Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25

“اور ساتھ ہی آپکو موسمی حالات سے بھی آگاہ کرتے چلیں کہ گرمی کا زور مکمل طور پہ ٹوٹ چکا ہے۔ مری کا موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ مری اس وقت برفیلی سفید چادر سے پوری طرح ڈھک چکا ہے۔ برف باری دور دراز مقامات سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے بھوربن، نتھیاگلی، مال روڈ اور پٹڑیاٹا میں سیاحوں کا رش”۔ نیوز چینلز پہ اینکر لوگوں کو موسمی صورت حال سے آگاہ کر کے اپنا کام بخوبی سر انجام دے رہے تھے۔
“شکر ہے مری کا موسم خوشگوار ہو گیا ہے اب تو گھومنے میں بھی مزہ آئے گا”۔ وہ جو بیڈ پہ آرام سے بیٹھی تھی مری کی موسمی تبدیلی پہ حیرت انگیز حد تک خوش ہوئی تھی۔
بیڈ سے اترتے وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی تھی۔
“ارے جوہی تم وارڈ روب میں گھسی کیا کر رہی ہو؟؟”۔ عبید اسکے روم میں داخل ہوا جبی جوہم کو وارڈ روب کے پاس کھڑا دیکھ حیران ہوا پھر اسکی پشت پہ رکھے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“کچھ نہیں بس کل کیلئے ڈریس نکال رہی ہوں”۔ کپڑوں کی چھان بین کرتے اسنے کہا۔
“تم لڑکیاں بھی نا بہت نخرے ہوتے ہیں تم لوگوں کے۔ وارڈ روب بھری پڑی ہے مگر میڈم کو پسند ہی نہیں آ رہے”۔ اسنے کندھے اچکائے۔
“نہیں نا عبید میں نے کل مری جانا ہے ٹریپ پہ تو اس لیئے کوئی اچھا سا ڈریس دیکھ رہی ہوں”۔
“کیا؟؟؟ تم کل مری جا رہی ہو؟؟ وہ بھی ٹریپ پہ؟”۔ وہ چونک کر اسکے قریب آیا تھا۔
“جی بالکل کیوں کوئی اعتراض ہے؟؟”۔ جوہم اسکی جانب گھومی جواب دیتے دوبارہ سے پلٹ گئی۔
“بابا نے تمھیں اجازت دے دی؟؟”۔ اسکے مزید قریب آ کر وہ کنفرم کرنے لگا تھا۔
“ہاں دے دی”۔ ہنوز اسکی جانب پشت کیئے اسنے کہا۔
“کمال ہے یار انہوں نے مجھے اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی تھی اور تمھیں مری جانے کی دے دی”۔ عبید نے بے زارگی ظاہر کی۔
“تو مجھے کیوں سنا رہے ہو۔ بابا کو کہو جا کر” گردن کو جنبش دیتے اسنے عبید کو دیکھ کر زاویہ بدلا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
صبح کے آٹھ بج رہے تھے مری کیلئے کالج بس بالکل تیار تھی سبھی سٹوڈنٹس بس میں سوار ہو گئے تھے۔ اقبال جو کہ بس ڈرائیور تھا وہ بھی اپنی جگہ آ بیٹھا تھا۔
“یار پتہ نہیں رباب علی ابھی تک کیوں نہیں آیا؟؟ بس بھی بالکل چلنے ہی والی ہے”۔ متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے اسنے خفگی سے رباب کو مخاطب کیا۔
جوہم بائیں جانب آخری قطار سے اگلی نشست پہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ رباب اسکے برابر میں تھی۔ زوحان اور زین راہداری کے دوسری جانب انکے برابر میں بیٹھے تھے۔
“رکو میں اتر کر دیکھ آتا ہوں”۔ زوحان سیٹ چھوڑتا دروازے کی اور بڑھنے لگا تھا اسی دوران اسکی نظر دروازے سے اندر آتے علی پہ پڑی۔
“لو آ گیا”۔ زوحان کی آواز پہ باقی سب بھی اسکی اور متوجہ ہوئے تھے۔ زین جو کہ سیٹ پہ بیٹھا تھا، نے علی کو دیکھتے ہوا میں ہاتھ لہرایا۔
سفید جینز پہ ہلکے جامنی رنگ کی ٹی شرٹ، گلے میں سفید مفلر جو سلیقے سے گلے کے گرد حائل کیا گیا تھا، جیکٹ کو بازو پہ رکھا تھا اور پیروں میں سفید اور کالے امتزاج کے جوگرز پہن رکھے تھے۔
بالآخر وہ اپنے دوستوں کے قریب آ گیا تھا۔
“یار علی تو کدھر رہ گیا تھا؟؟ بس ابھی چلنے کی والی تھی”۔ زوحان نے کہا۔
“بس یار کزن کیساتھ آنا تھا اسے راستے میں ایک کام تھا تو اسی چکر میں دیر ہو گئی۔ تم لوگ سناو وقت پہ پہنچ گئے تھے؟؟”۔ ہاتھ بلند کرتے اسنے چھت کیساتھ لگے ڈنڈے کو تھام لیا تھا کیونکہ بس اب چلتے لگی تھی اور جھٹکوں کے باعث کھڑا ہونا محال تھا۔
“او لگدی لاہور دی آ جس حساب نا ہنس دی آ
او لگدی پنجاب دی آ جس حساب نا چل دی آ”۔ بس میں موجود ہر ایک کی آواز بس میں چلتی موسیقی کے باعث معدوم ہو گئی تھی۔
“کڑی دا پتہ کرو کہیڑے پنڈ دی آ کہیڑے شہر دی آ
او لگدی لاہور دی آ او لگدی پنجاب دی آ”۔ عون جو کہ زوحان سے اگلی سیٹ پہ بیٹھا تھا، نے آواز بلند کرتے گانے کیساتھ گنگنانا شروع کیا جس پہ سب اسکا ساتھ دینے کی غرض سے اپنی اپنی سیٹس سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
ساڈھے دس بج رہے تھے وہ لوگ پٹڑیاٹا پہنچ چکے تھے۔ زوحان، عون، رباب، زین اور جوہم سائیڈ پہ کھڑے علی اور عماد کے منتظر تھے جو ابھی بس سے نہیں اترے تھے۔
علی اور عماد کے آتے ہی وہ سب چڑھائی چڑھنے لگے تھے جونہی انہوں نے چڑھائی عبور کی دائیں ہاتھ پہ ایک لوہے کا گیٹ لگا تھا جس کے دو حصے تھے ایک انٹرنس اور دوسرا ایگزیٹ کیلئے۔
وہ سب چھوٹے گیٹ سے انٹر ہوئے۔ انٹر ہوتے ہی ایک چیکنگ مشین لگی تھی۔ یہ وہ راستہ تھا جو لفٹ کو جاتا تھا۔ وہ سب ایک کے بعد ایک مشین سے گزرے دائیں جانب لوہے کی گرل لگی تھی جسکے ساتھ ساتھ بینچ لگے تھے جن میں وقفہ برابر تھا۔
“چلو جوہم پکس بناتے ہیں”۔ اپنے تعاقب میں آتی جوہم کو اسنے مڑتے ہی مخاطب کیا۔
“ایسا کرتے ہیں کہ رباب تمھارے فون میں ہم سب پکس بنا لیتے ہیں تم ہمیں سینڈ کر دینا۔ ویسےبھی تمھارے کیمرے کے ہائی پگزل ہیں اور سپیس بھی خاصی ہے”۔ زین بھی انکے قریب آ کر کہنے لگا۔
“ہاں تو ٹھیک ہے”۔ رباب نے حامی بھری۔
رباب کے فون میں وہاں کی حسین یادیں، خوبصورت لمحات اور دلکش مناظر مقید ہونے لگے تھے۔
تھوڑا آگے بڑھتے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگے تھے جو شمار میں بہت زیادہ تھیں۔
“رباب میں آپکی ہی راہ دیکھ رہا تھا چلو لفٹ پہ بیٹھتے ہیں”۔ جونہی انہوں نے سیڑھیوں کا سفر طے کیا راحم مخالف سمت سے اس طرف آ کر کہنے لگا۔
بغیر راحم کو انکار کیئے رباب اسکے ہمراہ لفٹ کی اور بڑھ گئی تھی۔
“چلو گائز ہم بھی لفٹ پہ بیٹھتے ہیں ویسے بھی پٹڑیاٹا میرے خیال سے ایک یہ لفٹ ہی ہے جسے اینجوائے کیا جا سکتا ہے”۔ عون نے رائے دی۔
“ن۔ن۔ نہیں مجھے ہائٹ فوبیا ہے میں نہیں بیٹھ سکتی”۔ جوہم نے نفی کی۔
“کم آن جے-ٹی ہم سب بیٹھ رہے ہیں اور کیا ہوتا ہے ہائٹ سے؟ کچھ نہیں ہوتا”۔ عماد نے خفگی سے کہا۔
“ہاں رباب تو گئی اپنے رانجھے کے ساتھ۔ ایسا کرتے ہیں میں اور عون بیٹھ جاتے ہیں، زوحان اور عماد، علی اور جوہم”۔ زین نے تجویز دی۔
“ن۔ن۔ نہیں میں علی کیساتھ نہیں بیٹھوں گی”۔ زین کی تجویز پہ جوہم بوکھلا کر بے ساختہ بول اٹھی تھی۔
جوہم کے منہ سے انکار سنتے علی متحیر سا اسے دیکھنے لگا تھا۔ جوہم کو اس بات کا احساس ہو چکا تھا خاموشی سے سر جھکائے اسنے منہ پہ آتی آوارہ لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔
“اٹس اوکے اگر تم اکیلے بیٹھنا چاہتی ہو تو ویل آئی ہیو نو اشو”۔ پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اسنے سنجیدگی ظاہر کی۔
“اگر یہ لفٹ میں اکیلے بیٹھ گئی تو لفٹ الائیو جوہم کی بجائے ڈیڈ جوہم کو منزل مقصود تک لے کر جائے گی”۔ عون نے لاف زنی کی۔
“عون ایسا نہیں بولتے”۔ علی نے تردید کی۔ “دیکھو جوہی ہم تمھیں یہاں اکیلے نہیں چھوڑ سکتے اس لیئے بھلائی اسی میں ہے کہ تم میرے ساتھ بیٹھ جاو”۔ جوہم کو دیکھتے اسنے کہا۔
علی کے اسرار پہ جوہم علی کے ہمراہ لفٹ میں بیٹھنے کو راضی ہو گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
لمبی قطار میں لگ کر پونے گھنٹے کی تاخیر کے بعد بالآخر انکا نمبر آ گیا تھا۔ جوں جوں قطار میں کمی کے باعث انکا نمبر آ رہا تھا جوہم کا دل اتنی ہی زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ دھڑکنوں کی دگنی رفتار ہو گئی تھی۔ ایک اونچائی کا ڈر اور دوسرا علی کے ساتھ بیٹھنے کا خوف۔ جو خوف نہیں در حقیقت کچھ اور ہی تھا۔
“چلو جوہم اب ہماری باری ہے”۔ اپنے تعاقب میں آتی جوہم کو اسنے مڑتے ہی مخاطب کیا۔ پھر قدم اٹھاتا لفٹ والی سائیڈ پہ چلا گیا تھا علی دائیں سائیڈ پہ تھا جبکہ جوہم بائیں جانب۔
علی کے دائیں ہاتھ پہ لفٹ کے آنے کا راستہ تھا اور پشت پہ ایک سہارا بنا تھا جہاں سے لفٹ گھوم کر آتی تھی۔
جونہی لفٹ گھومتے انکے قریب آئی انکو ہلکا سا دھکا دیا جس کے باعث دونوں جھٹکے سے لفٹ پہ بیٹھ گئے تھے۔ علی نے پھرتی دکھا کر ہینڈل جو پشت پہ تھا اپنے سامنے کیا جسکے ساتھ پائیدان منسلک تھا۔ جوہم اور علی نے فورا سے اس پہ پیر جما لیئے تھے۔
ان دونوں میں وقفہ بہت کم تھا کیونکہ لفٹ دو بندوں کیلئے تھی۔ کچھ ہی دیر میں لفٹ اونچائی پہ پہنچ گئی تھی۔
خیال آتے ہی علی نے جوہم کے چہرے کی جانب نظر اٹھائی جہاں ڈر اور خوف اپنا ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے۔ جوہم نے اپنی آنکھیں پوری طاقت سے پھینچ رکھیں تھیں اور ہینڈل کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
علی نے ہاتھ بڑھا کر اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنی ہتھیلی ٹکا لی جیسے وہ اسے تسلی دینا چاہ رہا تھا اور اسے اس بات کا احساس دلا رہا تھا کہ اسے کچھ نہیں ہو گا۔ علی مہدی اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔
ہاتھ پہ گرفت محسوس کرتے جوہم نے آنکھیں کھول دیں اور وہ متعجب، متحیر نظروں سے علی کے چہرے کو دیکھنے لگی تھی جہاں سکون اور خوشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وہ پرسکون چہرہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“گھبراو نہیں جب تک تم علی مہدی کے ساتھ ہو بالکل محفوظ ہو”۔ الفاظ تھے یا شادآنے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ احساسات کے اس دلدل میں تھی جہاں کچھ صاف نہیں تھا اور وہ اس میں دھنستی ہی چلی جا رہی تھی۔
علی کے قربت کا حصار اسے ہر قسم کے خوف، وسوسوں اور ڈر سے دور رکھنے کیلئے یکساں کافی تھا۔
@@@@@@@@@@@@
تھینک یو سو مچ”۔ پٹڑیاٹا سے نکلنے کے بعد انکی بس اب مری مال روڈ کیلئے نکل آئی تھی۔ علی نے اپنے برابر بیٹھے زین کو کہا جو کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ علی کا ایک پیر راہداری میں تھا جو اب اسنے دوسرے کے برابر میں کیا تھا۔
“اٹس اوکے میری جان مجھے پتہ تھا ایسے تو تم نے نا تو دل کی بات زبان تک لانی ہے نا ہی حقدار تک پہنچانی ہے۔ مجھے لگا کہ شاید کچھ پل اس کے ساتھ اکیلے گزارنے کے بعد تم میں تبدیلی رونما ہو جائے”۔ بولتے ہی اسنے بھنووں کو جنبش دی پھر تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی۔
“ہاں تو۔۔۔۔۔ وہ تو میں نے اب تک نہیں کی”۔ بولتے ہی اسنے منہ پھیر کر نظریں چرا لیں۔
“کیا مطلب؟؟ آر یو کریزی؟؟ حد ہے۔ اگر اب نہیں کی تو کیا اسکی رخصتی کے منتظر ہو؟”۔ زین نے کوفت کا اظہار کیا۔
“صحیح موقع کا منتظر ہوں”۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتے اسنے آہ بھری۔
“دل کو دل سے کچھ ہے کہنا
دل سے اب نا دور رہنا
دل کی بس یہی گزارش ہے”۔ بس میں چلتے رومانوی گانے نے سونے پہ سوہاگے والا کام سر انجام دیا تھا۔
“دھڑکنوں کی سن لے باتیں
جو لبوں سے کہہ نا پاتے
دل کی بس یہی گزارش ہے”۔ کھڑکی پہ بازو رکھتے جوہم نے ہا تھ پہ چہرہ ٹکا لیا تھا۔ جوہم کی لٹیں ہوا کی تیزی کے باعث اسکے چہرے پہ آ رہیں تھیں جنہیں وہ بار بار پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ آخر تنگ آ کر اسنے زلفوں کو کچھ پل کیلئے ربڑ بینڈ میں مقید کر لیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *