Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

” کون ہو تم؟؟ “ حجاب نے آج غور سے اسے دیکھا تھا سرخ و سفید رنگت پتلی دبلی سی وہ کہیں سی بھی اسے خواجہ سرا نہ لگا۔۔۔۔
” میں۔۔۔ میں حجاب۔۔ وہ۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔ “ وہ بااعتیماد لڑکی جس نے دھڑلے سے جویریہ کو انکے بارے میں اتنا کچھ کہا تھا آج وہ کہیں سے اُس لڑکی کا عکس بھی نہ لگ رہی تھی۔۔۔
” آپ مذاق کر رہی ہو اتنی عزت؟؟؟ لوگ تو۔۔۔ تم بھی نہیں تو کہہ کر گھر سے نکالتے ہیں۔۔۔ “ حجاب کو اسکا لہجہ عجیب سا اپنا مذاق اڑاتا لگا
” میں معافی مانگنے آئی ہوں۔۔ “ حجاب نے ہونٹ کا کنارہ سختی سے کاٹا۔۔۔ شرمندگی سی اسکی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔۔۔
” ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ مجھ سے معافی۔۔۔ بی بی لگتا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں گھر جاؤ۔۔ “ خواجہ سرا کا قہقہ پورے گھر میں گونج رہا تھا لیکن حجاب جو اپنے اوپر اٹھی ہر نظر پہچان لیتی ہے آج اس خواجہ سرا کی نظروں کو پہچان نہ سکی۔۔۔آس پاس کھڑے دوسرے خواجہ سرا بھی اسے حیرت و بے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔۔
” مجھے معاف کردو۔۔۔ مجھے سکون نہیں آتا۔۔ میں۔۔ میں سمجھتی تھی میں اللہ‎ کی فرمابردار بندی ہوں۔۔ وہ میری سنتا ہے ہر نیک بندے کی سنتا ہے لیکن۔۔۔ لیکن وہ۔۔ گنہگاروں کی نہیں سنتا۔۔ تم جیسوں کی نہیں سنتا۔۔ مجھے غرور تھا خود پر اپنے نیک ہونے پر۔۔۔ لیکن اس نے مجھے آئینہ دیکھا دیا میرا بدصورت چہرہ۔۔۔ جس میں خود دیکھ کر ڈر گئی۔۔ اس انا پرست مغرور لڑکی کا مجسّمہ ٹوٹ گیا۔۔۔ اور جانتے ہیں جب وہ ٹوٹا سب سے پہلا صاف شفاف چہرہ مجھے آپ کا دیکھا۔۔ اگر آپ اللہ‎ کے نزدیک نا ہوتے تو مجھے وہ آپ کا چہرہ نہیں دیکھاتا سچ تو یہ ہے آپ اُس کی نظر میں مجھ سے بہتر ہیں میں نہیں کیوں کے میں یہ بھول گئی اُسے غرور نہیں پسند۔۔۔ نہیں پسند اُسے اور میں نے کیا غرور خود سے بہتر کسی کو نا سمجھا۔۔۔۔۔ اور دیکھیں آج مجھے۔۔۔ مجھے اپنے علاوہ ہر انسان خوبصورت لگتا ہے۔۔۔۔ “ وہ بلک بلک کے رو رہی تھی گھٹنوں کے بل بےدم سی ہوکر وہ زمین پر بیٹھی اس سے مافی مانگ رہی تھی جنکو کبھی وہ حقارت بھری نظروں سے دیکھتی تھی اسلیے کے جو اپنا آپ ہر کسی کو دیکھاتی پھرتی ہیں۔ اب خود حجاب ایک نظر اسے دیکھنے کو ترس گئی تھی۔
حجاب نے ایک ہچکی لیکر بمشکل اپنے ہاتھ جوڑے۔۔۔
” پلیز مجھے معاف کردیں۔۔ میں وہی تھی جس نے آپ کی مدد نہیں کی یہ کہا کے انکے ساتھ یہ عام ہے یہ روز ہی اس طرح کے مرد انہیں لے جاتے۔۔۔۔ میں حقارت بھری نظروں سے آپ لوگ کو دیکھتی تھی کبھی بُرا لگتا آپ لوگ کے لئے لیکن جب آپ کی تیاری دیکھتی سجتے سنورتے دیکھتی تب سوچتی تھی کے آپ یہی ڈیزرو کرتے ہیں۔۔ میں آپ لوگوں کو پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں میں ایسی تھی یہ کبھی نہیں سوچا کے آپ بھی اُسکی بنائی تخلیق میں سے ایک ہیں۔۔۔۔۔ میں کیسے اسکی کسی مخلوق سے نفرت کر سکتی ہوں جب کے ہمیں تو دشمن سے بھی اچھا سلوک کا کہا گیا ہے پھر آپ تو۔۔۔ “ وہ اپنے جڑے ہاتھوں پر سر رکھے ایک بار پھر رو پڑی۔۔ ایک بوڑھی عورت جو کب سے اسکا رونا بلکنا دیکھ رہی تھی پاس آکر اسے اٹھایا۔۔
” اٹھ جا دھی۔۔ یہ ایسی بنتی ہے غصّے والی اصل میں ہے نہیں۔۔ تم اٹھو یہاں بیٹھو۔۔ “ انہوں نے حجاب کا ہاتھ تھامے اسے اٹھایا تب تک حجاب کی نظروں نے ایک نظر آس پاس کا جائزہ لیا وہاں بہت سے خواجہ سرا تھے ایک پل کو حجاب کے وجود میں خوف سے لرزش طاری ہوگئی۔۔
” ڈرو مت دی یہ کیا بُرا کریں گئے؟ جو خود پل پل ڈرتے ہیں اور یہ چمیلی تو بہت نرم دل کی مالک ہے “ حجاب نے اٹکی سانس بہال کر کے سامنے کھڑے اسی خواجہ سرا کو دیکھا جو عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا حجاب نے نہ چاہتے ہوے بھی وہ سوال پوچھا جو اسے تنگ کر رہا تھا۔۔
” کیا آپ نے مجھ بددعا دی تھی؟؟ “ ڈر ڈر کے اس نے یہ سوال پوچھا تھا اسے شرمندگی بھی ہو رہی تھی لیکن دلی سکون اسی میں تھا اسے کسی کی آہ سے ڈر لگتا تھا۔۔۔
” بددعا؟؟ ہم تو دعا دینے بھی جاتے ہیں تو لوگ حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔۔ ہمارا تو خدا کے علاوہ کوئی نہیں۔۔ ایک دوسرے تک سے بچھڑ جاتے ہیں۔۔۔ یہ سامنے اسکو دیکھو ایک ہفتے پہلے اسے گلی کے آوارہ لڑکے لیکر گئے آج چھوڑ کے گئے ہیں دیکھو اسکی حالت۔۔“ چمیلی کا پارا بددعا سن کر ہائی ہوگیا اُس نے چار پائی پر لیٹی اس لڑکی کی طرف اشارہ کرتے کہا حجاب کی نظر اس پر پڑی تو بےختیار اپنے ہونٹ پر ہاتھ رکھ کے سسکی روکی۔۔۔ بدتر سے بدتر حالت تھی اسکی۔ جسم سے لیکر چہرہ تک بُری طرح زخموں سے گھائل تھا۔۔
” بی بی تم نے سہی کہا یہ روز ہی ہم جیسوں کے ساتھ ہوتا ہے پر ہم ہی کیوں ہمارا کیا قصور ہے اگر پیدا ہوتے ہی ماں باپ ہمیں لاوارثوں کی طرح ہم جیسوں کے پاس چھوڑ جاتے ہیں یا کسی کچرے کے ڈبے میں پھنک دیتے۔۔۔ یہ تک نہیں سوچتے ایک دن کا معصوم بچا کیا کریگا کسی کو کیا تکلیف پہنچائے گا؟؟۔۔۔۔“ حجاب کو چمیلی کی آواز رندھی ہوئی لگی۔ تکلیف کے آثار اسکے چہرے سے نمایاں تھے۔۔۔
” گالیاں کھاتے ہیں روز، لوگ ہنستے ہیں ہم پر، لیکن مجھے کسی سے شکوہ نہیں بس اُس ماں سے ہے پوچھنا ہے جب لاوارث ہی کرنا تھا تو کیوں پیدا کیا مار دیتی تیرا یہ احسان نا بھولتا۔۔۔دس سال کا تھا جب ابا نے گھر سے نکال دیا۔۔ اُس باپ کی بس ایک محبت بھری نظر کے لئے ساری زندگی ترستا رہا۔۔۔۔آج تک وہاں جاتا ہوں یہ امید لیکر کے شاید بس ایک بار محبت سی دیکھ لے۔۔۔۔ لیکن میں تو انسان ہی نہیں تھا کوئی گناہ تھا جسے مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گهر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ بند کردیا جاتا ہے، جس پر ابا روز مار کر اپنا غصّہ اتارتے، دس سال کے بچے کی چمڑی اتار دیتے وہ مارتے مارتے تھک جاتے تھے لیکن میری ماں کی سسکیاں نہ رکتی تھیں۔۔۔ وہ چپل مارتے مارتے ٹوٹ جاتی لیکن ابا کا دل نرم نہ ہوتا۔۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اُس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گهر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔۔ اور وہ لمحے میری زندگی کے خوبصورت ترین لمحات میں سے تھے جب وہ ابا سے چھپ کے میرے پاس آتی۔۔ میرے آنسوؤں پوچھتی مجھے اپنے سینے سے لگا لیتی ایک لفظ نہ نکلتا تھا ہمارے منہ سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر روتے رہتے، وہ میرا ماتھا چومتی میرے ہاتھ چومتی۔۔ آنکھوں میں ممتا بھری پیاس ساری رات مٹاتی میں ایک سوال پوچھتے پوچھتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا ایسی کیا خطا ہوئی جو اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح میں ابا کی محبت کا حقدار نہیں؟؟؟ دعا ساری رات میرے ہونٹوں سے نہ جاتی کے کاش یہ رات ختم نہ ہوتی کیوں کے صبح ہوتے ہی میری وہ ماں دنیا کی بھیڑ میں کہیں گھم ہوجاتی اور ابا کی بےحس بیوی خاموش بنی میری بےبسی کا تماشا دیکھتی۔۔۔۔
جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا میں اُسے پکارتا رہا روتا رہا لیکن وہ دوپٹے سے منہ چھپائے روتی رہی ابا مجھے گھسیٹتے ہوے ایک گرو کے پاس لے آئے جہاں مجھ پر سخت نظر رکھی جاتی ناچ گانا سکھایا جاتا۔۔ جب کبھی موقع ملتا اُسکی یاد میں گرفتار دیوانہ وار اپنے گھر کو بھاگتا وہ کبھی میری بہن بھائیوں کو اسکول بھیج رہی ہوتی تو کبھی گرما گرم روٹی کا نوالہ بنا کر انھیں کہلاتی ہر نوالے کے ساتھ میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔۔ ابا کو روز دفتر جاتے دیکھتا تو یہ خوائش سینے میں ہی دفن ہوکر رہ جاتی کے کاش مجھے ایک دفع اپنے سینے سے لگا لیں۔۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کهو بیٹھا تھا۔ پهر اسی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پهر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاه نہ تهی۔
پهر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پهرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔۔۔۔ یہ دنیا نہ جینے دیتی ہے نہ مرنے نوکری تو کیا ہمیں تو کوئی اپنے سامنے کچھ دیر کے لئے برداشت نہیں کرتا تو کوئی ملازمہ بھی کیوں رکھے گا ہمیں؟؟ لیکن اسی گناہ سے اپنی حوس ضرور مٹائی جاتی ہے۔۔۔ بی بی تم کیوں رو رہی؟؟ نا رو بددعا نہیں دی تمہیں تم سے کوئی گلا نہیں بس اپنی ماں سے ایک التجا ہے سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کےحوالے سے پکارا جائے گا۔ بس اتنی سی التجا ہے کہ اس دن وہ مجھ سے منہ نہ پهیرے۔۔۔۔ جاؤ بی بی مجھ تم سے کوئی شکوہ نہیں اللہ‎ تمہیں خوش رکھے اور نیک اولاد سے نوازے!!!! “ چمیلی خود بھی رو رہی تھی منہ پھیرتے اس نے حجاب سے کہا تھا جس کو چلنا تک محال لگ رہا تھا کوئی اتنا دکھ اتنی تکلیف کیسے برداشت کر سکتا ہے؟؟ اور میرے الفاظ اُسکی مدد کی پکار کیا کچھ یاد نہیں چمیلی کو؟؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟
” تم۔۔ “ اس سے پہلے حجاب کچھ پوچتی چمیلی ابھی تک اسکی موجودگی بھانپتے غم و غصّے سے چلا اٹھی۔۔۔۔
” یہاں سے چلی جاؤ بی بی تم اُسکی بیوی ہو جس نے مجھے عزت دی تھی احسان کیا تھا۔۔۔ “ چمیلی کی بلند آواز نے حجاب کو جھنجھوڑ ڈالا وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آئی۔۔
” تمہیں یاد ہے نہ سب۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو تمہیں سب یاد ہے تم نے میری جان بھی بچائی تھی تمہیں سب یاد ہے تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔ “ وہ جو انکو اپنے قریب تک برداشت نہیں کرتی تھی آج خود اسکے قریب آکر جنونی انداز میں بولی۔۔
” کبھی اُسکے ساتھ ظلم نہ کرنا جسکا اللہ‎ کے سوا کوئی
نہیں۔۔ “ چمیلی کی غم میں ڈوبی آواز نے حجاب کے حواس چھین لئے ایک بار پھر وہ شدید گلٹ میں مبتلا ہوگئی۔۔۔ چمیلی نے آنکھیں بند کر لیں اسے سب یاد ہے وہ کی گئی اپنی التجا۔۔۔
” باجی میری مدد کرو یہ مجھے مار رہیں ہیں “ وہ لڑکے اسے گھسیٹتے لاتیں مار رہے تھے وہ درد سے بلبلا رہی تھی چیخ رہی تھی التجا کر رہی تھی لیکن کوئی نہیں آیا اور حجاب اسکا جواب یاد آتے ہی چمیلی کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں۔۔
” یہ روز انکے ساتھ ہوتا ہے لیکن کوئی انکی مدد کو نہیں آتا “
وہ خود تو نہیں آئی اپنی دوست کو بھی روک لیا چمیلی کی امید بھری نظریں حجاب کے جملے سے واپس لوٹ گئیں انہیں جاتا دیکھ چمیلی کو خود پر ترس آیا لیکن بےحس لوگوں کی دنیا میں وہاں کوئی بھی ایک پتا تک حساس نہ تھا سب تماشا دیکھ رہے تھے اور وہ پھٹے کپڑوں میں پٹ رہی تھی۔۔
” پلیز مجھے معاف۔۔۔ “ حجاب کی آواز نے چمیلی کی سوچوں کا تسلسل توڑا۔۔
” جاؤ بی بی میری دعا ہے تمہیں ہم جیسا نہ ہو کیوں کے تم برداشت نہیں کر سکو گی۔۔ اور تم نے میرا احسان چکا دیا یہاں آکر مجھے اہمیت دے کر معافی مانگ کر کیوں کے میں وہ ہوں جس کے منہ پر لوگ تھوکنا تک پسند نہیں کرتے۔۔ “
حجاب آج اپنی ہی نظروں میں گر گئی یہ تھا وہ جسے اس نے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی تھی ایسی کے وہ صرف خدا کے آگے رویا تھا اُسکی سننے والا مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔۔ ایک ایک مار جو اسے پڑی اس وقت حجاب کو اپنے دل پر لگ رہی تھی کاش وہ ہمت کرتی باقی بھی خود چلے آتے لیکن وہی بزدلی۔۔ یہ بزدلی کاش تب آتی جب زبان سے دوسروں کو وہ لہو لوہان کرتی۔۔۔۔
” حجاب چلو۔۔ “ وہ جو کب سے اسکے انتظار میں باہر کھڑا تھا اندر چلا آیا اور حجاب کو اس طرح روتے دیکھ ابراز کا دل کٹ کے رہ گیا۔
” ابر۔۔۔ابراز۔۔ “ وہ اسکے سینے سے لگی بلک اٹھی چمیلی ایک نظر انہیں دیکھ کر اندر چلی گئی۔ جبکے آس پاس کھڑے وہ لوگ اب ابراز کو دیکھ رہے تھے
ابراز اسے الگ ہوتا اپنے ساتھ کھنچتا باہر لے آیا کار میں بٹھا کر اس نے ریموٹ کنٹرول سے کار لاک کی اور قدم قدم بڑھاتا واپس اسی گھر میں چلا آیا۔۔
چمیلی ہاتھ میں جیکٹ لئے اسی کے انتظار میں کھڑی تھی۔۔
” میں نہیں جانتا نہ جاننا چاہتا ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے زندگی میں جب میری ضرورت ہو بس ایک بار پکارنا میں حاضر ہونگا۔۔۔ “ وہ اس سے جیکٹ لیتا مسکراتا ہوا بولا۔۔
” اسکی ضرورت نہیں ہوگی وہ خود آپکو میری مدد کرنے کے لیے بھیجے گا۔۔۔ “ چمیلی کی مدھم مسکراہٹ نے ابراز کو پُر سکون کیا اسے کبھی بھی یہ لوگ بُرے نہیں لگے بس انکا مانگنا اسے بُرا لگتا تھا جسکا ذکر اس نے چمیلی سے کیا تھا اور اُسکی داستان سننے کے بعد ابراز نے اسے ایک کنٹریکٹ دلایا تھا یتیم بچوں کے لئے اور بوڑھوں کے لئے کھانا بنانے کا جو الگ الگ یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہوم میں جاتا جسکی اچھی خاصی قیمت ان سب کو ملتی اورفینیج میں ابراز نے خود تین بچے گود لئے تھے جنکا خرچہ آج تک وہ خود چلاتا ہے چھوٹی ہی عمر میں وہ ان کاموں میں ملوس ہوگیا تھا اسے یاد ہے ایک دفع پوری کلاس سے پچاس روپے ڈونیشن کے لئے مانگے گئے تھے وہ ان سنا کرتا اپنا کام کر رہا تھا صرف وہی نہیں بلکے کافی بچے بے زار سے اپنے کام میں مگن رہے تب جو ٹیچر نے انہیں لیکچر دیا تھا ابراز اب تک نہیں بھولا بلکے ایک ڈر بھی بیٹھایا تھا کے مدد نہ کرنا گناہ ہے بس تب سے وہ جب بھی انکو دیکھتا اپنے ٹیچر کا وہ لیکچر ذہن میں ریوائین کرتا تاکے انسانیت سے ہٹ کے بےحسی کا ثبوت نا دے۔۔۔۔۔
” بےشک “ وہ کہتا ہوا پلٹا اور وہاں سے نکل آیا۔۔۔ آج حجاب کے آپریشن کو ایک ماہ گزر گیا تھا اسے یقین تھا کچھ ایسا ہی ہے جس سے حجاب روے گی بس اسی ڈر سے وہ اسے یہاں لیکر نہیں آنا چاہتا تھا اور آج ایک ماہ بعد جب وہ پوری طرح پروگریس کر رہی تھی ابراز اسے یہاں لے آیا اس امید سے بس آگے کوئی مصلہ نہ ہو اور وہ اس گلٹ سے نکل کر چمیلی کو ہمیشہ کے لئے بھلا دے۔۔
ہم وہ انسان ہے جو نعمت چھینے کے بعد قدر کرتے ہیں ابراز نے دیکھا تھا اُسے شکر کرتے ہوے وہ اُسکی ایک ایک نعمت کا شکر ادا کرتی ہے۔ چاہے وہ رزق ہو صحت ہو بینائی ہو یا قوت گویائی اُسکی بنائی چیز میں کوئی ڈیفکٹ نہیں ہوتا نہ احتیاط کی نوبت آتی ہے یہ سب حجاب کو آپریشن کے بعد پتا لگا جب شروع شروع میں اسے کبھی کبھی دھندلے عکس دیکھتے آنکھوں میں جلن ہوتی، درد ہوتا۔۔ اور اب سختی سے احتیاط لازمی تھا ورنہ قدرتی نعمت میں احتیاط کہاں؟۔۔۔
اے انسان “اور تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے”؟؟؟حجاب کو کم سے کم ایک مہینا لگا تھا ان سب سے نکلنے کے لئے وہ کوشش کرتا اسے کوئی بات یاد نہ آئے لیکن حجاب چاہ کر بھی اُسے بھول نہیں پا رہی تھی لیکن اب حجاب کی دعا میں چمیلی جیسے لوگ بھی شامل ہوگے جو ان سب سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

آفٹر ٹو منتھس۔۔۔
عبائے میں ملبوس وہ آفس کی گلاس وال پش کرتی اندر چلی آئی۔ اسکے آتے ہی ریسپشن پر بیٹھی لڑکی (منتہا) نے اسے سلام کیا مسکراتے ہوے حجاب نے جواب دیا نقاب کے باعث مسکراہٹ واضع نا تھی جب کی مسکراتی آنکھیں منتہا دیکھ چکی تھی۔۔۔ جیسے جیسے اسکے قدم اپنے شوہر کے کیبن کی طرف بڑھ رہے تھے آتے جاتے لوگ اسٹاف ممبر اسے اٹھ کر سلام کر رہے تھے وہ جواب دیتی اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
گلاس وال کے سامنے کھڑا وہ نیچے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتا فون کان سے لگائے کسی امپورٹنٹ میٹنگ کا شیڈیول فکس کر رہا تھا کے یکدم گرم ہاتھوں کے لمس نے اسکی دونوں آنکھیں بند کر دیں اس لمس کو محسوس کر کے ابراز کے ہونٹوں پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ رینگی۔۔۔
” الطاف بعد میں بات کرتا ہوں ابھی بزی ہوں “ وہ عجلت میں کہتا فون رکھنے لگا تھا کے دوسری طرف الطاف کے مزید سوال سے چڑ کر بولا۔۔۔
” کہاں نا بعد میں۔۔۔ اور باہر سب کو بول دینا مجھے ڈسٹرب نا کرے۔۔۔۔ “ سرد لہجے میں اسے حکم دیکر وہ مسکراتے ہوے پیچھے مڑا۔۔۔
” ان اداوں سے کسی دن جان لیے لوگی میری۔۔۔ “ ابراز نے کہتے ہی اسکے نقاب سے پن ہٹائی تو اسکا روشن صاف شفاف چہرہ ابراز کی آنکھوں کو واضع ہوا۔۔ خود اپنے ہاتھوں سے نقاب ہٹانا اسے کس قدر سکون بخشتا تھا حجاب اندازہ لگا لے تو دن رات نقاب کرتی پھرے یہ اس بات کا اقرا کرتا ہے گوائی دیتا ہے کے سامنے کھڑا چہرہ صرف اسکی ملکیت ہے۔۔۔
” جیسے میں نے مان لیا؟؟ نجانے کتنی تو اس دل پر راج کر چکی ہیں۔۔۔ “ اسے تنگ کرنے کو وہ طنزیہ انداز میں بولی
” خدا کی بندی صرف یہ نقاب والی راج کرتی ہے باقی تو ہمیشہ خود آئیں گئیں لیکن یہ نقاب والی حسینہ میں خود سے لایا تھا مگر تمہیں افسوس ہوگا اُسے جانے نہیں دیا اُسے جانے کی چاہ ہو تب بھی نہیں۔۔۔ “ پر اعتماد لہجے میں کہتا آخر میں وہ مسکرایا تھا۔
” آگر جاؤں تو جا سکتی ہوں۔۔۔ “ وہ بھی اسی کے انداز میں جتا گئی کے اپنے مرضی کی مالک ہے۔۔
” جاکر تو دیکھاؤ الٹا نا ٹانگ دیا اس بلڈنگ سے تو میرا نام بھی رازی نہیں نقاب والی حسینہ۔۔ “ وہ اسکے گال پر زور سے چٹکی کاٹتا دھمکی دے گیا۔۔۔
” نیا نام رکھا ہے میرا ؟؟؟ “ حجاب کو نام ہضم نہیں ہوا اپنا گال سہلاتے گھورتے ہوئے ابرو اچکا کے پوچھا۔۔۔
” کیوں حق نہیں؟؟؟ “ آنکھیں سکوڑ کر کچا چبانے والا انداز تھا ۔” مجھے ہی تو سارے حق حاصل ہیں بےبی۔۔ نام رکھنے کا یہ نقاب ہٹانے کا لیکن اور کسی کا نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔۔۔ “ حکمیہ انداز تھا حجاب دیکھتی رہ گئی۔۔
” اگر امی ہٹائیں تو بھی؟ “ شہادت کی انگلی ٹھوڑی پر رکھے وہ پر سوچ نگائوں سے اسے تک رہی تھی ابراز نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔
” تو ان سے کہوں گا ساسو ماں بیٹی یہ آپ کے گھر میں ہے۔۔ میری گھر اور آفس میں یہ صرف میری ملکیت ہے جسٹ رازی حیات کی۔۔۔ “ اسے اپنے حصار میں لیتا وہ محبت پاش لہجے میں کہتا حجاب کو نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا دھیمی نرم مسکراہٹ حجاب کے ہونٹوں پر چھوڑ گیا۔۔۔۔
” لیکن تم میرے نہیں ہو سارا دن آفس میں رہتے ہو بیوی کی کوئی خبر نہیں ابھی بھی کہاں سے ہوکر آئی تمہیں علم بھی نہیں۔۔۔ “ وہ اسکی لو دیتی نظروں کو نظر انداز کرتی اسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی نظریں جھکائے بولی
” یہ الزام ہے وہ بھی بےتکا آپ جناب ذرا خود پر غور کریں رات شوہر کو تڑپا کر دادو کے پاس سونے چلی گئیں؟؟ “ ٹھوڑی سے پکڑ کے چہرہ اونچا کر کے اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ اس الزام پر تپ اٹھا۔۔۔
” ابراز سال میں ایک ہی بار دادو آتی ہیں اور ویسے بھی جب تم نے مجھے کمرے سے نکالا تھا تب دادو نے ہی اپنا روم شیر کیا تھا۔۔“ وہ یکدم اسکے ہاتھوں کو جھٹکتی تین چار قدم پیچھے ہٹتی بہت کچھ جتا گئی ابراز نے اُس دن پر سو لعنیتیں بھیجیں۔۔۔
” زندگی بھر طعنہ دیتی رہنا اس بات کا۔۔۔ “ معصومیت سے کہتا طنز کا تیر چلا گیا۔۔ حجاب کچھ سوچ کر مسکراتی ہوئی قدم قدم بڑھاتی اسکے قریب چلی آئی۔ اسکے گردن میں بائیں ڈالے اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
” طعنہ، غیبت، بُرائی صرف تمہاری ہی کرونگی آخر حق رکھتی ہوں۔۔ “ اعتیماد، رعب کیا کچھ نہ تھا لہجے میں ابراز کی دلچسپ نگاہوں نے اس منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کر لیا۔۔۔
” کس سے کروگی۔۔ ساسو ماں یا شوہر کی ماں؟؟ “ وہ بھی اب دلچسپی سے پوچھ رہا تھا
” صرف شوہر سے۔۔۔ “ طعنہ غیبت ان سب سے وہ توبہ کر چکی تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کو تنگ کرنے کا موقع نہیں جانے دیتے ابراز جہاں اسے آمنہ سے ڈانٹ پڑواتا وہیں حجاب اسکے سامنے اِسکی بُرائی فبیحہ سے کرتی جس پر فبیحہ ابراز کے کان کھنچتی یہ منظر دونوں بچے دلچسپی سے دیکھتے۔۔۔
” ہممم یہ بھی ٹھیک جب الزام ہی ہم پر ہیں تو شکوہ کسی اور سے کیوں کرنا؟؟ “ حجاب کی نگاہیں ان نظروں کی تپش برداشت نہ کر سکیں اور جھکتی چلی گئیں وہ دونوں بازو اسکی گردن سے ہٹاتی ابراز کی چیر پر آبیٹھی۔۔۔
” بچے آنے والے ہونگے مجھے جلدی نکلنا ہے تم ذرا یہ بتاؤ اتنے لاپروا کیوں ہو؟؟ نہ گھر کی خبر ہے نہ جہان کی؟؟ ذرا بتانا اس منتھ کتنا منافع ہوا؟؟ “ وہ سامنے رکھے لیپ ٹاپ کو کھوجتی نگاہوں سے گھورتی ٹیبلز پر رکھی فائلز دیکھنے لگی
” بچنے کا آسان طریقہ ہے۔۔ خیر یہ لو میڈم اس فائل میں ہر ڈیٹیل موجود ہے آپ ذرا آج کی روا داد سنائیں۔۔۔ “ وہ اسکی چالاکی سے خوب واقف تھا اسکے برابر میں چیر لیکر آ بیٹھا اور لپ ٹاپ اپنے سامنے کرتے اپنا کام کرنے لگا جبکے حجاب اسے آج کے پورے دن کی ڈیٹیل ہمیشہ کی طرح سنانے لگی۔۔
” میں ڈاکٹر سے ملنی گئی تھی تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا خیر میں بتاتی ہوں ڈاکٹر نے کہا۔۔۔۔ “ وہ بولتی چلی جا رہی تھی ابراز کا دیہان دونوں طرف تھا حجاب کو سخت غصّہ آیا اسکی بےنیازی پر پھر یکایک ایک سوچ کے تحت اس نے اپنی طرف سے بتانا شروع کیا۔۔
” پھر انہوں نے کہا بلڈ کی کمی ہے بلڈ لگے گا۔۔ “ وہ جو بےدھیانی میں اسے سن رہا تھا فل الرٹ ہوگیا دل کی دھڑکن یکدم سے مدھم ہوگئی ایسا تو ڈاکٹر نے کچھ نہیں کہا تھا پھر؟؟؟
” یہ کب کہا؟؟ “ وہ اب پوری طرح حجاب کی طرف متوجہ تھا جو کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی
” یو چیٹر تمہیں سب پتا ہوتا ہے ناٹک کرتے ہو اب میں بولونگی ہی نہیں۔۔۔ “ وہ دانت پیس کر رہ گئی پھر ابراز کو ناچار اسے بتانا پڑا کے کس طرح اس نے ڈاکٹر کو کال کر کے بس اسکی صحت کا پوچھا تھا لیکن حجاب کی وہاں آواز سن کر ابراز نے ڈاکٹر سے ریکویسٹ کر کے فون رکھنے سے منع کیا اور سب سنتا گیا۔۔ حجاب ایکسپٹ کر رہی تھی اور روٹین چیک اپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ لیکن اس سے پہلے ہی ابراز ہر کہیں ٹپک پڑتا نہ گھر میں اسکی حکومت کم ہوتی نہ باہر وہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔۔۔
” سکون پتہ ہے کیا ہے ایک پل میں تیری آواز سن کر دن بھر کی تھکن کا اتر جانا۔۔۔ “ اکثر آفس سے آکر جب وہ بیڈ پر گڑتا یہی ایک جملا حجاب کو دیکھتے دہراتا جو بچوں کے یونیفارم پریس کر رہی ہوتی۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو کسی حالت نہیں بخشتے ابراز چلتے پھرتے اسے تنگ کرتا اپنے پیچھے دوڑاتا سنڈے کو اسکے ساتھ کچن میں کائونٹر پر بیٹھ کر اسے پریشان کرتا حجاب کے تنگ آنے پر کہتا۔۔
” بےبی جتنا مجھے سوچوگی دیکھوگی محبت اتنی بڑھے
گی “ حجاب بس ایک سرد نگاہ اس پر ڈال کر رہ جاتی۔۔۔۔
ایک دفع تو حجاب کو ابراز نے اپنے پیچھے باقاعدہ دوڑایا تھا۔۔۔ وہ کوئی فائل لینے گھر لوٹا تھا حجاب بھی پورے روم کو بکھیرے وہ فائل ڈھونڈ رہی تھی کے ابراز کو الماری میں گھستے دیکھ پوچھا جو کوئی پپرز دیکھ کر مسکراے جا رہا تھا۔۔
” فائل مل گئی؟؟ “ ابراز جو پپرز دیکھ کر مسکرا رہا تھا حجاب کی پکار سن یکدم چونک اٹھا
” نہیں “
” پھر کیا دیکھ کر مسکراے جا رہے ہو۔۔ “ ابراز کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔۔۔
” نکاح نامہ “ وہ ایک نظر حجاب کو دیکھ کر بولا
” تو اتنی غور سے کیا پڑھ رہے ہو؟؟ “ حجاب نے کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتے پوچھا
” پڑھ نہیں رہا ایکسپائیری ڈیٹ ڈھونڈ رہا ہوں “ وہ ہنستا ہوا نکاح نامہ رکھ کے دوڑا۔۔۔۔
” آئ ول کل یو۔۔۔ “ وہ اسکے پیچھے دوڑتی ہوئی باہر نکلی لیکن وہ ہنستا ہوا نیچے بھاگ گیا کیوں کے اسے اپنی فائل بھی مل چکی تھی جو نکاح نامہ ڈھونڈتے وقت ملی تھی۔۔ وہ اسے اسی طرح تنگ کرتا اکثر جب وہ اسے باتیں کرتی ابراز نظریں جھکائے معصوم بچوں کی طرح تابعداری سے اسے سنتا لیکن جیسے ہی نظریں اوپر اٹھاتا حجاب کی چلتی زبان روک جاتی اور وہ اٹھنے لگتی کیوں کے جس طرح وہ گھورتا حجاب خود میں سمٹ کر رہ جاتی۔۔۔ ہر طرح کے ہتھیار اسکے پاس موجود تھے جس سے وہ حجاب کو تنگ کرتا۔۔
کبھی آمنہ کے سامنے اسکی کلاس لگاتا کے میرے کام نہیں کرتی کبھی اسے باتوں سے تنگ کر کے اپنے پیچھے بھگاتا۔۔
اور اس خوشیوں بھرے سفر میں کچھ عرصے بعد انکی زندگی میں ایک نیا مہمان شامل ہوا ” آیان “ یعنی اللہ‎ کا طرف سے تحفہ جو نفش ونگار میں ہوبا ہو ابراز کی کوپی تھا لیکن کاموں میں اس سے سو ہاتھ آگے تھا۔۔۔ اسکے پیدا ہوتے ہے ابراز نے اسے فبیحہ کو سونپ دیا ایک عرصے سے جو ابراز ان سے ناراض تھا اگر رو رو کر بھی معافی مانگے تب بھی اُس بےچینی،آس، غم کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو اس نے فبیحہ کو دیے تھے۔ یہ کفارہ تھا یا ماں کی محبت بس ابراز اب انہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
” یہ آج سے آپ کا ہوا آپ کا بیٹا آپ کا رازی “ فبیحہ جو احتشام کو ہوم ورک کرا رہی تھی اچانک سے ابراز کی اس مہربانی پر دیکھتی رہ گی حجاب ایک ہفتے پہلے ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی تھی آج آیان پورے سات دن کا ہوا تھا اور ابراز نے اچانک سے آکر اپنی جان اسکی گود میں رکھ دی۔۔۔ فبیحہ نے کانپتے ہاتھوں سے آیان کو اٹھایا اور لرزتے ہونٹوں سے اسکی پیشانی چوم کر احتشام کے برابر رکھ دیا جو یک ٹک اپنی موم اور ڈیڈ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
” بہت بُرے بیٹے ہو تم رازی بہت بُرے کبھی میرے آنسوؤں کبھی میری بےچینی محسوس نہیں کی؟؟ حجاب مجھے کتنی عزیز ہو چکی تھی اندازہ ہے؟؟ بس تمہاری طرح ضدی تھی ورنہ اُسکے اخلاق احترام نے مجھے کب کا جھکا دیا اور جھکتی بھی کیوں نہ میرے رازی کی پسند تھی وہ لیکن تم؟؟ اتنے سال لگاے لوٹنے میں۔۔۔ ایک سوری تک کہنے میں تمہیں شرم آرہی؟؟ میں جو بات بات پر تم سے بچپن میں سوری کرتی تھی مجھے تو شرم نا آئی۔۔۔ “ ابراز کے سینے سے لگی کتنی دیر وہ روتی چلی گئی ابراز کی سرخ آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر انکے بالوں میں جذب ہوگے۔ آج بھی وہ بلا کی حسین تھیں لگتا نہیں تھا وقت انھیں چھو کر بھی گزرا ہو لیکن اب ساری سرگرمیاں انہوں نے ترک کر دیں تھیں اب گھر سے باہر جاتیں بھی تو بچوں اور حجاب کے ساتھ ڈنر یا لنچ کرنے اور شوپنگ لیکن اپنوں کے ساتھ رہتیں بس پرائیوں کو عرصہ ہوا بھلا چکیں وہ۔۔۔
” سوری موم فور ایوری تھنگ۔۔ “ انکی پیٹ تھپک کر دلاسا دیتے وہ خود سے بھی شرمندہ نظر آرہا تھا فبیحہ نے پنجوں کے بل اونچا ہوکر دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر ابراز کی پیشانی چومی۔ ابرا کی آنکھوں کی چمک کچھ اور بڑھ گئی۔۔
گھر میں بچوں کے جانے کے بعد حجاب اور فبیحہ ہی آیان کے آگے پیچھے گھومتیں اور واقعی وہ ایک سب پر بھاری تھا اکثر حیات صاحب بھی کہتے۔۔
” اس دفع پوتا ٹکر کا ہے “ آیان کی ایک ایک حرکت پر وہ قہقہ لگانے پر مجبور ہوجاتے جو اپنے باپ سے لگتا تھا آیا ہی ماں کا بدلا لینے ہے۔۔۔ ایک دو دفع دودھ سے بھرا فیڈر آیان نے ابراز کی فائل پر گڑا دیا وہ ابھی دو سال کا تھا لیکن حرکتیں چار سال کے بچوں والی تھیں۔ وہ اپنا فیڈر دانت میں دبائے تقریباً منہ سے لگاتا رہتا کسی کو چھونے نا دیتا سوائے حجاب اور فبیحہ کے اور یے استمعال وہاں سہی وقت پر کرتا جہاں سامنے والے کو پریشان کرنا ہو۔۔۔
ابراز ابھی تھکا ہارا آفس سے لوٹا تھا وہ ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کرتا صوفہ پر آکر ڈھ گیا جہاں آیان بیٹھا احتشام یا پرنیا کی کاپی پر الگ کلرس سے لائنیں کھنچ رہا تھا۔۔۔ ساتھ رازی کو دودھو لانے کا حکم دیا جو سامنے ٹیبل پر پڑا تھا۔۔
” لادی۔۔ دھودو۔۔ “ ابراز کا دل چاہا خود کو شوٹ کر لے سامنے پڑا تھا اسکا فیڈر لیکن صاحب کو باپ کو تنگ کے بغیر کچھ بھی ہضم کہاں ہوتا ہے؟؟؟
” پھٹ جائے گا موٹے۔۔ “ ابراز نے اسے گھورتے کہا جسکا وزن اچھا خاصا بڑھ چکا تھا۔۔ اور اسے حکم دیکر وہ واپس اپنی کام میں مشغول ہوگیا آیان اوندھے منہ لیٹا تھا پیٹھ چھت کی طرف تھی۔۔۔۔
” دھندے لادی۔۔۔ “ آیان نے توتلی زبان میں رازی کو گھورتے غصّے سے کہا فبیحہ کی دیکھا دیکھی وہ بھی ابراز کو رازی کہتا ہے۔۔۔۔
” کس پر گیا ہے یہ؟؟ “ ابراز نے معصومیت اور کچھ بیزاریت سے سامنے کافی کے کپس لاتی حجاب سے کہا۔۔۔
” مما کہتی ہیں تم پر گیا ہے۔۔ “ اسکے سامنے کافی کا کپ رکھ کر وہ اپنا کپ لیکر آیان کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔
” استغفرالله میں اسکی انگلی برابر بھی نہیں تھا۔۔ خومحوا کا الزام؟؟ تمہیں تو بس موقع چاہیے پڑوسی کی لڑکی بھاگی ہو تب بھی قصور رازی کا ہے “ حجاب کی ہنسی چھوٹ گئی جبکے آیان آکر رازی کی گود میں چُپ چاپ بیٹھ گیا۔۔
” تب تو کنفرم ہے “ حجاب نے ہنستے ہوے کہا جبکے ابراز کا چہرہ یکدم سخت ہوگیا آیان اب اٹھ کے بھاگتا ہوا حجاب کے پاس آیا۔۔۔۔
” مما لادی۔۔ توتو۔۔۔ “ حجاب نے بےاختیار ابراز کو دیکھا جسکے چہرے پر بچوں کی سی معصومیت تھی جو لگ رہا تھا ابھی رو دے گا اسکی گھیلی شرٹ دیکھ کر حجاب کا قہقہ چھوٹ گیا۔۔
” تم نے اسے موٹا کہا تھا؟؟ “ حجاب کی چھٹی حس نے اچانک ہی اسے lلرٹ کیا کیوں کے اپنے کام میں مشغول آیان کسی کو تنگ تبھی کرتا ہے جب کوئی اسے چھیڑتا ہے؟؟
” میں تم دونوں ماں بیٹے کو آخری وارننگ دے رہا ہوں دماغ گھوما نا دونوں کو پنکھے سے الٹا لٹکا دونگا “ ابراز کہاں ماننے والا تھا الٹا اسے گھرکا۔۔
” پھر تو ہونا ہی تھا میرے بیٹے کو نظر لگاؤ گئے ایسا ہی
ہوگا “ حجاب پر ذرا برابر اثر نا ہوا الٹا آیان کا ہاتھ پکڑ کے لاڈ سے اسے ساتھ لے گئی ” آئو میلی جان نہلاؤں پھر نینی کرینگے ڈیڈ کو آج یہیں سونے دو ہم روم لاک کرینگے۔۔۔ “ حجاب نے ہنسی دباتے جان بوجھ کر جاتے ہوے بلند آواز میں کہا آیان نے بھی پیچھے مڑ کر ابراز کو زبان نکال کر چڑایا وہ جو پہلے ہی حجاب کے جملے سے تپا ہوا تھا آیان کے چڑانے پر کافی لیکر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
” موٹے رک جا دونوں کو اوپر آکر دیکھتا ہوں “ انکے پیچھے جاتے وہ بلند آواز میں بولا جو اب سیڑھیاں چڑ رہے تھے۔۔
ابراز کو یاد ہے جب بھی اسکی کی کوئی اموپورٹینٹ میٹنگ ہوتی وہ آیان کے پاس تک نہ بھٹکتا کیوں کے ابراز کی چاہے امپورٹنٹ میٹنگ ہو کہیں شادی پر جانا ہو یا ڈنر ہو اس سب کا الہام نجانے کہاں سے آٹھ ماہ کے آیان کو ہو جاتے کے ابراز کے گود میں لیتے ہی وہ اپنا کام کردیتا۔ حجاب آیان کی کاروائی دیکھتے ہنستی چلی جاتی جبکے ابراز جھنجھلاتا ہوا ماں بیٹے پر ایک قہر آلودہ نظر ڈالتا ہوا چینج کرنے چلا جاتا لیکن میٹنگ سے گھر آتے ہی انکی کلاس لیتا اور سارا الزام حجاب پر ڈال دیتا۔۔
” تم ہی اسے یہ سب سیکھاتی ہو نہ؟؟ آخر میری اولین دشمن جو ہو “ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا وہ شرٹ کے بٹن کھولتا غصّے سے بولا ابھی وہ آفس سے لوٹا تھا اور آتے ہی صبح والا غصّہ حجاب پر نکال رہا تھا۔۔۔
” مما کہتی ہیں میرے رازی پر گیا ہے۔۔ اب میں کیا کر سکتی ہوں بچپن میں خود سدھرے ہوے ہوتے تو اولاد بھی سدھری ہوئی ملتی “ حجاب لیز کے پیکٹ سے چپس نکال کر کھاتے مزے سے کہ رہی تھی آخر ابراز کی شامت آئی ہو اور وہ خوش نا ہو؟؟؟
” پھر تو پرنیا کا اللہ‎ مالک ہے “ ابراز کے طنز کو ان سنا کرتی
وہ اپنے کھانے میں مشغول رہی۔۔ پھر چپس ختم کر کے خالی پیکٹ ڈسٹبین میں ڈال کر اسکے قریب چلی آئی۔۔
” تم ہو نا سدھار دینا ویسے بھی میرے دونوں بچے سدھرے ہوے معصوم ہیں بس یہ مما کا لاڈلا آیان مما کے پیار نے بگاڑ ڈالا ہے اور کچھ باپ کی سنگت کا اثر ہے “ وہ اسکی شرٹ اور کورٹ اٹھاتے ہوے بولی جسے ابراز نے بیڈ پر پھنکا تھا
” ہاں باپ کی سنگت؟؟ روز اس گال پر تین تھپڑ کھاتا ہوں اتنا بچ کے رہتا ہوں پھر بھی نجانے کیسے اچانک سے ہی چہرہ لال کردیتا ہے باپ کی سنگت۔۔ “ وہ بڑبڑاتا ہوا چینج کرنے چلے گیا ساتھ حجاب کے کیچر میں مقید بال آزاد کر کے وہ بھی کہاں اسے تنگ کرنے سے باز آتا تھا؟؟
” چھچورے “
” تمہارا ہی ہوں ڈارلنگ “ باتھروم کا دروازہ بند ہونے سے پہلے ابراز کی آواز حجاب کی سماعتوں میں پہنچی۔ابراز کے جاتے ہی غصّے سے سرخ چہرہ نرم پڑھ گیا اور حیا کے رنگ اس چہرے پر بکھر گئے لاکھ وہ ابراز پر غصّہ کرتی لیکن محبت تو اسی کی ہے نا دل میں۔۔۔
” مما لادی پھون۔۔۔ “ حجاب کی نظر آیان پر پڑی جو ابراز کا فون زور سے بیڈ کارنر سے پٹک رہا تھا۔ حجاب تیزی سے اسکے پاس آئی اور فون اسکے ہاتھ سے چھینا تقریباً ابراز کے پچھلے دو فونز کو آیان باتھ ٹب میں ڈال چکا ہے یہ اسکا تیسرا فون تھا جسے آیان توڑنے چلا تھا۔۔۔
فون سائیڈ پر رکھ کے حجاب نے اسے گود میں اٹھایا حجاب کو اب تک یاد ہے آیان سے پہلے ایک خوف اسے کس طرح کھاۓ جا رہا تھا جیسے جیسے دن قریب آرھے تھے خوف مزید بڑھ رہا تھا کے کہیں اسکا آنے والا بچا چمیلی جیسوں میں سے نہ ہو۔۔ لیکن آگے جب اسکی سوچ غلط ثابت ہوئی تو وہ بچوں کی طرح بلک کے روی تھی اسے ابراز کی کہی بات یاد آئی تھی ” اللہ‎ بندوں کو اُسکی ہمت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔ انہیں ہی آزمائش دیتا ہے جسکا یقین ہو برداشت کی ہمت رکھتی ہے۔۔۔ “
دن پلک جھپکتے گزر جاتے ان گزرے دنوں میں دونوں ایک خوش حال زندگی ایک دوسرے کے سنگ گزار رہے تھے لیکن حجاب آج بھی ابراز کو سمجھنے سے قاصر تھی ابراز وہ پہیلی تھا جسے حجاب آج تک بجھا نا سکی اور ایسا ہی ایک دن تھا۔۔
حجاب جو مس امبرین کے ساتھ باتوں میں مشغول تھی موبائل پر آتی کال دیکھ کر انھیں اور جویریہ اور مہوش کو الوادی کلمات کہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ حجاب آج مہوش اور جویریہ کے ساتھ یونی آئی تھی صبح سے وہ لوگ گھوم پھر رہے تھے پروگرام رات کو ہی بنا تھا کے تینوں یونی میں آئیں گے پھر ساتھ ہی ناشتہ کرکے مال جائیں گی۔ اب مال سے واپسی کہ بعد انہیں کینٹین میں چائے پیتے مس امبرین ملی تو وہ تینوں وہیں بیٹھ گئیں لیکن اب ابراز کی کال سن کر حجاب اپنا پرس لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کینٹین سے باہر آتے ہی اسکی نظر ابراز پر پڑی جو کار سے ٹیک لگاے کھڑا تھا احتشام اور پرنیا یقیناً اندر بیٹھے تھے آج ابراز ہی انھیں لینے گیا تھا کیوں کے ڈرائیور چھٹی پر تھا۔۔
وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی ابراز کی طرف بڑھ رہی تھی کے اچانک بُری طرح لڑکھڑا کر زمین بوس ہوگئی۔ دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھے وہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ گردن موڑ کے پیچھے دیکھا تو تین لڑکے کار سے ٹیک لگاے ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی مار کر ہنس رہے تھے….
” ہم ڈراپ کریں بےبی “ ان میں سے ایک لڑکا خباثت سے مسکرایا اور ہاتھ بڑھا کے اسے اٹھنے میں مدد دی اور ساتھ چلنے کی آفر کی حجاب نے نفرت انگیز نظر سے اس شخص کو نوازا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
” ایسی کیا دیکھ رہی ہی یو بلڈی۔۔۔ “ وہ شخص دانت پیس کر بولا حجاب کی نفرت بھری نگاہ نے جیسےاسکے وجود پر شعلے برسا دیے۔۔
” سیم چھوڑ اسے ہنگامہ نا کر ویسے ہی ایک وارننگ مل چکی ہے “ سیم حجاب کی طرف غصّے سے بڑھ رہا تھا کے اسکے دوست نے ہاتھ پکڑ کے اسے روکا حجاب جو اسے خود کی طرف بڑھتے دیکھ خوفزدہ تھی تیزی سے اٹھ کر قدم بڑھاتی ابراز کی طرف بڑھی جو بےنیازی سے سن گلاسسز لگائے کھڑا تھا۔۔
” واپس جاؤ اور منہ پر رکھ کے تھپڑ مار کے آؤ “ حجاب کو کار کا دروازہ کھولتے دیکھ ابراز نے کہا ضبط کے باوجود اسکا لہجہ نارمل نہ تھا۔ حجاب کو تو غصّہ ابراز پر آرہا ہے جو نا اسکی مدد کو آیا نا اُنکا منہ توڑا۔۔
” نہیں ایسوں کے منہ ہی نہیں لگنا چاہیے چلو “
حجاب کا ٹالنا ابراز کو آگ بگولہ کر گیا غصّے کی شدت سے اسکے گلے کی نسیں تک واضع ہونے لگیں۔۔۔
” زندگی بھر یہاں سے نہیں ہٹوں گا سمجھی۔۔ “ دبے دبے لہجے میں وہ غرایا سن گلاسسز کے پیچھے چھپی ان سرخ آنکھوں میں سرخی کی شدت اگر حجاب دیکھتی تو کانپ اٹھتی جو اسکے غصّے کو بیان کر رہی تھیں۔۔
” میں نہیں جاؤنگی۔۔۔ “ وہ اپنی ضد میں اٹل تھی کہتے ہی وہ رخ موڑ گئی۔ اسے یقین تھا ابراز منائے گا ابراز مناتا کیا الٹا اس وقت وہ حجاب کو قتل کرنے کے در پے تھا جو اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی بغیر انھیں بغیر کسی القبات سے نوازتے خاموشی سے یہاں آگئی۔۔
” یہ زبان صرف میرے سامنے چلتی ہے؟؟ اسکا استعمال وہاں کیوں نہیں کرتی جہاں سوال عزت پر آئے؟؟ تم گری نہیں تھیں اُس ذلیل انسان نے ٹانگ آگے کر کے یہ حرکت کی جاؤ اُسے تھپڑ مار کر آؤ ورنہ آج کیا عمر بھر اس جگہ سے ایک انچ نہیں ہلونگا “ وہ اسکا بازو پکڑ کے رخ اپنی طرف کرتا ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا۔۔ حجاب کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں
” وہ۔۔۔۔ تی۔۔تین لوگ ہیں ابراز تم ایک تھے میں کیسے۔۔۔ “ حجاب کے لہجے کی کپکاہٹ سے وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا۔۔ مٹھی بھنچتے خود پر قابو پاتے وہ اجنبی انداز میں گویا ہوتا اسے دھمکی دے گیا۔
” جائیں آپ ورنہ میرا میٹر گھما تو اُسکی تو خیر نہیں ساتھ تم بھی نہیں بچوگی یہیں چھوڑ جاؤنگا۔۔ “
۔ ” آپ “ کا استعمال وہ تبھی کرتا جب ناراضگی سیریس ہوتی۔۔
” جیسے تم کروگے۔۔۔ “ حجاب کی مسکراہٹ نقاب کے پیچھے چھپی تھی جب کے ان آنکھوں کی چمک مانند نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی ابراز ایسا کبھی نہیں کریگا لیکن ابراز نے ایک سخت نظر سے نوازتے کار کا دروازہ کھولا اور منٹوں میں کار ریورس کر کے نکل گیا یہ سب اتنی اچانک ہوا تھا کے حجاب اسے روک تک نا پائی بس دیکھتی رہی ہر بار وہ اسی طرح اسی تنگ کرتا لیکن آج نہیں۔۔ بات عزت کی کر گیا خود کیا کیا؟؟ بیوی کو اکیلا چھوڑ کے بھاگ گیا۔۔ حجاب نے بےاختیار دُکھتا سر دبایا آج اتنے مہینوں بعد اِسکی آنکھیں پھر بھیگ گئیں لیکن۔۔ یہ ہنسی۔۔ اس ہنسی نے لمحے میں سارا خوف اڑان چھو کر دیا اس سے پہلے وہ انکی طرف قدم بڑھاتی تینوں خود ہنستے ہوے اسکے پاس آئے۔۔
” چچچ چلا گیا؟؟ بہت افسوس ہوا اور خوشی بھی۔۔ ہاہا۔۔۔چلو چھوڑو اسے میں ڈراپ کر دیتا ہوں “ وہ اسکے گرد گھومتا اسکا مذاق اڑاتے اسکے سامنے آرکا تب حجاب کی نفرت بھری نگاہ نے پھر سے اسکا میٹر گھما دیا۔۔۔
” پارسائی کا ناٹک کرتی ہو میرے سامنے؟؟ تم جیسیوں کو اچھے سے جانتا ہوں نقاب پہن کر بھی یہاں آکر ایسے نا محرموں سے ملتی ہو اور مجھے آنکھیں دیکھا رہی ہو؟؟ وہ کون سا شوہر تھا تمہارا؟؟ “ تیز دھوپ میں آنکھیں سیکوڑتے وہ باقاعدہ دھاڑ اٹھا جیسے حجاب کو کچا چبانے کا ارادہ ہو۔۔
” پڑھنے آتے ہو نا شرم نہیں آتی ایسی حرکتیں کرتے ہوے؟؟ “
حجاب جو کب سے ضبط کیے بیٹھی تھی چیخ اٹھی۔۔۔
سیم اسے غصّے میں دیکھ اپنی پرانی ٹون میں لوٹ آیا۔۔۔
” تم لڑکیاں پڑھ لو کافی ہے ٹاپ کرلو منائو جشن ملنا تو عام سا جمشید ہے کونسا پڑھا لکھا آئے گا تم سے شادی کرنے۔۔ رہا میرا سوال تو باپ کیوں کماتا ہے اس لئے کے میں عیش کروں سویٹ ہارٹ “ وہ اسکی طرف جھکتے آنکھ دباتے ہوے بولا حجاب کا غصّہ کی شدت سے چہرہ سرخ ہوگیا ابراز پر غصّہ تھا سیم پر غصّہ تھا اس تپتی دھوپ کی شدت کا اثر تھا کے حجاب کا ہاتھ اٹھا تو اٹھا تھا اور لگاتار تین چار تھپڑ سیم کے گال پر نشان چھوڑ گئے۔۔۔
” تکبر والی نہیں ” میں “
اعتماد والی ” میں “
کہ میں ” میں “ ہوں
تمہارے ہاتھ کا کھلونا نہیں
You can not define me you can not limit my potential. You cannot limit my dreams
میری جیت بھی میری
میری ہار بھی میری
میں اڑاؤ گی اپنا مذاق تو کون ہوتا ہے میرا مذاق اڑانے والا؟؟
I will make fun of my self do you understand???
شہادت کی انگلی سے وارن کرتی وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی اسکی زبان چلی تو ایک پل کو نا رکی سانس ابھی تک پھول رہا تھا۔۔ سیم گال پر ہاتھ رکھے پاگل ہو رہا تھا اسکے باقی دوست منہ کھولے یہ کاروائی دیکھ رہے تھے۔۔۔
” یو۔۔ “ سیم کا اٹھتا ہاتھ ہوا میں رہ گیا اس دفع بھی دونوں دوست وہیں رہے کوئی بھی اسکی مدد کو نہیں بڑھا۔۔۔
” اندر جاؤ “ حکمیہ انداز تھا حجاب اسے دیکھتی گئی تو اس لئے وہ اسے چھوڑ گیا تھا؟؟؟ ابراز نے اسکا ہاتھ جھٹک کر سیم کا گلا دبوچا اس سے پہلے وہ اسے مار ڈالتا حجاب کو ہی ہوش آیا۔۔۔
” ابراز چھوڑ۔۔ “
” سنا نہیں؟؟ “ حجاب کو اسکے غصّے سے خوف آرہا تھا اسنے ایک آخری کوشش کی لیکن ابراز کی دھاڑ سے کانپ اٹھی۔۔
” دیکھنا اب اپنے ہیرو کا تماشا “ سیم نے کہتے ہی مکا مارنا چاہا جسے ابراز نے دوسرے ہاتھ سے بیچ میں ہی روک لیا وہ حجاب کے انتظار میں تھا کے وہ جائے حجاب بھی اب بغیر دیر کیے واپس کینٹین میں چلی گئی ابراز نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور کالر سے پکڑتا ہوا گھسیٹتے ہوے اسے گارڈن آئیریا کی طرف بڑھا۔۔۔۔ آتے جاتے لوگ ان دونوں کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔
” ابھے چھوڑ “ وہ چلا رہا تھا لیکن ابراز اسے گھسیٹتے جا رہا تھا گارڈن میں آکر ابراز نے نظر ادھر ادھر دوڑائی اور مطلوبہ چیز ملنے پر وہ اسکی طرف بڑھا اور پوٹ سے بڑھ کے مٹی ہاتھ میں اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے اسکا کولر چھوڑا۔۔ زور سے اسکے پیٹ میں مکا مارا جس سے سیم نے چلا کر منہ کھولا ابراز نے وقت ضائع کیے بغیر پوری مٹی اسکے منہ میں ڈالی اور منہ بند کردیا۔۔
” گھر سے جب عورت پڑھنے، جاب کرنے کے کے نکلتی ہے تو پھونک پھونک کے ایک ایک قدم اٹھاتی ہے کے کہیں ایک غلط قدم اسے رسوا نا کردے اور جب وہ لوٹے تو اُسکے پاس
” عزت “ نام کی کوئی چیز ہو۔ اسی طرح جس طرح تو نگلنے سے ڈر رہا کے کہیں یہ غلط قدم سے زندگی نا گنواہ بیٹھے اسی طرح عورت کے لئے اسکی عزت اسکی زندگی ہے جو سر اٹھا کے چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔۔ تم جیسوں کی وجہ سے وہ نگاہیں جھکا کر چلتی ہے تاکہ اُسکا بھائی نگائیں اٹھا کر چل سکے اور تو دو کوڑی کا حوس پرست عورت کیا معصوم بچی تک کونہیں چھوڑتے۔۔۔۔ خود کی جان عزیز ہے موت سے ڈر لگتا ہے لیکن جب دوسرا رسوائی سے مرے تو تجھے رحم نہیں آتا؟؟؟ بول تیرے باپ کی جاگیر ہے جو تنگ کرتا ہے؟؟ بٙک نا کتے بھونک کیوں نہیں رہا؟؟؟ “ ابراز نے اسکا منہ دبوچا چٹان سے سخت لہجے میں کہا اسکا بس نہیں چل رہا تھا سیم کا سر دیوار میں دے مارے۔۔ ابراز نے رکھ کے زور سے مکا اسکی پیٹ پر مارا جس سے ساری مٹی منہ سے باہر نکل آئی سیم بُری طرح کھانسنے لگا۔۔
” یہ اسے گرانے کے لئے۔۔۔۔۔ “ لگاتار تین چار موکوں سے وہ اسکا جبڑا بُری طرح زخمی کر چکا تھا لوگ سب کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔۔۔ ابراز نے ایک ٹھوکر سے اسے نوازتے وہیں زمین پر پھینکا اور کوٹ کو جھٹکا دیکر کینٹین کی طرف جانے لگا۔۔
” دیکھ لونگا تجھے میرا باپ ڈین ہے یونیورسٹی کا “ سیم زمین پر بیٹھا کڑا رہا تھا ابراز کو جاتے دیکھ وہ اسکے پیچھے سے بولا آخر کو سٹوڈنٹس کے سامنے کچھ عزت تو رکھنی تھی۔۔ ابراز کے قدم وہیں رک گئے وہ چلتا ہوا اسکے قریب آن بیٹھا سیم خوف سے پیچھے ہوے اسکی آنکھوں سے جھلکتا خوف جسم کی کپکپاہٹ نے ابراز کو لطف اندوز کیا۔۔۔
” اول تو میں تیرا سینیر ہوں پاس آئوٹ ہوچکا ہوں دوسرا جانتا ہوں تیری دو کوڑی کی عزت نہیں ورنہ جب میری بیوی نے لگاتار تھپڑ مارے تھے تب تیرے پالتو کتے تک لڑنے نہیں
آئے۔ “ ابراز نے طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر اس پر وار کیا سیم نے نفرت بھری نگاہ سے ابراز اور اپنے ساتھیوں کو دیکھا۔۔۔
” دوسروں کے گھر کی عزت اچھالنے سے پہلے اپنے گھر میں جھانک کہیں محبت میں عزت کا سودا تو نہیں کر آئی؟؟ “ ابراز نے ہاتھ کی مٹھی میں اسکا بال جکڑتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے کہا۔۔۔
” میری بہن ایسی نہیں “ سیم کو کہاں گوارا تھا ایسا الزام۔۔۔
” محبت اب بکنے لگی ہے تو یہاں کسی کو چھیڑ رہا وہاں کوئی اور تیری بہن کو۔۔۔۔ اپنا کیا اپنی طرف ہی لوٹتا ہے چاہے وہ نیکی ہو یا بدی۔۔ میری طرف دیکھ اور حفظ کرلے یہ بات میری کی نیکی میری کی بدی انھیں صورت میرے پاس واپس لوٹ آئیں۔۔ “ ابراز نے ایک جھٹکا دیکر اسے کسی کچرے کی طرح دور پھینکا۔۔ اب اسکے قدم کنٹین کی طرف تھے سب سے مشکل مرحلہ حجاب کو منانا تھا ابراز نے جو کیا بس اسکا مقصد کانفیڈنس دلانا تھا جب حجاب کو اس لڑکے نے گرایا ابراز ضبط کے کس مرحلے پر تھا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اور حجاب اگر وہ اکیلی ہوتی تو ٹھیک ہے لیکن ابراز کی موجودگی نے بھی اسے حوصلہ نا دلایا وہ وہیں بت کی مانند کھڑی رہی۔۔۔ وہ سوچ چکا تھا حجاب کو منائے گا لیکن حیرت انگیز واقع ہوا تھا وہ خود ہنستی ہوئی اسکے گلے آلگی۔۔۔
” بس کچھ باتیں ذہن میں دیر سے بیٹھتیں ہیں “ حجاب کی مسکراہٹ نے اسکی مسکراہٹ گہری کردی۔۔۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

زندگی اگر آزمائشوں کا سفر ہے تو مجھے منظور ہے اُسکی آزمائش۔۔۔ جب بھی اُسے لگتا ہے بس تھوڑا سا پیچھے ہٹا ہوں آزمائش بیج کر مجھے خود کے مزید قریب کر دیتا ہے۔۔۔۔
میری کامیابی کا راز میرا اللہ‎ ہے، وہ میرے دل میں رہتا ہے اُس نے کہا بس میرے پاس آجاؤ سارے غم بھول جاؤ گئے اب ہر کام سے پہلے اُس سے ملنے اُسکے گھر جاتا ہوں۔۔ اُس نے نہ لالچ دی نہ وجہ پوچھی کے کونسی غرض ت