Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 19(Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19(Part 2)
” تم سے دوغلا منافق کون ہوگا؟؟ جسکا پور پور شراب میں ڈوبا ہوا ہے تم جیسا شخص آبِ حیات سے بھی نہالے تو گندگی کی بو نہیں جائے گی۔۔۔۔“ کمرے کی ایک ایک چیز میرے کانوں میں چیخ چیخ کے حجاب کے لفظ دہرا رہی تھی میرا دماغ پھٹنے کے قریب تھا۔۔۔۔۔
” تم منافق ہی نہیں کافر بھی ہو۔۔۔۔ “
” شٹ اپ یو بلیڈی۔۔۔۔ “ میں نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے اس سے پہلے کے میں اِسے کوئی گالی دیتا مہوش میری حالت دیکھ کر مزید گھبرا کر رونے لگی۔۔۔میں نے ایک نظر روتی مہوش کو دیکھا پھر بےبسی سے ہاتھ بالوں میں پھیرا۔۔۔۔۔ کاش میں بھی اسی طرح بلک بلک کے دل کا حال بیان کر پاتا۔۔ میں رونا چاہتا ہوں پھوٹ پھوٹ کے رونا لیکن مرد کہاں روتے ہیں؟؟؟ وہ تو صرف ظلم کرتے ہیں۔۔۔۔
” میں پاگل ہوجاؤنگی۔۔۔۔کیا سب کو پتا ہے؟؟ “ کچھ دیر بعد مہوش کی بھیگی آواز میرے کانوں میں گونجی میں جو نظریں جھکائے بیٹھا تھا یکدم نگائیں اوپر اٹھائیں۔۔ مہوش نے اُمید بھری نظروں سے مجھے دیکھا میں اُسکا اشارہ سمجھ گیا وہ ان فوٹوز کا کہ رہی تھی جو وہاں کھڑے لوگوں نے لیں۔۔
” کسی کو کچھ نہیں پتا تم آرام کرو۔۔۔ “ میں کہکر اٹھ کھڑا ہوا مزید یہاں رُکنا مجھے ذہنی مریض بنا دیگا۔۔۔۔
” رازی “
” مہوش میں آج کمزور دل کا مرد ثابت ہوا ہوں مزید تمہارے الفاظ میرا دل بند کر دیں گئے “ میری آواز بھرا گئی۔ میں نے سنا تھا انسان کو اسکا کیا اسی دنیا میں بھگتنا ہے لیکن اتنی جلدی؟؟ یہ نہیں سنا تھا سب کا انجام دیکھ کر بھی میں اُس کے پاس کیوں نہ گیا؟؟ وہ بار بار مجھے بلاتا رہا میں نہیں گیا۔ ڈرتا رہا؟؟مکافات عمل کا انتظار کرتا رہا؟؟ نہیں بلکے میں لائق نہیں تھا کے اُسکے گھر حاضری لگاؤں۔۔ میں اٹھ کھڑا ہوا ڈاکٹر نینا کو مہوش کا خیال رکھنے کا کہ کر میں ہسپتال سے باہر نکلا۔۔۔۔ سرد موسم کی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے وجود سے ٹکرایا میری نظریں بےخیالی میں اُس معصوم بچے کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔ وہ بچا کھڑا ایک آدمی کے سامنے رو رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچا ناراض ہوکر آگے چلنے لگا وہ آدمی مسکراتا ہوا اسکے پیچھے چلنے لگا میں بھی اُس شخص کے تعاقب میں پیچھے چلنے لگا مجھے لگا شاید وہ شخص اس بچے کے لئے انجان ہے چلتے چلتے وہ بچا ایک مسجد کے پاس آرکا اور پیچھے مُڑ کے اُس آدمی سے کہا۔۔۔
” ابو میں آپ کی شکایات اللہ تعالیٰ سے کرونگا آپنے آئس کریم نہیں دلائی نہ؟؟ “ وہ منہ بسور کر بولا تو اُسکا باپ مسکراتا ہوا اُسکا ہاتھ تھامے مسجد کے اندر لے گیا۔ میرے دل میں ایک عجیب سے خوائش جاگی کاش وہ بچا میں ہوتا اور کاش میرے ڈیڈ مجھے وہاں لے جاتے لیکن میں نہیں جنتا تھا وہ اِس قدر مہربان ہے کے میرے دل سے نکلی دعا سنے گا وہ دن تھا جب باپ جیسا شفقت بھرا ہاتھ ہمیشہ کے لئے میرے سر پر آن ٹھیرا۔ وہ آزماتا ہے لیکن آزما کر نوازتا بھی بہت ہے وہ باپ بیٹا اندر جا رہے تھے اور میں وہیں کھڑا رہا۔۔۔
ڈر اس قدر تھا کے اندر جانے کے لئے ایک قدم بھی نہ بڑھا سکا ایسا لگ رہا تھا آج میں نے کے جی میں ایڈمشن لیا ہے اور اسکول کا پہلا دن ہے میری موم مجھے کلاس میں بیٹھا کر اکیلا چھوڑ کے چلیں گیں میں اُنکے پیچھے رو رو کر بلکتا رہا۔۔ سسکتا رہا۔۔ لیکن وہ میری سسکیاں سن کر بھی لوٹیں نہیں۔۔۔
” کمبخت شرابی خود تو حرام پی کر آیا ہے اور یہاں رہکر دوسروں کو بھی ناپاک کر رہا ہے پڑے ہٹ “ خوشبو سے مہکتا شلوار قمیض میں ملبوس لمبی داڑی موچوں والا وہ شخص مجھے دیکھ حقارت سے بولا اور کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی میں جو پہلے ہی ڈرا سہما سا کھڑا تھا اُس شخص کے الفاظ سن کر خود کو ایک اندھیری کھائی میں گرا ہوا محسوس کیا۔ میرا دل کسی ننھے بچے کی طرح خوف میں مبتلا تھا ایک سے بڑھ کے ایک پاک صاف آدمی اذان کی آواز سن کر بھاگتا ہوا آرہا تھا مجھے اپنا وجود بےمول لگا نہ میں انکے جیسا تھا نہ انکے ساتھ بیٹھنے کے لائق تھا مجھے بے اختیار حجاب کے وہ الفاظ یاد آئے۔۔۔
”ایک بات بتاؤ اللہ تمہیں جانتا ہے؟؟ کبھی حاضری تک لگائی ہے اُسکی بارگاہ میں؟؟ نہیں نا۔۔ افسوس خدا تم جیسے لوگوں کو اپنے پاس بلاتا بھی نہیں گناہ کی دنیا میں رہنے والے لوگ نیکی کی مہک سے بھی انجان رہتے ہیں۔۔۔۔ “ وہ سہی کہتی تھی۔۔ میرے قدم خود با خود پیچھے بڑھنے لگے تبھی کسی مہربان شخص کی آواز میری سماعتوں میں گونجی۔۔۔
” اُس نے یہاں تک تمہیں بلایا اور تم اُسے ناراض کر کے جا رہے ہو؟؟؟ “ میں یکدم اس آواز پر پیچھے مُڑا سامنے کھڑا شخص مسکرا رہا تھا۔۔۔ میں نے سوالیہ نظروں سے آنکھیں سکوڑ کے انہیں دیکھا۔۔
” پریشان نہ ہو بچے ان لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دو۔۔ تم یہ بتاؤ نہا کر کیوں نہیں آئے اس طرح تو نماز نہیں ہوگی “
میں انکی بات سن کر حیران رہ گیا شاید کافی دیر سے وہ مجھے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
میں نے نظریں جھکا لیں لوگ آنکھیں پڑھنے کا فن بھی جانتے تھے میں نہیں چاہتا وہ مجھے پڑھیں۔۔۔
” میں نماز پڑھنے نہیں آیا بس وہ۔۔۔ “ میری آواز مجھے خود اجنبی لگی میری نظریں انکی چپل پر تھیں
” آج کیا دل سے یاد کیا تھا اُسے؟؟ “ میں نے یکدم نظریں اوپر اٹھائیں وہ مجھے ہی دیکھ رہے تھے اب بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ اور چہرے پر سکون تھا۔۔۔
” ہاں۔۔ “ وہ شخص نجانے کیسے میرا چہرہ پڑھ رہا تھا یا شاید مجھے یہاں پہلی بار دیکھ کر اندھیرے میں تیر چلا رہا تھا۔۔
” پھر وہ کام ہوا؟؟ “
” ہاں “ میری کہنے پر اُسکی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔۔
” بس پھر سوچنا کیا شکریہ ادا کرو اُسکا اچھا چلو میرے ساتھ آج لگتا ہے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکوں گا چلو کوئی بات نہیں آج اُسکے بندے کے ساتھ پڑھوں گا جسکی دلی مراد اُسنے پوری کی ہے۔۔ یقیناً تم خاص ہوگے۔۔ “ خاص لفظ پر میں نے انھیں گہری نظروں سے جانچنا شروع کیا کہیں طنز تو نہیں کر رہے میں اور خاص؟؟؟
” اتنا مت سوچو بس اُسکا شکریہ ادا کرو پھر بھلے اپنی دنیا میں جانا آؤ میرے ساتھ۔۔۔ “ میں وہیں کھڑا رہا یہ شخص یہ ماحول میری سمجھ سے باہر تھا مجھے ہلتا نہ دیکھ وہ پھر مسکرائے
” جس نے زندگی عطا کی، تمہارے نام کی اُسے اپنا آدھا گھنٹا نہیں دے سکتے؟؟؟ “ میں نے انکی بات سن کر اپنے قدم بڑھائے آج بھی میرے دل میں خوف خدا زندہ ہے اور یہ اُس وقت مضبوط ہوا جب فہیم احمد کا انجام دیکھا میں اُنکے پیچھے چلتا رہا وہ مجھے ایک گلی میں لے آئے جہاں کچھ فاصلے پر سینکڑوں گھر بنے ہوئے تھے۔۔ وہ چلتے چلتے ایک گھر کے پاس آرکے جو پردھے سے ڈھکا ہوا تھا انہوں نے پردہ ہٹا کر دروازہ کھٹکھٹایا ساتھ اُس خاتون کو اندر جانے کا کہا جس نے دروازہ کھولا۔۔۔
” آؤ بچے “
وہ مجھے لئے اندر آئے بڑا سا صحن تھا جہاں ٹیبل اور کرسیاں رکھیں ہوئیں تھیں گھر پورا بند تھا گھر کی چھت کو بڑے کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا۔۔۔
” تم یہیں روکو میں آتا ہوں “ وہ مجھے وہیں چھوڑ سامنے بنے ایک کمرے میں گئے اور فوراً سے کپڑے لئے میرے پاس آئے
” یہ لو اپنا لباس تبدیل کرو تم میں سے شراب کی بو آرہی ہے اس طرح نماز نہیں ہوگی “ انہوں نے نرمی سے کہا چہرے پر نہ غصّہ تھا نہ نفرت پہلا ایسا بندہ ملا تھا جو ہماری دنیا سے نہ ہوکر بھی مجھے عزت دے رہا تھا۔۔۔ نہ وہ حجاب کی طرح تھے نہ اُس آدمی کی طرح جس نے مجھے حقارت بھری نظروں سے دیکھا۔۔ میں نے اُنکے ہاتھ سے شلوار سوٹ لیا اور انکے اشارے پر صحن میں بنے واشروم کی طرف بڑھا۔۔۔
میں جب فرش ہوکر باہر نکلا تو وہ باتھروم کے دروازے کے آگے کرسی رکھ کے بیٹھے ہوئے تھے میں پہلی بار انکی اِس حرکت سے چونکا لیکن میرے چہرے پر سوال پڑھ کر بھی وہ مسکرا کے گویا ہوے۔۔
” اندھیرے میں تو سایا بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔۔ پھر بیٹی کے گھر میں ہوتے ہوئے اجنبی پر کیسے بھروسہ کرلوں؟؟ “ یہ پہلی دفعہ تھا جب میں مسکرایا تھا بےشک وہ دل کے سچے تھے اور یقیناً عقل مند بھی۔۔
” آؤ نماز ادا کرتے ہیں تم نے وضو کیا ہے؟؟ “ وہ جاتے جاتے اچانک یاد آنے پر پلٹے
” جی۔۔۔ بچپن میں دادو پڑھایا کرتیں تھیں نماز تو یاد ہے “ میں نے وضاحت دی مجھے لگا تھا کہیں وہ مجھے نالائق نہ سمجھیں کے وضو کرنا بھی نہیں آتا۔۔
” غسل سے کافی فرق پڑا ہے حاضر جواب ہوگے ہو “ انہوں نے مسکراتے ہوے میری پیٹ تھپکی پھر مجھے لئے گھر کے ڈرائنگ روم میں آگئے بےشک گھرانہ عام سے گلی میں تھا لیکن گھر کو سجانے میں محنت کی تھی ڈرائنگ روم خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور دیوار پر بڑے سے فریم میں پہلا قلمہ لکھا ہوا تھا اور اسے دیکھ پہلی دفع میرے ذہن میں آیا کے میں قلمے بھول چکا ہوں۔۔۔۔ انہوں نے مجھے جانماز دی میرے ساتھ جانماز بچا کر خود بھی نماز ادا کی۔ انکے ساتھ نماز پڑھ کے جہاں مجھے سکون ملا وہیں تحفظ کتنا گھبرا رہا تھا میں اور کتنی آسانی سے انہوں نے میری ناممکن سوچ کو بدل دیا۔۔۔۔۔ میں نماز ادا کر کے انہی کے انتظار میں بیٹھا رہا وہ ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگے پھر دعا مانگی جو اچھی خاصی لمبی تھی۔۔۔۔۔
” معاف کرنا بچے یہی تو وقت ہے جہاں خدا سے بےحد قریب ہوتے ہیں۔۔۔ “ وہ اٹھے اپنی جانماز تہ کی میں نے بھی اٹھ کر اپنی والی جانماز تہ کی انہوں نے میرے ہاتھ سے وہ لیکر ٹیبل پر رکھی اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
” اب بتاؤ اتنا ڈر کیوں رہے تھے؟؟ “ مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ میرے سامنے رکھے سنگل صوفے پر بیٹھ گئے۔۔
” میں نہیں ڈرتا۔۔۔ بس قابل نہیں سمجھتا کے اسکے گھر
جاؤں “ میرا کمزور لہجہ مجھے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا
” کیوں؟؟ “
” لوگ کہتے ہیں میں کافر ہوں۔۔۔ “ میرا سر جھکا ہوا تھا انکے چہرے کے تااثرات میں دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
” پتا ہے انسان بُرا کب بنتا ہے؟؟ جب وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا سمجھے۔۔۔ جس نے بھی کہا اسے کہنا ڈرنا اس وقت سے جب نیکی کا تکبر کرنے والوں میں تم شامل ہوگے کیوں کے ہمیں کافر کو کافر کہنے کا حق بھی نہیں “ انکی باتیں مجھے اپنی جکڑ میں لے رہیں تھیں لیکن میرا دل انکی بات کی نفی کر رہا تھا۔۔۔۔۔
” مجھے لگتا ہے یہ سچ ہے۔۔۔ میں ہوں۔۔۔ میں۔۔۔بہت۔۔۔ گنہگار ہوں۔۔۔ بہت۔۔ “ میں نے انگلی سے آنکھوں میں آتی ہلکی نمی صاف کی۔۔۔
” کونسے گناہ کے ہیں؟؟ “
” شرا۔۔۔ شراب پیتا ہوں۔۔۔ نافرمان ہوں۔۔۔ لڑکیوں کے ساتھ گھومتا ہوں، انھیں اپنا عادی بنایا۔۔ لیکن حرام نہیں۔۔۔ وہ کہتی ہے میں حرام رشتے بناتا ہوں۔۔۔ میں نے کبھی نہیں بنایا۔۔۔ وہ کہتی ہے میں بُرا ہوں، میں نیکی کی مہک سے انجان رہونگا۔۔۔ آبِ حیات سے بھی نہا لوں تب بھی یہ گندی بدبو میرے جسم سے نہیں جائے گی، خدا مجھے اپنے پاس نہیں بلائے گا۔۔۔ وہ مجھ جیسوں کو نہیں بلاتا، میں منافق ہوں۔۔۔ مجھے وہ بھلا چکا ہے۔۔۔۔ “ میری آواز بھر آگئی دل چیخ چیخ کے رو رہا تھا بےاختیار ایک ہچکی نکلی میرا دل مجھے رونا پر اکسا رہا تھا اتنا مضبوط نہیں تھا ہر دکھ جھیل لے۔۔۔
” میری بات غور سے سنو معافی گنہگار ہی مانگتا ہے اور ہر شخص کو نیکی کی طرف لوٹنے کا حکم ہے۔۔ آگر کوئی مسلمان بنے تو کیا اُسے یہ کہتے ہیں کافر ہو تم نکل جاؤ اُس پاک گھر سے؟؟؟ نہیں خدا کے نزدیک وہ شخص اہمیت رکھے گا جس نے نماز کی نیت باندھی نہ کے وہ جو دوسروں کو حقیر سمجھ کر انھیں اسلام سے دور کرے ایک واقع سناتا ہوں وہ رب معاف کرنے والا ہے کہتا ہے بس توبہ کرو تم کرو تو توبہ لوٹو تو میری طرف میں تمہارے گناہ آسمان جتنے بھی ہوں تو معاف کردوں گا بس توبہ کرو اِس سے پہلے کے توبہ کا موقع بھی نہ ملے۔۔۔ ایک آدمی نے ننانوے قتل کئے بنی اسرائیل میں۔۔ ایک عبادت گزار سے پوچھا ننانوے قتل کیے ہیں توبہ ہوگی؟؟؟ اُس نے کہا نہیں ہوگی۔۔ آدمی نے اُسے بھی قتل کر دیا پھر ایک عالم سے پوچھا سو قتل کئے ہیں کیا توبہ ہوگی؟؟؟ اُسنے کہا بیٹا کیوں نہ ہوگی؟؟؟ پر توبہ پکی ہو یہ شہر گندہ ہے وہ شہر نیک لوگوں کا ہے وہاں چلا جا یہ شہر چھوڑ دے۔۔۔ آدمی نے کہا بس معافی مل جائے میں یہ شہر چھوڑ دوں گا بوریا بسترا اٹھایا نیک لوگوں کے شہر میں چلا آیا لیکن راستے میں موت آئی اُسی وقت اللہ نے دو فرشتوں کو بھیجا دوزخ کے فرشتے نے کہا۔۔۔
” ہمارا مجرم ہم لے جائیں گے “
جنت کے فرشتے نے کہا ” ہمارا مہمان ہم لے جائیں گے “
دوزخ کے فرشتے نے کہا ” توبہ نہیں کی ہمارا مجرم ہم لے جائیں گے “
جنت کے فرشتے نے کہا ” ہمارا مہمان توبہ کر چکا ہے گھر سے نکل پڑا ہے ہم لے جائیں گے “
دوزخ کے فرشتے نے کہا ” ابھی اُس بستی میں پہنچا نہیں ہے ہم لے جائیں گے “
جنت کا فرشتہ ” پہنچنا ضروری نہیں ہے نیت ضروری ہے “ اللہ نے تیسرے فرشتے کو بھیجا کے جاؤ بھائی ان میں فیصلہ کرو۔۔۔۔ فیصلہ کرو اس طرح کے بیچ میں میت پڑی ہے سامنے نیک لوگوں کی بستی ہے پیچھے اُس کا گھر ہے ان میں فاصلہ ناپوں اگر میت نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہے تو جنت والے لے جاؤ اگر اپنے گھر کے قریب ہے تو دوزخ والے لے
جاؤ۔۔۔ “
وہ شخص اپنے گھر کے قریب تھا لیکن جب ناپنے کا وقت آیا اللہ نے نیک لوگ والی زمین کو کہا کہ اے زمین تو سِکُڑ جب کہ اُس کے گھر کے قریب والی زمین کو کہا اے زمین تو پھیل جا۔۔ جب فاصلہ ناپا گیا میت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھی تو اللہ نے حکم سنایا کہ جاؤ یہ ہمارا مہمان ہے جنت میں۔۔۔۔ “ میرے آنسوؤں میری آنکھوں سے کسی آبشار کی طرح بہ رہے تھے میں انھیں یک ٹک دیکھ رہا تھا انکی نظریں بھی مجھ پر جمی ہوئیں تھیں۔۔ وہ ایک بار پھر گویا ہوے
” توبہ کرو بچے یہ توبہ تمہارے گناہ ایسے مٹا دیگی جیسے ماں کے پیٹ سے نیا جنما ہوا بچہ لوگوں کو سوچنا چھوڑدو انھیں خوش کرنا چھوڑ دو بس اُسے اپنا بنا لو یہ فانی دنیا تمہارے قدموں میں ہوگی۔ “
میرے گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹک گیا میں خود کو کس قدر گرا چکا تھا بار بار اُسکے پاک گھر میں قدم رکھنے سے ڈرتا رہا یہ نیک انسان مجھے پہلے کیوں نہ ملا؟؟ صرف گمرا کرنے والے ملے اور ملے بھی ایسے کے جن کے آگے میں خود کو بےمول سمجھتا رہا۔۔۔میں سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھ گیا میرے آنسوؤں میرا گریبان بھگو رہے تھے۔۔۔۔ میں بس خاموشی سے انھیں سن رہا تھا دل چاہ رہا تھا یہ آواز ایک پل کو نہ بند ہو۔۔۔
” ایک اور واقع سناتا ہوں۔۔ میں نہیں جانتا کس مصیبت میں تم نے اُسے پکارا لیکن دیکھ لو تم چاہے اُسے بھولو وہ تمہیں نہیں بھولتا۔۔ اُس شخص کو کہنا کے دیکھ ایک دفعہ بس رب کو پکارا اور اُسنے مدد کرنے میں ایک لمحہ نہ لگایا۔۔۔ یہ سنو
اللہ کے نیک بندے جا رہے تھے سفر میں تھے کے انھیں پیاس لگی کسی طرح کنوئیں تک پہنچے دیکھا تو پانی بہت نیچے تھا انہوں نے اپنی پگڑی اُتاری اور جوتے کو اُس کے ساتھ باندھا اور نیچے لٹکایا لیکن پانی تک جوتا پہنچ نا سگا تو پریشان ہو کے وہ بیٹھ گئے اب کیا کروں؟؟؟ تب ایک ہرن آیا اُس نے نیچے کنوئیں میں دیکھا پانی بہت نیچے تھا وہ جا تو نہیں سکتا تھا نیچے اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اے پانی والے بے زبان ہوں پانی پلا پانی اُبلتا ہوا اوپر آن پہنچا اور منڈیر کے آ کے برابر لگ گیا ہرن نے پانی پیا ہیرن کی وجہ سے جو انسان کھڑا دیکھ رہا تھا اسنے بھی پانی پیا لیکن جیسے ہی ہرن پیچھے مُڑا پانی واپس نیچے بیٹھ گیا اُس شخص کے منہ سے بے ساختہ نکلا ” میں انسان میرے لیے تو پانی اوپر نہیں آیا اور اس جانور کے لیے آگیا “ ۔۔ تب وہیں آسمان سے آواز آئی
” تو رسی کا سہارا ڈھونٹتا رہا اُس نے مجھے پکارا “
ایک ایک لفظ میرے کانوں کو کسی سُر کی طرح میٹھا لگ رہا تھا انکا کہا لفظ لفظ سچ تھا۔۔۔۔ اللہ نے کہا ہے شراب حرام ہے میں نے پی لیکن حجاب کے ذریعے اُس دن مجھے اُس گناہ سے بچایا ہر بار اُس حرام کو چھوڑنے کا اشارہ کیا میں نے نہیں چھوڑا یہاں تک کے آج مہوش کو بچانے میں دیری بھی ہوئی تو اسی حرام کی وجہ سے جس نے میرا دماغ تک مفلوج کیا اگر آج بھی اُسے یاد نہ کرتا تو شاید خود سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہتا۔ زندگی کے ہر راستے میں اُس نے میری مدد کی، دل و دماغ کی جنگ میں دل کو جیت دلائی شیطانی دماغ کی ہر چال ناکام بنائی۔۔ اور دل کیوں نہ جیتاتا آخر اِس دل میں میرا اللہ رہتا ہے تو کیسے ہو سکتا تھا میں اُسکے حکم کے خلاف کچھ کروں وہ ساتھ تھا میرے ہر وقت ہر پل بس میں اُس سے انجان بنا پھڑتا تھا۔۔۔
” منہ دھو لو پھر اچھا سا کھانا کہلاتا ہوں “ وہ اٹھ کے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے مجھ سے ہمکلام تھے۔۔۔۔
” کیا میں آپ سے روز مل سکتا ہوں؟؟ “ میں نے آنسوؤں پونچھ کر انہیں دیکھا میرا لہجہ کسی بچے کی طرح منت بھرا تھا۔۔
” بلکل پانچوں وقت اسی مسجد میں نماز پڑھتا ہوں آجانا بچے ساتھ پڑھیں گئے مجھے بھی خوشی ہوگی۔۔۔ “ وہ بےشک اچھے تھے ہوشیار بھی اور دوسروں کا بھلا سوچنے والے۔۔
” پانچوں وقت پڑتے ہیں؟؟؟ پھر آفس مطلب جاب کیسے کرتے؟؟؟ “ میں نے حیرانگی سے ان سے پوچھا گھر اچھا خاصا تھا ان پانچ وقتوں میں کام میں کوئی مشکل درپیش نہیں آتی تھی انہیں؟؟؟
” وہ منزل کیا منزل ہے جو مل کے چھین جائیں
وہ عزت کیا عزت ہے
وہ دولت کیا دولت ہے
وہ شہرت کیا شہرت ہے
جسے موت مٹا دے “
سمجھے؟؟؟ دنیا فانی ہے یہ دولت بھی یہیں رہنی شہرت بھی بس اعمال لیکر جانے جو آگے فیصلہ کرینگے ہم اس دنیاوی امتحان میں فیل ہوئے یا پاس؟؟؟ میں دونوں کام سر انجام دیتا ہوں اب تو عادت ہے پورے دن میں کیا بس ایک گھنٹا بھی اللہ کے لئے نکال نہیں سکتا؟؟ کتنا وقت لگتا ہے ایک نماز میں جو میں اذان سن کر اُسکی محبت میں بھاگا نہ آؤں؟؟ “ وہ اتنے پر سکون تھے کے مجھے انھیں دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی ہر سوال کا جواب انکے پاس موجود تھا۔۔۔
” آپ کے دن کا روز ایک گھنٹا مل سکتا مجھے؟؟؟ “
” ضرور “ وہ مسکرا اٹھے۔۔۔ کھانے کے بعد میں اُن سے اجازت لیکر نکلا وہ میرے ساتھ مجھے باہر تک چھوڑنے آئے۔۔ میں چلتے چلتے وہیں آکھڑا ہوا جہاں کچھ دیر پہلے اندر جانے سے ڈر رہا تھا میرے قدم خود با خود میرے اللہ کے گھر کی طرف چل پڑے نہ دل میں خوف تھا نہ چال میں لڑکھڑاہٹ اندر آکر میں وہیں بیٹھ گیا جہاں کچھ لوگ تسبیح پڑھ رہے تھے تو کچھ صورتیں پڑھ رہے تھے۔۔۔ میں آج یہاں سکون کی تلاش میں آیا تھا میں نے سنا تھا سجدے میں انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے میں نے نفلی نماز ادا کی جب تک تھاکہ نہیں پڑتا گیا اور جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھے تو بس معافی مانگنے کے لئے اٹھے میں نہیں جانتا دل میں کس کس گناہ کا اعتراف کیا بس مجھے لگا وہ سن رہا ہے دلوں کا حال جانتا ہے میں جب اٹھا تو وہ دھندھلا عکس مٹ چکا تھا آنکھیں صاف تھی رویا تو اسکے آگے رویا جسے بندے کے آنسوؤں دیکھتے ہیں نہ انکے آگے رویا جو آنسوؤں دیکھ کر بھی انجان رہتے۔۔۔
میں اُس دن جب لوٹا تو مہوش کو حیران کر گیا اور جب اُسے بتایا آج نماز پڑھی تو وہ عجیب نظروں سے مجھے دیکھنے لگی اُسکے بعد صرف میں نہیں وہ بھی بدلی تھی بار بار مجھ سے حجاب کا پوچھتی میں نے اسکے کہنے پر پہلی بار تنگ آکر حجاب کو کال کی ورنہ میں اُس سے بےنیازی برتے ہوے تھا حجاب کچھ دن پہلے ہی بچوں کو لیکر اپنی امی کے یہاں گئی تھی میں نے کال کر کے اُس سے آنے کا پوچھا اسنے کہا کل تک آجائے گی۔۔ میں نے بھی بغیر کچھ اور پوچھے فون رکھ دیا۔۔۔ اب میں وہ نہیں تھا جو حجاب کے آگے پیچھے گھومتا تھا۔۔۔ جب اُس رات مسجد سے نکلا تھا تب سکون ہی سکون تھا میری روح میں، مجھے لگ رہا تھا آج میں ہر گناہ سے پاک ہوگیا ہوں وہ دن تھا جب میں نے اُسے پکارا تھا اور آج کا دن ہے وہ میری کامیابی کا راز ہے میری دولت شہرت کا وہی راز ہے ذرا برابر دانا بھی بس اُس سے مانگا رویا تو بس اُسکے آگے رویا۔۔۔۔۔ میں نے انسانوں سے امید لگانا چھوڑ دی سب کو بھلا بیٹھا بس اُسکے قریب تر ہوتا گیا۔ میری عبادتیں طویل ہوتی گئیں، اٹھتے بیٹھے استغفار میری زبان پر رہتا دن رات گناہوں کی توبہ کرتا۔۔۔ مجھے یہ رنگین دنیا لے ڈوبی تھی گہرے سمندر میں لیکن اُس نے مجھے ایسے اچھالا کے آج تک میں ایک پل کو نہ لڑکھڑایا آج اپنے پیروں پر کھڑا ہوں میری چال میں ذرا برابر لڑکھڑاہٹ نہیں کیوں کے میں ” گر کے سنمبھلا ہوں۔۔“
مہوش کی شادی میں نے خود اپنی مرضی سے عاصم سے کروائی وہ جیسا بھی تھا لیکن ہوس پرست اور عزت بھیچنے والا نہیں تھا وہ شخص وہ تھا جو ماں بہن بیوی کو ” محبت سے پہلے عزت دینا جانتا تھا “ اور یہ وقت نے بتایا میرا فیصلہ سہی تھا۔ میں نے حجاب پر طنز طعنے کرنا چھوڑ دیے میرا زیادہ تر وقت حاجی صاحب کے ساتھ گزرتا لوگ انھیں حاجی صاحب کہہ کر بلاتے ہیں سنا ہے پچھلے سال حج کر کے آئے ہیں میں بھی سب کی دیکھا دیکھی انھیں حاجی صاحب کہتا ہوں انکی باتیں انکے واقعات مجھے دن با دن دین سے قریب تر کر رہے تھے۔ میری راتیں کلب میں موج کے بجائے مسجد میں عبادت کرتے گزرتی اکثر میرا اداس چہرہ حاجی صاحب پڑھ کے اُسکی وجہ پوچھتے اب انھیں کیا بتاتا ایک انا پرست لڑکی نے انا کی آڑ میں ہماری زندگی کے چھ سال گزار دیے میں ہر بار لوٹا ہوں اُسکی طرف ہر بار اُسکے آگے جھکا ہوں لیکن اب نہیں۔۔۔ اتنا حوصلہ نہیں ہر بار خود کو تڑوا کر سمیٹ لوں اُسکے ساتھ میں بھی اذیت میں رہا ہوں تنہائی جھیلی ہے لکین انتظار بھی کیا ہے اور وہ ہے کے خاموشی کی چادر اوڑھے نجانے کن معجزوں کا انتظار کر رہی ہے؟؟
” خاموشی کی کتنی زبانیں ہیں نا
دکھ،ضد، غصہ،انا،اشکر “
اسکی خاموش نگائیں اکثر مجھے کچھ کہتے کہتے پلٹ جاتیں آج بھی وہ ویسی ہی ہے ” میں “ کو پوجنے والی۔۔ میں بھی اُس کے سامنے اُسکو نظر انداز کرتا بس اپنے بچوں کا ہوکر رہ گیا اُنکے بےحد قریب اور وہ دن میرے لئے حسین ترین تھا جب احتشام نے ڈیڈا کہا میں نے انھیں خود کا اس قدر عادی بنا ڈالا کے اپنی نانی کے گھر جانے سے پہلے اطلاع کرنا نہیں بھولتے تھے کے ہمیں لینے آنا۔۔ اکثر رات کو اُنکے پسندیدہ کارٹونز پروگرام اُنکے ساتھ بیٹھ کر دیکھتا۔۔ میرے اندر کمرے میں جانے کی ہمت نہیں تھی۔۔ وہاں جاکر وہی خاموشی ہم دونوں کے بیچ حائل ہوتی بس اُسی خاموشی سے بچنے کے لئے میں زیادہ تر نیچے ہی رہتا۔۔۔۔ ایک دفعہ کوئی انڈین ڈرامہ چل رہا تھا جہاں کچھ لڑکے ایک لڑکی کو اغوہ کر کے اُسے زیاتی کا نشانہ بنا کر کسی کچرے دان میں لاوارث چھوڑ کر بھاگ گئے ہم چاروں وہیں لاؤنچ میں تھے حجاب کپڑے پریس کر رہی تھی احتشام اپنا بیگ پیک کر رہا تھا ساتھ ٹی وی پر چلتا شو توجہ سے دیکھ رہا تھا جبکے پرنیا یک ٹک سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی بچی ہوکر بھی وہ یہ سمجھ گئی تھی کچھ غلط ہوا ہے۔۔
” ڈیڈ واٹ ہیپنڈ ٹو دیٹ گرل؟؟؟ “
اسکی معصوم نمی میں ڈھوبی آواز نے مجھے جھنجھوڑا میں خاموش رہا میرے پاس الفاظ نہیں تھے وہ مجھے خاموش دیکھ کر رونے لگی حجاب احتشام اپنا کام چھوڑ پرنیا کے پاس آگئے۔۔۔
” میری جان کیا ہوا؟؟ “ حجاب اپنا کام چھوڑ تیزی سے اسکے پاس آئی
” کیا ہوا پری۔۔ “ احتشام حیران پریشان کبھی مجھے دیکھتا کبھی پرنیا کو۔۔۔
” مما بیڈ انکل۔۔۔ “ پرنیا نے ایل اے ڈی کی طرف اشارہ کیا حجاب نے ایل اے ڈی کو دیکھ کر ناسمجھی سے مجھے دیکھا کیوں کے وہاں بریک چل رہا تھا۔۔ جبکے احتشام خاموشی سے اپنی جگہ پر جا بیٹھا یہ حجاب کی باتوں کا ہی اثر تھا اکثر وہ بچوں کو ایسی غلیظ نظروں سے بچنے اور ساتھ انکی غلط حرکتیں بتا کر آغا کرتی کے آگر ایسا ہو تو اپنے بڑوں کو ضرور بتاؤ۔۔
” ایک گینگ نے لڑکی کا ریپ کیا۔۔ “ میں نے اپنی خاموشی توڑی حجاب نے پرنیا کو بےتابی سے گلے لگایا اور پرنیا کو اس طرح خود میں بھینچ لیا جیسے ابھی کوئی اس سے پرنیاں کو چھین کر لے جائے گا۔ ماں اس حال میں بچے کو بہتر سمجھا سکتی ہے حجاب نے اکثر مجھے کہا بھی کے کیبل کٹوا دوں یہ دونوں سارا دن کبھی ریلٹی شوز دیکھتے تو کبھی کارٹونز اور انڈین ڈرامے جس سے حجاب کو سخت چڑ تھی اس واقع کے بعد حجاب نے پرنیا اور احتشام کو کافی الرٹ کیا اور یہی وجہ تھی کے پرنیا نے ڈرائیور کی حرکت سے مجھے آغا کیا لیکن یہاں مجھے غصّہ حجاب پر آیا جو اکثر کبھی رونے کا مشغلہ فرما رہی ہوتی تو کبھی تنگ آکر کہہ دیتی میں ہی مر جاؤں چڑچڑا پن اسکی طبیعت کا حصہ بن چکا تھا اس دن حجاب کی بےنیازی پر میرا ہاتھ اٹھا تھا وہ بیوقوف لڑکی سب پہلے سے جانتی تھی پھر بھی انجان رہی مجھے ایک دفع بھی نہیں بتایا کے ڈرائیور اُسے تک غلیظ نظروں سے گھورتا ہے ہوش اُسے تب آیا جب بات بیٹی پر آئی۔۔ اُس وقت شدید غصّے میں میرا ہاتھ اٹھ گیا وہ کہہ رہی تھی ڈرائیور کی نظریں اسکا دیکھنا۔۔۔ ایک دفع بھی حجاب نے پرنیا کا نام نہیں لیا وہ خود بھی ہر وقت جلتی رہی ساتھ مجھے بھی جلا کر راکھ کردیا۔۔۔ اُس تھپڑ نے حجاب کی خاموشی توڑ دی رات کو جب میں حاجی صاحب سے ملنے مسجد جا رہا تھا تب حجاب کا فقرا میرے تن بدن میں آگ لگا گیا وہ پوچھ رہی تھی آج کہاں جا رہے ہو منہ مارنے میں نے بھی اُسکی زبان میں اُسے جواب دیا۔۔ اُس رات پھر حاجی صاحب میرے چہرے سے اداسی بھانپ گئے اور میں نے تنگ آکر انہیں سب بتا دیا اُس دن تو انہوں نے کچھ نہ کہا لیکن اگلے دن جہاں حجاب کی کال نے مجھے حیران کیا وہیں حجاب کی ڈرائیونگ سیکھنے کی بےتابی دیکھ مجھے لگ رہا تھا وہ سخت برف پگھل رہی ہے لیکن میں اُسکے ساتھ نہیں گیا اب تھوڑا وہ بھی تو ترسے مجھےایک عرصے سے لٹکایا ہوا تھا۔۔۔ اس دن مجھے علیزہ کو گھر بھی دیکھانا تھا جو عباس نے اُسکی پسند سے خریدا تھا نیکسٹ منتھ انکی شادی تھی اور آج کل میرا زیادہ تر وقت اُنکا ہوتا لیکن میں نہیں جانتا تھا میری بےنیازی نے حجاب کے دل میں شک کی جڑیں مضبوط کردیں منتہا نے مجھے بتایا تھا کے حجاب میرا پوچھ رہی تھی اور حجاب کا وہ ریکشن میں آج تک نہیں بھولا جب علیزہ کا فون دیکھ کر وہ غصّے سے لال پیلی ہوتی مجھ پر طنز کرنے پہنچ گئی اور وہی دن تھا جب حجاب تاثیر دل کے ہاتھوں مجبور ہوئی لیکن میری اکسانے پر بھی ایک بار تک نہیں کہا محبت ہے تم سے۔۔۔۔
بس اس دن یہی جانا اسے احساس تھا میرے اقرار کا اُسے پروا تھی میری ناراضگی کی وہ لوٹنا چاہتی تھی میرے پاس لیکن وہی ” انا “ اور اسی انا کو توڑنے کے لئے میں حاجی صاحب کے پاس گیا انھیں بتایا۔۔۔۔۔
” مجھے لگتا ہے انا میرے گھر کو تباہ کر دیگی، اس انا کی وجہ سے میں اپنی بیوی کھو دونگا “ میں سر ہاتھوں میں تھامے بےبس کی تصویر بنا ہوا تھا۔
” تم پہل کرو اس انا کو آگ میں جھونکو “ وہ سکون سے گویا ہوے نجانے کیوں انھیں سب آسان لگتا۔۔۔
” میں ہی کیوں جھکوں وہ کیوں نہیں جھکتی؟؟ “ میرا لہجہ یکدم تیز ہوا اُنکی جانچتی نظریں اُنکے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ بکھر گئی
” پہل تو کرو وہ بھی آئے گی اور یہ آخری دن ہوگا جب تم نے پہل کی دیکھنا شرمندہ ہوکر آیندہ وہ کریگی۔۔۔ “ وہ ایسے کہہ رہے تھے جیسے مجھ سے زیادہ حجاب کو جانتے ہیں۔۔
” وہ کبھی نہیں کریگی اُسے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز اُسکی انا ہے “ میں دانت پیستے ہوے بولا آج اتنی ٹائم بعد شدید غصّہ آیا ہے وہ کتنے پاس تھی میرے میرا لمس تک اسے سکون بخش گیا۔۔۔
” ٹھیک ہے دیکھتے ہیں تم کرو پہل مجھے یقین ہے میری بات غلط ثابت نہیں ہوگی “ نرمی سے وہ گویا ہوے
” آپ اُسے نہیں جانتے “ میں بےبس تھا شاید اپنی غلطی میں انہیں بھی شریک کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ہاتھ پیچھے کیے بیٹھے تھے۔۔ وہ خاموش رہے میں کچھ دیر بعد انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا
” ٹھیک ہے دیکھتے ہیں ایک گیم کھیلونگا آزمانا چاہتا ہوں اُسے اور مجھے یقین ہے اس آزمائش میں میری جیت ہوگی کیوں کے اقرار وہ کبھی نہیں کریگی دیکھتے ہیں میرا سالوں کا تجربہ جیتتا ہے یا آپ کا یقین “ میرے چپ ہونے کے بعد وہ آپنے ازلی انداز میں مسکرا کر گویا ہوے
” ایک بات یاد کھنا
” عورت کوئی بھی ہو
رشتوں میں ملاوٹ پسند نہیں کرتی
وہ جس سے بھی پیار کرے
اس کی حرکات کو نظروں میں رکھتی ہے
لڑتی ہے جگڑتی ہے
اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے
مگر شراکت کبھی برداشت نہیں کرتی “
” آپ نہیں جانتے انا پرست لڑکی کو دل دیا ہے “ میں نے احتجاج کیا کیوں کے میں یہی کرنے والا تھا بس یہی طریقہ تھا اسے جھکانے کا۔۔ اسکے اقرار کا
” نہیں جانتا بس یہ جانتا ہوں انا مرد کی ہو یا عورت کی تباہ ایک خوشگوار گھر ہوتا ہے “ انکی مسکراہٹ یکدم غائب ہوگئی کاش میں انکی اس مسکراہٹ کا مطلب سمجھتا وہ روکنا چاہتے تھے مجھے۔۔۔ لیکن میری ضد میری غصّے نے آج انھیں وہی شخص دکھایا وہی ابراز حیات دکھایا جو باپ تک کی عزت نہیں کرتا کاش کاش اس دن انکی سن لیتا تو آج یہ ہار میرا مقدر نہ بنتی میں کھیل کھیلنے چلا تھا قسمت نے میرے ساتھ ہی ایک درد ناک کھیل کھیلا میں ہار کر بھی زندگی کی بازی نہ جیتا جس ہار کی دعائیں کیں تھیں آج وہ میرا مقدر بنی لیکن میری حجاب سے وہ خوشی چھین لی۔۔۔۔۔
منتہا نے مجھے کہا بھی تھا اُسے آفس تک ڈرائیو کرنا نہیں آتا میں نے منتہا کی ایک نہ سنی اُسے کال کر کے بلوایا وہ فائل اُسکی کار میں رکھی۔۔ منتہا نے مجھے صاف منع کر دیا وہ حجاب سے جھوٹ نہیں بولےگی وہ حجاب کی نیچر سے واقف بھی تھی اور خوف زدہ بھی لیکن میرے آگے اُسکی ایک نہ چلی اور وہ منظر جو حجاب نے دیکھا علیزہ۔۔۔ علیزہ میرے ساتھ کھڑی عباس سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی لیکن
اُس وقت حجاب کی آنکھوں نے وہ دیکھا جو میں نے اُسے دیکھانا چاہا لیکن اُسکے بعد وہ ہوا جو میرے وہم وگمان میں نہیں تھا میں حجاب کا ریکشن منتہا سے سن کر جس قدر خوش تھا وہیں تاثیر صاحب کی کال نے میری ہستی مٹا دی مجھے لگا تھا میں اُسے کھو چکا ہوں میں وہیں پاگل ہوجاتا آگر علیزہ مجھے ہسپتال نہ لے آتی یہاں مجھے میری جیتی جاگتی حجاب تو ملی لیکن شاید میں نے اسے پاکر بھی گنوا دیا میرے کھیل نے اُس سے وہ طاقت چھین لی جس سے وہ اس خوبصورت دنیا کو اپنی آنکھوں میں بساتی تھی۔۔۔ میں نے بار بار اپنا چہرہ دھویا لیکن میرے بہتے آنسوؤں نہ روکے میرا دل پھٹ رہا تھا یہ سوچ جان لیوا تھی کے وہ ہوش میں آکر کیا کریگی؟؟
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم ریڈر مبارک ہو پاسٹ ختم۔۔۔۔۔
