Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
وہ جھکا تھا اور اس کے پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی حجاب کے بولتے لب ساکت ہوگے۔۔
” دور ہٹو میرے اندھے ہونے کا فائدہ اٹھا رہے ہو “ ابراز نے آنکھ سے نکلتے آنسوں صاف کیے شکر تھا حجاب کی نظروں سے یہ آنسوؤں پوشیدہ تھے ورنہ ساری زندگی اپنی اہمیت جتا کر طعنہ ضرور دیتی۔۔۔
” یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے “
محظ اُسے چھیڑنے کو وہ بولا تھا۔۔ حجاب اس سے بجلی کی سی تیزی سے دور ہوئی وہ ہنستا چلا گیا۔نم آنکھوں سے ہنستا وہ پل بھر میں حجاب سے ملنے کے بعد ان تین دنوں کی اذیت بھلا چکا تھا۔۔۔
” ڈیڈ وی مسڈ یو۔۔۔ “ پرنیا چیختی ہوئی بیڈ پر چھلانگ مار کر آئی۔ ابراز نے اسے دیکھتے مسکراتے ہوے خود سے لگایا۔۔۔
” آئ مسڈ یو ٹو۔۔ “ ابراز نے اسکے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔۔
” پری۔۔ “ حجاب نے ہاتھ پھیلا کر اسے بلایا جیسے اپنے پاس آنے کی آمدگی دے رہی ہو پرنیا نے منہ موڑ لیا۔۔۔
” جاؤ مما بلا رہی ہیں “
” نو شی بیٹ می ویری ہارڈ “ پرنیا نے گال پر ہاتھ رکھے کہا ابراز نے ایک نظر حجاب کو دیکھتے گہرا سانس خارج کیا جو شرمندہ دیکھائی دے رہی تھی۔۔
” اچھا چلو اپنا بیگ لیکر آؤ اور شام بھائی سے بھی کہو ریڈی رہے ہم گھر جا رہے ہیں۔۔۔ “ ابراز نے اسکی پیشانی پر بکھرتے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے کہا۔۔۔
” ریلی؟؟ میں ابھی بتاتی۔۔۔ ڈونٹ گو اینی ویر “ گھر کا سنتے ہی اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اپنے ڈیڈ کو وہ آخر میں انگلی اٹھا کر تنبیہ کرتی کمرے سے بھاگتی ہوئی گئی۔۔۔۔
” کیوں مارا؟؟؟ “ پرنیا کے جاتے ہی وہ واپس اسکے برابر میں آ لیٹا۔۔۔ سنجیدگی سے آنکھیں سکیڑ کے وہ گویا ہوا۔۔۔
” بار بار تمہارا پوچھ رہی تھی جس طرح تم نے غصّے میں مارا مجھے بھی آگیا۔۔۔ “ حجاب نے ڈھیٹائی سے جواب دیا۔۔ ابراز افسوس سے اسے دیکھتا نفی میں سر ہلاگیا۔۔۔
” فلحال تو گھر چلو یہاں کوئی سکون سے بات کرنے نہیں دیگا۔۔۔ “ ابراز نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا۔۔۔
” میرا موڈ نہیں “ حجاب اٹھ کے بیٹھ گئی ساتھ اپنا ہاتھ بھی اسکی گرفت سے چھڑوایا۔۔۔
” تمہارے موڈ کی ایسی کی تیسی عبایا کہاں ہے؟؟ “ اسے غصّے سے گھورا، پیشانی پر لاتعداد بل نمایاں تھے۔۔۔
” بیچ والے میں۔۔۔ “ سامنے بنی وارڈروب کی طرف اشارہ کرتے کہا اسکا دل تو خود گھر جانے کو بےچین تھا لیکن اوروں کی بےنیازی دیکھ کر اسکا دل دکھا تھا۔۔۔
ابراز نے تقریباً دس منٹ وارڈروب کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد عبایا نکالا اور حجاب کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا۔۔۔
” یہ عبایا پہنو فرنٹ یہ سائیڈ ہے باقی نقاب میں خود۔۔۔ “ ابراز نے اسکا ہاتھ پکڑ کے عبائے کی فرنٹ سائیڈ پر ہاتھ رکھا حجاب نے جلدی سے عبایا پہنا ساتھ ” اسٹالر دو “ کہا ابراز نے اسے اسٹالر دیا جیسے حجاب نے نماز اسٹائل میں باندھا پھر جو آگے کپڑا چھوڑا تھا اسے نقاب کیا ” ڈریسنگ ٹیبل کی فرسٹ ڈرو میں پینز ہیں وہ دو۔۔۔ “ حجاب کے کہے مطابق وہ پینز لیکر آیا جسے حجاب نے لیتے ہی لگایا۔۔۔۔
” پرفیکٹ۔۔۔ تمہیں پتا ہے تم دنیا کی سب سے خوبصورت بیوی ہو خاص کر کے اس نقاب میں تم۔۔۔ “ وہ گہری نظروں سے اسکا جائزہ لیتے ہوے مخمور لہجے میں بولا
” اب دیر نہیں ہو رہی۔۔۔ “ حجاب نے آنکھیں سکوڑ کے غصّے سے کہا ابراز کی ایسی نظریں خود پر جمی دیکھتی تو ضرور اسے کسی اچھے القبات سے نوازتی۔۔۔۔
” اس کام کے لئے وقت ہی وقت ہے۔۔۔ “ ابراز نے مسکراتے ہوے اسکا ہاتھ تھاما حجاب نے بولنے کے لئے لب کھولے تھے کے پرنیا بھاگتی ہوئی ابراز کی ٹانگوں سے لپٹ گئی ساتھ ” ڈیڈ شام بھائی اس نوٹ لیسنیگ “ کا مشغلا جاری تھا۔۔۔
” وائے “
” ہی از سلیپنگ “ آنکھیں پٹپٹا کر وہ چہرے پر دنیا بھر کی اداسی لئے گویا ہوئ۔۔۔
” ڈونٹ ویری ابھی اسکی ساری سلیپنگ بھگاتے ہیں آپ مما کا ہاتھ پکڑو انہیں چھوڑنا نہیں۔۔۔ “ آستین کو اوپر کیے وہ مصنوئی خفگی سے بولا۔۔۔۔
” وائے؟؟ “ پرنیا کا سوال جہاں ابراز کو چونکا گیا وہیں حجاب نے آنسوؤں پیتے ابراز کی ان نظروں سے بچنے کے لئے چہرے دوسری طرف موڑ لیا
” انہیں کچھ نہیں پتا میں انہیں اپنے پاس تک نہیں آنے دیتی دروازہ پیٹتے رہتے ہیں میں نہیں کھولتی۔۔۔ “ وہ بےگناہ ہوتے ہوے بھی خود کو بچوں کی گہنگار محسوس کر رہی تھی جیسے سارا قصور اسی کا ہے۔۔ ابراز نے خاموشی سے اسے سننے کے بعد جیب سے کار کی چابی نکال کر پرنیا کو دی۔۔
” سویٹ ہارٹ یہ کار کی چابی ہے اسامہ ماموں کو کہو احتشام کو اٹھا کر کار میں سلائیں آپ بھی جاؤ میں مما کے ساتھ آرہا ہوں۔۔ اینڈ نو کوسنچنگ “ ہلکے سے اسکے معصوم گالوں کو تھپک کر کہا پرنیا سر اثبات میں ہلا کر کار کی چابی لیکر اپنے چھوٹے شولڈر بیگ کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔
” تمہارا کوئی قصور نہیں تم ہر الزام ہر جرم سے بری ہو۔۔ “ وہ اسکی پلکوں کو چھوتا نرمی سے بولا حجاب نے کوئی جواب نہ دیا وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے سب سے ملتا کار میں آبیٹھا۔ حجاب کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر کار کا دروازہ بند کر کے وہ قدم قدم چلتا گیٹ کے پاس کھڑے تاثیر صاحب کے پاس آیا۔۔
” وہ ہمیشہ سے میری زمیداری تھی ہے اور رہیگی یہ آخری بار تھا آئندہ نہ ایسی آزمائش سے گھبرائوں گا، نہ بھاگوں گا،،،،
Words can’t describe my happiness. You saved my life
یہ احسان زندگی بھر آپ کا مجھ پر رہیگا۔۔۔۔ “
وہ انکے گلے لگتا انکے کان میں بیٹی کی آئندہ زندگی کی آنے والی خوشیوں سے آغا کر رہا تھا تاثیر صاحب کی رگ و جان میں سکون کی لہر دور گئی۔۔۔
” حجاب کی جان جس نے بچائی میں خود اُسکا احسان مند ہوں وہاں بھیڑ میں انسان نہیں جانور سے بدتر لوگ تھے بس ایک شخص تھا جس نے نیکی کمائی۔۔ یہ اسکا نمبر ہے تمہیں حجاب کے روم میں جاتے دیکھ اس نے کہا بھائی کو کہنا مجھے کال کرے انکی جیکٹ میرے پاس رہ گئی ہے۔۔۔ “ وہ ان سے الگ ہوا تو تاثیر صاحب نے اسے ایک پرچی تھماتے کہا۔۔ ابراز کے ذہن میں یکدم سے دھماکہ ہوا دنیا واقعی گول ہے
” آپ کی کی نیکی آپ کی طرف ہی لوٹتی ہے “ ۔۔۔ وہ ان سے پرچی لیکر کار میں آبیٹھا جیسی بھی ریپوٹیشن تھی انکے سامنے ابراز کو نہیں لگا کے تمہید کی ضرورت ہے وہ اسے جانتے ہیں انکی بیٹی وہ آخری لڑکی ہے جو ابراز کی زندگی میں حیثیت رکھتی ہے۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
” مجھے مس کیا تھا۔۔۔ “ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے وہ کار اسٹارٹ کر چکا تھا۔ ڈرائیونگ کرتے مسلسل وہ اسے دیکھ رہا تھا حجاب سب سے بےنیاز آنکھیں موندے سر سیٹ کی پشت سے لگاے نجانے جاگ رہی تھی یا واقعی سو رہی تھی۔۔۔۔
” کس خوشی میں؟؟ “ ترکی با ترکی جواب آیا حجاب اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔۔۔
” بلکل نہیں کیا؟؟؟ پچیس پرسنٹ بھی نہیں؟؟؟ “ ابراز کو یقین نہ ہوا اسکے لہجے کی بےتابی حجاب کے دل کو پرسکون پہنچا رہی تھی۔۔
” نہیں۔۔ “ صاف جواب آیا۔۔
” ظالم لڑکی “ وہ منہ کے زاویے بگاڑتا بڑبڑایا
” تم سے زیادہ نہیں ہوں۔۔ “ حجاب کی کہی عام سے بات زہریلے تیر کی طرح اسکے دل میں چُبی تھی ابراز کو لگا وہ اسکی بےنیازی کا طعنہ دے رہی ہے جبکے حجاب نے بغیر سوچے سمجھے ایک عام سے بات کہی جو وہ ہمیشہ کہتی ہے۔۔ باقی سفر میں خاموشی چھائی رہی۔۔۔۔ پانچ منٹ بھی نہ گزریں ہونگے کے ابراز نے اسکے ہاتھ کی پشت پر انگلی پھیڑی لیکن حجاب کو ٹس سے مس ہوتا نہ دیکھ چڑ گیا۔۔۔
” ایک جھلک دیکھ کر جس شخص کی چاہت ہوجائے اُسے پردے میں بھی پہچان لیا جاتا ہے “ وہ اسکے سونے پر چوٹ کر گیا۔۔۔
” تمہیں ہر بات کیسے پتا چلتی ہے؟؟ “ وہ روہانسی ہوگئی
”میڈم نقاب میں آپ کی آنکھوں کی جنبش ہی دیکھ سکتا ہوں “ وہ اسے دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا جسکی نظریں سامنے ونڈ سکرین پر تھیں۔ تبھی ابراز نے ہارن بجایا جسے سنتے ہی گیٹ کے پاس بیٹھا واچ مین الرٹ ہوا اور گیٹ کھولا۔۔۔
” ہُراااااااااااا “ پرنیا نے گھر دیکھتے ہی چیخ ماری ابراز نے مسکراتے ہوے کار گیٹ کے اندر پارک کی پہلی دفع بچے اس سے اور گھر سے دور رہے تھے زیادہ سے زیادہ ابراز ایک ہی رات انھیں وہاں رہنے کی اجازت دیتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔۔۔
” شام بھائی سی مالی بابا فلاورز کو پانی دے رہیں ہیں چلیں ان سے پائپ لیکر ہم پانی دیتے ہیں “ پرنیا کی نظر گارڈن میں موجود مالی بابا پر پڑی جو پودوں کو پانی دے رہے تھے۔۔
” نو کوئی ضرورت نہیں کپڑے گیلے ہوجائیں گئے “ حجاب کی بات ایک پل کو سننے کے لئے وہ رکی تھی پھر کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی اسکی تلقید میں احتشام بھی نکلا حجاب پیچھے سے پکارتی رہی دونوں ان سنا کر کے جا چکے تھے۔۔۔
” اتنی توجہ مجھے دیتیں آج تمہارا فرمانبردار شوہر ہوتا۔۔۔ “ مسکراہٹ دباتا وہ اسکے غصّے کو نظرانداز کر کے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور حجاب والی سائیڈ پر آکر وہاں کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔
” بےبی ہاتھ کہاں چھپایا ہے؟؟؟ “ وہ اسکی طرف جھکتا پوچھ رہا تھا حجاب اسکی حرکت سے بےنیاز خود اٹھنے لگی
” میں خود نکل سکتی ہوں اب ہر جگہ تم ساتھ تھوڑی
ہوگے۔۔۔ “ وہ عام سے انداز میں کہہ کر اٹھی تھی کے عبایا پیر میں دبنے کی وجہ سے واپس بیٹھ گئی ابراز نے اسکے کندھوں کے گرد بازو حمائل کیے اور اسکے قدم سے قدم ملتا گارڈن ایریا میں آگیا۔۔ وہ چلتا ہوا اندر جا رہا تھا کو اسکی جیب میں رکھا فون وائیبریٹ ہوا۔۔
” ہیلو۔۔ دو منٹ جانِ من میں آیا۔۔ ہمدانی صاحب یہ باتیں میں آفس ٹائم میں کرتا ہوں اف یو ڈونٹ مائنڈ ہم کل بات کریں۔۔ “ ابراز کی آواز لمحہ لمحہ اس سے دور جا رہی تھی حجاب وہیں کھڑی رہی بچے اپنے کھیلنے میں مگن تھے ابراز اپنی فون کال پر وہ اکیلی تنہا یہیں رہ گئی کون ہوگا جو ایسی بیوی کے ساتھ ذندگی گزارے کا جو اسکے قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتی؟؟ کب تک وہ برداشت کریگا؟؟؟؟
” مما یور ٹرن۔۔۔ “ پرنیا کی آواز سن کر حجاب کی سوچوں کا تسسل ٹوٹا اسکے دماغ نے منٹوں میں بات پکڑی وہ اسے پانی سے بھیگانے والی تھی حجاب نے ڈر کے مارے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے آنکھیں سختی سے میچ لیں ساتھ ہلکی سے چیخ اسکے ہلق سے برآمد ہوئی لیکن یہ کیا ایک۔۔۔ منٹ۔۔۔ دو منٹ۔۔۔ کچھ بھی نہ ہوا تھا بس ” ڈیڈ موو۔۔ “ کی رٹ لگی ہوئی تھی کوئی سایہ تھا شاید جو اسکے سامنے آکھڑا ہوا حجاب نے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹائے۔۔۔۔۔۔
” ایک منٹ بھی بڑا ہوگا جب میری نظروں نے تمہیں ڈھونڈا ہو جب سے ملی ہو میں نے پلکیں بھی ڈر کے مارے چھپکائی نہیں کے خواب نہ ہو جیسا تم سوچتی ہو ویسا میں نہیں اور جیسا میں ہوں ویسے تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔۔ “ ابراز نے قریب آکر اسکے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے اس کے چہرے پر جھٹکا جس سے پانی کے جھینٹے حجاب کے منہ پر گرے۔۔۔۔پانی کی ننھی ننھی بوندیں اس کے چہرے پر ٹھنڈی پھوار کی طرح برسی بلکل ویسے جیسے اُس کے لفظوں کی ٹھنڈی پھوار اس کی روح تک سرایت کر گئی تھی
” یہ کیا حرکت ہے “ حجاب جو اسکے لفظوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی اس حرکت پر یکدم ہوش میں آکر دبے لہجے میں چلائی۔۔
” میں تمہارے چکر میں پورا بھیگ چکا ہوں آخر کچھ سزا کی مستحق تم بھی ہو۔۔۔۔ “ مسکرا کر کہتے ابراز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ وہ اسکے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی آج پہلی بار اسے اندھیرا بُرا نہ لگا نہ کوئی کمی محسوس ہوئی اور نہ ہی اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوا تھا۔۔ ایک انسان غلط ہو سکتا ہے دو غلط ہو سکتے ہیں لیکن ایک سہی اور لاتعداد لوگ غلط نہیں ہو سکتے ایسا ہوا بھی تو بہت کم ہوا ہے۔۔۔ ایک دنیا کہتی ہے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھی ہوں اور آج جب یہ آنکھیں گئیں تو روشنی خود ہی چلی آئی بند آنکھوں سے انسان کے چہرے واضع ہوے جسے ٹھکرایا جسے بددعائیں دیں وہی تو رگ و جان سے قریب تھا اگر آج بھی وہ واپس نہ آتی تو ساری زندگی اپنی اور اپنے بچوں کی مجرم ٹھرائی جاتی۔۔۔ ائے میرے مولا آنکھیں ہوتے ہوے بھی اسکی آنکھ میں اس وقت نمی کیوں نہ دیکھی اور آج بند آنکھوں سے وہ نمی محسوس ہوئی اسے اپنے ہاتھوں پر وہ نمی محسوس ہوئی تھی جس سے ابراز بےخبر تھا۔۔۔ نجانے کیوں اتنی بےاعتباری تھی؟؟؟ اب بھی یہ محرومی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ناجانے یہ ساتھ کب تک رہنا ہے؟؟؟
☆.............☆.............☆
” میری ہر خوشی کا راز تو ہے۔۔۔ “ ابراز کی نظریں کھلے آسمان پر تھیں۔ اپنی خوشی میں وہ اللہ کو کیسے بھلا سکتا ہے جس کی عطا کردہ ہے؟؟ ابھی تک اُسکے کانوں میں وہ الفاظ گونج رہے تھے جو حجاب نے بےخیالی میں بولے تھے ابراز نے اسے طعنہ نہیں دیا نہ اس بات کے لیے چھیڑا وہ جانتا ہے اسکی ایک غلطی پھر وہ الفاظ کوئی خواب ہی بن جائیں گئے اسکے لئے۔۔حجاب اس وقت عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی اور ابراز حاجی صاحب کے ساتھ نماز پڑھ کے کچھ دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا۔
حجاب کے گھر آتے ہی سب سے پہلے فبیحہ اس سے محبت سے ملی کل ہی فبیحہ کو حجاب کے بارے میں حیات صاحب سے پتا چلا تھا وہ کل ہی حجاب سے ملنے جانے والی تھی لیکن ابراز کے منع کرنے پر دونوں میاں بیوی نے خاموشی اختیار کرلی اور آج حجاب اور بچوں کو دیکھ کر فبیحہ کا دل پر سکون ہوگیا۔۔
زندگی ایک بار پھر اپنی رفتار سے دوڑنے لگی تھی۔ ایک ہفتے بعد حجاب کا آپریشن تھا اور یہ ایک ہفتہ ابراز نے صرف اسی کے نام کیا تھا ابراز نے بچوں کو اس بات سے اپنے طریقے سے آغا کیا تھا لیکن باقی گھر والوں کو سختی سے منع کیا تھا کے کوئی دادو کو نہ بتاۓ۔۔۔ وہ اپنا سارا کام فون یا لپ ٹاپ کی ذریعے ہی کرتا حجاب کی زمیداری اس پر تھی ساتھ ایک ملازمہ بھی رکھوائی تھی ابراز دو پل بھی نظروں سے اوجھل ہوتا لیکن وہ ملازمہ نہیں۔۔ وہ اسکے چھوٹے موٹے کاموں میں خود اسکی مدد کرتا اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا۔۔ کبھی کبھی حجاب سے کوئی کام نہ ہوتا تو اپنی بےبسی پر رونے لگتی ایک دفع کپ کچن میں رکھنے گئی تو سڑیوں سے پیر پھسل گیا لیکن حجاب کی قسمت تھی یا دعائیں تھی جس نے اسے سنبھالا اور گرتے گرتے وہ سیڑی پر آبیٹھی ابراز اسے جتنا منع کرتا وہ اتنا خود کو کاموں میں مصروف رکھتی کبھی بیٹھے بیٹھے کپڑے تہ کرتی کبھی اٹھ کے خود پریس کرنے لگتی اور ایک دن تو اسکی لاپروائی اور ضدی طبیعت پر ابراز نے اسے خوب سنایا۔۔
” تمہیں منع کیا ہے نہ؟؟؟ سنتی کیوں نہیں ہو پاگل ہوں جو بھونکتا رہتا ہوں دیکھو اب کتنی جلن ہو رہی ہے۔۔ “ وہ بیٹھے بیٹھے بور ہو رہی تھی ابراز نہانے گیا تھا تبھی اٹھ کے حجاب نے ڈسٹنگ کرتی ملازمہ کو روم سے بھیجا اور خود ٹیبل صاف کرنے لگی۔ وہاں رکھی گرم چائے اسکے وہم و گمان میں بھی نا تھی۔۔۔ ملازمہ نے بتایا بھی تھا لیکن حجاب کے دماغ سے یہ بات نکل چکی تھی تبھی ٹیبل صاف کرتے گرم چائے اسکے ہاتھ پر گری اور ابراز نے اسکے ساتھ ساتھ ملازمہ کی بھی اچھی خاصی کلاس لی بس تب سے ملازمہ بھی خوف سے اسے کوئی کام کرنے نہیں دیتی چاہے وہ اس پر غصّہ کرے ملازمہ کان نہیں دھرتی۔ وہ آگر ڈانٹتا غصّہ کرتا تو اسکے اچھے کے لئے کرتا جسے حجاب جان کر بھی انجان بنتی۔ حجاب اسی زندگی میں خود کو فٹ کرنا چاہتی تھی کیوں کے دور دور تک اسے امید کی کوئی کرن نظر نہ آتی۔۔۔
ہر شام ابراز اسے پاس بنے پارک میں لے جاتا جہاں وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے زندگی کی خوبصورت منظر کو محسوس کرنے کا کہتا۔۔۔ خلاف معمول آج بھی وہ گھومنے آئے تھے جب ایک عورت کے ریمارکس سن کر حجاب کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔
” بیوٹیفل کپل سی کتنی محبت ہے دونوں میں کے چلتے ہوے بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے اور تم ہاتھ پکڑنا تو دور چلتے بھی اتنے فاصلے سے ہو جیسے میں تمہارے اوپر گر جاؤنگی۔۔۔ “
آس بھری نظروں سے انہیں دیکھتے اس عورت نے اپنے شوہر سے کہا۔ وہ عورت خود اچھی خاصی پہلوان تھی جبکے اسکے شوہر کی جسمات ایسی تھی جیسے روز گلوکوز کی بوتل چڑتی ہو پتلا دبلا سنوالی رنگت۔۔۔
” ایکچولی میم میری بیوی بہت موٹی ہوگئی ہے، آئ ڈونٹ لائک فیٹ وومنس اسی لیے روز واک کرانے لاتا ہوں اور یہ ہاتھ اس لئے پکڑا ہے کے بھاگ نہ جائے۔۔۔ “ حجاب نے منہ موڑ کر ساتھ کھڑے ابراز کو سخت گھوری سے نوازا جبکے ابراز کے ہونٹوں کی گہری ہوتی مسکراہٹ اس عورت کو زہر لگی آس پاس لوگ نہ ہوتے تو اچھی دُلائی کرتیں اسکی۔ آخر خود کھانے کی شوقین تھیں جبکے شوہر کی صحت انکی بڑھتی صحت دیکھ کم ہو رہی تھی۔۔۔
” پاگل آدمی تمہیں تو جیل مین ڈالنا چاہیے ہماری مرضی جتنا کھائیں۔۔ “ وہ عورت غصّے سے ابراز کو گھورتی ہوئی بولی۔۔ حجاب کا اس بدتمیزی پر پارا ہائی ہوگیا۔۔
” ایکسکیوذ می میرے شوہر نے آپ سے تمیز کے دائرے میں رہکر بات کی ہے اور جہاں تک صحت کا تعلق ہے انکا کنسرن مجھ سے ہے انہوں نے آپ کو کچھ نہیں کہا۔۔ “ حجاب بولنے پر آئی تو سناتی چلی گئی ابراز کا منہ کھلا رہ گیا آج سورج کہاں سے نکلا تھا؟؟ حجاب تاثیر اور اسکی سائیڈ کہیں حجاب کے اندھے غم میں وہ بہرا تو نہیں ہوگیا؟؟؟
” یہ کسکو دیکھ رہی ہے؟؟ “ اس عورت نے حجاب کو دیکھتے کہا جو کہہ تو اسکو رہی تھی نظریں نجانے کہاں تھیں؟؟ حجاب نے اس سوال پر مٹھی بینچ لی۔۔
” میرے کان سہی ہیں مطلب۔۔۔ “ ابراز نے ایک سکون بھرا سانس خارج کیا پھر سچویشن پر غور کرتے مسکراہٹ خود با خود اسکے ہونٹوں کو چھو گی جو حجاب تاثیر کی عنایت سے تھی۔۔۔۔
” دیکھیں میں مزاق کر رہا تھا!!! مجھے تعریف صرف بیوی کے منہ سے اچھی لگتی ہے لوگوں کا کیا ہے آج تعریف کر رہے ہیں کل گالیاں دیں گئے جیسے ابھی بےوجہ آپ نے پوری بات سنے ہمیں سنایا خیر آپ اتنی پیاری تو ہیں دوسروں کی نہ سنا کریں زندگی ہے انجوائے کریں لیکن حد سے زیادہ مقدار ہر چیز کی زہر ہے۔۔ اللہ حافظ چلتا ہوں۔۔۔چلیں بےبی۔۔ “ وہ انہیں حیران پریشان چھوڑ کے حجاب کا ہاتھ پکڑ کے آگے نکل آیا۔۔
” کیا تھا یہ سب؟؟ “ اسکے ساتھ چلتے حجاب نے سرد لہجے میں پوچھا۔۔
” کہا نہ تعریف صرف آپ کے منہ سے دل پر لگتی ہے۔۔ “
وہ اسکی طرف جھکتے ہوے رازداری سے بولا
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔ “ لہجہ میں ابھی بھی ہلکی سے غصّے کی رمک تھی۔۔۔
” تم اتنی چُپ رہتی ہو کے میں پریشان ہوجاتا ہوں نجانے کیا سوچتی رہتی ہو دن بھر؟؟ میں آج کل چاہ کر بھی پڑھ نہیں پاتا تمہارے ذہن کو۔۔ “ ابراز کا اداس لہجہ حجاب کو شرمندہ کر گیا وہ سر جھکائے بےبسی سے اپنے آنسوؤں کو روکنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔
” ب۔۔۔۔بس مج۔۔۔۔مجھے لگتا تم وقت اور پیسا فضول ضائع کر رہے ہو مجھے امید ک۔۔۔کی کو۔۔۔۔کوئی۔۔۔ک۔۔۔کرن نہیں دیکھتی۔۔ “ آنسوؤں گالوں سے لڑھک پڑے ابراز اسے اپنی طرف کھینچتا پاس رکھے بینچ تک لے آیا جہاں اردگرد موجود خوبصورت پھولوں اور سبزے نے اس جگہ کو چھپا رکھا تھا۔
ابراز نے اسے بینچ پر بیٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھا۔۔۔
” حجاب ڈونٹ۔۔۔ “ اسکے بہتے آبشار کو دیکھ کر وہ خود کو بےبس سا محسوس کرنے لگا۔۔۔
” میں نہیں روتی خود رونا آتا۔۔۔ “ رو کر کہتے مزید وہ ہچکیاں لیکر رودی۔۔ابراز کو اسکی ادا پر ہنسی آرہی تھی یہ اسکی پرانی عادت تھی ہمیشہ سنجیدہ موقوں پر اسے ہنسی آتی۔۔۔
” حجاب مایوسی کفر ہے ناامید بھی تم اُس سے ہو رہی ہو جس نے اُس خطرناک ایکسیڈنٹ سے تمہاری جان بچائی تمہیں حیرانگی نہیں ہوئی حجاب تمھارے جسم پر ایک خراش تک نہیں آئی صرف آنکھیں؟؟؟ ۔۔ “ ابراز کے کہنے پر حجاب کے بہتے آنسوؤں رک گئے یہ سچ تھا اسے ہاتھوں بازوں پر کہیں بھی چوٹ نہیں لگی تھی ہلکا درد تھا شروع شروع میں اب وہ بھی نہیں۔۔ یہ بات کبھی اسکے دماغ میں کیوں نہیں آئی؟؟؟ بےاختیار حجاب کے ہاتھ اپنے جسم پر چوٹ ٹٹولنے میں لگ گئے۔۔۔
” مجھے کوئی خراش کیوں نہیں آئی؟؟ “ اسکے ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ سن کر ابراز نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے۔۔۔
” شاید وہ تمہیں وہ دکھانا چاہتا تھا جو تم کھلی آنکھوں سے نہ دیکھ سکی۔۔۔ “ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکے کانوں تک وہ سچ پہنچا رہا تھا جس سے وہ انجان نہ تھی۔۔ بس راستہ لمبا تھا تبھی سمجنے میں وقت چلا گیا۔۔۔ اور اس پورے عرصے میں جس انسان کو اس نے توڑا تھا آج وہی اسکی رہنمائی کر رہا تھا کتنا فرق تھا کبھی وہ بھی اسی طرح اسے گائیڈ کر سکتی تھی لیکن غرور کی پٹی نے اس سے سوچنے سمجنھے کی صلائیت چھین لی۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر خود میں ہمت جمع کر رہی تھی۔۔۔
” میں بہت بُری ہوں میں۔۔۔ نجانے کیوں میں ایسی بن گئی پانچ سال کی بچی نہ تھی میں پھر میری وہ ضد انا غرور تباہ کر دیا اُس نے مجھے۔۔۔۔۔ تم پلیز مجھے معاف کردو میں نے تمہیں ہر بار غلط راہ کا انتخاب کرایا کاش تمھاری اس نئی راہ کی وجہ میں بنتی۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردو۔۔“ اور آج سب سے زیادہ تکلیف اس انسان کو ہو رہی تھی جس نے خود سے عہد کیا تھا اب پیر بھی پڑے تو معاف نہیں کرونگا۔۔۔۔
” نہیں نہ تم بری ہو نہ میں تم سے خفا ہوں جو معافی مانگ رہی۔۔ تم اپنی اہمیت میری زندگی میں جان جائوں تو اپنی قسمت پر رشک کرو۔۔۔“ وہ اسکے بہتے آنسووں صاف کرتا محبت بھرے لہجے میں بولا جسکی پلکیں یہ بات سنتے ہی لرزنے لگیں حجاب کی شرم و حیا تو اسے دیوانہ کرتی تھی آخر کہاں اس نے اپنے سرکل میں شرم و حیا دیکھی تھی؟؟؟
” خیر چھوڑو ادھر دیکھو “ ٹھوری سے پکڑ کے ابراز نے اسکا چہرہ اونچا کیا۔۔
” اب تم نہ رو گی نہ فضول سوچو کی بس مجھ سے باتیں کروگی جب کوئی سوچ آئی مجھ سے شیئر کروگی تم کل کو تلاش کرتی پھرتی رہوگی شام ہوجاے گی اور آج کا دن بھی چلا جائے گا اسلئے جو جیسا ہے جیسے چل رہا چلنے دو کیوں کے تمہارا مقدر اُس نے لکھا ہے جو تب بھی تمہارے ساتھ تھا جب تم اس خطرناک ایکسیڈنٹ سے گزریں تھیں۔۔ ہر راہ ہر منزل میں وہ تمہارے ساتھ ہوگا۔۔۔ “
” تم مجھے چھوڑ تو نہیں دوگے آگر اب لوگ کہیں کے تمہاری بیوی۔۔۔ “ ابراز کے الفاظ جہاں اسے سکون بخش رہے تھے وہیں دل میں چھپا ایک چور سا سوال اسے ہزاروں سوچوں کے گرد دفن کررہا تھا۔۔۔۔
” حجاب میں نے لوگوں کا سوچا ہوتا تو آج تم میری بیوی نہ ہوتی وہ تو تب بھی نہ خوش تھے جب ایلیٹ کلاس میں ایک حجابی لڑکی دیکھی تب بھی نہ خوش تھے جب میں نے کلب چھوڑ کر مسجد جانا شروع کیا وہ میرے سگے ہوتے یا میرے ساتھ مخلص ہوتے تو مجھے تب روکتے جب پہلی بار شراب پی تھی۔۔۔ میں نے عرصہ ہوا لوگوں کی پروا کرنا چھوڑدی وہ کسی حال میں خوش نہیں تم انھیں سوچنا چھوڑ دو پھر زندگی آسان لگے گی۔۔اور ایک بات یاد رکھنا اللہ کسی کو اسکی ہمت اور برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا لیکن انسان وہاں سے آزمانا شروع کرتا ہے جہاں ہمت اور برداشت کی حد ہوتی ہے۔۔۔۔ اب روگی تو نہیں؟؟ “ حجاب نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
” دیٹس لائک مائے بےبی “ وہ اسکے نقاب میں چھپے گال پر ہلکی سے چٹکی کاٹتے ہوے بولا
” پتا ہے تم روتے ہوے اتنی کیوٹ لگتی ہوکے سمجھ نہیں آتا تمہیں چپ کراوں یا ایک اور لگاؤں “ حجاب جو آنسوؤں پونچھ رہی تھی ابراز کی بات پر اسے مُکا مارا اور اس نے بھی اس دفع ڈھٹائی سے کندھا آگے کرتے ہوے حجاب کو پورا موقع دیا۔۔۔ حجاب اسکی حرکت پر منہ پھیر کے بیٹھ گئی ” بات نہ کرنا اب “ اسے صاف جواب دیکر وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔۔
” یوں ہم سے بات نہ کر کے جو آپ قہر ڈھا رہے ہو ناراضگی ہے یا اپنی اہمیت بتا رہے ہو؟؟؟ “
حجاب اس سے لفظوں میں کبھی جیت نہیں سکتی اسے لئے جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن ناراضگی قائم تھی۔۔۔
” ہاتھ تو دو کہیں گھم گئیں تو میرا کیا ہوگا؟؟ “
” چچھوڑے “ حجاب نے ہاتھ آگے کیا جسے ابراز نے مضبوطی سے تھام لیا۔۔
” صرف تمہارے لئے ہوں۔۔۔۔ “ ابراز کی اس دھیرے سے کی گئی سر گوشی پر حجاب کے لب پہلی بار مسکراے۔ زندگی بہت حسین ہے آگر من چاہا ہمسفر ساتھ ہے تو۔۔۔۔۔
” حجاب لیفٹ۔۔ “
” مجھ سے نہیں ہو رہا “ آج مہوش اپنے بچوں کے ساتھ حجاب سے ملنے آئی تھی تبھی ان سب کا باتوں باتوں میں تھرو بال کھیلنے کا پلین بنا حجاب نے صاف منع کیا اور ہونا کیا تھا اسکی نا نے ابراز کو اس کمزوری کا سختی سے احساس دلایا اب ایک گھنٹے سے وہ اسے الگ الگ مویمنٹس بتا کر اسے بال کیچ کرنا سیکھا رہا تھا لیکن حجاب نے ایک کیچ تک نہیں پکڑا۔۔۔
” پلیز ٹرائے کرو ہوگا “ ابراز کا بھروسہ حجاب کو رونے پر مجبور کر رہا تھا۔۔ ایک ٹیم میں پرنیا احتشام اور مہوش تھے جبکے دوسری ٹیم میں حجاب اور ابراز۔۔
” مجھ سے سچ میں نہیں ہوگا “ حجاب نے غصّے سے بال پھینکی جسے مہوش نے کیچ کرلیا اور وہیں سے دوبارہ بال پھنکی تبھی ابراز کی چیخ بلند ہوئی۔۔۔۔
” حجاب ہاتھ پھیلا کر نیچے جھکو “ ابراز کے کہے مطابق ڈر کے مارے حجاب نے ایسا ہی کیا اور۔۔۔ اور زور سے بال آکر اسکے ہاتھوں میں آن ٹھری
” ہرا۔۔۔۔۔۔ “ ابراز چیختا ہوا اٹھا اور بھاگتا ہوا حجاب کے پاس آکر اسے باہوں میں اٹھائے اوپر اوچھالا۔۔۔
” آ “ حجاب جو پہلے ہی کیچ پکڑنے پر حیران تھی اس عمل پر بوکھلا گئی اور اوپر سے مہوش کی موجودگی یاد آتے ہی وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی۔۔۔
” بھائی حجاب کا ہارٹ فیل ہوجانا نیچے اتاریں۔۔۔ “
مہوش کی ہنسی پر حجاب نے ابراز کی شرٹ سختی سے دبوچی جیسے یہ ابراز کی گردن ہو۔۔۔
” ظالما خوشی کا اظہار تھا۔۔۔ “ ابراز نے اسکی شرٹ والی حرکت پر چوٹ کرتے کہا
” ڈیڈ ونس مور۔۔ “ احتشام کی آواز نے دونوں کو چونکایا ابراز جہاں اس فرمائش پر مسکرایا وہیں حجاب نے احتشام کو دھمکی دی کیوں کے حجاب کو پتا تھا جس کام سے منع کرو ابراز وہی کرتا۔۔
” مار کھائوگے چپ رہو “ حجاب نے دانت پیستی احتشام کو کہا۔۔
” شیور۔۔۔ “ ابراز ڈھٹائی سے ابھی بھی مسکرا رہا تھا
” نہیں۔۔۔ “ حجاب چیختی رہی لیکن ابراز نے سننا کہاں تھا؟؟ ایک بار پھر اسے اوپر اوچھالا لیکن حجاب اب اسکی موجودگی میں ڈرتی نہیں تھی نہ اس اندھیرے سے خوف آتا نہ سیڑیوں سے گرنے کا خوف ہے نہ گرم چائے لگنے کا خوف اب بن دیکھے وہ احتیاط کرتی تھی ہر چیز چھو کر محسوس کرتی تھی کو ابراز نے اسے سکھایا تھا سمجھایا تھا اور اب تو اسکا سایہ اسکا شوہر ہمیشہ اسکے ساتھ رہتا۔۔ کھانا تک خود نکال کر اسے دیتا۔۔ بچوں کے چھوٹے کام بیگ تیار کرنا یونیفارم پریس کروانا سب وہ خود نگرانی میں کرواتا۔ حجاب کو یقین تھا لمحہ لمحہ اسکا جو ان تین دنوں میں سخت اذیت میں گزرا وہ اب ایک سہارا پاکر آگے کی زندگی کا سفر بہترین کردیگا اسے یقین ہے ابراز حیات کی محبت پر اور اس ایک ہفتے میں یہ یقین کچھ اور مضبوط ہوگیا۔۔۔۔۔
☆.............☆.............☆
” اے میرے مہربان تو ہی علاج ہے میری ہر اداسی کا۔۔ مجھے نہیں پتا تھا سب اتنا آسان ہے میں کبھی تیرے پاس اپنے گرز سے نہیں آیا بس ڈر سے آیا۔ اُس دن اُسکے اقرا نے میری روح کو قرار دیا ہے۔ کتنا تڑپا تھا کتنا بےبس تھا اُس وقت۔۔۔ ناقدری ریجیکشن ہر بار صرف اُسے کے ٹھکرانے سے گرا ہوں لیکن تیری ایک ٹھوکر نے ایسا کھڑا کیا ہے کے انسان کوشش کرتا رہا ہے لیکن میں نہیں گرا آخر کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ؟؟؟ میری قسمت ہی اس نے لکھی ہے جسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔ میں نے ایک جہاں لاکر اسکے قدموں میں رکھا لیکن وہ پگلی نہیں میں تڑپتا تھا بےبسی کی تصویر بنا پھرتا تھا لیکن فقط ایک سجدہ ایک سجدے نے اُسے میری سوچوں کا مرکز بنا دیا کیا زندگی اتنی آسان ہے تیرے ساتھ؟؟ میں بھٹکتا رہا یہ جانے بغیر کے تو تو اس دل میں رہکر میری رہنمائی کرتا رہا ہے۔۔۔۔۔ آج بھی مجھے بچا لے اب ڈرتا ہوں دل دکھانے سے ایک ایک کا انجام اپنی ان گہنگار آنکھوں سے دیکھا ہے میری ایک غلطی نے تیرے بندے سے وہ بینائی چھین لی اور سچ تو یہ ہے میں۔۔۔ اُسکے بغیر ادھورا ہوں میری دنیا ادھوری ہے میں نے تیری دی راہ پر عمل کیا ہے حلال رشتہ بنایا ہے اپنی بیوی سے پاک محبت کی ہے میں نے۔۔ اُسکے آنے کے بعد ایک گندی نظر تک نہیں اٹھائی وہ بھی راز ہے میری نئی زندگی کا کہیں نہ کہیں اُسکی باتوں نے بھی میرے اندر کے سوئے انسان کو جھنجھوڑا ہے۔۔۔۔ اب فقط ایک غرض ہے۔۔۔۔۔۔ “ لب ساکت ہوگے اور وہ جو خود پر کنٹرول کیے بیٹھا تھا بکھر گیا دعا کے لئے اٹھے ہاتھ گر گئے وہ سجدے میں جا جھکا اور۔۔۔۔۔۔
اور پھر میں نے رو رو کر دعا کی
اسے نواز کر مجھ سے چھین لینا
میری نسل کی امین ہے وہ
میری روح کا حصہ ہے
دنیا کی وہ واحد عورت ہے جس نے اعتبار دیا ہے مجھے۔۔۔۔۔
اُسکے بعد نہ پہلے کسی نے آنا ہے نہ آئے گی۔۔۔۔
سنا ہے سجدے میں انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے یہی وجہ ہے میرے سجدے طویل ہوتے گئے “
آج بھی وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا دنیا جہاں سے بےخبر اپنے رب کی بارگاہ میں جھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور سرخ آنکھیں لئے مسجد سے باہر آگیا ایک نئی امید کے ساتھ۔۔ بس اعتبار تھا، یقین تھا اپنے اللہ پر۔۔۔۔
ایک سمندر ہے جو میری قابو میں ہے
اور ایک قطرہ ہے جو مجھ سے سنمبھالا نہیں جاتا
ایک وقت تھا جو میں نے اُسکے بغیر گزارا تھا
اک لمحہ ہے جو مجھ سے گزارا نہیں جاتا۔۔
کوریڈور کے چکر لگاتے اُسکی حالت کسی بےبس پھڑپھڑاتے پرندے کی طرح تھی جو پر ہوتے ہوے بھی اڑھ نہیں سکتا تھا۔۔۔ نہ جان تھی نہ راستے کی خبر بس اوڑھنے کے لئے پھڑپھڑا رہا تھا۔۔
To be continue……..
نوٹ:- ناراض ریڈرس ناراضگی چھوڑیں اور جلدی جلدی قسط پڑھ کر بتائیں کیسی لگی۔۔ یسرہ جو کہ اسٹڈی میں بہت مصروف ہے اس سے زبردستی قسط لکھوا کر لائی ہوں اب پڑھ کر اچھا سا تبصرہ کریں۔۔ نیکسٹ بھی جلدی اپلوڈ ہوجائے گی۔
