Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode

الفاظ کو ذرا لمبا کرتے اسنے ادائیگی کی پھر زوحان کے برابر میں جا بیٹھا تھا۔
“اچھا علی اگر تو برا نا مانے تو ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟؟”۔ بولتے ہی وہ ہچکچا کر نظریں جھکا گیا تھا۔
“ارے یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ تو پوچھ کیا پوچھنا ہے؟؟”۔ اسکے دائیں شانے پہ ہاتھ رکھتے اسنے خوش دلی کا مظاہرہ کیا۔
“علی یہ کون تھی؟؟”۔ زوحان کی سوالیہ نظروں کا اشارہ عائشہ کی جانب تھا اور علی بخوبی سمجھ گیا تھا۔
“میری کزن۔۔۔ مرحوم ماموں عاطف اور مرحومہ ممانی زینب کی اکلوتی بیٹی ۔۔۔ عائشہ عاطف”۔ بغیر کسی تضاد کے اسنے تفصیلا کہا۔ ” کیوں کیا ہوا؟؟ تم کیوں پوچھ رہے ہو؟؟”۔ اسنے مزید پوچھا۔
“ن۔ ن۔ نہیں کچھ نہیں۔۔ بس ایسے ہی”۔ وہ ہکلا کر دوبارہ سے نظریں چرا گیا تھا۔
“نواب صاحب ۔۔۔ کہیں دل تو نہیں ہار بیٹھے؟۔۔۔ میری کزن کم دوست پہ”۔ علی نے اسے چھیڑنے کے سے انداز میں کہا۔
“مئے بی”۔ زوحان نے کندھے اچکائے۔
“آہاں”۔ علی نے بھنووں کو جنبش دی پھر قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
آج پیر کا دن تھا۔ سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور زور روشنی سے کائنات کی ہر شے پہ گرم اور پرسکون ضربیں لگا رہا تھا۔ سورج کی روشنی میں ہر چیز جیسے نکھر آئی تھی اور دلکش لگ رہی تھی۔
جوہم نچلی سیڑھی سے قدرے اوپر والی سیڑھی پہ ہاتھ میں کوک کی بوتل پکڑے بیٹھی تھی۔ رباب اسکے برابر میں تھوڑے فاصلے پہ تھی۔ عون، عماد اور زوحان جوکہ ان کے سامنے فرش پہ کھڑے تھے رباب کی ٹانگ کھینچنے میں لگے تھے۔
“تم سے کوئی اچھے کی امید ہے ہی نہیں کوئی۔ فرینڈز کو چھوڑ کر تم سارا وقت سر راحم کے ساتھ رہی ہو۔ کمال ہے یار کل کا آیا منگیتر تمھیں ہم سے زیادہ عزیز ہو گیا ہے”۔ عماد نے چڑ کر کہا۔
“اور نہیں تو کیا کباب اورنج سیب۔۔ بھلا اس طرح بھی ہوتا ہے؟؟”۔ عون نے اسکی تائید کی۔
“بس بول لیا جو بولنا تھا؟؟ جوہی تم کیوں خاموش ہو؟ تم بھی تو کچھ بولو نا۔ تم تو جانتی ہو نا مجھے؟”۔ جب اسے محسوس ہوا کہ اسکی دال نہیں گلنے والی تب اسنے جوہم کو سہارا بنانے کی کوشش کی۔
“میں کیا بولوں رباب؟۔ یہ سب ٹھیک بول رہے ہیں تم نے غلط کیا ہے”۔ شانے اچکاتے اسنے کوک کا ایک گھونٹ حلق سے گزارا تھا۔
“زین، علی تم لوگ ہی میری بات سمجھ جاو یار”۔ جب کچھ نا بن پڑا تو رباب نے اپنے کچھ فاصلے پہ کھڑے زین اور علی کو آواز دی جو آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ رباب کے بلاوے پہ وہ اس طرف آئے تھے۔
“میں جانتا ہوں رباب کہ تم نے ہمیں یہاں کیوں بلایا ہے؟۔ میں تم سے خفا تھا اب نہیں ہوں ان فیکٹ تم سے خفا ہونے سے زیادہ تمھارا احسان مند ہوں”۔ ہاتھوں کو پاکٹس میں ڈالے اسنے مطمئن انداز میں کہا۔
علی کی نظریں اپنے سامنے بیٹھی جوہم پہ تھی اور باقی سب مشکوک اور سوالیہ نظروں سے علی کو گھور رہے تھے۔
جوہم اب کوک سے انصاف کر چکی تھی اور بوتل ابھی بھی اسکے ہاتھ میں موجود تھی۔ باقی سب کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالوں کے جواب دینے کی غرض سے وہ آگے بڑھا اور پاکٹس سے ہاتھ نکال کر جوہم کے ہاتھ سے بوتل پکڑی۔ ڈھکن اتار کر اسنے بوتل دائیں اور رکھے ڈسٹ بن کی جانب اچھالی جو ڈسٹ بن میں جا گری تھی۔ پھر پوری طاقت سے ڈھکن کے ساتھ لگا رنگ اتار لیا اور پروپوز کرنے کے سے انداز میں جوہم کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
“ول یو میری می؟؟”۔ رنگ جوہم کے سامنے کرتے اسنے سنجیدگی کا لبادا اوڑھا۔
جوہم اور باقی سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کب؟ کیسے؟ اور کہاں ہوا۔
“اٹس اوکے مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ تمھارے پاس چار سال ہیں اس کالج کی الوداعی پارٹی پہ اگر تم نے یہ رنگ پہن لیا تو میں سمجھوں گا کہ تمھارا جواب ہاں ہے اور تم میرے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے کیلئے راضی ہو اور اگر ایسا نا ہوا تو۔۔۔۔ اینی وے تم سب لوگ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو جیسے بہت بڑا گناہ کیا ہو”۔ بولتے ہی اسنے سب کا جائزہ لیا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“دوستوں میں راز و نیاز والا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا”۔ زوحان اسکے دائیں اور آ کھڑا ہوا تھا۔
“اگر ہم یہ باتیں چھپانے لگیں گے تو ہماری دوستی کا کیا فائدہ؟؟”۔ عماد اسکے بائیں جانب آ کھڑا ہوا تھا۔
“سالے۔۔۔ سب سے بڑا میسنا ہے تو۔۔ گھنا ۔۔ نجانے کب سے یہ بات دل میں دبائے بیٹھا ہے؟؟۔ کسی کو کان و کان خبر ہی نا ہوئی”۔ عون نے چڑ کر کہا پھر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ علی کو تشویش ہو گئی تھی کہ اب اسکی حالت خراب ہونے والی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنے دوستوں کی مار سے نہیں بچا سکتی۔ اس لیئے اسنے سر تسلیم خم کر دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے بریرہ وہ جو تمھارے پاپا کے فرینڈ کا بیٹا ہے ۔۔۔ وہی جو تم پہ پوری طرح فدا ہے ۔۔ نام کیا ہے اسکا؟؟”۔ وہ اسوقت پنجاب لاء کالج کے کلاس روم میں بیٹھیں تھیں اور آپسی ملاقات میں منہمک تھیں جب اسنے اپنے برابر بیٹھی بریرہ کو مخاطب کیا۔
“زین العابدین”۔ اپنی فرینڈ کی جانب دیکھتے اسنے کہا۔
“ہاں زین۔۔۔ کیا بنا اس قصے کا؟؟”۔ اسنے دلچسپی ظاہر کی۔
“کیا مطلب کیا بنا؟؟۔ تم خود ہی سوچو ذرا اسکا اور میرا کوئی میچ ہے؟؟”۔ بریرہ کے ہر لفظ سے غرور ٹپک رہا تھا۔
“تو تمھارے خیال میں تمھارا وہ میچ ہے جو چیپ انسان تمھارا بی ایف ہے؟؟۔۔۔ بریرہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ زین تمھارے پاپا کے فرینڈ کا بیٹا ہے تو ممکن ہے وہ بھی تم لوگوں کے لیول کے ہی ہوں گے۔ تمھارے اس سو کولڈ بوائے فرینڈ کی آنکھوں پہ پیسوں کی چربی جمی ہے وہ تم سے منسلک صرف اور صرف پیسوں کی بدولت ہے اور رہی بات زین کی تو جہاں تک مجھے یاد ہے اسنے تم سے محبت تمھارا پیسہ یا تمھاری پہچان دیکھ کر نہیں کی۔ میری مانو تو جب زین کا رشتہ آئے تم ہاں کر دینا کیونکہ قسمت بارہا دستک نہیں دیتی نا ہی محبت دیر پا آپکی منتظر رہتی ہے”۔ اسوہ نے اسے مخلصانہ مشورہ دیا تھا جس سے بریرہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
دن کے تین بج رہے تھے وہ سڑک کے کنارے کھڑا کالج بس کا انتظار کر رہا تھا۔ دائیں کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ٹائم دیکھتے اسنے ہاتھ دوبارہ سے پہلو میں کیا تھا جبکہ بائیں جانب بیگ پشت پہ ڈال رکھا تھا۔ جیسے ہی اسنے بائیں اور ٹرن لیا مخالف سمت سے آتی بریرہ کو اپنی جانب آتا دیکھ وہ چونک گیا تھا۔ اسی اثنا میں سر جھٹکتے وہ دائیں اور مڑ گیا جب بریرہ نے اسے آواز دی تھی۔
“زین ایک منٹ”۔
بریرہ کی آواز پہ وہ وہیں ساکت کھڑا رہا اور بریرہ قدم اٹھاتی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“ہائے۔۔۔ کیسے ہو؟؟”۔ اسنے دھیمے سے کہا۔
“تمھارے پوچھنے پہ آرام ہے”۔ لہجہ میں سردمہری اور آنکھوں میں غصہ۔
” آئی نو زین تم میری وجہ سے غصے میں ہو اور شاید ناراض بھی”۔ اسے شبہ ہوا۔
“او۔۔۔ تو میڈم خود سے اندازہ لگانے بھی لگ گئی ہیں۔ میں تم سے ناراض کیوں ہونے لگا؟؟۔۔۔ مس بریرہ ابراہیم ناراض وہاں ہوا جاتا ہے جہاں اپنائیت ہو اور آپکو یقین ہو کہ آپکو منانے والا موجود ہے”۔ بریرہ کی بات پہ زین کا طنزیہ قہقہ گونجا جس پہ بریرہ پشیماں سر جھکا گئی۔
“زین میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں”۔ دوبارہ سے سر اٹھاتے اسنے زین کو دیکھا۔
“سن رہا ہوں”۔ بولتے ہی اسنے منہ پھیرا۔
“ہم کہیں چل کر بیٹھ نہیں سکتے”۔ اسنے التجائیہ انداز میں کہا جس پہ زین نے دوبارہ سے اسے دیکھا۔
@@@@@@@@@@@@
◇چار سال بعد◇
کہنے کو تو بس چار سال تھے درحقیقت اس چار سال کے عرصے میں کچھ کی زندگی نے مثبت اثر لیا تھا اور کچھ کی زندگی نے منفی۔
فالکن گروپ پورے کالج میں اپنی گہری اور عظیم دوستی کے جھنڈے گاڑھ چکا تھا انکی دوستی کا چرچہ ہر سو تھا۔ بریرہ اور زین کی منگنی ہو چکی تھی۔ جوہم نے علی کے دم پر بہت سے رشتوں سے پڑھائی کی آڑ میں انکار کیا تھا۔ عماد کے دادا کا رویہ اسکے ساتھ کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا۔
یہ چار سال فالکن گروپ کیلئے خوشحالی لے کر آئے تھے۔ انہوں نے یہ عرصہ نہایت سکون سے ہنستے کھیلتے گزار دیا تھا مگر شاید انکی دوستی پہ کسی کی کالی نظر تھی۔ فالکن گروپ کی وہ ہستی جو دوسروں کے کھلتے چہروں کا سبب تھی اسکی خود کی زندگی ویران ہو گئ تھی۔
*سات اپریل*
سڑک کے کنارے کھڑے وہ بارہا دائیں کلائی پہ بندھی گھڑی کو دیکھ کر دائیں بائیں دیکھ رہا تھا جب ایک سفید سویک اسکے پاس آ ٹھہری۔ انتظار کا یہ دشوار لمحہ اختتام پذیر ہوا وہ جلدی سے کار کی فرنٹ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا۔
“شکر ہے علی یار تو آ گیا میں کب سے تیرا انتظار کر رہا تھا”۔ کار کا دروازہ بند کرتے اسنے کہا۔ دروازہ بند ہوتے ہی کار اپنی منزل پہ گامزن ہو گئی تھی۔
“آنا ہی تھا نا۔۔ گھر تھوڑی نا رہ جانا تھا پاگل۔۔۔ او شٹ پتہ نہیں اب میرے پاس لائسنس بھی ہے یا نہیں؟”۔ کچھ مسافت پہ اسے پولیس چوکی نظر آئی۔ کار کو سائیڈ پہ روکتے اسنے کار کا ڈیش بورڈ کھولا جس میں اسکا لائسنس تھا۔
لائسنس کو موجود پاتے اسنے سکھ کا سانس لیا پھر دوبارہ سے ایکسلڑیٹر پہ پیر جمایا جس سے کار نے دوبارہ سے سپیڈ پکڑ لی تھی۔
“اسلام و علیکم”۔ اب کی بار اسنے پولیس چوکی کے پاس کار روکی تھی جو اس کے کالج سے تھوڑا پہلے تھی۔
“وعلیکم اسلام ۔۔۔ کاکے لائسنس دکھا”۔ انسپکٹر انکے قریب آیا تھا جب علی نے شیشہ نیچے کو کیا۔
“یہ کار اپنی ہے؟؟”۔ لائسنس چیک کرتے اسنے کار کا جائزہ لیا۔
“جی سر اپنی ہے”۔ علی نے پرسکون جواب دیا۔
“یہ ساتھ کون ہے؟”۔ ہلکا سا جھکتے اسنے فرنٹ سیٹ پہ براجمان عون کی جانب اشارہ کیا۔
“یہ میرا دوست ہے”۔
“ٹھیک ہے تم لوگ جا سکتے ہو”۔ لائسنس اسکو دیتے انسپکٹر مڑ گیا تھا۔
“جلدی کر علی ورنہ لیٹ ہو جائیں گے”۔ انسپکٹر کے جاتے ہی عون نے کہا۔
@@@@@@@@@
آج میڈیکل لاسٹ ایئر والوں کی الوداعی پارٹی تھی۔ اس وجہ سے لاسٹ ایئر سٹوڈنٹس کی بدولت ہر جا رنگینیاں پھیلی تھیں۔۔۔ کہیں رنگوں کی۔۔ کہیں مسکراہٹوں کی اور کہیں خوش گپیوں کی مگر دوسری جانب آڈیٹوریم میں موجود سٹوڈنٹس کی دلی کیفیت سب سے جدا تھی۔
آج پھر آڈیٹوریم کو سجایا گیا تھا اس میں موجود ہر کوئی عجیب کشمکش کا شکار تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج کالج سے باہر قدم رکھنے کے بعد زندگی اور قسمت کیسا کھیل کھیلیں گیں۔ جہاں ڈگری مکمل ہونے کی خوشی تھی وہیں اپنے عزیز اور قریبی دوستوں سے علیحدگی کا سوگ بھی تھا۔ فالکن گروپ کا ہر ممبر بھی آج چپ سادھے ہوئے تھا۔ وہ جو کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھتے اسے ہنسانے کی کوشش کرتے آج خود اس دھانے پہ موجود تھے۔ کسی میں ہمت نا تھی کہ ایک دوسرے کو دلاسہ دے سکے۔
ایسے میں وہ ہاتھ میں گیٹار لیئے آڈیٹوریم میں داخل ہوا۔ متوازن چال چلتا وہ اپنے گروپ کے پاس آن پہنچا تھا۔ دائیں اور گردن کو جنبش دیتے اسنے اپنے گروپ پہ نظر دوڑائی جو سر جھکائے بیٹھے تھے۔ اسی دوران اسکی نظر جوہم کے دائیں ہاتھ پہ پڑی جہاں وہ لال رنگ موجود تھا جو آج سے ٹھیک چار سال پہلے اسنے جوہم کو دیا تھا۔ ہلکا سا مسکراتے وہ سٹیج پہ چڑھ گیا تھا جہاں ایک قد آور سٹول کے سامنے ایک مائک تھا جو مخصوص سٹینڈ پہ لگا تھا۔ سٹول پہ بیٹھتے اسنے گیٹار سامنے رکھا پھر مائک کو سیٹ کرتے اسنے گیٹار کی سمت کیا۔ لمحہ بھر کو رکتے اسنے لبوں پہ پاس لگا وائرلیس مائک درست کیا پھر دھن بجانا شروع کی تھی۔
“دوستی آنکھ سے چھلکتی ہے جب بن کے پانی
ہر کسی بوند میں چھلکتی ہے کوئی کہانی
زندگی کے راستوں پہ ہوتے کتنے میل
دوستوں کے کھونے کا بھی ہوتا ہے پھر کھیل”۔
علی کے گنگنانے کی دیر تھی ہر ذی روح جو ایک دوسرے سے بچھڑنے کا غم دل میں سموئے ہوئے تھی۔۔ اب رو دی تھی۔
ہر کسی کے دل کی آہ اب آنسوؤں کی شکل میں بہہ رہی تھی۔ خود پہ قابو نا رکھتے ہوئے وہ سب نشست سے اٹھتے ہی سٹیج کی جانب لپکے تھے۔
“یہ دوستی بنتی نصیب سے
یہ دوستی چلتی نصیب سے”۔ علی بھی گیٹار چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ سب علی کے گرد اکھٹے ہو گئے تھے جیسے علی انکے مابین کہیں کھو گیا تھا اور سب کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔
“یہ دوستی ملتی نصیب سے
یہ دوستی ملتی نصیب سے
یہ دوستی نازک ہے نرم ہے
یہ دوستی یاروں کا بھرم ہے”۔ علی کے ساتھ ملتے ان سب نے سسکتے اور روتی آواز میں گانا گنگنایا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
*پندرہ اپریل*
شام کے پانچ بج رہے تھے۔ ڈور بیل کی آواز پہ سب چوکنا ہوئے۔ واچ مین کی گیٹ پہ موجودگی سے سب بے فکر تھے۔
“اسلام و علیکم”۔ ایک انسپکٹر جو انٹرنس کے بعد راہداری عبور کرتا ہال میں آ گیا تھا جہاں حسنین اور عفت بیٹھے تھے۔ تین سپاہی انسپکٹر کے متعاقب تھے۔
“وعلیکم السلام انسپکٹر صاحب آپ؟ یہاں؟”۔ وہ متحیر سا صوفے سے اٹھتا اس طرف آ گیا تھا۔
“سکون میں خلل پیدا کرنے کیلئے معذرت چاہتا ہوں حسنین صاحب مگر کیا کریں ہماری بھی ڈیوٹی ہے جو ہمیں ہر حال میں پوری کرنی ہوتی ہے”۔ انسپکٹر نے معذرت طلب کی۔
“کوئی بات نہیں آپ یہ بتائیں کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟؟”۔
“علی مہدی آپکے صاحبزادے کا نام ہے؟؟”۔ اسنے کنفرم کرتے کہا۔
“جی علی مہدی میر۔۔۔۔”۔
“کیا ہوا ہے ڈیڈ؟”۔ حسنین کو انسپکٹر کے ساتھ تکرار کرتا دیکھ وہ بھی اس طرف آ گیا تھا۔
“او تو یہ تو ہے۔ مجھے تو اس دن ہی تجھ پہ شک ہو گیا تھا جس دن کالج کے باہر ملا تھا اور ساتھ میں تیرا وہ دوست بھی تھا”۔ انسپکٹر نے انگاڑے اگلتے کہا۔
“میں کچھ سمجھا نہیں”۔ علی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
“سب سمجھ آ جائے گی جب تھانے میں چھترول ہوگی تو بیٹا تیرا ہاضمہ بھی درست ہو جائے گا۔ امیر خان گرفتار کر لو اسے”۔ بولتے ہی اسنے اپنے تعاقب میں کھڑے سپاہی کو حکم دیا تھا۔
“یہ کیا بات ہوئی چھوڑو میرے بیٹے کو”۔ عفت بوکھلا کر آگے بڑھی تھی۔
“چھوڑو مجھے کیا قصور ہے میرا؟؟ مجھے کیوں لے جا رہے ہو؟”۔ علی انکے ہمراہ گھر سے باہر گھسیٹتا چلا جا رہا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *