Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

وہ اس سے لمحہ لمحہ دور جا رہی تھی حجاب چاہ کر بھی ایک قدم نہ بڑھا سکی آٹھ سالہ عائشہ حجاب سے روٹھی ایک ایک قدم پیچھے لیتی تو پچیس سالہ حجاب اسکے ایک قدم بڑھانے سے ہمت کر کے اپنا پاؤں آگے کرنے کی کوشش کرتی لیکن چاہ کر بھی اِسکے وجود میں جنبش نہ ہوتی۔۔۔۔
عائشہ اسے ہلتے نہ دیکھا شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے روتے ہوے بولی۔۔
” جانتی ہو حجاب تم نے جس نعمت کی قدر نہیں کی نہ آج اُس‎ نے وہ تم سے چھین لی۔۔ جس کی دی ہوئی نعمت سے تم لوگوں کا دل دُکھاتی تھیں آج وہ وجہ ختم ہوگئی۔۔۔ اب تم کبھی لوگوں پر فتوی جاری نہیں کروگی۔۔ تم نہیں جانتیں تم سے زیادہ مجھے تکلیف ہو رہی ہے غصّہ آرہا ہے تم پر کاش تم نے وقت رہتے اُس کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کی ہوتی۔۔ تم نے سب کا دل دکھایا سب سے زیادہ اُس کا جس نے تمہاری جان بچائی۔۔ تم خود سر، مغرور ہو۔۔۔ آج بھی تم ویسی ہو اب تم میرے پاس نہ آنا کیوں کے تم کبھی نہیں بدل سکتیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ “
” نہیں “ وہ بیڈ شیٹ کو مٹھی میں جکڑے چیختی ہوئی اٹھ بیٹھی اسکا پورا وجود پسینے سے شرابور تھا پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے موجود تھے اسکی سرخ آنکھیں کمرے میں اندھیرا دیکھ کر مزید خوفزدہ ہوگئیں بند یا کھلی آنکھوں میں اب کوئی فرق نہ تھا۔۔۔
” ام “ اس سے پہلے وہ اپنی ماں کو پُکارتی آمنہ نے اسے خود سے لگایا وہ اسکی چیخ سن کر اٹھی تھیں۔۔۔
” حجاب میری جان کیا ہوا؟؟ “ حجاب کو اس طرح خوفزدہ دیکھ کر آمنہ نے اسے گلے لگایا یہ اب تقریباً روز کا معمول تھا حجاب اسی طرح خوفزدہ ہوجاتی۔۔۔
” امی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے خوف آرہا ہے مجھے ایک بار آپ کو دیکھنا ہے امی۔۔۔ ایک بار روشنی لا دو۔۔۔۔۔۔ میں پاگل ہوجاؤنگی۔۔۔ مجھے کچھ نہیں دِکھتا کچھ بھی نہیں۔۔۔ نہ صبح کا پتا لگتا نہ رات کا۔۔۔ مجھے خود سے نفرت ہوتی ہے بوجھ لگتی ہے یہ زندگی امی۔۔۔ کچھ کرو۔۔۔ میں ایسے۔۔۔نہیں۔۔۔۔رہ سکتی امی۔۔۔۔م۔۔۔۔میں مر جاؤنگی یا مجھے مار دو۔۔۔ اب تو۔۔۔ وہ بھی۔۔۔چھوڑ گیا مجھے۔۔۔ کچھ بھی نہیں میرے پاس۔۔۔ میں کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔ مجھے خوف آتا ہے امی کوئی آیے یا جاے مجھے کچھ نظر نہیں آتا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔اب تو چہرے بھی بھول گئی ہوں امی۔۔۔ بس ایک دفع دیکھا دو مجھے۔۔۔امی کچھ بولو نہ اس خاموشی سے ڈر لگتا ہے وحشت ہوتی ہے۔۔۔ “ حجاب کے آنسوؤں، اسکے الفاظ آمنہ کا دل چیر رہے تھے وہ خود بھی رو رہیں تھیں حجاب کو آج یہاں آئے تیسرا دن تھا بچے الگ کمرے میں تاثیر صاحب کے ساتھ سوتے حجاب کی اس حالت کے بعد کوئی بھی اُس سے ملنے نہیں آیا سب نے منہ موڑ لیا چاہے وہ ابراز ہو یا اسکے ماں باپ سب حجاب کو ایسے بُھلا بیٹھے تھے جیسے وہ کبھی انکی زندگی میں آئی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

                      ☆.............☆.............☆

” آپ نے مجھے روکا کیوں نہیں؟؟ “ آج وہ ان کے سامنے کھڑا بےبسی کی انتہا پر تھا۔۔ دو دن سے لگاتار وہ ہسپتال کے چکر لگا کر اپنی ہستی تک بھلا چکا تھا وہ انکے پاس آکر اپنا غم ہلکا کر لیتا لیکن سکون ابھی بھی کسی طور مُیسر نہ ہوا جب تک حجاب کے روبرو کھڑا اُس سے سزا نہیں پوچھ لیتا تب تک کسی طور یہ دل اس غم سے آزاد نہیں ہوگا۔۔۔۔
” انسانی فطرت ہے بچے انسان کو جس کام سے روکو وہی کرتا ہے “ وہ آج بھی پُر سکون تھے چہرے پر وہی خوبصورت مسکراہٹ تھی۔۔
” آپ روکتے تو۔۔۔ “ سارا الزام ان پر ڈال کر وہ کسی ننھے بچے کی طرح شکایات کر رہا تھا حاجی صاحب دھیرے سے ہنس دیے۔ ۔۔۔
” ایک ہفتہ تم سے سر کھپایا احساس دلایا انا دونوں طرف ہے مگر وہ انسان ہی کیا جو اپنی غلطی مانے۔۔۔ “ انہوں نے ایک کا اشارہ کر کے تسبیح رکھ کر اپنی داڑھی کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔ پھر اسے غور سے دیکھتے اپنے لب کھولے جس میں رازی کو اپنا آئینہ دیکھاتا عکس شرمندہ کرگیا۔۔۔
” تمہیں جب پہلی بار دیکھا تھا تم ایک معصوم بچے لگے تھے مجھے۔۔۔ لیکن اُس دن تمہیں میں دیکھ کر ڈر گیا انا اور غرور کی جھلک تھی تمہاری آنکھوں میں خود پر اتنا غرور نہ کیا کرو بچے یہ غرور انسان کو ذلت کی گہری کھائی میں اچھال دیتا ہے۔۔۔ “ وہ اللہ‎ کے انہی بندوں میں سے تھے جو اُسکے بندوں کو گناہ کی راہ میں چلتا دیکھ کانپ اٹھتے اب بھی وہ چہرہ بےبسی سے ابراز کو دیکھ رہا تھا، مسکراہٹ یکدم ان ہونٹوں سے غائب ہو چکی تھی۔۔۔
” غرور نہیں تھا حاجی صاحب بس خود پر اعتبار نہیں تھا ایک دنیا کہتی ہے ” خاص “ ہوں میں لیکن اُسکی نظر میں
” عام “ سے بھی ” عام “ ہوں۔۔ “ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا دل اب تک تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا آنے والا وقت گزرا وقت کیا کھیل کھیل گیا؟؟؟ پتا ہی نہ چلا وہ بس دیکھتا رہا۔۔۔
” تو خاص بناتے خود کو۔۔ جس چیز کی کمی ہے اُسے پورا کرتے اُسے اعتبار دلاتے تو آج پیشیمانی سے یہاں سر جھکائے نہیں بیٹھے ہوتے۔۔ “ وہ نرمی سے گویا ہوا
” وہ خود بھی تو سمجھتی “ ابراز لاچارگی سے گویا ہوا
” عکس یا ایک جھلک تو دیکھاتے کے بدل چکا ہوں بےنیازی اہمیت نہیں جگاتی بلکے اُسے وہ دیکھنا تھا جس کی اول سے خوائش کی تھی اُس نے۔۔ تمہاری بیوی باپردہ خاتون ہے وہ کیوں ایسے شخص کو تصور کریگی جس نے ہر پل احساس دلایا ہو میں کل بھی ویسا تھا آج بھی ویسا ہوں دیکھ لو تمہاری مذاق میں کہی گئی بات تمہیں مہنگی پڑ گئی۔۔ “ انکی باتیں ابراز کو رہ رہ کر اپنے خسارے کا احساس دلا رہیں تھیں
” میں کیا کروں؟؟ “ اسکی آواز یکدم بھرا گئی۔۔۔ دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی۔۔۔
” اعتبار دلاؤ اسلام صرف مرد کے حقوق نہیں بتاتا بلکے فرائض بھی بتاتا ہے شوہر کے حقوق تو اس پڑ واضع کیے اب ذرا فرائض کی جھلک بھی دیکھائو ایسی آزمائش پر چھپو نہیں سامنا کرو یقین دلاؤ احساس دلاؤ اپنے ہونے کا “ انہوں نے ابراز کے کندھے پر ہاتھ رکھے دھیمے لہجے میں اسے سمجھایا
” ہمت نہیں۔۔۔ “ وہ کسی بےبس پرندے کی طرح لگ رہا تھا فرق بس اتنا تھا پرندے کو آزادی چاہے دنیا دیکھنے کے لئے جبکے ابراز کو قید چاہیے اس دنیا سے بچنے کے لئے آخر چھپنا بھی کسی مسلے کا حل ہے؟؟؟
” جنگل میں صبح جب ہرن جاگتا ہے تو سوچتا ہے آج اگر جی جان سے نہیں بھاگا تو مارا جاؤنگا اُسی صبح ایک شیر جاگتا ہے اور سوچتا ہے آج گر جی جان سے نہیں بھاگا تو بھوکا رہ جاؤں گا آپ شیر ہو یا ہرن آپ کو بھاگنا تو پڑے گا۔۔۔ اسی طرح جب غلطی کی ہے تو سامنا تو کرنا ہوگا اعتراف کرنے میں گناہ نہیں جب اُس سے کیا ہے تو اُسکے بندے سے بھی کرو۔۔۔ “ ابراز نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا انکے پاس ابراز کے ہر سوال کا جواب ہوتا لیکن آج انکی یہ بات ابراز کو کسی تیر کی طرح چُبھی تھی وہ سامنا کرنے سے ہی تو ڈرتا ہے۔۔۔
” کاش یہ نہ ہوتا۔۔۔ جیسا میں نے سوچا ویسے کیوں نہ ہوا۔۔۔ میں غلط تھا میں مانتا ہوں لیکن میں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے کسی کا نقصان ہو پھر حجاب کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟؟ “
” ایک چڑیا نے خدا سے شکایت کی اے اللہ بڑی مشکل سے گھونسلہ بنایا تھا تو نے طوفان بھیج دیا میرا گھونسلا خراب ہوگیا۔۔ تبھی آواز آئی تیری آنکھ لگ گئی تھی اور تیرے گھونسلے میں سانپ چلا آیا تھا تجھے کھانے۔۔ طوفان اسی لئے بھیجا تاکے تو جاگ جائے اور اُڑ جائے۔۔۔ تم نہیں جانتے بچے کبھی کبھی سزا بھی بڑا سبق بنتی ہے اور یقیناً وہ نوازتا ہے تو چھین بھی سکتا ہے اور چھین کر بہترین سے نوازتا ہے۔۔۔اب اٹھو خود سے نہ بھاگو مزید ایک منٹ کی دیری اُسے تم سے مزید بدگمان کردے گی۔۔۔ یاد رکھنا جب فاصلے بڑھتے ہیں تو غلط فہمیاں بھی بڑھ جاتی ہیں پھر وہ بھی سنائی دیتا ہے جو کہا بھی نہ ہو “ آج بھی وہ انکی باتوں سے قائل ہوا تھا ایک بار پھر وہ اسکے لئے امید کی کرن بن کر آئے تھے۔۔۔ گلے میں اٹکا آنسوؤں کا پھندا روکتے ہوے وہ جو نڈھال ہو رہا تھا اٹھ کھڑا ہوا حاجی صاحب کے ہونٹوں کو پر ایک پرسکون مسکراہٹ آن ٹھری۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

حجاب نماز پڑھ کے اٹھ کھڑی ہوئی سائیڈ پر ہوکر وہ جھکی تھی اور جانماز کا کونہ ڈھونڈ رہی تھی تاکے تہ کر سکے تبھی اسے اپنے ہاتھوں کے قریب ایک لمس محسوس ہوا جیسے وہ اسکی مشکل آسان کرنے آیا ہو حجاب ڈر کے پیچھے ہٹی۔ آج کل یہی ہو رہا تھا ہلکی آواز سن کر بھی وہ خوفزدہ ہو جاتی حالانکہ گھر میں گھر والوں کے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟؟ لیکن یہ ڈر تھا کے کسی طور اسے پُر سکون ہونے نہیں دیتا۔۔۔
” حجاب۔۔ “ اجنبی آواز سن کر وہ مزید خوفزدہ ہوگئی۔۔
” کو۔۔۔کون؟؟؟ “ وہ قدم بڑھاتی ڈر کے مارے پیچھے ہو رہی تھی۔۔
” حجاب تم ڈر کیوں رہی ہو میں عائشہ ہوں تمہاری دوست۔۔ “
عائشہ نے آگے بڑھ کے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
” عائشہ “ حجاب کے لب لرز اٹھے وہ بمشکل عائشہ کا نام لے پائی اس سے پہلے عائشہ کچھ کہتی حجاب نے ہاتھ بڑھا کے اسے چھونا چاہا اور قریب آکر اسکے گلے سے لگائے وہ سسک اٹھی۔۔۔ عائشہ جو خود کو مضبوط بنا کر یہاں تک آئی تھی بُری طرح رو دی کیا کیا دکھ نہ تھا؟؟ رانیہ کا دکھ۔۔۔ بچھڑنے کا دکھ۔۔ حجاب کا وہ اجنبیت بھرا لہجہ۔۔۔ اپنی دوست کو پانے کی وہ خوشی۔۔۔ اور حجاب کی محرومی۔۔۔۔ دونوں نجانے کتنی دیر تک روتی رہتیں کے ثنا کے دستک دینے سے دونوں آنسوؤں پونچھتی الگ ہوئیں۔۔۔۔
” ہائے یہاں تو ندی بہہ رہی ہے اور مجھ معصوم کو دیکھیں کب سے پکوڑے تل رہی ہوں اس آس میں کے تعریف ہوگی لیکن آج تو آپی نے بھی آواز دیکر نہیں کہا کے خوشبو سے پیٹ نہیں بھرنا سامنے لاکر رکھو۔۔ ” ثنا نے لوازمات سے بھری ٹرے چائے کے ساتھ بیڈ کورنر پر رکھی۔۔
” تمہاری بہن ہے نہ دیکھو دو دن کی محنت کے بعد ہمت کر کے آئے تھی ساری محنت میری ضائع کردی۔۔ “ عائشہ نے مضبوطی سے حجاب کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ تک لاکر بٹھایا۔۔۔
” ثنا۔۔ “ ثنا جو کچھ کہنا ہی والی آمنہ کی آواز سن کر جلدی سے کچن میں چلی گئی۔۔
” حجاب۔۔ “ عائشہ نے کچھ کہنا چاہا کے حجاب نے روک لیا۔۔۔
” تمہیں کیسے پتا سب اور اب بھی میرے ایکسیڈنٹ کا۔۔ مجھے ایسے لگتا ہے تم ہر وقت مجھے دیکھتی ہو۔۔۔ “ حجاب کے لہجے کی بےچینی محسوس کر کے عائشہ ہنس دی۔۔۔
” نہیں بس تم سے۔۔ تم سے جڑے ہر بندے پر غور کیا ہے اب تو شادی ہوگئی میری لیکن تقریباً پانچ سال پہلے ابراز بھائی جنہیں فرسٹ ٹائم یونی میں دیکھا تھا انھیں اپنے بابا کے ساتھ دیکھ کر کچھ حیران رہ گئی پھر انکی وہ بات کافر وہ بابا سے کہہ رہے تھے کوئی انھیں کافر کہتا ہے بابا نے نہ پوچھا نہ ابراز بھائی نے بتایا کون ہے وہ؟؟؟ لیکن میں تو جانتی تھی میری سامنے تم دونوں کی لڑائی ہوئی تھی یونی میں خیر بس اُس دن کے بعد سے میں نے جو یونی میں ابراز حیات کو دیکھا تھا اور بابا کے گھر میں جس ابراز کو دیکھا اُن دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ میں آہستہ آہستہ اُنکی باتیں سننے لگی کبھی سنتی کبھی نہیں مجھے پتا ہے غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن پہلی دفع جب سنا اُسی وقت اللہ‎ سے وعدہ کیا تھا حجاب کے علاوہ کسی سے ذکر نہیں کرونگی کیوں کے تمہیں رہنمائی کی ضرورت تھی اور بیوی دنیا کی کوئی بھی ہو شوہر کے منہ سے اپنے لئے تعریف سے ہٹ کر کچھ سنے تو شرمندہ ضرور ہوتی ہے میں نے یہی سوچ کر تم سے بات کرنے کا سوچا اور ایک بات کہوں ابراز بھائی بس دکھ دل میں نہیں رکھتے بابا کو بتاتے ہیں لیکن تم مضبوط ہو۔۔۔ بہت فرق ہے تم دونوں میں۔۔۔ ابراز بھائی کی یونی میں کافی تعریف سنی تھی وہ ڈونیشنز بہت کرتے ہیں۔۔۔ “ عائشہ کی باتیں سن کر حجاب نے ایک گہری سانس لی سمجھ نہیں آتا آخر ابراز حیات کو پہچانے میں اس سے کہاں غلطی ہوئی؟؟ جو عوروں کو دیکھتا ہے مجھے کیوں نہیں دیکھتا؟؟؟ حجاب بنا دیکھے بھی عائشہ کی نظریں خود پر محسوس کر سکتی تھی اسے عائشہ کے ساتھ اپنا رویہ یاد آتے ہی شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔۔
” تمہارا خط پڑھ کے میں جو آسمانوں میں اڑتی تھی بُری طرح زمین پر آگڑی میں نے توبہ کی لیکن جانتی ہو میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟؟ کیوں کے شاید میری توبہ پکی نہیں تھی میں نے اُن لوگوں کو ایک پل کے لئے یاد نہیں کیا جنکا دل دکھایا تھا اُس وقت بس ایک شخص یاد تھا ” ابراز “ مجھے لگا مکافاتِ عمل کی صورت میں وہ میرے سامنے آکھڑا ہوگا لیکن جب تک میں انا کا بت توڑتی تب تک مکافاتِ عمل شروع ہوچکا تھا اور سب سے بھیانک بات بتاؤں؟؟؟ مکافات عمل ابراز کی صورت میں تھا اُس نے میرے سامنے کسی اور کو لاکھڑا کیا میں تو یہی سمجھتی تھی میری جگہ کوئی نہیں لے سکتا لیکن کسی نے لے لی۔۔۔ “ وہ جو ایک نکتے کو تکتے عائشہ کے سامنے اپنا غم ہلکا کر رہی تھی نظریں جھکا گئی ان آنکھوں نے ہر بار دھوکہ دیا ہے اسے آج بھی بن بتائے برس اٹھیں جسے چھپانے کو حجاب نے نظریں جھکا دیں۔۔۔۔
” تمہیں ایک بات کہوں حجاب آج واقعی مجھے لگا غرور تم میں نہیں تمہارا ” یقین “ تمہارا ” اعتبار “ سچا ہے اور یہ ہونا چاہیے کیوں کے اعتبار ہی ایسے کمزور رشتوں کو مضبوط
کرتا ہے تمہارے سامنے ابراز بھائی نے کسی کو نہیں لاکھڑا کیا مجھے یقین ہے اور مجھے تمہارے یقین پر بھی یقین ہے۔۔ لیکن تمہارے ساتھ جو ہوا بس وہ ایک ٹھوکر تھی جسے کھانے کے بعد تمہیں وہ بھی یاد آیا ہوگا جسے تم یاد بھی نہیں کرنا چاہتی ہوگی بولو ایسا ہے نہ؟؟؟ کسی کا دل دکھایا ہے؟؟ “ عائشہ کی کہی ایک عام سے بات حجاب کے دل کے تار ہلا گئی یہ سچ تھا جسے سوچا بھی نہ تھا وہ بھی یاد آیا تھا اور ایسا وار کیا کے حجاب کبھی اُس شخص کے سامنے سر نہیں اٹھا سکے گی۔۔۔۔
” ہاں تبھی تو یہ نعمت مجھ سے چھین لی گئی کیوں کے آنکھوں سے دیکھتے ہوے بھی میں اندھی بنی رہی تمہیں کن الفاظوں کن لفظوں میں یقین دلاؤں اُسکا شکر ادا کرو ایک ایک نعمت کا شکر کرو کیوں کے اُسکی دی نعمت کی کمی اُس سے پوچھو جو اِس سے محروم ہے۔۔۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتیں اس اذیت کا۔۔۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے سوں تو اٹھوں نہ۔۔۔۔ “
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رودی عائشہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا مضبوط ہونے کے باوجود یہاں آکر وہ بکھر گئی۔۔۔
” حجاب پلیز سمبھالو خود کو۔۔۔ ادھر میری بات سنو۔۔ “ عائشہ نے اسکے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹائے اور انہیں ایک ہاتھ سے پکڑ کے اسکے آنسوں پونچھے۔۔ عائشہ اسے کسی بچے کی طرح ٹریٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
” کون کہتا ہے کسی کے پاس کمی نہیں؟؟؟ آسمان کے پاس بھی تو زمین نہیں۔۔محرومی ہر انسان کی زندگی میں ہے نہ امیر خوش ہے نہ غریب لیکن ہاں جو اللہ‎ کو راضی کرتا ہے پھر یہ دنیا اُسکے ہونٹوں سے چاہ کر بھی مسکراہٹ نہیں چھین سکتی۔۔۔ مجھے یقین ہے آج میرا رب کانٹوں پر سے گزار رہا ہے لیکن گلاب تک پہچانے کے لئے۔۔ آنے والے سفر کا تم تصور بھی نہیں کر سکتیں حجاب کیا پتا وہ آج سے بہتر ہو بلکے اس آزمائش کے بعد بہترین ہو “ وہ نرمی سے اسے سمجھا رہی تھی حجاب کو یہ سب جہاں سنے میں اچھا لگ رہا تھا وہیں حقیقت سوچ کر خوف اٹھ رہا تھا وہ اب ہمیشہ اسی محرومی کے ساتھ زندگی گزارے گی۔۔ اور ابراز کیا وہ کبھی اسے پلٹ کر دیکھ گا بھی نہیں؟؟؟
” ہم۔۔۔۔ مجھے اب کسی کا دکھ نہیں بس جسکا انتظار تھا اب وہ دوبارہ آباد ہوچکا ہے اسے میری ضرورت بھی نہیں۔۔۔ “ حجاب خود کو سمبھال چکی تھی اس نے نرمی سے اپنے ہاتھ عائشہ کی گرفت سے آزاد کیے پاکر کھونا کیا ہوتا ہے اسے پل پل محسوس ہوا کاش وہ ابراز کو ٹھکراتی نہ۔۔۔
” ہوسکتا ہے کوئی اور وجہ ہو؟؟؟ “ عائشہ کو وہ ابراز یاد آیا جو اسکی بےنیازی سے تڑپتا تھا اسے کسی توڑ یقین نہ تھا وہ اس حالت میں حجاب کو چھوڑ گیا۔۔۔
” پتا نہیں۔۔۔۔ جانتی ہو یہ غرور کہاں سے آیا۔۔۔ “ نظر نہ آنے کے باوجود حجاب کی نظریں کھڑکی پر تھیں وہ اس کمرے کے کونے کونے سے واقف ہے ایک عرصہ یہاں گزارا ہے۔۔۔
” نہیں۔۔۔ “ عائشہ نے نفی میں سر ہلایا لیکن پھر حجاب کا سوچ کر اسکی گلے سے گھٹی گھٹی آواز برآمد ہوئی۔۔۔
” سب واہ واہ کرتے تھے میں اُنکی واہ واہ سن کر کسی آزاد پرندے کی طرح اڑتی تھی بغیر یہ جانے کے جب یہ پر چھین لئے جائیں گئے تب نہ صرف اڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہونگی بلکے بُری طرح زمین پر آگروں گی اور اس طرح گروں گی کے اٹھنے کے قابل نہ رہ سکوں گی۔۔۔ رانیہ کی موت نے مجھے سرتاپا بدل دیا دوسروں کو الزام دینے سے اچھا یہ ہے میں حجاب کروں کیوں کے غلطی بھلے برباد کرنے والی کی ہو ذلیل و خوار وہ لڑکی ہوتی ہے اور اسکے معصوم ماں باپ۔۔۔ ہم اس ملک کی عوام ہیں عائشہ جہاں آٹھ سال تک کی بچی کو انصاف نہیں ملتا پھر بالغ لڑکی کو تو یہ پتھر کھینچ کھینچ کر ماریں گئے۔۔۔۔ میں نے جب نقاب کیا مجھ سے زیادہ میرے اپنوں کو خوشی ہوئی چچا چچی اپنی بیٹیوں کو میری مثال دیتے انفیکٹ مجھے الگ سے بلا کر کہتے انہیں سمجھاو یہ اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے اور تمھاری طرح حجاب کریں یقین کروگی عائشہ جب آپ کے بڑے آپکو سراہائیں تو خود پر آپنے باپ پر کس قدر فخر محسوس ہوتا ہے تم اندازہ نہیں لگا سکتیں میری کزنز مجھ سے چڑنے لگیں میری آتے ہی کہتیں عالمہ آ گی میں ان لوگوں میں سے نہیں تھی جو ڈر کے پیچھے ہٹتیں اب میں اور زیادہ انکے گھر جانے لگی جان بوجھ کر پہلے سے پریپیر ہوکر جاتی تاکے چچی مجھ سے اور امپریس ہوں مجھے اپنے خلاف ایک بھی غلط لفظ برداشت تک نہ ہوتا چاہے کوئی مجھے اپنی غلطی بتائے احساس دلائے غلط بیانی کر رہی ہو مجھے غصّہ آتا بجاۓ غلطی سدھارنے کے میں سمجھتی وہ جلتی ہیں مجھ سے اور نجانے کب یہ غرور میری خون میں شامل ہوگیا نہ یہ وراثت میں ملا نہ پرورش ایسی تھی بس تعریفیں اس انداز سے کی گئیں کے میں مزید سننے کے لئے ان تعریفوں میں ڈوبتی گئی اس قدر ڈوب گئی کہ اپنی انا اور اپنے غرور کی تسکین کے لیے سہی اور غلط کا فرق بھول گئی۔ تکبر تو اللہ‎ کو بھی نہیں پسند اپنے عمل کو اچھا جانا باقیوں کو خود سے کمتر۔۔۔۔ انسان اتنا اندھا ہوجاتا ہے کے سہی اور غلط کا فرق بھول جاتا ہے دیکھ لو یہ حال ہے تکبر کرنے والوں کا۔۔۔۔“
وہ دونوں ہاتھ پھلائے خود کو ایک نظر دیکھتے ہوے بولی۔۔۔ اسکی غم میں ڈوبی بےبس سی مسکراہٹ عائشہ کے رہے سہے اوسان خطا کر گئی وہ کیسے سمجھائے اسے کچھ چیزوں کا حاصل انسان نہیں سمجھتا۔۔۔۔
” تم ابراز بھائی سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہو؟؟ “ عائشہ نے اسکا دھیان ہٹانے کو یہ ذکر بہتر سمجھا۔۔۔
” اسنے میری انا پر وار کیا تھا مجھے شرمندہ کیا تھا غلطی میری تھی لیکن کس نے اقرار کیا ہے اپنی غلطی کا؟؟ امی کا وہ تھپڑ بابا کے سامنے وہ شرمندگی بس مجھے مزید اس سے بدظن کر گئی غلطی میری تھی میں کون ہوتی ہوں اُسے کافر کہنے والی جبکے خود اپنے اعمال کا پتا نہیں۔۔۔۔ میں کوئی نہیں تھی۔۔۔۔۔سب مجھ سے بہتر ہیں اب جب بدگمانی کی پٹی ہٹی ہے تو اُس نے مڑ کر بھی مجھے نہیں دیکھا۔۔۔۔ میں اُسے یاد بھی نہیں عائشہ۔۔۔ وہ رویا بھی تھا میں نے دیکھی تھی اُسکی آنکھوں میں نمی لیکن مجھے اپنی غم کے علاوہ کسی اور کا غم دیکھتا ہی نہیں تھا۔۔۔ اُسکا بھی نہیں دیکھا جسے مجھے شرمندہ کرنے کے لئے بیجھا گیا تھا۔۔۔ “ وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی جبکے عائشہ کے کان حجاب کی آخری بات پر کھڑے ہوگئے۔۔۔
” کون؟؟ “
” میں نہیں جانتی اُسے بس اتنا جانتی ہو میں نے انسانیت کا ثبوت نہیں دیا تھا اور اُس نے ثبوت دیا کہ ابنِ آدم کی اولاد ہے وہ۔۔۔۔۔۔“ کتنا مشکل ہے اپنے کیے کا اعتراف کرنا وہ بھی وہ غلطی، گناہ جو اللہ‎ آپ کو کسی ذریعے یاد دلائے۔۔۔
” کیسے ڈھونڈو گی اُسے؟؟ “ عائشہ کا سوال اسکے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ چھوڑ گیا۔۔۔۔
” جب آنکھیں چھین کر بینائی لوٹائی ہے تو ملا بھی دیگا۔۔۔ “
حجاب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی جیسے اسے امید تھی وہ اس زندگی میں ضرور اُس سے ملیگی۔۔۔
” حجاب تم بری نہیں ہو بس وقت اور حالات نے تمہیں غلط راستے کا انتخاب کرایا ہے ہم دونوں ایک ہی ندی کے مسافر تھے فرق اتنا ہے میری کشتی میں چھید میں نے وقت رہتے محسوس کر لیا اس لیے ڈوبنے سے بچ گئی لیکن تمہیں اسے ڈھونڈنے میں تھوڑی دیر ہوگئی لیکن ابھی بھی وقت ہاتھوں سے گیا نہیں۔۔۔۔“ حجاب نے ہلکی سی سر کو جنبش دی جیسے کہہ ررہی ہو لفظ لفظ سہی ہے۔۔ کافی دیر وہ اسے سمجھاتی رہی حجاب نے عائشہ سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگی۔۔۔

                   ☆.............☆.............☆

تاثیر صاحب اور آمنہ سے ملکر وہ حجاب کے کمرے میں چلا آیا۔ کمرے میں آتے ہی ابراز نے سب سے پہلے نظر کمرے میں دوڑائی بیڈ پر چادر تانے ایک وجود لیٹا ہوا تھا جسکی پشت ابراز کی طرف تھی اور چہرہ دوسری طرف تھا۔۔۔ ابراز نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور قدم قدم چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھی چھوٹی سے کرسی کھنچ کر حجاب کی سائیڈ پر رکھ کے وہاں آبیٹھا۔۔۔۔بند آنکھیں لرز رہیں تھیں ابراز اسکے ہاتھ کی کپکپاہٹ بھی محسوس کر چکا تھا۔ وہ جاگی ہوئی تھی اور اسکی آمد سے باخبر تھی۔ صبح آگر ڈاکٹر کال کر کے اسے امید نہ دلاتے وہ آج بھی نہ آتا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہے کبھی اس قدر حجاب کے سامنے خود کو بےبس محسوس نہیں کیا جتنا آج وہ خود کو محسوس کر رہا تھا۔۔ الفاظ اسکے پاس ہمیشہ سے تھے لیکن آج تو نہ الفاظ تھے نہ وہ کونفیڈنس۔۔
” کیسی ہو؟؟ “ بات کا آغاز تو کرنا تھا وہ اتنا دھیرے بھول رہا تھا کے اسے اپنی آواز اجنبی لگ رہی تھی۔۔۔۔
” ویسی نہیں رہی “ وہ سیدھے ہوکر چھت کو گھورنے لگی۔ اب نظرانداز کرنا بیکار تھا وہ جان چکا ہے حجاب جاگ رہی ہے
وہ اسکے کلون کی مہک سے محسوس کر چکی تھی وہی ہے۔۔۔ دیکھنے کو جہاں آنکھیں بےتاب تھیں وہیں آپنے اندر کی کمی اسے رلا رہی تھی۔
” اب۔۔۔۔تم۔۔۔۔ تمہیں فیصلہ کرنے میں مشکل نہیں لگے گی “ حجاب جھٹکے سے اٹھ کے بیٹھ گئی اسکی درد بھری بھرائی آواز ابراز کو جھنجھوڑ رہی تھی اب کیسے وہ اسے یقین دلائے ایسا کچھ نہیں۔۔۔
” ساری زندگی بھی گزار دوں تب بھی ان سوالوں کا جواب میرے پاس نہیں ہوگا جو تمہارے اندر پل رہے ہیں۔۔۔ “ وہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بولا تھا ڈر تھا کہیں وہ اٹھ کے یہاں سے بھاگ نہ جائے اتنے دنوں بعد یہ لمس محسوس کیا تھا کس قدر خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
” اتنی دیر کیوں کی؟؟؟ “ وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی غصّے سے بول رہی تھی۔۔۔ گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے وہ ہلکان ہو رہی تھی لیکن اپنی کوشش ترک نہیں کی۔۔۔ ابراز کی آمد پھر اسے بےبس کر رہی تھی وہ ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
” امید کی کرن ڈھونڈنے گیا تھا۔۔ خالی ہاتھ کیسے آتا؟؟؟ “
وہ پوچھ رہا تھا معافی آسانی سے تھوڑی ملتی ہے زندگی بھر کا نقصان کر کے بھلا کوئی دھڑلے سے کیسے معافی مانگ سکتا ہے؟؟؟
” ملی؟؟ “ حجاب کی آنکھوں میں ایک چمک سی اُبھر آئی۔۔۔ کیا وہ دوبارہ دیکھ سکے گی؟؟؟ جملہ تک کانوں کو کسی سر کی طرح میٹھا لگ رہا تھا۔۔۔
” ہاں!!! لیکن امید بس اللہ‎ سے لگائی ہے۔۔۔ “ وہ اسکا ہاتھ نرمی سے سہلا رہا تھا حجاب نے اب کوشش نہیں کی چھڑوانے کی۔ ابراز کو کس قدر سکون آیا تھا یہاں آکر اسکے قریب آکر لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔۔۔۔۔
” جانتے ہو اذیت کیا ہے؟؟؟؟ “ حجاب اسے دیکھنا چاہتی تھی ایک کاٹ دار نظر سے نوازنا چاہتی تھی لیکن۔۔۔ یہاں اسکے الفاظوں نے یہ کام کر دیا۔۔۔ ابراز دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا نجانے کونسے خنجر سے دل پر وار کرنے والی تھی؟؟
” نہیں نہ “ ابراز کا کوئی جواب نہ پاکر وہ خود ہی بولی
” کہنے کو سب کچھ ہونا لیکن خاموش رہنا۔۔۔ “ ابراز نے اٹکی ہوئی سانس بحال کی یہ لڑکی کسی دن اسکی جان لے لیگی۔۔ کن الفاظوں سے وہ اسے راضی کرے؟؟ کیا کرے کے وہ واپس اسکی زندگی میں آئے۔۔
” مجھے تمہارا اعتبار چاہیے حجاب۔۔۔ بہت مضبوط ہوں میں لیکن پھر بھی ٹوٹ جاتا ہوں مجھے اپنوں کا اجنبی لہجہ تکلیف دیتا ہے۔۔۔ “ اسکی لہجے پر چوٹ کرتا وہ اسکی اپنی زندگی میں اہمیت جاتا رہا تھا۔۔۔۔
” مجھے بھی دیتا تھا۔۔۔۔ “ سرد مہری سے وہ گویا ہوئی۔۔۔
” حجاب۔۔ “ ٹوٹا ہوا شکست خور ابراز کا لہجہ… آج حجاب کو بھی تکلیف دے رہا تھا
” کیوں اب کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟؟ میرا احساس کیا تھا؟؟ مجھے کتنا ستایا تنگ کیا۔۔۔ میں ایسا کرتی تو؟؟ کبھی میرا نام تک سنا کسی غیر کے ساتھ؟؟ مجھے بار بار اگنور کیا۔۔۔ جان بوجھ کر میرے سامنے ان چڑیلوں کا نام لیتے ہو اور اب پورے دنیا کے سامنے رو کر اب آرہے ہو؟؟؟ نہیں کرنی مجھے تم سے بات جاؤ یہاں سے بلکے اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔۔۔۔ “ دل جو غم سے پھٹا جا رہا تھا آج وہ ہلکا کر کے ہچکیاں لیکر رو دی۔۔۔
” حجاب ایسا کچھ نہیں۔۔۔“ ابراز نے اسکی حالت دیکھ کر بےچینی سے اسے کندھوں سے تھاما۔۔
” دور ہٹو فریبی شخص۔۔۔ جاؤ یہاں سے اب بھی کیوں آئے ہو چلے جاؤ۔۔۔۔۔ “ ہاتھ جھٹکتی وہ اس سے دور ہوتی غصّے سے چیخ اٹھی دماغ کی نس پھٹنے کو تھی۔۔ کیا جان سکتا ہے وہ بےبسی کی انتہا جب ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی وہ انتظار میں تھی۔۔۔ پرنیا احتشام کتنی بار اس سے ملنے آئے لیکن ماں کا اجنبی، سرد لہجہ انکے قدم باہر کی جانب بڑھا گیا۔۔۔
ابراز حجاب کی چھوڑی ہوئی جگہ پر آبیٹھا وہ اسکی حالت کا واقعی انداز نہیں لگا سکتا لیکن حجاب بھی اس انتہا کو جان نہیں سکتی جس سے وہ گزر رہا تھا۔۔۔ دیکھنے کا حق ہوتے ہوے بھی چھپ کر دیکھنا، اجنبی بن کر آنا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے؟؟؟
” میری بات سنو پلیز۔۔۔ پرنیا کی قسم تمہارے علاوہ کوئی چڑیل نہیں ہے میری زندگی میں۔۔۔ “ حجاب جو اسکے قسم کھانے پر اپنا رونا بھول کر کچھ اور امید لگاے بیٹھی تھی چڑیل پر پھر رو دی۔۔۔ابراز نے اسے روتا دیکھ جھٹکے سے بیڈ پر لیٹا کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
” حجاب یار تمہیں چپ کرانے کے لئے چڑیل کہا تھا سچی پہلے تم روتیں ہوئیں مجھے پُر سکون کر دیتیں تھیں آج روتی ہوئی مجھے تکلیف پہنچا رہی ہو۔۔۔ میں نے کبھی حرام رشتہ نہیں بنایا، نہ علیزہ کوئی میری رشتےدار ہے بس میرے دوست کی ہونے والی بیوی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں تم نے وہ دیکھا جو میں نے دکھانا چاہا لیکن تم نے وہ اقرار نہیں کیا جو میں کروانا چاہتا تھا۔۔۔ “
وہ اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے لیجاتا آس بھرے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
” کیوں کرتی؟؟؟ کوئی احساس ہے تمہیں اتنی زور سے تھپڑ مارا تھا۔۔“ اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ سرد لہجے میں بولی۔۔
” تم نے مجھے اس ڈرائیور کی حرکت کیوں نہیں بتائی؟؟ شکر کرو جان سے نہیں مارا تمہیں۔۔۔ “ چٹان کو مات دیتا سرد لہجہ حجاب آگر اسکی پل بھر میں بدلتی سرخ آنکھیں دیکھتی تو جی جان سے کانپ اٹھتی۔ یہ سوچ ہی اسکا خون کھول دیتی کوئی اسکی بیوی کو غلیظ نظروں سے دیکھے۔۔۔۔
” کیوں بتاتی کون لگتے ہو تم میرے “ بچوں کی طرح معصوم ضدی لہجہ۔۔۔
” دوست سمجھ کے شیر کرتیں “ حجاب کی آنکھوں کی نمی اس کے دل کا درد بڑھا رہی تھی۔ سارا الزام خود پر لیکر وہ اسے ہر الزام سے بری کر رہا تھا۔جیسے ظالم وہی تھا حجاب نہیں۔
” تمہاری نہ دوستی اچھی ہے نہ دشمنی دونوں مجھے مہنگی پڑ گئیں۔۔۔ آ “ روتے ہوے حجاب نے زور سے مکا مارا لیکن وہ اسکے کندھے پر لگا نتیجہً حجاب خود درد سے کرائی
” سوری۔۔ زور سے لگا مجھے بتاتیں میں سہی سے نشانا بناتا۔۔ ایک سیکنڈ یہ یہاں۔۔ ہاں اب مارو۔۔ “ ابراز اسے ناکام ہوتا دیکھ خود معزرت کر گیا حجاب کو وہ ہر بار حیران کرتا اب بھی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے دل کے مقام پر لے گیا اور پھر دور کر کے نشانہ سہی کر کے اسے مارنے کا آرڈر دیا۔۔
” نہیں مارنا۔۔۔ “ حجاب نے ہاتھ نیچے کر لیا ابراز غور سے اسے دیکھتا مسکرانے لگا اتنے دنوں بعد اسکی آواز اسکا چہرہ سب کسی خواب کی طرح خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔ حجاب اسکی نظریں محسوس کرتی تو ضرور کسی لقب سے نوازتی۔۔
” میں تمہیں بہت مس کرتا تھا چلو طنز کے تیر چلاتیں تھیں بولتی تو تھیں۔۔۔ “ وہ اسے دیکھتے محبت سے چور لہجے میں بولا۔۔۔
” خود کا کیا خیال ہے؟؟؟ الفی سے منہ چپکا کے بیٹھے تھے۔ “
وہ بےنیاز سی چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے بولی نظریں جھکی ہوئیں تھیں جیسے خود کو بےنیاز ظاہر کر رہی ہو
” تم کہتیں تو آگ لگا کر بھی الفی ہٹا دیتا۔۔ “ جھٹ جواب آیا۔۔۔ یہی تو حجاب تھی جس نے اسے پاگل کیا تھا آج کتنے عرصے بعد وہ اپنی ٹون میں لوٹی تھی۔۔۔
” اتنے بھی اچھے نہیں میرے لئے خود کو نقصان پہنچائو “
وہ اپنا رخ دوسری طرف موڑ گئی۔۔۔
” بےبی آزما کر دیکھو۔۔ “ اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے وہ مسکرایا اور حسب توقع وہ بےبی لقب سے چڑ گئی۔ خود ہی رخ بدل کر غصّے سے چلائی۔۔۔
” بےبی کہا تو منہ توڑ دونگی۔۔۔“ حجاب نے شہادت کی انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دی ابراز اسکے انداز پر ہنسا۔۔۔
” میرے ساتھ چلو گی؟؟ کمرے کی در و دیوار چیخ چیخ کر پوچھتی ہیں وہ حسینہ کہاں گئی؟؟؟ “ منت بھرا لہجہ تھا ابراز کا وہ امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا حجاب کے گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹک گیا۔۔۔
” بولتے نہ دوسری آنے والی ہے۔۔۔ “
” حجاب میں کیسے۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔یقین دلائوں “ وہ اسکے آنسوؤں پونچھتا بےبسی سے گویا ہوا اپنے جال میں کس قدر الجا تھا وہ۔۔۔۔
” دلانے کی ضرورت بھی نہیں مجھے تم پر اعتبار ہے، تمہیں آگر مجھ جیسی انا پرست منظور نہ ہوتی میری محرومی کے بعد تم واپس نہ لوٹتے۔۔۔ ایک دفع انسانوں کی طرح غصّے سے پوچھتے یا کوئی ایسا اعتبار دلاتے کے میں خود اقرار کرتی تمہیں بھی تو مجھ میں کو ایک انوکھی بات تو دیکھی ہوگی جس نے تمہیں انا توڑنے پر مجبور کی اور تم۔۔۔ ویسے ہی آگر مجھے۔۔۔ پر تم کتنا توڑا مجھے۔۔۔ علیزہ۔۔۔ نجانے کون۔۔ کون۔۔۔
بلکل پاگل بنا دیا مجھے۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔مجھ سے۔۔۔۔۔ پوچھتے تو بتاتی ک۔۔۔کس۔۔۔ قدر مح۔۔۔محبت کی۔۔۔ ہے۔۔۔ “
بےیقینی، حیرت کیا کچھ نہ تھی ابراز کی آنکھوں میں جب اُسے اُس سے مانگا تو ٹھکرا دیا اور جب اللہ‎ سے مانگا تو۔۔۔ وہ خود اِسکے جھکنے سے پہلے اظہار کر گئی۔۔۔۔
” صرف اللہ‎ کو اپنا بنا لو یہ دنیا تمہارے قدموں میں ہوگی۔۔“
حاجی صاحب کے الفاظ اسے جنجھوڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔