Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ابراز آفس جانے سے پہلے دادو کے روم میں گیا۔۔ کل رات اسکی وجہ سے دادو کافی پریشان رہیں اس بات کا اندازہ ابراز بخوبی لگا سکتا ہے اس لئے سب سے پہلے وہ ان کے روم میں گیا انھیں مطمئین کرنے۔ انکے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر وہ آفس کے لئے نکل گیا۔۔۔۔۔
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا میری نیند بھی تمہاری ہے
حجاب نے ایک سخت نظر سے نوازا جو اسے آدھے گھنٹے سے تنگ کر رہا تھا۔۔ اب بھی بڑی بےباکی سے اسے دیکھ کر شعر پڑھا۔۔
” کیا ہے؟؟؟ مجھے پڑھنے دو پرسوں یہ بک ریٹرن کرنی ہے “
پھاڑ کھانے والے انداز میں کہہ کر وہ واپس اپنی بک پڑھنے لگی
” مجھے بھی پڑھ لو بہت مزے کا ہوں “
اسکے کندھے پر جھولتے دوپٹے کو ہلکا سا جھٹکا دیکر کہا۔۔ آنکھوں میں بےپناہ چاہت تھی وہ اسکی نظروں سے یکدم بوکھلا گئی ابراز اسے بوکھلاہٹ کا شکار دیکھ جی جان سے مسکرایا۔۔۔
حجاب نے سنبھلتے ہی اسکا ہاتھ دور کر کے تھپڑ لگایا اور اسے ایک گھوری سے نوازا۔۔۔۔۔
” میرے دوست کہتے ہیں “ اپنی بات مکمل کر کے وہ اسکے کندھے سے کندھا ملا کر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ حجاب نے اپنی غیر ہوتی حالت کو بمشکل سنبھالا یہ شخص پل پل قریب آکر اسے نئی اذیت سے نوازتا۔۔۔
” تو انکے پاس جاؤ ناں میرا سر کیوں کھا رہے ہو “ اسے خود سے چپکتے دیکھ وہ دانت پیس کر بولی
” جیلیس۔۔۔۔ او مجھے پتا ہے آج کل تمہیں ٹائم نہیں دے پاتا اس لئے ناراض ہو چلو کوئی نہیں اب سے میرا سارا وقت تمہارا “ وہ اسکے کندھے کے گرد بازو حمائل کر کے اسکے اندر ابھلتے لاوے کو ہوا دے چکا تھا۔۔۔
” سارا دن تو میرے سر پر سوار رہتے ہو سانس تک لینے نہیں دیتے اور کہتے ہو وقت نہیں دے پاتا مائے فُٹ نہیں چاہیے کچھ بھی جان بخش دو میری “ وہ اس سے تھوڑا دور کھسک کے بک پھینک کر اسکے سامنے اپنے ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی
” تمہیں بخش دیا تو میرا کیا ہوگا جان من؟؟ “ اسکے بندھے ہاتھوں کو پکڑ کے وہ شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر اس پر بوسہ دینے لگا تھا کہ حجاب نے جھٹکے سے اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔۔
” مجھے پڑھنے دو پلیز “ وہ کسی بچے کی طرح معصومیت سے بول کر منت کرنے لگی۔۔ اسکی حالت دیکھ ابراز کو ہنسی آگئی اسے تنگ کر کے ایک الگ ہی سکون ملتا تھا ابراز کو۔۔۔
” کیا کروگی پڑھ کے اب شوہر والی ہو۔۔ اور یہ کیا گھٹیا بک اٹھا لائیں؟؟ “ وہ اس بک کو اٹھا کر دیکھنے لگا جو حجاب نے بیڈ پر پٹخی تھی ۔
” کیا مطلب؟؟ “ وہ اس سے بک چھینتی ہوئی چلائی
” بےبی وہ پڑھو جو آگے زندگی میں کام آئے جیسے زوجین کے حقوق۔۔۔ “ ابراز نے حجاب کا چہرہ دیکھ کر قہقہہ لگایا جو غصّے سے سرخ ہو چکا تھا
” شوہر کے سارے حقوق لکھیں ہے یہ بھی کہ نافرمان بیوی کا انجام کیا ہوتا ہے جو مجازی خدا کے حکم کی پیروی نہیں کرتی۔۔۔ “ ابراز نے اسے احساس دلانا چاہا اسے حجاب کی کیا اپنی فکر تھی اسکی بےاعتنائی دیکھ کر ابراز کا نجانے کیوں دل ٹوٹ جاتا۔۔
” گٹر میں پھینک دونگی “ فوراً ہی جواب آیا۔ حجاب کو پروا ہی کہاں تھی؟؟ ابراز حیات سے نافرمانی کا گناہ بھی اِسے منظور تھا لیکن ہارنا نہیں۔۔۔۔
” بیوی مجازی خدا ہوں میری خدمت کرو گی تو جنّت تمہاری ورنہ میرے ساتھ تمہارا بھی دوزخ کا ٹکٹ کٹے گا “ ابراز اسے بک میں واپس الجھتا دیکھ غصّے میں آگیا اپنا غصّہ دبا کر وہ لہجے کی سختی پر قابو پاکر مزاحیہ انداز میں بولا اور اسکی بک چھین کر بیڈ پر پٹخی
” تمہارا تو سالوں پہلے کٹ چکا ہے۔۔ میری فکر نہ کرو۔۔ توبہ کر لونگی اور جا رہی ہوں میں دادو کے روم میں “ وہ بیڈ سے اپنی بک اٹھانے لگی ساتھ بکھرا سامان ابراز کے کان تو ” دادو کے روم “ کا سن کر کھڑے ہوگئے سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں ابراز نے ایک نمبر ملا کے اسے لاؤڈ سپیکر پر لگایا۔۔۔
” السلام عليكم امی کیسی ہیں آپ؟؟ جی میں ٹھیک ہوں۔۔ آپ سے شکایت تھی بیٹی کو تمیز نہیں سیکھائی کہہ رہی ہے ٹنڈے جیسا منہ لیکر نکل جاؤ میرے کمرے سے “
ابراز نے معصومانہ انداز میں کہا حجاب تو اسکی حرکت دیکھ بلبلا اٹھی۔۔۔ اسکا دل چاہا پاس پڑا گلدان پوری قوت سے اسکے سر پر مارے۔۔۔
” بیٹا کیا کروں حجاب کا؟؟ زبان ہے اسکی کے روکتی نہیں میں خود تنگ آجاتی۔۔۔ “ حجاب کو پہلی دفع نجانے کیوں ابراز کے سامنے شرمندگی ہوئی۔۔جبکہ ساس کی بات سن کر ابراز ڈھٹائی سے مسکرایا ساتھ ایک طنزیہ نظر حجاب پر ڈالی۔اسکی ماں انجان تھی ابراز نے فون سپیکر پر رکھا تھا۔۔۔
” یہی نہیں محترمہ سے کہا بریانی بنا دو آگے سے جواب دے رہی ہے شکل دیکھ کر فرمائش کرتے ہیں آپ خود بتائیں امی یہ کہاں کا انصاف ہے؟؟ اسی لئے میرا دل ہی نہیں کرتا گھر آؤں مجھے کہتی ہے ”کافر“ ہو تم مجازی خدا جیسی شکل نہیں تمہاری۔۔۔ یہی نہیں امی جو کہتا ہوں نہ کرو سب سے پہلے وہی کام کرتی ہے اور تھوڑا میں نے آواز تیز کر لی تو محترمہ دادی کے روم میں سونے چلی جاتی ہے۔۔۔۔ “ ابراز نے پورے دل کی بھڑاس آج ہی نکال لی۔۔ اسکی زبان کسی قینچی کی طرح پٹر پٹر چل رہی تھی۔۔ حجاب کو رونا آرہا تھا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی بحث کے بعد اسکی ماں کو حجاب کا خیال آیا وہ بھی صرف دماغ درست کرنے کے لئے۔۔
” حجاب تمہیں ذرا تمیز نہیں؟؟ اس طرح شوہر سے بات کرتے ہیں اور یہ کہاں سے سیکھی ہو ٹینڈے جیسا منہ سامنے ہوتی تو تمہارا منہ میں لال کردیتی۔۔۔“ حجاب نے نفرت سے سامنے بیٹھے ابراز کو دیکھا جو آگ لگا کر اب چپس کھا رہا تھا۔۔ حجاب نے موقع اٹھا کر سپیکر سے ہٹانا چاہا لیکن ہائے یہ قسمت فنگر پرنٹ کوڈ حجاب غصّہ پی کر رہ گئی۔۔۔
” میں آخری بار کہہ رہی ہوں حجاب اب تم نے شوہر کی نافرمانی کی وہاں آکر تمہارے شوہر کے سامنے تھپڑ لگاؤں گی سمجھی “ ابراز کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی حجاب سر جھکا کے رہ گئی اسکی ماں نے سارا بھرم ختم کر دیا۔۔۔
” اور ابراز جو کہے وہ کیا کرو شہزادوں جیسا شوہر ہے کیا خرابی ہے؟؟ آنکھیں کھول کر دیکھو گی تو قدر ہوگی اور اب تمہاری شکایت نہ آئے اور بات بات پر کمرہ چھوڑ کر کیوں بھاگتی ہو اس بچے کو بھی پریشان کرتی ہوں آپس کا جھگڑا آپس میں نپٹاؤ اعلان نہ کرو رکھتی ہوں فون کل سیدھا کرونگی تمہیں ۔۔۔ “ کال کاٹ کر اسکی ماں نے اسکی جان میں جان ڈالی حجاب اسے قہر آلود گھوری سے نواز کر پھنکاری۔۔
” ریسپشن سے پہلے تم نے مجھ سے بات بھی کی نا تو قتل کردونگی تمہارا میں۔۔۔ “ وہ بکس سائیڈ پر پٹخ کے چادر تان کر لیٹ گئی ابراز مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے جاگتا رہا پھر اسے نیند میں جاتا دیکھ آہستہ سے اسکے قریب آیا اور اسکا سر احتیاط سے اپنے بازو پر رکھ کے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
آمنہ ثنا اور اسامہ خوشی سے تیار ہو رہے تھے آج کافی دنوں بعد وہ اپنی بہن کو دیکھنے کے لئے بےچین تھے آخر کب اتنے دنوں تک وہ لوگ ایک دوسرے سے دور رہے ہیں؟؟ اور یہی حال وہاں تھا حجاب بےصبری سے سب سے ملنے کا انتظار کر رہی تھی اسکے لاکھ کہنے کے بعد بھی ابراز اسے وہاں لیکر نہیں گیا جبکہ اسکی ماں کا ابراز کے ساتھ بدلتا رویہ دیکھ حجاب حیران بھی تھی اور اداس بھی۔۔ اور اداس وہ دادو
کے گاؤں جانے سے بھی تھی جنہوں نے کل ہی اسے جانے کی نیوز دی تھی اور یہ سب سن کر تو حجاب کا منہ لٹک گیا تھا اب ابراز جانے اسکے ساتھ کیا کریگا؟؟ اسے یہی لگا تھا وہ دادو کی وجہ سے شریف بنتا ہے۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
وائٹ گھیر دار میکسی میں وہ دوپٹا گھونگٹ کی طرح اوڑھے ابراز کے قدم سے قدم ملا کر چلتی اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی ابراز نے اسکا ہاتھ سختی سے تھاما ہوا تھا۔۔ ارد گرد بیٹھے لوگ انہیں حسرت سے دیکھ رہے تھے کچھ حجاب اور ابراز کے یونی فیلوز تھے کچھ رشتےدار انہی میں کچھ بزنس مین اپنی بیویوں کے ساتھ آئے تھے جنہیں دیکھتے ہی ابراز کا خوشگوار موڈ اوف ہوگیا۔۔۔ اب کے اس نے ایک ہاتھ حجاب کی کمر میں حمائل کر کے اسے قریب کیا اور قدم بڑھاتے اسٹیج پر آبیٹھا پہلے اس نے حجاب کو بٹھایا پھر اسکے پاس بیٹھ کر حجاب کا ہاتھ سختی سے اپنی گرفت میں جکڑا۔۔۔۔
” ہاتھ چھوڑو۔۔ “ حجاب نے دھیمی مگر غصیلی آواز میں کہا
” جب تمہاری خوائشوں کا احترام کرتا ہوں تو یہ فرض تم پر بھی لاحق ہوتا ہے۔۔۔ “ سکون سے جواب آیا۔۔۔۔
” کیسے ہو بھائی شادی کے بات بھول ہی گئے ہو “ حیات صاحب کے دوست نے اسٹیج پر آکر ابراز سے کہا اور ایک گہری نظر گھونگٹ میں چھپی حجاب پر ڈالی۔۔۔
” کون سا شادی سے پہلے ہماری جان پہچان تھی؟؟ “ ابراز کا لہجہ خود بخود تلخ ہوگیا اسکا دل چاہا سامنے بیٹھے شخص کو زندہ جلا ڈالے۔۔۔
” مذاق اچھا کرتے ہو “ اُس شخص نے بمشکل خود کی عزت سنبھالی۔۔۔
” ہمارا مذاق کا رشتہ ہے؟؟ “ ابراز کا لہجہ اب بھی سخت تھا آنکھوں میں شیطانی مسکراہٹ جیسے اس شخص کے اندر اُبلتے لاوا سے مزے لے رہا ہو۔۔۔” حیات صاحب سے مل لوں “ وہ شخص مزید عزت افزائی سے بچنے کے لئے نیچے مہمانوں سے ملتے حیات صاحب اور آمنہ کے پاس چلے آئے۔۔۔ حجاب ابرز کو سمجھنے سے ابھی بھی قاصر تھی وہ کوئی عجیب ہی پہیلی تھا جو اسے لگا وہ کبھی سلجھا نہیں پائے گی۔۔۔۔
” بےبی تم پریشان نہ ہو ان جیسوں کی روز میرے ہاتھوں
عزت افزائی ہوتی ہے پھر بھی ڈھٹائی سے منہ اٹھا کے آجاتے ہیں “ ابراز کو حجاب کا خیال آتے ہی لہجے میں خود بخود نرمی اور محبت سمٹ آئی۔۔۔
” تمہاری طرح “ حجاب نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔۔
” کمرے میں چلو تمہارا دماغ درست کرتا ہوں “
حجاب کی نفرت کا جواب شوخی سے دے کر وہ دلکشی سے مسکرایا۔۔۔ اس نے حجاب کو تنگ کرنے لئے اُسکی انگلی میں پہنی انگھوٹی کو چھیڑا حجاب اتنے لوگوں کے سامنے بس صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی۔۔۔
” کیوں میرا تماشا بنا رہے ہو؟؟ “ حیات صاحب نے حجاب کا لحاظ کیے بغیر اپنے ڈھیٹ بیٹے سے کہا جو بڑی بےباکی سے بیوی کی سینڈل میں الجھا شرارہ نکال رہا تھا۔۔۔
” ویٹ آ سیکنڈ ڈیڈ۔۔ “ وہ بیٹھے بیٹھے اسکے سینڈل سے الجھا شرارہ نکال چکا تھا اب باپ کو دیکھ کر دنیا بھر کی بیزاری چہرے پر سجائے احسان کرنے والے انداز میں ماں باپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔۔۔
” میرا تماشا کیوں بنایا “ سرخ آنکھوں سے اسکا باپ دھیمی آواز میں دھاڑا انکا بس نہ چلتا وہ اپنے بیٹے کو کھڑے کھڑے شوٹ کر دیں۔۔۔۔
” بنایا ہوتا تو گردن اکھڑ کے نہیں چلتے “ سرد لہجے میں کہہ کر اس نے اپنی جان چھروائی وہ انہیں اگنور کرتا اُس سے پہلے اسکی ماں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔۔۔۔۔
” ابراز بےہیو یور سیلف “ آمنہ نے ایک سخت گھوری سے اسے نوازا۔۔۔ حیات صاحب کے دوست کے سامنے جو شرمندگی اٹھانی پڑی آمنہ کو وہ نہیں بھولی اور وہ جانتی تھیں یہ حرکت ابراز نے جان بوج کر کی ہے۔۔۔۔
” آئ ڈونٹ نیڈ یور ایڈوائز “ وہ اپنی ماں کا بھی کہاں لحاظ کرتا تھا؟؟ اسے باپ سے زیادہ نفرت تو اپنی ماں سے تھی۔۔۔
” آگر اگلے دس سیکنڈ میں آپ دونوں گئے نہیں تو میں یہاں سے چلا جاؤنگا۔۔ میرے پیچھے جواب دیتے رہنا آپ دونوں“ گرج دار آواز میں کہہ کر وہ اپنی بیوی کے پاس بیٹھ گیا۔۔ حیات صاحب اور فبیحہ ایک سرد نگاہ حجاب پر ڈال کر اسٹیج سے اتر گئے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں حجاب کی فیملی اسٹیج پر آگئی۔ ابراز گرم جوشی سے ان سے ملا اسکا انداز حجاب کو حیران کر رہا تھا اپنے پیرنٹس پر حکم اور یہاں عزت دینا احترام کرنا حجاب بس اسے دیکھتی رہی۔۔ آمنہ کے آتے ہی ابراز اسے فیملی کے ساتھ چھوڑ کے اسٹیج سے اتر گیا۔۔۔ آمنہ نے ابراز کے جاتے ہی بےتابی سے بیٹی کو گلے لگایا اور اسکا ماتھا چوما ثنا اور اسامہ بھی خوشی سے اس سے ملے۔۔۔
” آپی یو آر لکی۔۔ “ ثنا نے حجاب سے گلے ملتے کہا۔ اس ریمارکس پر حجاب بس اسکا منہ دیکھتی رہی۔۔
” بابا کہاں ہیں ؟؟ “
حجاب کی بات سن کر ثنا بوکھلاگئی۔۔
” وہ چاچو کے ساتھ حیدرآباد گئے ہیں آج انھیں لوٹنا تھا پر سارے راستے بند ہوگے بس اسی کی وجہ سے آج نہ آسگے “
حجاب جو یہ سمجھ بیٹھی تھی بابا مردوں والی سائیڈ ہونگے انکے نہ آنے کا سن کر اداس ہوگئی۔۔
کافی دیر وہ انکے ساتھ بیٹھی رہی تب تک جویریہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ آگئی پھر حجاب دادو کے پاس چلی آئی ثنا اور جویریہ کے ساتھ۔ دادو نے اسے اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں سے ملایا اور اپنے بہوؤں سے بھی جو فبیحہ سے کافی مختلف اور حیادار تھیں۔۔ فنکشن کے اختتام پر ابراز واپس اسکے پاس چلا آیا کسی سائے کی طرح وہ اسکے ساتھ رہا اور حجاب کا ہاتھ پل بھر کے لئے بھی اس نے نہ چھوڑا۔۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بھاری جھمکے اتار رہی تھی کہ اسے اندازا بھی نہ ہوا کب ابراز اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا۔۔۔۔
“ You will never know just how beautiful you are to me ”
بےخودی کے عالَم میں تکتے وہ حجاب کو ان آنکھوں میں بسا چکا تھا۔۔۔ حجاب کا ہاتھ لرز اٹھا وہ سمجھ گئی تھی ابراز کا موڈ بدل چکا ہے اس نے بھاگنے کو ڈریسنگ کی طرف دوڑ لگانی چاہی کہ ابراز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
” ظالم حسینہ اب اتنا کیوں تڑپا رہی ہو؟؟ آج تو روپ خوب نکھر کے آیا ہے۔۔ اب کوئی کافر ہی ہوگا جو تم سے اپنی نظر ہٹالے ویسے بھی موقع بھی ہے دستور ہے اور یہ خوبصورت رات بھی ہے کیوں نہ اب تم بھی کچھ ثواب کما لو ورنہ فرشتے تمہیں لعنت اور حوریں ساری رات بددعائیں دیں گی “
حجاب کو خود سے قریب کر کے وہ ان خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرایا۔۔۔ حجاب پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی لفظ ایسے تھے کہ جسم حرکت نہیں کر پا رہا تھا ایک وقت تھا وہ لوگوں کو انکے اعمال یاد دلاتی تھی اور آج یہ وقت ہے اسکا شوہر اسی کا حربہ آزما کر اسے آئینہ دکھا رہا ہے۔۔۔۔۔اور ہوا بھی یہی تھا لاکھ چاہ کر بھی وہ اسے روک نہ سکی اسکی کمر کے گرد ابراز حیات کا گھیرا مزید تنگ ہوگیا۔۔۔
☆………….☆………….☆
صبح وہ اٹھتے ہی تیار ہوکر یونی آگئی۔۔ ابراز کو دل ہی دل میں گالیوں سے نوازتے وہ اپنا غصّہ نکال رہی تھی۔۔ مہوش اپنی کار لیکر نکل چکی تھی حجاب نے سوچا تھا اسے کے ساتھ چلی جائے گی لیکن وہ اس سے پہلے ہی نکل گئی حجاب کو پوانٹ سے آنا پڑا کیوں کہ کار تو گھر میں تھی لیکن ڈرائیور نہیں۔۔۔۔۔
مہوش سے اسکی ملاقات یونی میں اور ڈنر پر ہوتی آج کل اکثر وہ مہوش کو ایک لڑکے کے ساتھ دیکھتی جو یونی میں کافی مشہور تھا ہر لڑکی کے ساتھ اسکا اٹھنا بیٹھنا تھا۔۔ حجاب نے ایک دفعہ مہوش کو سمجھانا چاہا لیکن سمجھنا تو دور وہ تو حجاب سے اتنی بےزار تھی کہ دو گھڑی بات کرنا بھی گنوارہ نہ سمجھا حجاب نے بھی اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔۔
” ہیلو بےبی بڑی ظالم ہو بنا بتائے چلی گئیں “ حجاب پریزنٹیشن تیار کر رہی تھی کہ ابراز کی کال آگئی صرف جویریہ کی وجہ سے اس نے بےدلی سے کال پک کی ورنہ جویریہ اس سے سوال پوچھ پوچھ کر اسکا سر کھا جاتی۔۔۔۔
” لیکچر مس ہوجاتا تبھی “
ضبط کرتے وہ تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کر رہی تھی۔۔
” میں بھی تو تمہیں مس کر رہا ہوں “
ابراز کی بات سن کر حجاب کے گال دہک گئے شرم سے نہیں بلکہ غصّے سے۔۔۔
” میں پریزنٹیشن بنا رہی ہوں کل لاسٹ ڈیٹ ہے “
حجاب نے جویریہ کی وجہ سے خود پر قابو پایا ورنہ اسے اچھا خاصا سناتی۔۔۔
” اوکے بےبی۔۔ سنو مجھے ارجنٹ ایک کام سے جانا ہے دل تو بالکل نہیں کر رہا۔۔۔ لیکن مجبوری پپرز کا مسئلہ ہوگیا ہے “
وہ بےچارگی سے بولا اسکے لہجے سے واضح تھا وہ جانا نہیں چاہ رہا
” اوکے۔۔۔۔ کتنے دن “
حجاب کا دل تو ناچنے کو چاہ رہا تھا
” تقریباً دو ہفتے۔۔۔ کاش تمہارا پاسپورٹ بنا ہوتا تمہیں بھی لےجاتا لیکن مجھے آج ہی نکلنا ہے۔۔۔ “ اب کے لہجے میں غصّہ تھا،بےبسی تھی، لاچارگی لیکن حجاب کو کہاں قدر تھی اسکا تو خوشی کے مارے بُرا حال ہو رہا تھا۔۔۔
” کوئی بات نہیں ٹیک یور ٹائم “ حجاب نے کہہ کر کال کاٹ دی تھوڑی دیر بعد ابراز کا میسج اسے وصول ہوا۔۔۔۔
” تمہارے پر تو میں آکر کاٹوں گا!!!!! اور سنو میری ساس کے گھر جانا وہاں سے خود ہی تمہیں لینے آؤنگا میری غیر موجودگی میں اِس گھر میں قدم تک نہیں رکھنا آئی ہے سمجھ؟؟ یا دماغ ابھی بھی خالی ہے؟؟ “ حجاب اس عجیب و غریب شخص کا میسج پڑھ کے حیرت زدہ رہ گئی پھر اوکے ریپلائے کر کے فون رکھ دیا۔ کیونکہ جویریہ اب اپنے سوال پوچھ کر اسکا دماغ مزید خراب کر رہی تھی۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
پوانٹ سے سڑک پر اتر کر وہ گھر جانے کے راستے پر پیدل چل پڑی اسکی خوشی آج دو گنی ہوگئی ابراز تھا نہ وہ گھر.. آج سے وہ آزاد تھی اپنی پہلی والی دنیا میں۔۔
گھر کے آتے ہی اس نے بےتابی سے ڈور بیل بجائی اسکی ماں آمنہ نے دروازہ کھولا لیکن حجاب کا سارا موڈ اُس وقت خراب ہوا جب اسکی ماں نے خوشی سے اسے گلے لگا کر کہا
” ابراز نے تو کہا تھا جلدی آؤ گی پوائنٹ سے آئی ہو کیا؟؟ “
” ابراز سے پوچھیں نا۔۔ “ بگڑے موڈ کے ساتھ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔ آمنہ کو آج افسوس ہو رہا تھا کاش پہلے ہی وہ اسے ایک دو تھپڑ لگا کر سدھار دیتیں تو یہ ضد تو اس میں نہ آتی۔۔۔
گھر آکر حجاب کو بدلتے ماحول کا احساس ہوا اسکے چچا لوگ اپنا حصہ لے چکے تھے لیکن عجیب تو یہ تھا دکان بابا کے پاس ہی تھی بابا نے اپنی ساری زندگی کی کمائی اپنے بھائیوں کو دےدی جسکا جتنا بنتا تھا اُتنا۔۔۔ اسکی ماں جو اسے بتا رہی تھیں حجاب کو وہ آدھا سچ لگا۔۔۔ اسے پوری کہانی میں ہی جھول لگا۔۔۔ حجاب کو ویسے بھی ان سب میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا بس اپنے بابا کو بستر سے لگا دیکھ اسکی حالت خراب ہوگئی وہ پورا دن انہی کے پاس رہتی۔۔ انکا خاص خیال رکھتی گھنٹوں بیٹھ کر انکا سر کھاتی۔۔۔
زندگی یکدم سے بہت خوبصورت لگنے لگی تھی راتوں کو وہی دیر دیر تک جاگنا امی ابو ثنا وہ تینوں باتوں میں ایسے لگتے کہ ٹائم کا پتا ہی نہیں چلتا۔۔۔ اسامہ کے پپرز تھے اسلئے وہ آج کل کمرے کا ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔
اسی طرح کافی دن گزر گئے آج ابراز کو گئے بیس دن ہو چکے تھے اس بیچ ابراز نے کوئی دو سو کالز کی ہونگی لیکن حجاب نے بھری ڈھٹائی سے اسے بلاک کردیا۔۔۔ یہاں آئے اسے چوتھا دن تھا جب حجاب فیملی کے ساتھ تین بجے تک بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور ابراز کی کال آگئی بمشکل غصّہ قابو کے اس نے کال اٹھائی تو آگے سے ڈھٹائی سے ابراز کے بیہودہ ڈائلاگز شروع ہوگے۔۔
” بہت خوش ہو پندرہویں کال کے بعد فون اٹھا رہی ہو آنے دو مجھے گن گن کے بدلے لونگا “ وہ گھنٹوں حجاب کا سر اسی طرح کھاتا اسلئے حجاب نے بلا خوف و جھجھک اسے بلاک کردیا لیکن اگلے دن سے وہ کبھی بابا کے نمبر پر کال کرتا تو کبھی امی کے نمبر پر اور حجاب چاہ کر بھی فون بند نہیں کر پاتی۔۔۔
” کیا ہوا حجاب صبح سے اتنی ڈل لگ رہی ہو “
آمنہ نے ناشتہ ٹیبل پر رکھتے کہا جسے دیکھ کر حجاب نے بُرا سا منہ بنایا
” امی سر گھوم رہا اور وومیٹینگ “
حجاب کا اتنا کہنا تھا کے آمنہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔۔
” حجاب تم روکو میں صائمہ کو لیکر آتی ہوں “ آمنہ جلدی سے ساتھ والے گھر سے صائمہ کو لے آئیں جس نے چیک اپ کے بعد جو خبر سنائی اُسے سن کر حجاب کو لگا گھر کی چھت اسکے سر پر آگری ہو ۔۔۔۔۔۔
” حجاب پریگنینٹ ہے۔۔ مبارک ہو آمنہ نانی بنے والی ہو “
حجاب اٹھ کر کمرے میں چلی آئی پیچھے سے اسنے آمنہ کی آواز سنی تھی۔۔۔
” شرما گئی “
حجاب بیڈ پر آکر بیٹھ گئی غصّے سے اسنے بیڈ شیٹ دبوچی۔۔
اسے کانوں میں بار بار ابراز کے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔۔۔
” کافر کی بیوی ہو تم جانِ من اور جلد ہی اس کافر کے بچوں کی ماں بنو گی۔۔۔۔۔۔ “ اسے پتا بھی نہیں چلا کب اسکی آنکھیں بھیگ گئیں یہ نئی خوشی جسے سن کر اسے خوش ہونا چاہے اسکا دل کر رہا تھا وہ اس خوشی میں ماتم کرے کیونکہ ابراز حیات کا جیت کی خوشی میں مسکراتا چہرہ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے گھومتا۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
جاری ہے
