Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

وہ بیڈ پر چت لیٹی تھی۔ بکھرے بالوں کی کچھ لٹیں گیلے گالوں سے چپکی ہوئی تھیں۔۔۔۔سرخ ہوتی سوجی آنکھیں کھولے وہ کمرے میں پھیلا اندھیرا دیکھ رہی تھی جو اسکی زندگی میں چھا چکا تھا۔۔۔ دل کا درد پل پل مزید بڑھتا جب اپنی بربادی کا احساس ہوتا۔۔۔ آنسو کسی ندی کی طرح اسکی آنکھوں سے پھسل کر بالوں میں جذب ہورہے تھے ۔۔۔ رات کا منظر یاد آتے ہی اسکا دماغ پھٹنے لگتا کروٹ لیتے اسکی نظر ابراز پر پڑی جو دنیا جہاں سے بےنیاز پر سکون نیند میں تھا حجاب کا دل چاہا اپنے جلتے دل کی طرح وہ اسے بھی جلا کر راکھ کردے وہ اٹھی اسے یکدم کمرے میں وحشت ہونے لگی، سانس لینا دشوار لگا، وہ بھاگتی ہوئی بالکنی میں جا رہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے ایک پل کو اندھیرا چھانے سے اسکا پیر بری طرح ٹیبل سے جالگا ہلکی سے چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی لیکن وہ رکی نہیں بھاگتی ہوئی ٹیرس پر آگئی جہاں نیلا آسمان کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا ٹھنڈی ہواؤں اور تیز چلتی بارش نے موسم کو مزید حسین بنا دیا۔۔ لیکن یہ خوش گوار موسم بھی اسکے دل میں جلتی آگ نہ بجھا سکا وہ اپنے بازؤں , چہرے کو ہاتھوں سے بُری طرح رگڑنے لگی ابراز حیات کا لمس اسے دہکتے انگاروں کی مانند اپنے جسم پر چُبھتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” پاگل ہوگئی ہو ؟؟؟ “ ابراز جو اسکی چیخ سن کر اٹھا تھا اسے اس طرح بارش میں بھیگتے اور چہرے کو رگڑتا دیکھ آپے سے باہر ہوگیا یہ لڑکی اسے پل پل ضد دلا رہی تھی۔۔۔
” ہاں پاگل ہوگئی ہوں۔۔۔ تم نے مجھے کردیا ہے۔۔۔۔۔ سب ختم ہوگیا۔۔۔۔ سب۔۔۔۔۔۔۔برباد کردیا تم نے مجھے۔۔۔۔ می۔۔۔۔ میں۔۔۔ تو پاک تھی پھر تم جیسا شخص میرا نصیب کیوں بنا کس گناہ کی سزا ملی ہے مجھے؟؟؟ میرا کون سا۔۔۔۔ عمل مجھے برباد کر گیا؟؟؟؟ تم۔۔۔کیوں آئے تم مر کیوں نہیں گئے؟؟ کیوں میرے ساتھ یہ سب کیا۔۔۔۔ کیوں بولو؟؟ “ ابراز کا بڑھتا ہاتھ جھٹک کر وہ اسکی شرٹ پکڑ کے چیخ پڑی۔۔۔
” اسٹاپ اٹ نشئی ہوں آوارہ ہوں بڑے سے بڑا گہنگار ہوں لیکن۔۔۔۔۔“ وہ اسے جھنجھوڑتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا یکدم چُپ ہوگیا پھر ایک نظر حجاب پر ڈال کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔” تم جیسے لوگوں کے لئے صحیح کہا ہے جس کو ”میں“ کی ہوا لگی اُسے پھر نہ ”دوا“ لگی نہ ”دعا “ اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ اپنے ازلی سرد لہجے میں بولا لیکن حجاب وہ کہاں اپنے ہونش میں تھی اسکے جھنجھوڑنے سے وہ اپنی حواس کھو کر اسکی بانہوں میں جھول گئی ابراز یکدم دنگ رہ گیا پھر سنبھلنے پر تیر کی تیزی سے اسے گود میں اٹھا کر بیڈ تک لایا۔۔ اسے لیٹا کر ابراز نے فوراً نظر ارد گرد دوڑائی اسے ڈریسنگ ٹیبل پر اپنا فون نظر آیا۔ تیزی سے فاصلہ طے کر کے اس نے اپنا فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا
” سارا آئ نیڈ یور ہیلپ پلیز کم فاسٹ “ سارا کو اسکی آواز سے اسکی بڑھتی پریشانی کا اندازہ ہو رہا تھا
” ہوا کیا ہے؟؟ “
” میری بیوی کو باپ کے ہارٹ اٹیک کا سنتے ہی شاک لگا اب کیا کروں ہوش میں نہیں آرہی “ وہ ایک ہی سانس میں بولتا سارا کو بھی احساس دلا گیا معاملہ پیچیدہ ہے
” اوکے ریلکس اُسے جلدی ہسپتال لے آؤ دیر نہ کرو “ وہ سارا کی بات سن کر فون کاٹتا اسکے ہوش و سے بےگانہ وجود کو لیکر ہسپتال پہنچا وہ خود نہیں جانتا یہ لڑکی کیوں ہر بار اسکے سامنے ایک نیا امتحان بن کر کھڑی ہوتی ہے آج بھی اس نے ابراز حیات کو صبح کی روشنی میں تارے دیکھا دیئے برستی بارش میں وہ کیسے ہسپتال پہنچا تھا وہی جانتا ہے کتنی ہی بار اسکی گاڑی لگتے لگتے بچی تھی۔۔۔ اسکا خود بازو ابھی درد کی شدت سے جل رہا تھا۔۔ ماتھے پر ابھی بھی ایکسیڈنٹ کا ہلکا سا کٹ موجود تھا جسے بھرنے میں ابھی وقت ہے۔۔۔ لیکن حجاب اسے وہ کیسے سنبھالے گا اس شدید طرزِ عمل کی اسے امید نہ تھی۔۔۔
” شی اس فائن اُسے انجکشن دے دیا ہے۔۔باقی دوائی لکھ دیتی ہوں ٹائم سے دیتے رہنا اسے فیور بھی ہے “ سارا نے آکر ابراز کو اطلاع دی جو کب سے پریشان کھڑا ونڈو سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔۔۔ سارا کی بات سن کر جہاں اسکی جان میں جان آئی وہیں اگلے سوال پر اس کل دل چاہا سارا کا گالا گھونٹ دے۔۔۔۔۔
” ویسے شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ لیکن یاد آیا تم نے کہا تمہارے سسر کو اٹیک ہوا ہے؟؟ “
” ہاں بس خوشی کنٹرول ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔ بلا جو سر سے ٹلی۔۔ “ ابراز نے نارمل سے انداز میں کہا آخر میں وہ بڑبڑاتے ہوے بولا۔۔اسے اس وقت کسی کا بات کرنا سخت کوفت زدہ کر رہا تھا۔۔
” کیا؟؟ “ سارا جو اسکی بربراہٹ نہ سن سکی پوچھا
” کچھ نہیں۔۔ اور ہاں حجاب کو نہیں بتانا ورنہ یہیں ماتم شروع کردیگی۔۔ “ احسان کرنے والے انداز میں جواب دیکر وہ اندر حجاب کے پاس چلا آیا۔۔۔۔
” ابراز کیا ہوا ہے اتنے غصّے میں کیوں ہو؟؟ “ سارا بھی اسکے ساتھ ہی اندر چلی آئی اور حجاب کے ہاتھ میں لگی ڈریپ نکال دی۔۔۔
” بیوی پاس نہیں ہوتی تو موڈ خود بخود بگڑ جاتا ہے “ زبردستی مسکراتے ہوئے اس نے بات ہی ختم کردی۔۔ اسکی گہری نظریں حجاب کے بےخبر وجود پر تھیں یہاں لاتے ہوئے بھی اسکی کوشش تھی حجاب کا چہرہ کوور رہے۔۔۔۔
” یاد آیا تم ڈنر کیے بغیر ہی چلی گئی تھی ؟؟ “ ابراز کو اچانک یاد آیا وہ حجاب پر سے نظریں ہٹا کر بولا اسے یاد تھا وہ شادی ہال میں اسے مبارکباد دیکر جلد ہی نکل گئی تھی۔۔۔
” ہاں وہ ایمرجنسی کیس آگیا تھا “ ابراز کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا سارا نے جو دوائی لکھی تھی وہ اس نے کمپاونڈر سے کہہ کر منگوائی جس کے آتے ہی وہ دوائی لیکر سارا کی ھدایت کے مطابق حجاب کو گھر لے آیا۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
” کیا ہوگیا میری بچی کو تجھے کس نے کہا ہیرو بن کے اسکے ساتھ بارش میں نہا؟؟ “ ابراز نے حجاب کو گھر لاتے ہی ملازمہ کے ذریعے دادو کو بلا کر اسکی طبیعت خرابی کا بتایا کے بارش میں بھیگنے سے اسے بخار ہوگیا ہے۔۔۔۔۔
” دادی آپ کی بہو کا حکم تھا بارش میں نہانا ہے “ ابراز ڈریسنگ کے سامنے کھڑا آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا اس نے حیات صاحب سے وعدہ کیا تھا شادی کے بعد وہ خود ہی آفس کا چکر لگایا کرے گا انٹرسٹ اسے خاص ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
” کیوں بیگم صاحبہ “ ابراز ہیر برش رکھ کے پیچھے مڑا اور حجاب سے ہامی چاہی۔۔۔۔ حجاب نے نفرت سے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا ابراز مسکراتا ہوا جی جان سے اسکی ادا پر مر مٹا۔۔۔
” دیکھا دادی آنکھوں سے اشارے کر رہی ہے ہر بات دادی کو بتانا ضروری ہے؟؟ دادی آپ کو تو پتا ہے کچھ باتیں میاں بیوی کی پرسنل ہوتی ہیں “ وہ اسکے نفرت کا جواب محبت سے دیتا اسے تپا گیا۔۔۔ نظریں ابھی بھی اسکے زرد چہرے پر تھیں کل سے آج کے مقابلے وہ اسے کافی کمزور لگی۔۔۔
” کیا ہوتیں؟؟ “ دادی نے عینک درست کر کے اپنے پوتے کو دیکھا وہ تو لفظ پرسنل پر اٹک گئیں اس سے پہلے ابراز اپنا سر تھامتا دادی نے اسے سنایا۔۔۔۔۔
” اور تو تیار ہوکر کہاں جا رہا ہے بیوی کی خدمت کر دیکھ نہیں رہا بیچاری کی طبیعت کتنی خراب ہے “ ابراز تو جیسے بیٹھا ہی اسی کام کے لئے تھا۔ دادی کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی پاس بیٹھ کر اسکا ہاتھ تھام کر اپنی سخت گرفت میں قید کرلیا۔۔۔۔ حجاب جو آنکھیں موندھے اسکی نظروں کو نظر انداز کیے لیٹی تھی اس لمس سے سلگ اٹھی۔۔۔۔
” میں تو تیار ہوں آپ اپنی چہتی سے پوچھیں خدمت کا موقع دینگی “ وہ اسکا ہاتھ تھامے دل جلانی والے انداز سے مسکرایا۔۔۔ حجاب نڈھال ہوگئی لیکن اس سخت گرفت سے آزاد نا ہوسکی جبکہ دادی اب حجاب کے پیچھے پر گئیں۔۔۔۔
” کیوں نہیں دیگی؟؟ ہم تو ترس جاتے تھے شوہر ایک گلاس پانی کا بس اٹھا کے دی دے۔۔۔ “ دادی نے حسرت سے کہا جیسے کاش ایک دفعہ پانی پلا کر شوہر جنّتی ہوتے۔۔۔۔
” دادی آپ ان جیسے مردوں کو نہیں جانتیں انکے دیکھانے کے اور کھانے کے اور دانت ہیں یہ کبھی نہیں بدل سکتے خدمت کیا کریں گے؟؟ “ حجاب نے ایک کھٹیلی نظر سے اسے نوازا
” بالکل صحیح کہا دادی ان محترمہ نے مرد کبھی نہیں بدلتے شادی سے پہلے بھی بس شادی کا شوق ہوتا ہے شادی کے بعد بھی بس ایک یہی شوق ہے “ وہ بھی اسکے آنکھوں میں دیکھتا ایک آنکھ دبا کر بولتا حجاب کا رواں رواں جلا گیا۔۔۔۔
” اللہ‎ کرے تم مر جاؤ “ وہ دانت پیستے بڑبڑائی
” قسم کھائی ہے تمہیں ساتھ لیکر مرونگا جاں من۔۔۔۔ “ وہ بھی شیطانی انداز میں بڑبڑایا۔۔۔
” یہ کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟؟ “ دادی نے انکے ہلتے ہونٹ دیکھ کر دونوں کو دیکھتے کہا
” دادی میں ایک گھنٹے میں نکل جاؤنگا تب تک موقع دیں بیوی کی خدمت کروں آپ کو دیر نہیں ہو رہی ظہر کی اذان ہوگئی ہے۔۔ “ رازی نے انہیں بھیجنے میں عافیت سمجھی۔۔۔
” تو خیال رکھے گا؟؟ “ دادی اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوب گئی
” جی دادو اسی میں تو ایکسپرٹ ہوں۔۔۔۔ “ فخریہ انداز سے کہتے اس نے حجاب کا ہاتھ چھوڑ دیا اسکے چھوڑنے کی دیر تھی کے حجاب نے اپنا ہاتھ کمفرٹ کے اندر چھپا لیا۔ اسکی یہی حرکتیں ابراز حیات کو اور پاگل کیے دیتیں اب بھی حجاب تاثیر کی اس حرکت نے ابراز حیات کی آنکھوں میں محبت کی ایک جوت جلائی۔۔۔۔
” کیا؟؟ “ دادو نے ابرو اچکا کے اسے دیکھا
” کچھ نہیں دادو “ حجاب کو خطری کی گھنٹی بجتی نظر آئی اس نے دادو کا ہاتھ پکڑنا چاہا اسی وقت ملازمہ آگئی دادو نماز کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ابراز نے بھی اٹھ کے ملازمہ سے سوپ سے بھرا باؤل لیا جو اسی نے منگوایا تھا۔۔۔
وہ قدم اٹھاتا اسکے بیڈ کے پاس رکھی چیئر پر آبیٹھا جو صبح سے اسے نے رکھوائی تھی۔۔۔ حجاب اٹھ کے بیٹھ گئی اسکا بھوک سے بُرا حال تھا تو یہاں وہ چاہ کر بھی کمپرومائز نہیں کر سکتی۔۔۔ لیکن انا ہے نہ ابراز نے سوپ سے بھرا چھوٹا اسپون اسکے آگے کیا تو حجاب نے منہ پھیر لیا۔۔۔۔
” پی لو بےبی یہ باؤل اور اسپون ڈیٹول سے دھلوا کر لایا ہوں میرے ہاتھ بھی صاف ہیں سیف گارڈ سے دھو کر آیا ہوں پاکستان کا نمبر ون سوپ۔۔۔ “ دلکشی سے مسکراتا وہ اپنی نظروں سے اسکی جان لینے کے در پر تھا۔۔۔
” مجھے گھورا مت کرو کسی دن اندھا کر دونگی “ وہ اسی انگلی سے وارن کرتی کچا چبانے کو تھی۔۔۔۔ابراز نے سپون واپس باؤول میں ڈالا
” چلو اسی بہانے خود سے چھوو گی تو “ مسکراہٹ دباتا وہ مسلسل اسے چھیڑ رہا تھا
” مجھے سکون سے رہنے کیوں نہیں دیتے؟؟ “ وہ رو دینے کو تھی۔۔ لیکن ابراز نے ایک پل کو اس دشمن جہاں سے نظر نہیں ہٹائی۔۔۔
” پھر میرے سکون کا کیا جو تمہیں بے سکون کر کے آتا ہے؟؟ “ دیوانہ وار اسے تکے وہ حجاب تاثیر کو تنگ کر کے مسلسل ضبط آزما رہا تھا۔۔۔۔
” اچھا چلو بس سوپ پی لو میں چلا جاؤنگا “ اسکی آنکھوں میں نمی آتی دیکھ ابراز سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
” پکّا؟؟ “ وہ بچوں کی معصومیت سی التجا کر رہی تھی۔۔۔۔
” ہاں بٹ میرے ہاتھوں سے یقین مانوکل سے شراب کو۔۔۔۔ “ کہتے کہتے اس نے سپون بڑھایا اس دفعہ حجاب نے چپ کر کے سوپ اسکے ہاتھوں سے پیا۔۔ لیکن ابراز حیات وہ تو خود پر حیران تھا وہ کیوں اسے تفصیل بتا رہا تھا؟؟ کیوں خود کو پرو کر رہا تھا اسے سوپ پلاتے وہ ابھی بھی حیران تھا حجاب جلدی جلدی سوپ ختم کرنے کے چکر میں تھی سامنے بیٹھے شخص کی نظریں اسے اپنے آپ سے نفرت کرنے پر مجبور کر رہی تھیں۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
ابراز کے جانے کے بعد وہ سکون بھرا سانس خارج کرتی اٹھ بیٹھی اور بمشکل وضو کر کے نماز ادا کی۔۔ دعا مانگ کر اس نے سب شکوے صرف اللہ‎ سے کیے اور نماز کے بعد وہ کچن میں آگئی اپنے لئے چائے بناتے اس نے غوڑ کیا تھا گھر کا سارا کام نوکر ہی کرتے انفکٹ کھانا تک وہی بناتے اسے بہت حیرت ہوئی اسے یاد نہیں پڑتا برتن کے لئے بھی امی نے کبھی کوئی ماسی رکھی ہو صرف گھر کی صفائی کے لئے ایک تھی باقی سارا کام ثنا اور وہ خود مل کر کرتیں۔۔۔ شام تک وہ دادی کے پاس انکے روم میں رہی عشاء کی نماز بھی اس نے وہیں پڑھی پھر ڈنر کا ٹائم ہوتے ہی وہ دادو کے ساتھ نیچے آگئی جہاں سب ڈنر شروع کر چکے تھے اور حیرت کی بات آج اسکے سسر بھی وہیں انکے ساتھ تھے آج پہلی بار حجاب نے انہیں دیکھا تھا۔۔۔
” السلام عليكم “
وہ سب کو سلام کرتی دادی کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔
” وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹے؟؟ “ حیات صاحب نے خوشدلی سے جواب دیا۔۔ وہ انکی سوچ سے بڑھ کے خوبصورت تھی۔۔۔
” جی ٹھیک ہوں۔۔ “ حجاب نے نارمل سے انداز میں کہہ کر اپنی پلیٹ میں چاول لئے۔۔۔۔ حجاب نے ایک نظر ٹیبل کے گرد بیٹھی ماں بیٹی پر ڈالی فبیحہ ساڑھی پہنے فل میک اپ چہرے پر ملے چھوٹے چھوٹے نوالے لے رہیں تھیں جیسے کھانے کا پروگرام کہیں اور ہو مہوش بھی ہنوز یہی عمل دہرا رہی تھی دل مار کر کھانا کھا رہی تھی۔۔۔
” ہیلو ایوری ون کیا ہو رہا؟؟ “ ابراز نے اپنا کورٹ اتار کر حجاب کی چیر پر لٹکا دیا اور خود آکر اسکے پاس بیٹھ گیا۔ حجاب نا محسوس انداز میں دور کھسکی۔۔۔۔
” بےبی سنبھال کر گر نہ جاؤ۔۔۔ اور شوہر آیا ہے گھور کیا رہی ہو جان کھانا نکال کر دو بہت بھوک لگی ہے “ وہ اسکے کھسکنے پر چوٹ کر گیا ساتھ نیا آرڈر جاری کیا جو حجاب کو تپا گیا مجبوری تھی وہ یہاں اپنا منہ بھی نہیں کھول سکتی۔۔ اس نے صرف ” جی “ کہا اور پلیٹ میں اسکے لئے چاول نکالنے لگی۔۔۔
” اوہ بےبی میں سبزی نہیں کھاتا پرونز بنے ہونگے وہ دو “
ابراز نے سلیوز کے کف فولڈ کیے اس وقت وہ کافی تھکا لگ رہا تھا۔ اور اسکا موڈ بھی کافی خوشگوار تھا جبکے ہجاب اسکی پل پل بڑھتی بےباکی دیکھ کر اپنی قسمت پر ماتم کر رہی تھی۔۔۔
” تیری بیٹی ہے کیا جو بےبی کہہ رہا ہے؟؟ “ دادو کو اسکا بےبی کہنا ناگوار گزرا۔۔۔۔ فبیحہ اور مہوش کوفت سے بیٹھے دل مار کر کھانا کھا رہے تھے انہیں اس بحث میں کوئی دلچسبی نہیں تھی۔۔۔
” وہ بھی جلد آجاےئے گی دادو۔۔۔۔ “ ابراز کی بات سے حجاب کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوگیا اب تو مر کر بھی وہ اسکے لئے پرونز کو ہاتھ نہیں لگائے گی۔۔
” تم لے لو مجھے الرجی ہے “ ابراز اسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ بمشکل اپنا قہقہہ روک پایا اسے تنگ کر کے نجانے کیوں وہ پر سکون ہوجاتا۔۔ یہ سچ تھا اسکے آنے سے ابراز کو اپنی زندگی سے محبت ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ سے پلیٹ لیکر خود نکالنے لگا جب اسکا خوشگوار موڈ مہوش کی بات سے پل بھر میں غارت ہوگیا۔۔۔
” اس نے سرو کرنے کا کہا ہے کھانے کے لئے نہیں کہا اپنے کان کھلے رکھا کرو اور زبان بند “ مہوش کے کاٹ دار الفاظ نے ابراز کی پیشانی پر بل نمایاں کیے۔۔
” تم سے کس نے مشورہ مانگا؟؟؟ ہاو ڈیر یو ٹو ٹوک ہر لائک دس؟؟؟ “ وہ غصّے سے چلایا اسکی آواز سے جہاں حجاب کانپی تھی وہیں حیات صاحب نے سر تھاما تھا۔۔ دادی بھی بدلتے ماحول سے پریشان ہوگئیں
” تم اسکے لئے مجھ سے بحث کر رہے ہو؟؟؟ جانتے نہیں ہو اس نے “ مہوش اپنی جگہ سے اٹھ کر چیخی اسکی آواز اس قدر بلند اور انداز ایسا تھا کہ حجاب کو وہ کوئی سائکو لگی۔۔۔
” شٹ اپ وہ بات ختم ہو چکی ہے سمجھی آئندہ اس لہجے میں میری بیوی سے بات کی تو یاد رکھنا۔۔۔“ ابراز دھارا اسکی دماغ کی نسیں تک واضح ہونے لگیں۔۔۔
” مہوش “ فبیحہ نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا لیکن وہ تو اس وقت جنونی بنی ہوئی تھی۔۔۔
” تو کیا کروگے تم ہاں؟؟؟ بولو اسکے لئے تم مجھ سے لڑ
رہے ہو؟؟ “ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔۔۔
” بیوی ہے۔۔ میری تمیز سے بات کرو۔۔۔ وہ ایک لفظ نہیں کہتی تم سے۔۔۔ تم چڑھ دوڑتی ہو۔۔۔“ ابراز نے تیز لہجے میں کہہ کر آواز نیچی رکھی وہ بمشکل خود کو پر سکون کر رہا تھا پل بھر میں وہ اسکا موڈ کافی اوف کر چکی تھی۔۔۔
” شی از بلڈی۔۔۔ “ وہ دانت پیستے چلائی۔۔۔
” انف۔۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اسکی بلند آواز سے حجاب کیا مہوش تک کانپی فبیحہ اور دادو نے بھی ایک دوسرے کو دیکھا جھگڑا ہوتا تھا لیکن ایسا نہیں ابراز ہمیشہ بگڑتا ماحول دیکھ بات سنبھال لیتا لیکن آج وہ خود آپے سے باہر ہوگیا۔۔
” ڈیڈ آگر آج رات یہ پارٹی میں گئی تو صبح کی فلائٹ سے میں اپنی بیوی کو لیکر پاکستان چھوڑ دونگا۔۔۔ کوئی میرے پیر بھی پڑے۔۔۔ واپس کبھی نہیں آؤنگا۔۔ ” بلند آواز میں اپنا حکم سناتے اس نے چمچ دور پھینکا جو اسکی عادت تھی اب وہ حجاب کی طرف مڑا۔۔
” تمہارا پیٹ بھر گیا؟؟ “ لہجہ ویسا ہی سرد تھا۔۔
” جی۔۔۔ جی۔۔ “ اسکا رواں رواں کانپ رہا تھا ابراز کو لگا ابھی وہ رو دیگی۔۔۔
” اٹھو “ اسکا ہاتھ پکڑتے وہ اسے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گیا کسی نے اسے نہیں روکا کیونکہ وہاں بیٹھے ہر شخص کو اسکی بات سنتے ہی سانپ سونگ گیا۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
حجاب کو آج سے پہلے ابراز سے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا رات کو اسنے ابراز کے حکم پر کھانا تک کھایا۔۔ ملازمہ سے کہہ کر ابراز نے دونوں کے لئے کھانا منگوایا وہ پوری رات اسکو دیکھتی رہی سوئی بھی ایسے ڈر کے کہیں اسکو نہ سنا دے آج پہلی دفع وہ ابراز سے اتنی خوفزدہ ہوئی تھی یہاں تک کے سوتے وقت بھی وہ جان گیا تھا حجاب اس سے خوفزدہ ہے اسی لئے اسنے حجاب کا ہاتھ پکڑ کے اپنے دل سے لگایا۔۔
” بےبی تمہیں تھوڑی کچھ کہا ہے سو جاؤ میرا موڈ بدلتے دیر نہیں لگتی۔۔۔ “ حجاب میں ہمت نہیں تھی ہاتھ چھڑوائے اسلئے چپ چاپ آنکھیں موند گئی صبح وہ ڈرائیور کے ساتھ یونی آگئی تب ابراز سو رہا تھا لیکن حجاب نے دادو کو جانے سے پہلے بتا دیا تھا۔۔۔۔اب وہ یونی آکر سوچ رہی تھی ابراز اسے بنا بتائے آنے پر ڈانٹ نا دے۔۔۔
” میں تمہیں لینے آرہا ہوں بےبی صبح سے تمہیں دیکھا نہیں دن ہی نہیں گزر رہا “ ابراز کی کال اسے یونی میں رسیو ہوئی جویریہ اسکے ساتھ ہی تھی صبح سے اسنے جو ابراز نامہ اسٹارٹ کیا وہ اب تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
” اوکے “ حجاب کا اوکے سنتے ہی فون دوسری طرف سے کٹ گیا۔ ابراز کا انتظار کرنے کے بجائے حجاب ڈیفنس سینٹرل لائبریری کی طرف نکل پڑی اسے کچھ بکس چائیں تھیں جسے لینے کے لئے وہ جویریہ کے ساتھ پیدل ہی چل دی۔۔۔۔
” باجی میری مدد کرو یہ مجھے مار رہے ہیں۔۔ “ حجاب اور جویریہ پیدل چل رہیں تھیں کے انکی نظر ایک خواجہ سرا پر پڑی جسے دو لڑکے بُری طرح مار رہے تھے اسے پیر سے ٹھوکر مار کر گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔۔۔۔
” ابے چل بول رہا ہوں چپ چاپ چل نخرے کیا دیکھا رہا ہے؟؟؟؟ تیرے جیسے مفت میں مل جاتے ہیں چل۔۔۔ “ وہ پتلا سا معصوم سا لگا تھا جویریہ کو اس حالت میں اسے دیکھ کر رونا آرہا تھا جبکہ حجاب کا دل خود اس معصوم کے لئے رو رہا تھا لیکن اس وقت وہ سب لوگوں کو پتھر بنا دیکھ خود بھی پتھر بن گئی۔۔۔
” حجاب چلو اسکی ہیلپ کرتے ہیں “ جویریہ نے حجاب کا ہاتھ پکڑا وہ اُس طرف قدم بڑھانے لگی لیکن بڑھا نہیں پائی کیونکے اسکے قدم حجاب کے آگے نہ بڑھنے سے وہیں رک گئے۔۔۔
” پاگل ہو دیکھ نہیں رہی کوئی بھی نہیں جا رہا اسکی ہیلپ کو ہم گئے تو ہمیں بھی نا۔۔۔ “ حجاب نے غصّے سے اسے کہا
” ہم جائیں گے تو باقی سب بھی خود آجائیں گے بس کوئی شروعات کرے “ جویریہ نے اسے ہمت دلائی
” تم پاگل ہو گئی ہو چپ چاپ چلو میرے ساتھ۔۔۔ یہ روز ان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں آتا “ حجاب اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے ساتھ کھینچے جا رہی تھی جویریہ کو آج اسکی سوچ اور عمل پر افسوس ہوا اور بہادر تو وہ بھی نہیں تھی کہ اکیلی چلی جائے اس لئے خاموش رہی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔