Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 19 (Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 (Part 1)
میں نے حجاب کو کال کر کے اپنے جانے کی اطلاع دی ساتھ یہ آرڈر بھی جاری کیا کے میری غیر موجودگی میں گھر نہ آئے۔۔۔
کیوں کے مجھے اپنے باپ پر بھروسہ نہیں اور مجھے یقین تھا حجاب میری بات ضرور مانے گی۔۔۔۔
دبئی آکر میں اپنے ڈاکومینٹس کے چکر میں اس قدر الجھ گیا کے حجاب کو ایک کال تک نا کر سکا لیکن اگلے دن ایمبیسی سے آکر سب سے پہلے میں نے حجاب کو کال کی میں جو بےچینی سے اُسکی آواز سنے کے منتظر میں تھا جب دس کالز کے بعد بھی حجاب نے میرا فون نا اٹھایا تو میرا ضبط جواب دےگیا اس سے پہلے کے غصّے میں اپنا نقصان کر کے میں فون توڑ دیتا مجھے آنٹی کو کال کرنا یاد آیا۔۔ میں نے جلدی سے اُنکا نمبر ڈائل کیا پہلی ہی بیل پر انہوں نے فون اٹھایا پھر جو حجاب بی بی نے مجھے تنگ کیا میں نے بھی گن کر بدلا لیا وہ اپنی ماں کے سامنے نہایت ادب سے مجھ سے مخاطب ہوتی میں اسکی بےبسی سے حظ اٹھاتا۔۔ اب جب بھی فون کرتا دس پندرہ کالز کے بعد وہ اپنی مرضی سے فون اٹھاتی۔۔۔
” انکی جب مرضی ہوتی ہے وہ تب ہم سے بات کرتے ہیں
اور ہمارا پاگل پن تو دیکھئیے
ہم پورے دن انکی مرضی کا انتظار کرتے ہیں “
میں جو ہر کسی پر حکم چلاتا ہوں اب اسکی مرضی کا منتظر رہتا ہوں اس قدر نکما کردیا اِس محبت نے کے اُسکے دئے زخم پل بھر میں بھلا دیتا ہوں۔۔۔۔
نجانے کیوں یہاں آکر ہر پل وہ مجھے یاد آئی۔ اس قدر اسکی عادت ہو چلی تھی کے میں خود کو بھلا بیٹھا سوتے جاگتے بس پل پل اسکا خوبصورت چہرہ ان آنکھوں کے سامنے لہراتا وہ میری بےتابی بےبسی دیکھ کر ہنستی ہے اور میں اسکی ہنسی دیکھ مسکرا دیتا۔ میں اب ہر دس پندرہ منٹ بعد اسے فون کرنے لگا اسنے تنگ آکر مجھے بلاک کردیا لیکن فائدہ میرا ہی ہوا میں انکل یا آنٹی کے نمبر پر کال کرتا اور وہ گھنٹوں مجھ سے بات کرنے کے لئے مجبور ہوجاتی جب بھی فون رکھتی بہانہ بنا کر میں اُسی وقت دوبارہ کال کرتا۔ اُس سے بات کرنا اُسے سُننا پورے دن میں ایک یہی کام ہوتا جسے کر کے میں مطمئن ہوتا پُر سکون رہتا ورنہ بےچینی رگ رگ میں سرائیت کر جاتی۔۔۔
بادشاہ تھے ہم مزاج ہستی کے
عشق نے تیرے دیدار کا فقیر بنا دیا
ہمارا کام تقریباً ختم ہونے والے تھا میں پیکنگ کرنے میں مصروف تھا عاصم کی صبح کی فلائٹ تھی اور میری دن کی تبھی مجھے آنٹی کی کال وصول ہوئی میرے یہاں آنے کے بعد تقریباً وہ ہر دن کال کرتیں انکی بیٹی جتنی بےحس تھیں وہ اتنی ہی اپنوں پر محبت لٹانے والی خاتون لیکن اس دفع خیر خیریت کے بعد انہوں نے جو خبر مجھے سنائی اُسے سن کر مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا۔ میں اپنی ہی کیفیت سے انجان تھا دل کسی چھوٹے بچے کی طرح اچھل اچھل کے اپنی خوشی ظاہر کر رہا تھا جیسے کوئی من پسند کھلونا ملنے والا ہو۔۔۔
میں ابراز حیات جس کے لئے زندگی ایک بوجھ تھی حجاب تاثیر کے آنے سے اُسے اپنی زندگی سے محبت ہونے لگی اور اس محبت کی نشانی جو حجاب تاثیر کے وجود میں پل رہی تھی اس خبر نے مجھے آج سرشار کردیا، زندگی جینے کی ایک اور امید۔۔۔۔۔۔۔ میں پیکنگ چھوڑ دھڑم سے بیڈ پر گرا خوبصورت پُر سکون مسکراہٹ نے میری ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔
حجاب۔۔ میری جان میری زندگی آج تم مجھ سے یہ سانسیں بھی مانگو گی تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا یہ خوشی جو آج تم نے مجھے دی ہے زندگی بھر میں تمہارا مقروض رہونگا۔۔۔۔۔۔
آج میں اتنا خوش ہوں کے کوئی چیخ چیخ کر پوچھے مجھ سے کیوں کرتے ہو اُس سے محبت جب کے اُسے تم یاد بھی نہیں۔۔۔
” میں کہونگا اُس سے مجھے کیوں نہ ہوتی ایسی عورت سے محبت جس نے مجھے اعتبار دیا ہے جس نے خود کو صرف اپنے شوہر کے لئے سنبھال کر رکھا، میرے لئے سمبھالا کیوں نہ ہوتی ایسی سے محبت جو غیر مرد کی نظر تک سے خائف ہوتی، اُسکے چھونے سے بلکنے لگتی، اپنا نام کسی غیر مرد کے منہ سے سن کر خوف میں مبتلا ہوجاتی۔۔ کیوں نہ کروں ایسی سے محبت جو اپنی عزت کروانا خود جانتی ہے؟؟ جو خود کو پردے میں رکھتی ہے کیوں نہ کروں ایسی سے محبت جو میری ماں جیسی نہیں عزت کے خاطر جان تک دینے والی ہے لیکن خود کو کسی بھی حال میں پامال نہ ہونے دیتی۔۔ وہ صرف میرے لئے بنائی گئی ہے میں دنیا کی کسی عورت سے بھی شادی کر لیتا لیکن اُسے اعتبار نہ دے پتا ساری زندگی میری نگاہیں اُسے شک کی نظر سے دیکھتیں معصوم ہوکر میرا ظلم سہتی رہتی لیکن ” اعتبار “ نہ دے پاتی جو حجاب نے دیا ہے، آج وہ میری نظروں سے دور ہے تو اُسکے دیے گئے اعتبار کی وجہ سے ورنہ کوئی اور ہوتی تو شاید اُسے اپنے ہی گھر میں قیدی بنا کر یہاں آتا۔۔۔ وہ خاص نہیں مختلف نہیں میرے نظریہ، میری سوچ، اُسکے اعتبار نے اُسے مختلف بنایا عام سے خاص بنایا اور اسی خاصیت نے اُسے حجاب ابراز بنایا ورنہ آج وہ وہی عام ہوتی میری نظروں سے کوسوں دور اور میں اندھیری گلیوں میں بھٹکتا۔۔۔۔“
” لوگ زلفوں کے اسیر ہوتے ہیں
میں نے تو تیرے حجاب پر دل ہارا ہے “
اُسکے آنے سے ہر طرف اجالا پھیل گیا ٹوٹی بکھری وہ بھی تھی میری طرح لیکن اُسنے خود کو سمیٹا ،میں اُسکی طرح بہادر نہیں خود کو چاہ کر بھی نہ سمیٹ سکا لیکن اُسکی موجودگی نے مجھے سمیٹ لیا اور آج اس نئی خوشی نے میرے دل کا ہر زخم، ہر گاؤ بھر دیا۔ میں بےتابی سے کل کا انتظار کر رہا تھا ایک ایک پل صدیوں جیسا لگ رہا تھا اب اِس نئی خوشی کے آنے سے پہلے میں سب بدل دونگا حجاب اور مہوش کو لیکر اپنے فلیٹ میں شفٹ ہوجاؤنگا لیکن اِس سے پہلے حجاب کو یقین دلاؤنگا اپنی محبت کا، اعتبار اپنی وفا کا ، اپنے بدلنے کا اسے بتاؤنگا اسِکے آنے کے بعد میں نے شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہاں بس شادی کے دن تھوڑی پی۔۔ لیکن پی غصّے میں تھی اسکے بعد تو ہاتھ بھی نہیں لگایا سب بتاؤنگا اُسے ایک ایک لفظ، اُس سے جڑی ہر یاد، یہ بےچینی جو اسکے بغیر ہوتی ہے سب کچھ۔۔
وہ بیڈ پر لیٹی نیند کے مزے لوٹ رہی تھی بےخودی کے عالَم میں میں اُسے دیکھے جا رہا تھا یکدم اذان کی آواز سے بند ہوتی آنکھوں نے جنبش کی وہ اپنا ہاتھ پیٹ پر پھیرنی لگی وہ اس نئی خوشی کو محسوس کر رہی تھی جو اسے ماں کے رتبے پڑ فائز کریگی۔۔۔ اِسکی اِس حرکت نے میرے جسم میں سکون کی لہر دوڑا دی یہ دلکش منظر میں نے زندگی بھر کے لئے ان آنکھوں میں حفظ کر لیا۔ وہ اچانک سے نظریں محسوس کر کے اٹھی مجھے دیکھ کر یکدم بوکھلا گئی دوپٹا بیڈ سے جھٹ اٹھا کر پہنا۔۔۔۔ میں اسے افسوس سے دیکھتا رہا کیا کہنا حجاب تاثیر کا؟؟ اُسکا بس چلے تو شوہر تک سے پردہ کرے۔۔۔ لیکن اسکی اس حرکت نے مجھے مسکرانے پر مجبور کردیا۔۔۔۔۔
میں اُسے اپنے گزرے دن کی داستان سنا رہا تھا جبکے وہ بس مجھ سے بھاگنے کی کوشش میں تھی اور یہی ہوا اسامہ کے آتے ہی وہ واشروم میں بھاگ گئی۔ میں اسامہ کے ساتھ تاثیر انکل کے پاس چلا آیا کافی دیر اُن سے باتیں کیں میری نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں اُسکی بےحسی سے واقف ہوتے ہوے بھی اُسکے دیدار کا منتظر تھا کبھی کبھی واقعی دل سے نکلی دعا قبول ہوتی ہے جیسے اُس وقت میری ہوئی وہ اپنے بابا سے ملنے معمول کے مطابق وہیں آگئی اکثر جب میں اِس وقت کال کرتا وہ انہی کے پاس بیٹھی ہوئی ہوتی شاید اِس خوشی نے حجاب کو بھی بدل دیا میں اُسکی نظریں خود پر محسوس کر رہا تھا جو میری نظریں خود پر جمی دیکھ بار بار دوپٹا سہی کرتی۔ ڈنر کرتے وقت میں ایک ایک ڈیش ٹرائے کر رہا تھا اتنے دنوں بعد پاکستان کا کھانا کھایا تھا وہ بھی اتنا لذیذ کے بندہ انگلیاں چاٹ کر رہ جائے لیکن حجاب وہ اُس وقت گم سم تھی کار میں بھی اِسے بولنے پر اکسایا لیکن اُسکا رویہ مجھے مزید پریشان کر گیا۔۔۔
کمرے میں آتے ہی میں نے اُسے بتایا اس نئی تبدیلی نے حجاب کو کس قدر حسین بنا دیا ہے اسے احساس دلایا کے میں اس خوشی سے انجان نہیں لیکن وہ تو میری نفرت میں اس قدر اندھی تھی کے میری ہر محبت بھری سر گوشی کا جواب نفرت سے دیا۔۔۔۔ ہاں حجاب تاثیر نے مجھے توڑ دیا ریزہ ریزہ کردیا میرے وجود کو اُسکی نفرت نہیں تھی انتہا تھی نفرت کی وہ میری نفرت میں اس قدر اندھی ہوگئی کے یہ تک نہ دیکھا ابراز حیات اِسکے سامنے جھکا تھا احتراف کیا تھا محبت کا جس پر حجاب تاثیر نے بڑی دلیری سے لعنت بھیجی۔۔۔
ہاتھ لگانے کی کسی کی اوقات نہیں تھی
تیری محبت نے کھینچ کھینچ کے تمانچے مارے ہیں
وہ رو رہی تھی میرے سامنے میرا دل چاہا اسے جھنجھوڑ کر پوچھوں۔۔۔۔
” زبان تو کھول
نظر تو ملا
جواب تو دے
میں کتنی بار لوٹا ہوں
مجھے حساب تو دے “
ہر بار اُسکے قدموں میں آگرا کیا کچھ نہ کیا اور وہ؟؟؟ لیکن یہ آخری دفع تھا بس۔۔۔۔۔
میں اپنا ٹوٹا دل بمشکل سمیٹتے کلب چلایا آیا اُس وقت نشے میں اِس قدر ڈوبا ہوا تھا کے دوست کے سامنے حجاب کو گالی دی ڈالی وہ میری بگڑتی حالت دیکھ کر مجھے اوپر روم میں لے آیا جہاں اکثر ہم سب مل کر پارٹی کرتے کسی کپل کو پکڑنا ہوتا تو خود پڑھتے کمرے میں۔۔۔۔ میں بےہوش ہر چیز سے بےخبر تھا جب تھوڑا بہت ہوش کی دنیا میں لوٹا تو خود کو تکتا پایا عاصم مجھے نمو پانی پلا رہا تھا۔ سعد اور حادی مجھے افسوس سے دیکھ رہے تھے جبکے میرے سر پر عباس کھڑا تھا جس نے میری سمبھلتی حالت دیکھ میرے سوالوں کا جواب دیا۔ جو ڈیڈ سے جڑے تھے میرے ڈیڈ کی پوری حرکت مجھے بتائی۔۔۔
” تیرا باپ اول درجے کا کمینا ہے “ میں بمشکل اٹھا۔ عبّاس کی بات مجھے ایک آنکھ نہ بھائی۔ میرا ہاتھ اسکے کے گال پر نشان چھوڑ گیا
” تیرے باپ کو آج تک تو کہہ کر پکارا ہے؟؟ جو میرے باپ کو کمینا کہ رہا ہے؟؟؟ جیسا بھی ہے میرا باپ ہے سالے بھونک
اب “ عبّاس کے لئے تھپڑ عام بات تھی ہم دوستوں میں یہ سب نارمل تھا لیکن اُسے غصّہ تو دیکھانا تھا اس لئے خاموش رہا میں نے بھی اس پر لعنت بھیج کر عاصم سے پوچھا۔۔
” عاصم یار تو بتا کیا ہوا؟؟ “
” تیری پیاری بےبی مہک آئی تھی تیرے باپ کے کہنے پر ہم نے اُسکی پوری بات ریکارڈ کرلی۔۔۔ ہوا یہ کے تو نشے میں نیچے تماشا کر رہا تھا تبھی عباس تجھے اوپر لے آیا اُس نے انکل کو کال کی تیری کنڈیشن بتانے کے لئے لیکن انہوں نے کہا رازی کو وہیں چھوڑ کر گھر نکل جاؤ۔ عباس جانی کو یہ ہضم کہاں ہوا؟؟ وہ واشروم میں چھپ گیا پوری فلم دیکھنے کے لئے کچھ دیر بعد تیری جان۔۔۔ تیری بےبی۔۔۔۔ “ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے میں نے اسکے کندھے پر مکا جڑا۔۔۔
” آ۔۔۔۔۔ رازی تو مجھے کچھ نہیں کہہ سکتا غلطی تیری ہے اتنا فری کیوں ہوتا ہے کے لڑکی تیرے ساتھ کے خواب دیکھے “
عباس کا لہجا سرد تھا
” میں نے کوئی آسرا نہیں دلایا اُسے “ میں نے ہلکی آواز میں احتیجاج کیا میرا لہجہ کمزور تھا۔۔۔۔
” ہاں تبھی وہ اتنی پاگل ہو رہی تھی تیری ساتھ الگ الگ پوز بنا کے پیکچرز لے رہی تھی یقیناً بلیک میل کر کے شادی کرنے کا ارادہ ہوگا ورنہ کوئی سرے عام خود کو بدنام نہیں کرتی۔۔
خیر عباس نے ہمیں کال کر کے اُسکی ساری حرکت بتائی بس میں نے جینی کو کال کر کے سارا سامان منگوایا کیمرا وغیرہ جس سے لگے ہم کسی چینل سے ہیں بس وہ میڈم بھی ہمیں دیکھ کر ڈر گئی ہم نے سوچا اِس جیت کی خوشی میں پارٹی کرنی ہے تو لوٹیں اس بکری کو؟؟ اُسے کچھ گولڈ اور پیسے لیکر چھوڑ دیا۔۔۔۔۔ “ عاصم کی بات سن کر مجھے احساس ہوا پہلے ہی مہک خود سے دور کرنا چاہیے تھا یہ سچ تھا میں ہمیشہ سے اُسکی پسند سے واقف تھا لیکن۔۔۔ یہ بھی سچ ہے میں خودغرض بنا جب خود کسی نامحرم رشتے میں نہیں بندھا تو ایسی لڑکی سے کیوں شادی کرتا جو ہر دن ایک الگ رشتہ بناتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
” ریکارڈنگ سناؤ “ میرے کہنے پر عباس نے بگڑا منہ بنا کر ریکوڈنگ اون کی۔۔۔
” پلیز مجھے جانے دو ڈیڈی کو پتا لگا تو مجھے جان سے مار دینگے یہ سب میں نے رازی کے ڈیڈ کے کہنے پر کیا انہوں نے کہا یہ بات بس ہمارے درمیان رہے گی۔۔ وہ لڑکی اسے چھوڑ دیگی یہ پیکس دیکھ کر تو میں۔۔۔۔۔۔ “ وہ رو رہی تھی اور ڈیڈی کے نام سے مجھے مہک کا وہ شریف باپ یاد آیا جو ریسپشن کے دن حجاب پر گندھی نظریں گاڑھے ہوے تھا۔۔۔
” ڈیڈ کو کال کرو دھمکی دو آپ کا بیٹا ہمارے ہاتھوں لگا ہے۔۔ اور ان سے کہو کمینا ڈرگز لیکر ہم سے فضول بکواس کر رہا ہے ساتھ مہک کی ریکارڈنگ سینڈ کرو اور آپ کے بیٹے کو ہوش میں لاکر کورٹ میں پیش کرینگے یہ بھی کہو۔۔۔ جلدی۔۔ اور مہک کا پیسا غریبوں میں بانٹو یا سہرا سجاؤ۔۔ لیکن پارٹی ہوگی تو گرینڈ پارٹی وہ بھی ڈیڈ کے پیسوں سے۔۔۔۔“ میری کہنے پر چاروں نے بےاختیار مجھے دیکھا چاروں کے چہرے پر شیطانی ہنسی تھی پھر انہوں نے وہی کیا ڈیڈ سے پیسے وصول۔ جیسے ہی ڈرائیور نے کلب کے باہر آکر چیک سعد کو دیا میں کلب سے نکل آیا اور ڈرائیور کے ساتھ گھر چلا آیا جہاں میں نے ڈیڈ کو بہت کچھ باور کرایا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا وہ جان جائیں گے میری حرکت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے وہ ڈیڈ ہیں میرے مجھ سے زیادہ ان کاموں میں ایکسپرٹ ہونگے۔۔۔
ڈیڈ کے ساتھ اس فساد کی جڑ(حجاب) کو بھی میں نے اچھا خاصا ڈرایا لیکن اس بےقرار دل کو قرار نہ آیا وہ بیوقوف مزے سے چاقو لیکر سو گئی میری نیند حرام کر کے اُس لڑکی نے وہاں وار کیا ہے جہاں میں بےبس تھا۔ رہ رہ کر اُسکی باتیں یاد آتیں تو میں سوچتا آخر اتنا کیوں بدلا؟؟ بار بار کیوں لوٹا اُسکے پاس؟؟ میں نے اُسکا اعتبار کیا، اُسے عزت دی، محبت دی بیوی ہونے کا مقام دیا، اور وہ؟؟؟ صرف شوہر تک تسلیم نہ کر سکی؟؟ میں نے پوری ہستی لوٹا دی اس پُر اپنوں کو پیچھے چھوڑ آیا اور وہ زندگی کی راہ میں مجھے اُس سنسان راستے پر یہ کہہ کر چھوڑ گئی ” لعنت بھیجتی ہوں تمہاری محبت پر؟؟ “ اُسکے الفاظوں نے میرے زخمی دل کے ٹکڑے کردیے میں بدل گیا ہاں وہی شیطان بن گیا جو اسے ” اچھا “ لیکن مجھے ” خوف “ میں مبتلا کرتا۔۔ پہلے سے زیادہ ڈرنک کرنے لگا اُسے میری غلیظ نظریں نہیں پسند تھیں میں نے اُسے دیکھنا چھوڑ دیا، میرا بولنا اُسے زہر لگتا تھا، میں نے بولنا چھوڑ دیا، اُسے نفرت تھی میرے سر ہانے سے میں اُسکے وجود سے غافل ہوگیا یہ سب کیا میں نے لیکن صرف اُسکی نظروں میں بُرا بنا وہ بنا جس سے وہ خوش تھی
مجھے فکر تھی اُسکی اُسکے اندر پلتے میرے وجود کے حصے کی اور ناچاہتے ہوے بھی میں اُسے بھول نہیں پاتا ان دنوں گھر میں سب بہت خوش تھے مہوش تک حجاب سے بات کرتی بس ایک میں روٹھا صنم تھا جس سے وہ غافل تھی اُسے آج بھی کوئی فرق نہیں پڑتا میرے نہ ہونے سے میں صبح سے ایک میٹنگ میں بزی تھا ڈیڈ نے منتیں کر کے مجھے وہاں بھیجا تھا پوری رات اُس پر کام کیا اور اُس دن پروجیکٹ ملنے کی خوشی کے ساتھ مجھے اللہ نے ایک اور خوشی سے نوازا ” رحمت “ اور ” نعمت “۔۔۔ نو ماہ بعد مجھے زندگی جینے کی امید ملی جسے حجاب چھین چکی تھی میں اپنے بچوں کو سینے سے لگانے کے لئے بےچین تھا ہسپتال جاکر سب سے پہلے حجاب کی کنڈیشن معلوم کی پھر دوڑتا ہوا وہاں پہنچا حجاب آج بہت بدلی بدلی لگ رہی تھی حسین تو وہ ہمیشہ سے تھی لیکن آج چہرے پر رونق ہی نرالی تھی میں کاٹ میں سوئے بچوں کی طرف بڑھا انہیں پیار کیا ساتھ حجاب کو احساس دلانا چاہا لیکن آج بھی وہ خاموش تھی، میرے ویران دل کی طرح۔۔۔
بچوں کے آنے سے ہم میں تھوڑی بہت بات چیت ہونے لگی لیکن صرف کام کی وہ بلاوجہ نہ مجھ سے وہ مخاطب ہوتی نہ میں اُس سے زندگی بس خاموشی سے کٹ رہی تھی۔۔ میں کبھی آفس چلا جاتا کبھی نہیں ڈرنک معمول سے کم ہی کرتا دادو آتیں تو دیر تک اُن کے پاس بیٹھا رہتا دو تین دفع حجاب کو لیکر میں دادا کی خوائش پر گاؤں چلا آیا اسِی طرح بس یہ دن کٹ رہے تھے لیکن میری زندگی میں وہ دن آیا جب سہی معینوں میں میں نے اُسے یاد کیا۔۔۔ جسے دنیا کی اس بھول بھلئیا میں بھلا چکا تھا میں غافل تھا کے وہ اپنے ہر بندے کو یاد رکھتا ہے ایک پتا تک اُسکی مرضی کے بغیر نہیں لہراتا۔۔۔۔
اِک دُنیا بُھول بُھلئیا سی
اِک گُونگا،بِہرا،اندھا دِل
زندگی میں پہلی بار آج میری روح کانپی تھی اب تک مسلسل میرے کانوں میں درد ناک چیخیں گونج رہیں ہیں۔۔۔
” را۔ ۔زی۔۔۔ ما۔۔۔مج۔۔۔مجھے بچا لو وہ۔۔۔ میری۔۔۔ ساتھ۔۔۔آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔آ۔۔را۔ ۔۔زی۔۔ “ مہوش کی درد ناک چیخیں سن کر میں جو نشے میں دت لیٹا تھا ہڑبڑا کر اُٹھا میری آنکھیں نشے اور نیند کی وجہ سے لہو رنگ تھیں میں اس قدر نشے میں تھا کے چلنا بھی محال لگ رہا تھا گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے ایک کام کیا تھا نوکرانی سے بلیک کافی منگوائی۔ جسکے تین چمچ بھر کے میں نے منہ میں ڈالے تھے۔۔ کافی کا ہی اثر تھا کے میں چلنے کے قابل رہا۔ ساتھ میں نے مہوش کی آتی لوکیشن کا اپنے انسپکٹر دوست کو بھی بتایا مجھے معلوم تھا وہاں تک پہنچتے پہنچتے میں اپنی ہوش گوا دوں گا۔۔۔
میری کار ہوا کی رفتار سے تیزی سے کلب کی طرف روانہ تھی جہاں مہوش کی لوکیشن شو ہو رہی تھی۔۔۔ ڈرئیو کرتے بھی میرے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔ بمشکل میں نے پاس پڑی کافی کا ایک اور چمچ بھر کے منہ میں ڈالا آج میں ہارنا نہیں چاہتا تھا اگر آج میری قسمت مجھے دغا دیگی تو ساری زندگی اپنی بہن سے نظریں نہیں ملا سکونگا۔۔۔۔
” اللہ۔۔ میری۔۔۔ بہن۔۔۔ اُسکی حفاظت کرنا “ مجھے اپنی آواز آج خود اجنبی لگی نجانے کتنے سالوں بعد آج میں نے اپنے مقصد کے لئے خدا کو پکارا تھا انسان بھی کتنا مطلب پرست ہے یاد بھی تب آئی گی جب موت کا فرشتہ اُنکے بےحد قریب ہوگا۔۔
تیزی سے چلتی کار کلب کے باہر آرکی لڑکھڑاتے قدموں سے میں کار سے نکل کر کلب کی جانب دوڑا۔۔۔
اندر آتے ہی ایک طاہرانہ نظر میں نے پورے کلب میں دوڑائی وہ کہیں نہیں تھی میرا دل آج معمول سے تیز دھڑک رہا تھا آج بےبسی کی انتہا تھی میں کسی بچے کی طرح بلک کر رونا چاہتا تھا۔ ہوش و ہواس اس وقت ساتھ نہیں دے رہے تھے میری بہن اُسکی جان۔۔۔۔ کیا کر رہا ہوگا وہ وحشی؟؟؟ یہ سوچ کر ہی میری روح لرزنے لگتی تبھی اوپر کی جانب آنکھیں بند کیے بس میں نے ایک لفظ آتا کیا وہی ہے جو مجھے اِس قیامت خیز منظر سے بچا سکتا ہے
” اللہ “ آنکھیں بند کیے میں نے اپنے رب کو پکارا۔ پھر یکدم آنکھیں کھولتے ہی مجھے وہ منظر دیکھا جسے سوچ کر میرا دل بلک بلک کے روتا۔۔مہوش گلاس وال کو دونوں ہاتھوں سے زور زور سے پیٹ کے مدد کی بھیگ مانگ رہی تھی لیکن یہاں سب لائوڈ میوزک میں مدہوش شراب کے نشے میں دت کسی کی آتی مسلسل چیخوں سے انجان اپنے مشغلے میں مشغول تھے۔۔
” مہوش “ میں تیر کی تیزی سے سامنے بنی سیڑیوں کی طرف بھاگا۔۔۔ سامنے تین تین رومز تھے میں تیزی سے درمیانی دروازے کی طرف گیا لیکن لاک ہونے کی وجہ سے ہینڈل گھماتا ہاتھ وہیں رک گیا۔۔ میں تو ان گلیوں کا کھلاڑی ہوں پھر آج کیوں قسمت مجھ سے روٹھی ہے؟؟ کوئی میرے ساتھ کیوں نہیں؟؟ دماغ کیوں آج مجھے دغا دے گیا۔۔۔
” چھوڑو رازی۔۔۔۔را۔۔۔رازی۔۔۔ “ اندر سے آتی چیخ نے میری تیز چلتی دھڑکنوں کو مدھم کردیا۔۔میرا وجود پسینے میں شرابو تھا مجھے سانس لینا دشوار لگا۔۔ تبھی میری جیب میں رکھا فون رنگ ہوا بدحواسی میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تبھی مجھے اپنی قسمت پر رشک آیا فوراً سے میں نے وہ چابی نکالی جسے اکثر میں اور میرے دوست ہر کی انلاک کرنے کے لئے یوز کرتے جو میں نے خود بنوائی تھی۔۔۔
میں دروازے کو لات مارتا اندر دوڑا آیا مہوش کے اوپر جھکا وہ شخص مسلسل اُسے قابو کر رہا تھا مہوش نیند کی حالت میں اُسے خود سے دور دھکیل رہی تھی۔۔۔
” کمینے، حرام زادے۔۔ “ میں کسے بھوکے شیر کی طرح دھاڑا اور اس پر چھپٹا اسے شرٹ سے پکڑ کے مہوش سے دوڑ کیا اور سیدھے ہاتھ کا مکا بنا کر پوری قوت سے اسکے منہ پر مارا
”آ۔۔۔“ وہ درد سے کراہ اٹھا میں نے اسکا گریبان سختی سے پکڑ کے جھٹکا دیا جسکی وجہ سے شرٹ کے بٹن ٹوٹ کر زمین پر بھکر گئے۔۔۔
” ہاتھ کیسے لگایا میری بہن کو؟؟ بول کتے؟؟ جانتا ہے میں کون ہوں؟؟؟ کھڑا کھڑا تیری نسلوں کو تباہ کر دونگا بھیک مانگتا پھیرے گا۔۔۔ کتے بھی تجھے منہ نہیں لگائیں گئے۔۔۔ کمینے تو نے چھوا کیسے اسے۔۔۔۔ “ اپنا بوٹ اسکے منہ پر رکھے آج میں اسکے لئے موت کا فرشتہ بن کر آیا تھا وہ آدمی ہانپ رہا تھا اسکی سانس اٹکی ہوئی تھی۔۔
” چھو۔۔۔ ہاتھ نہ۔۔۔نہیں۔۔ لگائونگا۔۔ “ میں نے سائیڈ پر واس پڑا دیکھا تو اسکی طرف بڑھا آج میرے سر پر خون سوار تھا۔۔۔ وہ آدمی مجھے خود سے دوڑ جاتا دیکھ بمشکل اٹھا وہ لنگڑا کر چل رہا تھا۔۔ جبکے میں نے واس اٹھا کر پوری قوت سے اسکے سر پر وار کرنا چاہا پر واس سامنے بنی گلاس وال کو لگا جس سے کلب میں چیخیں گونجی سب اوپر کی طرف دوڑے۔۔ میں مٹھیاں بھنچتا اپنا وار خالی جاتا دیکھ اسے مارنے دوڑا۔۔ وہ آدمی لنگڑا کر کھلے دروازے کی طرف جا رہا تھا کے میں نے پیچھے سے اسکی پیٹ پر لات ماری۔۔ میں اسے بری طرح پیٹنے لگا جوتوں سے کبھی اسکے چہرے،سینے تو کبھی پیٹ کو زخمی کیا باہر کھڑی عوام ہمیں روکنے کے بجائے موبائل لئے ویڈیو بنا رہی تھی۔۔ تبھی مینیجر دوڑتا اندر آیا۔۔
” سر پلیز چھوڑ دیں اسے ہم دیکھ لیں گئے پلیز سر ہمارا کلب۔۔۔ “
” بکواس بند کر تیرا کلب منٹوں میں بند کروا سکتا ہوں اور منٹوں میں کھڑا کر سکتا ہوں لیکن کیا میری بہن کی جاتی عزت واپس لا سکتا تھا؟؟؟ بول کمینے اسے لئے بلاتا ہے سب کو؟؟ یہ کرنے کے لئے رومز دیتا ہے اگر تیری بہن۔۔ “ میری روب دار آواز پورے روم میں گونج رہی تھی سرخ آنکھیں لیے میں اسکی جان لینے کے در پر تھا۔۔ منیجر کا کولر میری پکڑ میں تھا۔۔۔
” تمیز سے بات۔۔ “ مینیجر کو بھی غصّہ آگیا لیکن اگلے ہی لمحے میری سرد آواز گونجی۔۔
” تو لائق نہیں اسکے آئوٹ۔۔۔ “ میں نے مینیجر کا کولر چھوڑ کر اسے دور دھکیلا۔۔۔
” ہٹو یہاں سے کیا ہو رہا ہے؟؟ “ پولیس بھیڑ میں راستہ بناتی اندر آئی انسپکٹر نے سب سے پہلے نیچے گرے آدمی کو اٹھانے کا کہا کانسٹیبل اسے اٹھانے لگے جبکے میرا دوست عبّاس جس نے فہیم احمد کے معملے میں بھی میری ہیلپ کی تھی اندر کی جانب بڑھا۔۔
” ابراز تم فکر نا کرو اسے ایسی سزا دیں گئے کے کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ لگانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔“ لڑکی سے میرا چہرہ تاریک ہوگیا میں بیڈ کی جانب دوڑا۔۔۔
پھٹے کپڑوں میں ہوش و حواس سے بیگانہ وہ سوتی ہوئی کوی معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی لیکن اسکے بازو اور گلے پر زخموں کے نشان واضع کر رہے تھے اسے بےمول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔
” ابراز اسے ہسپتال لے جاؤ۔۔۔پلیز دیر نا کرو میرے لئے کوئی کام ہو تو ضرور بتانا۔۔۔ میری کانسٹیبل ساتھ جائے گا تب تک میں اس ذلیل انسان۔۔۔ “ عبّاس نے ایک نظر مہوش کو دیکھ کر منہ پھیرا۔۔ یہ اسکے لئے عام بات تھی ہزاروں ایسے کیسسز آتے پر یہاں وہ لڑکی تھی جو اسے اپنا بھائی مانتی تھی میری نظروں سے اسکا یہ عمل پوشیدہ نہیں تھا۔۔۔
” نہیں بس ایک کام کرنا ان سب کے فون سے ویڈیو ڈیلیٹ کروانا اور ان سب کو ہٹاؤ تاکے میں اسے ہسپتال لے جاؤں “ میری نظریں جھکی ہوئی تھیں کوئی اور نہیں تو عبّاس نے میری بہن کی حالت دیکھ لی یہ سوچ میرا دماغ پھاڑ رہی تھی میں نے بیڈ شیٹ سے چادر نکل کر مہوش کو ڈانپا اور اسے بازوؤں میں لیکر باہر نکلا۔۔۔۔
کانسٹیبل نے سب کو دور ہٹا کر میرے لئے راستہ بنوایا جاتے وقت میری نظر انجکشن پر پڑی تھی میں بچا نہیں تھا کے جان نا پاتا۔۔۔۔۔آدھے گھنٹے سے میں مسلسل کوریڈور کے چکر لگاتا رہا میری بہن اندر ہسپتال کے کمرے میں تھی ڈاکٹر مجھے پندرہ منٹ کا کہ کر گئے تھے یہاں ٹہلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔۔۔
” ابراز تمہاری بہن بلکل ٹھیک ہے اسکے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی لیکن اسے ہائی ڈوز دیکر بیہونش کیا گیا ہے۔۔۔ تم بتاؤ تم اب ٹھیک ہو۔۔۔ “ نینا جس سے ہسپتال کے چکر لگاتے میری جان پہچان ہو چکی تھی اس نے جیسے مجھے زندگی کی نوید سنائی۔۔
” میں ٹھیک ہوں نینا مجھ۔۔۔۔مجھے مہ۔۔۔مہوش کا بتاؤ؟؟ اسے کب تک ہوش آئے گا؟؟ “ پسینے سے شرابور میں اس وقت ایک بےجان سا وجود لگ رہا تھا نہ جسم میں جان تھی نہ اپنا کوئی ہوش میں جو ہر چیز کو کھیل سمجھتا تھا آج خود قسمت کے ہاتھوں ایک کھیل بن کر رہ گیا۔۔۔
” شی از فائن۔۔۔ تم مل لو جا کر اُسے “
میں لرزتے وجود کے ساتھ اسکے پاس آکر بیٹھا وہ مجھے دیکھ کر چہرہ دوسری جانب موڑ گئی۔۔۔
” وہ ہماری ہی یونی میں پڑھتا ہے، میرا سینئر ہے۔۔ ایک ایونٹ میں ہماری جان پہچان ہوئی پھر دوستی حجاب کو وہ کبھی اچھا نہیں لگا مجھے بھی وہ ہمیشہ کہتی تھی اسکی نظریں ہر آتی جاتی لڑکی کے وجود پر ہوتیں میں نے ہمیشہ اسکی بات ان سنی کی۔۔۔ آج وہ مجھے اپنے ساتھ کلب لے گیا۔۔۔۔ میری ڈریس پر ایک ویٹر نے ڈرنک گرا دی اُسے ہی صاف کرنے اُس روم کے واشروم میں گئی تھی لیکن آذر نے دروازہ لاک کر دیا۔۔ مجھے حجاب کی ایک ایک بات یاد آرہی تھی اُسکا کہا لفظ لفظ سچا تھا کتنی ہی بار وہ مجھے آذر کے سامنے ڈانٹ کر اپنے ساتھ لیگی لیکن میں نے یقین نہیں کیا۔۔۔ وہ جب روم لاک کر کے میرے پاس اس نے۔۔۔۔۔۔ “ اسکے ہلتے ہونٹوں کو دیکھ میں اسکے الفاظ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا میرا ذہن مفلوج ہوچکا تھا۔۔۔ ابھی تک دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔ جب وہ کہکر خاموش ہوگئی تب اسکی ویران آنکھیں دیکھ مجھے عاصم کی باتیں یاد آتیں اسکے بہتے آنسوؤں مجھے میری غلطی کا احساس دل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” میں نے فون کلچ سے نکال کر فواً تمہیں کال کی۔۔۔ “ اسکے آنسوؤں ندی کی طرح بہہ رہے تھے لیکن چہرے پر رونے کے تاثرات نہیں تھے ویران چہرے سے بس ندی بہ رہی تھی۔۔
” تم نے اُسے بےنقاب کیا تھا آج میں بےلباس ہوگئی۔۔ “ مہوش کے منہ سے نکلے الفاظ کسی ناگ کی طرح مجھے ڈس رہے تھے۔۔ وہ چیختی ہوئی رو رہی تھی۔۔۔۔ برباد نہ ہوکر بھی مجھے لگا میں برباد ہوگیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
