Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
” جانی کیا ہوا چل نہ ڈانس کرتے ہیں “ سیم نے جو نشے میں دھت ڈانس میں مشغول تھا آکر ابراز کے کان میں گھس کر کہا جو بار ٹیبل کے پاس بیٹھا شراب کا گلاس ہاتھ میں لیے کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
” میرے باپ کی شادی ہے جو ناچوں؟؟؟ “ وہ بھڑک اٹھا۔ آج یہ شراب بھی اسکے اندر کی آگ کو بجھا نہ سکی۔۔۔
” انھیں شادی کی ضرورت ہے؟؟؟ “ سیم خباثت سے مسکراتا اسے بہت کچھ جتا گیا۔ ابراز جو پہلے ہی غصّے کی آگ میں جل رہا تھا اٹھا اور بغیر کسی کی پروا کیے لگاتار گھونسے اسکے منہ پر دے مارے۔۔۔
” سر رُکیں۔۔۔ “ ایک ویٹر نے رازی کا ہاتھ پکڑا جس پر رازی نے ہاتھ چھڑوا کے اسے دور دھکیلا اور کلب سے باہر نکل آیا سیم شراب کی وجہ سے بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔
وہ کلب سے باہر نکلتے ہی کار میں آبیٹھا گاڑی گھر کی طرف روانہ تھی جو یہاں سے بمشکل دس منٹ کے فاصلے پر تھا۔۔۔
گھر پہنچتے ہی نہانے کے بعد بھی جب اسکا غصّہ کم نہیں ہوا تو وہ جم میں چلا آیا جو اسکی ضد پر اسکے باپ نے بنوایا تھا وہ اکثر یہاں آکر اپنا غصّہ ٹھنڈا کرتا۔۔۔۔۔ یہاں طرح طرح کی مشینز تھیں جو ابراز نے اپنے مطابق منگوائی تھیں جن میں ٹریڈ مل، کیبل رو، چیسٹ فلائے، شولڈر پریس، بائیسپس کرل بینچ شامل تھیں۔۔۔۔
اندر آتے ہی رازی نے سب سے پہلے پنچنگ گلوس پہنے وہ اس وقت بلیک ٹراؤزر اور بلیک ویسٹ میں ملبوس تھا۔۔ بال بے ترتیبی سے پیشانی پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔ اس وقت اسکی آنکھوں میں پنچنگ بیگ دیکھتے ہی خون اُتر آیا عبائے میں ملبوس چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔
” حجاب تاثیر “ بڑبڑاتے ہوے اسنے زور سے ہاتھ کا مکا بنا کر پوری قوت سے پنچنگ بیگ پر دے مارا پھر وہ رکا نہیں تھا دونوں ہاتھوں سے تب تک مارتا رہا جب تک تھک نہیں گیا۔۔۔
ابھی بھی وہ بُری طرح اپنا غصّہ پنچنگ بیگ پر نکال رہا تھا اسکا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔دونوں ہاتھ سے پنچنگ بیگ تھام کر وہ رکا آنکھوں میں نفرت تھی بے انتہا نفرت۔۔
” حجاب تاثیر تمہیں میں نے بےحجاب نہ کیا تو میرا نام ابراز حیات نہیں۔۔۔۔۔ “ پنچنگ بیگ کو ایک آخری پنچ سے نوازتے اس نے گلوس اُتار کے دور پھینکے۔
☆.............☆.............☆
وہ مہوش کو لینے یونی آیااور اسے اپنے ٹیچر سے بھی ملنا تھا جو کل کی فلائٹ سے پاکستان کی سر زمین کو چھوڑ کے ہمیشہ کے لیے کینیڈا شفٹ ہو رہے تھے۔۔ وہ اندر کی طرف جا رہا تھا کہ اسکی نظر ہنستی مسکراتی حجاب پر پڑی جو بہت احتیاط سے نقاب ہلکا سا اوپر کر کے سموسہ کھا رہی تھی تاکہ چہرہ کسی کی نظر میں نہ آئے اور آگے چائے کے دو کپس رکھے تھے۔۔۔ وہ اسے پر سکون دیکھ کر دھندناتا ہوا اسکے سر پر جا کھڑا ہوا۔
” سمجھتی کیا ہو خود کو؟؟ تم نے مجھے؟؟؟؟ مجھے؟؟؟؟ ابراز حیات کو ریجیکٹ کیا؟؟ ہے کیا تم میں؟؟ کس بات کا غرور ہے؟؟ نہ دولت ہے نہ شہرت گلی کا کوئی پالتو جانور تک تمہارے باپ کو نہیں جانتا۔۔۔ “
رات بھر کا جاگا وہ نفرت کی آگ میں جلتا رہا۔۔ اپنے اندر کی نفرت اپنے لفظوں سے اگل رہا تھا۔۔ رازی نے آتے ہی اسکا بازو پکڑ کے نفرت بھرے لہجے میں کہا ساتھ ٹیبل پر رکھے پلاسٹک کے کپس دور اچھالے۔
” عزت دار لوگ جانتے ہیں شریف انسان ہیں میرے ابو گلی کا ہر شریف انسان انھیں جانتا ہے ہاں تم جیسے شرابی، انھیں نہیں جانتے افسوس۔۔۔ کیوںکہ تم لائق نہیں برائی میں رہنے والے نیکی اور نیک لوگوں سے انجان رہتے ہیں۔۔ اور رہی بات غرور کی تو ہاں ہے تم میرے نزدیک ایک چیونٹی کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے، تمہیں جانتا کون ہے؟؟ شہر کے مشہور لوگ؟؟؟ ایک بات بتاؤ اللہ تمہیں جانتا ہے؟؟ کبھی حاضری لگائی ہے اسکی بارگاہ میں؟؟ نہیں نا۔۔ افسوس خدا تم جیسے لوگوں کو اپنے پاس بلاتا بھی نہیں گناہ کی دنیا میں رہنے والے لوگ نیکی کی مہک سے بھی انجان رہتے ہیں۔۔۔۔۔ “ وہ سانس لینے کو رکی اسکی تنفس بڑھ رہا تھا۔۔
” اب تم بتاؤ تمہاری ہمت کیسی ہوئی رشتہ بھیجنے کی؟؟ تم میں ہے کیا؟؟ کوئی ایک اچھی عادت؟؟ کوئی ایک نیکی؟؟ کبھی احترام کیا ہے بزرگوں کا؟؟ نہیں نا؟؟ تم تو اپنے باپ تک کو نہیں پوچھتے اور دنیا کے سامنے انکے بل بوتے پر ہوئی جیت کی فتح مناتے ہو؟؟ تم سے دوغلا منافق کون ہوگا؟؟ جسکا پور پور شراب میں ڈوبا ہوا ہے تم جیسا شخص آبِ حیات سے بھی نہالے تو گندگی کی بو نہیں جائے گی رشتہ تو بہت دور کی بات تم جیسے شخص سے میں بات تک نہ کروں انڈر اسٹینڈ؟؟ دوبارہ میرے راستے میں آئے تو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوگے “ زندگی کے اٹھائیس سال اسکی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چل رہے تھے اسکی آنکھیں آج پہلی بار جھکی تھیں شرم سے نہیں بلک ذلت سے۔۔ نجانے کیوں آج اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا۔۔۔ اسکی کسی ایک بات کا جواب تک ابراز حیات کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔ اسکا بچپن۔۔۔ اسکی پوری کی گئی ہر ضد۔۔۔ اسکی خوائش۔۔ لوگوں کی آنکھوں میں رشک اسکی اچیویمنٹس۔۔ سب کسی فلم کی طرح اسکی آنکھوں کے آگے گھوم رہا تھا پھر یکدم وہ رات جس نے اسے تین سال بےچین کیا ہاں وہ رات۔۔۔ نفرت ہے اِسے اُس رات سے اِس لڑکی سے۔۔۔ یکدم ابراز حیات نے اپنی آنکھیں کھولیں اسکی آنکھوں میں شرمندگی نہیں بلکہ۔۔ بلکہ جیت تھی وہ سمجھ نہیں پائی لیکن اگلے ہی لمحے اس شخص نے اسے بےنقاب کردیا۔۔۔ایک پل ضائع کیے بغیر وہ پن ہٹا دی جسکی وجہ سے اسکارف کا وہ حصہ ڈھلک گیا اور حجاب کا خوبصورت چہرہ اسکی آنکھوں میں حفظ ہوگیا۔۔۔۔ لیکن اگلے ہے لمحے بھاری تھپڑ کی آواز نے سب کے ہونش اڑا دیے۔۔۔
” تم منافق ہی نہیں کافر بھی ہو۔۔۔۔۔“ حجاب پاگلوں کی طرح چیخی اسکا سانس پھول رہا تھا اس نے تیر کی تیزی سے کپڑا اُسی جگہ کر کے ہاتھ سے نقاب پکڑا۔ آج سے پہلے کبھی اسے رسوائی کا احساس نہیں ہوا، آج پہلی بار کیا کچھ نا محسوس کیا ذلت، شرمندگی، اس پل اس نے موت کی شدت سے دعا کی۔۔ اسے اپنے جسم سے روح نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ آج اس شخص نے اسے بےنقاب کردیا۔۔۔لیکن اسے لگ رہا تھا آج وہ بےحجاب ہوگئی۔۔۔
” اللہ کی لعنت ہو تم جیسے حیوان پر۔۔ “ حجاب نے دوسرے ہاتھ سے اسکی شرٹ کا کالرجکڑا اسکی لہجے سے جھلکتی نفرت اور عمل نے مہوش کو سرتا پا سلگا دیا جو اپنے بھائی کے عمل کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی وہ کفےیٹیریا میں آئی تھی تب جب ابراز اسے ڈھونڈتا یہاں آیا تھا۔
” ہاو ڈیر یو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بھائی پر ہاتھ اٹھانے کی صحیح کہتا ہے وہ کیا حیثیت ہے تمہاری؟؟ “ مہوش نے زور سے اسکا ہاتھ جھٹکا جویریہ جو بت بنی کھڑی تھی فوراً الرٹ ہوئی اسے پتا تھا مزید تماشاہ انہیں یونی سے نکلوا دیگا آخر وہ ان امیروں کی حیثیت سے واقف تھی
” حجاب چلو “ جویریہ نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔
” لیو میں جویریہ۔۔“ حجاب نے غصّے سے اسکا ہاتھ جھٹکا
” تو اپنے آوارہ بھائی کو بولو مجھ سے دو رہے ورنہ۔۔“ نفرت و حقارت اسکے لہجے سے چھلک رہی تھی۔۔۔
” چلو حجاب۔۔۔ “ جویریہ منت پر اُتر آئی لیکن حجاب اپنی جگہ سے نہ ہلی۔۔۔۔ جبکہ حجاب کے اس لہجے نے مہوش کے غصّے کو اور بڑھاوا دے دیا
” جلتی آگ میں تم نے خود کو جھونکا اب دیکھنا اپنا حشر میرا بھائی دوستوں کو نہیں چھوڑتا تم تو پھر۔۔۔ تمہاری بربادی کا آغاز ہو چکا ہے حجاب تاثیر۔۔۔ “ مہوش نے اسے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔۔جبکے جویریہ اسکا ہاتھ پکڑتی اسے کےفیٹیریا سے باہر لے آئی۔۔۔
☆.............☆.............☆
ابراز نے مہوش کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ کےفیٹیریا میں بیٹھے سارے لوگ اسی کو دیکھ رہے تھے ان میں سے کچھ وہ چہرے بھی تھے جو ابراز کو ایز آ سینیئر ریسپیکٹ دیتے تھے۔۔ آج ابراز نے صرف اپنے اِس غصّے کی وجہ سے پانچ سال کی بنائی ریپوٹیشن لمحوں میں گنوا دی۔۔۔۔ کوئی اسے نفرت تو کوئی اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
” اتنا دُکھ تھا تو آکر اُسے بچاتے “ پھنکار کر کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ مہوش نے فوراً حیات صاحب کو کال ملائی۔۔۔
” آئ ڈونٹ کیئر وہ لڑکی مجھے چاہیے ایک گھنٹے کے اندر جہاں سے چاہے ڈھونڈ کے لاؤ لیکن یاد رکھنا۔۔۔ ایک گھنٹہ۔۔ صرف ایک گھنٹہ۔۔۔ اگر میرے سامنے نہ ہوئی تو دیکھنا تمہارا کیا حشر کرتا ہوں۔۔۔ “ حیات صاحب کے مینیجر کو کال کرنے کے بعد حجاب کی ساری انفارمیشن اس نے ٹیکسٹ کی۔۔۔ غصّے کی شدت سے اسکے بازو تک کی نسیں واضح ہو رہی تھیں۔۔ اسے حجاب نام سے ہی نفرت ہوگئی اگر وہ اس وقت اسکے سامنے ہوتی تو وہ اسے اپنی گاڑی تلے کچل دیتا
” حجاب تاثیر ایک دفعہ میرے ہاتھ آجاؤ وہ حال کرونگا تمہاری نسلیں کانپ اٹھیں گی۔۔۔ “ اسئٹرینگ کو زور سے تھامے اسکے انگ انگ سے نفرت چھلک رہی تھی دل میں خوائش جاگی کاش وہ سامنے ہوتی اور وہ اُسے بری طرح کچل ڈالتا اپنی اس شیطانی سوچ پر اسے خوشی محسوس ہو رہی تھی لیکن انسان کیا جانے قسمت میں کیا لکھا ہے؟؟؟ دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے والا کیا جانے کے موت اسے خود اپنی لپیٹ میں لینے کو اس کے سر پر کھڑی ہو۔۔۔۔۔ اور یہی ہوا تھا اگلے لمحے اسکی کار ُبری طرح سامنے آتی کار سے ٹکرا گئی۔۔۔۔
دو گھنٹے سے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہا تھا۔۔ دوسرے کو جھکانے والا آج خود کسی کے در پر سوالی بنا کھڑا ہے کون جانتا ہے اگلے لمحے کون سا طوفان آئے گا؟؟ انسان بس ایک کٹھ پتلی ہے اس میدان میں زندگی سنوارنے والی تو خدا کی ذات ہے۔۔۔۔
حیات صاحب کاریڈور میں چکر لگاتے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے دعا گو تھے۔ مہوش انہیں ابراز کے غصّے سے آگاہ کر چکی تھی ساتھ مینیجر کی کال نے انکے پسینے چھڑوا دیے اگر حجاب کو انکا بیٹا کڈنیپ کر لیتا تو سالوں کی بنائی عزت مٹی میں مل جانی تھی سب کا شک ابراز پر ہی جاتا۔۔ وہ اسی کشمکش میں الجھے تھے کہ ایک انجان نمبر سے کال آئی ابراز کے والٹ میں موجود انکے وزیٹنگ کارڈ کو ڈھونڈ کر اُس انجان آدمی نے انہیں ابراز کے ایکسیڈنٹ کی خبر دی وہ اتنے پریشان تھے کہ گھر کال کر کے بھی اطلاع نہیں دی۔۔۔
“ آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ڈاکٹر نے آپ کو اندر بلایا ہے۔۔“
نرس کے اطلاع دینے پر وہ فوراً تیز قدم اٹھاتے اندر چلے آئے۔۔۔۔
” انہیں ہوش آگیا ہے فکر کی کوئی بات نہیں یہ بالکل ٹھیک ہیں آپ انہیں شام تک گھر لے جا سکتے ہیں۔۔ “ ڈاکٹر نے ابراز کے بازو پر انجکشن لگاتےکہا اور ساتھ ہی اسکی کیس فائل لیکر روم سے نکل گئیں۔۔۔
” ابراز۔۔۔۔۔ میرے بچے۔۔۔ “ حیات صاحب جو ایک مضبوط دل کے مالک تھے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ انکی بھی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔۔
” ڈیڈ۔۔ “ ابراز نے باپ کی آواز سن بمشکل آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ آنکھیں کھول کے ارد گرد کا جائزہ لیا تو جیسے ذہن بیدار ہوا۔۔۔
” ہاں بولو میرے بیٹے۔۔۔ “ ابراز نے گردن انکی طرف موڑ کر بےبسی سے اپنے ہونٹ کاٹے۔۔۔ پھر یکدم آنکھیں کھول کر تیز لہجے میں بولا۔۔۔۔
” نہیں میرے سامنے یہ ناٹک نہیں مجھے حجاب تاثیر چاہیے ابھی۔۔۔ “ پٹی میں جکڑا ہاتھ زور سے بیڈ پر مارا تاثیر صاحب سمجھ گئے وہ انکی ایک نہیں سنے گا اور اسکا خود کو نقصان پہنچانا انہیں تکلیف دیتا ہے۔۔۔
” دیکھو اگر اسے کڈنیپ کیا تو پہلا شک تم پر ہی جائے گا تم سمجھ کیوں نہیں رہے میں نہیں چاہتا تمہیں کوئی سزا ہو۔۔ “
وہ بےبسی کی انتہا پر تھے انکا بیٹا اپنی ضد سے انہیں پاگل کر رہا تھا۔۔۔
” سزا سہنے کی عادت ہے بچپن سے سہتا آرہا ہوں۔۔۔ آپ مجھے تاثیر۔۔۔۔ اُس حجاب کے باپ کے پاس لے جائیں ورنہ اس دفعہ بچ گیا اگلی دفعہ نہیں بچوں گا۔۔۔ “ اور ابراز کی دھمکی کام کر گئی۔
” رات تک کا ویٹ کرو میں انتظام کرتا ہوں “ اسکی پیشانی چوم کر حیات صاحب نے نرمی سے کہا ابراز نے انکا ہاتھ جھٹک کر آنکھوں پر بازو رکھا اسکا ایک ہاتھ بری طرح فریکچر تھا اور ماتھے پر پٹی بندھی تھی۔۔۔ صرف ٹانگیں محفوظ تھیں۔۔۔
تاثیر صاحب کا گندم اور چاولوں کا چھوٹا سا کارخانہ تھا جس میں انکے تین بھائیوں کا حصہ تھا سب ساتھ مل کر کاروبار چلاتے تھے۔ وہ رات کے پہر گوداموں میں ایک آخری چکر لگانے آئے تھے کہ کچھ لوگ آکر انکے گوداموں میں گھس گئے۔۔
” ارے کیا کر رہے ہو؟؟؟ کون ہو تم لوگ کس سے پوچھ کے گھس آئے۔۔۔ “ تین اچھے خاصے پہلوانوںکی سی جسامت والے آدمی آکر خاموشی سے کھڑے ہوگے جیسے کسی کے حکم کا انتظار ہو؟؟
” باراتی ہیں اجازت تھوڑی لیں گے؟؟ بس لے اُڑینگے۔۔۔ “ ابراز کی آواز سنتے ہی وہ پیچھے مُڑے تبھی انکی نظر حیات صاحب پر پڑی وہ ابراز کو تو نہیں لیکن حیات صاحب کو اچھی طرح جانتے تھے۔۔۔۔۔ ابراز کے اشارے پر انکے ساتھ آتے تینوں لوگوں نے تین کرسیاں دو آمنے سامنے اور ایک بیچ میں رکھی تینوں کرسیوں کے بیچ چار پانچ قدم کا فاصلہ تھا۔۔۔۔۔
” کون ہو تم؟؟ “ تاثیر صاحب نے ڈائریکٹ ابراز سے پوچھا انکی چھٹی حس پہچان چکی تھی وہ کون ہو سکتا ہے؟؟
” آپ کا ہونے والا داماد۔۔۔۔ “ کہتے ہی وہ چیئر پر آ بیٹھا ساتھ تاثیر صاحب کو بھی اشارہ کیا جنہوں نے نظر انداز کر دیا۔۔۔
” بکواس بند کرو “ وہ دھاڑے تبھی ابراز کے اشارے پر ایک آدمی نے انہیں زبردستی پکڑ کے بٹھایا۔۔۔
” تاثیر صاحب سنا ہے آپ کا بیٹا بہت زہین ہے آپ کی آخری امید ہے۔۔۔۔ بڑھاپے کا سہارا۔۔۔ اگر وہ نہ رہے تو؟؟ ابراز نے ٹانگ پر ٹانگ رکھے کہا ایک ٹانگ میں شدید درد کا احساس ہوا جو اسنے اوپر رکھی تھی۔۔۔۔۔۔
” تم ہوش میں ہو؟؟ “ ایک بار پھر وہ چلا اٹھ کھڑے ہوئے
” یار بیٹھاؤ انہیں پورے بیگم صاحبہ پر گئے ہیں وہ بھی انہی کی طرح جذباتی ہے۔۔۔۔ اپنا نقصان کرنے والی۔۔۔“ مزاحیہ انداز میں کہتے آخر میں وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔۔۔۔
آدمی نے پھر تاثیر صاحب کو بٹھایا اور انکے پاس آکھڑا ہوا تاکہ وہ اٹھ نہ پائیں تاثیر صاحب خاموش بیٹھے رہے۔۔ کیوںکہ جانتے تھے عقلمندی اسی میں ہے۔۔۔
” کول ڈاؤن تاثیر صاحب۔۔۔۔ آج تک میرے باپ نے بھی مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کی جس لہجے میں تمہاری بیٹی بکواس کر کے گئی ہے۔۔۔ “ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں وہ گویا ہوا۔۔۔
” جس طرح آپ کا بیٹا آخری امید ہے اسی طرح میں اپنے باپ کی آخری امید ہوں اگر مجھے کچھ ہوا یا میں نےخود کو نقصان پہنچایا تو ڈیڈ لاشیں گرا دیں گے آپ کے خاندان کی۔۔۔ “ ابراز کا ایک ایک لفظ انکے دل میں ہوتا درد مزید بڑھا رہا تھا وہ بےخوفی سے اپنا زہر اگل رہا تھا جو حجاب تاثیر کا تھپڑ اسکے اندر بڑھا گیا۔۔۔
” تو میری بات غور سے سنیں حجاب تاثیر آپ کی بیٹی کل تک اسے راضی کریں مجھ سے نکاح کے لئے۔۔ ورنہ یقین جانیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے راتوں رات غائب ہوجائے گی آپ کی بیٹی۔۔۔۔۔۔ ملی بھی تو پہلے کی طرح۔۔۔۔۔۔۔“ وہ رکا۔۔۔۔اسکی ہنسی تاثیر صاحب کو زہر سے بھی زیادہ زہریلی لگی۔۔حیات صاحب خود اپنے بیٹے پر شرمندگی کے بجاے فخر کر رہے تھے۔۔
” آپ سمجھ گئے ہونگے۔۔ “ کہتے ہی وہ اٹھا اور قدم بڑھاتا انکے سامنے آن کھڑا ہوا
” اور ہاں یہاں سے بھاگنے کا سوچنا بھی مت یہ شہر ڈیڈ کے انڈر کنٹرول ہے اتنی تفصیل کبھی پیپر میں لکھ کر نہیں آیا اب بھی کھوپڑی خالی ہے تو یاد رکھنا بیٹا ہوگا ڈرگز کے کیس میں سلاخوں کے پیچھے، بیٹی۔۔۔۔ “ ابراز نے انکے سر پہ دو انگلیوں سے ٹھونگ لگاتے کہا اور قہقہہ لگا کے ہنسا اور ہنستا چلا گیا تاثیر صاحب کا ایک ہاتھ نیچے ڈھلک گیا بیٹی کا سن کر انکی روح کانپ اٹھی انکی آنکھ سے ایک ننھا سا موتی گال پر پھسلا۔۔۔
” چلیں ڈیڈ “ رازی کے اشارے پر تینوں لوگ الرٹ ہوکر اسکے پیچھے چل دیے حیات صاحب سینا چوڑا کر کے فخر سے بیٹے کے پیچھے چل دیے۔۔
” بابا۔۔۔ “
اسامہ بھاگتا ہوا آیا جیسے ہی اس نے باہر دو گاڑیاں کھڑی دیکھیں وہ فوراً گودام کے اندر باپ کے پاس آیا اور انہیں روتا دیکھ وہ خود نڈھال ہوگیا۔۔۔
☆.............☆.............☆
” گڈ ایوننگ میم۔۔۔ “ وہ بچوں کو ٹیوشن چھوڑ کر گھر کے لیے نکلی تھی۔ ابھی وہ ایک اسٹاپ پر رکی تھی کے اسے اپنے شوہر کے آفس سے کال وصول ہوئی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔۔۔
” گڈ ایوننگ جی کہیں آج مجھے کیسے یاد کیا؟؟؟ “ فون رسیو کرتے ہی وہ نہایت مؤدب لہجے میں گویا ہوئی
” میم وہ سر امپورٹنٹ میٹنگ میں ہیں انھیں ارجنٹ ایک فائل چاہیے جو انہوں نے آپ کی کار میں رکھی تھی۔۔۔ “ وہ لڑکی ایک ہی سانس میں بولتی اسے حیران و پریشان کر گئی۔۔۔
” میری کار؟؟ آر یو شیور؟؟ ان کی اپنی کار ہے میری کار میں کیوں رکھیں گے؟؟؟ “ سگنل کی گرین لائٹ ہوتے ہی وہ اپنی کار آگے بڑھا گئی۔۔ اسے عجیب سا لگ رہا تھا اسکا شوہر تو کبھی اسکی کار لیکر ہی نہیں گیا پھر فائل کیسے رہ گئی؟؟
” آئ ڈونٹ نو میم آپ سیٹ کور میں چیک کریں سر نے وہیں کا بتایا تھا۔۔۔ “ اپنی سوچوں میں الجھی وہ کوئی پارکنگ ایریا دیکھ کر کار روکنے کا سوچ رہی تھی کے دوسری طرف کی بات سن کر گہرا سانس لیکر رہ گئی۔۔۔
” ویٹ آ منٹ “ ایک شاپ کے باہر اسے خالی جگہ ملی جہاں آس پاس کافی گاڑیاں کھڑیں تھیں اس نے کار ریورس کر کے وہیں کھڑی کی اور خود فون وہیں فرنٹ سیٹ پر رکھ کر کار سے باہر نکل کر پچھلی سیٹ کورز دیکھنے پیچھے والی سائیڈ آگئی۔۔۔ پچھلی سیٹ کوور میں اندر ہی ایک فائل رکھی تھی جسے دیکھ وہ حیرت زدہ رہ گئی اور فائل لیکر فرنٹ سیٹ پر آبیٹھی ساتھ سیٹ پر پڑا فون کان سے لگایا۔۔
” ہاں ہے اوکے میں خود لے آتی ہوں ویسے میٹنگ کب تک ختم ہوگی؟؟؟ “ فائل رکھ کے اسنے فوراً کار اسٹارٹ کی۔۔۔۔
” میم جلد ہی تقریباً دس منٹ میں۔۔۔ آپ کے پاس جو ہے وہ اوریجنل ہے اسکی کاپی ہمارے پاس ہے، وہ میٹنگ کے لئے نہیں ہے بس کلائنٹس کو دینی ہے۔۔۔ “
” اوکے۔۔۔ “ وہ ابھی بھی حیرت کا شکار تھی۔۔۔ فون کاٹ کر وہ آفس کی طرف چل دی۔۔۔
” یہ لیں فائل۔۔ “ تقریباً بیس منٹ کی ڈرایئو کے بعد وہ آفس پہنچی اور آتے ہی سامنے بیٹھی ریسیپشنسٹ کو فائل پکڑا دی۔۔
” تھنک یو میم۔۔ “ مسکراتے ہوئے اس لڑکی نے فائل تھامی وہ جانے ہی لگی تھی کہ اسے شوہر کا خیال آیا کیوں نہ وہ اس سے مل کر جائے؟؟؟ دل کے شور پر وہ خود حیران تھی
” ویسے سر کہاں ہیں؟؟؟ “ جھجھکتے ہوے اس نے پوچھ ہی لیا لیکن اسے سمجھ نہیں آئی وہ شوہر ہے آخر ملنے میں جھجھک کیسی؟؟؟
” میم وہ اپنے کیبن میں ہیں۔۔ “ لڑکی نے رائٹ سائیڈ پر اشارہ کیا۔۔۔
” کو ئی ہے تو نہیں اندر؟؟ “ اس نے جاننا مناسب سمجھا
” میم علیزہ۔۔ “ ایک قدم کیبن کی طرف بڑھایا تھا کہ یہ نام سن کر ٹھٹھک کر رک گئی۔۔
” یہ کون ہے؟؟ آج سے پہلے تو نہیں تھی؟؟ “ وہ خود نہیں جانتی لہجے میں غصّے کی رمق کیسے آئی ؟؟
” س۔۔۔ر۔۔۔۔سر۔۔۔ک۔۔ ک۔۔۔۔کی و۔۔۔۔ا۔۔۔وائف “ وہ لڑکی ڈرتے ڈرتے بمشکل بول پائی ساتھ ایک قدم پیچھے ہوئی کہ کہیں سامنے رکھا کرسٹل ہی سر پر نہ دے مارے۔۔۔
” دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟؟ “ وہ چلا اٹھی۔۔
” سوری ہونے والی۔۔۔۔ نیکسٹ ویک انکی شادی ہے۔۔۔ “ ایک ہی سانس میں بولتے وہ تھوڑا اور پیچھے کھسکی
” کس نے کہا پاگل ہو تم۔۔ “ دانت پیستے وہ گویا ہوئی
” م۔۔۔۔میم۔۔۔ آپ۔۔۔ کی۔۔۔۔ ک۔۔۔کسی س۔۔سے بھی پوچھ لیں صبح سر نے آناونس کیا تھا۔۔۔۔ “ وہ لڑکی کہتے ہی فائل اٹھا کے دوڑی جبکہ وہ ایک ایک قدم اٹھاتی اپنے شوہر کے کیبن کی طرف بڑھی۔۔ سامنے کا منظر صاف نظر آرہا تھا سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر وہ دونوں کسی سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
وہ ماؤف ذہن کے ساتھ ایک ایک قدم پیچھے بڑھا رہی تھی۔ سامنے نظر آتا منظر پل پل دھندلا رہا تھا۔۔۔ دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے اوردل۔۔۔ دل غم کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
” صرف منہ مارتا ہوں نہ؟؟ ایسا نہ ہو تمہاری یہ بےعتنائی دیکھ کر کسی دن دوسری شادی کر لوں۔۔۔“ وہ چیخ رہا تھا اسکے کانوں میں بار بار یہی جملہ دوڑ رہا تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے۔۔۔ وہ اس آواز سے دور جانا چاہتی تھی اس دوغلے انسان سے دور وہ یکدم بھاگتی ہوئی گلاس وال دھکیل کر باہر آگئی آنسوؤں بےدردی سے رگڑتے اس نے کار اسٹارٹ کی۔۔۔
” کبھی پاس بیٹھ کر محسوس کرنا نہ شراب کی بو آئے گی نہ نشے میں دھت ملےگا “
“ تم بہت خوب صورت ہو پر افسوس خوب سیرت نہیں“
” دین تو کہتا ہے ناچنے والی سے نفرت نہ کرو تم نیک لوگوں میں عیب ڈھونڈتے پھرتے ہو؟؟ “
” تمہیں حق نہیں تم میرے اور اللہ کے درمیان آؤ۔۔۔۔ “
دماغ پر مسلسل ہتھوڑے برس رہے تھے یہ آوازیں اسے جینے نہیں دے رہی تھیں اگر یہ بند نہ ہوئیں تو یقیناً وہ پاگل ہوجائے گی۔۔۔ آج وہ کسی ننھے بچے کی طرح سسک کے رو رہی تھی۔۔
شام کے اس ٹائم جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم تھا وہ بلا خوف فل اسپیڈ میں گاڑی دوڑائے جا رہی تھی وہ کہیں دور جانا چاہتی تھیں جہاں یہ آوازیں نہ ہو کوئی نہ ہو بس وہ۔۔۔ اکیلی، تنہا کسی ویرانے میں۔۔۔۔۔ جہاں اسے اپنی آواز تک نہ سنائی دے بس خاموشی ہو صرف خاموشی۔۔۔۔۔۔
فل اسپیڈ سے کار آگے بڑھاتے اس نے یو ٹرن لیا۔ ہاتھ کی پشت سے آنکھ کو رگڑا تو سامنے کا منظر کچھ واضح ہوا۔ سگنل کی ریڈ لائٹ دیکھ کر بھی وہ نہ رکی اسے بس ان آوازوں سے دور جانا تھا ابھی وہ اگلا سگنل توڑتی کہ اس سے پہلے اسکا موبائل رنگ ہوا اس نے بنا دیکھے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔۔۔
” ہیلو “
یہ آواز سن کر وہ ہچکیاں لےکر رو دی۔۔۔
” بابا سب ختم ہوگیا سب دھوکےباز ہیں یہاں۔۔۔۔ ہر کسی کو میں مجرم لگتی ہوں عائشہ بھی مجھے غلط کہتی ہے، اور اس دھوکے باز نے بابا دوسری شادی کر لی۔۔۔۔ مجھے برباد کر کے وہ سکون میں ہے اسے نہ کل میری پروا تھی نہ آج ہے۔۔۔ سب جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ سب۔۔۔۔۔ آپ نے بھی میرے ساتھ غلط کیا۔۔۔ کاش مجھے سے ایسی زندگی کی التجا کرنے سے پہلے مار دیتے۔۔۔۔ اب دیکھیں یہ آوازیں یہ مجھے مار دینگی بابا مجھے مار۔۔۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔ “ ٹائیرز کی چڑچڑاتی آواز فون کے دوسری سائیڈ سنتے شخص کا دل دہلا گئی۔۔۔۔
” حجاب۔۔۔۔۔ “ وہ چیخے۔۔
” ٹون۔۔۔۔ٹون۔۔۔۔۔ٹون۔۔۔۔ دوسری طرف فون بند ہوچکا تھا۔۔۔
