Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

” منہ بند رکھو اپنا شرم کرو دوست ہے وہ تمہاری “
دادو کا پارا ہائی ہوگیا ان سب کی چپ دیکھ کر وہ خود اٹھ کے اسکے پاس آئیں…وہاں کھڑے کسی انسان میں انسانیت نہیں تھی تماشا دیکھ کر سب پتھر کی مانند جم کے کھڑے رہے۔
” بچے اٹھ ادھر آمیری دھی “ دادو نے خود جھک کر اسے اٹھایا۔۔
” یہی اوقات ہے اسکی “
مہوش بڑبڑاتی ہوئی اسے ایک تیز نظر سے نوازتی اپنے کمرے میں چلی گئی ساتھ فبیحہ حیات (مہوش کی امی) بھی اپنی فرینڈز کو لےکر ڈرائنگ روم میں چلی گئیں مہمان توسب گیسٹ روم میں آرام کی غرض سے چلے گئے اب بس حال میں دادی تھی اور حجاب۔
” آ بچے “ حجاب کو شدت سے رونا آرہا تھا کیسی عزت افزائی کر گیا تھا وہ اسکی نکاح کر کے کیا اسکا انتقام پورا نہیں ہوا تھا جو اسےاس ذلت میں گڑھ گیا اب وہ کیسے سب سے نظریں ملائے گی اسکی نظر تو دادی کے سامنے بھی جھکی ہوئی تھی بس وہ نظریں جھکائے ان کے ساتھ چل رہی تھی۔۔۔۔۔
” بیٹا میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مجھے پتا ہوتا صرف تمہارے انکار سے اُسکا یہ عمل ہوگا تو اس کے کمرے میں بھیجتی ہی نہ۔۔۔ میں جانتی ہوں بہت مشکل ہے تمہارے لئے اسے قبول کرنا ۔۔۔ لیکن بیٹا میرے بیٹے میں لاکھ برائیاں سہی لیکن اسکا دل دشمنوں کے لئے سخت ہے لیکن اپنوں، غریبوں اور مددگاروں کے لئے نرم ہے۔۔۔ میں اسے سمجھاونگی تم پریشان نہ ہونا۔۔۔ “ وہ دادی کے کہنے پر چینج کر کے آچکی تھی اس نے سمپل سا لان کا سوٹ پہنا تھا جو دادی نے ملازمہ سے کہہ کر مہوش سے منگوایا تھا۔۔ اب وہ انکے ساتھ بیڈ پر بیٹھی نظریں جھکائے انکی بات سن رہی تھی لیکن ابراز کی طرفداری اسے ہضم نہیں ہوئی۔۔۔
” بس ایک سوال پوچھوں؟؟ “ نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں بس ہونٹ ہل رہے تھے۔
” ہاں بچے پوچھو؟؟؟ “ دادی نے خوش دلی سے کہا اتنی دیر اسے چپ دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی تھیں۔۔۔
” کیا آپ اپنی سگی بیٹی کی شادی کسی نشئی سےکرینگی؟؟ کیوں اکثر ماں باپ اپنے بیٹوں کی شادی یہ سوچتے کر کرتے ہیں کہ شادی کے بعدوہ سدھر جائے گا ذمہ داریاں آجائیں گی یا بیوی سدھار دے گی۔۔۔۔ جب اتنے سال ماں باپ کی پرورش اولاد کو سدھار نہ سکی تو دو دن کی آئی بیوی اسے کیا سدھارے گی؟؟ “ وہ دادی کو آج اپنی عمر سے بڑھی لگی اسکا کہا ایک ایک لفظ صحیح تھا۔۔
” تم نہیں سمجھو گی بچے میرا بیٹا یہاں پڑھنے آیا تھا لیکن فبیحہ کی محبت میں ایسا کھویا کہ آج تک وہ بیٹا نہیں ملا مجھے۔۔۔۔ میرا بیٹا نشہ کرنا نہیں سیکھا تھا لیکن یہاں آکر سیکھ گیا میں یہ نہیں کہتی قصور صرف فبیحہ کا ہے لیکن سنگت نے تو اسے خراب کیا نا۔۔۔ بس بچے دوست ہوں، یا میاں بیوی سنگت کا اثر ہوتا ہے ابراز کو ہی دیکھ لو باپ کی سنگت کا اثر ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر رشتے احساس کے ہوں تو اچھے اچھوں کو سدھار دیتےہیں۔۔ حیات تو اولاد سے پہلے اللہ‎ معاف کرے نجانے کیا تھا اب دیکھو میرے کہنے سے پہلے ہر کام سر انجام دیتا ہے۔۔۔بےشک تیرے ساتھ بُرا ہوا لیکن بچے اے اللہ‎ کی مصلحت سمجھ کر قبول کر لو“
” آج تک انکل نشہ؟؟ “ آگے حجاب سے بولا نہ گیا اسے تو ایسے لوگوں سے خوف محسوس ہوتا تھا کہاں آکر پھنسی وہ؟؟؟
” ہاں بچے میرا بیٹا ہیرا تھا یہاں آکر بس امیروں کے اشاروں پر ناچنے لگا۔۔۔ “ دادی کی آنکھ سے آنسو بہہ کر گالوں پر پھسلے۔۔۔۔ حجاب تو خود آج ایک قیامت سے گزری تھی وہ انہیں کیا دلاسادیتی؟؟ وہ اٹھ کر وضو کرنے واشروم چلی آئی اسے ابھی عشاء کی نماز بھی پڑھنی تھی۔۔۔

                     ☆.............☆.............☆

کمرے میں ناگوار بو پھیلی تھی وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھا کہ اچانک موبائل کی بجتی رنگ نے اسکی نیند میں خلل پیدا کیا جسکی وجہ سے اسکی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے وہ آنکھیں ملتا بمشکل اٹھا۔۔۔
” ہیلو “ بیزاری سے بولتےہوئے جیسے سننے والے پر احسان کیا ہوا اسکے لہجے سے جھلکتا غصّہ فون کے اس پار بندے کو کچھ پل کے لئے خاموش کر گیا۔۔۔
” واٹ میں ابھی آتا ہوں ڈونٹ وری “
فون پرملنے والی خبر نے اسکی نیند بھک سے اُڑا دی وہ جلدی سے پاس پڑی شرٹ پہننے لگا ساتھ موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا۔
” ہیلو قاسم سنو ڈیڈ کے اکاؤنٹ سے جلدی پچاس لاکھ میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرو ہاں فاسٹ آئ ڈونٹ نیڈ یور بلڈی ایڈوائس ڈو ایز آئی سیڈ “ موبائل پینٹ کی جیب میں رکھتے اس نے والٹ اور کار کی چابی سائیڈ ٹیبل سے اٹھائی اور تقریباً دوڑتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔۔

                       ☆.............☆.............☆

ملازمہ کا دیا سوٹ پہن کر وہ نیچے چلی آئی جہاں سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
” کیسی ہو؟؟؟ کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی رات؟؟؟ نئی جگہ ہے مشکل ہوئی ہوگی۔۔۔ نیند پوری کی ہے؟؟ “ فبیحہ حیات نے حجاب کے بیٹھتے ہی پوچھا حجاب کو لگا جیسے وہ طنز کر رہی ہیں۔۔۔ جبکے گھر میں کوئی مہمان موجود نہیں تھا فبیحہ حیات اور دادو ہی موجود تھیں مہوش شاید یونی جا چکی تھی۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں آنٹی اور نیند آگئی تھی “
” گڈ “ ہلکا سے مسکرا کے وہ جوس گلاس میں انڈیلنے لگی۔۔ دادی نے خود ہی اسکی پلیٹ میں آملیٹ اور پراٹھا رکھا۔۔۔۔
” ہیلو ڈارلنگ وہٹ ہپینڈ منہ کیوں پھلایا ہے؟؟ “ مہوش ڈھیلی شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس پیچھے سے آکر دادو کے گلے لگی۔۔۔
” پرے ہٹ۔۔ نہیں میں تیری ڈارلنگ شارلنگ دیکھ لی کل کتنی عزت کرتی ہے تو دادی کی۔۔ “ فبیحہ نے آنکھوں کی پتلیوں کو گھمایا جیسے اس سین سے بیزار ہوں جبکہ حجاب بھی لاتعلق بنی بیٹھی رہی۔۔۔
” دادو ڈارلنگ وہ تو ضروری تھا لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ عزت کرنے والا ہی عزت کا حق دار ہوتا ہے اور بےعزت۔۔۔ “ حجاب کی طرف دیکھتے دادی کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ کاٹ دار لہجے میں بولی دادی نے بیچ میں ہی اسکی بات کاٹی
” منہ بند رکھ اپنا ناشتہ کرنا ہے کرو ورنہ جا اپنے اسکول۔۔۔ “ دادی نے غصّے سے اسکے بازو جھٹکے۔۔۔
” آپ ہی جائیں اس عمر میں اسکول میں یونیورسٹی جاتی ہوں اسکول نہیں “ وہ انکی پلیٹ سے ٹوسٹ لیکر تن فن کرتی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
” حجاب بیٹے چھوڑ بُرا نا ماننا اور ہر کسی کی بات کو طنز نہیں سمجھتے میں نے فبیحہ سے کہا تھا تم حجاب سے کل حال چال پوچھنا۔۔۔ “ حجاب جو اب تک مہوش کے الفاظ ہضم نہ کر پائی تھی دادی کی بات سن کر ایک گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔
” دادو سب کہاں ہیں؟؟ مہمان وغیرہ؟؟
” ابراز کے کام دیکھوصبح صبح اعلان کر دیا ولیمہ ایک ہفتے بعد ہوگا سب مہمان ناشتہ کرتے ہی گھروں کو روانہ ہوگے باقی جو گاؤں سے آئے تھے وہ گیسٹ روم میں ہیں شام کو نکلیں گے۔۔ لیکن اس لڑکے کی سمجھ نہیں آتی مجھے۔۔۔ اللہ‎ اسے ھدایت دے۔۔ “
” آمین “ بےختیار حجاب کے منہ سے نکلا دادی نے اسے ساتھ لگایا۔۔
” ُثم آمین میری بچی جیتی رہو۔۔ “ ناشتہ کرنے کے بعد وہ گارڈن میں آگئی حویلی کا وسیع و عریض گارڈن تقریباً نو کنال پر مشتمل تھا تھوڑے فاصلے پر ایک خوبصورت ہٹ بنا تھا جس میں لکڑی سے بنے خوبصورت بینچیز تھے۔۔۔ہر طرف خوبصورت رنگ برنگے پھول تھے۔۔۔ گارڈن سے آگے ہی ایک خوبصورت سوئمنگ پھول تھا ایک باؤنڈری بنی تھی جس نے گارڈن اور سوئمنگ پول کی سائیڈ کو علیحدہ کیا تھا۔۔۔ کافی دیر وہ گارڈن میں ٹہلتی رہی پھر دادی کے روم میں چلی آئی سارا دن ہی اسکا بورنگ گزرا بس لنچ ٹائم میں کچھ مہمانوں سے ملاقات ہوئی جو گاؤں سے آئے تھے اور خوش دلی سے اس سے ملے۔۔۔ باقی سارا دن وہ دادی کے روم میں رہی۔۔ عشاء کی اذان ہوتی ہی اسنے نماز ادا کی دعا مانگتے وقت اسے شور کی آواز آئی اور یہ آواز وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتی ہے ابراز حیات۔۔ اسکے لب بےآواز ہلے دعا کے لیے اٹھتے ہاتھ نیچے گر گئے وہ جائےنماز تہ کر کے نیچے کی جانب چل دی۔۔۔
” دادو کہیں آوارہ گردی نہیں کرنے گیا ایک ضروری کام تھا وہی کرنے گیا تھا۔۔۔ آپ یہ بتائیں وہ پارسا بی بی کہاں ہے “ ابراز بازو کے کف فولڈ کرتا جھنجھلا کر بولا وہ رف حلیے میں ملبوس تھکا تھکا سا لگ رہا تھا دادی صوفے پر بیٹھی تھیں اور وہ انکے سامنے کھڑا صفائیاں دے رہا تھا۔۔۔
” کیا پارسا بی بی لگا رکھا ہے بیوی ہے تمہاری اور اب کیوں یاد آرہی ہے اُسکی؟؟؟ کل تو سب کے سامنے تماشا بنا کر گئے تھے کمرے تک سے نکال دیا اب کیوں پوچھ رہے ہو اسکا؟؟ “ دادو نے سرد لہجے میں اسے شرم دلانی چاہے جس پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔
” کل کچھ زیادہ ہی پی لی تھی مجھے تو یاد بھی نہیں کیا ہوا تھا آپ ڈیٹیل میں بتا دیں کیا پتا یاد آجائے اور شرم بھی آجائے “ ابراز نے بمشکل مسکراہٹ دباتے کہا اسے پتا ہے دادی آسانی سے چھوڑنے والی نہیں۔۔۔۔
” تجھے بالکل شرم نہیں آرہی اس بچی کے سامنے میں اپنی ہی نظروں سے گر گئی مجھے پتا ہوتا یہ ارادہ ہے تیرا کبھی رشتہ لیکر نہ جاتی “ دادو کہتے کہتے ہانپنے لگیں ابراز جلدی سے انکے پاس آگیا پہلے انکی پیٹھ تھپکی پھر پیار بھرے لہجے میں کہا
” اوہ دادو ڈارلنگ!!!! “
” پرے ہٹ “ دادی نے بُرا سا منہ بنایا اسکے کپڑوں سے شراب کی اٹھتی بو انہیں ناگوار گزری۔۔۔
” کیوں دادو اب کھانسی نہیں آرہی؟؟ ابراز کے سوال پر دادو نے عینک اوپر کی جو کھانستے کھانستے پھسل کر ناک تک چلی آئی۔۔۔
ابراز جانتا تھا وہ ناٹک کر رہی ہیں۔۔۔
” بے شرم ہی رہیگا۔۔ اس بچی کے ساتھ کیوں کیا ایسا؟؟ “
” دادو بس سزا ہے حلال رشتہ جوڑنے گیا تھا حرام پی لی اور نقصان اپنا کر بیٹھا۔۔ اب دیکھنا دادو اسے پریشان نہیں کرونگا۔۔۔ آپ ویسے کب جا رہی ہیں؟؟ “ سارا الزام شراب پر لگا کر اس نے اپنا سوال پوچھا جسے سن کر دادو نے اسے گھوری سے نوازا۔۔۔
” میں کہیں نہیں جانے والی تیری ہر کاروائی پر نظر ہے میری۔۔ “ دادو کی بات سن کر ابراز نے سر کھجایا پھر نظر سیڑھیوں پر پڑی جہاں وہ حسینہ آخری سیڑھی پر کھڑی اس پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔۔ نماز سٹائل میں چہرے کے گرد بندھا دوپٹا اسے اوربھی حسین بنا رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی جن میں بھر بھر کے مہندی لگی ہوئی تھی۔۔ حجاب کو ابراز کی اپنے وجود پر جمی نظریں غصّہ دلا رہیں تھیں اس سے پہلے کے وہ نیچے اترنے کے لئے قدم بڑھائے
ابراز وقت ضائع کیے بغیر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اسے کھینچتے ہوے روم میں لے آیا۔۔۔۔

                      ☆.............☆.............☆

” چھوڑو میرا ہاتھ میں نے کہا چھوڑو “ وہ اسکا ہاتھ پکڑے تقریباً کھینچتے ہوئے اُسی کمرے میں لے آیا جہاں سے کل رات اُسے نکالاتھا۔۔۔
” نہیں چھوڑونگا کیا کروگی؟؟؟ “ کمرے کا دروازہ بند کرتے ابراز نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ اپنا ہاتھ مسلنے لگی یہ حرکت دیکھ ابراز کو لائبریری والا قصہ یاد آگیا۔۔
” شوہر ہوں اب تمہارا!!! تمہارے عشق میں پاگل ہوتا عاشق نہیں جس کے چھونے سے ہاتھ دھونے چلی جاؤ۔۔ “
حجاب ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ جبکے ابراز مسکراتا ہوئے اسکے کان کے قریب جھکا اسنے حجاب کا ہاتھ پکڑا تھا اسے یقین تھا وہ پیچھے ہٹ جائے گی۔۔۔۔
” سایہ بن کے ہر پل ساتھ رہا ہوں!!! تمہاری ایک ایک غلطی یاد ہے “ بےحد قریب جھکتے ہوئے وہ اسکے کان میں رازداری سے بولا اور دھیرے سے ہاتھ چھوڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا اب اسکی نظریں حجاب پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
” تم میرے عشق میں پاگل تھے؟؟ “ حجاب کو یقین نہ آیا وہ تو اب تک خود کو اسکا انتقام سمجھ رہی تھی جبکے ابراز کا فلک شگاف قہقہہ نجانے کیوں اسے شرمندہ کر گیا۔۔۔
” عشق اور وہ بھی تم سے؟؟ محبت ہوجائے اتنا ہی کافی ہے ویسے محبت ہوجاتی ہے لیکن بیوی سے کون کرے؟؟ وہ تو اپنی ہی ملکیت ہے “ ابراز ایک ہاتھ سر پر ٹکائے بیڈ سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا جبکہ نظریں اس حسینہ سے ایک پل کو نہیں ہٹی تھیں۔۔۔
” تم جیسا گھٹیا شخص کسی سے محبت تو کیا؟؟ کسی کی عزت تک نہیں کر سکتا چاہے وہ اپنی ہی ماں ہو یا بہن۔۔۔ “ نفرت وحقارت تھی حجاب کی نظروں میں ماں بہن کا سن کر وہ جو مزے سے لیٹا تھا اسکے سر پر آن کھڑا ہوا۔۔۔
” اوہ یو شٹ اپ تم کوئی اتنی اہم نہیں کہ صفائیاں دیتا پھروں۔۔۔ “ اسکا بازو سختی سے پکڑے وہ اس سے بھی تیز آواز میں بولا۔۔
” ہونا بھی نہیں چاہتی تم جیسے شخص سے کوئی رشتہ بھی نہیں رکھنا نہیں چاہتی۔۔۔ جو بھری محفل میں اپنی ہی عزت کا جنازہ نکالے کل تم نے مجھے نہیں خود کو رسوا کیا خود کا تماشا بنایا کیوںکہ بھلے پہلے کوئی رشتہ نہ تھا لیکن اب بیوی ہوں تمہاری۔۔۔ “ ابراز اسے جن نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماں جائے۔۔۔۔اسکی نظریں ایسی تھیں بےاختیار حجاب نے شانوں کے گرد دوپٹا اچھے سے پھیلایا۔۔۔
” مجھ سے بچنے کے سارے حربے آزما رہی؟؟ خیر تمہاری باتوں میں آکر تمہارے پیر تو پکڑنے والا نہیں۔۔ جانِ من رات گئی بات گئی اب آگے کی راتوں کا سوچو۔۔ “ وہ کہتے ہوے اسکے قریب تر آتا جا رہا تھا۔۔۔
” دوڑ ہٹو گھٹیا انسان۔۔ “ حجاب اس کے ایک قدم بڑھاتے ہی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
” شوہر ہوں تمہارا بےبی۔۔ “ حجاب کا ڈرنا اسکی مردانہ انا کو تسکین دے رہا تھا۔۔آج تک لڑکیاں خود اسکے پاس چل کر آئیں یا وہ انکی رضامندی سے پاس جاتا تھا لیکن حجاب وہ واحد لڑکی تھی جو صرف اسکے چھونے سے بری طرح رو پڑی تب سے ابراز کو ایک ضد ہو چلی تھی۔۔۔
” اُسی بات کا افسوس ہے۔۔۔ “ حجاب نے زہر خند لہجے میں کہ کر اسے دور دھکیلا اور کمرے سے بھاگتی ہوئی نیچے چلی آئی۔۔۔
” واپس آؤ ورنہ آج تمہاری خیر نہیں۔۔۔ “ وہ اسکی بات ان سنی کرتی ایک پل کو بھی نہ رکی۔۔۔۔

                   ☆.............☆.............☆

پورے دن وہ کمرے میں اکیلے سلگتا رہا لیکن رات ہوتے ہی اسکی برداشت جواب دے گئی اور وہ ڈنر کے بعد اسکی خبر لینے دادی کے روم میں آن پہنچا۔۔۔ لیکن ابراز کی قسمت وہ شاید اسکی آمد سے آگاہ تھی تبھی نماز پڑھنے بیٹھ گئی اور دادو پلنگ پر بیٹھی تسبیح کر رہی تھیں۔
” دادو آپ کو پوتے پوتی کی خوائش نہیں؟؟ “ دادی کے پلنگ پر لیٹے وہ حجاب کو نظروں کے حصار میں لئے گویا ہوا۔۔۔
” ہائے کیوں نہیں ہوگی۔۔۔ میری تو دعا ہے جلد ہی یہ خوشخبری میرے کانوں کو نصیب ہو “ دادی نے آس بھرے لہجے میں کہا
” کہاں سے ہوگی؟؟؟ سارا دن تو یہ آپ سے چپکی ہوئی ہوتی ہے “ ابراز نے بلا خوف و جھجھک حجاب کو دیکھتے کہا
” بےشرم۔۔۔ شرم حیا نہیں ہے تجھ میں اس طرح بات کرتے ہیں دادو سے؟؟ دادو نے اس کے کندھے پر ایک تھپڑ رسید کیا جسکا اس پر کوئی اثر نہ ہوا
” دادو دادا نے کی تھی شرم و حیا “ ابراز نے بھی حساب پورا کیا
” چل بےشرم “ دادی نے عینک درست کر کے منہ دوسری طرف کر لیا ابراز انکی ادائیں دیکھتا رہا
” دادو یہ کب سے نماز پڑھ رہی ہے؟؟ “ ابراز نے بےزار ہوکر پوچھا جو رکوح میں بھی کوئی تین چار منٹ بعد جھکتی
” بیس منٹ ہوگے۔۔۔ “
” بیس منٹ میں تو امام بھی نماز پڑھا کر فارغ کردیتا۔۔۔ یہ کونسی نماز پڑھ رہی ہے؟؟ “ بیس کا سن کر اسے شدید دھچکا لگا وہ جان چکا تھا حجاب میڈم نماز پڑھ کے فارغ ہو چکی ہیں یہ صرف اس سے بچنے کا اک بہانہ ہے۔
” عشاء “ دادی نے دھیمی آواز میں کہا
” مجھے دیکھ کر طویل کردی ہوگی۔۔۔۔ اب یہ فجر کی نماز پڑھ کے اٹھے گی “ وہ غصّہ ضبط کر گیا۔ ورنہ دل تو چاہا رہا تھا دادو کی پروا کے بغیر گودمیں اٹھا لے جائے
” اس سے پہلے تہجد بھی ہے “ دادی کی بات سن کر وہ سر تھام کر رہ گیا
” دادو ان میڈم نے عشاء تہجد سب آج ہی پڑھنا
انفکٹ قضا نمازیں بھی آج کے لیے سوچ بیٹھی ہوگی یہ نہیں اٹھنے والی آج “
اونچی آواز میں وہ اس پر طنز کر گیا۔۔۔ مزید دو منٹ بعد جب وہ سلام کر کے دوبارہ نیت کرنے لگی تو ابراز سے برداشت نہ ہوا۔۔۔۔۔۔
” حجاب تاثیر آپ کے لیے ترس رہے ہیں کچھ تو نظرِکرم کرو اس معصوم پر “ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا معصومیت سے بولا۔۔ حجاب جو کب سے اسکی بکواس برداشت کر رہی تھی تپ اٹھی لیکن ان سنا کرتی رہی۔۔۔۔۔
” تنگ نہ کر نماز پڑھنے دے “ دادی نے ٹوکا
” تنگ کرنے کا موقع ہی کہاں دیتی ہے “ حجاب کو اسکی نظریں ہڈیوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھیں۔ جو اس پر سے نظریں ہٹانا تو جانتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
” دل ہی دل میں گالیاں دے رہی ہوگی “ وہ اسکے لرزتے ہاتھوں کی کیفیت سے محفوظ ہوتا مسکرایا
” تیری طرح نہیں ہے معصوم ہے گالیاں آتی بھی نہیں ہونگی “
دادو نے غصے سے جواب دیا
” معصوم ؟؟ اس سے تو شیطان بھی پناہ مانگے “
ابراز کو پہلی بار اسکا تھپڑ یاد آتے غصّہ نہیں آیا بلکہ خود بخود اسکے ہونٹوں پر ہلکی سے مسکراہٹ رینگی۔
” وہ تو تجھ سے بھی مانگتا ہے “ دادی بھی کم نہیں تھیں ابراز کے ہر سوال کا جواب حاضر تھا۔۔ ابراز تو صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا دادی نے کیا کہا اسکا دماغ حاضر ہی کہاں تھا وہ تو بس اس دشمن جاں کو تکے جا رہا تھا جسے اسکی کوئی پروا نہیں۔۔۔۔۔
” نماز کا پتا ہے شوہر کے حقوق نہیں پتا؟؟ صحیح کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہےسنا تھا آج دیکھ بھی لیا بیگم صاحبہ سب کو لیکچر دیتی پھرتی ہیں خود کا ٹائم آئے تو اندھی گونگی بہری بن جاتی ہیں۔۔۔ “ ابراز نے آخری تیر نشانے پر لگایا وہ جانتا تھا حجاب تاثیر اپنا نام سن کر بھپری شیرنی بن جائے گی، آخر جواب دیے بنا اور اپنا نقصان کیے بغیر حجاب تاثیر کو نیند ہی کہا آتی ہے۔۔۔
” آرہے ہیں سرکار ہمارے۔۔۔ “ اسے سلام پھیرتا دیکھ وہ با آواز بلند بولا حجاب نے سلام پھیر کر اسے دل ہی دل میں خوب سنائی۔۔۔
” دادو میری نفلی نماز رہتی تھی وہی پڑھ رہی تھی “ حجاب نے ایک تیز نظر سے ابراز کو نوازا
” اب روم میں چلو عبادت کر کے اللہ‎ کو خوش کردیا اب ذرا اپنے مزاجِ خدا کو بھی خوش کرو۔۔۔۔ “ وہ اسے جائےنماز تہ کرتے دیکھ اٹھ چکا تھا اب حجاب کا ہاتھ پکڑے وہ حکمیہ انداز میں بولا
” مجھے کہیں نہیں جانا میں دادی کے پاس سوؤنگی “ حجاب اس کے ہاتھ پکڑنے سے خوفزدہ ہوگئی۔۔۔۔ جبکے ابراز نے اسکا جواب سن کر گرفت سخت کر لی۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ بولتا دادی بولیں۔۔۔
” حجاب بیٹے اس طرح شوہر کے جائز حقوق سے انکار نہیں کرتے۔۔ فرشتے ساری رات بددعائیں دیتے ہیں جانتی ہو اللہ‎ کے نزدیک سب سے پسندیدہ شوہر بیوی کا رشتہ ہے کیوں کہ یہ واحد رشتہ ہے جس میں علیحدگی ہوتی ہے۔۔۔ نہ ماں باپ سے رشتہ ٹوٹتا نہ بہن بھائی سے لیکن میاں بیوی کا جتنا رشتہ نازک ہے اتنا نبھانا مشکل ہے۔۔ جب شوہر بلائے تو حکم ہے بیوی سارے کام چھوڑ کے اسکا کہا پہلے مانے۔۔۔اب آپ کا نکاح ہو چکا ہے اور شوہر کا کمرہ ہی آپ کا اپنا ہے۔۔ اور شوہر کے حقوق آپ پر فرض۔۔۔ “ دادی نے پیار سے حجاب کو سمجھایا اسکی کیفیت سے وہ واقف تھیں۔۔۔۔جبکے حجاب کا جہاں منہ لٹکا وہیں دل میں خوف جگا اور ابراز انکی تفصیل سن کر جی جان سے فدا ہوگیا۔۔۔۔
” دادو روز آپ کے پاس ایک گھنٹہ چھوڑ جاؤنگا اسی طرح بس شوہر کے حقوق بتانا خبردار دادی جو فرائض بتائے ویسے ہی کم دماغ خراب کرتی ہے۔۔۔ اچھا دادو اپنی بیوی کو لے جا رہا ہوں جلد ہی آپ کو گڈ نیوز دونگا۔۔۔ “وہ بلا خوف و شرم دادی سے کہہ کر اسے اپنے ساتھ کھینچتا لے گیا۔۔۔۔۔

                      ☆.............☆.............☆

ابراز نے کمرے کا دروازہ لات مار کے بند کیا اور حجاب جسے اس نے قندھے پر اٹھا رکھا تھا بیڈ پر پٹکا۔۔۔۔
” جاہل انسان، بے شرم گھٹیا، کافر۔۔۔ “ وہ دادو کے روم سے نکلتے ہی چیخنے لگی تھی ساتھ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی بھرپور کوشش میں تھی ابراز نے تنگ آکر اسے اپنے قندھے پر اٹھا لیا لیکن کمرے میں آتے ہی وہ پھر سے اپنی زبان سے مسلسل اس پر وار کر رہی تھی۔۔۔
” جتنا بولنا ہے بولو پارسا بی بی انفکٹ گالیاں دینی ہے وہ بھی دو آئ ڈونٹ کیئر۔۔۔۔۔۔ آج تمہارا رونا بلکنا بھی مجھے روک نہیں سکتا۔۔۔۔ دادی کے روم میں جانے کی جو حرکت تم نے کی وہ معافی کے قابل نہیں۔۔۔ “ دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھ کے وہ اس پر جھکتے ہوئے قہر آلودہ نظروں سے نوازتا سخت لہجے میں بولا۔ حجاب کی آنکھیں خوف سے پوری کھل گئیں وہ اسکی بات کا مفہوم صاف سمجھ گئی آج وہ اسکی نہیں سنے والا۔۔۔۔۔
” تم نے مجھے نکالا تھا۔۔۔ اور بےعزت کیا تھا سب کے سامنے “
حجاب اس سے خوفزدہ ہوتی اتنی دھیرے سے بولی کے بمشکل وہ سن پایا لہجے میں بچوں سے معصومیت تھی اور آنکھوں میں ہلکی سے نمی۔۔۔۔
” اور تم نے جو مجھے درس دیا تھا اُسکا کیا؟؟ “
سرد لہجے میں وہ اسے کیفیٹیریا والا واقع یاد دلا گیا
” وہ تم ڈیزو کرتے تھے “ وہ ہلکی آواز میں بڑبڑائی لیکن ابراز کو اسکی بربراہٹ صاف سنائی دی
” حجاب تاثیر۔۔۔۔ تم۔۔۔ تم نے مجھے پاگل کیا تھا۔۔۔۔ پل پل میری اجازت کے بغیر میری سوچوں پر قابض رہیں۔۔۔ تمہارے ساتھ چاہ کر بھی میں کچھ بُرا نہ کر سگا لیکن تم تم نے خود اپنے ساتھ بُرا کیا۔۔ اپنی بربادی کی تم خود زمیدار ہو۔۔۔ مجھے بھی کوئی افسوس نہیں لیکن۔۔۔۔۔ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔۔۔ ساری زندگی کے لئے۔۔۔۔۔ تم دیکھو گی ابراز حیات کیسے اپنی بیوی کو عزت دیتا ہے۔۔۔۔۔ “ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے جہاں اپنے دل کا حال بتا گیا وہیں اُسے اپنی اُس عزت سے نوازا جو ابراز کے غصّے میں وہ سب کی نظروں میں کھو چکی تھی۔۔ حجاب نے کوئی جواب نہ دیا نظریں پھیر لیں۔۔ اسکا دل کسی بلی کے بچے کی طرح کانپ رہا تھا کیوں کے ابراز اس پر جھکا کھڑا تھا جسکی وجہ سے وہ بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ ابراز نے ہاتھ بڑھا کر ہلکا سا اسکا گال چوھا۔۔۔
” نہیں “ حجاب تیر کی تیزی سے پیچھے ہوتی چلائی
” حجاب۔۔۔ تم مجھے روک نہیں سکتیں “ غصّے میں اسکی دماغ کی نظریں تک واضع تھیں۔ ابراز نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ پر رکھا اسکا ہاتھ تھامنا چاہا کے حجاب چلائی۔۔۔
” نفرت ہے تم سے تم آئے نہ قریب میں تمہیں بددعائیں دے دے کر مار دونگی۔۔۔۔ “ ابراز نے ایک نہ سنی پاس بیٹھ کر سختی سے اسکا ہاتھ تھما ” اب باکو۔۔۔ “
” دیکھو پلیز میرے قریب نہیں آنا۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ تم نشئی ہو دور رہو مجھ سے کرائیت آتی ہے تم سے۔۔۔۔ “ وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے ابراز کے ہاتھوں پر ناخن سے کھروجتے چیخی۔۔۔۔ ابراز اسکا لمحہ با لمحہ بڑھتا پاگل پن دیکھتا رہا جو مزید اسے غصّہ دلا گیا۔۔
” تم نے کہا تھا نہ حرام رشتے بناتا ہوں آج حلال بناؤں گا۔۔۔ تم حجاب تاثیر میری نہ محبت کے قابل ہو نہ نفرت نجانے کیوں چاہ کر بھی نہ تمہیں ذہن سے نکال سکتا ہوں نہ نفرت کر سکتا۔۔۔۔ لیکن آج اس ہلال کا مزہ ضرور چھکونگا۔۔۔۔۔ آخر تمہارا حق بھی تو دینا ہے۔۔۔ “ وہ سفاکی سے ہنسا، سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے اس نے حجاب کو اپنے حصار میں لیا اور روم کو روشن کرتی لیمپ کی ہلکی روشنی بھی بھجا دی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ا