Ana Parast By Yusra Readelle50055 Last updated: 10 July 2025
Rate this Novel
Ana Parast
By Yusra
ایسے مسلمانوں پر سو توپوں کی سلامی “ حجاب بکس لیکر کلاس سے نکلی تو اسکی نظر سامنے فون پر بات کرتی لڑکی پر پڑی جس نے جینز کے ساتھ شارٹ شرٹ پہنی تھی ساتھ سر پر سلیقے سے حجاب لیا تھا۔۔۔ ” حجاب چُپ رہو وہ سن نہ لے “ حجاب کے ساتھ چلتی جویریہ نے دانت پیستے کہا۔حجاب کی آواز اتنی بلند تھی کہ وہ لڑکی آرام سے سن سکتی تھی۔۔۔ ” اگر وہ لڑکی سن لیتی کتنا برا لگتا اُسے؟؟ “ ” کاش سن لیتی شاید عقل آجائے پر وہ تو اپنے عاشق سے بات کرنے میں مصروف ہے “ حجاب نے بےنیازی سے کہا۔۔۔ ” چُپ حجاب یہاں سے نکل جائیں پھر اپنا لیکچر دیتی رہنا بلکہ جا کر مائیک پر اعلان کرنا “ جویریہ نے بنا لحاظ تیز لہجے میں کہا کیوں کہ ابھی بھی وہ لڑکی پاس کھڑی فون پر بات کر رہی تھی۔ حجاب اسے آنکھیں دکھاتی آگے چل دی جویریہ بھی اسکے ساتھ چلتی گارڈن ایریا میں آگئی۔۔۔ ” حجاب کیا مسلہ ہے تمہیں؟؟ انکی مرضی وہ جو کریں تم کون ہوتی ہو کسی کو جج کرنے والی؟؟ ان سے اتنی پرابلم ہے؟؟ مجھے تو پھر پتا نہیں کیا سمجھتی ہوگی میں تو سر پر دوپٹہ تک نہیں لیتی “ دونوں یونیورسٹی کے پاس بنے گارڈن میں آگئیں جویریہ نے حجاب کے بیٹھتے ہی غصّے سے سرخ چہرہ لئے اسے کہا حجاب اتنی تیزی سے چل رہی تھی کہ جویریہ اسکا ساتھ دیتے دیتے ہانپنے لگی ۔۔۔۔ ” نہیں تم اس سے بہتر ہو جو پارسائی کا ناٹک نہیں کرتی وہ تو آدھی انگریز آدھی مسلمان بنی پھرتی ہیں۔۔ جان بوجھ کر مردوں کو خود کی طرف اٹریکٹ کرنے کے لئے حجاب لیکر پارسائی کا ڈھونگ کریں گی یا پھر جینز پہن کر سب کی نظروں کا مرکز بنی پھریں گی۔۔۔ “ حجاب نے بھی اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔۔ ” حجاب وہ کوئی پارسائی کا ناٹک نہیں کرتیں کوئی خود کو حجاب میں کمفرٹیبل فیل کرتا تو کوئی نقاب میں ورنہ یہاں تو عبایا کے ساتھ بھی لڑکیاں نقاب سےزیادہ حجاب لیتی، نماز پڑھتیں لڑکوں سے باتیں کرتیں پھر کیا وہ بھی پارسائی کا ڈھونگ کرتی ہیں؟؟؟ “ ” لڑکوں سے بات کرنا گناہ نہیں بس ان سے نرم لہجے میں نہ مخاطب ہو کے پیچھے ہی لگ جائیں ورنہ کیا فیمیل ٹیچرز نہیں کرتیں لڑکوں سے باتیں؟؟ “ وہ کہاں اپنی غلطی مانے والی تھی تڑخ کے جواب دیا ” انکے بارے میں کیا کہنا ہے جو نقاب میں یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ بائیک پر جاتی ہیں اور تمہیں کیسے پتا وہ لڑکی اپنے عاشق سے بات کر رہی تھی؟؟ “ جویریہ کے ماتھے کے بل اسکی بات سن کر کچھ اور بڑھ گئے ” اُس لڑکی کو دیکھ کے ہی لگ رہا تھا اپنے عاشق سے بات کر رہی ہوگی ایسی لڑکیاں یہی کام کرتی ہیں۔۔ اور تمہیں ہی ایسی نقاب والیاں ملتی ہیں مجھے تو آج تک کوئی ایسی نہیں دیکھی۔“جویریہ کو اسکی سوچ پر افسوس ہوا اس وقت وہ خود کو غیبت کر کے گنہگار محسوس کر رہی تھی۔۔ ” حجاب یہ جو تم سب پر فتویٰ جاری کرتی رہتی ہو یہ غیبت نہیں؟؟ “ جویریہ نے تھک ہار کر کہا اس سے بحث واقعی فضول ہے۔۔
” جب انسان کے پاس جواب نہیں ہوتا تو ایسے ہی سوال بدلتا ہے نو موڑ آرگیومنٹس اب پریزنٹیشن بنائیں لیپ ٹاپ نکالو
