Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
وہ میرے سامنے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی اور میری بے بسی کی انتہا نہیں تھی میں اُسکی تڑپ تک محسوس نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اِسکے چلانے کی آواز سن کر میں روم میں آیا تاثیر صاحب کے پیچھے کھڑا اِسکے دیکھنے کے انتظار میں تھا لیکن؟؟؟ لیکن وہ۔۔۔ اُس نے مجھے نہیں دیکھا نہ اپنے بابا کو۔۔۔ اُسکی نظریں کسی ایک نکتے پر نہیں تھیں وہ نجانے کس کو ڈھونڈ رہی تھی؟؟؟ ایک پل کو میرا دماغ سُن ہوگیا اگلے ہی لمحے اُسکی چیخوں نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔۔۔۔ جیسے پوچھ رہی ہوں کیا ملا یہ سب کر کے؟؟؟ تم اِسکے بندے کو آزمانے چلے تھے؟؟؟ کس نے تمہیں حق دیا ایک انسان کی زندگی کے ساتھ ایسا کھیل کھیلو؟؟ میں جو اپنی ماں باپ کی اصلیت پر نہیں رویا تھا میں جو محبوب کے ٹھکرانے پر نہیں رویا تھا آج پھوٹ پھوٹ کے رو دیا میرے سامنے وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی اِسے کچھ نظر نہیں آرہا اور میں بزنس ٹائکون جسے ایک دنیا کہتی ہے کہ کوئی جیز ایسی نہیں جو اِس شخص کے پاس نہ ہو یا وہ خرید نہ سکے؟؟ میں اُس وقت کچھ نہ کرسکا نہ اُس درد کو محسوس کر سکا نہ اُس اذیت کو جو وہ سہہ رہی تھی۔۔۔۔ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بلکنے لگا اور میرے سامنے میری زندگی بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔ کمرے میں اچانک قدموں کی آواز آئی جس کے کچھ دیر بعد وہ چیخیں آنا بند ہوگئیں کسی مہربان سائے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میں نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر سرخ سوجی آنکھوں کو اوپر اٹھا کے اُس شخص کو دیکھا جس نے کچھ دیر پہلے مجھے یہاں سے جانے کے لئے کہا تھا۔۔۔۔۔
” اٹھو۔۔۔ “ انکی بھاری آواز سے لگ رہا تھا وہ بھی رونے والے ہیں کس نے کہا مرد رویا نہیں کرتے؟؟! میں یکدم اُٹھا نظر سامنے اپنی بیوی کے بےخبر سوئے وجود پر پڑی پاس ہی نرس اور ڈاکٹرز کھڑے تھے۔۔۔۔ تیزی سے قدم بڑھاتے میں واشروم میں چلا آیا چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر بار بار ان آنسوؤں کو پانی کے ان قطروں میں چھپا کر ثابت کر رہا تھا مرد رویا نہیں کرتے۔۔۔۔ نہیں رویا کرتے۔۔۔۔ لیکن یہ جملا سوچتے ہی آنکھیں پھر بھیگ جاتیں میں کون ہوتا ہوں قسمت کا فیصلہ کرنے والا؟؟ میں نے کیسے اندازہ لگا لیا وہ میرے قدموں میں آکر گرے گی؟؟ حاجی صاحب کے کہے وہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔۔۔۔
” عورت کوئی بھی ہو
رشتوں میں ملاوٹ پسند نہیں کرتی
وہ جس سے بھی پیار کرے
اس کی حرکات کو نظروں میں رکھتی ہے
لڑتی ہے جگڑتی ہے
اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے
مگر شراکت کبھی برداشت نہیں کرتی “
آج میں ایک بار پھر بکھر گیا اور اس مرتبہ بھی سمبھالنے والا کو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ابراز حیات “ میرا نام ابراز میرے ڈیڈ نے رکھا جس کے معنی ہیں ” اہم “ ” خاص “ میں سمجھتا تھا میں اپنے ماں باپ اپنے ددیال ننیال میں خاص ہوں اپنے نام کی طرح اپنوں کی زندگی میں میری ایک خاص اہمیت ہے اور یہ سچ بھی تھا میرے نانا رئیس خاندان کے اکلوتے بیٹے کڑوروں کی جائیداد کے مالک تھے لیکن اس جائیداد کو سنبھالنے والا وہ وارث نہ تھا یکے بعد دیگرے تین شادیاں بھی انہیں بیٹا نہ دے سکیں اور انکی تمام تر توجہ کا مرکز انکی بیٹی فبیحہ رہی جو کے اِنکی پہلی شادی سے ہوئی تھی۔۔ نانا نے اپنے لاڈ پیار سے انھیں اس حد تک بگاڑ دیا کے کل وہ انکے سامنے دھڑلے سے ڈیڈ کو لے آئیں اپنی ضد بدتمیزی اور غیر اخلاقی حرکتوں سے انہوں نے نانا کو بلیک میل کر کے آخر ڈیڈ سے شادی کر لی آئے دن موم کے آفیرز اخباروں کی شان ہوتے اور نانا کی بنائی عزت پل بھر میں مٹی میں مل گئی تنگ آکر انہوں نے یہ شادی کروائی نانا کے سرکل میں آج بھی ایسی فمیلیز تھیں جو اس کروڑ پتی باپ کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنانا چاہتے تھے لیکن موم پر ڈیڈ کے عشق کا ایسا بھوت چڑا تھا جو آج تک نہ اُتر سکا آج تک موم کے خلاف ڈیڈ ایک لفظ برداشت نہیں کرتے لیکن دادو کے سامنے وہ بھیگی بلی بن جاتے آج تک وہ اپنے کپڑوں سے لیکر جوتے تک موم کی پسند کی گئی برینڈ سے مانگواتے ہیں آخر کیوں نہ منگوائیں عزت دار زندگی چھوڑ کے غلامی جو کر بیٹھے ہیں؟؟؟ لیکن کیا یہ محبت تھی؟؟؟عشق تھا؟؟؟ یا نفس کی غلامی؟؟؟؟ یہ وہ کہانی ہے جو دادی نے پچپن میں سنائی اور میں نے موم کو جنہوں نے جھوٹ قرار دیکر مجھے سمجھایا کبھی ” ساس “ سے ” بہو “ کی نیکی سنی ہے؟؟؟ یہ میری موم کے الفاظ تھے اُس دن کے بعد میں نے کبھی دادو سے موم کا نہیں پوچھا نہ موم سے دادو کا بس ڈیڈ سے سنا جو موم کے لئے کہتے…..
” she is my life ”
” ہماری پسند کی شادی تھی جس سے کوئی راضی نہ تھا “
جب ڈیڈ سے پوچھتا تب وہ یہ کہتے میں نو سال کا تھا بس اپنے ماں باپ کی لو اسٹوری میں انٹرسٹ تھا تو سب سے پوچھتا یہ باتیں وقت رہتے میں بھول گیا ۔۔۔
میں نے جب ہوش سمبھالا خود کو ڈیڈ کے قریب پایا ہی واز مائے آئیڈیل پرفیکٹ بزنس مین جنہوں نے گھر کے ساتھ باہر کی دنیا میں بھی ایک نام بنایا۔۔۔ انہوں نے مہوش اور میری ہر خوائش پوری کی چھوٹی سے چھوٹی چیز لاکر دی سب کچھ دیا ہنسی ہماری ہونٹوں سے جدا تک نہ ہونے دی بس نہ دے پائے تو ٹائم لیکن مجھے ان سے گلا نہیں تھا میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہا وہ ہمارے لئے دن رات ایک کر کے محنت کر کے کماتے ہیں تاکے ہماری خوائش پوری کر سکیں ۔۔ موم پورا دن ہمارے ساتھ گزارتی، چھوٹی سی چھوٹی چیز پر توجہ دیتیں ڈانٹتیں پیار کرتیں اپنی نگرانی میں ناشتہ کرواتیں لیکن ڈنر؟؟؟ رات کے ہوتے ہی میرے موم ڈیڈ ایسے بدل جاتے جیسے ہمیں گود لیا ہو۔۔۔ ہم ان پر بوجھ ہیں۔۔۔ ہمیں ملازموں کے حوالے کر کے نجانے کہاں چلے جاتے خیر میں اپنی زندگی میں خوش تھا میرے پیرنٹس لوونگ تھے اور کیا چاہیے تھا ایک پُر سکون زندگی۔۔ ڈیڈ اکثر چھٹیوں میں مجھے اور مہوش کو گاؤں بھیجتے جہاں داد دادی کا پیار میری اہمیت جگاتا۔۔
میرے دادا دادی مجھے ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھتے
مجھے اپنے سامنے دیکھ جہاں دادا دادی خوشی سے بےقابو ہوجاتے وہیں میری چچیاں مجھے کھا جانے والی نظروں سے گھورتیں کیوں کے میرے کسی چچا کے یہاں بیٹا نہیں ہوا میں اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا یہی وجہ تھی کے مجھ جیسے ” عام “ انسان کو سب نے ” خاص “ بنا دیا چاہے وہ میرے دادا دادی ہوں یا نانا۔۔۔۔۔۔
دادی کی محبت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے بیٹا تو ویسے ہی دادی کے قابو میں نہیں تھا لیکن کہتے ہیں نہ اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد عزیز ہوتی ہے وہی تھا ہمارے وہاں آتے ہی دادی باقی بچوں کو بھول کر صرف ہماری خاطرداری میں لگ جاتیں وہاں گھر میں دادی کی حکومت تھی۔ اور دادا سیاست دان تھے گاؤں کا چھوٹا بڑا آدمی اُنکی عزت کرتا دادا سیاست میں اس حد تک مدغم تھے کے اولاد کو ” نیکی “ اور ” برائی “ کا فرق سمجھانا بھول گئے یہاں تک کے اولاد سے اس قدر غافل ہوگے کے گھر کی عزت کب بِکی انکو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔۔ لیکن میرے معملے میں وہ مجھ پر جان چھڑکتے سب کو بتاتے یہ میرا وارث ہے۔۔۔۔ میرے جگر کا ٹکڑا وہاں سب کی نظریں مجھے احترام سے دیکھتیں جیسے میں انکا مالک ہوں۔۔
وہیں ان دنوں میری اکلوتی پھپھو اچانک سے بیٹی اور شوہر کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ماں کے گھر آکر بیٹھ گئیں پھوپھو کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی وہ پانچ وقت نمازی نیک عبادت گزار خاتون تھیں اور انکا شوہر فہیم احمد غلیظ نظروں سے گھر کی عورتوں کو گھورنے والا ایک حوس پرست مرد۔۔ اس وقت میں تیرا سال کا تھا میری ہمت نہیں تھی گھر کے داماد کے خلاف کچھ کہوں یا اُسکی عقل ٹھکانے لگاؤں جب تک اسکے نظریں چچیوں پر تھی میں خاموش رہا لیکن جب اُسکی گندھی نظر مہوش پر پڑی میرا ضبط جواب دے گیا میں نے ڈیڈ کو کال کر کے ڈرائیور کو بلایا اور شہر آگیا اُسکے بعد سے جب موم ڈیڈ نے جانے کا کہا میں نے انکار کردیا اور اِس انکار سے سب سے زیادہ خوشی موم کو ہوتی کیوں کے انھیں دادی سے سخت چڑ تھی جو موم کے کپڑوں، رہن سہن کو ناپسند کرتی تھیں۔۔۔
میں اپنی زندگی میں خوش تھا کیوں کے میں ” خاص “ تھا میرے ٹکر کا کوئی نہیں تھا نہ مجھے ٹھکرانے والا لیکن سب سے پہلے مجھے اس ” خاص “ لفظ سے اُس دن نفرت ہوئی جب میں نے خود کو اکیلا محسوس کیا۔۔ میں بورڈ ایکزیمز کی تیاری کر رہا تھا ڈیڈ کے کچھ دوست اپنی بیویوں کے ساتھ ڈنر کرنے ہمارے یہاں آئے تھے مہوش اپنے روم میں سو رہی تھی میں پڑھائی کر کے بور ہوگیا تھا تو نیچے کا ایک چکر لگایا ڈیڈ کے سب دوستوں سے خوش اسلوبی سے ملا ڈیڈ نے فخر سے وہاں میری ذہانت کی تعریف کی وہ آج بہت خوش تھے اِس خوشی کی وجہ مجھے تو معلوم نہ تھی لیکن دل سے دعا نکلی ایسی خوشیاں انھیں بار بار نصیب ہوں لیکن مجھے پتا ہوتا وہ خوشی میرا وجود مٹا دیگی میں اپنے باپ کی دولت پر لعنت بھیجتا۔۔۔۔کچھ دیر اُنکے ساتھ بیٹھ کر میں وہاں سے اٹھ کر روم میں چلا آیا۔۔۔۔
ناجنے رات کا کونسا پہر تھا کے میں نیند سے بیدار ہوا شاید پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی میں اٹھا میرے قدم کچن کی طرف رواں تھے کے مجھے موم کی خوبصورت ہنسی سنائی دی میری آنکھوں میں جہاں خوشی سے چمک اُبھری وہیں ہونٹوں پر مسکراہٹ میری موم ماں کم میری دوست زیادہ تھیں میں سمجھ گیا ڈیڈ نے انھیں کوئی سرپرائز دیا ہوگا اکثر ڈیڈ کے یونیک سرپرائزز سے وہ خوش ہوتیں اپنی دوستوں کو دکھاتی پھرتیں۔۔۔
میں خوشی سے اُس ہنسی کے تعاقب میں گیا۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ اپنے آنے پر جہاں مجھے پچھتاوا ہوا وہیں موت کی شدت سے میں نے دعا کی موم بلیک بیکلیس ساڑھی میں ڈیڈ کے دوست کے ساتھ تھیں۔ وہ موم کو کھینچتے ہوے اُس روم میں لے جا رہے تھے جو اکثر مہمانوں کے یوز میں ہوتا اور موم وہ خوش تھیں کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ اندر گئے اور میری موم کو جھٹکے سے کھنچ کر اندر کیا اور جس طرح ٹھاہ کی آواز سے وہ دروازہ بند ہوا اُسی طرح میرے دل کا دروازہ میری ماں کے لئے ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔۔ میں نے منہ پر ہاتھ رکھا میری حالت خراب ہو رہی تھی میں بالکنی کی طرف دوڑا میری الٹیاں رُکنے کا نام نہیں لے رہیں تھیں میں پاگل ہو رہا تھا میرا دل پھٹ رہا تھا نہ مجھے رونا آرہا تھا نہ مجھے میری ماں سے نفرت ہو رہی تھی میں بےحس ہو چکا تھا میری ماں کی ہنسی نے میرے احساس کو روند ڈالا میں بےحس بن گیا۔۔۔
” را۔۔۔۔۔رازی ک۔۔۔۔کیا ہوا م۔۔۔مائے بوائے “ میری کھانسے کی آواز سن کر ڈیڈ جو کچن کے پاس والے روم میں تھے باہر آئے انکی آنکھیں لال تھیں اور آواز میں لڑکھڑاہٹ۔۔۔۔۔
” ڈی۔۔۔۔ڈیڈ۔۔۔ م۔۔۔ موم “ میں نے خون آلودہ آنکھوں سے انہیں دیکھتے کہا الٹیوں کی وجہ سے میری آنکھوں میں گرم پانی جمع ہو چکا تھا یہ پانی موم کی وجہ سے نہیں بلکے اس حالت کی وجہ سے ہے جس کی وجہ موم تھیں۔۔۔۔۔۔۔
“ come on!!! Chill my boy.. ”
میرے ڈیڈ سب سمجھ گئے انہوں نے عام سے لہجے میں کہا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور اُس دن میرے آئیڈیل کا بنا بت چکنا چوڑ ہوگیا۔۔۔
میرے ڈیڈ کا ” chill my boy “ کہنا مجھے اُن سے نفرت کرا گیا اسکے بعد ہاتھ میں تھامی شراب انہوں نے زبردستی میرے منہ میں انڈھیلی میں سترہ سال کا نوجوان لڑکا اپنے باپ کے ہاتھوں نشے میں مبتلا ہوا۔۔۔ وہ ہنسے زہر میرے کان میں انڈھیلا۔۔۔
” چھ۔۔۔چھوٹ۔۔۔چھوٹی با۔۔۔باتوں۔۔۔ سے پریشان نہیں ہوتے مزہ چھکو اسکا “
وہ شراب کی بوتل میرے ہاتھوں میں تھاما کر چلے گئے اور میں نے انکے جاتے ہی ایک اور لمبی سپ لیا میری رگ رگ میں نشہ سا دوڑنے لگا وہ غم جو تھا اب یاد بھی نہ رہا ” غم “ تھا بھی؟؟؟ کون سا غم؟؟ مجھے یاد نہیں آیا۔۔۔میں لڑکھڑاتے قدموں سے بمشکل اپنے کمرے تک پونچھا اور پوری بوتل خالی کر کے بیڈ پر لیٹ گیا مجھے یاد ہے غنودگی میں جانے سے پہلے میرے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ تھی جو ثبوت تھا میری اذیت کا کے میں کھوکلا ہو چکا ہوں۔۔۔۔۔
اس واقعے کے بعد میں اپنے موم ڈیڈ سے دور ہوگیا میری موم میرے بال بھی سنوارتیں میں انکا ہاتھ جھٹک کر گھر سے ہی نکل جاتا ڈیڈ سے بھی اب دور رہتا وہ پاس آتے تو ایک زخمی نظر سے انھیں نوازتے کمرے میں بند ہوجاتا۔۔ اُس رات کے بعد میں نے نے ہر چیز پر غور کیا میری ماں ہی نہیں باپ بھی۔۔۔۔ یہ امیر لوگ عزت بھیچ کر وہاں اپنے محل بنواتے ہیں جہاں کھوکلے لوگ رہتے ہیں جنکا دل اندر سے مر چکا ہوتا ہے۔۔۔۔
مجھے ایک بات ہمیشہ عجیب لگتی جس عورت کے پاس تفصیل لینے جاتا وہ ایک دوسرے سے میلوں دور لگتیں۔۔ میرے ماں باپ کی محبت کی داستان سب نے اپنے الفاظوں میں سنائی جسکا میں نے ایک الگ رخ بنا کر اپنے ذہن میں فیڈ کیا جو سچائی سے بلکل مختلف تھی۔ دادو ہو یا موم یا چچیاں سب اپنی زبان بولتیں اصل حقیقت مجھے نانا کے گھر پتا لگی اُن کے ڈاکومنٹس سے۔۔۔۔ ہم دونوں اکثر کیرم کھیلتے ہر سنڈے میں انکے گھر جاتا وہیں دن تھا جب پتا لگا میرے نانا بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے جس نے بیوی کی عزت بھیج کر یہ دولت کمائی اور ساری زندگی یہ دولت کمانے والا بیٹے کے لئے روتا رہا میں اس وقت ہنسا تھا میری کھوکلی ہنسی اس ویرانے میں گونج رہی تھی جس شخص نے تباہ کیا اتنا پیسا کمایا آج وہ دوسروں کی زندگیاں تباہ کر کے اب پچھتا رہا جب ماں باپ آگے تھے تو بچے کہاں پیچھے رہتے؟؟
نانا کی ایک ایک ڈیلنگ کی پوری خبر تھی اس فائل میں ساتھ اس آدمی کا نام جسکی عزت کا جنازہ نکال کر نانا نے یہ ڈیل فائنل کی۔۔۔ موم کی رپورٹس میرے ہاتھوں لگیں میری پیدائش سے تین سال قبل انکا ابارشن ہوا تھا۔۔۔ میرے اندر احساس تھا کہاں جو رپورٹس دیکھ کر کچھ محسوس ہوتا؟؟ میں بےتاثر چہرے کے ساتھ ایک سے ایک درد ناک راز اپنے دل میں حفظ کر رہا تھا میرے ہاتھ ڈیڈ کے کچھ پپرز لگے ڈیڈ نانا کے ایک عام امپلوائے تھے۔۔۔ یقیناً وہ شادی اُسی راز کو چھپانے کے لئے کروائی گئی تھی محبت؟؟ عشق؟؟ کیا کیا کہانی نہیں سنائی دادو نے اپنوں نے اور نکلا کیا؟؟؟ دولت کے پُجاری۔۔۔ نم آنکھ سے ایک آنسوں ٹوٹ کر اس کاغذ پر گرا جس نے میرے اندر کے حیوان کو جگایا۔۔۔ نانا نے سیونٹی فائیو پرسینٹ پروپارٹی میرے نام کی باقی ڈیڈ کے۔۔۔۔ اب کوئی شک نہ تھا عزت بچانے کے لئے دولت کا سودا کیا فائدہ جب انسان کی اپنی نظروں میں کوئی عزت نہ ہو؟؟؟ میں اس کاغذ پر تھوکتا ہوا اسے پیڑوں تلے روندھتا ہوا وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔
میرے ڈیڈ میرا بدلتا رویہ دیکھ پریشان ہوتے تھے میں انھیں دھڑلے سے جواب دیتا اور اُس دن میرے ہاتھوں اُنکی ایک اور کمزوری لگی۔۔۔۔
” رازی کیا حرکت ہے؟؟ دادو کے پاس کیوں نہیں جا رہے مہوش کو بھی لے جاؤ دیکھو وہ دن رات تمہیں یاد کرتی
ہیں “
” سو واٹ؟؟ “ میرا پر سکون جواب انھیں غصّہ دلا گیا ایک ماہ سے وہ میری بےعتنائی دیکھ رہے تھے۔۔۔
” شٹ اپ کل تم جا رہے ہو اینڈ دیٹس فائنل “
انکی گرج دار آواز نے میرا دماغ گرم کردیا میں نے پاس پڑی ڈائننگ ٹیبل پر رکھی چھڑی اٹھا کر کلائی پر رکھی میری یہ حرکت دیکھ ڈیڈ تیر کی تیزی سے الرٹ ہوکر میرے قریب آئے۔۔۔ بس اسکے بعد سے انہوں نے مجھے کسی چیز کے لئے فورس نہ کیا۔۔ میں اپنے آپ میں سلگنے لگا بس دوست تھے میرے جنکے ساتھ بیٹھ کر زندگی پر سکون لگتی لیکن تنہائی میں اکثر رات کو ڈیڈ کے روم سے شراب کی بوٹل لے آتا اور گھنٹوں بیٹھ کر اس سے سکون تلاش کرتا ایک دو بار موم مجھ سے ہمدردی جتانے آئیں میں گھر سے ہی نکل گیا ماں تھیں اسکے بعد سے کبھی مجھ سے کچھ نہ کہا اس ڈر سے کے باہر نہ چلا جاؤں گھر میں ہوں تو انکی نظروں کے سامنے رہتا تو ہوں۔۔۔ اسکے بعد سے گھر میں یہ بےحیائی کا سلسلہ بھی بند ہوگیا لیکن انسان اپنی فطرت سے کب بدلا ہے؟؟ دونوں میاں بیوی اکثر راتوں میں غائب رہتے لیکن اب تو مجھے فرق بھی نہیں پڑتا میں نے انٹرمیڈیٹ کے ریزلٹ کے بعد یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اس دوران کافی لڑکیوں سے دوستی ہوئی لیکن کسی کو بھی خود سے قریب نہ کیا نہ یونیورسٹی کا ایسا ماحول تھا کے لڑکے لڑکیاں ہاتھوں میں ہاتھ لئے گھومیں اس دوران میں کوشش کرتا مہوش بھی موم ڈیڈ کے اس سچائی سے انجان رہے ہر کسی میں ہمت نہیں ہوتی کے نشان کے ہوتے ہوئے زخم کو چھپائے۔۔۔
میری دوستی ڈیڈ کے سرکل کے کچھ لڑکے لڑکیوں سے جو انکے دوستوں کے بچے تھے ان سے ملاقات گھر کی ہی ایک پارٹی میں ہوئی وہ میری طرح ہی تھے کھوکلے لیکن نہیں وہ خوش تھے شاید حقیقت کو جلد ہے ایکسپیٹ کر گئے تھے اب سمجھ آئی ڈیڈ کی پارٹی رکھنے کی وجہ اپنے جیسوں سے دوستی میری سوچ یقیناً سچ تھی کیوں کے اس دن وہ سب خود میری طرف دوستی کا ہاتھ لئے بڑھے تھے جن میں سے مہک ارسلان اور ابریش بھی ایک تھی۔۔۔۔
زندگی بس گزر رہی تھی جب تک ” وہ “ نہیں تھی۔۔ اسکے آنے سے ہل چل مچی وہ مجھے ” مختلف “ نہیں لگتی تھی میری سوچ نے اسے ” مختلف “ بنایا تھا اُس دن میں نشے میں دت
تھا میری ایک چھوٹی سی غلطی نے اسکے اندر غلط فہمی کا پہاڑ پیدا کردیا۔۔۔
وہ دن مجھے آج تک نہیں بھولا کونوکیشن ڈے جس دن ہم دوستوں نے خوب جشن منایا تھا یونی سے آکر میں کلب چلا آیا جہاں پر ابریش اور ارسلان کے گروپ نے مجھے گھیر لیا
” ٹریٹ دو “۔۔۔۔۔۔ اس ٹریٹ کے چکر میں میری حالت خراب ہوگئی جشن منانے میں اس قدر مدہوش تھا کے کتنی شراب کی بوتلیں ہلق سے اتاریں اندازہ نہ رہا ابریش مجھے گھر تک چھوڑنے آئی لیکن اُس دن نشے نے میرا دماغ ماؤف کردیا نجانے کیسی طلب تھی کے میں ضد کر کے ابریش کو اپنے ساتھ گھر کے اندر لے آیا میرا ارادہ وہی تھا جو ہر ہوس پرست مرد کا ہوتا اور ابریش میری اس طلب سے انجان نہیں تھی وہ شاید میری زندگی کا ” پہلا “ ایسا ” گناہ “ تھا اس سے پہلے یہ سوچ میرے دل میں کبھی نہیں آئی ہوش میں میری عورت سے نفرت مجھے اسکے پاس جانے نہیں دیتی لیکن اُس دن نشے نے مجھے ہرا دیا تھا ہاں وہ نشہ ہی تھا جس نے ہر گناہ و ثواب کا فرق پہچان میرے دماغ سے مٹا دی۔۔ لیکن اندر آتے ہی
میں نے پہلی بار اسے اپنے گھر میں دیکھا تھا نہ اس گھر میں مہوش دوپٹا پہنتی تھی نہ موم۔۔۔میں مدحوشی کے عالَم میں پلر کے پیچھے چھپے وجود کی طرف کھنچتا چلا گیا۔۔۔ میرے دل کو سکون تب ملا قرار تب آیا جب میں نے اُسکی آنکھوں میں اپنے لئے ڈر دیکھا اور وہ میری زبان سے اپنا نام سنے کے بعد رہی سہی جان بھی اُسکی نکل گئی۔۔۔ مجھے نشے میں علم نہیں تھا میں کیا کرگیا نہ میری وہ ہنسی میرے ہوش میں رہنے کی گواہ تھی نہ وہ حرکت میں اُسکا نقاب ہٹانا نہیں چاہتا تھا مجھے اُس وقت خود کا ہوش نہیں تھا اُسے کیا یاد کرتا اگلے دن ابریش کے منہ سے رات کا لفظ لفظ سن کر میں حیران رہ گیا اور اپنی کلائی دیکھی جہاں پر ہلکا سا بلیڈ کا کٹ تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اس دن عجیب بات یہ ہوئی میں اپنی زندگی کا پہلا گناہ کرنے جا رہا تھا حرام رشتہ بنانے جا رہا تھا لیکن اسکی آمد نے مجھے گمراہی میں جانے سے بچا لیا میں خود حیران تھا اُس دن کیسے نفس پر قابو پا لیا؟؟؟؟
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم ریڈر ناول اینڈنگ کی طرف ہے میں نے پرسوں ڈبل ایپی دی تھی کہا تھا کل نہیں آئے گی پھر بھی سب نے اچھا خاصا تنگ کیا🙈🙈🙈 چلیں کوئی نہیں ایپی کیسی لگی؟؟؟ نیکسٹ ایپی منڈے کو آئے گی کیوں کے مجھے بھی اسٹوری کو بیلنس کرنا ہے سوچ سمجھ کر اسکے لئے وقت چاہیے۔۔ پلز ڈونٹ مائنڈ ☺☺
