Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

جویریہ جو اسکے ساتھ کھچی چلی جاری تھی اچانک اسکی نظر ایک کار پر پڑی جو اسی خواجہ سرا کے پاس آرکی۔ ایک آدمی اس میں سے نکلا جسکی پیٹھ جویریہ کی طرف تھی اس نے جھک کے خواجہ سارا کو اٹھایا جویریہ کی آنکھوں سے پل پل یہ منظر دور ہوتا جا رہا تھا وہ اسکی نگاہوں سے اتنا دور ہوگی کہ اب وہ لوگ اسے نکتے کی شکل میں واضح ہو رہے تھے۔۔۔
” حجاب ڈیٹس ناٹ فئیر “ لائبریری کی سیڑھیاں چڑھتے وہ اس سے خفگی سے بولی۔۔۔۔ چہرے کے زاویے بگڑے ہوئے تھے
” تم نے ہیلپ کیوں نہیں کی؟؟ یہ نہ کہنا میں گھسیٹ کر تمہیں لے آئی۔۔ میں نے قدم نہیں بڑھایا تو تمہارے قدم بھی خود بخود پیچھے ہوئے تھے سچ تو یہ ہے تمہیں بھی ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ ہمیں نہ لے جائیں۔۔۔ جویریہ انکے ساتھ یہ سب روز ہوتا ہے مجھے بھی انکے لئے برا لگتا ہے لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں؟؟ تم بھی وہاں تھی خود بتاؤ کتنے مرد وہاں سے گزر رہے تھے کسی نے مدد کی؟؟ نہیں نا۔۔ “ وہ کہاں اپنی غلطی مانے والوں میں سے تھی دھڑلے سے کہا۔۔
” کیوں کہ انکی سوچ بھی تمہاری طرح ہے کہ یہ انکے لئے عام بات ہے۔۔۔۔ نہیں حجاب عام نہیں روز ان سے پوچھو جو وہ اذیت سہتے ہیں۔۔۔اسے ” عام “۔۔۔ لوگوں نے اپنی ”چُپ“ سے بنایا ہے۔۔۔ اسکی حالت دیکھتیں کتنا رو رہ رہی تھی وہ تم نے تو نامحرم کے صرف ہاتھ لگانے پہ اتنا ہنگامہ کیا اُنکا سوچو جو روز یہ سب برداشت کرتے ہیں۔۔۔ لوگ اپنی ملکیت سمجھ کر انہیں لیجاتے، ہوس مٹھاتے، بُری طرح مار کر۔۔ کسی کچرے کی طرح کہیں بھی پھینک کر چھوڑ جاتے اور یہ ان لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہتے ہیں عام بات ہے اور کیا کہا ڈر ہاں میں ڈر گئی تھی لیکن یقین مانو تم ساتھ چلتی نا اور ہم ہار بھی جاتے تب بھی زندگی بھر افسوس نہیں ہوتا کیوں کہ ہم مدد کی نیت سے گئے تھے عمل بھی کیا لیکن کمزور تھے کسی مرد کی طاقت نہیں تھی لیکن حجاب تاثیر تم ہمت تو کرتی راستے خود آسان ہوجاتے ہمارے جاتے ہی اور لوگ بھی آتے کیونکہ یہ پاکستانیوں کی خاصیت ہے جب تک کوئی پہل نہیں کرتا دوسرا کوئی قدم نہیں بڑھاتا “ جویریہ نے اسے اچھی خاصی سنائیں لیکن حجاب پر اثر ہی کیا ہونا تھا وہ اپنا غصّہ دکھانے کے لئے تیز قدم اٹھاتی اس سے پہلے اندر چلی گئی۔ جویریہ سر تھام کر رہ گئی حجاب تاثیر وہ پتھر ہے جو صرف ٹھوکر کھانے سے ٹوٹ سکتا ہے.
☆………….☆………….☆
” باہر آؤ “ وہ ابھی بُکس اشو کروا رہی تھی کہ ابراز کی کال آگئی۔۔۔
” ابراز میں لائبریری آئی ہوں بس بُکس اشو کروا کر آتی ہوں “
حجاب نے اسکی کال پک کرتے ہی کہا جویریہ بھی اپنی بک لیکر کاؤنٹر کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔لیکن اسکا موڈ سخت آف تھا دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔
” اوکے بےبی میں وہیں آرہا ہوں “ ابراز نے کہہ کر کال کاٹ دی وہ شاید اب اچھے موڈ میں تھا۔ لہجے میں غصّے کی کوئی رمق نہ تھی۔۔۔ جویریہ اور حجاب دونوں بُکس لیکر باہر آگئیں ابھی وہ گیٹ سے نکل ہی رہی تھی کہ اُنکے آگے ابراز کی کار آرکی۔۔۔ ابراز نے کار کا شیشہ نیچے کیا تو نقاب میں ملبوس حجاب جویریہ کے ساتھ کھڑی نظر آئی جسے دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔۔ حجاب کو اس کے اس طرح جویریہ کے سامنے گھورنے پر شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔۔۔
” السلام عليكم ابراز بھائی کیسے ہیں آپ “ جویریہ نے مسکراتے ہوے سلام کیا۔۔۔۔
” ٹھیک سالی صاحبہ!!!! آؤ بیٹھو تمہیں بھی ڈراپ کردوں “ ابراز نے حجاب سے نظریں ہٹا کر جویریہ سے کہا
” نہیں ابراز بھائی بس یونی تک کر دیں “
” شیور “ جویریہ بیک سیٹ پر آکر بیٹھ گئی اور حجاب نے فرنٹ سیٹ سنبھالی انکے بیٹھتے ہی ابراز نے کار اسٹارٹ کردی۔۔۔
” ابراز بھائی ویسے دکھ ہے آپ کی سنگت کا اثر نہیں ہوا حجاب پر “ جویریہ کے طنز سے جہاں حجاب سلگ اٹھی وہیں ابراز مسکرایا
” یہ کہو مجھ پر اسکی سنگت کا نہیں ہوا “ ابراز نے ایک بھر پور گہری نظر سے حجاب کو نوازتے کہا
” نا ہی ہو۔۔۔۔“ جویریہ کی بڑبڑاہٹ سن کر حجاب صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی وہ کل یونی میں اسکی عقل ٹھکانے لگائے گی۔۔۔ یہی سوچ کر اس نے جویریہ کو نظرانداز کیا
” بس بھائی یہیں تک۔۔۔ تھنک یو ابراز بھائی “ یونی کا گیٹ آتی ہی جویریہ باہر ہی اتر گئی کیوں کہ باہر ہی پوائنٹس کھڑے تھے۔
” آلویز “ ہلکی سے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے وہ کار آگے بڑھا گیا
” بہت مسکرا رہے تھے اسکے سامنے تمہارے چچا کی بیٹی لگتی ہے جو اسکے ڈرئیور بن رہے تھے میں کیا آفر نہیں کرتی اُسے؟؟ “ حجاب جو کب سے اپنے غصّے کو کنٹرول کیے بیٹھی تھی پھٹ پڑی۔۔۔ جبکہ ابراز تو اب تک حیران تھا وہ اسکے غصّے سے اتنا ڈر گئی کہ لینے آنے کے لئے منع بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔
” کل تم مجھ سے ڈر گئیں؟؟ “ ڈرائیونگ کرتے وہ اسے اپنے نظروں کو حصار میں لئے ہوئے تھا ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ تھی
” اتنا گھورتے کیوں ہو سامنے دیکھو “ حجاب تو اسکی نظروں سے تپ جاتی جو آس پاس لوگوں کی پرواہ کیے بغیر ڈھٹائی سے اسے گھورتا
” اپنی ملکیت کو کون نہیں گھورتا “ ڈھٹائی سے جواب آیا
” بدتمیز، بےحیا، بےشرم “ حجاب نے منہ دوسری طرف پھیر لیا وہ بھی کہاں سر پھوڑ رہی تھی بےشرم نے بھی کبھی شرم کی ہے بھلا؟؟؟ “
” حیادار زمانے کا میں گنہگار انسان ٹھہرا
پرہیزگاروں سے درخواست ہے، پرہیز کیجئے“
ابراز اسے دیکھتے شیطانیت سے مسکرایا جو اسے اپنی آنکھوں سے گھورتی اسکی جان لینے کے در پر تھی۔۔۔
“ تم کیسے انسان ہو ؟ فلرٹ کرتے ہو؟؟؟ شراب پیتے ہو، دھمکا کر شادی کرتے اور زبردستی کر کے خود کو معصوم سمجھتے ہو؟؟ اور جویریہ کی بچی کو صبح دیکھونگی میری سنگت میں کونسی خرابی ہے؟؟؟ اللہ‎ کا شکر ہے تمہاری طرح کافر نہیں۔۔۔۔ “ وہ جویریہ کا سارا غصّہ اس پر نکال کر غصّے سے چیخی۔۔۔
” ہمارا کیا ہے
ہم تو ویسے ہی بد نام ہیں زمانے میں
فکر تو وہ کریں جن کے گناہ ابھی تک پردے میں ہیں “
مسکراہٹ دبائے سکون سے جواب دیتا وہ اسے بے سکون کر گیا۔۔۔ حجاب اپنے غصّے کو دباتی خاموش بیٹھ گئی اب وہ اسکی منتیں کرے تنگ بھی کرے تب بھی وہ نہیں بولنے والی۔۔۔
” بےبی تم سے جڑے ہر رشتے کی عزت کی ہے میں نے اور کرونگا۔۔ آفر تم کرو یا میں بات ایک ہی ہے وہ بھائی کہہ کر گئی ہے مجھے اندازہ لگا لو اس رشتے کو نبھایا ہے میں نے “
ابراز نے اسکی چُپ محسوس کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔۔
” مجھے امی کے گھر ڈراپ کردو میں آج وہیں رہونگی “
حجاب نے کچھ دیر بعد منہ کھولا لیکن اسکی فرمائش سن کر ابراز کو وہ چُپ ہی اچھی لگی۔۔۔۔
” پھر میرا کیا ہوگا؟؟؟ “ حجاب اسکا مطلب سمجھ کر آگ بگولا ہوگئی
” ڈوب مرنا “ صاف جواب آیا۔۔۔
” بےبی تم بھول رہی ہو ہم نے قسم کھائی تھی ساتھ جئیں گئے ساتھ مرینگے دوزخ میں بھی ساتھ جائیں گئے یاد ہے نا “ آنکھ دبا کر کہتا وہ حجاب تاثیر کو تن بدن میں آگ لگاگیا۔۔
☆………….☆………….☆
ابراز اور حجاب دونوں اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے انہیں لاؤنچ میں حیات صاحب بیٹھے نظر آئے حجاب انھیں سلام کرنے کے لئے انکی طرف بڑھ رہی تھی ابراز نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑ کے سرد لہجے میں کہا۔۔۔
” زیادہ مسلمان بنے کی ضرورت نہیں چپ چاپ کمرے میں جاؤ میں آرہا ہوں۔۔۔ “
” کیا مطلب سلام نہیں کروں “ حجاب نے ناسمجھی سے ابراز کو دیکھا۔۔۔
” کمرے میں جاؤ۔۔۔ “ اس دفعہ لہجہ چٹانوں کی سی سختی لیے ہوئے تھا۔۔۔ حجاب اسکے بدلتے موڈ کو دیکھ حیرت زدہ رہ گئی پل میں ماشہ پل میں تولا لیکن حجاب نے بحث نہیں کی چپ چاپ اوپر چلی گئی۔۔۔۔۔
حیات صاحب نے حجاب کے جاتے ہی ابراز کی طرف دیکھا جو ان پر سخت نگاہ ڈالے نجانے کب انکے سامنے آبیٹھا آنکھوں کی سختی اسکے اندر کا حال بیان کر رہی تھی ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا، وہ چہرے پر چٹانوں سی سختی لئے ہوئے تھا۔۔۔
” آپ کو شاید یاد نہیں تو یاد دلا دوں موم سے بھی کہا تھا میری بیوی کوئی شوپیس نہیں جسے گھر میں سجانے کے لئے لایا ہوں۔۔۔ اور کل کی میری دھمکی صرف دھمکی نہیں تھی میں اپنی بات پر عمل کرنا جانتا ہوں سو یہ اپنی نظریں قابو میں رکھیں میں حیوان بنتے وقت لحاظ نہیں کرتا سامنے کون ہے۔۔۔ میری بیوی کہتی ہے نشے میں دکھتا نہیں مجھے سامنے باپ ہے یا دشمن۔۔۔ “ سلگتے ہوے انگارے کی مانند سنسناتا لہجہ تھا جس نے حیات صاحب کو پل بھر کے لیے ہلا دیا۔۔۔۔
” پچاس لاکھ کا کیا کیا “ خود کو سنبھالتے وہ نارمل لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔انہیں معلوم تھا انکا غصّہ ابراز کے غصّے کو اور ہوا دیگا جس میں انکا خود کا نقصان ہے وہ اپنی جان سے عزیز بیٹے کو کسی قیمت کھونا نہیں چاہتے۔۔۔جبکے ابراز انکی بات سن کر زخمی سا مسکرایا۔۔۔۔
” آپ بھی کمال کرتے ہیں ڈیڈ۔۔ پچاس لاکھ کا کیا کرنا ہوگا مجھے؟؟؟ اب میں بیوی والا ہوں۔۔۔ کیا مجھے اسکے لئے بھی آپ کو بتانا ہوگا؟؟ یار ڈیڈ آپ بھی ناں سمجھ کر ناسمجھ بنتے ہیں اور “ شرارت سے کہہ کر آخر میں اسکا لہجہ خود ہی کسی پتھر کی طرح سخت ہوگیا۔۔۔۔۔
” جان کر انجان۔۔۔۔ “ آنکھوں سے دہکتے انگارے نکل رہے تھے جو اسکے باپ کا وجود جلسا رہے تھے۔ وہ انہیں اپنی نفرت سے نوازتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
” بیوی کے پیچھے زن مرید بن کر رہ گئے ہو “ اس نے جانے کے لئے قدم بڑھایا اس کا باپ اسکے پیچھے سے چلایا۔۔ انہیں تپتا دیکھ ابراز کے رگ رگ میں سکون کی لہر دوڑی۔۔۔۔
” یہ الزام بھی قبول ہے “ دلکشی سے مسکرا کر کہتا وہ پلٹا نہیں تھا بلکہ سیڑھیاں چڑھتے اپنے روم میں چلا آیا۔۔۔۔
اسکا باپ پیچھے سے دانت پر دانت جمائے غصّہ کنٹرول کرنے کی بھرپور کوشش میں تھا۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
ابراز کمرے میں آیا تو اسے نماز پڑھتا دیکھ سامنے صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ آج بھی وہ اپنی زندگی، قسمت، پسندیدگی پر حیران ہے۔۔کیسے حجاب تاثیر اسکی پسند بنی؟؟؟ پھر قسمت اور اب۔۔۔۔ ہاں اب۔۔۔ زندگی۔۔ وہ کیسے اسکے دل میں سما گئی وہ خود حیران ہے۔۔ حالانکہ حجاب تاثیر کے الفاظ اسکی روح جنجھوڑ دیتے ہیں لیکن نفرت؟؟؟ اے دل کیوں تو اس سے نفرت نہیں کر پاتا کیوں؟؟؟ وہ تجھے ہر بار ٹھکراتی ہے پھر بھی ذلیل ہونے اسی کے پاس جاتا ہے؟؟؟
ابراز بےخودی کے عالَم میں اسے دیکھے گیا۔۔۔ حجاب کو دیکھ کر اسکا بھی دل چاہتا وہ اسکے ساتھ نماز پڑھے لیکن۔۔۔ اسے ڈر بھی لگتا اپنے گناہوں سے۔۔۔ کیا وہ اس قابل ہے کہ اسکی بارگاہ میں حاضری لگائے؟؟ سوچ سوچ کر اسکا جسم بےجان ہوجاتا۔۔۔
وہ گنہگار ہے۔۔۔ گناہ کی دنیا میں اس نے کب قدم جمائے وہ نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہے اُکسایا اسکے ماں باپ نے تھا۔۔۔
آگر کبھی حجاب کو اس کے ماں باپ کی اصلیت پتا لگی تو وہ اس سے طلاق لینے میں لمحہ نہیں لگائے گی۔ یہ سوچ آتے ہی بےاختیار اسکا دل درد کی شدت سے تڑپ اٹھتا۔ حجاب کے آنے سے پہلے اسے نہ زندگی چاہیے تھی نا جینے کی خوائش لیکن اب وہ جینا چاہتا تھا حجاب تاثیر کے ساتھ۔۔۔۔
” اب تم نے مجھے گھورا ناں تو میں دادو کے روم میں چلی جاؤنگی “ حجاب کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑا وہ اسے ایک نظر دیکھ کر اٹھا اور وارڈروب سے اپنا سوٹ لیکر نہانے چلا گیا حجاب کی وجہ سے وہ آج جلدی اٹھ تو گیا تھا لیکن آفس نہیں گیا۔۔۔ نجانے کیوں اسے بےچینی تھی اسلئے وہ ڈائریکٹ اسکی یونی اسے لینے چلا گیا۔۔ حجاب اسکے خاموشی سے جانے سے پہلے تو حیران ہوئی پھر اپنی نماز جاری رکھی۔۔۔
☆………….☆………….☆