” تمہیں کیا لگا عیاشی کرنے گیا ہوں “ وہ اس کے اسقدر قریب آگیا کہ اسکی بیوی کا سر اسکے دل سے ٹکرایا۔ اسکا قد بمشکل شوہر کے دل تک آتا۔۔۔ وہ اسکی طرف جھکتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا ہونٹوں پر ایک بےبس سے مسکراہٹ تھی۔۔ اسکی بیوی شرمندگی سے نظریں جھکا گئی
” عرصہ ہوا ہے۔۔ ایک لڑکی نے دل پر قبضہ جمالیا تب سے یہ دل بےبس ہے کہیں اور جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔۔ “ خاموش پاکر اسکے شوہر نے محبت سے اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔ وہ اسکی سوچ سے کیسے انجان رہ سکتا ہے پل پل تو اِسی کو پڑھتا آیا ہے۔۔۔
” ان چھ سالوں میں ایسی سکون بھری نیند لی تھی؟؟ “ بات بدلنے کو اسنے کل رات والا واقعہ دہرایا
” نہیں “ اپنے دونوں ٹھنڈے ہاتھ اسنے شوہر کے سینے پر رکھ دیے۔۔
” تم کہاں چلے گئے تھے صبح؟؟ “ اب وہ اسکی قمیض کے بٹنوں کو چھیڑ رہی تھی۔۔ اسکا شوہر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جس سے وہ کنفیوز ہوکر نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
” تم نے مس کیا؟؟ “ پل بھر کو اسنے اپنے شوہر کو دیکھا اور واپس نظریں جھکا لیں ہونٹوں پر خوبصورت شرمگیں مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
” تم پاس نہیں تھے تو میں گھبرا گئی۔۔۔ “
” ہمیشہ رہونگا اگر اجازت دو تو۔۔۔ “ وہ اسکی طرف جھکتا ہوا معنی خیزی سے بولا۔۔
” آج تک مجھ سے کب اجازت لی ہے۔۔۔ “ اسکی بیوی نے خفگی سے کہتے ہی اسے دور دھکیلا اور بیڈ کی سائیڈ کورنر پہ جاکر بیٹھ گئی۔۔۔
” اگر احتشام اور پرنیا کی بات ہے تو وہ میرا حق ہے، چلو تھرڈ جو آیا تمہاری مرضی سے ہوگا “ دھیرے دھیرے اسکی طرف قدم بڑھاتے وہ اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ رہا، آنکھیں حیا سے جھکی ہوئی تھیں ناک اور گال کچھ شرم اور سردی کی شدت سے سرخ پڑ چکے تھے وہ ایک گھٹنے کے بل ٹھنڈی زمین پر اسکے ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
” آج سے پہلے تم کہاں تھیں؟؟؟ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لئے جتنا میں تڑپا ہوں تم جان بھی نہیں سکتی ساری دولت لوٹا دوں تب بھی فائدہ نہیں یہ منظر دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔۔۔۔ “ وہ خاموش رہی شوہر کی باتیں سن کر ویسے ہی اسکا دل تیز دھڑک رہا تھا اب تو اسنے آنکھیں بھی سختی سے میچ لیں۔۔۔۔۔
” محبت ہے شوہر سے۔۔۔ “ سوال ایسا تھا کے وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی پوری آنکھیں کھولے وہ اسے تک رہی تھی۔۔۔۔
” ایسے دیکھ رہی ہو جیسے موت کی خبر سنا دی۔۔۔ “ دکھ بھرے لہجے میں کہہ کر اس نے ہاتھ کی پشت پر ہونٹ رکھنے چاہے تو اسکی بیوی نے ارادہ بھانپتے ہی جھٹ سے ہاتھ کھینچے۔۔۔
” سوری “ وہ اپنی بےاختیاری پر جی بھر کے شرمندہ ہوئی۔۔۔
اسکے شوہر کے چہرے پر بل بھر کو مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی جیسے اسی جواب کی امید تھی۔۔۔
” میرے لیے دعا کروگی؟؟ “ وہ امید لگائے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے گویا ہوا۔۔۔۔
” جی۔۔ جی “ نجانے کیسا ڈر و خوف تھا جو ابھی تک اسے جکڑے ہوئے تھا شوہر کی کسی بات پر اسکی بیوی کو اعتبار نہ تھا۔۔۔
” دعا کرنا میں ہار جاؤں زندگی کی پہلی بازی ہے جو میں ہارنا چاہتا ہوں آج تک صرف جیتنے کی خوائش کی ہے آج پہلی مرتبہ میں نے اُس سے ہارنے کی خوائش کی۔۔۔ تم بھی بولوگی تو وہ میری دعا ضرور قبول کرےگا۔۔۔ میں جیتنا نہیں چاہتا اگر میں جیتا تو اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھونگا۔۔۔ جو مجھے بہت عزیز ہے بہت۔۔۔ “ وہ اسکا ہاتھ جو گودمیں رکھا تھا نرمی سے سہلاتے ہوے کہہ رہا تھا۔۔ اسکی بیوی کو اسکی آواز رندھی ہوئی لگی۔۔۔۔
” میرے کپڑے نکال دو آٹھ بجے کی فلائٹ ہے، ارجنٹ پہنچنا ہے وہاں میٹنگ اٹینڈ کر کے چار بجے تک لوٹ آؤنگا “ وہ کہتا ہوا اسکا ہاتھ چھوڑ کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔