Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
وہ بھی کسی بےبس پرندنے کی طرح پھڑپھڑاتا ہوا بےچینی سے یہاں سے وہاں چکر لگاتے اُسے ہی سوچ رہا تھا کتنا ڈری ہوئی تھی وہ صبح سےاندر تک نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔
” وہ میری آنکھیں نکالیں گے نہ؟؟ کہیں انجیکشن تو نہیں لگائیں گئے آنکھوں میں۔۔۔ مجھے نہیں جانا پلیز مجھے نہیں کرانا۔۔۔ میں۔۔۔ ایسے۔۔۔سہی ہوں۔۔۔ اب تھو۔۔۔تھوڑا سمجھنے بھی لگی ہوں می۔۔ میں رہ۔۔ لونگی۔۔۔ “ ابراز کے کانوں میں حجاب کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔ وہ اسکا ہاتھ سختی سے پکڑے رو رہی تھی اسے باہر جانے نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
” حجاب مجھے کسی سے امید نہیں ڈاکٹر سے بھی نہیں بس یقین ہے، امید ہے تو اپنے اللہ سے تمہیں ٹھیک ہونا ہے احتشام اور پرنیا کے لئے میرے لئے۔۔ انھیں اپنی ہنسی مسکراتی دنیا سے آشنا کراتی اپنی وہی ممّا چاہیے جو انکی ہر وقت حفاظت کرتی ہے۔۔۔ پلیز حجاب رونا نہیں۔۔۔ تم اپنا نہیں میرا نقصان کر رہی ہو میں ساری زندگی اس گلٹ میں سڑتا رہونگا۔۔۔ “ ابراز نے اسکے آنسوؤں پونچھتے ہوے ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھاما اور لب اسکی پیشانی پر رکھے۔۔۔۔ کتنی ہی دیر وہ اسکے کندھے پر سر رکھے روتی رہی۔۔۔
ابھی بھی اسے حجاب کا لمس اپنے کندھے پر محسوس ہوا بےساختہ ہاتھ وہاں آکر ٹھر سا گیا۔۔۔۔ وہ جتنا سمنبھال لے خود کو۔۔ لیکن یہ ڈر اسکے دماغ سے نہیں جا رہا تھا ڈاکٹر کی وہ آخری بات بار بار اسکے ذہن میں ہتھوڑے کی مانند لگا رہی تھی جسے جانتے ہوے بھی ابراز آپریشن سے نہ رکا۔۔۔
” بہت پوسیبلٹیز ہیں جس طرح عام دوائی بھی کوئی نہ کوئی سائیڈ افیکٹ چھوڑتی ہے اُسی طرح یہ آپریشن بھی خطرناک ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے مس حجاب کی آئیسائیڈ ویک ہو سکتی ہے ہوسکتا ہے وہ دیکھنے لگیں لیکن یہ بھی ہے کے میموری لوس ہوجائے۔۔۔ بلرڈ ویچن یعنی دھندلا عکس دکھے لیکن خدا کی مرضی رہی تو ساری زندگی وہ پہلے کی طرح گزار سکتی ہیں۔۔ اور ایک بات مسٹر حیات ہمارا کام ہے مریض کی فیملی کو آگاہ کرنا دماغ آپ کے جسم کا وہ حصہ ہے جو آپ کی پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے اگر۔۔۔ کوئی بھی وین کو دوبارہ خطرہ پہنچا تو مے بی آپ کی بیوی۔۔۔۔ اسٹیبل نہ رہ سکیں۔۔ لیکن یہ بہت کم کیسز میں ہوتا نہ کے برابر کوئی مشکل سے دو پرسنٹ کیسز میں یہ دیکھا گیا ہے۔۔
میرے کرب بےبسی کی انتہا دیکھیں وہ میری شہ رگ سے قریب ہے اور میں اُس کی اذیت کو محسوس تک نہیں کرسکتا جس پر گزری ہے وہی اُس نعمت کی کمی محسوس کر سکتا ہے۔۔۔ اسکو روتا ہوا دیکھا ہے،،، بےبس بنا دیکھا ہے جب وہ سیڑھیوں سے گری ۔۔۔ چلتے چلتے جب کانچ اُسکے پیر میں چُبا۔۔ جب پسندیدہ لوازمات ہوتے ہوے بھی وہ اٹھا نہیں سکتی۔۔۔ اپنا ہاتھ جلاتی گھنٹوں میری موجودگی نہ محسوس کر کے روتی رہتی۔۔۔۔ یہ ضروری تھا۔۔ میں اُسے کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں زندگی کی ہر راہ میں ہر طنز و طعنہ سے بچانا چاہتا ہوں وہ کہتی ہے دنیا کی فکر نہیں لیکن حقیقت میں انہی کی سوچ کو وہ اپنی سوچوں میں آباد کیے ہوے ہے۔۔۔۔ وہ میری طرح نہیں ابھی وقت ہے اُسکی سوچ میری سوچ ایک ہونے میں سب ایک دم سے نہیں ہوتا لیکن۔۔۔ دنیا کی سوچ اُسے نگل لیگی اور یہی سوچ مجھے نگل رہی ہے۔۔۔۔ اے میرے مولا میں فقیر بن کر آیا ہوں تیری دربار میں۔۔ میرے معصوم بچوں کی سن لے اُسے پہلے جیسا کردے۔۔۔۔ بس تو ہی کرسکتا۔۔۔۔تو ہی کرسکتا۔۔۔۔۔ “ دیوار سے ٹیک لگائے وہ کھڑا تھا آتے جاتے لوگ ایک نظر اسے دیکھتے جسکی لبوں کی جنبش کسی اپنے کے لئے دعاگو تھی۔۔۔
” ڈیڈ۔۔۔ “ احتشام کی آواز سنتے ہی اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
” ول مما ایبل ٹو سی آگین؟؟ “
” یس۔۔۔ “ ابراز نے جھک کر سختی سے اسے خود میں بھینچا۔۔
اس سوال کا جواب تو اسکے پاس بھی نہیں تھا بس امید ہی تھی جس پر وہ قائم تھا۔ پرنیا اپنے نانا نانی کے پاس تھی لیکن احتشام کو ابراز اپنے ساتھ دبئی لے آیا کیوں کے احتشام حجاب کی پل بھر کی کمی محسوس کر کے آج کل نجانے کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے لگا جاتا اور یہ تب سے تھا جب سے ابراز نے دونوں کو ماں کی کنڈیشن سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔
” مسٹر حیات۔۔۔ کونگرٹس مین آپریشن کامیاب رہا۔۔۔ “
تیزی سے ڈاکٹر اپنا کوٹ ہاتھ میں لئے باہر آئے اور ابراز کے کانوں میں زندگی کی نوید سنائی۔۔۔
” ڈاکٹر حجاب۔۔۔ وہ کیسی ہے؟؟؟ “ احتشام کو وہیں چھوڑے وہ بےتابی سے ڈاکٹر سے پوچھ کر اندر بڑھنے لگا کے ڈاکٹر کی بات پر اسے رکنا پڑا۔۔
” شی از فائن لیکن ابھی ہی اسکا ٹیسٹ کیا ہے اسے آرام کی ضرورت ہے ایک دو گھنٹے تک ڈسٹرب نہ کریں تو بہتر ہے۔۔ “
ڈاکٹر نے ابراز کی حرکت دیکھتے ہوے کہا جو اندر جانے کے لئے بےتاب تھا۔۔
” تھنک یو ڈاکٹر۔۔۔۔ یو سیوڈ مائے لائف۔۔۔ “ ابراز کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا۔۔ ساتھ اندر جانے کا ارادہ بھی ترک کردیا۔۔
” مسٹر حیات۔۔۔ یہ آگے چل کر پتا لگے گا جب آپ دونوں اس کامیاب آپریشن کی قدر کریں گئے۔۔۔ مسز ابراز کو میں خود ھدایت دونگا کس چیز کا استعمال انکی آنکھوں کی بینائی پر واپس افیکٹ کر سکتا ہے۔۔ میری محنت چھ ماہ بعد پتا لگے گی جب آپ واپس انھیں چیک اپ کے لئے لائیں گئے۔۔۔ “ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوے خود کو ہر الزام سے بری کیا ابراز کے ہونٹ پہلی دفع اس سریس کنڈیشن میں مسکراے تھے۔ ابراز ڈاکٹر کے جانے کے بعد احتشام کو لیکر وہیں بینچ پر بیٹھ گیا اور پاکستان کال کر کے سب کو یہ گڈ نیوز دی۔۔۔
☆.............☆.............☆
” کاش وہ کہیں سے میرے سامنے آجائے۔۔ میری یہ بےچینی میرا سکون واپس لوٹا دے۔۔ بس معافی دے دے۔۔ “
لفظ با لفظ سنتا وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔ تنہائی کی پیاس ان آنکھوں سے بھجاتا وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جبکے حجاب ساکت نظروں سے ان سرخ آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جو اسکی بےچینی کا لمحہ لمحہ بیان کر رہی تھیں۔۔۔۔
” مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا۔۔ “ ساکت لبوں نے جنبش کی ابراز نے پلک تک نا جھپکائی شاید ابھی بھی اس بینائی کا یقین نہ تھا یقین بے یقینی کے عالَم میں کھویا کھویا سا وہ بولا
” کرلو۔۔ “ یک ٹک اسے دیکھے وہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا حجاب کو اسکی نظریں اور لہجہ عجیب سا لگا۔۔
” ابراز۔۔۔ “ حجاب کے لہجہ میں بچوں کی سی معصومیت در آئی ابراز کا آج اسے وہی روپ دکھ رہا تھا جس نے اسکی گردن کو چاقو سی کاٹنا چاہا تھا۔۔۔
” پہلی دفع نام لیا اور ایسے موقعے پر لیا جہاں میں کوئی محبت بھری سر گوشی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔“ وہ بیڈ پر دونوں بازو دائیں بائیں رکھ کے اسکی طرف جھکتا ہوا سنجیدگی سے بولا حجاب کو وہ آج پریشان کر رہا تھا۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ وہ چہرہ۔۔۔ جو بند آنکھوں اور کُھلنے کے بعد اسکے ذہن پر ایسا اثر کر گیا کے سانس لینا تک گناہ لگ رہا تھا۔۔۔
” میں۔۔۔ میں۔۔بہت ڈر۔۔۔گئی۔۔ تھی۔۔۔ ابراز بہت۔۔۔ مجھے اس شخص کی خاموشی کھا گئی۔۔ میں۔۔۔ نے کبھی انسان کی خاموشی محسوس نہ کی نہ اُسکی کی مجھے نہیں پتا تھا ایک ایسا طوفان آئے گا جو سر تا پا مجھے بدل دیگا مجھے۔۔۔ “
ابراز آنکھیں سکوڑ کی اسے دیکھتا اسکے ذہن کو پڑھنا چاہتا تھا لیکن نہیں۔۔۔ اسے افسوس اِسکا نہیں کسی اور کا تھا کون ہے وہ؟؟؟؟ جبکے حجاب کی نظریں ابراز کی شرٹ پر تھیں وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی اسکے ہلتے لب اب بند ہو چکے تھے اسے جویریہ کی وہ بات یاد آئی ایک دن کہا تھا اسنے۔۔
ڈرو اللہ کی خاموشی سے۔۔۔
جہاں جہاں پر تیری غلطی ہے
ہر ایک غلطی گنوا سکتا ہوں میں
خیر
چپ رہکر بھی
تجھے تیری اوقات دیکھا سکتا ہوں۔۔۔“
اسے یاد ہے جویریہ نے اسے آگاہ کیا تھا ہر انجام بھگتنے کے لئے آگر آج وہ شخص انجام تک نہیں پہنچا رہا تو کل تیری پکڑ ضرور ہوگی نظر ہر بندے پر رکھتا ہے وہ لیکن بس وقت وقت کی بات ہے آج وقت تیری ساتھ ہے کل اُسکے بندے کے ساتھ ہوگا۔۔۔
جویریہ کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے۔ نجانے کب اسکی نم آنکھوں نے نظر اٹھا کر ابراز کا دھندھلا عکس محسوس کیا ابھی تو یہ عکس صاف تھا پھر کیوں وہ چہرہ آنکھوں کے سامنے گزرتے ہی آنکھیں نم ہوجاتیں۔۔۔۔
” میں اُسے کیسے ڈھونڈوں کیسے معافی مانگوں؟؟ “
ابراز کو دیکھتی وہ خود سی بڑبڑاہی کیا اُسکی بددعا میں اتنی طاقت تھی کے میرا سکون تک وہ لے گئی۔۔۔۔
” احساس ہوگیا نہ؟؟؟ انا ٹوٹ گئی نہ؟ جانا اُسکے پاس معافی مانگنا۔ اب کوئی طاقت تمہیں تمہارے راستے سے بھٹکا نہیں سکتی۔۔۔ لیکن حجاب تاثیر میرے ایک سوال کا جواب دیتی جانا تمہیں سب کی فکر ہے اُسکی نہیں جس کو توڑ کر آگے بڑھ گئیں؟؟؟؟ “ وہ اسکی ٹھوڑی سختی سے پکڑے سنجیدگی سے بولا حجاب پوری آنکھیں کھولے اسے تک رہی تھی یکدم چھاؤں سے نکل کر وہ تپتی دھوپ میں کیسے آکھڑی ہوئی؟؟ ابراز کی بدلتی کیفیت نے اسے دھوپ میں لاکھڑا کیا۔۔۔
” آخر تھی ہی کب میں ہی پاگل بنا پھرتا ہوں۔۔ “
خود پر ہنستا مذاق اڑاتا لہجہ اسکی ہنسی حجاب کو شدید بُری لگی۔۔۔۔
” ایسا نہیں۔۔۔ “ حجاب تڑپ اٹھی ابراز کا اجنبی لہجہ سن کر وہ کسی خوب سے بیدار ہوئی۔۔۔
” سب سے پہلے تمہارا ہی احساس ہوا تھا۔۔۔ اور اُس دن شدید ہوا تھا جب۔۔ آفس میں۔۔۔ “ حجاب نے اُسکی آنکھوں میں دیکھے نرمی سی کہا ابراز کی سرخ آنکھوں کی سرخی اسکی بات سن کر مزید بڑھ گئی۔۔۔
” بھاڑ میں گیا آفس بھاڑ میں گئی دنیا میرا بتاؤ۔۔ کیوں ریجیکٹ کیا؟؟ “ حجاب نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کے اسے خود سی دور دھکیلا جو لمحہ لمحہ اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب لاکر اسکے رہے سہے اوسان خطا کر رہا تھا۔۔
” غلطی ہوگئی۔۔۔ “ سہمی ہوئی چڑیا کی طرح وہ اسے خوف سی آنکھیں پھلائے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ساتھ بھاگنے کے جتن بھی جاری تھی۔۔
” ایسی غلطی ہوئی ہی کیوں؟؟ “ وہ چلا اٹھا اسکی دھاڑ سے حجاب پوری جان سی کانپ اٹھی اسے خود سی دور کر کے وہ تیر کی تیزی سی اٹھی اس سے پہلے کے وہ بھاگتی ابراز نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔
” نو بےبی میرے ساتھ یہ گیم نہیں۔۔ بتاؤ ایسی غلطی کی ہی کیوں؟؟؟ “ جنونی انداز میں اسے دیکھتا وہ حجاب کے اوسان خطا کر چکا تھا۔۔۔۔ اچانک حجاب کو لرزتے دیکھ ابراز کی گرفت ڈھیلی پڑھ گئی۔۔۔۔
” پتا نہیں کیسے ہوئی مجھے خود کچھ نہیں پتا۔۔ “ وہ ڈر سے تھر تھر کانپ رہی تھی ابراز کسی پر بھی غصّہ کر سکتا ہے، اسے تباہ و برباد کر سکتا ہے لیکن وہ حجاب تاثیر نہیں ہوسکتی یہ یقین تھا حجاب کا مگر آج؟؟؟ حجاب ایک ایک قدم پیچھے ہٹاتی اسکی نظروں سی اوجھل ہونا چاہتی تھی جو بےخودی کے عالم میں اسے تکے نجانے کیا کرنے والا تھا؟؟
” کبھی اس آگ میں جلی ہو؟؟؟ “ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا۔۔۔۔
” تم یاد دلاؤ گئے تو میں بات نہیں کرونگی تم سے ایک تو شرمندہ ہوں اوپر سے؟؟ “ وہ بھی غم، غصّے، ڈر سے چلا اٹھی۔۔ کیوں کے ابراز کے بڑھتے قدم اسے اس چار دیواری میں قید کر رہے تھے۔۔ اچانک حجاب کے قدم پیچھے دیوار ہونے کی وجہ سے رک گئے آنسوؤں کا پھندا اسکے گلے میں آلٹکا۔۔۔
” اس وقت کیوں نہیں ہوئی یہ شرمندگی ؟؟ “ دانت پیستے وہ گویا ہوا دائیں بائیں دیوار پر ہاتھ رکھے ایک بار پھر وہ اسے قید کر چکا تھا۔۔۔
” ابراز۔۔۔ “ حجاب نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھتے اس رویہ کی وجہ پوچھنی چاہی۔۔۔۔۔
” میرے سوال کا جواب دو۔۔ “ ابراز نے زور سے ہاتھ دیوار پر دے مارا ” آ “ حجاب کی اچانک چیخ نکلی ڈر کے مارے اس کا چہرہ سفید پڑ گیا اسے بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکالتے دیکھ کر ابراز کے غصے پر جیسے کسی نے ٹھنڈی پھوار ڈال دی ہو۔۔۔ مسکراہٹ نجانے کب ہونٹوں کو چھو کر گزر گئی۔۔
” آئ ایم سوری۔۔۔“ اس سے پہلے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ابراز نے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھاما۔۔
” نہیں رو کر خود پر ظلم نہ کرنا یہ آنکھیں۔۔۔۔ میں پھر سے تڑپنا نہیں چاہتا حجاب۔۔“ ابراز کے لفظوں نے اسکے دماغ میں جھماکہ سا کیا خود کو ضبط کی انتہاؤں پر محسوس کرتی وہ آنسوؤں روکتے روکتے ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ ابراز نے اسکی کوشش دیکھتے ایک گہری سانس لی وہ بولا تو اس کے لہجے میں تھکن واضع محسوس کی جا سکتی تھی۔
” میں نے کہا تھا نہ مجھے اپنوں کا اجنبی لہجہ تکلیف دیتا ہے میں وہاں پاگل بنا پھر رہا ہوں ایک بار بھی مجھے دیکھنے کی خوائش نہیں جاگی؟؟ پل بھر میں بھلا دیا مجھے۔۔۔ ابراز حیات تمہارے لئے کچھ نہیں؟؟ ایک چونٹی برابر اہمیت نہیں میری؟؟؟ ۔۔۔۔ “ ویران آنکھوں سے حجاب کو حفظ کرتا وہ بےچارگی سے بولا کے کاش وہ اسے جھوٹی خوشی بخش دیتی جس میں بس اسکا ذکر ہوتا ہے۔۔
”نہیں حجاب تاثیر میں نے انسانوں کے آگے جھکنا چھوڑ دیا ہے اب اور نہیں۔۔ “ کہتے ہی وہ ایک قدم پیچھے ہٹا لیکن یہ کیا؟؟؟ سکون بھرا لمس اسکے سینے پر موجود۔۔۔۔ اسکی رگ و جان کو سراہیت بخش گیا۔۔۔
” مجھے اس جگہ سے بھی ہوجاتی ہے محبت جہاں بیٹھ کر سوچھ لو تمہیں۔۔۔ کچھ محبتیں اتنی شفاف ہوتی ہیں کے انہیں خود سے ہی چھپانا پڑتا ہے کے کہیں اپنی ہی نظر نہ لگ جائے۔۔۔۔ “
وہ اسکے سینے پر سر رکھے وہ اظہار کر گئی جسکی خوائش وہ ایک عرصے سے دل میں دبائے بیٹھا تھا اور یہ الفاظ؟؟؟ کبھی بےخودی کے عالَم میں حجاب نے اظہار کیا تھا لیکن آج اسکے الفاظ اسکا لمس ابراز حیات کی وہ بچپن کی محرومی تک مٹا گیا۔۔ یہ اقرار سن کر اسکا وجود آج معتبر ہوگیا تھا پیاسی روح آج سیراب ہوگئی۔۔ آج یہ اقرار تھا اُسکا وہ اُسکی زندگی میں بھی خاص تھا وہ ” خاص “ شخص جو اسکا محرم تھا۔۔
” ایک صدی گزار دی اس ایک اقرار میں۔۔ “ کانپتا ہاتھ اسکے سر پر رکھے وہ محبت لہجے میں سموئے بےیقین نظروں سے دیوار کو تکے اسے خود میں چھپانا چاہتا تھا لیکن ان کانپتے ہاتھوں میں ہمت نہ تھی اسے سمبھال سکے۔۔ آج وہ محبت ملی تھی جو بےغرض تھی نہ وارث کا لالچ تھا نہ پیسے کا اور نہ ہی شہرت کا لالچ تھا۔۔ تھا بھی تو بس محبت کا جو ابراز حیات سے بڑھ کر حجاب تاثیر کو کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔ کوئی نہیں۔۔ کیوں کے اہمیت وہی جانتا ہے جو اُس سے محروم رہا ہو۔۔۔۔۔
” اب کیوں فری ہو رہے ہو اتنا شرمندہ کر کے سکون نہیں
آیا؟؟ “ وہ اس سے الگ ہوتی سرد لہجے میں بولی۔۔
” بلکل نہیں۔۔ “ ڈھٹائی سے جواب آیا جیسے اپنی کیے پر بلکل بھی افسوس نہ تھا۔۔
” صرف ایک بار آؤ میرے دل میں اپنی محبت دیکھنے اگر پھر لوٹنے کا ارادہ ہو تو ہم خود تمہیں چھوڑ آئیں گئے “ وہ دل پر ہاتھ رکھے ایک آنکھ دباتا حجاب کے غصّے کو مزید ہوا دے گیا وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے شعلہ باز نظروں سے اسے گھورنے لگی۔۔۔۔
” اب گھور کیوں رہی ہو بس دل کی بھڑاس نکالی میرے سامنے کسی اور کا ذکر کروگی تو ایسا ہی برتاؤ کرونگا چاہے وہ احتشام کا ذکر ہو یا پرنیا۔۔۔ “ وہ بھی سرد گھوری سے نوازتا اسے وارننگ دے گیا۔۔۔۔
” اُس دن جب میرا گلا کاٹنے کے خوائش مند تھے تب یہ محبت کہاں تھی؟؟ “ ابرو اچکا کے سوال کیا گیا ہسپتال کی خاموش فضا میں فلک شفاف قہقا گونجا۔۔۔۔
” بےبی غصّہ آئے گا سن کر لیکن اُس وقت میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تھا بس درد ایسا ملا تھا کے اگر غصّہ نہ نکالتا کل صبح میرے ہارٹ اٹیک کی خبر نیوز پپرز کی شان بنی ہوئی ہوتی۔۔۔ “
” جھوٹے مکار دھوکے باز۔۔۔۔۔ “ وہ اسکے سینے پر لاتعداد مُقے برساتی ابھی تک شاک کی کیفیت میں مبتلا تھی ابراز نے اسے بیوقوف بنایا؟؟ ڈرایا دھمکایا عزت افزائی کی مرغی تک بنانے چلا تھا وہ اسے؟؟؟ وہ روتی شکل بنا کر آنسوں پیتی بےبسی کی تصویر بنی کھڑی تھی جبکے ابراز ہنستا ہوا ڈھٹائی سے اسکی حالت سے محفوظ ہوتا یہ پل بھی انجوائے کر رہا تھا۔۔
” اچھا یہ بتاؤ ایسا کیا کیا ہے جو معافی مانگنی ہے؟؟ ۔۔ “ جب وہ تھک کر روٹھی ہوئی ہسپتال کے بیڈ پر آبیٹھی تو ابراز نے پاس بیٹھتے پوچھا۔۔
” نہ پوچھو مجھ سے نفرت ہوجاے گی۔۔ “ سوال ہی ایسا تھا کے وہ غصّہ بھلا کر شرمندہ سی نظریں جھکا گی۔۔۔
” وہ تو کبھی نہیں ہو سکتی۔۔ جہاں میری حد ختم ہوتی ہے وہاں آزمایا ہے تم نے پھر بھی دیکھو تمہارے سامنے ہوں۔۔ “ ابراز نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے کہا جبکے حجاب نے طنز سمجھ کر غصّے سے دانت پیستے اسکا نام پکارا۔۔۔
” ابراز “
” یس بےبی۔۔ “ مسکراتی آنکھیں اور یہ ہونٹوں کی مسکراہٹ اسکے دل کا حال بیان کر رہیں تھیں آج وہ بہت خوش تھا حجاب اپنی بات بھول کر اسے دیکھنے لگی تبھی ابراز نے اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی ” بےبی اتنی محبت نہ کرو ابھی اقرار کے صدمے سے باہر نہیں آیا اور اف یہ ادائیں۔۔ “ اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے وہ اسے چھیڑ رہا تھا اور حسب تواقع وہ چڑ گئی۔۔۔
” گیٹ لوسٹ۔۔ “ حجاب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور دھکیلا۔۔۔۔
” جو بھی بس تمہارے ساتھ۔۔۔ “ ابراز نے اسکی کوشش پر ہنستے ہوے اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیکر اسکی آنکھوں پر لب رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس خوشی کو حجاب کے اقرار سے خاص بنانا چاہتا تھا آج کا دن میرے لئے ہر دن سے بہتر خوبصورت اور پر سکون تھا کیوں کے آج وہ پھر مہربان ہوا مجھ پر ہمیشہ کی طرح۔۔۔ وہ میرا ایمان اتنا پکّا کر چکا ہے کے لگتا ہے موت کے وقت بھی کوئی یاد رہے نہ رہے میرا اللہ مجھے یاد رہے گا۔۔۔۔۔
بند آنکھوں سے ابراز نے دل کی آواز پر لبیک کہا ہونٹوں پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ آن ٹھری۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
ابراز احتشام اور حجاب کے ساتھ گھر لوٹا تو پرنیا کا رو رو کر بُرا حال تھا حجاب کے آپریشن کی وجہ سے کسی نے اسے اطلاع ہی نہیں دی ابراز کو خود پر سخت غصّہ آیا کاش وہ اسے لیجاتا کم سے کم نظروں کے سامنے تو ہوتی اب وہ اس سے ناراض بخار میں پھنک رہی تھی۔۔۔
” مائے ڈول آئ ایم سوری۔۔۔ “ ابراز نے جھک کر اسکے گال پر بوسہ دیا بخار کی وجہ سے پرنیا کا چہرہ بلکل مرجھا سا گیا تھا گال بخار کی شدت سے تپ رہے تھے۔۔ پرنیا ابراز کو دیکھتے ہی چادر تان کر رخ موڑ گئی صاف ناراضگی کا اظہار تھا۔۔۔
” ڈیڈ سے ناراضگی یعنی اب رو کر منانا پڑے گا؟؟ “ ابراز پرنیا کے پاس بیٹھتا اس سے پہلے حجاب عجلت میں تاثیر صاحب اور آمنہ کے ساتھ کمرے میں آئی۔۔۔
” امی آپ نے بتایا کیوں نہیں مجھے۔۔۔ اسکی حالت دیکھیں۔۔ “
حجاب پرنیا کے ساتھ ہی لیٹ گئی اسے خود میں بھینچ کر وہ اس وقت دنیا سے بےنیاز بس پرنیا کی ٹینشن میں گل رہی تھی جہاں حجاب کو اپنی بیٹی کی فکر کھائے جا رہی تھی وہیں آمنہ کو حجاب کی جسے ڈاکٹر نے سختی سے آرام کرنے کو کہا تھا آمنہ حجاب کے پاس بیٹھ کر اسکا سر سہلانے لگیں جو اپنی بیٹی پرنیا کو خود میں بھنچے اسکی کمر تھپک رہی تھی تاثیر صاحب اور ابراز بیک وقت یہ منظر دیکھ کر مسکراے۔۔ اولاد کے غم میں دونوں مائیں فکر مند تھیں بس فرق اتنا تھا ایک دوسرے سے انجان اپنی اپنی فکر میں تھیں۔۔ ابراز حجاب کو آتے ہی یہاں لے آیا جہاں آپریشن کی کامیابی پر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں اسامہ تک کو آج ابراز نے پہلی دفع روتے ہوے دیکھا تھا۔ گھر آتے ہی جب ابراز کو پرنیا کا پتا چلا وہ دوڑتا ہوا یہاں آیا تھا لیکن اسکی طرح آمنہ نے حجاب کو بھی بتا دیا اور آج واقعی ایک بات سمجھ آئی باپ کا چاہے کتنا ہی اونچا مقام کیوں نہ ہو لیکن ماں سے مقابلہ نہیں پرنیا اس سے ناراض تھی جب کے حجاب کے ساتھ وہ سارے غم، غصّہ بھلا کر اس سے لپٹ کر سوگی۔۔۔
کیا وہ خود بھی باپ کے نہیں ماں کے غم میں اس دنیا میں تنہا رہ گیا؟؟؟ وہ کافی دیر اس بات پر غور کرتا رہا پھر سوچوں کو جھٹک کر شام کو ہی تینوں کو اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ آج جب حجاب سے گلے ملنے کے بعد فبیحہ نے ابراز کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو وہ پیچھے نہ ہٹا نجانے کیوں احترام میں وہ حجاب کی طرح انکے آگے جھکا تھا اور انہیں حیران پریشان چھوڑ کر پرنیا کو اٹھائے اپنے کمرے میں آگیا جو اب کچھ بہتر تھی بخار کی شدت میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔۔۔۔
” کیا ہوا میری جان کو “ ابراز واشروم میں فریش ہونے گیا تھا کے فبیحہ احتشام سے پرنیا کا سن کر اوپر چلی آئی۔۔ پرنیا کا سر اپنی گودھ میں رکھے وہ اسکے بال سہلا رہی تھی۔۔۔
” آنٹی آپ آرام سے بیڈ پر بیٹھیں۔۔۔ “ حجاب جو بالکنی میں آکر گارڈن کی طرف نظریں جمائے کھڑی تھی اس نے سنا تھا صبح صبح گرینری دیکھنے سے بھی آنکھوں کی روشنی تیز ہوتی ہے اسلئے وہ بالکنی میں چلی آئی لیکن دروازہ بند ہونے کی آواز پر کمرے میں آئی اور فبیحہ کو دیکھ کر احترام سے اسے پیش کش کی۔۔۔
” نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔ آئ ایم سو ہپی فور یو حجاب ۔۔۔ پتا ہے تم لوگ یہاں نہیں ہوتے تو یہ تنہائی مجھے کاٹتی
ہے۔۔۔ “ خوشی سے کہتے آخر میں وہ غم زدہ ہوگئیں۔۔۔
” آنٹی اب نہیں جائیں گئے انشااللہ بس وہ ایکسیڈنٹ۔۔ “ حجاب کہتے کہتے لب کاٹنے لگی جیسے ساری غلطی اسکی تھی۔۔۔
” تم لوگ کبھی اتنے دن دور نہیں رہے نہ تبھی اور کل تو گھر میں کوئی تھا ہی نہیں بہت یاد آرہی تھی پرنیا اور احتشام کی “ فبیحہ کی آنکھیں رات جگے کا پیغام دے رہی تھیں۔ اس نے جھک کر پرنیا کی پیشانی پر بوسہ دیا تبھی ابراز ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا فبیحہ کو اس طرح دیکھ ابراز کو عجیب سا لگ رہا تھا اسے یاد ہے وہ پہلے پہر پھر بھی اسکے کمرے میں آجاتی تھیں لیکن حجاب کے آنے کا بعد ابراز نے انہیں اوپر آتے تک نہ دیکھا۔۔۔ فبیحہ کو اپنا آپ یہاں عجیب سا لگ رہا تھا وہ اٹھنے لگی کے پرنیا کی آواز نے انہیں رُکنے پر مجبور کردیا۔۔۔
” موم ڈونٹ گو اینی ویر “ ابراز کی دیکھا دیکھی احتشام اور پرنیا بھی فبیحہ کو موم ہی کہتے۔ فبیحہ کا لمس شاید پرنیا کو سکون بخش رہا تھا اپنوں کے پاس ہونے کا احساس دلا رہا تھا تبھی اسکا لہجہ التجا کرتا تھا۔۔۔۔ ابراز خود ہی الماری سے شرٹ نکال کر روم سے نکل گیا فبیحہ وہیں بیٹھی رہی جبکے حجاب ابراز کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔
” تم سو جاؤ۔۔ “ وہ تیزی سے اپنی شرٹ کے بٹن کرتا اسٹڈی روم کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں آج اسے ایک فائل کا مطالع کرنا تھا۔ دوسری کمپنی سے ڈیلنگ کرنے سے پہلے وہ انکی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اسٹڈی کرنا چاہتا تھا۔۔
” نیند نہیں آرہی “ وہ اسکے ساتھ چلتی اس سے کہہ رہی تھی۔
” نہیں آرہی پھر بھی آنکھیں بند کر کے سونے کی ایکٹنگ کرو تمہارے لئے یہ ضروری ہے۔۔ “ اسٹڈی روم کا دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوا اسکی تقلید میں حجاب بھی اسکے پیچھے آئی۔۔
” ایک بات پوچھوں؟ “ وہ اب کرسی پر بیٹھا سامنے رکھی دونوں فائلز میں سے مطلوبہ فائل چیک کر رہا تھا۔۔۔
” نہیں۔۔ “ وہی عام سا انداز جو صاف بےنیازی ظاہر کر رہا تھا۔۔
” کس سے بھاگ رہے ہو؟؟ “ حجاب نے کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھا جو اب نظریں چُرا رہا تھا سیٹ کی پشت پر سر رکھے وہ اپنے اندر کی جلتی آگ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے آج حجاب ہوا دے رہے تھی۔۔۔
” آج تک بھاگا ہوں۔۔ “ وہ آنکھیں کھولے حجاب کی طرف چہرے کا رخ کیے پوچھ رہا تھا۔۔
” ابراز بس ایک سوال۔۔ “ حجاب کے لہجے میں التجا تھا ابراز اسکے سوالوں سے ہی تو بچنا چاہتا تھا تبھی بےنیاز بنا بیٹھا تھا۔۔۔
” تم جا سکتی ہو۔۔ “ اب کے وہ سرد لہجے میں بولا۔
” تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو؟؟ “ حجاب بےیقینی سے آنکھیں پھلائے اسے دیکھ رہی تھی کہاں امید تھی ابراز کے اس جواب کی؟ لہجے کی؟؟
” ہاں کیوں کے جسکے حق میں تم بولنے والی ہو۔۔۔۔ میں انکے لئے کچھ نہیں سننا چاہتا بہت مشکل سے بےحسی کا لباد اوڑھا ہے تم پل بھر میں ختم نہیں کر سکتیں۔۔ “ وہ کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ سنجیدہ لب و لہجے میں بولکر وہ ایک پل کو حجاب کو ڈرا گیا۔ لکین حجاب اپنی اہمیت جانتے ہوے اب ان سرد لہجوں کی عادی ہو چکی تھی۔۔۔
” کیوں اوڑھا ہے “ آنکھیں سکوڑ کر وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے تشویش زدہ نظروں سے اسے گھورتے پوچھ رہی تھی ابراز کا دل چاہا دو لگاے جب تہہ ہے وہ اسے مر کے بھی بتانے والا نہیں پھر یہ ضد کیوں؟؟ وہ آخری سانسوں تک یہ راز اپنے دل میں دفن کیے جائے گا اس بات کا پکا ارادہ رکھتا ہے وہ۔۔۔
“ Beause i was born as a normal child but this cruel world ruined my innocence my childhood and further they were going to ruin my future too but it was Allah who saved me every single time even Allah saved me from myself because i am my worst enemy just beacause of them ”
وہ اسے دونوں کندھوں سے تھامے چٹان کو مات دیتے سرد لہجے میں بولا آخر میں دروازے کی طرف انگلی کرتے وہ دانت پیستے کے رہ گیا اشارہ دروازہ سے اُس پار اپنے ماں باب پر تھا۔۔۔ بے شک باپ نے نشے کے عالَم میں اسے شراب کی لت لگائی لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کیوں اسے ترک نہ کیا؟؟ کیا وہ دودھ پیتا بچہ تھا جو خود کو سدھار نہ سکا جوانی میں غلط کاموں کے بجائے سب کچھ جانتے ہوے سب کے انجام دیکھنے کے بعد بھی کیوں اللہ سے بھاگتا رہا؟؟ بار بار وہ اسے بلاتا رہا لیکن جب ” مکافات عمل “ خود پر آیا کیسے دوڑتا ہوا وہ مسجد جا پہنچا۔۔۔
” ابراز دنیا میں ماں باپ ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کے لئے احساس رکھتی ہے تمہاری فکر ماں باپ سے زیادہ کوئی نہیں کر سکتا نہ ان سے بڑھ کے کوئی چاہ سکتا۔۔ کیا تمہیں محبت نہیں دی؟؟ وقت نہیں دیا؟؟ ضرورت کے وقت منہ موڑ گئے؟؟ نہیں نہ آج پھر جب انھیں تمہاری ضرورت ہے تو پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو؟ اپنی فرض سے کیوں بھاگ رہے ہو جانتے ہو ماں باپ کی نافرمانی اپنی آخرت خراب کرنا ہے پتا ہے اگر تم ستر سال خانہ کعبہ کا طواف کرکے اُسکی نیکیاں اپنے ماں باپ کو ہدیہ کرتے رہو تب بھی تم اُس آنسو کے ایک قطرے کا بوجھ ہلکا نہیں کر سکتے جو تمہاری بدسلوکی کی وجہ سے تمہارے ماں باپ کی آنکھ سے گرا ہو۔۔ “ وہ اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے نرمی سے بولی دونوں یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہا تھا ایک ان آنکھوں میں دیکھ لفظوں کو حفظ کر رہا تھا جبکے دوسرا آخرت کا تصور اسکے ذہن میں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔۔
” دولت دی وقت دیا محبت دی سب دیا۔۔۔۔ میرے ماں باپ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔۔۔ بس۔۔ ایک ناراضگی عمر بھر کا روگ لگا گئی “ ہاں آج اعتراف کیا تھا اس نے اور یہ سچ بھی تھا وقت دیا محبت دی سب کچھ دیا لیکن ایک داغ اسکے دامن پر ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔۔۔
” کہیں لڑکی کا چکر تو نہیں تھا۔۔ “ حجاب کے دماغ میں جھماکہ سا ہوا جبکے ابراز اسکی کوشش پر قہقا لگا کے ہنسا واقعی عورتیں آ آ کر اپنی ہی سوچ پر لوٹتی ہیں۔۔۔
” بےبی تم سے شادی کر کے کیا پرو نہیں دیا کسی میں طاقت نہیں مجھے میرے عمل سے روک سکے اور جب اُسکی مرضی شامل ہو تو وہ ہوکر رہتا ہے۔۔۔ “ وہ اسکی ٹھوری پکڑے مزاحیہ انداز میں کہہ رہا تھا حجاب نے نظروں کا زوایہ بدلا کیوں کے اب وہ یک ٹک اسے دیکھتا اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔
” ابراز؟؟ “ ابراز نے نظریں نہیں ہٹائیں اسے تنگ کر کے ایک الگ ہی مزہ آتا تھا۔ حجاب نے اب کی بار اسکی ہلکی داڑھی کو زور سے کھنچا ابراز چلا اٹھا۔۔۔” آہ۔۔ ظالم ہو ۔۔ “
” پھر ایسی کیا ناراضگی؟؟ “ وہ اسکے جملے کو ان سنا کرتی ایک اور سوال پوچھ کر اسکا صبر آزما رہی تھی۔۔
” آج پوچھا ہے آئندہ نہیں پوچھنا ہمارا جھگڑا کبھی ہوا تو اسی بات پر ہوگا۔۔ “ وہ سنجیدگی سے کہتے کرسی پر آبیٹھا۔۔ خود وہ لاکھ انھیں کچھ کہے لیکن کسی اور کے منہ سے اپنے ماں باپ کا سنکر وہ غصّے میں یہ تک بھول جاتا ہے سامنے دوست ہے یا اپنا عزیز۔۔۔
” کب نہیں ہوتا؟؟ “ حجاب تو اسکے سفید جھوٹ پر اسے دیکھتی رہیگی۔۔
” استغفار میں کب لڑتا ہوں؟؟ تم ہی موڈ خراب کر کے کبھی میکے بھاگتی ہو کبھی دادو کے روم میں۔۔ “ وہ اسکی بات سے تپ ہی تو اٹھا تھا وہ ہر دفع میدان چھوڑ کے بھاگ جاتی آخر رونے کے علاوہ اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا کیا؟؟
” اچھا ہوتا ہے تم یہی ڈیزرو کرتے ہو۔۔ “ وہ اسی کے انداز میں اسے جواب دے گئی۔۔
” بتاؤں تمہیں۔۔ “ وہ مصنوئی گھوری سے اسے نوازتا اٹھنے کی ایکٹینگ کرنے لگا حجاب نے تیزی سے دروازہ کی طرف دوڑ لگائی۔۔
” میری بات پر غور کرنا “ وہ دروازے کے پیچھے چھپی اونچی آواز میں بولی ابراز کی نظروں سے وہ اوجھل نہیں ہوئی تھی
” یہاں آکر کہو سنائی نہیں دیا “ وہ کان کو رگڑتا اسے دیکھتے انجان بن رہا تھا
” اول درجے کے ڈھیٹ اور فلرٹی ہو۔۔ “ حجاب بھی اسکی اداکاری سے واقف تھی وہیں سے غصّے سے بولی۔۔۔
” جیسا بھی ہوں تمہارا ہی ہوں بےبی “ ایک آنکھ دبا کر کہتا وہ اسکا منہ بند کر گیا حجاب پیر پٹکتی وہاں سے چل دی۔۔۔
حجاب اب زیادہ تر سوتی ہی ملتی، اسکا موڈ بھی بات بات پر کمرے میں رہ کر بگڑنے لگا تھا ابراز نے سختی سے اسکی نگرانی کے لئے اُسی ملازمہ کو پیچھے لگایا تھا جو بھوت کی طرح اسکے سر پر سوار رہتی باقی کثر ڈیڈ کے ” چہیتوں احتشام اور پرنیا “ نے پوری کی تھی جو چھوٹی سے چھوٹی بات ابراز کو کال کر کے بتاتے۔ پرنیا عادتوں میں بلکل ابراز کی طرح تھی جو ایک پل غصّہ اگلے ہی پل منانا جانتی تھی ابراز اور حجاب کو بھی زیادہ محنت نہیں لگی بس ایک وعدے سے اُسکی ناراضگی مٹ گئی۔۔۔
ابراز کے قدم بہتر سے بہترین کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔ کچھ جھجک تھی ہچکچاہٹ تھی کے وہ اپنی ہی ماں سے بات تک کرنے سے پہلے لفظوں کو تراشتا تھا اور اسکی یہ جھجھک محسوس کر کے حجاب نے ہی ایک دن بات کا آغاز کیا۔۔۔
” دیکھیں آنٹی ماں اور بیوی کی پروا ہی نہیں دونوں سامنے بیٹھیں ہیں یہ موصوف فون پر لگے ہیں۔۔ “ اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر بچے حجاب ابراز اور فبیحہ ہی موجود تھے۔ حیات صاحب ملک سے باہر تھے۔ ابراز کو ناشتے کے بعد موبائل یوز کرتے دیکھ حجاب نے ٹوکا فبیحہ نے بس مسکراتے ہوے گلاس میں جوس انڈھیلا۔ جبکے ابراز اسکی چلاکی سمجھ کر مسکرایا اور پورے اعتماد سے فبیحہ کی طرف دیکھتے پوچھا۔۔
” موم آپ کو پتا ہے شوہر سب سے زیادہ خوش کب ہوتا
ہے؟؟ “ فبیحہ جو جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگانے والی تھی ابراز کی پکارنے پر حیرت سے آنکھیں پھلائے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
” جب بیوی میکے جاتی ہے “ کہتے ہی وہ خود مسکرایا اور ساتھ فبیحہ کو بھی مسکرانے پر مجبور کیا حجاب نے ابراز کو آنکھیں دیکھائیں۔۔۔
” اور جانتی ہیں پریشان کب ہوتا ہے؟؟ “ وہ حجاب کے آنکھیں دیکھانے پر کچھ اور پھیل گیا۔۔
” جب بیوی واپس آتی ہے۔۔ “ اس بار جواب فبیحہ کی طرف سے تھا دونوں کی ہنسی بےوقت چھوٹی ابراز نے تالی کے لئے ہاتھ آگے کیا جس پر فبیحہ نے ہاتھ مار کر ممتا بھری پیاس اس لمس سے بجائی ابراز تو اسے اپنے پاس تک آنے نہ دیتا تھا اور اب۔۔۔ یہ سب اتنی اچانک ہوا تھا کے دونوں اب تک بےیقین تھے۔۔فبیحہ کی آنکھوں کی چمک ہونٹوں کی مسکراہٹ ہاتھوں کی لرزش حجاب کی سوچ کو اور ہی رخ دے رہی تھی یقیناً کوئی ایسی بات ہے جو کسی کے لئے تو شرمندگی کا بائث ہے تبھی ابراز وہ سچ چھپا رہا ہے۔۔۔ ماحول کو فرش کرنے کے لئے ابکی بار حجاب سوچوں کو جھٹک کر میدان میں اتر آئی۔۔۔
” تو ایک کام کرتے ہیں میں چلی جاتی ہوں تم پورے دن خوش ہوتے رہنا۔۔ “ حجاب نے جل کر کہا جبکے دل ہی دل میں وہ آج بہت خوش تھی اس صلح پر۔۔۔
” ایسی فرمانبردار بیوی اللہ ہر کسی کو دے جو شوہر کی خوشی کا خیال رکھے۔۔ “ ابراز کے جواب پر حجاب کی برداشت جواب دیگی وہ جو اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھی زور سے اپنا پیر ابراز کے جوتے پر مارا۔۔۔
” ظالما۔۔ “ وہ سختی سے اپنی چیخ دباتا لگ بگ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔
” رازی کیا ہوا؟؟ “ اسکی سرخ پڑتی رنگت دیکھ کر فبیحہ نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
” نتھنگ موم۔۔ آپ آفس کیوں نہیں آتیں آپ کی بہو تو بیٹھتی ہی وہیں ہے جاسوسی کرنے کے لیے آپ ہی بیٹے کے حق میں چلی آیا کریں۔۔۔“ ابراز نے جوتا نکال کر دوسرے پیر کی مدد سے پاؤں سہلایا ساتھ فبیحہ کو اس موضوع سے ہٹانے کے لئے دوسری بات چھیڑی۔۔
” تم نے کبھی بلایا ہی نہیں “ ابراز کے دل میں ایک درد سی لہر اٹھی کتنا انجان تھا وہ انکی تکلیف سے۔۔ بچے ناشتہ کر کے اب ٹی وی دیکھنے لگے۔۔
” آفس آپکا بیٹا آپکا اجازت کیسی؟؟ آپ کو قدرتی ہر حق حاصل ہے میں آپکا ایمپلوے ہوں مالک تو آپ ہی ہیں میری “
محبت، نرمی، احترام کیا کچھ نہ تھا ابراز کے لہجہ میں فبیحہ کو یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا بغیر پلک چبکائے وہ اپنی بیٹے کو دیکھ رہی تھی جو سالوں پہلے نجانے کہاں کھو گیا تھا۔۔۔
” ہاں ضرور آؤنگی “ نم آنکھوں سے مسکراتی وہ ابراز کو پیشیمان کر گئی صرف ایک نرم لہجہ کیسے برسوں پرانی خلش مٹا گیا۔۔ آفس جانے سے پہلے وہ فبیحہ کی پیشانی پر بوسہ دیکر بہت کچھ جتا گیا تھا فبیحہ کتنی ہی دیر وہیں بیٹھی ابراز کے اس رویہ پر غور کرتی رہی پھر تیزی سے اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی گئی یہ آنسوں۔۔۔ آج بھی وہ کسی کے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتی۔۔۔۔
کب وہ جھکی تھی ماں باپ نے اِسے جھکنا سکھایا ہی کہاں تھا؟؟؟
باپ اپنی عیاشی میں مگن رہتا اور ماں انکے کہے پر عمل کرتی۔۔
ان سب میں فبیحہ کہاں تھی؟؟ کہیں نہیں۔۔ فبیحہ نے تو کبھی اپنے بچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ جیسا سلوک نہ کیا پھر ابراز کیوں اتنا بےرحم بن گیا؟؟ اور آج سالوں بعد اسے یاد آئی ہے لیکن آئی بھی ہے تو آج وہ خود کو بےحد خوش نصیب
محسوس کر رہی تھی کیوں کے ابراز اور حجاب کے بعد جو تنہائی نے اسے کاٹا تھا کبھی زندگی میں ایسی تنہائی محسوس نہ ہوئی اسکی فرنڈز اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ ویکیشنز پر گئیں تھیں حیات بھی یہاں نہیں تھا اس لمحے شدت سے فبیحہ کو اپنے خسارے کا احساس ہوا۔۔
وہ آنسوؤں پونچھتی نیچے گارڈن ایریا میں آگئی جہاں احتشام بیٹھا پوٹس سے مٹی نکال کر دوسرے رکھے فلاور پوٹ میں ڈال رہا تھا وہ مسکراتی ہوئی اسکی طرف بڑھی۔۔
” تجھے کیا لگا تو بتائے گا نہیں تو مجھے پتا نہیں چلے گا “ دادو جو پرسوں ہی گاوں سے آئیں تھیں شکوہ کناں نظروں سے ابراز کو گھورتے عینک درست کی یہاں آکر انہیں حجاب کا پتا چلا تھا جسکے جاننے کے بعد وہ ابراز سے سخت خفا تھیں۔۔۔ ابراز نظریں جھکائے انکی ہر شکایات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔۔ حجاب اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی آج اسے ابراز سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی کیوں کے آنکھوں میں شدید خارش کی وجہ سے اس نے آنکھیں رَب کی جس سے آنکھوں میں انفیکشن ہوگیا تھا ڈاکٹر نے کہا تھا خارش عام ہے ایسا ہوتا ہے لیکن حجاب کو یہ تکلیف برداشت نہ ہوئی اور آنکھوں کو بار بار رگڑنے سے اب انفیکشن ہو چلا تھا اسلئے اس وقت ڈراپس آنکھوں میں ڈالے وہ پچھلے چھ گھنٹوں سے آرام کر رہی تھی۔۔۔
” دادو میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا “ ابراز جو ہر بات پر انہیں الٹا جواب دیکر تنگ کرتا آج دادا کی موجودگی میں تابعداری سے انکے ہر سوال ہر شکایات پر سر جھکائے جواب دے رہا تھا۔۔۔
” میرا شیر ہے بتاتا نہیں کسی کو خود ڈٹ کے مقابلہ کرتا ہے “ دادا نے موچوں کو تائو دیتے کہا۔۔
” میری طرح دادا ابو۔۔ “ احتشام بھاگتا ہوا آکر انکے سینے پر بیٹھ گیا ابراز کے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ آن ٹہری۔۔۔
” میرا لختے جگر۔۔۔ دادا کی جان میرے چھوٹے شیر سے کوئی مقابلہ تو کر کے دیکھائے کھڑے کھڑے زمین میں نہ گاڑھ
دونگا۔۔ “ دادا نے اسکے دونوں گالوں پر بوسہ دیتے محبت سے کہا احتشام اور پرنیا ابھی ٹیوشن سے آئے تھے آج کل دادا دادی کی آمد سے دونوں خوش تھے خاص کر احتشام کیوں کے دادا اسکے ہر لاڈ اٹھا رہے تھے آخر وہ انکے اکلوتے پوتے کا بیٹا ہے جبکے پرنیا کے ساتھ انکا پیار ویسا ہی ہے جیسا اپنے گھر کے بچوں سے ہوتا۔۔۔۔ ابراز نے یہ بات باخوبی نوٹ کی ہے لیکن وہ کیا کر سکتا ہے؟؟ انہیں جتنا سمجھاو جواب ایک ہی آنا ہے بڑوں سے بدتمیزی۔۔۔ ابراز سوچتا ہوا دادو سے باتیں کرنے لگا جو اب حجاب کے ایکسیڈنٹ کا تفصیلی پوچھ رہیں تھیں۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
