Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

پورا دن نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اُس شخص کو سوچ رہی تھی جس سے وہ شرط رکھ بیٹھی۔۔ اگر پوری کردی تو؟؟؟ نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔یونی میں اسکا دن ابراز حیات کی سوچوں کے گرد ہی گھومتا رہا جس بےچینی سے وہ رات کا انتظار کر رہی تھی گھر پہنچ کے بھی اسے سکون نہ ملا وہ پورے گھر میں چکر کاٹتے سوچتی رہی کس طرح اپنی ماں کو اس نئی حرکت کا بتائے۔۔۔ وہ بتانے کا سوچتی بھی تو اسے گال پر پڑا تھپڑ یاد آجاتا۔۔ بےشک وہ ہاں کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن صبح سے اسکی ماں نے اسے تنگ نہ کیا الٹا حجاب کوشش میں رہی کہ وہ اس سے پوچھ لیں اسی کشمکش میں پورا دن گزر گیا لیکن اس نے اپنا کارنامہ نہیں بتایا۔۔۔۔
” جی ناظریں آج ہم آپ کے ساتھ حاضر ہیں کچھ اہم خبروں کے ساتھ سب سے پہلے آج کی اہم خبر مشہور تنظیم کے ممبر فہیم احمد کو آج ایک ہوٹل میں لڑکی کے ساتھ شرمناک حالت میں پایا گیا۔۔۔۔ جو لگ بھگ انکی بیٹی کی ہم عمر ہے اور تحقیقات سے پتا چلا ہے یہ صرف آج کی نہیں بلکے ہر رات کی کہانی ہے روز ایک نئی لڑکی کو انکے ساتھ دیکھا گیا ہے آج یہ بات سورسز کے ذریعے منظرِعام پر آئی جو فہیم احمد کے لیے بہت بڑادھچکا ہے جی ناظرین آپ نے صحیح سنا ابھی ابھی خبر آئی ہےان کی انہی حرکتوں کی وجہ سے انکی وائف نے خلا کا کیس بھی دائر کیا ہوا ہے۔۔ یہی نہیں ناظرین انکے گھر سے تقریباً نوے لاکھ بلیک منی برآمد ہوا ہے۔۔۔ “ وہ آگے بھی آج کی تازہ خبریں سنا رہی تھی لیکن حجاب کو جو سننا تھا وہ سن چکی تھی وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی کمرے میں آکر سب سے پہلے یہ خوشی اس نے اپنے رب سے شئیر کی دو نفل نماز ادا کر کے آج وہ رو کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کررہی تھی رانیہ اسکے لے کیا تھی خدا بہتر جانتا ہے آج تک وہ اسکی دعاؤں میں رہی ہے۔۔۔۔۔
مجھے بھی یاد رکھنا
جب لکھو تاریخِ وفا غالب

کہ میں نے بھی لٹایا ہے
کسی کی محبت میں سکون اپ
نا

کئی سالوں بعد وہ اُس دن سکون بھری نیند سوئی تھی۔۔
لیکن اگلا دن اس کے لیے کسی طوفان سے کم نہ تھا وہ اپنا کہا سچ کر گیا۔ حجاب تاثیر کے جملہ حقوق اُس شخص کے نام ہوئے جس سے اس نے اپنی زندگی میں فہیم احمد کے بعد سب سے زیادہ نفرت کی تھی۔۔۔
” ویلکم بےبی “ حجاب ابھی گھر میں داخل ہی ہوئی تھی کہ سامنے وہ شخص اپنی پوری آب و تاب سے بیٹھا اسکا دل دہلا گیا۔۔۔۔
اسکی ماں ساتھ ہی کھڑی تھی اسامہ اور ثنا گھر میں نہیں تھے وہ اکثر اسکے بعد ہی آتے تھے۔ اسکے بابا سر ہاتھوں میں دیے ابراز حیات کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔۔
” حجاب “ اسے دیکھتے ہی اسکی ماں تقریباً دوڑتی ہوئی اسکے پاس آئی۔۔
” اس دن جب پوچھ پوچھ کر بیزار ہوگئی تھی تب جواب کیوں نہیں دیا؟؟ اور اب اس طرح تماشا بنا کر رکھ دیا ہے ہمارا وہ اب پورے باراتی لے آیا ہے بس تمہارا انتظار کر رہاہے۔۔۔“
اسکی ماں نے اسکا بازو دبوچ کر دھیمی آواز میں دانت پیستے کہا۔۔
” ام۔۔۔امی۔۔۔ می۔۔۔میں۔۔۔ نے۔۔۔ کو۔۔۔کوئی۔۔۔ہاں۔۔نہیں۔۔ کی ۔۔۔ یہ جھوٹ بول رہاہے۔۔۔۔ “ حجاب ماں کو غصّے میں دیکھ اپنے بچاؤ کے لئے جھوٹ بول گئی اسکی ماں نے آنکھیں سیکوڑ کے اسے دیکھا جیسے سمجھنا چاہ رہی ہو ابراز بھی اسکی آواز باخوبی سن چکا تھا۔۔۔
” پانچ منٹ میں جو کر سکتی ہیں کریں اگلے پانچ منٹ بعد ہمارا نکاح ہے میں اسی وقت اسکے جھوٹ کا پردہ فاش کر سکتا ہوں لیکن اب یہ میری عزت بنے گی تمیز، احترام، تربیت اب صرف میں ہی اسکی کرونگا۔۔۔ “ وہ نہایت ٹھنڈے لہجے میں کہہ کر اسکا سکون برباد کر گیا۔۔۔
” حجاب بیٹے کیا تم نے کل اسے کوئی امید دلائی تھی “ اپنے بابا کی بات سن کر وہ سر جھکا گئی اور آج پہلی بارحجاب نے دیکھا اسکے بابا کا سر صرف اسکی وجہ سے شرمندگی سے جھکا تھا اور اگلے پانچ منٹ بعد حجاب تاثیر کے ساتھ ابراز حیات کا نام جُڑ گیا گواہ مولوی وہ سب اپنے ساتھ لایا تھا جن کو بابا نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا تھا۔۔۔ نکاح کے بعد اسکی ماں اسے اپنے روم میں چھوڑ گئی اسکی ماں نے نکاح کے لئے اسے صرف لال دوپٹا اُوڑایا تھا نکاح کے بعد وہ اپنی جیت کی خوشی منانے اسکے کمرے میں آیا تھا اور موت سی دل ہلانے والی خبر دے گیا صرف ایک ہفتے میں رخصتی؟؟؟ وہ دوپٹا بےدردی سے اتار کر بیڈ پر لیٹ گئی روتے روتے نجانے کس پہر اسکی آنکھ لگی۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

” عبایا پہن کر تیار ہوجاؤ ابراز آرہا ہے تمہیں لینے۔۔۔ “
حجاب عصر کی نماز پڑھ کے اٹھی تھی کہ ایک اور دھماکے دارخبراسکی منتظر تھی۔
” کیوں؟؟ اور آپ کیسے مزے سے کہہ رہی ہیں جانتی نہیں کتنا گھٹیا آدمی ہے؟؟ “ حجاب تو سن کر آگ بگولا ہوگئی ابھی شوہر ہونے کا صدمہ نہیں گیا تھا کہ ساتھ جانےکا غم مل گیا۔۔۔۔
” شوپنگ کرنےجانا ہے اورہاں وہ اُن سے بہتر ہی ہے جو چہروں پر نقاب پہن کر رکھتے ہیں وہ جیسا ہے سامنے ہے، جھوٹا، دوغلا، منافق نہیں۔۔۔ “ وہ بھی اسکی ماں تھیں، آنکھوں میں دیکھ کر بہت کچھ جتا گئیں۔۔۔
” امی آپ مجھے؟؟؟ “ حجاب پوری آنکھیں کھولے صدمے کی کیفیت میں انہیں دیکھنے لگی۔۔
” نہیں حجاب تم ہی میری پریشانی نہیں اور بھی ہیں تمہارے چچا لوگ کہہ رہے ہیں دکان بیج کے ہمیں اپنا حصّہ دو اب بتاؤ محنت ساری تمہارے بابا کی چلو حصہ انکا حق ہے پورا لےلیں لیکن اس طرح اچانک؟ اور کہہ رہے ایک ہی مہینے کے اندر ہمیں رقم دے دو۔۔۔اب بتاؤ ایک مہینے میں کیسے ہوگا سب؟؟
” منافق لوگ “ حجاب غصّے سے بڑبڑائی
” حجاب ایک بات یاد رکھنا منافقت منہ کی بدبو کی طرح ہوتی ہے اپنی کا پتا ہی نہیں چلتا، صرف دوسروں کی بُری لگتی ہے “ اسکی ماں نے عام سے انداز میں سمجھایا حجاب کا منہ لٹک گیا صبح اس نے اپنے بابا کو بھی شرمندہ کردیا۔۔۔
” امی میں۔۔۔ “ حجاب انکار کرتی اس سے پہلے آمنہ اسک ارادہ بھانپ گئیں۔۔۔
” حجاب ابراز کا فون آیا تھا اس نے میری اجازت لی تمہیں ساتھ لے جانے کے لئے اب مہربانی کر کے مجھ سے بحث نہ کرنا وہ نیچے آگیا ہوگا تم عبایا پہن کر جلدی جاؤ۔۔۔ “ حجاب آنسو پیتی عبایا پہن کر نقاب کرنے لگی ساتھ ایک نظر بیڈ پر بیٹھی ماں کو دیکھا شاید جانے سے منع کر دیں لیکن وہ پتھر بنی بیٹھی رہیں۔۔۔۔
” مجھے مس کیا جانِ من “ وہ انگلی پر کی چین گھومتا کار سے ٹیک لگائے گہری نظر سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ آٹہری۔۔۔ اسکے ماتھے پر ابھی بھی پٹی لگی ہوئی تھی لیکن ہاتھ اور پاؤں بالکل سلامت تھے۔۔
” دروازہ کھولو۔۔۔ “ وہ اسے قہر برساتی نظروں سے نواز کر غصّے سے بولی۔۔رازی نے پیچھے ہٹ کر کار کا دروازہ کھولا اسکی نظریں حجاب کا پور پور حفظ کر رہی تھیں وہ اسکی نظروں سے گھبرا کر جلدی بیٹھ گئی ” بیویوں والی ادائیں ہیں “ اس پر جھک کر کہتے وہ مسکرایا ابراز کا ایک بازو کار کے دروازے پر رکھا تھا۔۔ دونوں یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے تبھی حجاب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔
” اپنی نظریں قابو میں رکھو ورنہ یہ آنکھیں نوچ لونگی “
وہ دانت پیستے بولی۔ابراز نے دوسری سائیڈ آکر ڈرائیونگ سیٹ سنمبھالی۔۔
” دیکھنے کا، سراہنے کا، دیدار کرنے کا حق صرف ان آنکھوں کو ہے۔۔۔ “ کار اسٹارٹ کرکے وہ حجاب کو آنکھ مار کر بولتا اسے آگ لگا گیا۔۔حجاب نے چپ رہنے میں عافیت سمجھی۔۔۔ابراز ڈرائیونگ کرتے ساتھ ایک نظر اسے دیکھتا جو چپ کا فقل لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ ابراز کو اس کی خاموشی زہرلگ رہی تھی وہ اِسے بولنے کا کہہ نہیں سکتا لیکن جانتا تھا اسکے میوزک اون کرتے ہی وہ پٹر پٹر اپنا لیکچر شروع کر دیگی۔
” یہ بند کرو بہت گناہ ہے گانا سننا “ گانے شروع بھی نہ ہوا تھا کہ وہ چلا اٹھی۔۔
” شوہر کی نافرمانی بھی گناہ ہے بیگم صاحبہ “ سکون سے کہتا اسکا سکون غارت کر گیا۔۔
” ایسا شوہر ہو تو فرمانبردار بیوی بھی نافرمان بن جائے “ جواب حاضر تھا
” تمہارے جیسی بیوی ہو تو کافر بھی مسلمان بن جائے۔۔۔ “
مزاحیہ انداز میں کہتے وہ اسے تپا گیا۔۔ اسکی بات کا مطلب وہ اچھی طرح جانتی تھی تبھی اپنا حجاب درست کرنے لگی۔
” گھٹیا انسان “
” جیسا بھی ہوں بےبی بس تمہارا ہی ہوں۔۔۔ “ ہلکی بڑبڑاہٹ بھی وہ سن چکا تھا۔۔۔
” ڈرائیونگ پر دھیان دو۔۔۔ “ کاٹ کھانے والا انداز تھا ابراز جی جان سے فدا ہوگیا۔۔۔
” دل نہیں لگ رہا جان۔۔۔ “ حجاب نے گھوری سے نوازا جسے وہ نظرانداز کرتا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو۔۔ ہے ہمت تو مقابلہ کرو۔
حجاب کو اسکی بےباکی دیکھ نئے سرے سے غصّہ آیا وہ کیوں اسکے ساتھ آئی؟؟؟ وہ اسے باتوں میں لگا کر سنسنان جگہ لے آیا۔۔۔ جہاں کوئی نہ تھا ایک پرندہ تک نہیں۔۔ اور گاڑی ہلکی ہلکی چل کر اب تقریباً رک چکی تھی۔ویرانہ دیکھ کر اسکا پارہ ہائی ہوگیا
” جانِ من بہت حساب ہیں جو تم سے لینے ہیں اب تک صرف تھپڑ کا سوچا تھا لیکن تم نے تو کل انکار کر کے ایک بار پھر میرے اندر کے حیوان کو جگایا۔۔۔ “ وہ جسکے لہجے میں اب تک شوخی تھی یکدم اپنا لہجہ بدل گیا۔۔۔ حجاب جو کچھ کہنے والی تھی خوف سے پیچھے کھسکی ابراز کا جاندار قہقہہ گونجا۔۔۔
” جانِ من یہ بس ہلکا غصّہ نکل آتا ہے۔۔۔ بےعزتی کا بدلا لونگا مگر ایسا کہ چاہ کر بھی نہ بھولو۔۔۔۔ خیر فہیم احمد نے کس کا ریپ کیا “ ابراز کی بات نے جہاں اسکا دل دہلایا وہیں اسے کچھ حوصلہ ہوا شاید اسی بات کے لئے وہ اسے سنسان جگہ لے آیا۔۔۔
” کیوں بتاؤں؟؟ “ اپنی تیز چلتی دھڑکن بحال کر کے بولی۔۔
” نہ مذاق کے موڈ میں ہوں نہ تمہارے نخرے اٹھانے کے موڈ میں۔۔۔ سنسان سڑک دیکھ کر سمجھ چکی ہوگی؟؟ “ عام سے انداز میں کہہ کر بہت کچھ جتا گیا لیکن حجاب نہیں ڈری۔۔۔۔
” ایک بچی کا ریپ کیا اسنے۔۔۔۔ “
” ہم۔۔۔ تمہارے مطابق اسے کیا سزا ملنی چاہیے؟؟ “ عام سا انداز تھا جیسے پہلے سے سب کچھ جان چکا ہو
” زندہ تڑپتے رہنا چاہیے۔۔۔ “ حجاب کے لہجے میں نفرت تھی
” اوکے۔۔۔ “
” تم کل ہنسے کیوں؟؟ اور فہیم احمد کو جانتے ہو نہ مجھے اندازہ ہوگیا تھا۔۔۔۔ لیکن تم نے جو اسے سزا دی اس سے صرف اسکا کیریئر تباہ ہوگا مال و دولت تو اب بھی اسکے پاس ہے۔۔ “ حجاب بغور اسے دیکھتے کچھ کھوجنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔
” کچھ نہیں ہے اسکے پاس نہ مال نہ دولت نہ شہرت نہ سکون۔۔۔۔ امیر خاندان کی لڑکی سے شادی کی اس امید میں سے کہ ساری زندگی بیٹھ کر کھائے گا لیکن افسوس بیوی نے پھنسا دیا ویسے بیوی ہے بڑی خطرناک چیز۔۔۔۔“ اسے اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ابراز نے سگریٹ سلگایا۔۔۔۔ حجاب نے نظریں پھیر لیں اسکی پوسٹ مارٹم کرتیں نگاہیں حجاب کو زہر لگیں۔۔۔
” بیوی کا کہنا تھا جھونپڑی میں بھی رہ لےگی لیکن عزت سے شوہر کا کمایا کھائے گی، افسوس شوہر ٹیوشنز دینے لگا لیکن فطرت انسان کی نہیں بدلتی لڑکیوں کا شوق پہلے سے تھا اس معصوم بچی کو دیکھ وہ جو شریفوں کا ماسک لگائے بیٹھا تھا حیوان بن گیا۔۔۔۔۔۔ گناہ چھپانے کے لئے بیوی کے ساتھ وہ اُس شہر سے بھاگ گیا وہاں سے اپنے سسرال پہنچا ساری زندگی وہاں رہا سسر کا کھایا ،اسی کی پارٹی جوائن کی سیاست میں آیا۔۔۔۔۔ لیکن کہتے ہیں نہ خدا جسے آباد کرے جسے برباد۔۔۔۔ فہیم احمد کے پاس پیسے بہت تھے لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا ایک بیٹی بچپن میں فوت ہوگئی دوسری ابنارمل ہوئی۔۔۔۔ اور کل رات وہ پوری طرح برباد ہوگیا۔۔۔ اب نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا بیوی چھوڑ چکی۔۔۔ دوست۔۔ رشتےدار سب نے چھوڑ دیا کوئی منہ نہیں لگارہا “آخر میں وہ ہنسا جان لیوا مسکراہٹ تھی۔۔۔ ایک ہاتھ سے سگریٹ پکڑتے ابراز نے دوسرے ہاتھ سے کار اسٹارٹ کی اور اس دفعہ اسکی سپیڈ کافی تیز تھی حجاب جو غور سے اسے دیکھ رہی تھی اچانک کار اسٹارٹ ہونے پر جیسے ہوش میں آئی۔۔۔
” فہیم احمد تمہارا کون ہے؟؟ “ حجاب کو پوری تفصیل سن کر یقین تھا اسکا یہ جواب رائیگاں نہیں جائے گا۔
” پھوپھا ہے میرا “ جان چھڑانے والا انداز تھا جیسے مزید اس ٹوپک پر بحث نہیں اور حجاب نے بحث کی بھی نہیں خاموشی سے باہر کا منظر دیکھتی رہی ۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ اسے ایک بوتیک میں لے آیا جہاں سے ابراز نے خود اسے شادی اور والیمے کا ڈریس دلایا اور حجاب کا انٹرسٹ نہ دیکھ ابراز کا موڈ خراب ہوگیا وہ ڈریس لیتے ہی اسے گھر چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔۔

                        ☆.............☆.............☆

” میں تمہیں لینے آرہا ہوں “ وہ ابھی لیکچر لے کر نکلی تھی کہ ابراز کی کال آگئی جسے دیکھتے ہی اسکا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا
“ کیوں؟؟ “ پھاڑ کھانے والا انداز تھا
” دادی سے ملانا ہے، انھیں ابھی تک یقین نہیں ہمارا نکاح ہو چکا ہے “ وہ شاید اچھے موڈ میں تھا، فریش سی آواز تھی
” میں اُن سے بعد میں مل لوں گی “ حجاب نے صاف انکار کیا
” مسلہ کیا ہے؟؟ “ ابراز کواس کا انکار ناگوار گزرا
” مسلہ یہ ہے کہ تمہارے ساتھ جا کر میں اپنا تماشا نہیں بنوا سکتی میری ایک ریپوٹیشن ہے یہاں “
” تمہیں میرے ساتھ جانے میں شرم آتی ہے؟؟ “ ابراز کے ماتھے پر شکنیں اُبھریں
” ظاہر ہے سب تمہارے ساتھ مجھے دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے؟؟ ویسے بھی میں نے ابھی کسی کو بتایا نہیں نہ بتانے کا ارادہ ہے ابھی یہ کڑوا گھونٹ میں نے ہی ہضم نہیں کیا اور اب فون نہ کرنا اللہ‎ حافظ “ حجاب نے جان چھڑا کر جلدی کال کاٹی ساتھ سیل اوف کردیا۔۔۔ نجانے کیوں اس شخص کی آواز سے بھی حجاب تاثیر کو نفرت ہے۔۔۔۔

                       ☆.............☆.............☆

دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں دادو کی خوشی کا تو ٹھکانہ نہیں تھا مہوش بھی دل ہی دل میں خوش تھی لیکن آج تک اپنی بےعزتی نہیں بھولی۔۔ حیات صاحب نے فبیحہ کو بہت مشکل سے راضی کیا تھا۔۔۔ ناچارا انھیں فبیحہ کو ایکسیڈنٹ والی بات بھی بتانی پڑی اسکے بعد وہ شادی کی تیاری میں منہ پر فقل لگائے حصہ لے رہی تھیں اور آخر وہ دن بھی آیا جب شادی حال میں رسموں کے بعد حجاب کو ابراز کے سنگ جانا پڑا۔۔ شادی کے یہ پورے دن اسکی ماں اسے سمجھاتی رہی کہ زبان کو کنٹرول رکھنا ، شوہر کے حقوق بھی بتاتی رہیں لیکن حجاب کو تو بس ان قریب آتے دنوں میں ایک ہی بات سمجھ آرہی تھی کہ اسکی شادی ایک شرابی نشئی سے ہو رہی ہے۔
” بہت مس کرتا ہوں تمہیں جانِ من “
وہ باپ کے گلے لگ کر کافی دیر روتی رہی اسکے ساتھ چلتا ابراز کب سے اس فلمی سین سے اکتا چکا تھا۔۔۔ آخر کار جب وہ سب سے مل کر کار میں بیٹھی۔ اسکے ساتھ بیٹھے ابراز نے اسکا ہاتھ پکڑ کے محبت سے کہا۔
” میں تمہاری گرل فرنڈ نہیں جو ایسے الفاظ بولتے ہو“ وہ ہاتھ چھڑا کر تیز لہجے میں بولی۔۔۔ابراز کو اس سے ایسی امید نہ تھی اسے لگا تھا اب تک وہ اس شادی کو قبول کر چکی ہوگی۔
” تمہیں یاد ہے کیفےٹیریا والا سین جہاں تم نے سب کے سامنے میری بےعزتی کی تھی “ ابراز کا لہجہ عجیب تھا جو حجاب کو محسوس ہوا۔۔
” تم اُسی لائق تھے مجھے افسوس نہیں ابراز حیات۔۔۔ تم نے جو میری فیملی کے ساتھ کیا تمہاری وجہ سے میں اپنے بابا کے سامنے شرمندہ ہوں “ حجاب کا لفظ لفظ نفرت میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔
” شٹ آپ۔۔۔۔ حجاب تاثیر آج کا دن تم اپنی پوری زندگی میں بھول نہیں پاؤ گی عزت گوانا کیا ہوتا ہے تمہیں آج پتا لگے گا “ وہ غرایا اور شروعات ہوچکی تھی کیوں کے کار رکتے ہی وہ اسے چھوڑ کے اندر جا چلا گیا۔۔۔ ابراز کی کزنز اسے اندر لے آئیں دادی اور مہوش دوسری کار میں آرہے تھے۔۔۔ ابراز کا اس طرح چھوڑ کے جانا اسے خوف میں مبتلا کر آگیا کافی دیر وہ اکیلی مہمانوں کی بیچ بیٹھی رہی پھر ایک خاتون نے ہی کہا دلہن کو دولہے کے روم میں چھوڑ آؤ۔۔۔ حجاب کو تو بس دادو کا انتظار تھا لیکن آج تو اسکی قسمت بھی اسے دھگا دے گئی۔۔۔ وہ تھر تھر کانپتی ابراز کی کزنس کے ساتھ روم میں پونچی آج پہلی بار شاید اسکا روم روم کانپ رہا تھا ابراز حیات کے نام سے۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

” تمہاری اوقات ہے یہاں بیٹھنے کی؟؟؟ “ ابراز اتنی زور سے دھاڑا کہ اسکا دل کانپ اٹھا۔۔۔
ڈیپ ریڈ شرارے میں ملبوس وہ بیڈ پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ اسکا دل کسی سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ ویسے ہی گھبرائی سہمی اسکا انتظار کر رہ تھی کہ ابراز روم میں داخل ہوا دروازہ کھولتے ہی تیزی سے اسکی طرف لپکا اور جھٹکے سے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔
” چٹاخ “
وہ اسے تھپڑ سے نوازتا زہریلے الفاظ اسکی سماعتوں سے گزار رہا تھا۔۔
” زندگی عذاب کر دونگا تمہاری موت مانگو گی تم “
اسنے جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا روم سے باہر لے آیا وہ سہمی چڑیا کی طرح اسکے ساتھ کھچتی چلی جا رہی تھی سیڑھیوں سے اترتے وہ اسے ہال میں لے آیا جہاں مہمان گپ شپ میں لگے ہوے تھے اسکا پورا خاندان اس وقت حال میں موجود تھا۔۔ ابراز نے گرفت ڈھیلی کر کے تقریباً اسے پھینکتے ہوئے اپنی ماں سے کہا۔
” یہ کیا کر رہی تھی میرے روم میں؟؟؟ اسکی اوقات ہے میری کمرے میں قدم رکھنے کی؟؟ “ اسکی دھاڑ سے مہوش تک کانپ اٹھی جو پہلی بار اپنے بھائی کا ایسا روپ دیکھ رہی تھی۔
” یہ تمہاری ہی پسند تھی مت بھولو “
اسکی ماں نے نخوت سے کہا
” پسند تھی اب نہیں ہے!!!! اینڈ مائنڈ اٹ یہ مجھے اپنے روم میں نظر نہ آئے “ وہ اسے قہر برساتی نظروں سے گھور کر اپنے روم میں چلا گیا دروازہ بند کرنے کی آواز نیچے تک سنائی دی۔۔
دلہن کے روپ میں سجی وہ زمین پر اوندھے منہ گری پڑی تھی اتنے مہمانوں کے سامنے بےعزتی پر پہلی دفعہ اسنے موت کی شدت سے دعا کی۔۔۔۔ اسکی غلطی کیا تھی صرف اتنی کہ خود کو غلیظ نظروں سے بچانے کے لیے وہ پردہ کرتی تھی؟؟؟ اس نے سامنے کھڑی مہوش کو دیکھا جو فتح مند ی سے اسے دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہی تھی
” کیوں اُتر گیا پارسائی کا بھوت؟؟ “ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں تو گالوں پر آنسوؤں کا آبشار بہہ نکلا۔۔
” کہا تھا نا ں جلتی آگ میں خود کومت جھونکو…. افسوس ہوتا ہے کہ تم میری بیسٹ فرینڈ رہ چکی ہو “ وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے گویا ہوئی…
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
جاری ہے