Ana Parast By Yusra Readelle50055 Episode 14 ( Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14 ( Part 1)
” میری پیاری دوست حجاب مجھے پہچانا نہیں نہ میں بھی تمہیں پہچان نہ سکی کیوں کے تم میری حجاب نہ تھیں میری دوست نہیں تھیں وہ دوست تو کسی کی دل آزاری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور یہ حجاب یہ تو کوئی اور ہی ہے جو دل دکھانے کے فن سے واقف ہے۔۔۔ تمہیں یاد ہے ہم تینوں کتنے خوش رہا کرے تھے؟؟ ایک دوسرے کے ساتھ جان بستی تھی ہماری ایک دوسرے میں۔۔ زندگی کتنی خوبصورت تھی نا؟؟؟ نہ کوئی ٹینشن نہ کوئی زندگی کی فکر بس اپنے میں مگن رہتے تھے۔۔۔ نہ جانے کس کی نظر لگی ہم ایسے بچھڑے کے آج ایک دوسرے کو بہچانے تک نہیں۔۔۔۔ ایک روٹھ کر اس دنیا سے چلی گئی باقی ہم دو بچھڑ گئے۔۔۔
تمہیں یاد ہے تم نے ایک دن ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا تھا ایسے مسلمانوں پر سو توپوں کی سلامی کیوں؟؟ کیوں کے میں نے جینز پہن کر حجاب لیا تھا؟؟؟ اور تم نے کہا تھا
اپنے عاشق سے بات کرنے میں مصروف ہے حجاب بےشک تم ہو مسلمان لیکن اللہ نے تمہیں حق نہیں دیا کے تم لوگوں پر فتویٰ جاری کرتی پھرو انکا دل دکھاؤ یقین جانو اُس وقت ریمارکس سن کر میں بہت اداس ہوگئی تھی تمھارے ساتھ تمہاری دوست بھی تھی میرا دل چاہ رہا تھا تمہیں اچھا خاصا سناؤں لیکن نجانے کیوں پہلی بار ایسا ہوا کے مجھ میں ہمت نہیں تھی اچھی خاصی بولڈ ہونے کے باوجود میں خاموش رہی لیکن تم میرے ذہن سے نہ ہٹیں اکثر گرلز کومن روم میں۔۔۔ تمہیں میں باقائدگی سے نماز پڑھتے دیکھتی ناچاہتے ہوے بھی تم میری نظروں کا مرکز بنی رہیں پھر کیفیٹیریا ہو یا کومن روم میں تمہیں ڈھونڈتی رہتی ایک دن میں نے تمہاری سی آر سے تمہارا نام پوچھا مجھے یقین نہ ہوا تم اتنی آسانی سے مجھے مل سکتی ہو؟؟؟ میری بچپن کی دوست رانیہ کے جانے کے باد تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا؟؟؟ اور تم میری ہی نظروں کے سامنے تھیں لیکن ایک سوچ پر آکر میں ُرک جاتی کیا تم وہی حجاب ہو میری بچپن کی دوست؟؟؟ اس کشمکش سے میں اُس دن نکلی جب تمہیں انکل کے ساتھ دیکھا وہ تمہیں بائیک پر لینے آئے تھے میں انکل کو کیسے بھول سکتی تھی؟؟ تم میری ہی حجاب تھیں اُس دن میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا میں تم سے کفٹیریا میں ملنے آرہی تھی لیکن اُس دن تمہارا جھگڑا ابراز حیات سے ہوگیا ہے۔۔۔ میں نہیں کہونگی وہ سہی تھا لیکن حجاب تم؟؟ تمہارے الفاظ سن کر میں دھنگ رہ گئی بےشک میں تمہاری طرح دین سے اتنا قریب نہیں لیکن حجاب جب کوئی شخص بھٹکتا ہے تو اُسے راستہ دیکھاتے ہیں نہ کے اُسے خوفزدہ کر کے آگے بڑھنے سے روکتے ہیں حجاب تمہیں نہیں پتا چلتا تمہارے الفاظ کس طرح خنجر بن کر دلوں میں لگتے ہیں اگر تمہیں پتا چل جائے تو تمہیں اپنی اس زبان سے نفرت ہونے لگی گی۔۔ ” کافر “ مطلب جانتی ہو اس لفظ کا؟؟ ہمیں تو کافر کو کافر کہنے کا حق نہیں اور تم نے ایک مسلمان کو بلا خوف و جھجھک کافر کہا؟؟۔۔۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” جو شخص کسی کو کافر کہہ کر پکارے یا خدا کا دشمن کہے اور وہ ایسا نہ ہو تو یہ کلمہ کہنے والے پر لوٹ پڑتا ہے “
یہ حدیث ہے یقیناً تم نے پڑھی ہوگی صرف پڑھنا نہیں عمل کرنا بھی فرض ہے جیسے نماز، روزہ، زکوة فرض ہے اُسی طرح غیبت، بدزبانی سے منع کیا گیا ہے تو جو زبان سے تیر چلاتی ہو اس سے صرف دل آزاری نہیں ہوتی بلکے یہ بدزبانی غیبت ہے اور غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے بھائی کا کچا گوشت کھانا ہو۔۔ جانتی ہو انسانی فطرت کیا ہے؟؟ چلو چھوڑو میں تمہیں اپنا بتاتی ہوں پھر انسانی فطرت کا بتاتی ہوں تمہیں پتا ہے رانیہ کے ساتھ ہوے حادثے نے میری زندگی پر ایسا اثر کیا کے میں اپنے ماں باپ سے قریب تر ہوتی گئی چھوٹی سے چھوٹی بات آکر اپنی ماں کو بتاتی۔ کلاس میں ہمیشہ ہر بات میں میں آگئے رہنے لگی ماں باپ سے قریبی سمجھو دنیا فتح کر لی اچھی بُری بات بلا خوف و جھجھک ہر عمل بتاتی پڑھائی میں تو نہیں خیر باقی ہر کمپیٹیشن میں پارٹیسیپیٹ کرتی میرے سپورٹر میرے ماں باپ تھے میرے بابا مولوی ہیں لیکن جانتی ہو اس بولڈ دنیا میں رہ کر میں نے یہاں کا طور طریقہ اپنایا جینز شارٹ شرٹ یہ میں نارملی پہنتی ہوں لیکن حجاب کا ٹرینڈ دیکھ کر میں نے بھی وہ پہننا شروع کردیا اُس دن میرا یونی میں پہلا دن تھا حجاب مائیگریشن کی وجہ سے میرا ایک سال ویسٹ ہوگیا یہی وجہ ہے میں تمہاری جونیئر ہوں اُس دن میں حجاب پہن کر یونی آئی تو تمہارا دیا گیا تعنہ مجھے ضد دلا گیا سب سے پہلے گھر آکر میں نے حجاب اتارا اور سوچ لیا اب نہیں پہنوں گی لیکن پتا ہے حجاب تمہاری الفاظ نے میرے دل پر وار کیا کتنی ہی بولڈ ہوں آزاد خیال دل کمزور ہے چھوٹی بات پر رونے لگتا لیکن اس دن ایسا حادثہ ہوا کے حجاب تو چھوڑو میں نے نقاب کرنے کا سوچا ہاں وہ حادثہ حجاب۔۔۔ اُسی دن امی اور میں بازار گئے امی کی ڈانٹ پر میں نے حجاب کیا۔۔ امی سبزی خرید رہیں تھیں میں وہیں تھی کے اچانک سے ایک گاڑی سامنے آکر رُکی اور گاڑھی میں سے دو شخص نکلے سر سے پیر تک مجھے غلیظ نظروں سے تکتے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کے گاڑی میں لے جانا چاہا جب کے دوسرے شخص نے اپنے ساتھی کو ہاتھ پکڑتا دیکھ جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر کار اسٹارٹ کردی۔۔ میں سر سے پیر تک کانپ رہی تھی لیکن اپنی جگہ سے ہیلی نہیں میری امی اُس شخص سے میرا ہاتھ چھڑوا رہیں تھیں کے اس شخص نے بلیڈ نکال کر انکا ہاتھ زخمی کر دیا میں جو بت بنی کھڑی تھی جسکے حواس مفلوج ہوگے میری چیخ نکل گئی ماں کی یہ حالت دیکھ کر میری چیخ سن کر بینک کے پاس بیٹھا واچ مین الرٹ ہوا اور بھاگتا ہوا آیا آس پاس لوگ بےحس بن کر ماں بیٹی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔۔ واچ مین کو آتا دیکھ اس شخص نے غصّے میں بلیڈ سے میرا گلا کاٹا اور کار میں بیٹھ کر فرار ہوگیا اور حجاب۔۔۔ میرا دل چاہا اُسی وقت سجدے میں گڑ جاؤں میں اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں؟؟؟؟ بلیڈ صرف اس کپڑے کو ہی کاٹ سکا جس سے میں حجاب لیا ھوا تھا۔۔۔۔ مجھے یقین نہ آیا حجاب موت میرے سامنے تھی، بلکل قریب چند انچ کا فاصلہ بھی نہ تھا اور ناجانے کس نیکی نے مجھے زندگی دیدی کہتے ہیں نہ لاکھ بُرا چاہے لیکن ہوتا وہی جو خدا نے نصیب میں لکھا ہو انسان بےبس ہے حجاب اسکے ہاتھ میں کچھ نہیں۔۔ میں جہاں تمہارے طنز سے آکر حجاب چھوڑ رہی تھی وہیں مجھے ایسی راہ ملی جس سے میں سر تا پیر بدل گئی ان غلیظ نظروں سے بچنے کے لئے نقاب کرنے لگی اور حیرت ہے گرلز کومن روم میں میں نقاب کے بغیر ہوتی ہوں پھر بھی تم نے میرے اس عمل پر کومپلیمنٹ نہیں دیا؟؟؟ پتا ہے کیوں حجاب؟؟؟ کیوں کے یہ انسانی فطرت ہے کسی میں ننانوے اچھائیاں دیکھیں اور ایک برائی تو ان ننانوے اچھائیاں کو آگ میں جھونک کر اس ایک برائی کو اچھالتیں ہیں جبکے اسلام کا مزاج ہے کسی میں ننانوے برائیاں دیکھو اور صرف ایک اچھائی دیکھو تو ان ننانوے پر پردہ ڈال کر ایک کے گن گاتے پھرو۔۔۔۔ تم نے وہی کیا حجاب میں نیک نہیں لیکن حجاب میں اتنی بُری بھی نہیں کے تم مجھے یہ کہتی پھرو عاشق سے بات کرتی ہوگی نہیں حجاب میرا نکاح تو میٹرک میں ہی ہوگیا تھا لیکن آج تک میں نے اپنے شوہر سے جائز ہوتے ہوے بات نہیں کی میں نفس کی غلام نہیں حجاب میرا شوہر سامنے رہکر بات کرتا ہے لیکن کالز میسجسز یہ سب اسے پسند نہیں اور آج جانتی ہو تمہیں خط کیوں لکھا؟؟؟ اگلے ہفتے میری رخصتی ہے میں چاہتی ہوں تم شوہر کے ساتھ آؤ لیکن یہ حجاب نہیں مجھے پہلے والی میری حجاب چاہیے جو پاک دل کی مالک تھی جو غیبت بدزبانی نہیں جانتی تم میں جانتی ہو کیا برائیاں ہیں؟؟ ہر انسان میں ہوتی ہیں لیکن حجاب انھیں بہت کم راہ دیکھانے والے ملتے ہیں تمہیں تو ہر راہ میں ملا تمہاری دوست جویریہ اور شوہر کی صورت میں لیکن تم پتھر رہیں حجاب ڈرو اس وقت سے جب تمہاری پکڑ ہوگی دین تو کہتا ہے ناچنے والی سے نفرت نا کرو تم نیک لوگوں میں عیب ڈھونڈتی پھرتی ہو؟؟؟ اپنے اندر جھانکو حجاب اوروں کو نہ دیکھو جو اوروں کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر نہیں جھانکتا اسے توبہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔۔۔
اور حجاب جانتی ہو سب سے زیادہ جہنم میں دخل دینے والا عمل بدزبانی ہوگا۔۔۔ بدزبانی غیبت ،تنقید، طنز اور تبصرے کبھی کبھی ہمیں پتا نہیں چلتا ہماری زبان سے نکلے الفاظ ہمارے لئے ہی آزمائش بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جیسے تمھارے لئے بنے تمہیں پتا ہے خوفناک گناہ کیا ہے؟؟؟ ایک پیسے کا تکبر ہوتا ہے۔۔۔ ایک نیکی کا تکبر ہوتا ہے۔۔۔ ایک مال کا تکبر ہوتا ہے۔۔۔ ایک علم کا تکبر ہے۔۔۔ ایک دولت کا تکبر ہے ایک اپنے عمل کا تکبر ہے مال کا تکبر یہ چھوٹی چیز ہے لیکن نیکی کا تکبر خوفناک گناہ ہے۔۔۔ ایک واقعہ ہے حجاب غور سے سنو۔۔۔
” حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لے جارہے تھے کہ ڈاکو کی نظر ان پر پڑی ڈاکو چوٹی پر رہتا تھا جب اس نے نورِ نبوت دیکھا کہا یا اللہ میری توبہ اور نیچے اُتر کر حضرت عیسی علیہ السلام کے پیچھے چل دیا۔۔ وہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ان کے صحابہ کرام بھی تھے جنہیں حوارین رسول کہا گیا ہے اللہ نے انہیں حوارین کا خطاب دیا۔۔۔ یہ صحابہ کرام ڈاکو کو دیکھ کر کہتے ہیں ہم۔۔۔ صرف ہم۔۔۔ کہا انکا مطلب تھا وڈا آیا نیک پاک تو کہاں سے آرہا قاتل ڈاقو بدکار شرابی تو کیا کر رہا ہے؟؟ حجاب انہوں نے کچھ نہ کہا بس ایک لفظ ہم جو اللہ کو پسند نہ آیا کیوں کے یہ تکبر ہے تبھی وہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے کہا یا نبی اللہ میں اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں آپ کے پیچھے دو آدمی چل رہے ہیں میرے اللہ نے کہا ہے ایک میرا مجرم ہے اسے کہ اللہ تجھے کہہ رہا ہے تو آج سے نئی زندگی شروع کر تیرے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے اور یا نبی اللہ ایک آپ کا حواری چل رہا ہے اسے اس کے لئے اللہ کا پیغام آیا ہے کہ تو بھی نئی زندگی شروع کر میں نے تیری پچھلی ساری نیکیوں کو ضائع کردیا۔۔ تو ٹھیکیدار ہے میرے بندے کا تو کون ہے ہم کرنے والا؟؟؟
حجاب تم بتاؤ کون ہو تم اسکے بندے کو کافر کہنے والی؟؟ ناپاک کہنے والی؟؟ وہ ہے بھی تو اللہ کا گہنگار ہے میں ہوں تو اللہ کی گہنگار ہوں تم کون ہو اللہ اور میرے درمیان آنے والی؟؟؟ تمہیں کوئی حق نہیں تم اللہ اور میری درمیان آئو کوئی حق نہیں کسی کو کافر کہنا خود کو اس سے برتر پرو کرنا تم کیسے جانتی ہو آب حیات سے بھی تمہارا شوہر پاک نہیں ہوگا؟؟؟ حجاب میری پیاری دوست نیکی کا تکبر یہ چھوڑدو۔۔۔چھوڑدو اسے یہ تمہارے نیک اعمال ضائع کر دیگا یہ تکبر تمہیں مٹی میں ملا دیگا۔۔۔۔ توبہ کرلو حجاب آسمان جتنے گناہ بھی توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ توبہ کرلو اس سے پہلے کے توبہ بھی نصیب نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنی بدزبانی سے اپنے دین کو آگ لگا رہی ہو تمہاری بدزبانی سے آگر میں بھٹک سکتی ہوں تو تمہارا شوہر کیوں نہیں؟؟؟ حجاب تمہاری آمد نے اسے بدل دیا ہے اچھا انسان وہ پہلے بھی تھا بس حقوق اللہ پر عمل نہیں کرتا تھا یونی میں ہر دفع وہ ڈونیشن دیتا ہے جانتی ہوں کوٹھے سے تین بچوں کو اڈوپٹ کیا تھا اس نے تین سال پہلے۔۔۔۔ انکا خرچہ بھی وہی اٹھاتا ہے اب تو پانچ وقت نمازی ہے اب تو قدر کرلو؟؟ تمہارے لئے میں نے اسے ٹوٹتے دیکھا ہے۔۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے رات بھی وہ آیا تھا کہہ رہا تھا انا پرست لڑکی کو دل دیا ہے بابا ہنس رہے تھے کہہ رہے تھے انا مرد کی ہو یا عورت کی برباد ایک خوش گوار گھر ہوتا ہے۔۔۔۔ سچ کہوں تم دونوں انا پرست ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوٹ جاؤ۔۔۔
نیکی کا تکبر چھوڑدو۔۔۔
نافرمان بیوی بننا چھوڑدو۔۔۔۔
بچالو خود کو جہنم کی آگ سے۔۔۔۔۔
تمہاری دوست
عائشہ۔۔۔ فقط اتنا جب لوٹو تو انا پرست لڑکی کا بنا بت توڑ کر آنا۔۔۔
حجاب کے ہاتھوں سے خط چھوٹ کر نیچے جا گڑا آنسوؤں کسی ندی کی طرح اسکی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔ آج پہلی بار شاید اللہ کا خوف اسکے دل میں جاگا تھا ورنہ وہ اس حد تک کیسے گر سکتی ہے؟؟ آج اسے لگا تھا اسنے اپنی زندگی کے ماہ و سال ضائع کر دیے اتنی عبادت کا کیا فائدہ؟؟ جب وہ اللہ کے بندوں کا دل دُکھاتی رہی ہے؟؟ اپنی کی نیکی اپنے ہاتھوں سے ضائع کرتی رہی ہے۔۔۔۔ اس جسم میں روح نام کی کوئی چیز نہیں تھی بس یہ آنکھیں پانی بہا رہیں تھیں ورنہ ہاتھ پیر ساکت تھے کوئی حرکت نہیں تھی اسکے وجود میں۔۔۔ نجانے کتنے ہی لمحے یونہی گزر گئے کے اچانک اذان کی آواز نے اسکے جسم میں حرکت پیدا کی وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی اسکا پورا وجود ہچکیاں لیکر رو رہا تھا تبھی اسے عائشہ کی بات یاد آئی۔۔۔۔۔
” توبہ کرلو حجاب آسمان جتنے گناہ بھی فقط توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں۔۔ “ وہ تیر کی تیزی سے اٹھی وضو کیا اور نماز آتا کی کتنے ہی دیر دعا میں رونے کے بعد توبہ کرنے کے بعد اسے احساس ہوا اللہ اُس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے۔۔۔۔ توبہ کرکے جہاں اسے سکون محسوس ہوا وہیں یہ خیال دل میں آیا۔۔۔۔وہ جانماز رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی زبان سے بس بار بار ایک لفظ ادا ہو رہا تھا استغفار۔۔۔۔ وہ آکر بیڈ پر بیٹھی اور سائیڈ سے فون اٹھا کر دھڑکتے دل کے ساتھ ایک نمبر ڈائل کیا آج پہلی بار اسکا دل اتنی تیزی سے دھڑکا ہے۔۔۔
” ہیلو؟؟ “ پہلی ہی رنگ میں دوسری طرف سے کال پک کی گئی۔۔۔ جیسے بیٹھا ہی اسی کی کال کے انتظار میں ہو۔۔
” ا۔۔۔ابر۔۔۔ابراز۔۔ “ آنسوؤں کا پھندا اسکے ہلق میں اٹک گیا۔۔۔دوسری طرف اسکی بھرائی ہوئی آواز سن کر وہ بےچین ہوگیا۔۔۔۔
” حجاب کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟؟ “ اسکے لہجے کی بےقراری حجاب کو مزید شرمندہ کر گئی۔۔۔۔
” م۔۔مجھ۔۔ مجھے امی۔۔ کی یاد آرہی ہے۔۔“ لڑکھڑاتے لہجے میں کہکر حجاب نے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا۔۔ اسکے گال ناچاہتے ہوے بھی بھیگ گئے۔۔۔۔ وہ اسوقت اس کے سینے سے لگے بچوں کی طرح رونا چاہتی تھی۔۔۔۔
” کبھی میری نہیں آئی؟؟ چھوڑو پھر اُن سے مل آؤ۔۔ “ ابراز کے لہجہ میں بےبسی تھی۔۔۔ حجاب کا دل ٹوٹ پڑا۔۔۔۔
” گاڑ۔۔۔۔گاڑی نہیں۔۔ مجھے تم گاڑی سیکھاؤ ابھی۔۔ “ حجاب نے آنسوؤں پوچھتے بےتابی سے کہا وہ جانتی تھی اسکی ایک پکاڑ پر وہ بھاگا چلا آئے گا۔۔۔بس ایک بار سامنے آجائے وہ۔۔
” ابھی؟؟ اوکے ٹوئنٹی منٹس۔۔ “ کہکر ابراز نے بغیر سنے اسکی کال کاٹ دی۔۔۔۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم ریڈرز ایپی کیسی لگی؟؟؟؟ اسکا سیکنڈ پارٹ 12 بجے تک پوسٹ کرونگی۔۔ اس میں عائشہ کا بیان کی گیا واقع ریل ہے اور اسلامک نولیج میں نے مولانا طارق جمیل کے بیان سے لی۔۔۔۔۔۔تفصیلی کمنٹس کر کے بتائیں کیسی لگی ایپی 🙈
