Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
” نہیں ضرورت مجھے اِنکی دعا کی “
دل کی بےچینی بڑھ گئی وہ میری خوشی میں خوش تھیں لیکن میں انھیں خوش دیکھ کر اپنی خوشی بھول گیا کتنا اچھا ہوتا کے میری وہ ماں ہوتیں جنہیں میں اپنا کل کا کیا کارنامہ بھی سناتا۔ آگر وہ میری وہ ماں ہوتیں تو کیا میں ایسا ہوتا؟؟ میں بےخیالی سے ڈرائیو کرتے نجانے کن راستوں پر نکل پڑا میری سوچیں بس موم کے گرد گھوم رہیں تھیں۔ موم کی وہ ہنسی میرا دل بند کر رہی تھی۔۔ کاش میں ذہن کے اُس حصے سے وہ یاد مٹا سکتا وہ لمحہ ان تقدیر کے پنوں سے پھاڑ کے پھنک سکتا۔۔۔۔ یا کاش وہ سب نہ دیکھتا کاش میں انجان رہتا کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا مجرم اور کوئی نہیں بس میری ماں ہے کاش کاش بس ڈیڈ انوِلو ہوتے میری موم نہ ہوتیں میں بڑا ہوکر انکے لئے دنیا کی ہر دولت کماتا دن رات محنت کرتا دنیا انکے قدموں میں لاکر رکھتا لیکن وہ انتظار تو کرتیں۔،۔۔۔۔۔
میں نے ہونٹ بھینچ لئے انکی سوچیں میری آنکھیں نم کر دیتیں میں نے کار ریورس کی کچھ دیر بعد میں ابریش کے گھر کے باہر تھا۔۔
” واٹ آ پلیزینٹ سرپرائز “ ابریش مجھے دیکھتے ہی خوشی سے گلے لگی۔۔
” اسٹاپ اٹ نفرت ہے مجھے چپکو لڑکیوں سے۔۔ “ میں لاپروائی سے کہتا اسکے بازوں کو جھٹک کر بیڈ پر بیٹھ گیا گھر کا پچھلا دروازہ ڈائریکٹ ابریش کے روم میں کھولتا میں ہمیشہ وہیں سے اندر آتا۔۔۔ روم کی حالت اور ابریش کا سراپا صاف ظاہر کر رہا تھا وہ میری کال کرنے پر اٹھی ہے بیڈ پر ابھی تک تکیہ چادر اور بلنکٹ بےترتیبی سے پھیلے پڑے تھے۔۔
” اچھا کلب میں تو بڑے مزے سے ڈانس کرتے ہو “ ابریش نے مجھے گھوری سے نوازا۔۔۔
” تم خود کو ڈھانپتی کیوں نہیں اتنے چھوٹے کپڑے کیوں پہنتی ہو؟؟ “ اسکی باتیں غیردماغی سے سنتے میں اسکے کپڑوں کو دیکھتے ہوے بولا جو گھٹنوں سے بمشکل نیچے تک آتے وہ ہمیشہ ایسے لباس پہنتی آج اچانک مجھے ایسے ہی اسکے کپڑوں کا خیال آگیا اسے دیکھ حجاب کا خوبصورت سراپا میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔۔۔
ابریش جو بالوں کا جوڑا بنا کر اب واشروم کی طرف جا رہی تھی الٹے قدم پیچھے مُڑ کر میری سامنے آکھڑی ہوئی۔۔۔
” میری باپ نے آج تک مجھے اس بات کا طعنہ نہیں دیا اور تم۔۔ خیر یہ مردوں کی سوچ ہے جو اپنے نفس پر قابو نہیں پا سکتے۔۔۔ “ لہجے میں جھلکتا غصّہ اور طنز صاف میری طرف اشارہ کر رہا تھا۔۔ میری آنکھوں میں دیکھتے وہ مسکرا رہی تھی جیسے چلینج کر رہی ہو۔۔۔۔۔ میں اسے افسوس سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا نجانے کیسے ایسے ماحول میں آج تک سانس لیتا رہا ہوں؟؟؟؟؟ میری بےسکونی کا حل کسی کے پاس نہیں۔۔۔۔۔
” کہاں جا رہے ہو روکو میں فریش ہوکر آؤں پھر ساتھ ناشتہ کرتے ہیں “ ابریش نے میرا بازو پکڑ لیا۔۔۔
” کر کے آیا ہوں گڈ بائے “ میں نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نرمی سے اسکا بازو ہٹا کر اسکے گھر سے نکل آیا میرے پیچھے وہ آوازیں دیتی رہی میں ان سنا کر گیا۔۔۔۔۔
گھنٹوں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بعد میں نے بلاآخر حجاب کے نمبر پر کال کی فون حجاب کی ماں نے اٹھایا
” السلام عليكم بیٹا کیسے ہو دوبارہ آئے ہی نہیں ہمیں خدمت کا موقع بھی نہیں دیا اب تو داماد ہو ہمارے “
انکا محبت بھرا لہجہ مجھے شرمندہ کر گیا۔۔
” بس آنٹی۔۔ اوپس وعلیکم السلام سوری عادت ہی نہیں سلام کی۔۔ آنٹی آپ کی اجازت ہو تو حجاب کو شوپنگ کرانے لے جاؤں “ یہ سچ تھا آج تک باپ سے بھی اجازت نہیں لی بس حکم سنایا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے فون کے اُس پار موجود ہستی قابلِ احترام ہے جو خود اپنی عزت کرانا جانتی ہو۔۔۔
” ہاں بیٹا ضرور وہ آپ کی ہی امانت ہے ہمارے پاس۔۔ بیٹا بُرا نہ مانو تو ایک درخواست ہے حجاب کے پچھلے رویہ کو بھلا دینا وہ زبان کے معاملے میں بیوقوف ہے نہ جانے کہاں سے زبان چلانا سیکھ گئی لیکن بیٹا وہ دل کی بُری نہیں جو دل میں ہے وہی زبان پر ہے وہ سمجھتی ہے سب کو انکا اصلی چہرہ دیکھا رہی ہے لیکن اُسے معلوم نہیں زبان سے نکلے الفاظ کب اس کے لیے امتحان بن جاتے ہیں۔۔۔ بیٹا تم اُسے جانتے ہو سمجھتے ہو میری گزارش ہے ہوسکے تو اُسے سمجھانا بھلے ڈانٹ کر ہی کم سے کم وہ نقصان سے تو بچے گی اور اُسکی باتیں در گزر کر دینا غصّہ میں اُسے خود نہیں پتا وہ کیا بول جاتی ہے “ انکے لہجے سے جھلکتی پریشانی مجھے صاف محسوس ہوئی۔۔
” آنٹی آپ پریشان نہ ہوں وہ میری زمیداری ہے جیسے آپ کے گھر راج کرتی ہے ویسے ہی میرے دل پر حکمرانی کریگی۔۔ آپ اسے بھیج دیں میں ویٹ کر رہا ہوں “ میں نے کہکر فون رکھ دیا میرے الفاظ مجھے خود اجنبی لگے اس دل و دماغ کی جنگ میں ہمیشہ دل جیتا ہے دماغ نے چال چلنی بھی چاہی تو اس دل نے اُس چال کو ناکام بنا دیا۔۔ اور آج اِس دل نے ہی ایک ماں کو پُر سکون کردیا۔۔۔
میں اُسکے گھر کے باہر کار سے ٹیک لگاے کھڑا تھا تبھی وہ مغرور حسینہ میری طرف آتی دیکھائی دی میرا بگڑا موڈ یکدم ٹھیک ہوگیا لیکن میں اُسکے نقاب میں چھپے چہرے سے بھی اُسکی ناگواریت کا اندازہ اچھے سے لگا سکتا تھا باقی اُسکے غصّہ بھرے لفظوں نے یقین کروا دیا۔۔ میں نے فہیم احمد کا پورا قصہ اُسکے گوش گزار کردیا پھر اسے ایک بوتیک میں لے آیا لیکن اِسکی بےزاریت دیکھ میرا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا میں اُسکے لئے اُسکی پسندیدہ ڈریسسز خریدنا چاہتا تھا لیکن اُسکا منہ بنا دیکھا میں نے خود اپنی پسند کا جوڑا خریدا اور اُسے اُسکے گھر چھوڑ کر چلا آیا۔۔۔۔
ہر بار وہ مجھے ایک نئی اذیت سے نوازتی میں اُسکی ماں سے وعدہ تو کر چکا تھا پر نبھاونگا کیسے؟؟ میں گھر آتے ہی دادو کے روم میں آیا میں جلد از جلد اسے اس گھر میں لانا چاہتا تھا اور میری بیوقوفی ابھی تک دادو کو کچھ نہیں بتایا۔۔۔ میں کافی دیر اُنکے پاس بیٹھا رہا پھر موم ڈیڈ کے آتے ہی رات ڈنر کے وقت سب کو اپنے نکاح کے بارے میں بتایا موم ڈیڈ نے خاص ریکٹ نہیں کیا لیکن مہوش کے چہرے پر جیت کی خوشی دیکھ کر میں نے اگنور کیا میرا ارادہ ضرور تھا اُس سے بدلا لینے کے لئے شادی کرنا لیکن اُسکی ماں کی باتیں سن اور حجاب کا رویہ دیکھ میں سمجھ گیا وہ ایسی ہے نہیں بس فہیم احمد کے واقعہ کے بعد خود کو پتھر بنا لیا ہے۔۔۔۔
اگلے دن دادو میرا سر کھا گئیں کے حجاب کو لے آؤ بس ایک دفع اُس سے ملنا ہے دادو حجاب کے اُس رویہ کے بعد پھر کبھی اُس سے ملی نہیں اور نکاح کی خبر نے تو انہیں پھر سے جوان کردیا انہوں نے صاف میرے منہ پر کہہ دیا حجاب خود سے کہے گی تبھی یقین آئے گا سب سے زیادہ خوشی انھیں ہی تھی انھیں خوش دیکھ میری خوشی بھی دو گنی ہوگئی میں نے فوراً سے حجاب کو کال کی لیکن ایک بار پھر اسنے میرا دل توڑا اُسے میرا ساتھ قبول نہیں؟؟ میں اسکے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہوں؟؟ ہمارا نکاح اسے ایک کڑوا گھونٹ لگتا ہے جسے آج تک وہ ہضم نہیں کر پائی؟؟؟ کون شوہر ہوگا جسے ہر بار اپنی ناقدری قبول ہوگی نجانے کیوں یہ لڑکی میرے دل سے نہیں اتُرتی ہر بار کٹھور رویہ رکھنے کے بعد بھی اسکا مقام آج تک دل میں وہی ہے۔۔۔۔۔ لیکن اب وہ اس مقام سے گر بھی جائے تو مجھے فرق نہیں پڑتا شاید پتھر سے سر پھوڑا ہے میں نے؟؟؟
پہلی دفع اُس دن میں نے دادو کی خوشی کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا میں جو آج تک موم ڈیڈ ٹیچرز کے سامنے دھڑلے سے سچ بولتا رہا ہوں بغیر کسی ڈر و خوف کے آج انکا دل دُھکنے کے ڈر سے جھوٹ بولا کے اب شادی سے پہلے ملنا ممکن نہیں اور یہ آرڈر حجاب کی ماں کی طرف سے ہے۔۔۔
اُسکے بعد دن پر لگاتے اڑھ گئے گاؤں سے پوری فوج ہمارے گھر آگئی دادا نے میری دیدہ دلیری پر ڈانٹنے کے بجاۓ مجھے داد دی مجھے لگا تھا میرے اِس خفیہ نکاح پر ڈانٹ پڑنے والی ہے لیکن یہاں تو شاباشی مل رہی تھی۔۔
پھپھو نہیں آئیں تھیں لیکن باقی تمام افراد آئے اس خوشی میں شریک ہونے آئے تھے۔۔ بعد میں میں نے چچی کی غیر موجودگی محسوس کر کے دادو سے پوچھا تو انہوں نے بتایا وہ وہاں گائوں میں پھپھو کی وجہ سے ٹک گئیں۔ میری شادی میں مجھ سے زیادہ پُر جوش دادا تھے مہندی والے دن باقاعدہ اسٹیج پر آکر انہوں نے ڈانس کیا۔۔ مہوش بھی خوشی سے ہر رسم میں حصہ لے رہی تھی سب خوش تھے میرے علاوہ شاید میں بھی خوش تھا لیکن حجاب کی باتیں رہ رہ کر میرا موڈ خراب کردیتیں بارات والے دن دادا کو ارجنٹ نکلنا تھا دو پارٹیوں کی بیچ سخت لڑائی ہوئی تھی اور فیصلے میں اُنکی شرکت لازمی تھی آخر وہ اِس سال الیکشن جو لڑ رہے تھے۔۔۔۔
انہوں نے میرے اور حجاب کے سر پر ہاتھ رکھ کے دعا دی اور چلے گئے انکے جاتے ہی رخصتی کا شور گونجا تو میں حجاب کا ہاتھ پکڑ کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
حال کے باہر رُک کر حجاب ہچکیاں لیکر رو رہی تھی کبھی باپ سے گلے ملتی تو کبھی چھوٹے بہن بھائی اور ماں سے میں اسے غور سے دیکھ کر مسکرا رہا تھا حجاب تاثیر وہ لڑکی تھی جس نے پل پل مجھے حیران کیا آج بھی وہ پوری طرح تیار تھی ہر دلہن کی طرح لیکن اسنے حسن کی نمائش نہیں کی عورتوں کی موجودگی میں بھی اپنے شانے کے گرد خوبصورت بھاری دوپٹہ اوڑھا تھا سر پر الگ دوپٹا گونگھٹ کی طرح پہنا تھا وہ اپنے رونے کا مشغلا پورا کر کے میرے ساتھ کار میں آبیٹھی۔۔۔
اسے دیکھتے ہی میں نے اسکا ہاتھ تھام کر محبت بھری سر گوشی کی جو اسے ناگوار گزری وہ خود کو میری گرل فرینڈز سے کمپیر کر رہی تھی جو کبھی دوست سے آگے نہیں گئیں۔۔۔ اسکی ناگواریت دیکھ کر میں نے اسے کیفیٹیریا والا واقع یاد دلایا بس وہ اتنا کہتی نہ کے میں جلد بازی یا اپنی بیوقوفی میں بول گئی میں اُسے اُسی وقت معاف کردیتا لیکن اُس کا کہنا تھا میں اسی بےعزتی کے لائق ہوں آگر میں لائق تھا تو وہ بھی اسی کی مستحق تھی میں ہی تھا جو اسے سر پر بیٹھا رہا تھا اسکی اوقات نہیں تھی میرا مقابلہ بھی کرے اور اس دن میں نے اُسکا کیا عمل اُسے لوٹایا۔۔۔
وہی ہجوم تھا، وہی ہم تھے، بس فرق تھا جگہ کا اور رشتے کا جو ہمارے مابین بنا میں اُسے اُسکی دی اذیت سے نوازتا اپنے کمرے میں چلا گیا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں تھا وہ اسی لائق تھی میں نے وہ پوری رات ایک دفعہ پھر ڈرنک کرتے گزاری کتنی عجیب بات ہے وہ پہلا دن تھا جب میں نے ڈرنک نہیں کی ہمارے نکاح والے دن کتنا خوش تھا میں؟؟ اُسکی موجودگی مجھے ہر بُرے عمل سے بچاتی لیکن آج اسی کے لفظوں نے مجھے واپس میری اندھیری دنیا میں لوٹا دیا۔۔۔
ساری رات ڈرنک کرنے بعد صبح میری نیند کو موبائل کی بجتی رنگ ٹون نے توڑا فون اسامہ کا تھا وہ رو رہا تھا تاثیر انکل کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ڈاکٹرز نے سرجری کا کہا ہے۔۔ وہ بہت ڈرا ہوا تھا الفاظ ہی اسکی زبان سے اٹک اٹک کے ادا ہو رہے تھے شاید وہ اس وقت کوئی بھی بات سمجھنے کی صورت میں نہیں تھا تبھی اِس نے مجھے کال کی میں اِسکی کنڈیشن سمجھ چکا تھا نوالہ منہ میں بنا کر دینے والا باپ ایک دم سے اسکی ایسی حالت ہو تو کوئی بھی انسان اپنے ہوش و حواس گواہ سکتا ہے اسامہ کے ساتھ بھی یہی ہوا میں نے ڈیڈ کے مینیجر کو کال کر کے پیسوں کا انتظام کرنے کا کہا اور خود فوراً سے ہسپتال جانے کے لئے نکلا کل رات کی کوئی بات میرے ذہن میں نہیں تھی۔ ریش ڈرائیونگ کر کے میں وہاں پہنچا تو آنٹی اور ثنا مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے میں انکی حیرانگی کو اگنور کر کے ڈائریکٹ ڈاکٹر سے جا ملا۔۔۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا انہیں دوسری مرتبہ اٹیک ہوا ہے فوراً سرجری کرنے پڑے گی پورا دن میں وہیں رہا رہ رہ کر انکل کا خیال آرہا تھا اور آنٹی کے سوالات اور جوابات نے مجھے شرمندہ کر دیا پہلا اٹیک انھیں پانچ سال پہلے اپنے ماں باپ کے مرنے پڑ ہوا تھا اور دوسرا آج حجاب کی پریشانی اور ساتھ بھائیوں کی لالچ نے انھیں بستر سے لگا دیا رخصتی کے بعد تاثیر انکل کے بھائی اُن سے اپنا حق مانگنے آئے تھے بات اس حد تک پہنچ گئی کے انکا گریبان تک پکڑ لیا۔۔۔۔ یہ سب سناتے انکے آنسوؤں کسی ندی کی طرح بہ رہے تھے پھر انکے اگلے سوال نے مجھے جی بھر کے شرمندہ کیا انہوں نے مجھ سے حجاب کا پوچھا اور ساتھ یہ گزارش بھی کی کے اُسے نہ بتائو وہ جذباتی ہے ان سے لڑنے جا پہنچے گی پورے دن میں پہلی بار مجھے اُسکا خیال آیا کل رات کا رویہ اور تاثیر صاحب کی یہ حالت؟؟؟ ناچاہتے ہوے بھی کل کے رویہ پر مجھے خود پر غصّہ آیا آگر وہ سیر ہے تو میں سوا سیر دونوں ایک دوسرے کو توڑ دیں گے نہ وہ رُکتی ہے نہ میں۔۔۔۔
میں باہر کینٹین سے سب کے لئے جوس سینڈ ویچیز لے آیا۔ میرے اسرار پر انہوں نے تھوڑا بہت کھایا۔۔
تین چار گھنٹوں کے بعد پریشانی سے ٹہلنے کے بعد تاثیر انکل کی سرجری کی کامیابی کا سن کر تینوں سجدوں میں گر گئے انکی آپسی محبت دیکھ ایک ہوک سی میرے دل سے اٹھی۔۔
میں نے آنٹی کو اپنے وکیل سے ملنے کا کہا لیکن وہ تو کیس کا سنتے ہی توبہ کرنے لگیں انکا کہنا تھا ایک فلیٹ ہے جو بہت پہلے تاثیر انکل نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے خریدا ہے وہ بیچ کر انھیں انکا حق دے دیں گئے حالانکہ کافی رقم وہ لوگ اُن سے ہتھیا چکے ہیں۔۔۔۔
مجھے انکی بات ہضم نہیں ہوئی نقصان دونوں طرف سے انکل کا ہی تھا بھلا زندگی بھر کی محنت یوں لمحوں میں ضائع کرنا سہی ہے؟؟؟
رات ہوتے ہی آنٹی نے زبردستی مجھے جانے کا کہا میں اسامہ اور ثنا کو انکے گھر ڈراپ کر کے اپنے گھر چلا آیا آنٹی کا وہیں رُکنے کا ارادہ تھا لاکھ اسرار کرنے پر بھی وہ گھر نہیں گئیں۔۔
گھر پہنچتے ہی پہلی ٹکر دادو سے ہوئی لیکن میرے بےتاب نگاھیں حجاب کو ڈھونڈ رہیں تھیں اور جیسے ہی ان نظروں نے اس تلاشِ گمشدہ کی تلاش مکمل کی ان نگاہوں کو قرار آیا میں اسے لئے کمرے میں آگیا لیکن ہم دونوں کی اس تکرار میں وہ میدان چھوڑ کے بھاگ گئی رات بھر میں سلگتا رہا۔۔۔
لیکن اگلے دن میں نے سوچ لیا تھا اب یہ چوھے بلی کا کھیل ختم میری بیوی بنتے ہی وہ خود سدھر جائے گی میں نے اُسے یقین دلایا تھا اب اُسکی عزت کرونگا لیکن میرے چھونے سے اُسے کراہیت محسوس ہوتی ہے میں اُسکی ہر بات ان سنی کرتا اُسے اپنی روح میں بسا چکا تھا ہاں وہ میری ہو چکی تھی ابراز کی صرف ابراز حیات کی۔۔۔۔۔۔
لیکن اس سب کے بعد حجاب کا ردِ عمل دیکھ کر میں حیران رہ گیا کوئی اس قدر پاگل ہو سکتا ہے؟؟؟ وہ مجھے کہ رہی تھی میں کس گناہ کی سزا میں اُسکی زندگی میں آیا ہوں میں اُسے بتانا چاہتا تھا میں نے زندگی میں کبھی حرام رشتہ نہیں بنایا لیکن اُسے دیکھ کر اُس وقت مجھے بس ایک بات یاد آئی حجاب کی ” میں “ میں نے اُسے احساس بھی دلایا لیکن وہ حوش میں کہاں تھی لہرا کر میری باہوں میں آگری۔۔۔
میں اسکا خیال رکھنے لگا اسے تنگ کرتا لیکن حد سے زیادہ نہیں وہی تو میرے گھر آنے کی خوشی بن چکی تھی میں آفس جانے لگا تھا ایک دم سے روٹین شادی شدہ مردوں والی ہوگئی تھی میں خود حیران بھی تھا خوش بھی۔ کہاں عورتوں سے نفرت کرنے والا اب گھر بسا بیٹھا تھا۔۔۔
اُس دن آفس میں ڈیڈ کی ٹیبل پر ایک کنٹریکٹ کی فائل ملی میں سمجھ تو گیا تھا یہ عام ڈیلنگ نہیں لیکن بات پتا کیسے لگے؟؟؟؟ تب ڈیڈ کے مینیجر کا مجھے خیال آیا اس نے بتایا نکاح والے دن صبح صبح موم اور ڈیڈ مہوش کو لیکر ایک بیسنیس پارٹی اٹینڈ کرنے گئے تھے ایسے کے مجھے کانوں کان خبر نہ ہو مہوش تک نے مجھ سے جھوٹ بولا وہ پاگل نہیں جانتی تھی اُسے ایک ایسی اندھیری کھائی میں دھکیل رہیں ہیں جہاں صرف تنہائی ہے وہاں انسان نہیں حیوان ہیں۔۔۔
ڈیڈ کے مینیجر سے ہی مجھے پتا لگا اُس میٹنگ کا اصلی مقصد مہوش کا تعارف کرانا تھا اور مہوش یقیناً خود اس بات سے انجان تھی اور آج رات بھی ایک ڈنر پارٹی ہونی ہے جہاں وہ لڑکا جنید مہوش کو دیکھ کر آخری جواب دیگا ان دونوں کی ابھی ملاقات نہیں ہوئی بس جنید کے ماں باپ نے مہوش کو دیکھ کر ہاں کی امید دلائی تھی موم ڈیڈ کو۔۔۔
ڈیڈ یقیناً اُسکا بُرا نہیں چاہتے تھے بس ایک امیر خاندان میں اپنی بیٹی دینا چاہتے تھے جہاں وہ ساری زندگی عیش کرتی لیکن یہ گیرینٹی نہیں تھی کے وہ شخص حیات عالَم سے مختلف ہے۔۔۔ وہ حیات عالَم نہیں بنے گا بیوی کی نمائش نہیں کریگا یہ سب ڈیڈ نے نہیں سوچا؟؟ بھلا سوچتے بھی کیسے انکے دماغ میں آتا کب؟؟ تب آتا جب خود دودھ کی طرح دھلے ہوے ہوتے گہنگار بندے کو گناہ دیکھتا کہاں ہے؟؟؟ شراب اُن کے لئے حلال ہے تو اُن کی نظر میں ہر پینے والے کے لئے حلال ہے۔۔
یہ سب سن کر بمشکل غصّہ ضبط کرتے میں گھر پہنچا کسی کو اپنی اندرونی حالت ظاہر نہیں ہونے دی بس رات کی تاریکی کا انتظار تھا ڈیڈ نہیں جانتے تھے جن لوگوں کو پیسا دیکر وہ خریدتے ہیں میں انھیں انہی کی پیسوں سے دوگنی قیمت پر خریدتا ہوں آخر اولاد کو چلنا تو ماں باپ کے نقش قدم پر ہے نہ؟؟؟ جب باپ آگے ہے تو بیٹا کیوں پیچھے رہے؟؟؟ میں گھر آکر سب کے ساتھ ڈنر کرنے لگا کب کا میرا ضبط کیا ہوا غصّہ مہوش نے باہر نکالا اور اس غصّے میں میں نے شاید حد پار کرلی مہوش کو کبھی بھی مجھ سے ایسے رویہ کی امید نہ تھی۔ اُس غصّے نے جہاں نقصان کیا وہاں فائدہ۔۔۔ پارٹی میں کوئی نہیں گیا اور ڈیل بھی کینسل ہوگئی یہ خبر اگلی صبح مجھے مینیجر نے دی یہاں کے لوگ کھوکھلی عزت کے معاملے میں شیر ہیں ڈیڈ کا نہ آنا انھیں اپنی بےعزتی لگا اور ڈیڈ کا جانا یقیناً مجھے اچھا نہیں لگتا اور اس اچھا نہ لگنے کی صورت میں اِس وقت شاید میں دبئی میں ہوتا۔۔۔۔ اُس رات میں سویا نہیں تھا کیوں کے مہوش نہیں سوئی تھی۔۔۔ میں گیا تھا اُسکے کمرے میں وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی بےآواز رو رہی تھی۔۔۔۔
” مہوش “ میں نے قریب جاکر اُسکا کندھا ہلایا وہ سیدھی ہوکر چیخ اٹھی۔۔۔۔
” کیوں آئے ہو میری روم میں گیٹ لوسٹ “ وہ دروازے کی طرف اشارہ کر کے مجھے نکل جانے کا کہ رہی تھی میں نرمی سے اُسکے پاس بیٹھا سر ہاتھوں میں گرائے ۔۔۔ میں بےبسی کی انتہا پر تھا۔۔۔
” میں اندھیری گلیوں کا مسافر ہوں مہوش۔۔۔ ایک عرصے سے۔۔ مردہ وجود تھا میرا جو بس بےمقصد جی رہا تھا، نہ سکون تھا نہ جینے کی خوائش۔۔۔ لیکن اُسکے آنے سے میں جی اٹھا ہوں، ہنسا ہوں، پُر سکون رہا ہوں سکون ہے وہ میرا اگر وہ گئی تو میں واپس اُس اندھیری گلی میں کھو جاؤنگا جہاں صرف اندھیرا ہے باہر آنے کا کوئی راستہ نہیں لیکن میں گیا تو لوٹنا بھی نہیں چاہونگا کیوں کے اُس کے بنا مجھے یہ بھاینک دنیا اُس اندھیری دنیا سے زیادہ خوفناک لگتی ہے۔۔۔۔ “ میرے چہرے پر ویرانی اور لہجے میں گلتی نمی اسے پریشان کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔ میری بےبسی کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا پا کر بھی دوری کتنی جان لیوا ہوتی ہے کوئی رازی سے پوچھے جو پل پل سلگتا ہے۔۔۔۔
” رازی تم رو رہے ہو؟؟ “ مہوش نے اپنا رونا دھونا بھول کر بےچین ہوکر میرا چہرہ تھاما۔۔۔
” پتا نہیں۔۔۔ آئ ایم سوری مہوش۔۔۔ میں غصّے میں تھا کس سے پوچھ کر تم ان میاں بیوی کے ساتھ گئی تھیں؟؟ “ میں نے اسکے ہاتھوں کو ہٹا کر اب کے غصّے سے کہا تھوری دیر پہلے والی نرمی اڑن چھو ہو چکی تھی۔۔۔
” رازی ڈیڈ نے منع کیا تھا بتانا نہیں تمہارا بھائی آج کل بے وجہ غصّہ کرتا ہے اور موم نے بھی منع کیا تھا میں تو صرف وہاں بس شوپنگ کرنے کے مقصد سے گئی تھی۔۔ “ وہ نظریں جھکائے شرمندگی سے کہ رہی تھی میرا خون کھلنے لگا۔۔۔۔
” آئندہ سوئی بھی چاہیے ہو تو مجھ سے کہو گی سمجھی؟؟ اب انکی بات مانی نہ مہوش تم نے۔۔۔ تو دیکھنا زندگی بھر ترس جائوگی میری شکل دیکھنے کے لئے “ غصّے سے کہتے میں نے نرمی سے اسے گلے لگایا کیوں کے میرے غصّے سے خائف ہوتے وہ پھر رونے لگی۔۔۔۔
اس دن جتنا بُرا ہوا سو ہوا لیکن حجاب کا ڈر دیکھ مجھے ہنسی آرہی تھی پہلی دفع وہ مجھ سے اس قدر خائف تھی کے کہیں بھی بحث نہ کی نہ روم میں نہ یونی سے پک کرتے۔۔۔
لیکن گھر آتے وقت ہمیشہ کی طرح وہی ہلکی سے نوک جھوک ہوئی اسکے لگاے الزاموں کا جواب میں محبت سے دیتا رہا لیکن وہ کان بند کیے بیٹھی رہی۔۔ گھر آتے ی ہماری ملاقات ڈیڈ سے ہوئی وہ جس طرح حجاب کو دیکھتے میری رگوں میں دوڑتا خون گرم ہوجاتا انکی نظریں محسوس کی ہیں میں نے اپنی بیوی کے وجود پر انھیں لگتا ہے میں بھی بےغیرت مردوں میں سے ایک مرد ہوں یہ غلط فہمی میں نے اُسی دن دور کردی۔۔ وہ مجھ سے پچاس لاکھ کا پوچھ رہے تھے انہیں اب کیسے بتاتا بچاس نہیں تقریباً ایک کڑور میں اپنے مہوش اور ڈیڈ کو ملا کر اکاؤنٹس سے نکلوا چکا ہوں۔۔۔ اور ان پیسوں کا غلط استمعال نہیں کیا میں نے۔۔ کچھ رقم تاثیر انکل کی سرجری میں لگی تو کچھ تاثیر انکل کا فلیٹ خریدنے میں۔۔۔۔ 55 لاکھ کا فلیٹ میں نے 60 میں خریدا ایک ڈیلر کے ذریعے۔۔۔ کیوں کے تاثیر انکل کو آگر میرا پتا لگتا تو یقیناً اُس سے بھی کم قیمت پر دیتے۔۔۔ میں بس اس نیک انسان کی مدد کرنا چاہتا تھا جو میں نے کی ڈیڈ کو بغیر کوئی تفصیل دیے میں کمرے میں آگیا۔۔۔
میں کمرے میں آیا تو وہ نماز پڑھ رہی تھی ان دو تین دنوں میں اُسے اتنا جان گیا تھا نماز کے معملے میں وہ سخت ہے ہر نماز پابندی سے اپنے وقت پر ادا کرتی۔ اسے دیکھ جہاں خود پر رشک آیا وہیں آخرت کا خوف۔۔۔ جسے میں جھٹک کر چینج کر کے خاموشی سے بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔۔۔۔۔
اگلے دن والیمے میں ڈیڈ کے گھٹیا دوستوں کو دیکھ مجھے ڈیڈ پر سخت غصّہ آیا جانتے بوجھتے انہوں نے ایسے لوگوں کو انوائٹ کیا؟؟؟ میں کافی دیر حجاب کے ساتھ بیٹھا رہا ان سب کی نظریں مجھے اپنی بیوی پڑ اٹھتی محسوس ہوئیں گھونگھٹ کے باوجود حوس پرست لوگ ڈھیٹ بنتے رہے۔۔۔
میں نے آخری لمحے تک اسکا ہاتھ تھام کر ان نظروں سے اسکو بچانے کی کوشش کی لیکن کمرے میں آکر اس حسن کی شہزادی سے نظریں نہ ہٹا سکا اور ایک بار پھر بےخودی کے عالَم میں ان آنکھوں میں ڈوب گیا۔۔۔۔
اگلے دن میرے اٹھنے سے پہلے وہ یونی بھاگ گئی لڑکیاں شرماتی ہیں لیکن حجاب مجھے شرم دلا کر یونی بھاگ جاتی اصل میں وہ مجھ سے بھاگتی ہے نجانے کب محبت لوٹاتے شوہر کے آگے بےبس ہوجاؤں؟؟ میری خوش فہمی ہی مجھے خوش کر سکتی تھی حجاب تاثیر نہیں۔۔۔۔
میں سوچوں کو جھٹک کر آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا کے مجھے عاصم کی کال آگئی میرا اور اسکا ویزہ ایکسپائر ہونے والا ہے جسکے لئے مجھے واپس دبئی جانا پڑیگا۔۔۔۔۔
ہائے سب منظور تھا لیکن حجاب سے دوری جان لیوا تھی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
