Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
” حجاب تاثیر “ لال دوپٹا اوڑھے، آج خود سی بھی خفا تھی۔۔ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ شخص اسکا شوہر بنے گا جس کے پاس آتے ہی وہ نفرت سے منہ پھیر لیتی۔
” کیسا فیل کر رہی ہو اس کافر کی منکوحہ بن کر؟؟ “ عین اسکے سامنے رکھی کرسی پر وہ آبیٹھا۔۔ اٙبراز حیات کی پوسٹ مارٹم کرتی نگاہیں اسکا وجود جلسا رہی تھیں جیسے آنکھوں کے ذریعے نگل لے گا۔۔۔
” بہت بےچین تھا نقاب کے پیچھے چھپے اس چہرے کو دیکھنے کے لئے۔۔۔۔ پہلے اِس سے خوبصورت چہرہ میرے لئے کوئی نہیں تھا۔۔ اب نفرت ہے اس صورت سے۔۔۔۔ “ وہ مسکراتا ہوا اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ حجاب کا دل چاہا رہا تھا اسکا منہ نوچ لےجو اپنی غلیظ نظریں اسکے پاکیزہ وجود پر جمائے ہوئے تھا۔۔۔۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟؟ بہت غصّہ آرہا ہے نہ؟؟ “ وہ مسلسل اسکا ضبط آزما رہا تھا۔۔ٹانگ پے ٹانگ رکھے بیٹھا، وہ اِسے اِس وقت زہر لگا۔۔۔۔
” مجھے بھی آیا تھا جب پانچ سال کی بنائی گی میری عزت کوتم نے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیاتھا“ وہ اس پر جھکتے ہوئے ٹھوڑی کو سختی سی انگلیوں کی بیچ دبوچتے ہوئے غرایا۔۔۔
دوسرے ہاتھ سے جیب میں رکھی سگریٹ اور لائٹر نکالی، سگریٹ سلگا کرایک لمبا کش لے کر دھواں اسکے منہ پر چھوڑا۔۔۔۔
” مس حجاب تمہاری آزمائش کا سفر آج سے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔“ حجاب بُری طرح کھانسنے لگی اس نے منہ پھیر لیا شراب اور سگریٹ کی بو اسے پاگل کرنے کو تھی۔۔ اُسکا کا اشارہ دھویں کی طرف تھا اب سے وہ بھی اسی طرح اسکی مٹھی میں قید ہوگی۔۔۔
” آج بھی پی کر آیا ہوں اسکے بغیر جشن ادھورا ہے ڈارلنگ “ حجاب نے ہاتھ کو ناک پر رکھے اس بو سی بچنا چاہا اسکی کوشش دیکھ وہ قہقہہ لگا کے ہنسا نظریں ان خوبصورت ہونٹوں پر آرکی اسے زچ کرنے کا موقع بھلا وہ کیسے جانے دے سکتا ہے۔۔۔۔
” کمال ہے مشرقی بیوی شوہر کی آنکھوں میں دیکھ کر شرم سی نظریں جھکا دیتی ہے اور تم ایک پل کو ان آنکھوں سے نظریں نہیں ہٹا رہی کہیں محبت تو نہیں ہوگئی؟؟؟ “
وہ اسکے گلابی ہونٹوں پر شہادت کی انگلی پھیرنے لگا حجاب کے پورے وجود میں انگارے دہکنے لگے اس کا ضبط یہیں تک کا تھا وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بےخوفی سے بولی۔۔۔
” شرم آتی ہے مگر ان آنکھوں کو دیکھ کر نہیں تمہیں اپنا شوہر مانتے ہوئے۔۔۔ اور محبت وہ بھی تم سے؟؟ ساری زندگی محبت کی بھیگ مانگتے رہوگے مجھ سے لیکن یہ پتھر موم نہیں ہوگا۔۔ اور جس دن میں نے خود اقرار کیا تم سے محبت کاسمجھ لینا ہار گئی حجاب تاثیر۔۔۔ “ نفرت و حقارت سے کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ انگلی کی بیچ دبی سگریٹ اچھال کے وہ اسکے قریب ہوا ایک پل کو حجاب اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر خوفزدہ ہوگئی لیکن جہاں اگلے لمحے حجاب نے بےخوفی سی اسکی آنکھوں میں دیکھا وہیں اٙبراز نے اسکا منہ دبوچا
” بہت سن لی تمہاری بکواس میرے پاس آؤ تو اپنا مائنڈ سیٹ کر کے آنا اور اپنی یہ لمبی زبان اپنے باپ کے گھر چھوڑ آنا سمجھ آئی ہے؟؟ “ اسکا اشارہ سمجھ کر حجاب چیخ اٹھی
” کافر ہو تم “
” اسی کافر کی بیوی ہو تم جانِ من اور جلد ہی اس کافر کے بچوں کی ماں بنو گی “ اسے غصّے میں دیکھ وہ وہ مسکرایا ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔۔۔
” دوزخ میں جاؤ گئے تم “ وہ چیخی
” تمہیں ساتھ لیکر جاؤنگا جانِ من “ دل جلانے والا انداز تھا۔۔
نظریں اب بھی اسکے ہوش ربا حسن پر تھیں۔۔۔
” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا “ حجاب کی سرخ آنکھیں چھلک اٹھیں یہ شخص اسے پاگل کر رہا تھا
” تمہارا غرور تمہیں لے جائے گا حجاب تاثیر۔۔ “ انگارے برساتی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے اس نے حجاب کا جبڑاور سختی سی دبوچا اور سخت لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
” انسان سے حیوان تم نے مجھے بنایا اب رخصتی اس ماہ کے بجائے کل ہوگی، انکار کیا یا زبان کھولی تم نے تو یاد رکھنا کل رخصتی سے پہلے تمہیں سب کی نظروں کے سامنے سے اُٹھا لے جاؤنگا اندر اسٹینڈ۔۔۔ “ قہر برساتی نظر اس پر ڈال کر وہ اسکا آج کا سکون بھی لے گیا۔ حجاب کرنٹ کھا کر اس سے دور ہوئی اسے خود سی کراہیت محسوس ہوئی۔۔۔۔
وہ اسکے پیشانی پر جھک کر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ کے جا چکا تھا وہ جانتا تھا اب ساری رات وہ اپنی پیشانی دھو کر گزارے گی اور یہی ہوا تھا اسکے جانے کے بعد حجاب تاثیر نے رگڑ رگڑ کر اپنی پیشانی صاف کی۔۔۔۔۔۔
ابراز کے جانے بعد وہ واشروم کی طرف دوڑی ایک۔۔۔دو۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔پانچ۔۔ بار منہ دھویااس نے صابن سے تقریباً رگڑ رگڑ کے پیشانی لال کردی اور منہ پر پانی کے چھینٹے مار کار وہ واشروم سے باہر آگئی۔۔۔۔
ایک ایک قدم اٹھاتی وہ ڈریسنگ کے سامنے آکھڑی ہوئی نوچ کے اپنا لال دوپٹا اتارا نظر اپنے چہرے پر گئی تو پہلی بار اسے اپنا چہرے سے نفرت محسوس ہوئی جسے وہ دیکھنے کے لئے ہر بار اسے ذہنی اذیت دیتا آج یونی میں واقعہ کے بعد وہ کتنا روئی تھی جویریہ اسے گھر تک چھوڑ کے اپنے گھر چلی گئی تھی ساتھ اسکی امی کو آج والا پورا واقعہ سنایا۔۔۔ حجاب تو اس قدر خوفزدہ ہوگئی تھی اِس شخص سے کے پورا دن بخار میں پھنکتی رہی۔۔۔۔ ایک اذیت، عذاب سے وہ گزر رہی تھی کے اسے امی نے آکر موت کی خبر سنا دی۔۔۔۔
” امی۔۔۔ امی “ اسامہ چلا چلا کر اپنی ماں کو پکار رہا تھا ساتھ اپنے باپ کو سہارا دیکر کھڑا تھا۔۔۔
کچن میں کام کرتی آمنہ دوڑتی ہوئی آئیں آکر دروازہ کھولا تو اپنے شوہر کو اس حالت میں دیکھ انکے اوسان خطا ہوگئے۔۔۔ جو اپنے بیٹے کے سہارے بمشکل کھڑے تھے۔۔۔
” اللہ کیا ہوا اسامہ انہیں اندر لے آؤ۔۔۔ “ ایک بازو سے اسامہ نے سہارا دیا جبکے دوسرے سے آمنہ نے۔۔ دونوں سہارا دیکر تاثیر صاحب کو ڈرائنگ روم میں لے آئے انہیں بیٹھا کر آمنہ فوراً پانی لینے چلی گئی۔۔۔
” انہیں کیا ہوا ہے اسامہ “ تاثیر صاحب کے ہونٹوں سے پانی لگاتے آمنہ پریشانی سے گویا ہوئیں تبھی تاثیر صاحب نے پانی کا گلاس ہاتھ سے پیچھے کیا اور دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے بلک بلک کے رونے لگے انکو روتا دیکھ آمنہ کا جسم لرزنے لگا بےجان سا وجود سوال کرنے سے بھی قاصر تھا اسامہ خود انہیں روتا دیکھ ڈر گیا حجاب جو بلینکٹ میں گُھسی آنسوؤں بہا رہی تھی اور اپنا آسانٹمنٹ مکمل کرتی ثنا بھی انکی آواز سن بھاگتی ہوئی آئیں۔۔۔
چاروں اس اونچے چوڑے مرد کو روتا ہوا دیکھ رہے تھے کسی میں ہمت نہ تھی کہ سوال کرے آمنہ، حجاب اور ثنا کی بھی آنکھیں انہیں روتا دیکھ نم ہوگئیں انکے باپ تو انکے لیے آئیڈل تھے جو ہمیشہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے خود کہتے ” مایوسی کُفر ہے “ جو حالات کے ساتھ آگے بڑھنے کا کہتے نہ کے اُس بُرے وقت کو روتا ہوا گزارنے کی تلقین کرتے اور آج وہ خود۔۔۔۔۔
” میر۔۔۔۔۔میری ب۔۔۔۔بیٹیاں آمنہ اُس درندے کی نظروں میں آگئیں میں انکی حفاظت نہ کر سکا۔۔۔۔ وہ آیا تھا۔۔۔ کہہ گیا ہے وہ میری بیٹیوں کو۔۔۔اغواہ۔۔۔۔ “ جان تو پہلے ہی جسم میں نہ تھی شوہر کو اس طرح دیکھ کر اب لگتا ہے روح بھی جسم کا ساتھ چھوڑ گئی۔۔۔۔ الفاظ تھے یا موت دھمکی آمنہ جان نہ سکیں۔۔۔۔
” وہ۔۔۔ “ رازی سے ہوئی پوری بات وہ کہتے چلے گے۔۔ ثنا نے خوف سے ماں کو دیکھا اسامہ خود ساری بات سن کر پریشان ہوگیا۔۔ حجاب جو اب تک کمزوری کے باعث بےجان تھی اب نجانے کہاں سے ہمت آئی چیخ اٹھی۔۔۔
” میں اُسے اُس کی اوقات دکھاتی ہوں۔۔۔ ڈرتے ہیں کیا ہم اُس سے ابھی منہ توڑ کے۔۔۔۔۔۔۔
” چٹاخ “
حجاب کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے آمنہ کا ہاتھ اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔
” امی۔۔۔ “ وہ بےیقینی سے ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔
” زندگی کے تئیس سال میں نے انکے ساتھ گزارے ہیں ایک آنسوؤں تک انکا نہیں نکلا نہ میری وجہ سے نہ کسی اپنے کی وجہ سے اور تم؟؟؟ سب کو انکے اعمال یاد کروانے والی اپنے گریبان میں جھانکا ہے؟؟؟؟ آج تک میرے شوہر نہیں روئے صرف تمہاری وجہ سے آج وہ الفاظ تک مکمل نہیں کر پا رہے۔۔۔۔ تمہیں سمجھایا تھا نہ جب کتا بھونکتا ہے تو اس کے آگے بھونکنے نہیں بلکہ راستہ بدل لیتے ہیں۔۔۔ تمہیں کیا ضرورت تھی اُسے جواب دینے کی؟؟ اُسکے کہنے سے کچھ ہوجاتا؟؟ آگر وہ ہمیں گالی بھی دیتا تو کیا لگ جانی تھی؟؟ کیا ہوجاتا؟؟؟ بولو تمہارے کہنے سے وہ مان جاتا ہم اعلی درجے کے ہیں؟؟؟ اور تم کون ہو اُس کے ایمان کو جج کرنے والی؟؟ حجاب اللہ اپنی حقوق معاف کردیتا ہے لیکن بندوں کے حقوق میں ناانصافی معاف نہیں کرتا گناہ ہے۔۔۔ سخت گناہ ہے۔۔۔ آج دیکھو تمھارے جواب نے کیا کیا اُس کے غصّے کو تم نے ہوا دی اُس نے تمہارا نقاب کھول دیا تم نے تھپڑ مارا تو وہ آکر میرے شوہر کو دھمکا گیا آگر تم وہاں سے چُپ چاپ نکل جاتیں تو تمہاری یہ قینچی سے چلتی زبان جل نہیں جاتی۔۔ ہم چلو اُس خاتون سے جا کر مل آتے معافی مانگ آتے اگر انہیں بُرا لگا ہو تو۔۔۔۔ وہ لڑکا خود پیچھے ہٹ جاتا تم جو ہر بار اس کے غصّے کو ہوا دیتی ہو آج دیکھو ہم کس مقام پر پہنچ گئے۔۔۔۔ “ حجاب چہرے پر ہاتھ رکھے انکی ایک ایک بات سن رہی تھی لیکن اب بھی وہ خود کو غلط نہیں سمجھ رہی اسکی غلطی تھی ہی نہیں اگر تھی تو بس اُس شخص کی۔۔۔۔ تاثیر صاحب خاموش بیٹھے تھے انکی آنکھیں خشک تھیں بیوی کے لفظ لفظ سے جیسے متفق تھے۔۔۔ اسامہ اورثنا بھی خاموش کھڑے تھے۔ اسامہ ابھی خود میٹرک میں تھا اس میں ہمت نہیں تھی کہ ان بڑے لوگوں سے مقابلہ کر سکے۔۔۔
” حجاب یہ زبان ہے نہ اچھے اچھے گھر تباہ کر دیتی ہے اسکے الفاظ تیر کی طرح دل میں جا گھستے ہیں اور اگر وہ شخص اللہ کے سامنے رویا نہ تو حساب تمہارا اللہ کا نہیں رہیگا بلکہ اُس شخص کا اور تمہارا ہوگا جب تک وہ معاف نہ کرے اللہ بھی نہیں کریگا۔۔۔۔۔ “ وہ خاموش کھڑی رہی تبھی آمنہ نے ایک فیصلہ کیا جسکو سوچ کر خود انکا دل رضامندی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
” آپ انھیں ہاں کہہ دیں۔۔۔ “ آمنہ کی بات سن کر سب انھیں دیکھنے لگے کسی کو ان سے اس جواب کی امید نہیں تھی۔۔۔
” امی۔۔۔ “ حجاب چلا اٹھی، تاثیر صاحب ثنا اور اسامہ سب حیران تھے اس فیصلے سے۔۔۔۔
” میں نہیں چاہتی اس گھر سے بھی کوئی رانیہ نکلے۔۔۔ “ ماں کے الفاظ حجاب کا دل نچوڑ گئے وہ بھاگتی ہوئی روم میں جا گھسی۔۔۔۔
” حجاب مجھے انکل اچھے نہیں لگتے۔۔ “ آٹھ سالہ حجاب، عائشہ اور رانیہ ٹیوشن پڑھنے اپنے ہی ایک محلے کے پروفیسر کے پاس آتی تھیں جو اپنی بیوی ماں اور بیٹی کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔۔۔ آج بھی ٹیوشن جاتے وقت رانیہ اداس تھی وہ اپنی ماں کو بھی کافی دفعہ انکل کی حرکتیں بتا چکی تھی لیکن اسکی ماں یہی کہتی کہ بچوں کو سب پیار کرتے۔۔۔
” مجھے بھی اچھے نہیں لگتے لیکن امی مانتی ہی نہیں کہتی ہیں یہ سب سے کم پیسے لیتے ہیں۔۔۔ “ حجاب نے منہ پھلا کر کہا تو عائشہ بولی۔۔
” اب انکل پاس بیٹھائیں تو کہنا میری طبیعت ٹھیک نہیں گھر جانا ہے۔۔ “ عائشہ کی بات پر دونوں نے سر ہلایا۔ تینوں باتیں کرتے کرتے سر کے دروازے تک پہنچ گئیں۔۔۔
دروازہ انکی بیوی نے کھولا وہ کہیں جا رہیں تھی انکی گود میں انکی چھ ماہ کی بیٹی تھی۔ انکے ساتھ انکی ساس بھی تھیں۔ انکل کی بیوی مسکراتے ہوے تینوں سے ملیں اور انہیں اندر بھیج کر خود ساس کے ساتھ باہر نکل گئیں ساتھ تلقین بھی کی۔۔
” بچوں انکل بس آرہے ہیں تب تک تم لوگ اپنا ہوم ورک کر لو “
تینوں سر ہلاتے اندر جاکر چُپ چاپ اپنی جگہوں پر بیٹھ گئیں۔۔۔
” رانیہ بیٹا کل جو یاد کرنے کے لیے دیا تھا وہ کر کے آئی ہو؟ “
وہ شخص بال ٹاول سے رگڑتا آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا۔۔۔وہ نہا کر آیا تھا شرٹ ہلکی گیلی تھی۔۔۔
” نہیں انکل کل دادو آئی تھیں اور میری کزنز بھی تو میں یاد کرنا بھول گئی۔۔۔ “ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی شہد رنگ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوتھے گوری رنگت، ناک رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں لمحوں میں حیوانیت جاگی۔۔۔
” آج جب تک تم کل اور آج والا سبق نہیں سناتیں چھٹی نہیں ملےگی ۔۔۔ “
یہ بات سن کر تینوں نے بےساختہ ایک دوسرے کو دیکھا پھر یہی ہوا تھا حجاب اور عائشہ کا کام ہوتے ہی انکل نے انہیں جانے کے لیے کہا۔۔۔
” انکل رانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں آنٹی نے کہا تھا جلدی آنا “
” تم لوگ نہیں گے تو تمہاری بھی چھٹی بند اب جاؤ کل بھی یہ یہی کہےگی یاد نہیں کیا۔۔۔ “ وہ شخص دونوں کو دروازے تک چھوڑ آیا اور ٹھاک سے دروازہ بند کردیا حجاب اور عائشہ نے خوف سے ایک دوسرے کو دیکھا اندر بیٹھی رانیہ کی جان نکل گئی دوستوں کو جاتا دیکھ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
” مجھ۔۔۔۔مجھے مما کے پاس جانا ہے مجھے ممّا کے پاس جانا نہیں پڑھنا۔۔۔۔ نہیں پڑھنا “ وہ روتے ہوے ایک ہی بات دُہرا رہی تھی شہد رنگ آنکھوں میں خوف تھا۔ وہ شیطان اسکے قریب آیا اور قہقہہ لگا کے ہنسا۔۔۔ کچھ دیر بعد کمرے میں چیخیں گونجیں۔۔۔
” انکل دروازہ کھولیں ہم امی ابو کو بلائیں گے دروازہ کھولیں۔۔۔ “ حجاب اور عائشہ جو رانیہ کے انتظار میں وہیں کھڑی تھیں اسکی چیخیں سن کر دروازہ بجانے لگیں۔۔۔۔
” بچاؤ۔۔۔ مما۔۔مما یہ۔۔۔۔ انکل۔۔۔۔ “
آٹھ سال کی معصوم بچی کچھ بولتی اس سے پہلے ہی اُس شخص نے رانیہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کی اسکی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔ کمرے میں وحشت ناک خاموشی چھا گئی۔
اُسے بُری طرح نوچ کر اب وہ وحشی درندا خوف سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟؟ یہ سوچ آتے ہی اسکے ماتھے پر پسینے کے ننے قطرے نمودار ہوئے باہر سے مسلسل بچیوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں ایک ہی رٹ لگائے وہ واپس اس درندے کو اُکسا رہی تھیں۔۔۔
” چھوڑو میری دوست کو “
اس شخص نے پل بھر کو سوچا پھر دونوں ہاتھوں سے بچی کا گلا گھونٹا وہ اپنے ہاتھ پاؤں مارتی اپنی ماں کو پکارتی رہی۔۔۔۔
” بیڈ انکل۔۔۔۔۔۔۔۔ گندے۔۔۔۔۔۔ گندے۔۔۔ “ باہر سے آتی چیخیوں سے اسکا خوف مزید بڑھا اور زور لگا کر اس نے پل بھر میں اس بچی کی چلتی سانسیں روک دیں۔۔۔۔۔۔
حجاب نے اپنے کان بند کر دیے ہر رات یہ چیخیں اسے نیند سے جگا دیتیں وہ گھٹنوں میں سر دئیے بلک بلک کے رونے لگی تبھی سکون برا لمس اسے اپنے سر پر محسوس ہوا۔۔۔۔ اس نے سر اٹھا کہ دیکھا تو سامنے اسکی ماں تھیں وہ انکے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔
” حجاب یہ وہ رشتہ ہے جو بار بار ٹھکرانے کے باوجود ہمارے در پر آیا ہے جب شادی ہونی ہوتی ہے پھر چاہے کچھ بھی ہو وہ ہو کر رہتی ہے۔۔۔ کیا پتہ اس میں کوئی مصلحت ہو؟؟ “
حجاب نے نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو مجھے برباد کر کے آپ کو کون سا سکون ملے گا؟؟ اسکی ماں نے آج دل پر پتھر رکھا تھا تبھی نظرانداز کر کے اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔۔
” سچ بتاؤں تو نشئی کا سن کر۔۔۔۔“ وہ کہہ کر خاموش ہوئیں حجاب جو جواب کا انتظار کر رہی تھی انکے بات بدلنے پر حجاب کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگی
” لیکن میں چاہتی ہوں میری بیٹی برباد نہیں آباد ہوکر وہاں جائے کیا پتا تمہاری آمد اُسے سدھار دے۔۔۔ “
” آپ مجھ سے قربانی مانگ رہی ہیں “ وہ ان سے الگ ہوکر غصّے سے بولی وہ کچھ کہتیں اس سے پہلے تاثیر صاحب دروازہ بند کر کے اندر آئے اور حجاب کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے۔۔۔
” حجاب بیٹے مجھے خود سے زیادہ بیٹیوں کی عزت عزیز ہے۔۔۔۔ “ وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ رو پڑے حجاب کو آج پہلی بار سب رشتے مفاد پرست لگے۔۔۔
” میں سوچ کر بتاؤنگی۔۔۔ پلیز بابا۔۔۔ “ حجاب نے انکے جڑے ہاتھ پکڑ کے ہونٹوں سے لگائےاسکے جواب پر دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور تاثیر صاحب اسے گلے لگا کر بیوی کے ساتھ اسکے روم سے نکل گئے۔۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا اب جب برباد ہونا ہی ہے تو اُسے بھی کیوں نہ کروں بابا نے جو بتایا اُسکے مطابق وہ لوگ یہ شہر بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتےابراز کے آدمی ضروران پر نظر رکھے ہونگے۔۔
انتقام کی جلتی آگ کو بجھانے کے لئے اس نے مہوش کو میسج کیا۔۔۔
” اپنے بھائی کا نمبر سینڈ کرو۔۔۔ “ ٹائپ کر کے اس نے بےدلی سے سینڈ کیا مہوش اب بات تو دور اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تبھی انہیں چھوڑ وہ دوسرے ممبرز کے ساتھ گروپ بنا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ پانچ منٹ بعد اسے مہوش کا میسج رسیو ہوا۔۔۔
” کیوں اتنی جلدی دل آگیا؟؟ اپنی بات پر قائم تو رہتیں “ میسج کے ساتھ مہوش نے نمبر سینڈ کیا بمعہ ایول ایموجی۔۔۔۔ حجاب خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی مر کر بھی اسے اس شخص سے محبت نہیں ہو سکتی۔۔۔۔ تین بار آیت الکرسی پڑھنے کے بعد اس نے ابراز کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
” جی فرمائیں آج اس کافر کی یاد کیسے آگئی۔۔“ چہکتی ہوئی آواز حجاب کا دل چاہا منہ نوچ لے۔۔
” تم جانتے ہو میں حجاب بات۔۔۔۔ “ وہ حیران رہ گئی کیا پہلے سے اسکا نمبر سیو تھا اُسکے پاس
” جسے برباد کرنا ہو یا آباد اس کی پل پل کی خبر رکھتے
ہیں “ وہ جو اپنے کمرے میں بےزار سا بیٹھا اسکی یادوں میں گم تھا فون سکرین پر حجاب نام دیکھتے ہی اسکا موڈ خوش گوار ہوگیا۔۔۔
” مجھے یہ کہنا تھا کے میں شادی کے لئے۔۔۔ “
” کریکشن۔۔۔ شادی نہیں تم سے شادی کے لئے۔۔۔ “ جہاں اسکے فون نے موڈ خوش گوار کیا وہیں حجاب تاثیر کی ہار نے یہ خوشی دُگنی کردی۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا وہ سامنے ہوتی اور ابراز حیات اسکے سامنے اپنے فیوریٹ مشروب سے جشن مناتا۔۔۔ پھر اس خوشی کا تو ٹھکانہ ہی نہ ہوتا۔۔
” بات وہی ہے۔۔۔ مجھے بولنے دو یا خود بول لو۔۔۔ میں بس یہ کہنا چاہتی تھی کہ میری ایک شرط ہے۔۔۔ “ وہ زچ ہوکر بولی اس شخص کے ساتھ رہنا تو دور بات کرنا بھی اسے محال لگ رہا تھا۔۔۔
” پہلی بات یہ کہ بلیک میلنگ مجھے پسند نہیں میں کروں تو بُرا نہیں لگتا لیکن کوئی سامنے سے کرے تو دل چاہتا ہے کھڑے کھڑے اسے گنجا کر دوں۔۔۔ “ حجاب کا ہاتھ بےاختیار اپنے لمبے بالوں پر گیا۔۔
” آہاں بےبی تمہیں نہیں کہہ رہا تمہارے بال تو ابھی دیکھنے ہیں تمہارا وہ حجاب میں خود اپنے ہاتھوں سے اُتارونگا آخر تھپڑ جو کھایا تھا۔۔۔۔ یاد ہے نہ بےبی۔۔۔۔ “ دل جلانے والا انداز تھا حجاب کا پور پور کسی آگ میں جل رہا تھا
” میں تمہارے چچا کی بیٹی نہیں جو بےبی کہہ رہے ہو بھاڑ میں جاؤ، مرو تم، میں بھی دیکھتی ہوں کیسے شادی کرتےہو “ وہ پھنکاری
” شرط کیا ہے؟؟ “ ابراز کو جیسے اس پر رحم آ ہی گیا
” اب نہیں اب پیر بھی پڑو گئے تب بھی شادی نہیں کرونگی “
وہ غصّے سے کہتی فون بند کرنے لگی تھی کہ ابراز کی اگلی بات نے اسکے چھکے چھڑوا دیے۔۔۔
” تمہاری اگلی بات میرے سوال کا جواب نہ ہوا تو یاد رکھنا پندرہ منٹ کے اندر مولوی، گواہ اور نکاح نامہ سب تمہارے سامنے ہونگے اور منہ سے بس قبول ہے نکلے گا۔۔۔ سو بی کیئر فل “ وہ مزے سے کہتا اسے پل پل اذیت سے نواز رہا تھا
” فہیم احمد اُسے برباد کرنا ہے، ایسے کہ کبھی زندگی میں خود اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو سکے۔۔۔ “ حجاب کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی
” کیا کیا ہے اس نے؟؟؟ “ ابراز جہاں اس نام پر چونکا وہیں حجاب کے دل میں اسکے لئے نفرت اسے تشویش میں مبتلا کر گئی۔۔۔
“ none of your business ”
سکون سے جواب آیا
” بےمقصد اپنے باپ کو سلام نہیں کرتا تمہارا کام کیوں کرونگا؟؟؟ “ وہ بھڑک اٹھا۔۔۔ دماغ بس فہیم احمد پر الجھا تھا۔۔
” ہی ازآ ریپیسٹ “ پل بھر کو دونوں طرف خاموشی چھا گئی
پھر ابراز کا قہقہہ گونجا وہ ہنستا چلا گیا حجاب کو وہ کوئی پاگل لگا۔۔۔۔
” کبھی کبھی دل کرتا ہے مولوی بن جاؤں لیکن تمہاری باتیں یاد آتی ہیں تو احساس ہوتا ہے مسجد میں پیر رکھنے کے قابل بھی نہیں۔۔۔۔۔ گڈ بائے بےبی تمہاری بات سنے بغیر کال کاٹ دونگا کیوں کہ تمہارے منہ سے صرف اقرار اچھا لگتا ہے جو آج تک سنا نہیں انکار سے سخت نفرت ہے خاص کر تمہارے منہ سے کل رات نو بجے کی نیوز ضرور سننا جو تمہاری شرط کے مطابق ہوگی اور ٹھیک اگلے دن تین بجے ہمارا نکاح ہوگا۔۔ “ کہتے ساتھ ابراز نے کال کاٹ دی حجاب کو آج پہلی بار وہ شخص عجیب لگا بہت عجیب۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
