Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

” ذلیل عورت “
ابراز بار ٹیبل کے پاس بیٹھا شراب کے نشے میں دُت تھا جہاں بہت سے لوگ شراب کے نشے میں مست خود سے بیگانہ ہوئے اِدھر اُدھر جھوم رہے تھے۔۔۔۔ اسکا دوست عباس پاس ہی بیٹھا تھا جو اسکی انگارے برساتی نگاہؤں سے بہت کچھ جان چکا تھا۔ بس ایک بار غصّے کی وجہ پوچھی تو ابراز کی دھاڑ کے ساتھ گلاس بھی چکنا چور ہوکر اس کے غصے کی انتہا بیان کر گیا۔۔۔۔اسکا غصّہ سامنے بیٹھے بندے کے ہوش اڑا دیتا اب بھی کوئی تیسرا گلاس اس نے توڑا تھا۔۔۔۔
” رازی“
” نفرت ہے مجھے اُس ذلیل عورت سے پیر بھی پڑے تب بھی۔۔۔۔ “ ابراز نے دانت پیستے کہا لیکن یکدم سر چکرانے سے باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے عباس نے جھٹ سے اسکا ہاتھ تھاما ابراز کو یکدم ہر منظر دھندھلا نظر آرہا تھا اسکا سر بھاری ہو رہا تھا کیونکہ آج کافی دنوں بعد اس نے پھر سے یہ حرام شے منہ سے لگائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” ابراز تو چل میرے ساتھ۔۔۔ “ عباس نے اسے سہارا دیکر اٹھایا اور قدم قدم چلتا سب کو سائیڈ پے کرتا کلب کی سیڑیاں چڑتا اوپر لے آیا۔۔ اوپر آتے کہیں بار ابراز کے قدم لڑکھڑائے جسے عباس نے سمبھالا۔۔ اوپر آتے ہی عباس نے اپنی جیب سے کی نکالی اکثر ان سب دوستوں کے پاس یہ کی ہوتی جو عام لاکس کو انلاک کرتی۔۔ عباس نے “کی” کی مدد سے لاک کھولا اور ابراز کے ڈگمگاتے قدموں کا سہارا بنتے ہوے اسے بیڈ پر لٹایا۔۔ اسکی حالت دیکھ عباس کو آج عجیب سا لگ رہا تھا عام دنوں سے ہٹ کے وہ کبھی اتنا غصّہ نہیں کرتا تھا آج اس نے غصّے میں پے در پے گلاس توڑے، ویٹر سے بدتمیزی کی عباس کی سمجھ سے باہر تھا آخر ہوا کیا ہے اسکے ساتھ۔۔۔۔۔
عباس نے جلدی سے فون نکالا اور ایک نمبر ڈائل کرتے ہی فون کان سے لگایا۔۔۔۔۔
” ہیلو انکل!!! “
” ہاں عباس؟؟ “ دوسری طرف حیات صاحب کی نیند میں ڈوبی آواز آئی۔۔۔
” انکل وہ رازی نے آج کچھ زیادہ پی لی ہے اور آج عجیب حرکتیں کر رہا ہے نیچے ویٹر سے بھی لڑ کے آیا ہے “ عباس کے لہجے میں حیات صاحب کو پریشانی صاف محسوس ہوئی۔۔ انکے لئے یہ عام بات تھی وہ اسے گھر لانے کا کہنے لگے تھے کے یکدم انکے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ آن ٹھری ایک خیال آتے ہی انکا دل خوشی سے اُچھل پڑا۔۔۔
” عباس ایک کام کرو ابراز کو وہیں چھوڑ کے تم گھر چلے جاؤ میں دیکھ لونگا تم فوراً سے نکلو “ وہ بیڈ سے اٹھ کھڑے ہوے۔ فبیحہ اتنی گہری نیند میں تھی کے انکا اٹھنا محسوس نا کرسکیں۔۔
” لیکن انکل “ عباس کو حیات صاحب کا رویہ پریشان کر رہا تھا رازی کو یہاں اکیلا چھوڑنے میں خطرہ تھا وہ نشے میں کیا کر جاتا ہے اُسے خود اندازہ نہیں اب عباس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔۔۔
” ڈو آیز آئ سے “ حیات صاحب کی سرد آواز سن کر وہ بوکھلاتا ہوا سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔ ” جی۔۔۔جی۔۔۔ “ عباس فون رکھ کر واشروم میں گھسس گیا اسکی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا امکان دے رہی تھی۔۔۔۔
” مہک “ حیات صاحب نے عبّاس کا فون رکھتے ہی مہک کو کال کی اور بالکونی کا دروازہ کھول کر وہاں آکھڑے ہوے
” کلب میں رازی اکیلا ہے کچھ ایسا کرو اسکی بیوی طلاق لینے میں پل نا لگائے “ حیات صاحب کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی دوسری طرف مہک کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک اُبھری اسی پل کا تو انتظار تھا اُسے۔۔۔۔۔

                   ☆.............☆.............☆

وہ گھٹنوں میں سر دیے سسک اٹھی وہ کیسے ایک عیاش کی محبت پر یقین لے آتی جسے خود اس نے لڑکیوں کے ساتھ دیکھا ہے کئی بار یونی میں یہاں تک کے گھر میں وہ مہک کو بیڈروم میں لے جا رہا تھا یہ سب اسکے کانوں نے سنا تھا۔۔ پھر کیسے وہ اس شخص پر اعتبار کرتی جسکا نا دین ہے نا ایمان۔۔
اس وقت حجاب کو دادو کی یاد آرہی تھی جو اسکے جانے سے اگلے دن ہی گاؤں چلیں گئیں کاش وہ یہاں ہوتی اور حجاب انکے سامنے اپنا دکھ بیان کر سکتی اسکے آپنے ماں باپ تک نے اس سے منہ پھیر لیا سب نئی خوشی میں مدحوش اسے بھول چکے تھے۔۔۔ حجاب نے اٹھ کر وضو کر کے نماز ادا کی اور بیڈ پر آکر لیٹ گئی کمرے کی حالت ابھی بھی ویسی ہی تھی جو ابراز حیات اپنے غصّے کی شدت میں بنا گیا تھا۔۔۔

                   ☆.............☆.............☆

وہ کی چین انگلی پہ گھومتا ھوا گھر میں داخل ھوا سامنے ہی حیات صاحب سر تھامے آنکھیں موندے ریلیکسنگ چیئر پہ بیٹھے آہستہ آہستہ جھول رہے تھے، ابراز مسکراتا ہوا دھیمے قدم اٹھاتا انکے قریب آیا اور ایک پاؤں رکھ کہ کرسی کو ہلنے سے روک دیا اسکے اس عمل پہ جہاں حیات صاحب آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہے تھے وہیں ابراز بھی فتح مند نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے ہونٹ جیت کی خوشی میں گنگنا رہے تھے۔۔۔۔
ایسے لہرا کہ تو روبرو آگئی
ایسے لہرا کہ تو روبرو آگئی
دھڑکنیں بے تحاشا تڑپنے لگیں
دھڑکنیں بے تحاشا تڑپنے لگیں
تیر ایسا لگا درد ایسا جگا
تیر ایسا لگا درد ایسا جگا
چوٹ دل پہ لگی جو مزہ آگیا!!!!!
حیات صاحب نے مٹھیاں بینچ لیں۔
” یہ حرکت تمہاری تھی نا؟؟ “
” اوف کورس ڈیڈ شیطان کی رگوں میں شیطان کا ہی خون دوڑتا ہے۔۔۔ “ جیت کی خوشی میں چمکتی آنکھیں اور ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ، حیات صاحب یک ٹک بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے یہ مسکراہٹ اس وقت انہیں زہر لگ رہی تھی۔۔۔۔
” میری عزت کا خیال نہیں آیا؟؟؟ بدنام کرنا چاہتے تھے اپنے باپ کو؟؟ “ ان کے لہجے میں ہارے ہوئے جواری کی سی شکستگی تھی ۔۔۔
” یہ عزت یا شہرت جو عزت بیچ کے کمائی ہے؟؟؟ اور وہ دو ٹکے کی لڑکی اس کمینے کی بیٹی تھی نا؟؟ اب دیکھنا کیسے اس کمینے کا تماشا بناتا ہوں۔۔۔ “ ابراز کا لہجہ چٹان کی طرح سخت تھا چہرے کے تاثرات سخت تھے۔۔۔۔۔
” ابراز کیوں مجھے برباد کرنے پر تلے ہو کیا چاہتے ہو آخر
تم؟؟ “ وہ بےبسی کی انتہا پر تھے ابراز کا ایک قدم انہیں کڑوروں کا نقصان دے سکتا ہے۔۔۔
” جیسے میں آپ کی پرسنل لائف میں دخل اندازی نہیں کرتا ویسے ہی آپ بھی مجھ سے،،، میری لائف سے میری بیوی میری زندگی سے دور رہیں۔۔ ورنہ میں برباد کرنے سے پہلے سوچتا نہیں “ پتھر کو مات دیتا سخت لہجہ انگارے برساتی آنکھیں انکا کھلا منہ بند کر گئیں۔۔ سترہ سال کا تھا انکا بیٹا جب ڈیڈ کرتے کرتے نہیں تھکتا تھا انکے آگے پیچھے گھومتا انکا ہر کہا اپنا فرض سمجھ کے مانگتا اور اب جب وہ اسے اپنی دنیا میں لے آئے تو اب وہ انکا باپ بن بیٹھا ہے۔۔۔۔
” گڈ بائے ڈیڈ آپ کی بہو کو میرے بغیر نیند نہیں آتی “ سخت تاثرات یکدم نرم پڑ گئے وہ مسکراتا ہوا پیر ہٹاتا سامنے رکھی فروٹ بسکٹ کی طرف بڑھا اسکا باپ پیچھے سے اسے دیکھتا رہا جو اب بسکٹ میں سے چھری نکال کر اپنے کمرے کی طرف اوپر بڑھ رہا تھا۔۔۔
” ابراز کیا کر رہے ہو؟؟ “ اسکا باپ چاقو دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا انکا بیٹا انکے جسم سے جان نکالنے کے در پہ تھا اپنی ان حرکتوں سے۔۔
” رہلیکس ڈیڈ خود کشی نہیں کر رہا یہ آپ کی بہو کے لئے ہے بہت بولتی ہے آج تو زبان ہی کاٹ دونگا نہ رہیگی زبان نہ ہوگی چکچک “ ابراز نے سرے سے انہیں نظرانداز کیا حیات صاحب اسکی پشت دیکھتے رہ گئے جو تیزی سے سیڑیاں چڑتا اوپر جا چکا تھا وہ سچ بولتا تھا حیات صاحب جانتے تھے اور اب بھی یہ جان کر پر سکون ہوگے کے کم سے کم خود کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

دروازے کے پاس آکر وہ روکا اسے رات والی اپنی بیوقوفی یاد آئی وہ اسکے سامنے جھکا تھا اظہار کیا تھا اس مغرور لڑکی کے سامنے جس کی رگ رگ سے وہ واقف تھا۔۔۔ سوچتے ہی اسکی دماغ کی نس پھٹنے لگتی آخر وہ ہے کون؟؟؟ ابراز حیات کو ٹکر دینے والی معمولی لڑکی؟؟ جسے خاص اس نے خود اپنے رویہ سے بنایا۔۔ لیکن عام وہ خود اپنے رویہ سے اسکی نظروں میں بن گئی وہ ہینڈل گھماتا اندر داخل ہوا۔۔۔
اسے آج کی بےعزتی کا بدلا لینا ہے ورنہ پل پل وہ خود کو تکلیف دیتے گزارے گا یہ دل کا درد اسے مار دیگا۔۔۔
اندر آتے ہی اسکی نظر بےخبر سوئی اپنی بیوی پر پڑی اسے بے سکون کر کے وہ خود پر سکون نیند سو رہی تھی؟؟ اسے پر سکون دیکھ ابراز کی آنکھوں میں بجلیاں ہی بجلیاں کوندنے لگی تھیں۔ چہرے پر سرد مہری چھا گئی۔ ابراز نے دروازہ پوری طاقت لگا کر بند کیا۔ اس تیز آواز سے حجاب یکدم ڈر کے اٹھ بیٹھی سامنے ابراز کو دیکھ کر اس نے دانت پیسے اس سے پہلے کے وہ اپنے کٹیلے الفاظوں کے تیر اسکے وجود میں پیوست کرے ابراز لڑکھڑاتا ہوا اسکے قریب چلا آیا۔۔۔۔
آج وہ حجاب کو اسی کے ہتھیار سے مار دیگا نشہ۔۔۔؟؟؟
” تم۔۔۔ “ وہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر گئی
” کیا کہا “ وہ بیڈ پر ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹی ہوئی تھی۔ ابراز نے جھک کر اسکا چہرہ دبوچا ساتھ دوسرے ہاتھ میں پکڑا چاقو اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا حجاب کے سٹی تو چاقو دیکھتے ہی گم ہوگئی ورنہ اسکی شرٹ سے آتی شراب کی بو سے یقیناً وہ ناک پر ہاتھ رکھ دیتی۔۔۔۔
” تم۔۔۔ تم نے۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے۔۔۔ڈر۔۔ڈرا دیا وہ۔۔۔دروازہ میں۔۔۔ڈر گئی۔۔“ تھوک نگلتے بامشکل اسکے ہلق سے الفاظ برآمد ہوے۔۔وہ کسی معصوم چڑیا کی طرح کانپ رہی تھی۔۔ ابراز کی آنکھوں میں اس وقت غصّہ، آگ، وحشت، انتقام کیا کچھ نا تھا اس لڑکی نے ہر بار اسے توڑا تھا۔۔۔۔
” شکر کرو قتل نہیں کیا۔۔۔ خیر وہی کرنے آیا ہوں “ اس کا لہجہ آگ کو مات دے رہا تھا۔۔۔۔
” کیا کیا۔۔ت۔۔۔تم۔۔۔ مجھے ما۔۔۔مارو۔۔ گئے؟؟ “ خوف سے اسکے حواس سلب ہو رہے تھے۔۔ وہ تیزی سے اسکا ہاتھ جھٹکتی اٹھ کھڑی ہوے جیسے ابھی وہ اس چاقو سے اسکی گردن کاٹ دیگا ابراز نے ایک پل لگاے بغیر اسکی کمر جکڑی۔۔۔۔
” پھر تم کہا؟؟؟ ۔۔ “ وہ کسی بھوکے شیر کی طرح دھاڑا۔ آج وہ اس سے سارے حساب لینے کے در پر تھا۔۔۔خوف سے پھیلی آنکھیں ان نفرت بھری آنکھوں سے ٹکرائیں تو حجاب کو سہی معنوں میں نانی یاد آگئی۔۔۔۔۔
” آپ بولو “ اسکی دھاڑ سے وہ جی جان سے کانپ اٹھی
” آپ۔۔ آپ۔۔ “ خوف سے پھٹی آنکھوں میں نا چاہتے ہوے بھی ہلکی نمی تیرنے لگی۔۔۔۔
” بہت بولتی ہو تمہاری یہ زبان کاٹوں یا خوبصورت گردن۔۔ “ وہ زبان اور گردن کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرکے دانت پیستے ہوے بولا۔۔ چاقو کی نوک اس کی آنکھ کے قریب لا کر وہ اسکی روح فنا کر گیا۔۔
” مج۔۔ مجھے ما۔۔۔مار۔۔ماریں۔۔گئے۔۔ ما۔۔میں۔۔آ۔۔آپ کی۔۔بیوی۔۔ ہوں “ غیر حاضر دماغ کیا بلولا رہا تھا حجاب کو اندازہ نہیں تھا ابراز کا جہاں اسکے لفظوں سے دماغ گھوما وہیں اسکے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگی۔۔۔
” یاد آگیا۔۔۔بیوی۔۔ہو؟؟ پتا ہے ایک دفع نشے میں میں نے اپنے دوست کی انگلی۔۔ کاٹی تھی۔۔۔۔تمہا۔۔۔تمہاری بھی کاٹوں۔۔ “
موت کا منظر پیش کرتے ابراز کا دل جہاں پر سکون ہوا اسے خوف میں دیکھ کر۔۔۔۔ وہیں حجاب کا چہرہ ” انگلی “ سن کر سفید پڑ گیا۔۔۔
” نہیں۔۔۔نہیں پلیز۔۔میں س۔۔سوری کر۔۔کرتی۔۔۔ہوں۔۔میں غصّے میں تھی “ کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ ابراز کے کندھے پر رکھا جیسے موت کے دعویدار سے ہی پناہ مانگ رہی ہو آخر یہی تو ہے اسے بچانے والا۔۔۔۔۔
”غصّے۔۔۔میں انسان۔۔سچ۔۔بولتا ہے۔۔چلو اب ذرا۔۔ سزا۔۔
بھگتو۔۔ یہاں بیٹھو۔۔اگر اٹھی نا دور سے چاقو پھنک کر مارونگا۔۔۔ “ ابراز نے سرد لہجے میں کہکر لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھتے جھٹکا دیکر چھوڑا حجاب اس قدر سہمی ہوئی تھی کے بیٹھنا یاد ہی نہیں رہا ابراز نے خود ہی اسے بٹھایا چہرے کے ابھی بھی پتھریلی تاثرات تھے۔ وہ پلٹا اور کمرے کا دروازہ لاک کیا اور اوپر سے کنڈی لگائی تاکے حجاب کے راہ فرار کے تمام راستے بند ہوجائیں۔۔۔۔
” ہاں۔۔اب۔۔اٹھو یہاں مجازی خدا بیٹھے گا۔۔۔ “ وہ قریب آکر اسکا بازو دبوچے اسے اٹھا چکا تھا خود وہیں حجاب کی جگہ پر پُر سکون ہوکر لیٹا تھا جہاں وہ اسے بےسکون کر کے لیٹی تھی۔۔۔
” بہت اچھی لگ رہی چلو مرغی بنو۔۔ “ وہ لیٹا ہوا چاقو ہاتھ میں لئے اسے حکم دے رہا تھا۔۔۔
” مرغی؟؟ و۔۔وہ۔۔تو۔۔ نہیں آتی “ جہاں مرغی سن کر اسکا گلہ خشک ہوا وہیں چاقو دیکھ کر رواں رواں کانپ اٹھا۔۔۔
” بتاؤں تمہیں؟؟ “ وہ اٹھنے لگا کے حجاب کے آنسوں بہ نکلے۔۔
” مجھ۔۔۔مجھے۔۔۔سچ۔۔ما۔۔۔میں نہیں آتا۔۔۔ “ وہ ہچکی لیکر رودی۔۔۔۔وہ اسکے سامنے کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی اور ابراز دل ہی دل میں خود کو پرسکون کرنے کی بےجا کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
” رو کیوں رہی ہو۔۔۔ چلو اٹھک بھیٹک کرو۔۔ یا۔۔ وہ۔۔۔ بھی محترمہ کو نہیں آتی۔۔ کرو “ سرد لہجے میں کہکر آخر میں وہ دھاڑ اٹھا۔۔۔
” ما۔۔۔میں۔۔ سوری کرتی ہوں پلیز آئ ایم سوری۔۔ “ حجاب نے باقاعدہ ہاتھ جھوڑے ابراز کو یقین نا آیا وہ اس سے اس قدر خوفزدہ ہوگئی کے ہاتھ۔۔۔۔
” کر کیوں نہیں رہیں؟؟ “ وہ بےرحم بنا ہوا تھا آخر اس لڑکی نے کہاں پروا کی تھی اسکے آنسوں کی؟؟؟
” مجھے شرم آرہی۔۔ “ روتے ہوے وہ غصّے سے بولی ناچاہتے ہوے بھی ابراز کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی جو پل بھر میں غائب ہوگئی۔۔۔۔
” زبان چلاتے وقت آئی تھی؟؟ “ آنکھیں سکوڑ کر اسے گھورتے وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
” میں مرجائونگی۔۔ “ وہ آنسوں پونچھتے اسے وارننگ دے رہی تھی۔۔ کے اس ڈر سے جب بند ہوگا نا دل تو روتے رہنا میرے پیچھے۔۔۔۔۔
” مر تو مجھ جیسے ناپاک انسان سے شادی کرتے وقت گئیں تھیں۔۔۔ چلو۔۔ فرج سے ٹھنڈا پانی لاؤ۔۔۔ “ اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر وہ کچھ نرم پڑ گیا۔۔ یہ لڑکی واقعی ابراز حیات کی کمزوری بن چکی تھی۔۔۔حجاب جلدی سے شکر کرتی فرج سے پانی لینے چلی گئی لیکن اسکا دل اتنا خوفزدہ تھا کے وہ پل بھر بھی اسکی برداشت سے باہر تھا اس لئے نمو پانی بنا کر وہ اسکے سامنے حاضر ہوئی۔۔۔
” یہ کیا؟؟ پانی کہا تھا نا جاہل ہو؟؟ “ وہ نمو پانی کا ایک گھونٹ بڑھ کے بدمزہ ہوگیا۔۔۔۔۔
” اس سے نشہ اترے گا آپ جلدی سے پی لیں “ اسکی سرد مہری کو ان سنا کرتی وہ جھٹ سے بولی۔۔۔۔۔
” میرے ساتھ دھوکہ اب تو تمہاری آنکھیں نکالوں گا “
” سوری۔۔ سوری پلیز۔۔۔ مجھے نہیں۔۔۔ مارو۔۔۔ مجھے بہت۔۔۔ ڈر لگتا۔۔۔۔ “ وہ اٹھنے لگا تھا کے حجاب پانچ قدم پیچھے ہوئی اسکی تیزی دیکھ وہ قہقہ لگاتے رکا۔۔۔۔۔ اور کہیں واپس اس خوفزدہ چڑیا کے حسن میں کھو گیا۔۔ اسکے منہ سے نکلتے اگلے لفظوں نے حجاب کو آسمان سے زمین پڑ پٹکا۔۔۔۔
” تمہیں پتا ہے تم بہت خوبصورت ہو پر افسوس خوب سیرت نہیں۔۔۔“ پہلی دفع حجاب کو ابراز کے لفظوں نے مارا تھا اور اسکی آنکھوں میں امڈتی نفرت نے۔۔۔
” جاکر اپنی جگہ پر لیٹو اور مجھ سے پہلے سوئی نا تو گلا کاٹ دونگا۔۔۔ “ مزید اس کے جال سے بچنے کے لئے ابراز نے اسے اگلا حکم سنایا جسے سن کر حجاب کو ابراز کے لفظ بھول گئے۔۔ خوشی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔۔
” جی۔۔۔ جی “ جھٹ سے دوسری سائیڈ آنے کے لئے قدم بڑھائے کے ابراز کی گرج دار آواز کمرے میں گونجی۔۔۔۔
” بولو جیسے آپ کہیں۔۔ “
” جیسے۔۔۔ آپ۔۔۔۔کہیں۔۔۔ “ اسکے لفظ دہراتے وہ اپنی جگہ پر آکر لیٹی لیکن نیند میں جھولتی وہ سوئی نا تھی خوف ابھی بھی طاری تھا اور جب وہ ستمگر سویا تب حجاب کی جان میں جان آئ اور دھیرے سے اسکے ہاتھ سے چاقو لیکر بیڈ کے نیچے پھینکا اور پر سکون ہوکر لیٹ گئیی

                     ☆.............☆.............☆

صبح وہ ابراز کے اٹھنے سے پہلے ہی تیار ہوکر یونی چلی آئی۔ دن بھر لیکچرز لیکر اسکی طبیعت اچھی خاصی خراب ہوگئی۔ وہ گھر آئی تو ابراز اسے سویا ہوا ملا دن چڑے تک وہ سویا ہوا تھا پہلی بار حجاب کو عجیب لگا لیکن یہ پہلی بار نہیں تھا بلکے یہ مسلسل چلتا گیا وہ شعر و شاعری اور وہ دیوانگی محبت بھرے الفاظ نجانے کہاں جا سوئے تھے؟؟ وہ دن تک سوتا اور راتوں کو غائب رہتا۔۔حجاب کو اب احساس ہو رہا تھا وقت بدلا ہے، وہ وقت جو اسے بدترین لگتا تھا آج سہی معنوں میں اسے خوش گوار لگا اسے محبت نہیں تھی ابراز سے نا اسکی ضرورت بس اسے یہ ابراز عجیب لگتا جو خود میں رہتا نا اسے دیکھتا نا شرارت بھرے جملے اسکی سماعتوں سے گزارتا۔۔ ایک دو بار حیات صاحب تک نے حجاب سے ابراز کی اچانک سے بدلتی حالت کا پوچھا لیکن حجاب چپ رہی اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا گزرتے وقت کے ساتھ جہاں اسکا سراپا بھاری ہوا تھا وہاں ابراز حیات اس نئی خوشی کو بھول چکا تھا۔۔۔۔۔۔
آمنہ نے یہ گڈ نیوز فبیحہ کو دی جسکے بعد ہونا کیا تھا نوکرانی کو خاص حجاب کی صحت کا خیال رکھنے کو کہا گیا مہوش بھی اب حجاب سے ڈنر ٹائم پر نورملی بات کرلیتی اس خوش خبری نے پرانی دشمنی بھلا دی۔۔ دادو نے بھی گاؤں سے آکر اسے ڈھیر سارا پیار کیا اور مختلف قسم کی چیزیں بنوا کر بھجوائیں۔۔۔ سب سہی تھا لیکن وہ ہمسفر اب ستمگر بن کے رہ گیا تھا۔۔۔گزرتے وقت کے ساتھ ابراز حیات مکمل اپنی پہچان اسکے سامنے بدل چکا تھا شاید یہ وہی ابراز تھا جو حجاب تاثیر کی آمد سے پہلے تھا۔۔۔
” تم چیک اپ کروانے کیوں نہیں گئیں؟؟ “ آج دوسرا دن تھا جب اسے ہسپتال سے کال آئی کل ہی اسے ڈاکٹر نے بلایا تھا لیکن جان بوجھ کر وہ گئی نہیں۔۔ اور اب ابراز کمرے میں آتے ہی اسکا سر کھا رہا تھا۔۔۔۔ حجاب نے اسکی آواز سنتے ہی سب سے پہلے دوپٹا اٹھا کے پہنا۔۔۔۔۔
” تم سے مطلب؟؟ “ جھٹ سے جواب آیا تھا ویسے ہی کنڈیشن ایسی تھی کے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑتی۔۔۔
” یہ زبان کسی دن کاٹ دونگا۔۔۔ تم کیا سمجھتی ہو انجان ہوں تم سے؟؟ پل پل کی خبر رکھتا ہوں اٹھو چلو میرے ساتھ۔۔۔ “ وہ اسکے قریب آکر سرد لہجہ میں بولا ساتھ بازو پکڑ کے اٹھایا۔۔ حجاب اسکی بات ان سنی کرتی کھڑی رہی ابراز نے الماری سے عبایا نکالا اور اسکے سامنے رکھا۔۔۔
” میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں پہن کر نیچے آؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔ پانچ منٹ میں نا آئی تو خدا کی قسم میرے ہاتھوں سے بچو گی نہیں “ اسے بُرے منہ بناتا دیکھ وہ سختی سے بولا اور کار کی چابی لیکر نیچے چلا گیا۔۔۔ اسکا غصّہ دیکھ ناچار وہ عبایا پہن کر اسکے ساتھ ہسپتال آگئی۔۔۔۔۔۔
ابراز اسے بتائے بغیر نجانے کہاں چلا گیا تھا۔ پہلے چھوٹی چھوٹی بات اسے بتاتا تھا لیکن جب سے حجاب نے اسکی محبت کو ٹھکرایا تھا تب سے اس نے ابراز کو ہنستے ہوے نہیں دیکھا ان گزرتے مہینوں میں دادی بھی ایک دو بار آکر رہ گئیں حجاب صرف ابراز کو تنگ کرنے کے لئے انکے ساتھ سونے لگی لیکن ابراز نے اف تک نہ کی اور یہی بات حجاب کو اپنے خسارے کا احساس دلا گئی۔ آج صبح سے ویسے ہی اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور ابراز ان آخری دنوں میں اسے بنا بتائے چلا گیا۔۔۔ صبح سے اسنے ابراز کو گھر میں ہی نہیں دیکھا نجانے کہاں تھا وہ؟؟؟۔۔۔۔
” آ۔۔۔ “ حجاب حیات صاحب مہوش اور فبیحہ کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ڈنر کر رہی تھی کے اچانک اسکی حالت بگڑ گئی درد سے وہ بےحال ہو رہی تھی۔۔
” حجاب کیا ہوا۔۔ ڈرئیور “ سب سے پہلے مہوش کو ہوش آیا ورنہ اسکی چیخ نے انکے حواس اڑا دیے وہ اٹھ کے اسکی بگڑتی حالت سمجھتی اور چیختی ہوی ڈرئیور کو آواز دینے لگی۔ پھر وہ تینوں اسے ہسپتال لے آئے جہاں ڈلیوری کے بعد ڈاکٹر نے جڑواں بچوں کی آمد کی خوش خبری دی فبیحہ تو سنتے ہی مہوش سے لپٹ گئی اور دونوں نے آج پہلی دفع حجاب کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوے دونوں بچوں کی آمد کی خوش خبری دی۔۔