Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

اس نیک شخص کو روتا چھوڑ میں ڈیڈ کے ساتھ گھر آگیا میری پوری کوشش تھی کسی کو ایکسیڈنٹ کا پتا نہ لگے میں کسی سے بھی جھوٹ بول سکتا ہوں اپنا غم چھپا سکتا ہوں لیکن وہ ہستی مہوش نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔
میں اپنے روم میں آکر لیٹا ہی تھا کے مہوش آگئی میرے سر پر پٹی دیکھ وہ رونے لگی میں سر تھام کر رہ گیا ان لڑکیوں کو بس موقع چاہیے۔۔۔۔
” مہوش یار کچھ نہیں ہوا۔۔۔ جتنا تم رو رہی ہو اُتنا میرا سر درد مزید بڑھ رہا ہے۔۔۔ “ مہوش کا رونا میری برداشت سے باہر تھا میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے اُسے ہر تکلیف سے دور رکھوں اور وہ خود رو کر مجھے مزید تکلیف دے رہی تھی۔۔۔
” یہ حجاب کی وجہ سے ہوا ہے نہ؟؟ آئ ویل کل ہر “ وہ کسی بھوکی شیرنی کی طرح چیخی اسکی سرخ روئی روئی آنکھیں دیکھ میرا دل کٹ رہا تھا۔۔۔
” اسٹاپ کرائینگ! !!! میں بلکل ٹھیک ہوں دیکھو ورنہ ایک دن میں ڈسچارج ہوکر یہاں نہ بیٹھا ہوا ہوتا بس ہاتھ میں لگی ہے اور یہ ہلکی سے سر پر۔۔ “
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں “ مہوش کی سرخ آنکھیں حجاب کے خون کی پیاسی لگ رہیں تھیں ” اللہ‎ ان عورتوں کی دشمنی سے ہم مردوں کو بچاۓ “ بے ساختہ مہوش کی حالت دیکھ میرے دل سے دعا نکلی۔۔ ہم دونوں کی جان تھی ایک دوسرے میں لیکن اس وقت لگ رہا تھا کوئی تیسری ہمارے بیچ آگئی کیوں کے حجاب کے خلاف میں مہوش سے کچھ غلط نہیں سننا چاہتا نہ بتانا چاہتا ہوں اور ایسا کیوں تھا میں خود انجان تھا۔۔۔۔
اُسکی وجہ سے نہیں ہوا “
” پھر؟؟ “ اب بھی مہوش کا لہجہ سخت تھا نجانے کیوں میں اُس سے نظریں چرا گیا۔۔ اُس وقت مجھے لگا مہوش مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔۔۔
” میری لاپروائی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ کوفی ملےگی سر میں شدید درد ہو رہا ہے “ نجانے کیوں میں بھاگ رہا تھا میں نہیں چاہتا تھا مہوش اُس سے مزید نفرت کرے۔۔۔۔
مہوش مجھے کھا جانے والی نظر سے نوازتی جانی لگی کے میں نے ایک سوچ کے تحت اُسے پکارا۔۔۔۔
” مہوش اپنا فون دینا ایک ارجنٹ کال کرنی ہے میرا فون اُس حادثے میں شہید ہوگیا۔۔ “ مہوش نے کاٹ دار نظر سے مجھے نوازتے اپنا فون احسان جتانے والے انداز میں میری گود میں پھینکا۔۔۔۔ میں نے جلدی سے اسکے فون سے حجاب کا نمبر نکالا
مجھے یقین تھا اگر تاثیر انکل مان بھی گئے تو حجاب بیبی نے کانٹا ضرور بُننا ہے یا زبان سے شہد اگل کر باپ کو بلیک میل کرنا ہے اس لیے میں نے اس محترمہ کا ایک دفع دماغ ٹھیک کرنے کا سوچا تاکے وہ اپنی زبان کچھ دنوں تک بند رکھے میرے نمبر سیو کرنے کے کچھ دیر بعد مہوش آگئی کوفی بیڈ کارنر پر رکھ کے موبائل لیکر چلی گئی۔۔۔
میں ابھی سکون سے لیٹا بھی نہ تھا کے فون رنگ ہوا میں نے بےدلی سے نمبر دیکھا تو حجاب نام دیکھ کر میری آنکھوں کو یقین نہ آیا فون الٹ پلٹ کر دیکھا کہیں مہوش کا فون تو نہیں پھر جلدی سے اپنی بےعقلی پر ماتم کر کے جھٹ سے فون اٹھایا کہیں وہ مغرور حسینہ کاٹ ہی نہ دے۔
وہ مجھ سے ڈیل کر رہی تھی اِسے اس طرح بےبس دیکھ کر میری رگ رگ میں سکون کی لہریں دوڑ اٹھیں لیکن اسکی شرط فہیم احمد کے متعلق سن کر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔ وہ ریپسٹ تھا؟؟؟ اور حجاب کو انصاف چاہیے تھا؟؟؟ یہ سن کر میں خدا کے انصاف پر ہنسا تھا ایک انسان اُسے برباد کرنا چاہتا ہے بغیر یہ جانے کے خدا تو پہلے ہی اُس شخص کو اسکے انجام تک پہنچا چکا ہے ۔۔ میرا دل اس پل واقعی چاہا سجدے میں گر جاؤں اپنی یہ خوائش حجاب کو بھی بتائی لیکن یاد آیا میں قابل نہیں کے اُسکے سامنے سر بھی اٹھا سکوں مجھ جیسا شرابی شاید اُسکے پاک گھر (مسجد) میں قدم رکھنے کے بھی لائق نہیں۔۔ کبھی کبھی بہت ڈرتا ہوں اگر موت آجاے تو؟؟ میرا کوئی عمل کوئی نیکی ایسی نہیں جو مجھے جہنم کی آگ سے بچا سکے لیکن یہ بھی سچ ہے خود کو گناہ کی اُس ندی میں سر تک ڈھوبا ہوا پایا ہے کے اب رہ رہ کے میری سانس اٹکنے لگتی ہے لیکن ہمت نہیں کے اسکی بارگاہ میں حاضری لگاؤں ڈر لگتا ہے اُس سے، اپنے اعمال سے، گناہ میں ڈوبے اپنے وجود سے۔۔۔۔
” ایک گھنٹے کے اندر اُسکی پیدائش سے لیکر اب تک کی ساری انفارمیشن کی خبر دو مجھے اور یہ بیویوں کی طرح ہر بات میرے ڈیڈ کو بتانے کی ضرورت نہیں آئی سمجھ؟؟ کام پر
لگو “ ڈیڈ کے مینیجر کو فہیم احمد کی انفارمیشن کلیکٹ کرنے کا کہا جو دو گھنٹے بعد اُس نے مجھے دی۔۔۔
رانیہ کا رپپ فہیم احمد نے کیا تھا اُسکی فیملی انصاف کے لئے آخری وقت تک لڑتی رہی لیکن کسی گوا اور ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے کیس بند کر دیا گیا۔۔
فہیم احمد کی کمزوری عورت ہے ہر بار جاب سے اسے اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے نکالا جاتا عورت ہو یا بچی اُس نے کسی پر رحم نہیں کیا لیکن مجھے حیرانگی اُسکی ہسٹری جان کر نہیں ان بےحس لوگوں پر ہوئی جو اِس شیطان کی رگ رگ سے واقف ہوکر بھی گواہی دینے نہیں آئے اور ان سب میں وہ ہستی بھی شامل تھی جسکی میں نے سب سے زیادہ عزت کی ہے۔۔۔
” کیا زندگی ہے آپ کی پھوپھا جی؟؟ سیم کتوں والی۔۔۔۔ منسٹر کا پالتو کتا بھی آپ جیسی زندگی گزارتا ہے بس بھونکنے پہ دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے “ میں اسی رات گاؤں چلا آیا اس شیطان کو دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا کتے سے بدتر موت کا حق دار ہے یہ۔۔۔۔۔میں اسکے سامنے ہی ٹیبل پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا اور وہ سرونٹ کورٹر میں چُھپ کر شراب پی رہا تھا۔۔ بار بار اسکی نظریں دروازے کی طرف اٹھتیں کے کوئی آ ناجائے۔۔۔
” کی۔۔۔۔کیا۔۔۔بک۔۔۔بکواس ہے “ وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے مجھے دیکھتا تیز لہجے میں بولا۔۔
” تمیز سے بات کر حرامی کتے تو جو یہاں بیٹھ کر یہ شراب پی رہا ہے نہ یہ میرے دادا کے پیسوں کی ہے وارث ہوں میں اس خاندان کا میرے سامنے زبان چلائی نہ تو تجھے اُٹھانے والے تیری ہڈیاں ڈھونڈتے رہیں گا “ میری دھاڑ کورٹر کے باہر تک جا رہی تھی کیوں کے چوکیدار اندر آکر مجھے دیکھ کر واپس چلا گیا۔۔
” سن۔۔۔ سنا۔۔۔ہے۔۔ شریف خاندان کے اکلوتے بیٹے ہو “ میری رگوں میں دوڑتا خون کسی لاوا کی طرح اُبلنے لگا اُس شیطان کو ہنستے دیکھ میں آپے سے باہر ہوگیا وہ میرے ماں باپ کا حوالہ دے رہا تھا میرا سر پھٹنے لگا لگ رہا تھا سر پر بندھی پٹی سے خون نکلنے لگے گا۔۔۔ اس پر جھپٹ کر میں اسے لاتوں سے پیٹنے لگا تبھی کسی نے میرے بازو کو تھام کر مجھے روکا۔۔۔
” دور ہٹ وحشی کیا بھیگاڑا ہے انہوں نے جو تم سب پیچھے پر گئے ہو انکے شرم نہیں آتی تجھے؟؟ تو دیکھ صبح ہونے دے ابا جی سے کہکر تیرا یہاں آنا بند کرا دوں گی “ پھوپھو روتے ہوئے مجھے کوس رہیں تھیں ساتھ زمین پر نڈھال شوہر کو اٹھا رہیں تھیں میں اس شیطان پر سو لعنت بھیج کر اپنے کمرے میں آگیا جو دادو نے صرف میرے لئے بنوایا تھا یہاں کسی گھر کے افراد کو سونے کی اجازت نہیں میرے جاتے ہی یہ کمرہ بھی دادو لاک کروا دیتیں۔۔۔۔
صبح سب سے پہلے اٹھ کر میں نے رات کا انتظام کیا پھوپھو کا موڈ اوف تھا لیکن انہوں نے دادا سے کچھ نہ کہا صفدر فہیم احمد کا خاص آدمی تھا جو اسے پل پل کی خبر دیتا اور ہر ہفتے کی رات اسکے لئے خاص احتمام کرواتا اسی موقعے کا فائدہ اٹھا کر میں نے اپنے دوست عباس کو کال کی جس کی ڈیوٹی آج کل اسی گاؤں میں لگی تھی پورا دن بس میں نے رات کی تاریکی کے انتظار میں گزارا اور فہیم احمد کے گھر سے نکلتے ہی عباس کو کال کی۔۔۔۔
کچھ ہی گھنٹوں بعد دادا تایا چچا پپھو سب ہال میں جمع تھے صفدر نے آکر انہیں اطلا دی کے فہیم احمد جیل میں ہے۔۔ دادا کا جلال کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا جب انھیں پتا چلا ایک ہوٹل میں پولیس نے ریڈ ڈالی ہے جہاں سے فہیم احمد ایک لڑکی سمیت برآمد ھوا ہے۔۔۔ تفتیش کہ بعد پتہ چلا کہ اس نے کسیر مقدار میں ڈرگز لی ہیں۔۔۔ اسکے بعد دادا نے اپنی آدمیوں سے اُسکی ایک ایک خبر نکلوائی لیکن زیادہ محنت کی ضرورت نہیں پڑی دادا کو میں نے ڈائریکٹ صفدر سے پوچھنے کا کہا اور اس نے بھی جان لیا اب غلام کس کا رہنا ہے؟؟ اور ڈرگز کے دھندھے سے لیکر عیاشی کا ایک ایک کچا چٹھا سب کے سامنے کھول دیا میری نظروں کا مرکز پھپھو تھیں آج شاید انھیں اپنی زندگی کے گزرے ما وسالوں کا افسوس ہو رہا ہوگا جو ایک ایسی انسان کے لئے وقف کر دیے جس نے انکی دی قربانیوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔۔۔
دادا نے وہیں اس سالوں کے رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ فہیم احمد کی طرف سے ملا معافی نامہ بغیر پڑھے پھینک دیا۔۔۔ پھپھو کو ابھی مزید شرمندہ ہونا تھا پولیس گھر تک چلی آئی دادا نے انھیں دیکھتے ہی صاف کہا فہیم احمد سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں رات کی اس تاریکی میں دادا کی کوئی سورس بھی کام نہ آسکی اور گھر پر پولیس نے تلاشی شروع کردی وہ سرچ وارنٹ لیکر آئے تھے دادا یقیناً اسی سوچ میں ہونگے کے آخر وہ اتنے بےخبر کیوں رہے؟؟ دادا کو ایک بات معلوم نہیں تھی کہتے ہیں انسان پریشانی میں دماغ سے کام لے تو ہر مشکل آسان لگتی ہے دادا ہو یا میرے چچا کسی نے بھی سرچ وارنٹ پڑھا تک نہیں ورنہ میرا ایئر پولیوشن پر آسانمنٹ دیکھ کر مجھے (اکلوتے وارث ) کو جائیداد سے بےدخل کر دیتے۔۔۔۔ یہ اچانک ہی مجھے اپنے ڈرور سے ملا جو پانچ سال پہلے بنا کر یہیں بھول گیا تھا اور اسی سے مجھے بلیک منی نکلوانے کا آئیڈیا آیا جو بےشک رسکی تھا خیر گھر کی چھان بین سے تو کچھ ہاتھ نہ آیا لیکن پھپھو کے روم سے نوے لاکھ برآمد ہوے جسے دیکھ کر سب کی سوالیہ نظریں پھپھو پر تھیں جو شاید خود انجان تھیں۔۔۔۔
پولیس کی ریڈ کے بعد سب ہی کمروں میں گُم ہوگے کسی نے پھپھو سے کوئی بات نہیں کی بس دادا نے طلاق کا حکم سنایا جسے پھپھو نے تابعداری سے مانا۔۔۔ شکر ہے دادو شہر میں تھیں ورنہ ضرور دادا کو بولتیں ایک اور موقع دو مجھے یقین تھا انکے آنے سے پہلے دادا پپھو کو طلاق دلوا دیں گے۔۔۔
کچھ دیر بعد میں پھپھو کے پاس چلا آیا جو اپنی وہیل چیر پر بیٹھی بیٹی کو پانی پلا رہیں تھیں وہ ایک اسپیشل بچی تھی جو فہیم احمد اور پھپھو کی آنکھوں کا تارہ ہے۔۔۔۔
” پھوپھو ساری زندگی آپ نے خدا سے اپنے شوہر کی بخشش کے لئے دعا کی کاش اسکی ھدایت کے لئے کرتیں یقین جانے کوئی میرے لئے دل سے کرتا اور عمل کرنے کا کہتا ساری زندگی میں اُسے سر پر بیٹھا کر رکھتا لیکن یہ شخص آپ کے قابل نہیں تھا اور سچ بتاؤں گناہ کو چھپا کر آپ نے بھی گناہ کیا ہے میں سمجھتا تھا آپ شروع سے عبادت گزار ہیں لیکن یہ نہیں جانتا تھا شوہر کے گناہ کے بعد آپ خدا کے قریب ہوگئیں لیکن صرف اپنے غرض کے لئے۔۔۔ خیر آپ ایک گہنگار کو سزا دلوا کر دوسری شادی کر سکتیں تھیں آج آپ بھی ایک اچھی زندگی صحت مند بچوں اور شوہر کے ساتھ گزارتیں اللہ‎ سے شکوہ نہ کرنا یہ تنہائی آپ نے خود اپنے مقدر کا حصہ بنائی ہے اور ایک بات کہوں آئ لو یو آلوٹ لیکن اُس دن آپ سے نفرت ہوگئی جب پتا لگا عدالت میں آپ نے اپنے شوہر کو بچانے کے لئے ایک پاک عورت پر تہمت لگائی تھی رانیہ کی ماں کو بدکردار کہا تھا اور اس معصوم بچی کو بدکردار ماں کی بدکردار بیٹی کہا تھا۔۔۔ “
میرے پیچھے وہ سسک سسک کے رو رہیں تھیں مجھ میں ہمت نہیں تھی میں انھیں حوصلہ دوں رانیہ اور اسکی ماں کا سن کر میرا مضبوط دل تک کمزور پڑ گیا انصاف کے لئے کیا کیا الزامات برداشت نہیں کیے انہوں نے؟؟ اور پھپھو عورت ہوکر عورت کو پامال کیا۔۔ کیا فائدہ ایسی عبادتوں کا جس کے بندے کو تم لوگ خون کے آنسوؤں رلاتے ہو؟؟ آج بھی میرے دل سے اس ماں کے لئے دعا نکلتی ہے جس نے رو رو کر انصاف مانگا ہوگا ۔۔۔ اس پورے واقع سے مجھے ایک بات سمجھ آئی امیر عزتیں بیچ کر بھی اس دنیا میں سینہ تان کہ گھوم رہے ہیں اور غریب اپنی ہی عزت بچانے کہ چکر میں مارے مارے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔
اگلے دن میں خوشی خوشی اسکے گھر پورے باراتی لے گیا لیکن حجاب تاثیر کے جھوٹ نے مجھے ایک بات سمجھا دی کتنی ہی نمازی ہو لکین خود پر بات آئی تو جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کریگی۔۔ لیکن مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اُسکے ماں باپ نے خود ہی ہمارا نکاح کر دیا جسکے بعد میں سینہ تان کر اسکے کمرے میں حق سے آیا تھا آخر میرا بھی تو کمرہ ہے؟؟؟ میں وہاں اسے تپانے گیا تھا احساس دلانے کے اب وہ اب میری بیوی ہے حق رکھتا ہوں اُس پر لکین اسکے لفظوں نے ایک بار پھر میرے زخموں پر نمک چھڑک دی۔۔۔
اُس سے ملنے کے بعد اپنانے کے بعد اُس دن بہت دنوں بعد میں پُر سکون نیند سویا رات بھر یہ احساس مجھے ایک خوبصورت دنیا میں لے گیا کے وہ صرف میری ہے۔۔ میری اندھیری دنیا میں وہ روشنی بن کر آئی ہے اسکا احساس ہر پل میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا اور اس سے اگلے دن سب کے حیران نظریں مجھ پر تھیں آج سے پہلے سویرے اٹھا ہی کہاں ہوں؟؟ موم ڈیڈ اور مہوش تینوں دبئی جا رہے تھے نو بجے کی انکی فلائٹ تھی مجھے اس طرح بار بار مسکراتا اور صبح سویرے اٹھتا دیکھ دادو نے پریشانی کے عالم میں اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھ کے بخار چیک کیا۔۔۔
” ملیریا تو نہیں ہوگیا “ مہوش نے اپنی رائے دی میں خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔۔ ساتھ دادو کی گھورتی آنکھوں کو برداشت۔۔
” ملیریا میں انسان مسکراتا ہے “ دادو نے مجھے غور سے دیکھتے مہوش سے پوچھا۔۔ حد ہے بندہ اب ہنسے بھی نہ؟؟ میں انہیں کیا کہتا خاموش بیٹھا رہا
دونوں آپس میں ایک دوسرے کو رائے دیتی رہیں جبکے میری نظریں ایک پل کو سامنے اٹھیں تو موم مجھے ہی دیکھ رہیں تھیں انکے ہونٹوں پر نرم سے خوبصورت مسکراہٹ تھی مجھے لگ رہا تھا جیسے مجھے دعا دے رہیں ہوں ایسے ہی خوش رہو انہیں دیکھ میرا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا میں سینڈوچ ادھورا چھوڑ کر گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔