Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“ حجاب تم سو جاؤ بچے ابھی ایک گھنٹے بعد ملیں گئے۔۔ “
مہوش نے نرمی سے اسکے ڈرپ لگے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے کہا۔۔۔
” ہمم۔۔۔ “ حجاب ہلکا سا مسکرائی مہوش اسے لاکھ سنائے لیکن حجاب نے کبھی بُرا نہیں مانا وہ اولین دنوں سے جانتی ہے مہوش اپنے بھائی کے لئے کتنی پوزیسیو ہے۔۔۔۔
” پتا ہے حجاب میں اتنی ایکسائیٹیڈ تھی کے بتا نہیں سکتی کب سے مجھے انکا انتظار تھا۔۔۔ “ مہوش اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی لیکن حجاب کی پلکیں بھاری ہونے لگیں تھکن کی وجہ سے کب اس پر نیند غالب ہوئی اسے پتا نہ چلا لیکن نیند میں بھی اسے اپنی پیشانی پر دھکتا لمس محسوس ہوا پھر۔۔۔ وہ آواز۔۔۔ہاں وہ آواز جو صبح سے اس نے سنی نہیں تھی۔۔ حجاب نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو یہ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی رُخ موڑ کر دیکھا تو وہ سامنے بچوں کی کاٹ کے پاس جھک کر انہیں پیار کر رہا تھا۔۔۔۔۔
” میری جان آنکھیں کھولو دیکھو آپ کے ڈیڈ آئے ہیں۔۔۔ “
حجاب یک ٹک اسے دیکھے گئی جس نے بس ایک پل کو ایک سرد نگاہ اس پر ڈالی اور اس نگاہ میں کیا کچھ نہ تھا؟؟؟ حجاب کی پوری ہستی تھی بس اس ایک نگاہ میں نفرت، نفرت اور نفرت۔۔۔ وہ کہ رہا تھا۔۔۔
” اتنی محبت دونگا کے ماں کی کمی محسوس بھی نہیں ہوگی۔۔ آخر اسے نفرت جو ہے کافر سے اور اُسکی اولاد سے “
وہ جو اسے دھڑلے سے کافر کہتی تھی آج اسکے منہ سے سن کر نجانے کیوں دل میں ایک درد کی لہر اٹھی۔۔۔ دل چیخ چیخ کے کہ رہا تھا اتنا روے کے سامنے بیٹھا شخص پھر تمہارے پیروں میں آکر گرے آگر محبت نہ ہوتی تو اُس دن اُسکی آنکھوں میں نمی کیوں تھی؟؟؟ اور آگر محبت تھی تو آج تک حرام رشتے کیوں بناتا رہا ہے؟؟؟ حجاب نے رُخ موڑ لیا وہ سب کر سکتی تھی لیکن مر کے بھی کسی کے آگے جھک نہیں سکتی۔۔۔۔
ہسپتال میں اسکے ماں باپ اس سے ملنے آئے بچوں کو پیار کیا اور حجاب کو ساتھ لیجانا چاہا تو فبیحہ نے کہا۔۔
” ہم بھی کچھ دن یہ خوشی محسوس کر لیں پھر آپ بھلے لے جائیں “ بچوں کی آمد نے انکے لہجے میں مٹھاس کوٹ کوٹ کر بھر دی۔ آمنہ اور تاثیر صاحب نے پھر ضد نہ کی حجاب سے ملکر گھر چلے گئے۔۔۔
بچوں کو حیات صاحب اور مہوش پہلے ہی گھر لے گئے وہ لیٹی ہوئی تھی کے ابراز اسے خود لینے آیا۔۔
” ڈیڈ بچوں کو گھر لے گئے میں تمہیں لینے آیا ہوں دادو بھی گاؤں سے آگئی ہیں “ ابراز نے کہتے ہی اسکی طرف ہاتھ بڑھایا جسے حجاب نے کچھ جھجھک کر تھاما اور اسکے سہارا لیکر گھر آگئی۔۔
دادو کو دیکھ کر اسکا موڈ ہمیشہ سے خوش گوار ہوجاتا اس دفع دادو حجاب اور مہوش کو بات کرتا دیکھ بہت خوش ہوئیں بس ایک اداس چہرہ وہی تھا جسکی نظریں بےخودی کے عالَم میں حجاب پر جمعی ہوئیں تھیں۔۔ حجاب ان نظروں سے بےخبر نہیں تھی بلکے جب بھی وہ ان نظروں کی تعاقب میں دیکھتی اسکی نظریں مایوسی سے واپس لوٹ آتیں
کیوں کے وہ ہمسفر اس سے نظریں پھیر لیتا۔۔۔
دادو نے بچوں کا نام پرنیا اور احتشام رکھا تھا ایک چھوٹی سے تقریب گھر میں رکھی تھی جہاں حجاب کے ماں باپ بہن بھائی دوست سب کو ابراز نے خود انوائیٹ کیا تھا۔۔۔
رات کا وقت تھا حجاب نے ابھی بچوں کو سلایا تھا کے ابراز نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پرنیا کو اٹھایا۔
” اتنی مشکل سے سلایا ہے مت اٹھاؤ اُسے“
حجاب جو ابھی احتشام کو نہلا کر واشروم سے نکلی تھی ابراز کو پرنیا کو اٹھاتا دیکھ چیخ اٹھی لہجے میں غصّے کی کوئی رمک نہیں تھی بس پریشانی تھی۔۔
” میں دیکھ لونگا ویسے ابھی بچوں سے بےزار ہوگئیں آپ؟؟؟ میں نے میڈ رکھنے کا سوچا ہے۔۔۔ “ وہ اسے تپا کر پرنیا کو اٹھا چکا تھا
” ہاتھ لگائے میرے بچوں کو منہ توڑ دونگی۔۔۔ “ غصّے سے اسے گھورتی وہ سرد لہجے میں بولی۔ ابراز کو ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔۔۔
ابراز جہاں بچوں کے لئے نرم دل تھا وہیں اسکے لئے سرد اب تو بچوں کو پاکر وہ اسے بھول چکا ہے۔۔ ابراز کی روٹین بچوں کے آنے کے بعد کافی بدل چکی تھی وہ کبھی کبھار آفس چلا جاتا اور راتوں کو اب گھر ہی رہنے لگا تھا کبھی لپ ٹاپ لیکر کوئی کام کرتا تو کبھی بچوں کے ساتھ کھیلتا اور یہی وجہ تھی کے احتشام نے ماں سے پہلے باپ کو پکارنا سیکھا جو ابراز ہی اسے سیکھاتا حجاب احتشام کے منہ سے ڈ۔۔یڈا سن کر غصّہ پی کر رہ گئی یہاں بھی اسے یہی لگا تھا جیسے وہ اسے مات دے گیا۔ حجاب کی روٹین بھی بچوں کے آنے کے بعد کافی بدل چکی تھی اور اس نے ابراز کے کہنے پر میڈ بھی رکھی کیونکہ الریڈی اسکی آٹینڈس کم تھی مزید چھٹی کرنے پر اسے پیپر میں بیٹھنے نہیں دیا جائے گا۔ اسلیے حجاب نے یونیورسٹی جانا شروع کردیا۔۔۔
وہ عام دنوں جیسا ایک دن تھا حجاب آمنہ کے یہاں گئی تھی واپسی پر وہ بابا کے ساتھ بچوں کو لیکر گھر آگئی۔۔ وہ اپنے روم میں تھی کے مہوش کو اسکے آنے کا پتا لگا و دوڑتی ہوئی اسکے بیٹھنے سے پہلے کمرے میں آگئی۔۔
” حجاب تم نے اتنی دیر کیوں کی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی؟؟ “ بچے کار میں ہی سو چکے تھے وہ انہیں بیڈ پر لیٹا رہی تھی کے مہوش آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
” میرا؟؟ کیوں کیا ہوا؟؟ “ مہوش کے لہجے کی بےتابی حجاب کو تشویش میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔۔۔
” رازی کو کال کی تھی میں نے اسنے کہا تم آج آئوگی تو میں تمہارا انتظار کرنے لگی۔۔ “ مہوش کی آواز یکدم بھر آگئی جیسے وہ خوب رونا چاہتی تھی لیکن ضبط کیے بیٹھی تھی۔ حجاب کو یاد آیا کل ابراز نے کال کر کے پوچھا تھا وہ کب آرہی ہے اسے بچوں کی بہت یاد آرہی تھی اور حجاب جو خوش فہمی میں مبتلا تھی کے اسے یاد کر رہا ہوگا غصّے سے بتا کر کال ہی کاٹ دی۔۔۔۔
” خیریت؟؟؟ “ حجاب نے اسکا کندھا ہلایا اور اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
” تم مجھے معاف کردو؟؟ حجاب می۔۔ میں تمہارے ساتھ رہکر بھی کبھی سمجھ نہ سکی۔۔ جسم کو چھپانا ہمیں کتنی غلیظ نظروں سے بچاتا ہے؟؟ “ وہ یکدم پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی حجاب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اسے اپنی معصوم سی رانیہ یاد آگئی۔۔۔
” تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔ تم؟؟ “ حجاب نے دونوں کندھوں سے تھام کر اسے جھنجھوڑا۔۔
” مجھے معاف کردو حجاب کیفیٹیریا والے واقع میں میں نے بھائی کا ساتھ دیا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔ مجھے بہت خوف آتا ہے جب انسان کی پکڑ ہوتی ہے۔۔۔۔ مجھے کوئی حق نہیں تھا میں تمہیں رخصتی والے دن اتنے سب لوگوں۔۔ کے سامنے۔۔۔۔۔۔“ حجاب نے اسے اپنے ساتھ لگایا وہ ہچکیاں لیکر رو دی حجاب نے اسکی پیٹھ سہلای نجانے کیوں اسکی آنکھوں میں بھی نمی تیرنے لگی ان دونوں کی دوستی یونی کے اول دنوں سے تھی۔۔
” مہوش بھول جاؤ میں بھی بھلا چکی اب تو یاد بھی نہیں پلیز ادھر دیکھو سچی مجھے یاد بھی نہیں۔۔ “ حجاب کا لہجہ محبت بھرا تھا۔۔۔۔ وہ اس بات کے لئے پریشان تھی؟؟ حجاب تو نجانے کیا کیا سوچ بیٹھی تھی؟؟ وہ خدا کا شکر کر رہی تھی اسکی سوچ غلط ثابت ہوئی ورنہ ایک بار پھر وہ ٹوٹ جاتی۔۔۔۔
” سچی؟؟ “ وہ حجاب سے الگ ہوکر بےیقینی سے بولی۔۔
” مُچی “ حجاب مسکرا دی۔۔۔
” پھر رازی سے بات کیوں نہیں کرتی؟؟ “ وہ بچوں کی سی معصومیت سے آنسوؤں پونچتے گویا ہوئی۔۔۔ لیکن حجاب کی سوالیہ نظر خود پر جمعی دیکھ اپنے پرانے ٹون میں بےخوفی سے بولی۔۔۔
” ہاں میں نے محسوس کیا ہے۔۔ “
” وہ مجھے پسند کبھی نہیں تھا وجہ تم جانتی ہو۔۔ “ حجاب نے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا مہوش کے سامنے اسکے بھائی کی بُرائی اسے ہمیشہ مہنگی پڑی ہے۔۔۔حجاب کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔۔۔
” کبھی پاس بیٹھ کر محسوس کرنا نہ شراب کی بو آئے گی نہ نشے میں دت ملیگا “ مہوش کی بات سن کر یکدم اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی خوبصورت مسکراہٹ تھی اسکے ہونٹوں پر وہ غصّہ نفرت کہیں غائب ہوچکی تھی۔۔۔
” تم مجھے بھی معاف کردو دادی اور تم سے میں نے۔۔ “
” اٹس اوکے میری جان۔۔۔ “ حجاب کی بات کاٹ کر مہوش نے بولا حجاب نے اسکے کندھے پر تھپڑ رسید کیا وہ بھی ابراز کی طرح تھی بلا خوف و جھجھک جو دل میں ہوتا وہی منہ پر نجانے کیوں اسکے دل سے دعا نکلی کاش وہی ابراز واپس آجائے؟؟ کمرے میں جہاں پہلے مہوش کے رونے کی آواز تھی اب وہیں دونوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔۔۔

                         ☆.............☆.............☆

مہوش کی معافی کے بعد ابراز جو تھوڑے بہت طنز کرتا تھا اب وہ بھی بند ہوگے وہ تقریباً خاموش رہتا اسکی روٹین بھی عجیب ہوچکی صبح سے رات تک آفس۔۔۔اور واپسی نو بجے تک۔۔ کھانا کھا کر وہ دس بجے تک سوجاتا پھر رات کو دو تین بجے اٹھ کر نجانے کہاں جاتا؟؟ حجاب خود فجر پڑھ کے سوجاتی اور آٹھ بجے اٹھتی تب تک ابراز بھی آفس کے لئے تیار ہوکر ناشتہ کرتا وہ اسکے کپڑے رات کو ہی پریس کر کے رکھ دیتی۔۔۔۔ حجاب کو پل پل یہ بدلتا ابراز کاٹنے کو دوڑتا اسکی بےرخی دیکھ اسے خود کے بجائے ابراز پر ہی غصّہ آتا سنڈے کا دن بھی وہ سو کر گزارتا اتنی نیند تو حجاب نے پوری زندگی نہیں کی جتنی وہ کرتا کبھی کبھی اسکا دل چاہتا پانی کی بالٹی بھر کے اسکے سوئے بےخبر وجود پر ڈالے لیکن بڑے لوگوں کے چونچلے اتنے امیر اور گھر میں بالٹی تک نہیں کیا فائدہ ایسے پیسوں کا؟؟ غصّے میں کبھی کبھی اسکا دل چاہتا ابراز حیات کے آفس کو بلاسٹ کر کے اڑا دے۔۔۔
” مما میری بات سنو۔۔۔ “
پانچ سالا پرنیا صبح سے اسے تنگ کر رہی تھی ابراز نے انہیں سر پر چڑایا ہوا تھا۔ دونوں بچوں کو خود کی ایسی عادت لگائی تھی کے اسکول سے آتے ہی حجاب کا سر کھاتے کے ” ڈیڈ کا نمبر ملاؤ “ حجاب نے ایک سخت نگاہ اس پر ڈالی اور چائے کا کپ لیکر باہر گارڈن میں آگئی جہاں حیات صاحب احتشام کے ساتھ بیٹھے لوڈو کھیل رہے تھے دونوں بچوں میں پورے گھر کی جان تھی۔۔ ان پانچ سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا ثنا کا نکاح ہو چکا تھا اور رخصتی اگلے ماہ تھی۔۔ جویریہ اور مہوش بھی اپنے گھروں کی ہو چکی تھیں دونوں اکثر اس سے ملنے آتیں دونوں اپنے گھروں میں بےحد خوش تھیں بس ایک ناخوش تھی تو وہ خود۔۔ ابراز نے جہاں دن رات کی محنت سے بزنس کو بلندیوں تک پہنچایا وہیں حجاب کو خود سے بہت دور کردیا تھا ایسے کے وہ اُس سے بات کرنے سے پہلے سو دفع سوچتی ابراز کا لہجہ ہمیشہ نرم ہوتا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ طنز اور یہ بزرگوں والا ابراز اسے زہر لگتا سنجیدہ سا جو زندگی کا ایک ایک پل سوچ کر گزارتا ٹائم کا انتہائی پابند اپنے بزنیس کے آگے اسے کچھ دیکھتا ہی نہیں۔۔۔۔
” ڈیڈ یہ چائے “
حجاب نے حیات صاحب کی طرف چائے کا کپ بڑھایا اب وہ بھی ابراز کی طرح انہیں ڈیڈ اور فبیحہ کو موم کہتی تھی۔۔۔
” تھنک یو بیٹا آپ کیوں اداس ہو مائے ڈول “ حجاب سے کہتے انہوں نے آخر میں پرنیا کا مُرجایا چہرہ دیکھ کر کہا۔۔
” شی از نوٹ لیسنینگ “ اپنی ماں کو دیکھ پرنیا نے خفگی سے کہا
” ڈیڈ فضول کی ضد ہے اسکی روز بس باپ سے بات کرنی ہے جسے انکی فکر ہی نہیں۔۔۔ “ نجانے کیوں آج اسے غصّے آگیا حیات صاحب کا لحاظ کیے بغیر اس نے پرنیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے گئی پیچھے سے پرنیا چلاتی رہی۔۔۔
” آئ وانٹ ٹو ٹاک ٹو یو۔۔۔ “
حجاب نے اندر آتی ہی اسے باپ کا نمبر ملا کر دیا اور خود کچن میں چلی آئی۔۔ اپنا غصّہ پٹک پٹک کے وہ برتنوں پر نکال رہی تھی ملازمہ خاموشی سے اسکی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی۔۔۔
” یس ڈیڈ “ ابراز نے فون لائوڈ سپیکر پر رکھا اسکی انگلیاں مسلسل کی بورڈ پر حرکت کر رہیں تھیں۔۔۔
” رازی کہاں ہو؟؟ “ حیات صاحب کو حجاب کی بات سن کر بیٹے پر شدید غصّہ آیا انہوں نے فوراً سے اِسے کال ملائی
” دکان پر!!!حلوہ پُری بھیج رہا ہوں پارسل کروں؟؟ “ اسکی غصّے سے بھری آواز نے حیات صاحب کی پیشانی پر بل نمایاں کیے۔۔۔
” اولاد کی فکر کرو جو تمہارے پیچھے روتی رہتی ہے انہیں ٹائم دو “
“ same goes to you!!! Anything else?? ”
ابراز نے مصروف سے انداز میں کہکر جواب نہ پاکر کال کاٹ دی دوسری طرف حیات صاحب کی پیشانی پر پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوے لوگ سہی کہتے ہیں اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد سے محبت ہوتی ہے آج پہلی دفع انہیں گلٹ ہوا تھا اپنے کیے پر۔۔۔۔۔

                     ☆.............☆.............☆

” ڈیڈ “ پرنیا بھاگتی ہوئی دروازے کے پاس آئی جہاں سے ابھی ابراز داخل ہوا تھا۔۔صبح سے وہ اپنے ڈیڈ کا بےصبری سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔
” ڈیڈ کی جان “ بریف کیس صوفہ پر اوچھالتے اس نے پرنیا کو اٹھا کر اسکے گال چومے وہ ہو بہ ہو اسکی کاپی تھی لیکن سفید رنگت حجاب پر گئی تھی۔۔۔
” ڈیڈ مما صبح سے نہیں سن رہی “
” کیا نہیں سن رہی ہمیں بتاؤ آپنے کال کی تھی؟؟ سوری میں میٹنگ میں تھا۔۔ “ اسکی معصوم شکایات پر ابراز کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی وہ اسے کیا بتاتا حجاب اسکی بھی نہیں سنتی۔۔
” آئ ڈونٹ لائک ڈیٹ ڈرائیور “ پرنیا نے منہ بگاڑ کر کہا
” سے آگین “ ابراز کے کان کھڑے ہوگے اسکی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا امکان دی رہے تھی
” آئ ڈونٹ لائک ہم “
” کیوں؟؟ “ پرنیا کا چہرہ ڈرائیور کا نام لیتے مُرجا جاتا یہ ابراز نے اسکے چہرے کے بدلتے زاویے سے اندازہ لگایا وہ خوفزدہ بھی تھی ابراز کے اندر اسکی حالت دیکھ لاوا پھٹ رہا تھا۔۔۔
” ڈیڈ وہ گندے لگتے ہیں شام بھائی نہیں ہوتے نہ تو کہتے ہیں میں آپ کو پیار کرتا ہوں مجھے بہت ڈر لگتا اور یہاں ہاتھ۔۔۔۔ “ ابراز کی اس سے زیادہ سنے کی ہمت نہیں تھی اسکی رگیں تن گیں آنکھوں کی لالی پل پل بھڑتی جا رہی تھی وہ پرنیا کو نیچے اُتار کر جانے لگا کے یکدم اسے باہر سے باسکٹ بال سے کھیلتا احتشام اندر آتا دیکھا۔۔۔
وہ پرنیا کا ہاتھ پکڑتا باہر کی طرف چلنے لگا ساتھ احتشام کو بھی آنے کا اشارہ کیا وہ باسکٹ بال پھینکتا باپ کے پیچھے دوڑا۔۔۔۔
پرنیا کا ہاتھ چھوڑتے ابراز سرونٹ کورٹر کی طرف بڑھا جہاں ڈرائیور اور چوکیدار بیٹھے تھے۔۔ ڈرائیور کو مزے سے چائے پیتا دیکھ ابراز کی پیشانی کے بل مزید بڑھ گئے۔۔۔۔
” حرام زادے تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو ہاتھ لگانے کی؟؟؟ کمینے معصوم بچی کو ہوس؟؟؟؟ بھونک کتے چپ کیوں ہے؟؟؟ میری بچی کے سامنے کیسے بھونکا تھا؟؟؟ “ ابراز نے اسے گریبان سے پکڑ کے لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی احتشام اور پرنیا خوف سے باپ کو دیکھ رہے تھے انکے ہلق سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی کبھی باپ کو اونچی آواز میں بھی بولتا نہیں دیکھا اور اب۔۔۔
” گٹر کے کیڑے تم جیسوں کی وجہ سے ماں باپ کی گودھ اجڑ جاتی ہے معصوم بچیوں پر وار کرتے ہو؟؟ ذلیل انسان کتے سے بدتر ہے تو بھونک نہ اب “ ابراز نے پے در پے لاتیں اسکے منہ پر دے ماریں آگر چوکیدار بیچ میں نہ آتا تو آج وہ اسکی جان لے لیتا۔۔۔
” بس بیٹا چھوڑدو وہ مر جائے گا “
” بابا اسے پولیس کے حوالے کریں آج کے بعد اسے یہاں دیکھا تو خدا کی قسم یہ زندگی سے ہاتھ دو بیٹھے گا “ وہ سرد لہجے میں دھارا۔ احتشام اور پرنیا خوف سے کانپ اٹھے۔۔
” یہ حشر کرو گئے تم ان لوگوں کا جو تمہاری بہن کو گندی نظر سے دیکھتے ہیں اُسے ہاتھ لگاتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو سمجھے؟؟ “ احتشام کا ہاتھ سختی سے تھامے وہ سرد لہجے میں بولا احتشام نے ہاں میں سر ہلایا وہ بچا نہیں تھا جو ان باتوں کو سمجھ نہ سکے حجاب نے دونوں کو ان چیزوں سے آگاہ کیا ہے کسی اجنبی کے ساتھ نہ جانا کوئی پاس بلائے بیٹھائے تو فوراً ماں کو بتانا۔۔
” پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے؟؟ “ اب وہ پرنیا کے بال سمیٹے نرمی سے بولا۔
” مما کو بتایا تھا وہ نہیں سنتیں “
پرنیا ابراز کے گلے لگ گئی جہاں باپ کو سخت دیکھ کر رونا آرہا تھا وہیں نرمی دیکھ کے اسکے آنسو بہ نکلے۔۔۔
” کل صبح انھیں بتاؤگی اور کہنا مجھے ڈرائیور انکل کے ساتھ اسکول نہیں جانا بات یہاں سے شروع کروگی۔۔۔ اور ڈیڈ سے ڈرتے نہیں وہ ان بُرے لوگوں کے لئے غصّے والے ہیں آپ کے لئے نہیں میری جان “ وہ اسکے گال چومتا نرمی سے بولا وہ جانتا تھا آج اسکا غصّہ پرنیا کو رولا گیا۔۔۔۔

                    ☆.............☆.............☆

” مما مجھے ڈرائیور انکل کے ساتھ نہیں جانا۔۔۔ “
پرنیا کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر ایک پل کو اسکے حرکت کرتے ہاتھ رُک گئے خوف کی گہری لکیر اسے اپنی بیٹی کے چہرے پر صاف نظر آرہی تھی۔
” کیوں بیٹا؟؟ انکل نے ڈانٹا ہے “
” نہیں وہ کہہ رہے مجھے پیار کرتے ہیں.. اور وہ.. “ اسکے ہاتھ لرز اٹھے ہاتھوں میں تھامی ناشتے کی ٹرے گرتے گرتے بچی۔۔
” میں تو آپ کو پیار کرتا ہوں نہ رانیہ بیٹا “
پرانی یاد نے اسے مزید خوفزدہ کردیا۔۔۔۔۔
“ اور کیا؟؟ “ لال ہوتی غصّے بھری آنکھوں سے حجاب نے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوے پوچھا اس وقت اسکا دل کانپ رہا تھا اسکی بیٹی نجانے کیا کہنے والی تھی؟؟ اسنے ناشتے سے بھری ٹرے ٹیبل پر رکھی۔
” مجھے یہاں ہاتھ لگاتے “
پرنیا نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے اب کے غصّے سے کہا وہ معصوم ان باتوں سے انجان اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر رہی تھی جیسے ڈرائیور کا عمل اسے اچھا نہیں لگا۔۔۔
” مجھے ان سے ڈر بھی لگتا مما۔۔ “ اب کی پرنیا آکر اسکی ٹانگوں سے چپک گئی اسنے پلک چھبکائے بغیر جھک کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔
” یا میرے خدا!!!!! کونسی بھول ہوئی مجھ سے؟؟ میرے کس عمل کے بدلے تو نے مجھے ایسے جہنم میں ڈال دیا۔۔ جیسے مالک ویسے نوکر۔۔۔ اب میں کیا کروں کیسے اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھوں۔۔۔ کیا مجھے؟؟ ہاں!! ایک یہی راستہ ہے میرے پاس۔۔“ تیز چلتی دھڑکنوں کو سمبنھالتے اسکا دل رو رہا تھا اب ایک ہی راستہ تھا اسکے پاس اس نے جھک کے پرنیا کے گال چومے۔
” آپ بیٹھ کے بھائی کے ساتھ ناشتا کرو میں آتی ہوں۔۔ گھبرانا نہیں مما ہیں نا۔۔ “ وہ اسکا گال تھپک کر تیزی سے اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی آئی سامنے ہی ابراز آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا بلیک سوٹ میں ملبوس وہ خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔۔
وہ دھیمے قدم اٹھاتی اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی ابراز اسکی موجودگی محسوس کرتے ہی حیرت سے پیچھے مڑا۔۔
” کیا ہوا؟؟ “
” مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔ “ نظریں جھکائے ہاتھوں کو آپس میں مسلے وہ اسے پریشان لگی
” کرو “ بےنیازی سے کہتے وہ مُڑا اور ڈریسنگ پر رکھا فون اور والٹ اٹھایا۔۔ اسے یقین تھا وہ پرنیا کی بات کرنے آئی ہوگی۔۔
” ڈرائیور کو نکال دو اسکی جگہ کوئی۔۔۔ “
” کیوں؟؟ “ جتنی تیزی سے اس نے اپنا خدشہ بیان کیا اُسی تیزی سے ابراز پیچھے مُرا
” وہ سہی آدمی نہیں۔۔ اُسکی نظریں، حرکتیں اس سے پہلے کے وہ پرنیا ۔۔۔ “ زنانے دار تھپڑ کی آواز خاموش کمرے میں گونجی ابراز نے سختی سے اسکے بازو کو جھکڑے خود سے قریب کیا اتنا قریب کے اِسکی بیوی اِسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی
” تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟؟ آسمان سے اُتری پری ہو؟؟ ہر مرد تمہارا دیوانہ ہے؟؟ تمہیں دیکھنے کے علاوہ کسی کو کوئی کام نہیں؟؟۔۔۔ “ غصّے سے کہتے اسنے جھٹکے سے حجاب کو بیڈ پر پھٹکا اور سائیڈ سے پانی کا بھرا گلاس اپنے ہلق سے اُتارا ۔ حجاب سنمبھل کر بیڈ پر بیٹھ چکی تھی اِسی رویے کی امید تھی اُسے وہ پلک جھپکائے بغیر اسکی ایک ایک کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔
اس وقت غصّے سے اسکی دماغ کی رگیں پھٹ رہیں تھیں۔۔ خالی گلاس رکھنے کے بجاۓ اِسنے پوری قوت سے دیوار پر دے مارا اور اِسکے ساتھ بیڈ پر اِسکے سامنے آبیٹھا اِسکے بےحد قریب اور ٹھوڑی سے پکڑ کے اسکا چہرہ اونچا کیا
” اپنے بارے میں کیا کہنا ہے تمہارا؟؟ بہت پارسا ہو نا کیا کیا اب تک؟؟ بولو بیوی کے ہوتے ہوئے تمہارا شوہر باہر منہ مارتا پھرتا ہے۔۔ شدید نفرت کرتا ہے تم سے کیا اسکے دل میں جگہ بنا پائی تم جیسی پارسا لڑکیاں تو دن رات ایک کر کے شوہر کے دل میں گھر بناتیں ہیں تم نے اب تک کیا کیا بولو؟؟ یا کسی معجزے کا انتظار تھا؟؟ تمہارا شوہر تمہارے پیروں میں آن گرے گا۔۔۔ “ وہ ہنسا زہر خند ہنسی۔۔۔۔
” میں تمہیں شوہر مانتی ہی نہیں تو انتظار کیسا؟؟ اور نا ہی کوئی معجزہ ہونا میرا حساب تم سے اللہ‎ لیگا۔۔ “ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے بےخوفی سے بولی۔۔۔ اِسکی انہی باتوں سے ابراز کے دل میں اِسکے لیے نفرت مزید بڑھ جاتی آخر اپنا ٹھکرانا کہاں قبول تھا اُسے۔۔۔۔
” تمہیں لگتا ہے تم بہت معصوم ہو؟؟ میں ظالم ہوں ظلم کرتا ہوں؟؟تو ایک بات یاد رکھنا اللہ‎ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے اور اللہ‎ کو وہ عورتیں نہیں پسند جو رو رو کر موت مانگتیں
ہیں۔۔ “ کہتے ساتھ اس نے کسی بیکار شے کی طرح اِسے چھوڑا اور اُٹھ کے جانے لگا ورنہ یقیناً آج وہ اِسے قتل کر دیتا۔۔۔
” تم رسوا ہوگے دیکھنا اللہ‎ تم سے ہر حساب لیگا میرے ایک ایک آنسو کا تم سے حساب لیگا میں دیکھوں گی تمہیں تڑپتا ہوا روتا ہوا خدا کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے لیکن دیکھنا اُسے بھی تم پر رحم نہیں آئے گا۔۔۔ تم خوار ہوگے در در جاکر اسے ڈھونڈوں گئے معافی مانگو گئے تمہیں وہ نہیں ملیگا، کہیں نہیں ملیے گا، تم اِس دنیا میں اُسے ڈھونڈتے رہو گئے لیکن افسوس وہ نہیں ملیگا۔۔۔ کیوں کے وہ تم جیسے لوگوں کا نہیں ہوتا نہیں ہوتا۔۔ تم قابل بھی نہیں کے اُس کے سامنے سر اٹھا سکو۔۔۔ تم حرام کھاتے ہو حرام پیتے ہو۔۔ حرام رشتے بناتے ہو حلال تم جیسوں کے لیے نہیں۔۔ “
وہ پیچھے سے روتے ہوے اسے بددعائیں دے رہی تھی لیکن ابراز کو پروا کہاں تھی اسکی امپورٹنٹ میٹنگ تھی جو یقیناً اسکے لئے بہت اہم تھی۔۔۔۔
حجاب آنسوؤں پوچھتے اٹھ کھڑی ہوئی وہ خود بچوں کو چھوڑ آئے گی یہی سوچ کر وہ بچوں کے پاس آئی تو ملازمہ نے اسے ایک لڑکی کی آمد کی خبر دی۔ حجاب بچوں کو لیکر باہر آگئی اس نے رکشا میں جانے کا سوچا تھا جب اس بےحس کو فکر نہیں تو اسکی دولت پر بھی وہ لعنت بھیجتی ہے۔۔۔
” میم سر نے کہا ہے کچھ دن میں انہیں اسکول ڈراپ کردوں جب تک نیو ڈرائیور نہیں آتا۔۔۔ “ وہ لاؤنچ میں آئی تو ابراز کی ریسپشنیسٹ وہاں موجود تھی وہ ایک دو دفع ابراز کے آفس مہوش اور اسکے ہسبنڈ کے ساتھ گئی تھی۔۔ جو اکثر ان دونوں کے ساتھ ضد کر کے آئوٹینگ کے لئے جاتے وہاں یہ ریسپشننسٹ ہمیشہ اس سے اچھے سے ملتی۔۔۔۔
” ڈرائیور۔۔۔ “ حجاب کی ہلکی سی آواز بامشکل احتشام سن پایا۔۔اس وقت اسکی سوچیں کہیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہیں۔۔
” ڈیڈ نے اسے کل مار کر بھگا دیا “ احتشام نے کہا اور پرنیا کا ہاتھ پکڑ کے اس کے ساتھ چل دیا پیچھے حجاب سوچتی رہ گئی۔۔ کیا وہ ہر چیز سے اس سے پہلے سے باخبر ہے؟؟؟ ایک بار پھر آنکھوں میں تیرتے پانی نے باہر کا راستہ ڈھونڈا اور اسکے گال بھیگو گیا۔۔۔۔

                      ☆.............☆.............☆

حجاب بےچینی سے پرنیا کا انتظار کرنے لگی اور اسکے آتے ہی ساری بات پوچھی جسے سن کر حجاب نے اسے دیوانہ وار چوما اور اپنی کم عقلی غصّے پر ماتم کیا جو ہر بار اسے پھنساتی۔۔۔
” آج پھر منہ مارنے جا رہے ہو؟؟ “ حجاب کو صبح کا پڑا تھپڑ ابھی بھولا نہیں تھا اوپر سے اسکا اگنور کرنا اب برداشت سے باہر تھا وہ روز رات کو اسی طرح فریش ہوکر کہیں منہ مارنے جاتا اور وہ پیچھے سے ناچاہتے ہوئے بھی سلگتی رہتی۔۔۔
” صرف منہ مارتا ہوں نہ؟؟ ایسا نہ ہو تمہاری یہ بےعتنائی دیکھ کر کسی دن دوسری شادی کر لوں۔۔۔“ وہ مرر میں سے اسے دیکھتا ہوا بولا جو بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے پرنیا کو اپنے سینے سے لگائے اسکی پیٹ تھپک رہی تھی۔۔۔اسکے دیکھتے ہی حجاب نے نظریں پھیر لیں وہ قدم قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا جھک کر پرنیا کے گال چومے ابراز کا سر حجاب کی ٹھوڑی سے مس ہوا۔۔۔۔
” ڈونٹ بی جیلیس بےبی ایٹ واز یور چوائس “ وہ طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سیدھا ہو کر جانے کے لئے پلٹا پیچھے سے وہ شیرنی غصّے سے چلائی۔۔۔
” مرو تم “
” اکیلے مزہ نہیں آئے گا کیوں بھول جاتی ہو جہنم میں ساتھ جائیں گئے تم نافرمان بیوی بن کر میں نافرمان شوہر “ جاتے جاتے وہ اسے اچھا خاصا سلگا چکا تھا۔ پیچھے حجاب اسے بددعائوں سے نوازتی رہی جو اسکی زندگی برباد کر کے پر سکون تھا۔۔۔
صبح بچوں کے جانے کے بعد اسے ایک لیٹر وصول ہوا جس پر بھیجنے والے کا نام دیکھ کر جہاں اسے خوشی ہوئی تھی، بے یقینی تھی، وہیں تحریر پڑھ کے حیرانگی ہوئی۔۔۔
” مجھے یقین ہے یہ خط پڑھ کے میری برسوں پرانی حجاب جو دنیا کی بھیڑ میں کھو چکی ہے مجھے مل جائے گی “

                       ☆.............☆.............☆